265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 10)

Fatoor E Man By Isra Rao

“ہم کہاں جارہے ہیں؟” طلعت نے پوچھا۔۔

“شاپنگ کرنے” رامس ڈرائیو کرتے ہوئے کہا

“مجھے گھر جانا ہے” طلعت نے کہا

رامس خاموش رہا۔۔

“مجھے گھر جانا آپ سن رہے ہیں؟” طلعت نے دوہرایا

“سن لیا ہے میں نے” رامس نے کہا۔۔

“تو جواب کیوں نہیں دے رہے؟”

“کیوں کہ ہم شاپنگ پر جارہے ہیں پہلے” رامس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا

“آپ مجھے شاپنگ نہیں کروا سکتے پتابھی ہے میں کتنی برینڈڈ چیزیں لیتی ہوں۔۔میرے بابا کروا دیں گے مجھے” طلعت نے طنزیہ کہا

“جتنی میری رینج ہوگی کروا دوں گا۔۔” رامس نے سنجیدگی سے کہا

“کیا؟ میں ایسی ویسی چیزیں نہیں لیتی۔۔میں طلعت جہان زرگل ہوں اید آپ بھول رہے ہیں” طلعت نے اتراتے ہوئے کہا

“آپ بھول رہی ہیں۔۔اب آپ طلعت جہان زرگل نہیں، طلعت رامس شیخ ہیں۔۔” اس نے مسکرا کر کہا

“رامس شیخ۔۔مائے فٹ” اس نے بڑبڑاتے ہوئے کہا

“بدتمیزی نہیں کرنا میرے ساتھ۔۔۔شوہر ہوں میں آپ کا” رامس نے تیور چڑھائے

“کروں گی کیا کرلو گے؟” اس نے الٹ جواب دیا۔۔

“کچھ نہیں یار۔۔” اس نے ہنستے ہوئے کہا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“پتا نہیں کیوں شادی ٹوٹی ہوگی۔۔” اماں نے رائنہ کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا

“باپ نے بھی پتا نہیں کیا سوچ کر ہمارے متھے مار دی اولاد” وہ پھر کہنے لگی۔۔

“چھوڑیں نا اماں۔۔” رائنہ نے کہا۔۔

“نا انہیں میرا ہی پوتا ملا تھا۔۔۔اپنا بوجھ ہمارے سر ڈال دیا” اماں بولتی جا رہی تھی۔۔

“اماں اگر بھائی خوش ہے تو ہمیں بھی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔۔” رائنہ نے کہا

“ارے کاہے کا خوش مالک کی عزت رکھنے کے لیے قربانی دے دی۔۔۔پاگل تو یہ شروع سے ہی ہے۔۔۔دنیا کی چالاکیوں کو نہیں سمجھتا۔۔” اماں نے کہا

“مگر اماں ہے تو خوبصورت” رائنہ نے کہا

“آئے۔۔خوبصورتی کا کیا اچار ڈالیں گے جب کرتوت ہی ٹھیک نا ہوئے تو” اماں نے ناگواری سے کہا

“اب گیا ہے بازار لے کر۔۔پتا نہیں کیا کچھ خرچ کرے گا اس کلموہی پر” اماں نے کہا

“اماں کیا بناؤں آج؟” رائنہ نے بات بدلی۔۔

“بریانی بنا لے۔۔رامس شوق سے کھاتا ہے” اماں نے کہا

“جی اماں۔” وہ کہتی کچن میں چلی گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

انہوں نے تھوڑی بہت شاپنگ کی۔۔۔

طلعت کی شاپنگ بھی رامس نے خود ہی کرلی۔۔

وہ جانتا تھا اسے کچھ پسند نہیں آئے گا۔۔

“میں ایسے کپڑے نہیں پہنتی۔۔جیسے آپ نے خریدے ہیں” گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ پھٹ پڑی۔۔

“کچھ دن پہن لو میں دلوادوں گا پھر۔۔۔” رامس نے نرمی سے کہا

“مجھے کچھ نہیں چاہیے۔۔مجھے گھر لے کر جائیں میں بابا کو کہ دوں گی۔۔وہ دلوادیں گے” طلعت نے کہا

