265.8K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fatoor E Man (Episode - 14)

Fatoor E Man By Isra Rao

آج وہ جلدی گھر آگیا تھا۔۔ تو اماں نے اسے رائنہ کے رشتہ کابتایا اور دیکھنے کا کہا۔۔

تو سب نے مل کر کل کا پروگرام بنایا۔۔

وہ جیسے ہی کمرے میں آیا۔۔

تو وہ سامنے ہی سو رہی تھی۔۔

اسے دیکھ وہ مسکرایا پھر پاس بیٹھ کر جوتے اتارے۔۔

پھر کپڑے لے کر واش روم چلا گیا۔۔

واپس آیا تب بھی وہ سو رہی تھی۔۔

وہ بال خشک کرتا اس تک آیا۔۔

پھر اس کے پاس بیٹھ گیا۔۔

وہ گہری نیند سو رہی تھی۔۔

اس نے جھک کر اس کے ماتھے پر لب رکھے۔۔

تمہیں اٹھانے کا دل تو نہیں کر رہا مگر اٹھاؤں گا تو صحیح” اس نے خود کلامی کی۔۔

“طلعت۔۔۔” رامس نے اس کا بازو ہلایا

“جی” وہ ہڑبڑا کر اٹھی۔۔

“تمہیں کوئی پرواہ نہیں ہے یار۔۔شوہر آیا ہے کوئی کھانا وغیرہ پوچھ لو تم تو سو رہی ہو” رامس نے منہ بناتے ہوئے کہا

“رامس قسم سے مجھے بہت نیند آرہی ہے۔۔ایک تو پہلے ہی لائٹ چلی جاتی ہے۔۔” اس نے دوبارہ لیٹتے ہوئے کہا۔۔

“ارے مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔کھانا لے کر آؤ” رامس نے کھڑے ہوکرکہا

اور آئینے کے سامنے بال بنانے لگا۔۔

” رائنہ کو بول دو” اس نے نیند سے بھری آواز میں کہا

“وہ سو رہی ہے”

“تو اماں کو کہ دو”

” منحوس ابھی تک سو رہی ہے” رامس نے اماں کی نقل اتارتے ہوئے کہا۔۔

اور طلعت جسے بہت نیند آرہی یک دم اٹھ بیٹھی۔۔

“صحیح کہ رہے ہو اماں مجھے کھا جائیں گی۔۔” اس نے اٹھتے ہوئے کہا۔۔

رامس کی اسے دیکھ ہنسی ہی نکل گئی۔۔

“شوہر کا ڈر نہیں ہے اماں کا ہے تمہیں” رامس نے کہا

“تم میری جگہ ہوتے تب پوچھتی میں” وہ اٹھ کر واش روم کی طرف گئی۔۔

“تم اتنی جلدی کیوں آئے ہو آج؟” وہ ٹاول سے منہ صاف کرتے ہوئے کہنے لگی۔۔

“میں نے سوچا تمہارا دل نہیں لگے گا” رامس نے شرارت سے کہا۔۔

“میری نیند خراب کرتے ہو تم کل سے جلدی نہیں آنا” طلعت نے کہا۔۔

“کیسی بیوی ہو یار تم۔۔بیویاں شوہروں کو بولتی ہیں جلدی آیا کرو اور ایک تم ہو جو کہ رہی ہو دیر سے آیا کرو” رامس نے خفگی سے کہا

“میں تو ایسی بیوی ہر گز نہیں” وہ کہتی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“آج تو دال تو نے دل سے بنائی ہے رائنہ” رات کے کھانے پراماں نے کہا۔۔

“کیوں اماں اچھی بنی ہے؟” رائنہ نے کہا۔۔

“ہاں۔۔سب مصالحے برابر ڈالے ہیں۔۔” اماں نے کہا

“ہاں واقع اچھی بنی ہے” رامس نے کہا۔۔

“مگر میں نے تو آج بنائی نہیں۔۔۔بھابھی نے بنائی ہے” رائنہ نے مسکرا کر کہا

“اچھا۔۔واہ ” رامس نے پاس کھڑی طلعت کو دیکھا

اماں کے منہ پر ناگواری اتری۔۔

“نمک تھوڑا کم ہے۔۔” اماں نے منہ بناتے ہوئے کہا

“ہاں تو اچھی بات ہے کم ہے آگے سے ڈل جائے گا زیادہ ہوتا تو کھایا نہیں جاتا” طارق صاحب نے کہا۔۔۔

