265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 17)

Fatoor E Man By Isra Rao

“یار کل رائنہ کو لینے جانا ہے کپڑے پریس کردینا” رامس نے کہا۔۔

“اچھا۔۔ون کون جائے گا؟” اس نے مختصر جواب دیا۔۔

“تم میں اور اماں” اس نے کہا

“کیا؟ میں۔۔میں نہیں جا رہی” طلعت نے صاف انکار کیا ۔

“کیوں تم کیوں نہیں جارہی؟ تم نے ایک بار بھی رائنہ کا سسرال نہیں دیکھا” رامس نے کہا

“نہیں میں پھر کبھی چلی جاؤں گی۔۔”

“کل کیوں نہیں؟”

“میں۔۔میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے” اس نے بہانا بنایا۔۔

“کیا ہوا تمہیں؟”

“بس تھوڑا سر میں درد”

“تو میڈیسن لی؟”

“نہیں”

“کیوں؟”

“اتنا زیادہ نہیں ہے”

“اچھا تم آرام کرو تھکاوٹ سے ہو رہا ہوگا۔۔میں کپڑے خود کرلوں گا پریس۔۔” رامس نے بیڈ سے اترتے ہوئے کہا

“آپ کو آتے ہیں؟”

“ہاں بلکل۔۔اس میں کون سی بڑی بات ہے” اس نے کپڑے اٹھائے اور پریس کرنے لگا۔۔

اسے دیکھ طلعت مسکرائی۔۔اور اٹھ کر اس کے پاس گئی۔۔

“ہٹیں میں کردیتی ہوں”

“نہیں میں کرلوں گا تم آرام کرلو” رامس نے کہا

“نہیں میں کرلوں گی ہٹیں” اس نے زبردستی رامس کو پیچھے ہٹایا۔۔

اور خود کرنے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

نکلنے کی کرو اب بس واپس بھی آنا ہے پھر” اماں نے کہا۔۔

“میں تو تیار ہوں اماں” رامس نے کہا

“اور وہ۔۔اے لڑکی” اماں نے پکارا

“جی” طلعت جلدی سے سامنے آئی

“یہ کیا ابھی تک تیار نہیں ہوئی؟”

“یہ نہیں جارہی اماں” رامس نے کہا

“کیوں؟”

“تھک گئی تھی اس کے سر میں درد تھا رات سے تو میں نے کہا آرام کرلے گی گھرپر” رامس نے کہا

“ایسے کیا ہل چلائے تھے۔۔کہیں کہیں عزت کی بات آجاتی اسے لے جانا لازمی ہے۔۔وہکیا سوچیں گے بہو کو ایک بار بھی نہیں لائے” اماں نے کہا۔۔

رامس خاموش ہوگیا۔۔

“جا جلدی تیار ہوکر آ لڑکی۔۔” اماں نےحکم دیا۔۔

وہ چپ چاپ اندر چلی گئی تیار ہونے۔۔

رامس بھی کمرے میں گیا۔۔

“ہوجاو تیار یار۔۔اماں صحیح کہ رہی ہیں” رامس نے کہا

“اچھا۔۔” طلعت کہتی وارڈ روب کی جانب گئی۔۔

تبھی رامس آگے آیا اور اسے ڈریس نکال کردیا۔۔

“یہ پہن لو۔۔میری بیوی سب سے اچھی دکھنی چاہیے” رامس نے مسکرا کر کہا۔۔

اور تھامتی واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہاں بھی ولیمے کی چہل پہل تھی۔۔بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے۔۔اتنے لوگوں میں بھی طلعت کا دل ڈر رہا تھا۔۔

ابھی تک اس کا سامنا رافع سے نہیں ہوا تھا۔۔

وہ اماں کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔۔

کہ رافع تھوڑے فاصلے پر آکر کھڑا ہوگیا۔۔

۔۔

اس کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی۔۔

طلعت اس کی موجودگی سے گھبرا رہی تھی۔۔

وہرامس کی تلاش میں نظریں گھومانے لگی۔۔

تبھی رافع جان بوجھ کر ہاتھ میں گلاس لیے آگے بڑھا۔۔

اور طلعت کے کپڑوں پر کولڈرنک گرا دی۔۔

وہ یک دم چونک کر پیچھےہٹی۔۔

“سو۔۔سوری میں تھوڑاجلدی میں تھا۔۔میں دیکھا نہیں اپ کو” اس نے ایکٹنگ کی

“کوئی بات نہیں بیٹا” اماں نے کہا

“جاؤ اندر صاف کر آؤ ” اماں نے کہا۔۔

۔۔”چلو میں لے چلتی ہوں” رائنہ کی ساس اسے اندر لے گئی۔۔

وہ واش روم میں جا کر کپڑے صاف کرنے لگی کپڑے۔۔

جب باہر نکلی تو رافع کھڑا تھا۔۔

وہ اسے دیکھ ٹھٹکی۔۔۔

پھر نظر انداز کرتی آگے بڑھی تھی کہ اس نے اس کا پکڑ لیا۔۔

“اب اس طرح نظر انداز کرتی نکلو گی۔۔تو کیا میں تمہارا پیچھا چھوڑ دوں گا؟” رافع نے کہا۔۔

