265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 8)

Fatoor E Man By Isra Rao

“صاحب جی کیا ہوا؟” رفعت نے پوچھا

وہ یک دم گرنے کے انداز میں بیٹھے۔۔

“صاحب جی سب ٹھیک تو ہے؟” رفعت بی گھبرائی

“بارات لانے سے انکار کردیا انہوں نے۔۔طلعت نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا رفعت بی اب بارات نہ آنے پر میں کس کس کو جواب دیتا پھرو گا۔۔” انہوں نے نم آنکھوں سے کہا

“مگر۔۔یہ کیا بات ہوئی۔۔شادی کے دن انکار”

“ان کا قصور نہیں ہے رفعت بی ایسی لڑکی جو دو دن گھر سے باہر رہی ہو۔۔اسے کوئی نہیں اپناتا” انہوں نے صدمے سے کہا۔۔

“اللہ سب ٹھیک کرے گا۔۔آپ فکر مت کریں” رفعت بی نے تسلی دی۔۔

وہ فوراً کھڑے ہوئے تیزی سے اندر بڑھے۔۔

ان کا رخ طلعت کے کمرے کی طرف تھا۔۔

رفعت بی بھی پیچھے بھاگی۔۔

انہوں نے دھڑام سے دروازہ کھولا۔۔

اندر وہ دلہن بنی بیٹھی تھی۔۔

پاس ہی کچھ لڑکیا اور بیوٹیشن بھی کھڑی تھی۔۔

انہوں نے چونک کر جہان صاحب کو دیکھا

تبھی رفعت بی اندر آئی۔۔

“بیٹا تم لوگ تھوڑی دیر کے باہر چلے جاؤ” رفعت بی نے بات کو سمبھالا

اور وہ سب وہاں سے نکل گئی۔۔

“بابا جانی” وہ کھڑی ہوئی۔۔

جہان صاحب تیزی سے اس کے قریب آئے اور اس کے گال پر تھپڑ جھڑ دیا۔۔

وہ لڑکھڑا کر گرنے لگی تھی کہ رفعت بی نے پکڑا۔۔

“یہ کیا کر رہے ہیں آپ جہان صاحب۔۔؟” رفعت بی نے کہا

“تو کیا کروں میں اس نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔اتنے مہمان آئے ہوئے ہیں۔۔سب کو کیا جواب دوں کہ شادی کے دن ہی شادی ٹوٹ گئی۔۔” وہ غصہ سے دھاڑے

طلعت کو جھٹکا لگا۔۔

“پھر بھی جوان اولاد پر ہاتھ نہیں اٹھاتے”

“یہ تو اس سے بھی زیادہ سزا کی حقدار ہے۔۔کون اپنائے گا ایسی لڑکی کو جو دو دن باہر گزار کر آئی ہے۔۔” وہ بے بسی سے کہنے لگے۔۔

“بابا جانی مجھ سے غلطی ہوگئی۔۔۔مگر میں۔۔۔” وہ روتی روتیکہ رہی تھی۔۔

“بس ایک لفظ نہیں۔۔میرے پیار بھروسے کا یہ صلہ دیا آپ نے۔۔شرم آرہی ہے مجھے آپ کو اپنی بیٹی کہتے” وہ تلخ لہجے میں بولے

وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔۔

“جہان زرگل جس نے ساری عمر عزت کمانے میں گزار دی اس کی بیٹی نے ایک لمحہ نہیں سوچا۔۔اسے خاک میں ملانے میں۔۔جہان زرگل اپنی بیٹی کی پرورش اچھی نہیں کر سکا۔۔” انہوں نے افسردگی سے کہا

“بابا جانی مجھے معاف کردیں۔۔مجھ سے غلطی ہوگئی۔۔آپ مجھے ماریں مجھے سزا دیں بابا جانی۔۔مگر۔۔” وہ ان کے قریب آتے کہنے لگی۔۔

“کبھی معافی نہیں ملے گی طلعت آپ کو” وہ غصہ سے کہتے باہر نکلنے لگے۔۔

“بابا جانی۔۔رفعت بی کہیں نا بابا کو مجھے معاف کردیں۔۔میں نے کچھ غلط نہیں کیا رفعت بی۔۔میں سچ کہ رہی ہوں” وہ ان کے گلے لگے کہ رہی تھی۔۔

