Rate this Novel
Episode 4
ناول … عید اپنوں کے سنگ
ازقلم …. صبا مغل
قسط نمبر 4
“یہ کیسی غیرت ہے جس کا معیار کسی کے کپڑوں سے ہو میں تھوکتی ہوں ایسی نام نہاد غیرت پر ۔۔۔
اور روشانے واقعی اس کے پیروں کے پاس تھوکتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔ عالم شاک ہوا اس کے لفظوں پر ۔۔۔
وہ جارحانہ اس کی طرف بڑھا پر اسے سائیڈ کرکے ڈریسینگ کی سب چیزیں گراگیا اور بولا تو لہجے میں پھنکار تھی ۔۔۔
“یہ حشر کرتا تمہارا بےغیرت لڑکی اس انداز میں بات کرنے پر ۔۔۔۔ تمہاری ذات اور تمہارت غرور کو منٹوں میں بکھیر کر رکھ دیتا اس انداز کی زبان درازی پر ۔۔۔ دفع ہو میرے سامنے سے ورنہ اگر واقعی میری غیرت جاگی تمہارا حشر نشر کردوں گا ۔۔۔ نکلو , آؤٹ ۔۔۔
اس کا غصہ سوا نیزے پر تھا ۔۔
وہ اس کا بازو تھام گیا اب کے اس کی پکڑ میں شدت تھی ۔۔۔ سہی معنیٰ میں وہ بوکھلا گئی تھی ۔۔۔ روشانے کی ٹانگیں کانپنے لگیں , گھبراہٹ اس پر سوار ہوئی اس کی دھاڑ ہی ایسی تھی ۔۔۔ بکھری چیزوں پر نظر تھی اس کی , ڈر کے مارے عالم کو دیکھ نہ پارہی تھی جس کی آنکھوں میں شعلوں سی لپک تھی ۔۔۔ چہرہ غصے سے لال ہوا تھا عالم خان کا ۔۔۔
وہ اس کا بازو تھام کر ڈریس اٹھایا اور اسے گھسیٹتا ہوا کمرے سے باہر لے گیا اور اس کمرے میں لاکر بیڈ پر پٹخا , یہ وہی کمرا تھا جس میں وہ سوئی تھی ۔۔۔ ڈریس اس کے پاس پھینکا اور کہا ۔۔۔
“لاسٹ وارننگ دے رہا ہوں تمہیں یاد رکھنا , تاعمر ماں باپ کو ترس جاؤگی ۔۔۔ اگر شرافت سے یہ ڈریس پہن کر 15 منٹ میں نہ آئی نیچے ۔۔۔ یہ بات اپنے خالی دماغ میں بٹھالو پندرہ منٹ مطلب چودہ منٹ ہوسکتا ہے سولا منٹ نہیں ۔۔۔ سمجھی ۔۔۔
وہ اسے سختی سے وارن کرتا کمرے سے نکل گیا ۔۔۔ بغیر اس کی طرف دیکھے اور اسے سنے ۔۔۔
@@@@@@@@@@
دس منٹ کے بعد وہ سیڑھیوں سے اتر رہی تھی عالم خان نے نظر اٹھا کر دیکھا جو شلوار قمیص میں ملبوس دوپٹہ ایک کندھے پر ڈالے نیچے ارہی تھی ۔۔۔ پھولا ہوا منہ اس کی ناراضگی کو واضع کررہا تھا ۔۔۔ چہرہ لال بھبھوکا ہورہا تھا ۔۔۔ ان کپڑوں میں وہ اسے اپنی سی لگی دل کو کچھ ڈھارس ملی ۔۔۔
“چلیں یا یونہی دیکھتے رہیں گے ۔۔۔ وہ غصے سے بولی ۔۔۔ اس کی زبان درازی کا قائل ہوگیا تھا وہ ۔۔۔
“تمہارے سدھرنے کا کوئی چانس ہی نہیں ۔۔۔ عالم خان نے افسوس سے کہا ۔۔۔
“خود کے بارے میں کیا راۓ ہے اپ کی ۔۔۔ وہ دوبدو بولی ۔۔۔
