Rate this Novel
Episode 8
ناول … عید اپنوں کے سنگ
ازقلم …. صبا مغل
قسط نمبر 8
“ہاں جو دانیال نے کہا وہ سچ ہے ۔۔۔ مناہل نے اعتراف کیا ۔۔ لمحے بھر کو خاموش ہوکر وہ دوبارہ بولی ۔۔۔
“پر مجھے لگا میری جذبات میں کہی بات کو تم نے سیریس نہیں لیا دانیال خان کیونکہ نا تم نے ہمارے بیچ کی گفتگو بڑوں کو سنائی نہ میں نے ۔۔۔ دانیال میں یہ تعلق ختم نہیں کرنا چاہتی , بس اتنا چاہتی ہوں کہ تم پاکستاں رہو یہیں اس گاؤں میں ۔۔۔
اب کے اس کے لہجے میں شرمندگی اور التجا دونوں تھی ۔۔۔ وہ کبھی اتنا نہیں بولتی تھی اج اتنا بول گئی ۔۔۔ سب بڑے حیران ہی تھے ۔۔۔
“مناہل یہ ممکن نہیں میرے لیۓ میں فیصلہ کرچکا ہوں , مجھے باہر ملک کی زندگی اپیل کرتی میری جاب میرا فیوچر سب یہیں ہے ۔۔۔ دانیال نے دھیمے لہجے میں کہے کر اپنی بات مکمل کی ۔۔۔
“اذان کو میری ضروت ہے دانیال ۔۔۔ پلیز سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔ مناہل کا لہجہ بھاری تھا آنسوؤں کی نمی صاف محسوس کی جاسکتی تھی ۔۔۔
“بلکل ہوگی اس لیۓ یہ ریلیشن شپ نہیں چل سکتا , شروعات تم نے کی ختم میں کررہا ہوں ۔۔۔ ویسے بھی نا تمہیں مجھ میں کبھی دلچسپی تھی اور نا مجھے تم سے کوئی لگاؤ ہے ۔۔۔ دانیال اب کے دوٹوک اور قطعی لہجے میں بولا تھا ۔۔۔
“بسس دانیال , ایک لفظ اور نہیں ۔۔۔ مھروز خان نے کرخت لہجے میں کہا ۔۔۔
“تم ارہے ہو اور شادی ہوگی , اذان , مناہل کے بغیر رہ نہیں سکتا اس لیۓ وہ یہیں رہے گی , تم اتے جاتے رہنا پاکستاں ۔۔۔ سمجھے تم ۔۔۔ مھروز خان نے حکم دیا ۔۔۔
“معاف کیجیۓ گا بابا جان , اب یہ ناممکن ہے میرے لیۓ , اس طرح کی شادی شدہ زندگی کا تصور نہیں رکھتا میں , کہ بیوی یہاں اکیلی اور میں باہر ملک میں اکیلا ۔۔۔ مجھے نہیں کرنی ایسی شادی ۔۔۔ مناہل میری طرف سے تم آزاد ہو اب اس رشتے سے ۔۔۔ دانیال اپنی بات کی وضاحت کرتا مناہل کو اس رشتے سے آزاد کرگیا ۔۔۔
“دانیال اس کے لیۓ میں تمہیں معاف نہیں کروں گا ۔۔۔ مناہل اپنی غلطی مان رہی ہے تو تم بات کو کیوں بڑھا رہے ۔۔۔ مھروز خان نے سمجھاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“بات ختم ہوچکی ہے باباجان , اب ناممکن ہے میں کبھی مناہل سے شادی کروں ۔۔۔ اس کی مرضی جب تک چاہے اپنی بہن کی اولاد کو سنبھالے مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔ دانیال واقعی سفاکی کی حد تک جاچکا تھا ۔۔۔
“دانیال میں تمہیں جائیداد سے عاق کردوں گا اس نافرمانی کی وجہ سے ۔۔۔
“پلیز باباجان , مجھے مجبور نہ کریں , اپ کی جائیداد اپ کی مرضی ہے , عاق کرنا نہ کرنے کا اپ کو اختیار ہے پر ۔۔۔۔ اس سے پہلے دانیال اور کچھ کہتا اکبر خان نے مھروز خان سے موبائل لے کر کہا ۔۔۔