“خبر دار جو ان سے کچھ لیا۔۔شادی کی ہے تو ایڈجسٹ کرنا پڑے گا۔۔” رامس نے تلخ لہجے میں کہا۔۔

وہ یک دم سہمی۔۔

پھر نظر جھکا کر خاموشی سے بیٹھ گئی۔۔

“سوری” رامس نے اسے دیکھتے ہوئےکہا۔۔

وہ خاموشی سے بیٹھی رہی پورے راستے۔۔

رامس چور نظر سے اسے دیکھتا رہا مگر اس نے ایک بار بھی اسے نہیں دیکھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“رفعت بی” اس نے سامنے رفعت بی کو دیکھتے ہی پکارا

“ارے طلعت بیٹا۔۔کیسی ہو؟” اس نے خوشی سے کہا

اور اسے گلے لگاتے ہوئے پیار کیا۔۔

“اسلام علیکم” رامس نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔۔

“وعلیکم السلام” انہوں نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا

“آؤ۔۔اندر آؤ۔۔میں صاحب کو بتاتی ہوں آپ لوگوں کے آنے کا” اس نے انہیں بٹھاتے ہوئے کہا

“کہاں ہیں بابا جانی؟” طلعت نے پوچھا

“بیٹا۔۔شادی سے فارغ ہوئی پھر تھکاوٹ ہوگئی۔۔طبیعت بھی ٹھیک نہیں اپنے کمرے میں آرام کر رہے ہیں” رفعت بی نے کہا۔۔

“میں دیکھتی ہوں بس وہیں جا کر۔۔۔” وہ ان کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔

“بابا جانی” اس نے پکارا

وہ بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے۔۔

اس کی آواز سن کر چونکے۔۔

“اسلام علیکم بابا جانی۔۔طبیعت کیسی ہے۔۔رفعت بی نے بتایا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں” اس نے قریب آتے ہوئے کہا

“کس کے ساتھ آئی ہو؟” جہان صاحب نے پوچھا۔۔

تبھی کمرے میں رامس داخل ہوا۔۔

“اسلام علیکم سر” اس نے سلام کیا۔۔

“وعلیکم السلام” وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور خوش دلی سے رامس سے ملے۔۔

“آؤ بیٹھو بیٹا۔۔کیسے ہو۔۔؟ گھر پر سب کیسے ہیں؟” جہان صاحب نے کہا

“سب ٹھیک ہیں سر آپ اپنی طبیعت بتائیں” رامس نے کہا

“میں ٹھیک ہوں۔۔بس تھوڑی تھکاوٹ تھی۔۔” جہان صاحب نے کہا اور دونوں بات کرنے میں مصروف ہوگئے۔۔

طلعت کو اپنا آپ وہاں ناگوار گزر رہا تھا۔۔وہ پ چاپ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“رفعت بی..” اس نے کچن میں آکر کہا۔۔

“جی میری بچی” رفعت بی نے چائے کپ میں ڈالتے ہوئے کہا

“رفعت بی بابا جانی نے میری شادی رامس سے کیوں کی؟” طلعت نے پوچھا

“کیوں کہ آپ کی ٹائم پر شادی ٹوٹ گئی تھی۔۔اور رامس سے اچھا لڑکا ان کی نظر میں نہیں تھا۔ ” رفعت نے کہا

“مگر رفعت بی مجھے ان کا گھر بہت عجیب لگتا ہے۔۔

وہاں کا ماحول۔۔” طلعت نے کہا

“دیکھو بیٹا وہ جیسا بھی اب آپ کا بھی گھر ہے اور آپ کو وہیں رہنا ہے۔۔پتا ہے آپ کے بابا بہت خوش ہیں رامس سے آپ کی شادی کروا کر۔۔کوئی ایسا کام مت کرنا جو آپ سے وہ پھر ناراض ہوجائیں” رفعت بی نے سمجھایا