“تمہاری زبان سے شیطان پناھ مانگتا ہوگا , لڑکیوں کو یہ انداز سوٹ نہیں کرتا سدھارو خود کو ورنہ بہت مشکل ہوجاۓ گی ۔۔۔ اب کے عالم خان نے اسے ڈپٹ کر تنبہی بھی کی , پر عالم خان کیا جانے سامنے روشانے تھی جس نے چکنا گھڑا ہی ثابت ہونا تھا ۔۔۔
“مجھے لگتا ہے یہ قانوں مردوں پر بھی لاگو ہونا چاہیۓ ۔۔۔ سدھاریں خود کو اتنی اکڑ اور غرور کس بات کا , کسی لڑکی کو زیر کرنا میری نظر میں مردانگی کے زمرے میں نہیں اتا ہے عالم خان ۔۔۔ روشانے کی بات پر وہ اچھا خاصا طیش میں انے لگا پر بروقت خود سنبھال گیا کسی طرح ۔۔۔
“روشانے بہت غلط کررہی ہو تم ,خود کے ساتھ , ایک دفعہ بےغیرت اور اب دوسری دفعہ مردانگی کا طعنہ دیا ہے ۔۔۔ یہ سب تم پر اُدھار رہا , حساب تو ہوگا , ضرور ہوگا روشانے عالم خان , میری ڈکشنری میں تم جیسی بدزبان عورتوں کی معافی نہیں , اس وقت کو کوسو گی تم , جب تم نے مجھ سے زبان درازی کی ۔۔۔۔ بہت پچھتاؤ گی تم دیکھ لینا ۔۔۔
عالم خان نے دانت پیس کر سوچا پر کہا نہیں ۔۔۔ پر جب بولا تو بس اتنا کہ ۔۔۔
“تمہاری زبان تمہیں بہت مشکل میں ڈالنے والی ہے روشانے , بہت غلط کررہی ہو تم اپنے ساتھ بھی میرے ساتھ بھی ۔۔۔ یہ بات میری یاد رکھ لو ۔۔۔
اس کے لہجے کی گہرائی کو شدت سے محسوس کیا روشانے نے ۔۔۔
اس سے پہلے وہ اور کچھ کہتی وہ تیز لہجے میں بولا ۔۔۔
“بسسسس ایک لفظ اور نہیں چلو نکلنا ہے گاؤں کے لیۓ ۔۔۔
وہ چپ ہوتی نکلنے کے لیۓ قدم بڑھاۓ ۔۔۔ وہ دونوں باہر نکل آۓ ملازم کھڑا تھا مودب انداز میں ۔۔۔
“سر پر دوپٹا لو پھر بیٹھو اگے ۔۔۔ عالم خان نے حکم دیا ۔۔۔
“مجھے تمہارے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت نہیں , میں بغیر سر پر دوپٹہ لیۓ پیچھے بیٹھ رہی ہوں ۔۔۔
وہ دروازہ کھولتی پیچھے بیٹھنے لگی اسی وقت وہ اس کے قریب ایا اسے بازو سے پکڑ کر اگے بٹھایا اور کہا ۔۔۔
“تم لائق ہی نہیں کسی عزت کے , اگے ہی بیٹھو گی تم , میں تمہارا ڈرائیور نہیں ۔۔۔ عالم اتنا کہے کر پراڈو گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرگیا وہ کانوں کو ہاتھ لگاگئی ۔۔۔
وہ دوسری طرف اکر بیٹھا اور یوں وہ اتنی لڑاۓ جگھڑے بحث بازی کے بعد گاؤں کے لیۓ روانہ ہورہے تھے ۔۔۔
@@@@@@@@@
وہ کافی دیر سونے کے بعد اٹھی تھی , شام کے ساۓ ڈھل رہے سورج کچھ دیر میں غروب یونے کی تیاری میں تھا ۔۔۔ گھڑی دیکھی پانچ گھنٹے ہوگۓ تھے “اتنا لمبا سفر ۔۔۔