“چلو کچھ تو اچھا کام کیا اس نے” اماں نے کہا

کھانے سے فارغ ہوکر طلعت نے برتن اٹھائے۔۔

اور کچن میں رکھ کر دھونے لگی۔۔

“بھابھی میں دھو لوں گی” رائنہ نے کہا۔۔

“نہیں مجھے اکیلی کو ہی کرنے دو۔۔تم شادی کر کے چلی گئ تو میری ہیلپ کون کروائے گا؟” طلعت نے مسکرا کر کہا۔۔

“اچھا میں تو نہیں رہ سکتی آپ لوگوں کے بنا” رائنہ نے کہا

“خود ہی سیکھ جاؤ گی”

“اچھا۔۔جیسے آپ نے دل لگا لیا”

“ہاں۔۔”

“بھابھی آپ کو پرابلم تو ہوتی ہوگی یہاں ایڈجسٹ کرنے میں”

“نہیں اب نہیں عادت ہوگئی۔۔شروع میں بہت ہوئی۔۔” طلعت نے ہاتھ دھوتے ہوئے کہا۔۔

اور وہ اسےدیکھ کر رہ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“کہاں رہ گئی تھی یار کب سے ویٹ کر رہا ہوں”رامس نے اسے اندر آتے دیکھ کہا۔۔

“کیوں؟” اس نے بیڈ کے قریب آتے ہوئے پوچھا۔۔

“خدمت کروانی ہے” رامس نے شرارت سے کہا۔۔

“کیا ہوا آپ کو؟” وہ بیٹھ پر بیٹھ کر پوچھنے لگی۔۔

“پیار” رامس نے کہا

“اچھا کس سے؟”

“پڑوسن سے” رامس نے منہ بنایا

“اچھا۔۔اماں کو بتاتی ہوں” طلعت نے ہنسی دبائی

“اماں کے نام سے تو تمہارے پسینے چھوٹتے ہیں میرے نہیں” رامس نے فوراً کہا

“ہاں لاڈلے پوتے ہو نا ان کے۔۔میں تو کوئی نہیں” طلعت نے سادگی سے کہا

“ان کے پوتے کی تو لاڈلی ہو” رامس نے اسے بانہوں میں لیتے ہوئے کہا۔۔

“اچھا۔۔ویسے کیا خدمت کروانی ہےآپ کو؟”

“پاؤں دبوانے ہیں” رامس نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا۔۔

“اچھا دبا دوں گی۔۔”

“جو میں کہوں گا وہی کرلو گی؟”

“ہاں” طلعت نے کہا

“تو پھر کرو” رامس نے چہک کر کہا

“کیا؟” وہ چونکی

رامس نے اپنے گال پر انگلی رکھی۔۔

اور طلعت کی ہنسنے لگی۔۔

“بس ایک چاہیے” وہ کہتی قریب آئی اور اس کے دونوں گالوں پر پیار کی مہر ثبت کی۔۔

“پکڑو میں بے حوش ہی نا ہو جاؤں” وہ گرنے کی ایکٹنگ کرنے لگا۔۔

“ڈرامے باز” اس نے رامس کے گال پر چپت لگائی۔۔

“تھپڑ مار دیا؟۔۔کلموہی شرم نہیں آتی اپنے مرد کو چماٹ مارتے ہوئے” رامس نے پھر اماں کی نقل اتاری اور طلعت ہنستی ہی چلی گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اٹھو رامس” وہ طلعت کی آواز پر اٹھا

“اٹھ جاؤ آپ لوگوں کو نکلنا ہے پھر” طلعت نے اسے یاد دلوایا

“ہاں۔۔میرے کپڑے پریس کردیے۔۔میں رائنہ کو دینا بھول گیا۔۔” اس نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