“رفعت بی مجھے وہ اچھا نہیں لگتا۔۔اور ان کی دادو۔۔اتنی غصہ والی ہیں۔۔صبح بھی مجھے ڈانٹنے لگی کہ دیر سے کیوں اٹھی” وہ شکایت کرنے لگی۔۔

“وہ بڑی ہیں بیٹا۔۔آپ وہ کام کیا کریں جس سے انہیں خوشی ہو۔۔وہ کام مت کریں س سے وہ ناراض ہوجائیں” رفعت بی نے نرمی سے کہا

“رفعت بی میں یہاں نہیں رہ سکتی؟” طلعت نے معصومیت سے کہا

“نہیں بلکل بھی نہیں۔۔”

“کیوں کیا اب یہ میرا گھر نہیں؟”

“نہیں یہ گھر آپ کا ہمیشہ رہے گا۔۔مگر وہ گھر آپ کا اصل گھر ہے۔۔وہاں کے لوگ آپ کے اپنے ہیں۔۔اگر کچھ برا بھلا کہیں تو نظر انداز کرنا۔۔سمجھ رہی ہیں نا؟” رفعت بی نے پوچھا

“جی رفعت بی مگر۔۔کیا میں ایک دو دن یہاں رہ لوں؟” اس نے پوچھا

“بلکل رہ سکتی ہیں۔۔اگر آپ کے شوہر آپ کو اجازت دیں تو۔۔مگر ابھی آپ کی شادی ہوئی ہے۔۔آپ کو ان کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے” رفعت بی نے سنجیدگی سے کہا

اور ٹرے اٹھا کر چلی گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

کتنی ہی دیر باتیں کرتے رہے وہ لوگ۔۔

پھر گھڑی دیکھتے ہوئے رامس اٹھ کھڑا ہوا ۔

“اچھا سر مجھے اجازت دیں دیر ہورہی ہے” اس نے کہا

“ایسے کیسے کھانا لگنے والا ہے کھا کر جانا” جہان صاحب نے کہا

“نہیں سر پھر کبھی۔۔” رامس نے کہا۔۔

نہیں ایسے تو نہیں جانے دوں کھانا تو کھانا ہوگا۔۔طلعت دیکھو کھانا لگا دیا تو” انہوں نے طلعت کو اشارہ کیا

وہ کمرے سے نکل گئی۔۔

“مگر سر” رامس نے کہا

مگر انہوں نے ایک نہیں سنی اور کھانا کھائے بنا جانے نہیں دیا۔۔انہوں نے اسے بہت عزت دی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“رامس ابھی تک نہیں آیا؟” اماں نے کہا

“نہیں اماں۔۔” رائنہ نے کہا

“اس کلموہی کو لے کر گیا تھا۔۔دیکھنا اب غلام بنا کر رکھے گی۔۔پتا نہیں میرے بچے نے کھانا یا نہیں” اماں پریشان ہوئی

“وہ بچہ تو نہیں ہے آجائے گا۔۔اپنی بیوی کے ساتھ گیا ہے گھوم پھر رہے ہوں گے دونوں۔۔اب وہ شادی شدہ ہے تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں” طارق صاحب نے دو ٹوک کہا

“کیسی باتیں کر رہے ہیں فکر کیوں نہیں ہوگی۔۔میرا پوتا ہے۔۔آپ کو محبت نہیں ہوگی مجھے تو ہے؟” اماں نے کہا

“میں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے فکر نہیں۔۔میں بس یہ کہ رہا ہوں تمہیں ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ویسے بھی وہ ہر روز تو اس ٹائم کھانا فیکٹری میں ہی کھاتا ہے” طارق صاحب نے تلخی سے کہا

“اسی لیے تو فکر ہے کہ اس چڑیل کے ساتھ ہے۔۔اس لڑکی کو دیکھ تو سارا خون جل جاتا ہے میرا۔۔اپنے پوتے کی وجہ سے چپ ہوں ورنہ ہاتھ پکڑ کر اسے پہلے ہی دن باہر نکالتی۔۔” انہوں نے غصہ سے کہا