وہ سوچ ہی سکی کہ اچانک گاڑی رکی ۔۔۔
“شٹ گاڑی خراب ہوگئی اب کیا ہوگا ۔۔۔ وہ جلدی سے بولی اور عالم خان کو دیکھا ۔۔۔
“نیند میں ہو کیا ابھی بھی , کل سے سوکر تھکی نہیں تم , گاڑی خراب نہیں ہوئی میں نے روکی ہے ۔۔۔ عالم خان نے اسے ناگواری سے دیکھا اور بیزاریت سے کہا تھا ۔۔
اس کے کہنے پر وہ شدید شرمندہ ہوئی اپنی بےوقوفی پر ۔۔۔
“میں جان بوجھ کر سوئی تھی کیونکہ جاگ کر میرا تم سے لڑنے کا موڈ نہیں , میرے جبڑے درد کرنے لگے ہیں تم سے بحث کرکے ۔۔۔
سامنے بھی روشانے صاحبہ تھی جو ذرہ بھی حساب نہیں چھوڑتی تھی عالم خان پر وہ بھی خار بھرے لہجے میں بولی تھی ۔۔۔۔
“میری بھی کچھ ایسی حالت ہے , پر سوچا ہے تم نے , اگلی سیٹ پر سونا ڈرائیوو کرنے والے کو بھی سونے کو اکساتا ہے جس سے بڑے بڑے نقصان ہونے کے چانسز ہیں ۔۔۔ اس بات کا خیال کرنا چاہیۓ تمہیں ۔۔۔ اب کے عالم خان ارام سے بولا تھا اس کے غصے کو نظر انداز کرکے ۔۔
“ہممم سہی کہا اپ نے مجھے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر نہیں سونا چاہیۓ بلکہ بیک سیٹ پر ٹانگیں پھیلا کر سونا چاہیۓ تاکہ میری زندگی کا یہ منحوس ترین سفر جلدی ختم ہو اور توبہ ہے جو دوبارہ کبھی تمہاری گاڑی میں بیٹھوں بلکہ پاکستان انے سے میری اماں ابا کی توبہ ۔۔۔۔ وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر ناک پر انگلی رگڑی اور توبہ کرنے لگی ۔۔۔ عالم دانت پیس کر رہ گیا اس کے نفرت امیز انداز پر ۔.۔
“یہ بھی تمہاری خوشفہمی جلدی دور ہوجاۓ گی روشانے عالم خان , یہیں اس ملک اس گاؤں میں میری ہمسفر تاعمر رہوگی تم , پھر دیکھتا ہوں تمہاری ان توباؤں کو , ان انداز اور اطوار کو ۔۔۔ عالم خان نے سوچا ۔۔۔
“باۓ دہ وے تم نے گاڑی کیوں روکی ہے پوچھ سکتی ہوں ۔۔۔ وہ پانی کی بوتل اٹھاکر پیتے ہوئے پوچھ رہی تھی ۔۔۔
“خدا کے واسطے چپ کر جاؤ , پانچ منٹ ہیں افطاری میں , پھر بکواس کرلینا میرا روزہ ہے ۔۔۔ عالم نے تیز لہجے میں کہا ۔۔۔ جس پر وہ بےانتہا شرمندہ ہوئی واقعی ماہِ رمضان کا مہینہ تھا وہ خود تو روزے رکھتی نہیں تھی سوچا کوئی بھی نہیں رکھتا ہوگا ۔۔۔
ایک دم اسے شدید شرمندگی ہوئی اپنے اس وقت پانی پینے پر ۔۔ کچھ بھی ہو وہ روزیدار کا احترام کرتی تھی اور اس کے اگے کچھ کھانے پینے سے پرہیز کرتی تھی ۔۔۔اس نے سوچا “کیا کل عمر خان بھی مطلب روزے میں تھا اس لیۓ اس نے کسی چیز کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تھا ۔۔۔ روشانے نے سوچا اور شدید شرمندگی ہوئی اسے ۔۔۔
