265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 18)

Fatoor E Man By Isra Rao

“آپ کو اگر اپنی بہو پر بھروسہ ہے تو ہمیں بھی اپنے بیٹے پر بھروسہ ہے” رائنہ کی ساس نے کہا

“آپ نہیں مان رہے لیکن یہی سچ ہے۔۔” رافع نے کہا۔۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے رافع؟”تبھی وسیم وہاں آیا ۔۔

“بھائی میں نے کچھ نہیں کیا یہ لڑکی اسی نے مجھے بلایا ہے۔۔اور تماشہ کرئیٹ کر رہی ہے” رافع نے طلعت کی طرف اشارہ کیا۔۔

“خبردار جو میری بیوی کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا تو۔۔” رامس نے سرخ آنکھوں سے کہا۔۔

“بھائی بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔پلیز آپ اندر چلیں” وسیم نے رامس کے غصہ کو کم کرنا چاہا۔۔

“نہیں بیٹا اب ہم ایک منٹ بھی یہاں نہیں رکیں گے۔۔

یہ شریفوں کے کام نہیں ہوتے۔۔کسی کی بہو بیٹیوں پر غلط نظر رکھنا انہیں بدنام کرنا” اماں نے غصہ سے کہا

“اماں ہو سکتا ہے کوئی غلط فہمی ہو؟” وسیم نے کہا۔۔

یہ سیدھا سیدھا الزام لگا رہا ہے میری بہو پر۔۔میں ہر گز یہ برداشت نہیں کروں گی۔۔میں اپنی بہو کو اچھے سے جانتی ہوں وہ اسے کیوں اکسائے گی” اماں نے کرختگی سے کہا۔۔

“اور آپ جو الزام لگا رہی ہیں میرے بیٹے پر” رائنہ کی ساس نے کہا۔۔

“ماما ایک منٹ میں بات کر رہا ہوں” وسیم نے ماں کو چپ کروایا۔۔

“ہم نے بیٹی دی ہے آپ لوگوں کو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی بہو پر لگائے گئے گھٹیا الزام برداشت کرلیں گے” اماں کی آنکھوں میں غصہ جھلک رہا تھا

“رامس چلو یہاں سے۔۔” اماں نے کہا۔۔

وہ روتی ہوئی طلعت کو پکڑتی باہر لے گئی۔۔

وسیم بھی پیچھے لپکا۔۔

رامس اسےگھورتے ہوئے مڑا ہی تھا کہ رافع کی آواز پر رکا ۔

“بہت اعتبار ہے نا اپنی بیوی پر تو ایک بار ضرور اس سے پوچھنا۔۔کہ کیا وہ میرے لیے شادی سے دو دن پہلے نہیں بھاگی تھی۔۔” رافع نے کہا۔۔

رامس نے مڑ کر اسے دیکھا۔۔

اس بات سے رامس کو جھٹکا لگا تھا۔۔

“کیا وہ میرے لیے گھر سے بھاگ کر یہاں اسلام آباد نہیں آئی تھی؟” رافع نے پھر کہا۔۔

رافع کہ کر وہاں سے نکل گیا۔۔

وہ جانتا تھا کہ اس نے اپنا کام کردیا رامس کی خاموشی سے صاف لگ رہا تھا کہ اس نے رافع کی بات پر غور کرلیا۔۔

رامس وہیں ساکت کھڑا تھا۔۔

اسے وہی واقع یاد آیا جب اسلام آباد میں طلعت اس سے ٹکرائی۔۔اس سے پیسے لیے۔۔

پھر اس کی شادی ٹوٹی۔۔

اور جہان صاحب کی عزت کی خاطر اس نے شادی کی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“وہ لوگ رائنہ کو لے کر گھر آگئے تھے۔۔

پورے راستے رامس خاموش رہا۔۔

گھر پہنچ کر بھی وہ بلکل خاموش تھا۔۔

کتنی ہی دیر وہ ایسے ہی بیٹھا رہا۔۔

“رامس۔۔۔” اماں نے پکارا۔۔

اور اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔۔

وہ بنا کوئی جواب دیے اٹھ کھڑا ہوا۔۔

اس کا رخ کمرے کے جانب تھا۔۔

وہ تیزی سے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔

طلعت ڈریسنگ کے سامنے کھڑی تھی۔۔جب وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔

وہ یک دم اس کے قریب آیا اور اسے شانوں سے تھامتے ہوئے رخ اپنی جانب کیا۔۔

“سچ کیا ہے خود بتاؤ گی یا تمہارے باپ سے پوچھوں” رامس نے انگارے برساتی نگاہیں طلعت پر تھی۔۔

طلعت فک چہرہ لیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

“بولو۔۔” وہ دھاڑا۔۔

طلعت یک دم سہم گئی۔۔

اس نے رامس کا یہ روپ کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔

اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے کو تیار تھے۔۔

“را۔۔رامس۔۔میں۔۔میں بتانے ہی والی تھی آپ کو” وہ اسے سمجھانے لگی

“کیا بتانے والی تھی کہ شادی سے دو دن پہلے تم گھر سے بھاگ گئی تھی اور اسی وجہ سے تمہاری شادی ٹوٹ گئی۔۔” رامس نے جھٹکے سے اسے چھوڑا

“رامس۔۔میری بات سنو” اس نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ رامس نے رخ موڑ لیا۔۔

“میں نے تم پر کتنا اعتبار کیا۔۔اور تم۔۔” وہ غصہ سے کہنے لگا۔۔

“اگر تم مجھے خود بتاتی نا طلعت میں تمہیں معاف کردیتا۔۔مگر تم نے مجھ سے چھپایا۔۔۔” رامس کے لہجے میں تلخی تھی۔۔

“رامس میں۔۔” وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی رامس نے بات کاٹی

“رامس کی بیوی ایک بھاگی ہوئی لڑکی۔۔۔” اس نے اپنا سر تھامے چہرہ اوپر کیا۔۔

جیسے بہت کچھ ضبط کر رہا ہو۔۔

“رامس میری بات سنو۔۔۔میں آپ سے پیار” طلعت نے بھری آواز سے کہا۔۔

“بکواس بند کرو۔۔۔” رامس چیخا اور ڈریسنگ پر پڑا سارا سامان جھٹکے سے نیچے تھا۔۔۔

اس نے پھر ایک گہری سانس خارج کی مگر اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔۔

طلعت سہمی ہوئی کھڑی تھی۔۔

اس نے ڈریسنگ کے پاس پڑی چیئر کو پوری طاقت سے لات ماری کہ وہ دور جا کر گری۔۔

“دھوکہ دیا ہے تم نے بھی اور تمہارے باپ نے بھی۔۔۔” رامس نے انگلی اٹھا کر کہا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اماں طلعت بھابھی ایسی تو نہیں ہے” رائنہ نے کہا۔۔

“ہاں۔۔میں اسے پسند نہیں کرتی باتیں سناتی ہوں، مگر یہ بات میں برداشت نہیں کروں گی کہ اس کے کردار پر انگلی اٹھائی جائے۔۔” اماں نے کہا

“مگر اماں بات تو کوئی ہے نا کوئی کسی پر بلا وجہ تو الزام نہیں لگاتا۔۔”رائنہ نے ڈھنڈے لہجے میں کہا

“ارے مجھے تو وہ لڑکا ہی ٹھیک نہیں لگتا۔۔۔ پورے راستے روتی رہی ہے وہ لڑکی۔۔” اماں نے کہا

“مگر اماں اب کیا ہوگا بھائی غصہ میں کمرے میں گیا ہے۔۔” رائنہ نے کہا

اماں خاموش تھی۔۔

“مجھے تو ڈر لگ رہا ہے اماں” رائنہ نے کہا۔۔

تبھی کمرے سے کسی شور کی آواز آئی۔۔

“اماں” رائنہ نے گھبرا کر اماں کو دیکھا۔۔

اور وہ دونوں کمرے کی سمت تیزی سے بڑھی۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“رامس میری بات۔۔” طلعت نے روتے ہوئے کہا۔۔

“کیوں دھوکہ دیا مجھے۔۔۔ اس دھوکے کی سزا ملے گی تم لوگوں کو۔۔۔” رامس نے سرخ آنکھوں سے کہا۔۔