“دانیال میں تمہارا دادا حضور تم سے پوچھتا ہوں آخری دفعہ کیا واقعی کوئی گنجائش نہیں کہ ۔۔۔۔ ان کا جملا مکمل ہونے سے پہلے دانیال نے کہا ۔۔۔
“کوئی گنجائش نہیں نکلتی , میں کسی صورت یہ شادی نہیں کروں گا , میری طرف سے رشتہ ختم سمجھیں , یہ میرا آخری فیصلہ ہے ۔۔۔ مناہل , بابا جان , دادا حضور اور پھپھو مجھے معاف کردینا اس فیصلے پر ۔۔۔ اللہ حافظ ۔۔۔
دانیال نے اپنی کہے کر کال کاٹ دی بغیر ان کی سنے ۔۔۔ مناہل کے آنسو بہے نکلے اذان کے معصوم ہاتھ اس کے گالوں کو چھونے لگے ۔۔۔ وہ بھی پریشان ہوگیا تھا مناہل کے آنسو دیکھ کر ۔۔۔ دل کا رشتہ کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔
“ماما ماما ۔۔۔ اذان نے پکارا پر مناہل خاموش,نظروں سے آنسو بہاتی اپنی ماں کو دیکھنے لگی ۔۔۔ مناہل کو اپنی ماں کا درد ماررہا تھا ۔۔۔ خوشی کا موقع غم کے ماحول میں بدل گیا ۔۔۔ سب چپ اور ساکت تھے ۔۔۔
“آپا میں شرمندہ ہوں اپنے بیٹے کی اس حرکت پر ۔۔۔ بھائی ہاتھ جوڑگیا بہن کے سامنے ۔۔۔ صبیحہ خاتوں اپنے بھائی کے جڑے ہاتھوں کو کھول کر ان پر سر رکھے روپڑیں ۔۔۔
مناہل شدید شرمندہ تھی ۔۔۔
وہ کپکپاتے لہجے میں بولی ۔۔
“مجھے معاف کردیں شاید ساری غلطی میری ہے ۔۔۔
“نہیں بیٹا تم غلط نہیں ہو کم ظرف تو میرا بیٹا نکلا جو اپنے بڑے بھائی کی اولاد کا نہیں سوچا اتنی خودغرض میری اولاد ہوگی سوچا نہ تھا ۔۔ مھروز خان نے مناہل کے آنسو پونچھے اور دل سے کہا ۔۔ وہ سسک اٹھی ۔۔۔
کچھ لمحوں بعد اکبر خان بولے ۔۔۔
“میں اکبر خان , اس خاندان کا بڑا ہونے کی حیثیت سے ایک فیصلا کرتا ہوں کہ دائم اور مناہل کی شادی ہوگی اسی دن جس دن عالم اور روشانے کی شادی کرنے کا فیصلا ہوا ہے ۔۔۔ صبیحہ میری بیٹی اور مھروز خان کیا تم لوگوں کو میرے اس فیصلے پر کوئی اعتراض ہے ۔۔۔
سب شاک ہوۓ ان کی بات سن کر ۔۔۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں باباجان ۔۔۔ مھروز خان جلدی سے بولے اور اسی وقت صبیحہ خاتون نے آپنی رضامندی دی ۔۔۔
مناہل نے منہ کھولنا چاہا اسی وقت صبیحہ خاتوں اس کے پاس آئیں اور اس کا ہاتھ دبایا ۔۔۔
اکبر خان نے مناہل کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔
“مناہل یہ اذان کے حق میں بہتر رہے گا اور تمہارے بھی , کیا تمہیں اپنے نانا حضور پر یقین نہیں , بتاؤ تمہارا کیا فیصلہ ہے ۔۔
“اسے کیا اعتراض ہوگا ۔۔۔ صبیحہ خاتون نے کہا ۔۔
“صبیحہ تم سے نہیں میں نے مناہل سے پوچھا ہے سب کی نظریں ایک بار پھر اس پر جمین تھیں ۔۔۔
“بیٹیاں صدا ماں باپ کا مان رکھتیں آئیں ہیں , ایک کے بعد دوسری غلطی کرکے اپنی ماں کو تکلیف نہیں دے سکتی ۔۔۔ نہیں دے سکتی ۔۔۔ مجھے معاف کردو ایمن آپی , تمہاری جگہ میں کبھی نہیں لےسکتی نا ہی لینا چاہوں گی ۔۔۔ وہ اندر ہی اندر خود سے بولی ۔۔۔۔ اذان اسے ایک بار پھر ماما ماما پکارنے لگا ۔۔۔ وہ اذان کو خود میں بھینچ کر بولی ۔۔۔