کچھ دیر میں اذان سن کر کھجور کھاکر اس نے روزہ کھولا ۔۔۔ اس نے اسے آفر کی تو اس نے بھی کھجور اٹھالی اور کھانے لگی ۔۔۔
تھوڑا فروٹ کھا کر اور جوس پی کر وہ بولا ۔۔۔
“اگے ایک گھنٹے کا سفر ہے واشروم جانا ہو تو سامنے جاسکتی ہو پمپ پر ۔۔۔ عالم خان نے اس کی آسانی کے لیۓ آفر کی ۔۔۔
“نہیں جلدی چلیں , مجھے اس سفر نے تھکادیا ہے ۔۔۔ وہ بیزاریت سے انگڑائی لیتے ہوۓ بولی ۔۔
وہ اس کے یوں انگڑائی لینے پر اششش کر اٹھا ۔۔۔ کسی لڑکی کا یوں انگڑاۓ لینا اسے افسوس میں مبتلا کرگیا ۔۔۔
“تایا جان اپ سے بہت کمی رہ گئی ہے اس کی تربیت کرنے میں , ساری کسر میں پوری کروں گا , اسے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔ عالم خان نے دل ہی دل میں سوچا پر کہا کچھ نہیں کیونکہ فی الحال سر درد سے پھٹا جارہا تھا وہ اس سے بحث کے قطعی موڈ میں نہیں تھا ۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“صبیحہ آپا , میں بہت شرمندہ ہوں جو ایمن خان کے گزرنے کے وقت آ نہ سکے اور اپنی بہن کو تسلی نہ دے سکا مجھے معاف کردیں اپا ۔۔۔ نوروز خان نے اپنی بہن سے دکھی لہجے میں کہا ۔۔۔
صبح کے وقت مناہل کی گود میں اذان کو دیکھ کر بےساختہ ان کو خیال ایا ان کو تعزیت کرنی چاہیۓ تھی اتے ہی کیونکہ امریکا میں اپنے مسائل کی وجہ سے وہ اس وقت آ نہ سکے تھے ۔۔۔
“بسس بھائی جان اللہ کی مرضی کے اگے انسان کیا کرسکتا ہے ۔۔۔ بس سب سے بڑا دکھ میرا ہے جس نے جوان بیٹی کھودی ہے ۔۔۔ میری عمر تھی جانے کی اور چلی میری بیٹی گئی ۔۔۔ صبیحہ خاتون نے کہا ۔۔۔
“آپا اس طرح نہ کہیں ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔
یوں دکھ کا سماں بندھ گیا ۔۔۔ بڑا بھائی نوروز خان اپنی بہن صبیحہ خاتون کے آنسو پونچھتا رہا ۔۔۔ آنکھیں تو نوروز خان کی بھی نم تھیں ۔۔۔
اذان کی قلقاریوں نے ان کو خود کی طرف متوجہ کیا ۔۔۔
روزے افطاری سب نے ساتھ میں کی بڑی حویلی میں ۔۔۔ اج پورا دن بڑی حویلی میں جشن کا سمان تھا کیونکہ اس خاندان کا بڑا بیٹا اور بڑی حویلی کا اصل وارث نوروز خان ایا تھا ۔۔۔
اکبر خان اس گھر کے سب سے بڑے بزرگ تھے جو اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے ۔۔۔۔ جن کو اللہ نے چار اولادوں سے نوازا تھا ۔۔۔
