265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 6)

Fatoor E Man By Isra Rao

پورے راستے وہ بس روتی رہی۔۔

شاید وہ جانتی تھی کہ وہ غلط کر رہی ہے۔۔ مگر وہ دل کے ہاتھوں مجبور تھی۔۔

اسلام آباد پہنچ کر اس نے رافع کو کال کی۔۔

اور اسے بتایا کہ وہ پہنچ گئی۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ آگیا تھا۔۔

وہ واقع ہی ویسا ہی تھا جیسا تصویر میں اس نے دیکھا تھا۔۔ اسے لمحہ بھر لگا اسے پہنچاننے میں۔۔

“کیسی ہو؟” رافع نے قریب آکر پوچھا۔۔

“ٹھیک ہوں۔۔” وہ اس کے چہرے پر نظر گاڑتے ہوئے کہنے لگی۔۔

“چلیں؟” اس نے پوچھا

“کہاں؟” وہ چونکی

“گھر”

“مگر آپ تو کہ رہے تھے گھر والے نہیں مان رہے؟”

“اپنے گھر نہیں دوست کا فلیٹ ہے کل نکاح کر کے ہم گھر والوں کے پاس چلے جائیں گے” رافع نے سکون سے کہا

“مگر۔۔۔” اس نے کچھ کہنا چاہا

“بھروسہ نہیں ہے مجھ پر؟”

“نہیں ہوتا تو یہاں تک نہیں آتی”

“تو پھر چلو” اس نے کہا

اور وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

جہان صاحب کو جب پتا لگا تو اسے گہرا صدمہ پہنچا۔۔

آج انہیں احساس ہو رہا تھا انہوں نے کتنی بڑی غلطی کی تھی اپنی بیٹی پر بھروسہ کر کے۔۔اسے آزادی دے کر۔۔

دو دن بعد شادی تھی اور اس کی بیٹی گھر سے بھاگ گئی تھی۔۔

“صاحب جی ہو سکتا ہے وہ واپس آجائے” رفعت بی نے تسلی دی۔۔

“نہیں رفعت بی اب وہ واپس بھی آگئی تو میرے گھر میں جگہ نہیں اس کی۔۔” جہان صاحب نے غصہ سے کہا

“مگر صاحب و دن بعد شادی ہے انہیں کیا کہیں گے؟”

“مجھ میں ہمت نہیں انہیں کچھ بتانے کی۔۔میری بیٹی۔۔جسے میں نے ہر خوشی دی۔۔ماں باپ دونوں کا پیار دیا۔۔کبھی کوئی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔۔اور اس نے ایک پل کو بھی میری عزت، میرے پیار کے بارے میں نہیں سوچا” وہ صدمے سے گھرے تھے۔۔

“صاحب جی وہ نادان ہے”

“تو ایک بار اپنے بابا کو بتاتی اگر وہ اس شادی سے خوش نہیں تھی۔۔”

“پتا نہیں صاحب جی وہ کس حال میں ہوگی۔۔کہیں کسی مصیبت میں۔۔۔” وہ خوف زدہ ہوئی۔۔

اور جہان صاحب کو بھی فکر ہونے لھی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ جب گھر میں داخل ہوئی تو وہ گھر بلکل خالی تھا۔۔

مگر دیکھ کر ایسا ہی لگ رہا تھا۔۔

یہاں کوئی رہ رہا ہو۔۔گھر کی ہر چیز سیٹنگ سے تھی۔۔

ہر چہر ترتیب سے اپنی جگہ۔۔

وہ حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔۔

“کیا سوچ رہی ہو؟” رافع نے پوچھا

“میں یہاں رہوں گی؟” اس نےپوچھا

“ہاں بس تھوڑے دن کے لیے۔۔۔ پھر ہم گھر چلے جائیں گے”