“نانا حضور مجھے اپ کا ہر فیصلہ منظور ہے ۔۔۔
اتنا کہے کر وہ وہاں سے چلی گئی ۔۔۔
“پر دائم خان سے ابھی پوچھنا ضروری ہے , اس کی رضامندی لینا بھی ضروری ہے ۔۔۔ دادا حضور نے کہا ۔۔۔
“مجھے اپنے بیٹے پر پورا بھروسہ ہے وہ مان جاۓ گا ۔۔۔ مھروز خان نے کہا ۔۔۔
“کل ہی اکر بات پکی کرکے گاؤں میں مٹھائی بانٹ دیں , اگر اپ کی اجازت ہو باباجان ۔۔۔ گل خانم نے پوچھا ۔۔۔
“یہ ٹھیک رہے گا ۔۔۔ شادی عید کے تیسرے روز ہی ہوگی ۔۔۔ انشاء اللہ ۔۔۔ اکبر خان نے کہا ۔۔۔
یوں ایک بار پھر مبارکباد کا سلسلہ شروع ہوا پر اداسی کے ساتھ کیونکہ دانیال کی دی تکلیف بھی کم نہ تھی سب کے لیۓ ۔۔۔
@@@@@@@@@
دیر رات چھوٹی حویلی میں مھروز خان اور اس کی اہلیہ گل خانم دائم کے روبرو بیٹھے تھے ۔۔۔ اسے بڑوں کے بیچ ہوئی بات بتائی ۔۔۔
“واٹ ایسے کیسے اپ لوگوں نے فیصلہ کرلیا , مناہل کوئی گاۓ بکری تو نہیں ۔۔۔ یہ ٹھیک نہیں کیا آپ لوگوں نے ۔۔۔ دائم نے شاک لہجے میں کہا سب سننے کے بعد ۔۔۔
“تو کیا تمہیں بھی اعتراض ہے اپنے بھائی کی طرح ۔۔۔ مھروز خان نے صدمے کی کیفیت میں پوچھا ۔۔۔ گل خانم کو ڈر لگا کہ کہیں ان کا یہ ببیٹا بھی نافرمانی نہ کربیٹھے کیونکہ دائم اور ایمن کی محبت کے سب گواہ تھے ۔۔۔ اج بھی دائم ایمن کی یادوں کے ساتھ جی رہا تھا ۔۔۔
” بات انکار یا اعتراض کی نہیں ہے , بابا آپ کو اتنی جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی کچھ وقت دیتے میں خود دانیال کو سنبھال لیتا ۔۔۔ دائم نے کہا کچھ سوچ کر ۔۔۔
“دانیال کو نہیں ماننا تھا وہ نہیں مانا اس کا ذکر بھی مت کرنا میرے سامنے ۔۔۔سمجھے ۔۔۔ مھروز خان نے کہا ۔۔۔
“مر گیا میرا بیٹا میرے لیے ایک ہی اولاد ہے میری تم صرف , مت نام لینا اس کا میرے سامنے ۔۔۔ مھروز خان کی بات پر گل خانم کا دل تڑپا اس کی سلامتی کی دعا کی انہوں نے دل ہی دل میں پر بظاہر شوہر سے بھی نافرمانی نہ کی تھی انہوں نے ۔۔۔ مھروز خان کے لفظوں سے اذیت تو دائم کو بھی ہوئی تھی پر وہ پی گیا ۔۔۔
” بابا جو ہو رہا ہے وہ غلط ہے اس طرح کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔۔۔ کچھ وقت چاہیۓ اس سب کو قبول کرنے میں ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔
“تو تم بھی مجھے شرمندہ کرواؤگے میرے باپ اور بہن کے اگے , دائم مجھے تم سے یہ امید نہ تھی ۔۔۔ کیا قصور تھا اس معصوم بچی کا جس نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تمہارے بیٹے کے پیچھے اور آج تمہیں اعتراض ہے اس سے شادی پر ۔۔۔ مھروز خان کرب سے بولے ۔۔۔