اور جہان صاحب کے قدم دروازے پر ٹھہر گئے۔۔

انہوں نے مڑ کر لعت کو دیکھا۔۔پھر باہر نکل گئے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ باہر آئے تو سامنے ہی رامس کچھ لوگوں سے کھڑا باتیں کر رہا تھا۔۔

وہ کتنی دیر اسے دیکھتے رہے۔۔

پھر چل کر اس کے قریب آئے۔۔

“اسلام علیکم سر” رامس نے انہیں دیکھتے ہی سلام کیا۔۔

“سر بارات نہیں آئی ابھی تک۔۔مجھے تھوڑی جلدی ہے۔۔۔

رات کافی ہوگئی ہے۔۔میں چلتا اجازت دیں” رامس نے خوش دلی سے کہا۔۔

“میرے لائق کوئی کام ہے تو حاضر ہوں سر” رامس نے مسکرا کر کہا۔۔

جہان صاحب اسے یک ٹک دیکھ رہے تھے۔۔

جہان صاحب کو شروع سے ہی بہت پسند تھا۔۔

وہ اس پر بہت اعتماد کرتے تھے مگر اس لحاظ سے کبھی اسے دیکھا نہیں جیسی کشمکش میں مبتلا وہ آج تھے۔۔

“اوکے سر اللہ حافظ” وہ کہتا جیسے ہی مڑا۔۔سامنے سے آتے

ایک بچے سے زوردار ٹکراؤ ہوا۔۔اس بچے کے ہاتھ کی کولڈرنک رامس کے کپڑوں پر گری۔۔

وہ یک دم پیچھے ہوا۔۔

“شٹ۔۔۔” وہ کپڑے چھاڑنے لگا

“سوری انکل” بچے نے شرمندگی سے کہا

“کوئی بات نہیں۔۔” رامس نے مسکرا کر کہا۔۔

جہان صاحب ابھی بھی وہیں کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔۔

“اندر جا کر صاف کرلو” پاس کھڑے کمال صاحب نے کہا۔

“جی” وہ کہتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“رفعت بی میں بہت بری بیٹی ہوں۔۔مگر یقین کریں۔۔میری عزت پر کوئی آنچ نہیں آئی۔۔رفعت بی بابا جانی کو کہیں نا مجھے معاف کردیں” طلعت نے روتے ہوئے کہا

“ادھر آؤ۔۔” وہ اسے بیڈ تک لائی۔۔

“سب ٹھیک ہوجائے تھوڑا ٹائم دو انہیں۔۔۔بیٹھو” انہوں نے اسے بیٹھاتے ہوئے کہا۔۔

“آپ کیوں گئی تھی۔۔؟” رفعت بی نے پوچھا۔۔

“میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی یہ رفعت بی میں کسی کی باتوں میں آگئی۔۔اور۔۔اور اپنے باباجانی کے بارے میں سوچے بنا۔۔” وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔۔

“بیٹا جب ایک جوان بچی گھر سے نکلتی ہے تو ساتھ زت بھی لے کر نکلتی ہے۔۔صرف اپنی نہیں اپنے ماں باپ کی بھی۔۔ آپ نے بنا سوچے سمجھے قدم اٹھا لیا۔۔ایک بار بھی نہیں سوچا اپنے باپ کے بارے میں؟”

“مجھ سے غلطی ہوگئی رفعت بی۔۔” اس نے آنسوں بہاتے ہوئے کہا

“بس چپ ہوجاؤ۔۔اب جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا۔۔” وہ اس کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہنے لگی۔۔

“مگر رفعت بی میں نے کچھ غلط نہیں کیا” وہ اپنی صفائی دینے لگی

“اس بات کا یقین کون کرے گا؟ چلو میں مان لیتی ہوں، کیا آپ کے بابا مانیں گے؟ چلو وہ بھی مان لیں گے، مگر کیا یہ سماج یہ دنیا مانے گی کہ دو دن آپ باہر رہ کر آئی ہو اور آپ پاک ہو؟” رفعت بی نے تلخ سچائی اسے بتائی