سب سے بڑی بیٹی تھی صبیحہ خاتون جو کم عمری میں بیوہ ہوگئیں تھیں اور اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ بڑی حویلی آبسی تھیں ۔۔۔ بڑی بیٹی ایمن جو زچگی کے دوران وفات پاچکی تھی اور چھوٹی مناہل خان تھی جو اس کے بیٹے کو سنبھال رہی تھی اج کل ۔۔۔
اس کے بعد نوروز خان جس نے اپنی پسند سے شادی کی تھی امریکن لڑکی سبین سے , جن سے ان کی تین اولاد تھیں ۔۔۔ بڑا بیٹا باذل خان , روشانے خان اور سب سے چھوٹی شانزے خان ۔۔۔
اس کے بعد بھروز خان تھے جن کی اہلیہ کا نام پروین تھا۔۔۔ وہ لوگ چھوٹی حویلی میں رہائش پذیر تھے پچھلے بیس سالوں سے ۔۔۔ جن کی بھی تین اولاد ہیں سب سے بڑا عالم خان , اس کے بعد عمر خان پھر سب سے چھوٹی زرتاشہ خان جسے پیار سے سب زونی کہتے تھے ۔۔۔
سب سے چھوٹا بیٹا مھروز خان تھا جن کی اہلیہ کا نام گل خانم تھا جس کے دو بیٹے تھے دائم خان جس کی شادی ایمن خان سے ہوئی تھی یہ محبت کی ہی شادی تھی جس کی مدت صرف دوسال ہی رہی پہلے بچے کو پیدا کرتے وقت ایمن خان خدا سے جاملی اور دائم خان کو محبت کا روگ دے گئی پر اپنی ایک نشانی چھوڑ کر دائم خان کو جینے وجہ بھی دے گئی تھی اذان خان کی صورت میں جو ایک سال کا ہونے والا تھا ۔۔۔ دائم خان سے چھوٹا دانیال خان تھا جس کی مگنی مناہل سے ہوچکی تھی ۔۔۔
@@@@@@@@@
رات کو آٹھ بجے وہ دونوں حویلی پہنچے تھے ۔۔۔ آتے ہی سب سے نارمل ملی اس کے کسی انداز میں کوئی گرمجوشی نہ تھی ۔۔۔ دادا حضور نے بہت پیار کیا روشانے کو پر اس کا انداز نارمل ہی رہا ۔۔۔
الٹا ایک دو دفعہ دبے لفظوں میں شانزے کو سنا چکی تھی جس نے نا اٹھاکر اس کا پورا دن خراب کیا تھا ۔۔۔
مناہل اور شانزے ہم عمر تھیں صرف کچھ مہینوں کا فرق تھا ۔۔۔ دونوں کی عمر انیس سال تھی ۔۔۔
“ویسے یہ کیوٹ بچہ کس کا ہے ۔۔۔ روشانے نے پوچھا کیونکہ وی دو تین دفعہ اس کے دوپٹے کا پلو تھام گیا ۔۔۔ بھوری آنکھوں والا خوبصورت بچہ جو مناہل کی گود میں مستقل بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ روشانے ہوچھ بیٹھی تھی ۔۔۔
“دائم بھائی اور ایمن آپی کا ۔۔۔ شانزے نے کہا ۔۔۔
“او اچھا ۔۔۔ روشانے چپ ہوگئی ۔۔۔ اسے یاد اگئی اپنی بچپن کی سہیلی ایمن کی جو اس کی ہی ہم عمر تھی ۔۔۔ دل میں دکھ کی لہر اٹھی ۔۔۔ بےساختہ اسے اٹھا کر روشانے نے اسے پیار کیا ۔۔۔
وہ رونے بیٹھ گیا جس پر جلدی سے مناہل نے اٹھایا اور فٹ سے چپ ہوا وہ ۔۔۔