طلعت نفی میں سر ہلانے لگی۔۔آنسوں تیزی سے بہ رہے تھے۔۔

اس نے آگے بڑھ کر طلعت کا ہاتھ پکڑا۔۔۔

“رامس” اماں نے پکارا۔۔

“کیا کر رہا تو۔۔۔چھوڑ اسے” اماں نے کہا۔۔

مگر رامس انہیں مکمل طور پر نظر انداز کرتا اسے کھینچتا ہوا باہر لے گیا۔۔

“رامس۔۔۔” اماں اس کے پیچھے لپکی۔۔

مگر اس پر جنون سوار تھا۔۔

وہ اسے کھینچتا لے جارہا تھا۔۔

“رامس میری بات سنو۔۔خدا کے لیے۔۔۔” طلعت منت کرنے لگی۔۔

“رامس آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔۔رامس۔۔۔” وہ سسکتی التجا کر رہی تھی مگر رامس اسے مکمل طور پر گھسیٹتا باہر لے گیا۔۔۔اور دروازے سے باہر اسے دھکیلا۔۔

“رامس۔۔۔” وہ روتی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔۔

“میرے گھر میں تمہاری جیسی عورت کی کوئی جگہ نہیں۔۔۔۔” رامس سے غصہ سے کہا۔۔

“رامس تو کیا کر رہا ہے۔۔۔وہ کہاں جائے گی۔۔” اماں نے کہا۔۔

رامس کہر برساتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

اس نے رامس کا کبھی بھی یہ روپ نہیں دیکھا تھا۔۔

“ایک بدکردار لڑکی کو تمہارے باپ نے میرے سر باندھ دیا۔۔”رامس نے چبا کر کہا۔۔

“رامس۔۔خدا کے لیے مجھے مت نکالیں۔۔۔میں آپ کے بنا نہیں رہ سکتی” وہ پاس آکر کہنے لگی۔۔

“جاؤ” وہ پوری قوت سے چیخا۔۔

اور دروازہ بند کردیا۔۔

“رامس۔۔رامس دروازہ کھولو۔۔۔پلیز “وہ دروازہ بجانے لگی۔۔

کتنی ہی دیر وہ رو رو کر پکارتی رہی مگر نا ہی دروازہ کھلا اور نا ہی رامس کا دل پگھلا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“رامس…دروازہ کھول وہ کہاں جائے گی۔۔” اماں نے کہا

“اماں یہ دروازہ نہیں کھلے گا۔۔۔” رامس نے حکم سنایا۔۔

“تو پاگل ہوگیا ہے؟ اس لڑکے کی بات میں آکر اپنا گھر خراب کر رہا ہے” اماں نے اسے سمجھانا چاہا۔۔

“تجھے اس پر نہیں اپنی بیوی پر بھروسہ ہونا چاہیے” اماں نے کہا

“اس نےمیرے اعتبار کو توڑا ہے۔۔۔” رامس کی آنکھ سے آنسوں گرے ۔۔

“بھائی۔۔۔” رائنہ ااسے چپ کروانے لگی۔۔

“رامس میرے بچے۔۔۔کچھ نہیں ہوا۔۔۔اسے اندر لے آ۔۔وہ ایسی نہیں ہے۔۔۔” اماں نے اس کے آنسوں صاف کیے۔۔

“نہیں اماں ۔۔اس کی اب میری زندگی میں میرے گھر میں کوئی جگہ نہیں” رامس کہتا تیزی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ سڑک کے کنارے چل رہی تھی۔۔

بے سدھ سے ہر چیز سے بے خوف۔۔

آنسوں آنکھوں سے بہ رہے تھے۔۔

“یہ زندگی کس موڑ پر لے آئی ہے مجھے” وہ سوچنے لگی۔۔

(ایک بدکردار لڑکی کو تمہارے باپ نے میرے سر باندھ دیا)

رامس کا جملہ اس کی سماعتوں کو چیرتا ہوا گیا۔۔

(اتنی ہی شریف تھی تو گھر سے بھاگ کر کیوں آئی ہو؟)

رافع کا کہا جملہ اسے سنائی دیا۔۔

وہ یک دم کانوں کو ہاتھ لگائے چیخی اور زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔

“میری ایک غلطی نے مجھے کہاں سے کہاں لا کھڑا کیا” اس نے دل میں سوچا

“کاش باباجانی آپ مجھے موبائل ہی نا دیتے”

“کاش باباجانی آپ میری کوئی ضد پوری نا کرتے” وہ روتے روتے کہ رہی تھی۔۔