وہ یک دم حیرانی سے انہیں دیکھنے لگی۔۔

“نہیں۔۔کوئی نہیں مانے گا اس بات کو۔۔ آپ نے بہت بڑا قدم اٹھایا تھا۔۔ کیا آپ بھروسے کے لائق تھی؟ اب ساری عمر خود کو کوستی رہو گی مگر ازالہ کہاں ہوتا ہے۔۔بیٹا لڑکیوں کو کوئی بھی قدم اٹھا نے سے پہلے ایک بار نہیں دو بار سوچ لینا چاہیے۔۔” رفعت سمجھانے لگی۔۔

اور وہ خاموشی سے سنتی رہی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“صاحب جی مہمانوں کو اب بول دینا چاہیے کہ شادی تو ہو نہیں رہی۔۔” رفعت بی نے کہا

“کیسے کہوں رفعت بی ہزاروں بات بنائیں گے لوگ۔۔” وہ بے بس تھے۔۔

“اب یہی نصیب ہے۔۔اللہ بہتر کرے گا” رفعت بی نے کہا۔۔

پاس سے گزرتے رامس کے کانوں میں آواز پڑی تو اس کے حواس اڑے۔۔

رفعت بی میں” وہ یک دم چکرا کر گرنے لگے۔

“سر” رامس نے فوراً آگے بڑھ کر انہیں پکڑا اور بٹھایا

“صاحب جی آپ ٹھیک ہیں۔۔” رفعت بی نے فکر سے کہا۔۔

انہوں نے اثبات میں سر ہلایا

“رامس” جہان صاحب نے پکارا

“یس سر۔۔” وہ قریب آیا۔

“مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے” جہان صاحب نے کہا

“جی سر بولیں۔۔” رامس نے کہا

“بیٹھو” انہوں نے اشارہ کیا

اور وہ چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گیا

“کیا آپ میری بیٹی سے شادی کریں گے؟” جہان صاحب نے پوچھا۔۔

اور رامس کے پرکھچے اڑے۔۔

“سر۔۔میں ۔۔کیسے۔۔ آپ کی بیٹی سے۔۔۔” رامس بوکھلایا

“بیٹا میری مجبوری ہے۔۔میری عزت کا سوال ہے اج شادی نہیں ہوئی تو۔۔” وہ کہتے کہتے رکے

“مگر سر۔۔” رامس نے کچھ کہنا چاہا مگر

جہان صاحب نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے۔۔

“میری عزت رکھ لو بیٹا۔۔میں زندگی بھر آپ کا احسان نہیں بھولوں گا۔۔

رامس ان کے جوڑے ہوئے ہاتھ دیکھ رہا تھا۔۔

وہ کشمکش میں گھرا تھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ اسٹیج پر بیٹھا تھا۔۔پاس ہی کمال صاحب اور بہت سے لوگ تھے۔۔

مولوی صاحب کے پوچھنے پر اس نے “قبول ہے” کہا۔۔

اور نکاح نامے پر دستخط کیے۔۔

سب نے دعا کی۔۔

اور مبارک باد دینے لگے۔۔

وہ جہان صاحب کی عزت کے لیے شادی تو کر بیٹھا تھا۔۔

مگر دل سے خوش نہیں تھا۔۔

“میں آپ کا احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔۔اس وقت آپ نے میری عزت بچائی۔۔میں اگر سر کاٹ کر بھی آپ کے قدموں میں رکھ دوں تو احسان نہیں اتار سکتا” جہان صاحب نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا

“سر کیسی باتیں کر رہے ہیں۔۔” رامس نے ان کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے کہا۔۔

جہان صاحب نے اسے گلے سے لگایا۔۔

رامس اس وقت ان کے لیے فرشتہ ثابت ہوا۔۔

“میں طلعت کو لے کر آتی ہوں” رفعت بی نے کہا

“رفعت بی ایک گزارش ہے” رامس نے کہا

“جی بیٹا کہو” رفعت نے کہا

“میں ایک مڈل کلاس فیملی سے ہوں سر۔۔آپ لوگوں کے ساتھ برابری نہیں میری۔۔اور میری فیملی تھوڑی کنزرویٹیو ٹائپ ہے۔۔آپ سمجھ رہی ہیں نا” رامس نے سنجیدگی سے کہا