“کردیے میں نے” طلعت نے کہا

“کیا؟ کون سے کیے ہیں؟” رامس نے پوچھا۔۔

” وہ کاٹن والے” طلعت نے کہا

“کیا؟ میرا اتنا اچھا سوٹ جلا دیا تم نے ۔۔پتا ہے وہ کتنا مہنگا ہے” رامس جلدی سے کھڑا ہوا

“جلایا کب ہے بس استری کی ہے” طلعت نے حیرت سے کہا

“ہا۔۔ہاں تو تمہارا کیا بھروسہ” وہ کپڑے اٹھا کر چیک کرنے لگا۔۔

مگر وہ سوٹ کہیں سے بھی جلا ہوا نہیں تھا۔۔

اس نے طلعت کی طرف دیکھا۔۔جو ہاتھ باندھے اسے گھور رہی تھی۔۔

“جلا ہوا ہے؟” اس نے ابرو اچکائی

رامس نے نفی میں سر ہلایا

“تم لوگ مجھے اتنی نکمی کیوں سمجھتے ہو؟”

“تھی تو سہی نا تم” رامس نے ہنس کر کہا

بدلے میں طلعت نے اسے گھورا۔۔

“لائق ہی نہیں ہو؟” وہ کہتی باہر نکل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ لوگ چلے گئے تھے۔۔گھر پر بس رائنہ اور طلعت ہی تھے۔۔

گھر کا کام کرنے کے بعد بھی وہ لوگ بور ہو رہے تھے۔۔

طلعت کو اندازہ ہو رہا تھا۔۔

کہ اماں گھر کی رونق ہے۔۔

پھر وہ لوگ ٹی وی دیکھنے لگے مگر وقت تھا کہ گزر نہیں رہا تھا۔۔

رات ہو گئی تھی جب وہ لوگ واپس آئے۔۔

طلعت کھانا بنا رہی تھی۔۔

وہ سب بیٹھے ڈسکس کر رہے تھے۔۔لڑکے کو اس کے گھر والوں کو۔۔

رائنہ نے اور اس نے کھانا لگایا۔۔۔۔

اور کھانا آج بھی تعریف کے لائق تھا۔۔

طلعت آہستہ آہستہ سب سیکھ گئی تھی۔۔

” آج بھابھی نے دل سے بنایا ہے کھانا” رائنہ نے کہا

اماں کو یک دم کھانسی ہوئی۔۔

طلعت نے فوراً پانی ڈال ان کی طرف بڑھایا۔۔

اماں نے اسے دیکھا پھر پانی پینے لگی۔۔

“میں تو سونے جاتی ہوں تھک گئی ہوں” اماں نے کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔

تھوڑی ہی دیر میں طلعت کمرے کو نوک کرتی اماں کے کمرے میں آئی۔۔

“اماں آپ کا دودھ” اس نے ان کی طرف بڑھایا۔۔

اماں نے بنا کچھ کہے پکڑ لیا۔۔

طلعت وہیں بیٹھ گئی۔۔

“اماں۔۔میں آپ کے پاؤں دباؤں۔۔آپ تھک گئی ہیں نا” اس نے ان کے پاؤں تھامتے ہوئے کہا۔۔

“نہیں ٹھیک ہے” اماں نے کہا

“میں دبا دیتی ہوں آپ سوجائیں” طلعت نے کہا۔۔

اور وہ لیٹ گئی۔۔

انہیں واقع سکون مل رہا تھا وہ کب سوگئی انہیں پتا نہیں چلا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ جب کمرے میں آئی تو رامس سو رہا تھا۔ہاتھ میں کتاب لیے۔۔شاید اس کا انتظار کرتے کرتے سوگیا تھا۔۔