“واہ مناہل کمال کردیا تم نے , یہ تو تم سے بہت اٹیج ہے ۔۔۔ روشانے حیرت سے بولی ۔۔۔
اسی لمحے دائم خان ایا جو سب سے مل کر اپنے بچے کی طرف بڑھا , مناہل اس کے حوالے کرکے اٹھ کر چلی گئی ۔۔۔ پھر اس نے پلٹ کر نہ دیکھا اذان رونا شروع ہوا وہ ان دیکھا ان سنا کرکے چلی گئی ۔۔۔
اس لمحے سب نے حیرت سے اس کا ریکشن دیکھا ۔۔ اج سب بڑی حویلی اکٹھے ہوۓ تھے ۔۔۔ کھانے کے بعد سب روانہ ہوۓ بھروز خان اور مھروز خان کی فیملی چھوٹی حویلی کی طرف جو تھوڑا ہی دور تھی بڑی حویلی سے ۔۔۔
آج بھی زونی نہ آئی تھی دعوت کے باوجود سب نے اس کی کمی کو شدت سے محسوس کیا ۔۔۔
دائم خان اپنے بیٹے کو ڈھیر سارا پیار کرکے صبیحہ خاتون کو دیا اور کہا ۔۔۔
“پھپھو , اذان کی کسی چیز کی ضرورت تو نہیں , شہر سے کچھ منگوانا ہو تو بتادیں ۔۔. دائم خان کی نظریں اپنے اذان پر تھیں فی الحال جسے وہ اپنے پاس رکھنے سے وہ قاصر تھا ۔۔۔
“بیٹا مناہل سے پوچھ کر بتادوں گی یا اسے کہوں گی تمہیں کال کرکے بتاۓ ۔۔۔ انہوں نے کہا ۔۔۔
“جی پھپھو ۔۔۔ ضرور بتائیۓ گا , کل میرا شہر کا پروگرام ہے باذل بھائی کو لینے مجھے ہی جانا ہے ۔۔۔
“ٹھیک ہے بیٹا ۔۔۔ مناہل سے کہے دوں گی فکر نہ کرو ۔۔۔ پھپھو نے کہا ۔۔۔
“پھپھو آپ لوگوں نے بہت کیا ہے میرے اور اذان کے لیۓ دل سے شکریہ ۔۔۔ دائم خان اکثر یہ سب کہتا تھا ان سے ۔۔۔ جس پر صبیحہ خاتون ٹوکتی بھی تھیں پر دائم کہنے سے باز نہ اتا تھا ۔۔۔
“بیٹا شکریہ کہے کر شرمندہ نہ کرو یہ ہماری ایمن کی نشانی ہی تو ہے ۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا پہلے دن سے ہی مناہل نے اسے سنبھالا ہوا ہے ورنہ ان کانپتے ہاتھوں سے میں تو اٹھا نہیں سکتی تھی اس معصوم کو نا ہی کوئی کام کرسکتی ہوں ۔۔۔ صبیحہ خاتون نے بےبسی سے اپنی حقیقت بتائی ۔۔۔
اس لمحے اس کے دل میں مناہل کے لیۓ تشکر کے جذبات ابھرے ۔۔۔ جسے وہ لفظوں میں کہنا چاہتا تھا مناہل سے پر ایک دفعہ بھی مناہل نے اسے موقعہ نہ دیا تھا کیونکہ وہ اس سے بات کرنا تو دور کی بات اس سے ہمکلام ہونا بھی گوارا نہ کرتی تھی ۔۔۔
بقول دائم خان کے “مناہل ایک عجیب لڑکی ہی تو ہے جو خود میں مگن رہنے والی نا کسی سے زیادہ بات کرنے والی اپنے کام سے کام رکھتی تھی وہ ہمیشہ سے ۔۔۔
@@@@@@@@
سب مہمانوں کے جانے کے بعد روشانے اپنے ماں باپ سے بولی ۔۔۔