“ایسی بات نہیں ہے بیٹا۔۔آپ جیساکہو گے میری بیٹی آپ کے ساتھ ویسے ہی رہے گی۔۔رفعت بی” انہوں نے رفعت بی کو اشارہ کیا۔۔

وہ اشارہ سمجھتی اندر چلی گئی۔۔

تھوڑی ہی دیر میں طلعت کو اس کے ساتھ رخصت کردیا گیا۔۔طلعت کو ایک چادی اوڑھا دی تھی۔۔اسے یہ تک معلوم نہیں تھا کہ پاس بیٹھا شخص کون ہے کیسا ہے؟ کس کے ساتھ اسے ہمیشہ کے لیے جوڑا گیا تھا۔۔وہ بس اس بات سے خوش تھی کہ اس کے بابا جانی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر خوشی خوشی رخصت کیا تھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

طلعت کی رخصتی کے بعد آہستہ آہستہ مہمان بھی چلے گئے تھے۔۔ جہان صاحب بہت خوش تھے۔۔

جسے رفعت بی نے بھی نوٹس کیا

“آپ خوش ہیں نا؟” رفعت بی نے پوچھا

“ہاں بہت۔۔پتا ہے رفعت بی۔۔رامس ایک نیک لڑکا ہے۔۔میری بیٹی کی غلطی کو شاید خدا نے معاف کردیا جو اسے رامس جیسا شخص عطا کیا۔۔ورنہ وہ اس کے لائق نہیں تھی۔۔” جہان صاحب نے کہا

“صاحب جی وہ آپ کی بیٹی ہے اب آپ اپنا دل صاف کرلیں وہ عزت سے اپنے گھر چلی گئی۔۔”

رفعت بی نے کہا

“ہاں۔۔اللہ نے میری عزت رکھ لی اور ایک نیک لڑکا فرشتہ بن کر میرے سامنے آیا۔۔۔بس اب طلعت اپنے سسرال میں بھی خوشی خوشی رہے” جہان صاحب نے کہا

“مگر وہ اس ماحول کی عادی نہیں ہے۔۔وہ ہمیشہ لاڈ پیار میں پلی ہے۔۔کہیں آپ نے فیصلہ کرنے میں جلدی تو نہیں کردی؟” رفعت نے کہا

“نہیں رفعت بی رامس جیسا لڑکا جلدی کا فیصلہ نہیں وہ ایک سلجھا ہوا شریف لڑکا ہے میں جانتا ہوں اسے۔۔اور اگر میری بیٹی اس ماحول کی عادی نہیں تو اسے عادت ڈالنی ہوگی۔۔پیسے سے خوشیاں نہیں ملتی ایک اچھے ہمسفر سے ملتی ہیں۔۔ ” جہان صاحب نے کہا

“ٹھیک کہا آپ نے” رفعت بی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦

اس نے کار سے اترتے ہی دروازہ کھولا۔۔

طلعت اس بڑی سی چادر کے گھونگھٹ میں کچھ دیکھ نہیں پا رہی تھی۔۔

اس نے سمبھلتے ہوئے اپنا پاؤں نیچے رکھا۔۔

اور گاڑی سے اتر گئی۔۔

رامس نے گاڑی کا دروازہ بند کیا۔۔اور آگے بڑھ کر بیل بجائی

اسے بہت عجیب لگ رہا تھا گھر والوں کا سامنا کرنا

اس نے جذبات میں آکر شادی تو کرلی تھی۔۔

مگر اب اماں کو کیا جواب دینا ہے یہ سوچ کر اس کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔۔

رائنہ نے دروازہ کھولا۔۔

سامنے ہی رامس کھڑا تھا۔۔

“بھائی آپ نے اتنی دیر کردی۔۔” رائنہ نے اسے دیکھتے ہی کہا۔۔

تبھی اس کی نظر پیچھے کھڑی دلہن پر پڑی ریڈ کلر کا کام دار لہنگا۔۔۔مہندی سے عاری صاف شفاف ہاتھ چوڑیوں سے بھرے تھے۔۔

مگر چہرہ چادر کی وجہ سے صاف نہیں دکھ رہا تھا۔۔

وہ حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