وہاسے دیکھ ہلکا سا مسکرائی۔۔

پھر اس کے ہاتھ سے کتاب لے کر سائیڈ پر رکھی۔۔

اور اسے کمبل اوڑھایا اور خود بھی لیٹ گئی۔۔

صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو فجر کی آذان ہو رہی تھی۔۔

وہ اٹھی اور واش روم کی جانب بڑھ گئی۔۔

رامس ابھی تک سو رہا تھا شاید وہ بھی تھک گیا تھا۔۔

“رامس نماز کا ٹائم ہوگیا اٹھو” اس نے رامس کو اٹھایا۔۔

وہ بھی بنا چو چرا کے اٹھ گیا۔۔

رامس کے نماز پر جانے کے بعد اس نے بھی نماز پڑھی پھر قرآن پاک پڑھا۔۔

وہ باہر گئی تو سب سو رہے تھے۔۔

پھر کچن کی طرف بڑھی ہی تھی۔۔کہ رامس آتا دکھائی دیا۔۔

“آگئے آپ؟” طلعت نے پوچھا

“آپ سو جائیں سنڈے ہے ویسے بھی۔۔میں ناشتہ بنا کر اٹھا دوں گی” طلعت نے کہا

“تم کہاں جارہی ہو؟”

“کچن میں ناشتہ بنانے”

“ابھی تو سب سو رہے ہیں تھوڑی دیر میں بنانا”

“نہیں اماں غصہ ہوجائیں گی۔۔”

“تم مجھسے تو اتنا نہیں ڈرتی” رامس نے مزاق اڑایا

“آپ ڈراتے ہی نہیں” طلعت نے مسکرا کر کہا

“اچھا جی ڈرا دیتے ہیں” رامس نے اسے خود سے قریب کرتے ہوئے کہا۔۔

“رامس کوئی آجائے گا” طلعت نے کہا

“تو آجانے دو میں ڈررررر۔۔۔” اسے سامنے اماں دکھائی دی اور اس کا گلہ خشک ہوا۔۔وہ یک دم بالوں میں ہاتھ پھیرتا پیچھے ہوا۔۔

طلعت بھی گھبرا گئی تھی ۔۔

“توبہ توبہ اتنی بے حیائی۔۔” اماں نے کہا

“اماں وہ۔۔” رامس نے کچھ کہنا چاہا اس سے پہلے ہی اماں نے بات کاٹی

“کچھ تو شرم کرلو جوان بہن بھی گھر میں ہے۔۔” اماں نے کہا

وہ شرمندگی سے نظریں جھکا گیا۔۔

“صحیح کہتے ہیں لوگ بے حیائی کا دور آگیا۔۔ایک ہمارا زمانہ تھا۔۔ایمان سے! ایک چارپائی پر نہیں بیٹھے آج تک۔۔” اماں نے کہا۔۔

اور رامس چپ چاپ کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔

“اے لڑکی کھڑی کھڑی کیا شکل دیکھ رہی ہے جا ناشتہ بنا” اماں نے اسے ٹوکا وہ کچن کی طرف تیزی سے بڑھ گئی۔۔

اماں واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔

طلعت نے چائے چڑھائی۔۔پھر ناشتہ بنانے لگی۔۔

جب رائنہ کچن میں آگئی تو وہ رامس کو اٹھانے کمرے میں گئی۔۔

جب کمرے میں آئی تو وہ بیڈ پر بیٹھا موبائل میں مصروف تھا۔۔

“ناشتہ کرلو” طلعت نے کہا

“بے حیا شوہر کو ایسے ناشتے کا بولتے ہیں” رامس نے اماں کی نقل اتاری اور طلعت اپنا قہقہہ ضبط نا کرسکی۔۔

“ویسے آپ کی صبح صبح سہی بے عزتی ہوئی ہے ” طلعت نے بمشکل ہنسی روکی۔۔

“میرے اکیلے کی نہیں ہوئی” رامس نے جتایا

“ویسے اماں سے کوئی پوچھنے والا ہو۔۔جب ایک چارپائی پر بھی ابا کے ساتھ نہیں بیٹھی کبھی تو اتنا نکما پوتا کہاں سے آگیا۔۔” طلعت نے ہنستے ہوئے رامس کو چھیڑا۔۔

“ایک منٹ رکو” رامس کہتا بیڈ پھلانگتا آیا مگر اس سے پہلے ہی وہ کمرے سے باہر بھاگ گئی۔۔

وہ بھاگتی ہوئی کمرے سے نکلی ہی تھی کہ زوردار کسی سے ٹکراؤ ہوا۔۔۔اور اس کی ہوائیاں اڑی۔۔۔