“میرا ہاتھ چھوڑو رافع” اس نے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا۔۔

مگر اس کی گرفت مضبوط تھی۔۔

“چاہوں تو تمہارے شوہر کو سب بتا سکتا ہوں مگر میں نہیں چاہتا تمہارا گھر خراب ہو۔۔اب بھی پیار جو کرتا ہوں” اس نے قریب ہوکر کہا۔۔

اور پھر یک دم قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔۔

وہ پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

“تم نے بے وفائی کرلی میں نے نہیں کی” رافع نے عجیب سے لہجے میں کہا۔۔

“ہاتھ چھوڑو میرا” اس نے کہر برساتی نظروں سے کہا۔۔

“نا چھوڑوں تو۔۔۔” وہ ڈھٹائی سے کہنے لگا۔۔

“کیا چاہتے ہو تم؟ کیوں میرے پیچھے پڑے ہو؟” طلعت نے حقارت سے کہا

“اس دن تم بھاگ گئی تھی۔۔میرے منہ پر تھپڑ مار کر بس اس کا بدلہ چکا دو۔۔” رافع نے سنجیدگی سے کہا

وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔

“بس ایک ۔۔۔ایک رات۔۔۔” رافع نے مسکرا کر کہا۔۔

اس بات سن طلعت کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔۔

اس نے آؤ دیکھا نا تاو اس کے گال پر تھپڑ جھڑ دیا۔۔

“تم گھٹیا انسان تھے اور ہمیشہ رہو گے ۔۔۔” طلعت نے سرخ آنکھوں سے کہا۔۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی؟” اس نے طلعت کے قریب کرتے ہوئے کہا۔۔

تبھی اسے پیچھے سے کسی نے پکڑ کر کھینچا اور اس کے منہ پر زور دار پنچ رسید کیا۔۔

“یو باسٹرڈ۔۔ہاتھ کیسے لگایا میری بیوی کو” وہ غصہ میں کہتا اس کی طرف بڑھا

وہ دور کھڑی رامس کو دیکھ رہی تھی۔۔جو رافع پر گھوسوں اور لاتوں کی برسات کر رہا تھا۔۔

“چھوڑو اسے رامس ” اماں نے رامس کو پکڑا جو شور سن کر وہاں آچکی تھی۔۔

اور بھی بہت سے لوگ وہاں آچکے تھے۔۔

رامس پیچھے ہٹا۔۔

رافع جس کی حالت خراب ہوگئی چہرے پر کئی نشان تھے۔۔

یک دم سیدھا ہوا۔۔

“کیا کر رہے تھے یہ کیوں مار رہے تھے تم؟” اماں نے کہا

“یہ گھٹیا انسان طلعت کے ساتھ بدتمیزی کر رہا تھا۔۔اس نے چھوا بھی کیسے میری بیوی کو گھٹیا انسان” رامس دھاڑا

“میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔یہ خود ہی آئی تھی میرے پاس” رافع نے کہا

“بکواس بند کرو اپنی۔۔” رامس بے قابو ہوا۔۔

“میں بکواس نہیں کر رہا سچ کہ رہا ہوں۔۔ارے یہ لڑکی ہے ہی ایسی شادی سے پہلے مجھ سے عشق چلایا اور اب تمہیں دھوکا دے رہی ہے معصوم بن کر” رافع نے غصہ سے کہا۔۔

پاس کھڑی طلعت جو آنسوں بہا رہی تھی رافع کی بات سن اسے جھٹکا لگا۔۔

“بکواس بند کرو۔۔ایک اورلفظ میری بیوی کے بارے میں کہا تو میں تمہیں یہیں زندہ گاڑ دوں گا” رامس دھاڑا

“میں سچ کہ رہا ہوں پوچھو اپنی بیوی سے کیا یہ مجھ سے محبت نہیں کرتی تھی؟ اور ابھی بھی اس نے خود اشارہ کر کے مجھے بلایا” رافع نے کہا۔۔

رامس نے پاس کھڑی طلعت کو دیکھا جو متواتر آنسوں بہا رہی تھی اور بیچارگی سے رامس کو دیکھ رہی تھی اور نفی میں سر ہلا رہی تھی۔۔

“ہمیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ہمیں پورا بھروسہ ہے طلعت پر۔۔۔ میری بہو ایسا کر ہی نہیں سکتی۔۔” اماں نے دو ٹوک کہا۔۔