“بلا وجہ کیوں بک رہی ہو۔ تمہارا پوتا کوئی بچہ تو نہیں اچھا برا سمجھ سکتا ہے” طارق صاحب نے کہا

“نہیں سمجھتا سیدھا سا ہے وہ۔۔پتا نہیں کیا جادو ٹانا کر کے پھنسایا ہوگا میرے پوتے کو۔۔” اماں کو غصہ آرہا تھا۔۔

“تم کیوں ہلکان ہو رہی ہو؟ آجائے گا” طارق صاحب نے کہا

اٹھ کر کمرے میں چلے گئے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

شام ہوگئی تھی۔۔جب وہ دونوں گھر آئے۔۔

“اتنی دیر کہاں لگا دی۔۔؟” اماں نے انہیں دیکھتے ہی پوچھا

“وہ اماں۔۔میں طلعت کو اس کے گھر ملوانے لے گیا تھا۔۔اس کا دل نہیں لگ رہا تھا تو۔۔وہاں دیر ہوگئی۔۔” رامس نے کہا

“ابھی کل ہی تو آئی تھی یہ اس کا دل نہیں لگ رہا تھا۔۔حد ہے۔” اماں نے کہا

“او۔۔بی بی یہاں دل لگانا سیکھو یہ روز روز مائیکے نہیں بھیجیں گے تمہیں۔۔۔اور اگر پھر بھی اعتراض ہے تو اپنے گھر ہی رہ جاؤ۔یہاں آنے کی ضرورت نہیں تمہیں” اماں نے طلعت کو گھورتے ہوئے کہا۔۔

وہ چپ چپ کھڑی رہی۔۔

“کھانا لگا دے بھائی کے لیے رائنہ” اماں نے پاس کھڑی رائنہ کو کہا

“نہیں اماں میں نے کھا لیا۔۔جہان صاحب نے آنے ہی نہیں دیا ایسے” رامس نے کہا

“میں نے رائنہ کو بول کر بریانی بنوائی تھی تمہارے لیے۔۔مگر تم تو سسرال کے تلوے چاٹتے رہو۔۔ہماری فکر کیوں ہوگی تمہیں۔۔” اماں نے غصہ سے کہا

“اماں کیا ہوا پھر دوبارہ کھا لوں گا ” رامس نے بات ٹالتے ہوئے کہا۔۔

“نا اگر بتا دیتے کہ سسرال میں ہی جانا ہے وہیں کھانا تو ہم تمہارا نہیں بناتے کھانا۔۔اور نا ہی خود کو ہلکان کرتے انتظار کرتے۔۔” اماں بولتی جا رہی تھی۔۔

“اچھا نا اماں آئندہ نہیں کروں گا ایسا۔۔” رامس نے انہیں شانوں سے تھامتے ہوئے کہا

اور طلعت چپ چاپ کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔

“گج بھر کی لڑکی نے لٹو بنا رکھا ہے۔۔” اماں کی آواز جاتے جاتے بھی اس کے کانوں میں پڑی۔۔

اس نے کمرے میں آتے ہی بیڈ پر پرس پھینکا اور چادر اتار کر بیڈ پر بیٹھی۔۔

“کیسا گندا ماحول ہے یار ان کا۔۔” طلعت بڑبڑائی

“میں نے کون سے جادو کروا دیے ان کے پوتے پر۔۔اور کرواتی بھی تب نا جب انسان کا بچہ ہوتا۔۔کسی جن سے کم نہیں وہ” اس نے منہ بنایا

“اور پوتے کو تو ایسے چومتی ہیں جیسے کوئی عجائب گھر میں رکھی گئی۔۔کوئی ناموار شخصیت ہو۔۔فرعون جیسی شکل کا ہے۔۔پتا نہیں کوئی ڈھنگ کی شکل ہوتی تو کتنا چومتی۔۔” وہ خود کلامی کرنے لگی۔۔