رافع نے مسکرا کر کہا۔۔

“آؤ تمہیں پورا گھر دکھاؤں” اس نے ہاتھ بڑھایا۔۔

طلعت نے اس کے ہاتھ کو گھورا۔۔

“کیا ہوا؟” اس نے حیرانی سے پوچھا۔۔

اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔

مگر ہاتھ نہیں بڑھایا۔۔

رافع نے ایک نظر اسے دیکھا پھر ہاتھ کو واپس پیچھے کرلیا۔۔

اور آگے بڑھ گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات کے اس کے پہر وہ اکیلی کھڑکی کےپاس کھڑی تھی۔۔

(آپ دنیا کے سب سے اچھے ںابا ہیں)

(اور آپ سب سے اچھی بیٹی)

اسے اپنے بابا بہت یاد آرہے تھے۔۔دو آنسوں اس کی آنکھوں سے گرے۔۔۔

تبھی اسے اپنے کاندھے پر کسی کا لمس محسوس ہوا۔۔

اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔

رافع چہرے پر مسکراہٹ لیے کھڑا تھا۔۔

“رافع مجھے گھر جانا ہے میرے بابا پریشان ہو رہے ہوں گے” اس نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔۔

“ایک دو دن میں چلے جائیں گے ۔۔تم پریشان نہیں ہو۔۔۔” وہ اس کے قریب آکر کہنے لگا۔۔

“نن۔۔نہیں ابھی چلتے ہیں ” وہ دور ہوتے ہوئے کہنے لگی

“یار تم مجھ سے اتنا دور کیوں بھاگتی ہو؟” وہ اس کا ہاتھ پکڑے کہنے لگا۔۔

“مجھے بس گھر جانا ہے رافع” اس نے آنکھوں میں نمی کے ساتھ کہا

“چلی جانا اتنی جلدی کیا ہے؟” اس نے اسے کھینچ کر اپنی طرف کیا۔۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے رافع۔۔” اس نے بوکھلاہٹ سے کہا

“بدتمیزی کہاں ہے۔۔ہ سب کومن میں میری جان۔ میاں بیوی میں یہ سب چلتا ہے” اس نے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے کہا

“لیکن ابھی میں تمہاری بیوی نہیں۔۔” طلعت نے یک دم کہا

“تو بن جاؤ گی نا ابھی تو مت روکو یار مجھ میں اور صبر نہیں۔۔میں تم سے بہت محبت۔۔۔” وہ اس پر جھکتے ہوئے کہنے لگا۔۔

کہ یک دم طلعت نے پیچھے دھکیلا

“چھوڑو مجھے۔۔۔مجھے گھر جانا ہے۔۔” وہ چیخی

“ایسے کیسے گھر جانا۔۔گھر ہی جانا تھا تو یہاں تک کیوں آئی؟” رافع آہستہ قدموں سے قریب آرہا تھا۔۔

وہ گھبرا گئی۔۔ وہ مزید پیچھے ہوتی اس سے پہلے ہی وہ پیچھے ڈریسنگ سےٹکرائی۔۔

“قریب مت آنا رافع یہ غلط ہے….میں ایسی لڑکی نہیں ہوں” اس نے گھبراتے ہوئے کہا

“تم کیسی لڑکی ہو یہ میں جان چکا ہوں۔۔اگر اتنی ہی شریف تھی تو کیوں آئی۔۔کیوں گھر سے بھاگی۔۔یہاں شرافت کا ڈھونگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے” اس نے غصہ سے کہا۔۔

“میں اس لیے نہیں آئی تھی۔۔میں آپ سے نکاح کرنے آئیتھی۔۔” اس نے روتے ہوئے کہا۔۔

“نکاح۔۔وہ بھی تم جیسی لڑکی سے؟ ” وہ آخر سچ بولنے پر مجبور ہوا

“مجھ جیسی مطلب؟” اس نے الجھتے ہوئے پوچھا۔۔

“تم جیسے گھٹیا لڑکی سے۔۔جس نے اپنے باپ کی عزت کا خیال نہیں کیا۔۔اس سے کون شادی کرے گا” اس نے ناگواری سے کہا

“مگر آپ نے کہا تھا۔۔” وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

“ہاہاہا میں نے تمہیں اسی لیے بلایا تھا۔۔۔۔” وہ اس کے سراپے کو گھورے ہوئے کہنے لگا۔۔