” بابا آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہو میں اپنی نہیں اس کی بات کر رہا ہوں , اماں جان آپ سمجھاؤ , میں اپنی نہیں مناہل کے احساسات کی بات کررہا ہوں اس کے لیۓ ناممکن ہے اتنا جلدی اس تعلق میں پڑنا سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔ مجھے اس کا خیال ہے ۔۔۔ دائم نے اپنا نظریہ سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔۔
” تمہیں اس کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ تم دونوں بھائیوں سے زیادہ وہ سمجھدار ہے ۔۔۔ بحرحال آخری دفعہ پوچھتا ہوں یہ شادی کروگے یا نہیں ایک بھائی میری پگڑی اچھال کر تماشہ میرا بنا چکا ہے اب تم بھی میرا تماشہ بنانا چاہتے ہو تو بتا دو ایک ہی دفعہ خنجر اتارو میرے سینے میں تھوڑا تھوڑا نہ مارو ۔۔ مھروز خان نے سخت لہجے میں پوچھا ۔۔
“بابا مجھے کوئی اعتراض نہیں پلیز , جس دن جس پل کہیں گے شادی کو تیار ہوں بس دانیال کو معاف کردیں اسے کچھ نہ کہیں , میرا ایک ہی بھائی ہے ۔۔۔ دائم کے لہجے میں بھائہ کے لیۓ بےپناھ محبت تھی ۔۔۔
“میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گا جس خودغرضی کا اس نے ثبوت دیا ہے اس کی معافی نہیں ۔۔۔ اذان کو وجہ بناکر جو کیا ہے وہ ناقابلِ معافی ہے ۔۔۔ مھروز خان کی بات پر دائم چپ ہوگیا ۔۔۔ گل خانم تڑپ کر رہ گئیں ان کے سخت لہجے پر ۔۔ وہ تو ماں تھیں کیسے اپنی ممتا کو مارتیں جس پر دانیال کا حق تھا ۔۔۔
@@@@@@@@@@@
اگلے دن پورے گاؤں اور آس پاس کے گاؤں میں مٹھائی بانٹ کر دائم اور مناہل کے رشتے اور شادی کی بات بتادی گئی ۔۔۔
گل خانم نے اسے لال دوپٹا پہنا کر , سونے کا کنگن پہنا کر رشتہ پکا کیا ۔۔۔ مناہل کے چہرے کے سخت تاثرات اس کے ضبط کی گواہی دے رہے تھے ۔۔۔
صبیحہ خاتوں کے چہرے پر اداسی صاف نظر ارہی تھی جس کا مطلب وہ بیٹی کے احساسات سے اچھی طرف واقف تھیں ۔۔۔ ماں کا دل دکھی تھا اپنی بیٹی کی ناپسندیدگی کا سن کر ۔۔۔
سبین خان کو اپنے غم کھاۓ جارہے تھے کہ جب روشانے کو پتا چلا تو اس کا ریکشن کیا ہوگا ۔۔۔ سب کو منع کردیا گیا تھا کہ روشانے سے یہ بات چھپائی جاۓ فی الحال ۔۔۔
اب گل خانم اسے انگوٹھی پہنا کر اس کو ڈھیروں دعائیں دے رہیں تھیں ۔۔۔ اذان اس کی گود میں انے کو روۓ جارہا تھا صبیحہ خاتون نے سنبھالنا چاہا جو کافی مشکل لگ رہا تھا ۔۔۔ مناہل نے اٹھاکر اسے اپنی گود میں بٹھایا تب جاکر وہ خاموش ہوا ۔۔۔ اس وقت سب کو احساس ہوا واقعی یہ سہی فیصلہ تھا اذان کے لیۓ , مناہل کے لیۓ اور دائم کے لیۓ بھی ۔۔۔
شگن کا ڈھیر سارا سامان وہ لوگ لاۓ تھے ۔۔۔
بڑی حویلی میں کھانا کھایا گیا ۔۔۔ یوں یہ مرحلہ بھی خیر عافیت سے گزر گیا ۔۔۔
@@@@@@@@@
“مام , دس از رانگ (ماں یہ غلط ہے ) ۔۔۔ روشانے نے انگریزی لب و لہجے میں کہا ۔۔۔
“کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔ سبین نے تشویش سے پوچھا ۔۔۔
“جو مناہل کے ساتھ کیا جارہا ہے ۔۔۔ روشانے بولی پر شانزے نے سر تھام لیا اپنی بہن کی بات سن کر کیونکہ روشانے کے چہرے پر سخت تاثر تھے ۔۔۔ شانزے جانتی تھی اپنی بہن کی حساس طبیت کو ۔۔۔ سب کو اس کی فکر لاحق تھی جب اسے حقیقت پتا چلے گی جانے کیا کربیٹھے گی روشانے خود کے ساتھ ۔۔۔
“ڈونٹ دے سی شی از ناٹ ہیپی ودھ دس ڈسیشن ۔۔۔ مام آۓ ہیٹ دس ۔۔۔( ان کو دکھائی نہیں دیتا کہ وہ کتنی دکھی ہے اس فیصلے سے… ماں مجھے نفرت ہے ان سے ) ۔۔۔ روشانے کے لہجے میں دکھ تھا ۔۔۔
“جب اسے اعتراض نہیں ہے تو تمہیں بھی کچھ نہیں کہنا چاہیے روشانے میری جان , اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے ۔۔۔ سبین نے سھولت سے سمجھایا ۔۔۔
“پلیز مام واپس چلیں مجھے مزہ نہیں آرہا یہاں پر , بس جلدی عید ہوجاۓ اور کب میری جان چھوٹے گی مجھے واپس جانا ہے ۔۔۔ مجھے نہیں شادی اٹینڈ کرنی ۔۔۔ پلیز واپس چلیں امریکا ۔۔۔ اج مناہل کو دیکھ کر میرا دم گھٹنے لگا ہے یہاں کے لوگوں سے جو فیمل کو جانور کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں , مجھ سے نہیں ہوتا یہ سب برداش پلیز مام ۔۔۔ روشانے کے لہجے میں درد بول رہا تھا مناہل کے لیۓ ۔۔۔
باذل خان جو کسی کام کے لیۓ اپنی ماں کے پاس ارہا تھا ۔۔۔ واپس پلٹ گیا کیونکہ روشانے کے لہجے درد کو اسنے اندر تک محسوس کیا ۔۔۔
“میں کیسے برداش کرپاؤں گا تمہارے ساتھ جب ہوگا ۔۔۔ میں مرجاؤں گا روشانے پر تم پر انچ بھی برداش نہیں کرپاؤں گا ۔۔۔ میری بےبسی کو تم سمجھوگی نا ۔۔۔ میں بےبس ہوں ان رسموں رواجوں کے اگے میں بےبس ہوں ۔۔۔ اگر بات صرف مگنی تک ہوتی تو سب سے لڑپڑتا , پر یہاں بات نکاح کی ہے , میں کچھ نہیں کرسکتا سواۓ دعا کے ۔۔۔ میری سب دعائیں تمہارے ساتھ ہیں روشانے اللہ تمہارے لیۓ آسانی کرے ۔۔۔ تم عالم خان کے ساتھ سب خوشیاں دیکھو ۔۔۔ آمین ۔۔۔
بھائی کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا اپنی بےبسی پر اور روشانے کے دکھ پر ۔۔۔ وہ لمبے ڈگ بھرتا ہوا چلا گیا حویلی سے باہر ۔۔۔
@@@@@@@@@
عالم خان کے لال بھبھوکا ہوۓ چہرے کو دیکھ کر نوروز خان کو شدید فکر ہوئی ۔۔۔ وہ کس ضبط سے گزر رہا تھا اس کا اندازہ تھا انہیں ۔۔۔ یہ بھتیجا ان کو اپنے بچوں سے عزیز تھا کیسی ازمائش میں وہ اسے ڈال رہے تھے ۔۔۔۔ اس کا احساس تھا ان کو ۔۔۔
“بیٹا سب حالات تمہارے سامنے ہیں , جو فیصلہ تمہارا ہوگا مجھے منظور ہوگا ۔۔۔ تم سے کچھ چھپانا سراسر ناانصافی ہوگی اس لیۓ سچ سے اگاھ کردیا ہے تمہیں ۔۔۔ اگے تم بتاؤ تمہاری مرضی کیا ہے ۔۔۔ نوروز خان نے پوچھا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