اور بیڈ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات کے کھانے سے فارغ ہوئے اماں نے اسے پھر ٹوکا۔۔

“اے لڑکی۔۔کھا پی لیا یہ برتن کون اٹھائے گا؟ رائنہ نے ٹھیکا تو نہیں لیا نا۔۔اٹھاؤ اور لے کر جاؤ” وہ بنے کچھ کہے چپ چاپ برتن سمٹنے لگی۔۔

“اب اپنے گھر کے کام کاج میں حصہ لو۔۔زمہ داری سمجھو۔۔

شادی صرف سیر سپاٹے کانام نہیں ہے۔۔ہر بات سمجھاؤں گی نہیں اب میں۔۔خود سے بھی کچھ کے ناخن لو۔۔”

اماں نے اپنی تقریر جاری رکھی۔۔

اور لعت کو ان کی باتوں سے اکتاہٹ ہو رہی تھی۔۔

اس نے برتن اٹھائے اور چپ چاپ کچن میں چلی گئی۔۔

“بھابھی آپ چھوڑ دیں میں خود کرلوں گی” رائنہ نے کچن میں آتے ہی کہا

بدلے میں طلعت مسکرائی۔۔

“بھابھی آپ اماں کی باتوں کا برا نہیں مانیے گا وہ ایسی ہی ہیں زبان کی تھوڑی کڑوی ہیں مگر دل کی اچھی ہیں۔۔اصل میں آپ ان کی پسند نہیں تو۔۔” رائنہ نے کہا

“میں سمجھتی ہوں کوئی بات نہیں” طلعت نے کہا اور کچن سے نکل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ کمرے میں آئی تو رامس بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے فون میں مصروف تھا۔۔

اس نے ناگواری سے اسے دیکھا

پھر ڈریسنگ کی طرف چلی گئی۔۔

بال باندھتے ہوئے وہ آئینے میں اسے ہی گھور رہی تھی۔۔

پھر چل کر اس کے قریب آئی۔۔

رامس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔

“سنو” طلعت نے کہا

“بولو” رامس نے اسی انداز میں کہا

“میں صوفے پر نہیں سو سکتی ہر روز مجھے نیند نہیں آتی وہاں” طلعت نے کہا

“تو یہاں بیڈ پر سوجاؤ” رامس نے لاپرواہی سے کہا

“اور آپ؟” اس نے پوچھا

“میں بھی یہیں” اس نے شرارت سے کہا

“اچھا تاکہ فائدہ اٹھا سکو آپ” طلعت نے فوراً کہا

اس کی بات پر رامس کا قہقہہ گونجا

“یار شوہر ہوں میں آپ کا۔ کون سا فائدہ اٹھاؤں گا۔۔میرے پاس ہر چیز کا چیز کا سرٹیفیکیٹ ہے۔۔” رامس نے ہنسی روکتے ہوئے کہا

“دیکھو مجھے اتنی شریف مت سمجھو جو آپ کی باتوں میں آجاؤں گی۔۔” طلعت نے انگلی دکھائی

جسے رامس نے گھورا پھر یک دم لپک کر اس کی انگلی منہ میں لینی چاہی کہ اس نے فوراً پیچھے کی۔۔

اور رامس پھر سے ہنسنے لگا۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے” اس نے پوچھا

“جو مجھے انگلی دکھاتا ہے نا میں کاٹ لیتا ہوں۔آئندہ نہیں دکھانا۔۔” رامس نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا۔۔

“جنگلی، جاہل کہیں کے” وہ بڑبڑائی۔۔

“اور شرافت کی کیا بات کر رہی تھی؟ کتنی شریف ہو نا اس دن اسلام آباد میں دیکھا تھا میں نے” رامس نے منہ بنا کر کہا

“کیا دیکھا تھا؟” وہ حیرت سے پوچھنے لگی۔۔

“یہی کہ کیسے اندھا دھند ،بنا سر پر دوپٹہ لیے سڑک پر دوڑ رہی تھی۔۔” رامس نے ناگواری سے کہا۔۔

اور وہ اس کی بات سن حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