“میں نے آپ کے لیے اپنے بابا کو چھوڑا اپنا گھر چھوڑا اور آپ میرے ساتھ کھیل رہے تھے۔۔” اس نے غصہ سے کہا اور اس کے منہ پر تھپڑ جھڑ دیا۔۔

” ایک منٹ نہیں رہوں گی اب یہاں۔۔۔میرا قصور تھا میں اپنے بابا کو تکلیف پہنچائی۔۔اسی لیے سزا ملی ہے مجھے” وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔؟” اس نے اس کا بازوں پکڑتے ہوئے کہا۔۔

“چھوڑو مجھے” وہ خود کو چھڑوانے لگی۔۔

“تمہیں اپنے پاس رکھنے کا شوق بھی نہیں مجھے۔۔لیکن ابھی تو میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا” اس نے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے کہا۔۔

“رافع آپ میرے۔۔ساتھ ایسا نہیں ۔۔کر سکتے۔۔۔۔آپ کی بھی بہنیں ہیں۔۔۔” اس نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی

“میری بہنیں تم تمہارےجیسی نہیں ہیں وہ شریف ہیں” اس نے چبا کر کہا۔۔

طلعت نے سماعت سے جملہ بار بار ٹکرانے لگا۔۔

وہ اس کی بات سن کر سکتے میں آگئی تھی۔۔

وہ یک دم اس پر جھکنے لگا۔۔

چھوڑو مجھے” وہ مسلسل کوشش کر رہی تھی خود کو چھڑوانے کی مگر اس کی طاقت زیادہ تھی۔۔

اس کا دماغ بند ہونے لگا۔۔

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔۔اس نے بے ساختہ اللہ کو پکارا۔۔آنسوں اس کی آنکھوں سے بہ رہے تھے۔۔

اور وہ جس کے پیچھے وہ یہاں تک آگئی تھی۔۔کسی وحشی درندے کی طرح اسے بازوں میں دبوچے ہوئے تھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦

“صاحب جی آپ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا کچھ کھالیں” رفعت بی نے کہا

“پتا نہیں میری بیٹی نے کھانا کھایا ہوگا یا نہیں” وہ پریشان تھے

“اللہ اس کی حفاظت کرے گا۔۔” رفعت بی نے دلاسہ دیا

“رفعت بی۔۔طلعت نے اچھا نہیں کیا۔۔میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گا” ان کی آنکھوں میں نمی تیر آئی۔۔

“وہ نادان ہے، نا سمجھ ہے۔۔دنیا کے دھوکوں کو نہیں پہنچانتی۔۔میں تو بس دعا کرتی جہاں بھی ہوں محفوظ ہو” رفعت بی نے کہا

“میں تو اس دن کو کوس رہا ہوں جب میں نے اسے موبائل دیا۔۔صرف اس لیے میں نے آج تک اس پر پابندیاں لگائی تاکہ وہ بہک نا جائے۔۔” انہوں نے افسردگی سے کہا

“میں سمجھتی ہوں جوان بچی پھول کی مانند ہوتی ہے۔۔جس کے مرجھانے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔۔ب سوچنا یہ ہے کہ کل شادی ہے احمد صاحب کو بتانا تو پڑے گا نا” رفعت بی نے کہا

“کیا بتاؤں انہیں میری بیٹی گھر سے بھاگ گئی۔۔کیسے بتا دوں۔۔سب تو میری پرورش پر انگلی اٹھائیں گے” انہوں نے اداسی سے کہا

“لیکن بتانا بھی ضروری ہے کل شادی ہے وہ لوگ بارات لے آئیں گے۔۔”

“ہاں۔۔۔باہر پتاچلا تو میری کتنی بدنامی ہوگی۔۔طلعت نے یہ کیا کردیا۔۔میری محبت کا اس نے یہ صلہ دیا ہے مجھے” وہ اداسی سے کہنے لگے

“آپ دکھی نہیں ہوں اللہ سب ٹھیک کرے گا۔۔۔آپ کال کر کے انہیں منع کردیں شادی سے” رفعت بی نے کہا

جہان صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور وہ چلا گئی۔۔۔