“یہ غلط کیا اپ نے پاپا , مجھے اس جاہل جلاد کے پاس چھوڑگۓ , کتنا اریٹیٹ کیا اس نے مجھے آپ کو پتا ہے ۔۔۔۔ اس کے لہجے میں شکوہ تھا ۔۔۔
“ایسے نہیں کہتے شان , وہ بڑا ہے تم سے عزت کرو اس کی ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔ سبین اپنی بیٹی کو حسرت سے دیکھتی رہ گئیں ۔۔۔ ان کا دل اندر ہی اندر اداس تھا ۔۔۔
“پاپا بندے کے کام بھی عزت رکھوانے والے ہونے چاہیۓ تو ہی عزت ملے گی ۔۔۔ وہ ہٹ دھرمی سے بولی ۔۔۔
نوروز خان غصہ ہی ہوۓ پر روشانے نے اس پر توجہ نہ دی اپنی کہے جارہی تھی ۔۔۔ دوسری طرف عالم خان جو اس کی موبائل دینے ایا تھا جو اس کی گاڑی میں شاید اس کے پرس سے گر گئی تھی ۔۔۔ اس کی بات سن کر عالم خان کا خون کھول اٹھا ۔۔۔ زیادہ سننا اس کے بس سے باہر تھے اس لیۓ وہیں سے پلٹ گیا باہر ٹیبل پر موبائل رکھ کر ۔۔۔
“پلیز پاپا واپس جلدی چلیں گے امریکا مجھے نہیں رہنا یہاں ۔۔۔ وہ ضدی لہجے میں بول رہی تھی ۔۔۔
“بیٹا عید کے بعد جائیں گے ۔۔۔ نوروز خان نے آہستہ سے کہا ۔۔۔
“ٹھیک ہے عید کے تیسرے دن کی بکنگ کروالیں یہاں کا ماحول گھٹن زدہ ہے مجھے واپس جانا ہے ۔۔۔ روشانے نے بیزاریت سے کہا ۔۔۔
“ہمممم ۔۔۔ وہ اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھتے رہ گۓ ۔۔۔
@@@@@@@@
“اف بیزار ہوگیا ہوں اتنا لمبا سفر کرکے ۔۔۔ باذل خان نے انگڑائی لیتے ہوۓ دائم خان سے کہا جو گاڑی ڈرائیو کررہا تھا ۔۔۔
“گاؤں کی حدود میں اگۓ ہیں بس حویلی پہچنے والے ہیں باذل بھائی ۔۔۔ دائم نے نظریں راستے پر مرکوز کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔ چار سوں اندھیرا ہی اندھیرا ہوگیا تھا ۔۔۔ ابھی عشاء کی اذان میں تھوڑا وقت رہ گیا تھا دائم کو اپنی نماز تراویع کی فکر تھی جو اسے جماعت کے ساتھ ادا کرنی تھی ۔۔۔
“جانتا ہوں , ابھی بھولا نہیں یہاں کے راستے اور یہاں کے لوگ ۔۔۔ باذل خان نے بھاری لہجے میں کہا ۔۔۔ اک معصوم چہرہ نظروں میں آسمایا ۔۔۔
اسی لمحے گاڑی کے ٹائر چرچراۓ اور جھٹکے سے گاڑی رکی ۔۔۔ گاڑی کے سامنے لڑکی اگئی تھی جس کے ہاتھ میں بچہ تھا ۔۔۔
دائم جلدی سے باہر نکلا اور وہ شاک ہوکر سامنے دیکھنے لگا ۔۔۔
“زونی رات کے اس پہر کہاں سے ارہی ہو دھیاں سے چوٹ تو نہیں لگی تمہیں یا شمائل کو ۔۔۔ دائم نے فکر سے کہا ۔۔۔
“چوٹ تو نہیں لگی ہمیں , دائم بھائی سہیلی کے گھر سے ارہی تھی ۔۔۔ زونی نے سکون سے کہا ۔۔۔
“آؤ گاڑی میں بیٹھو , آئندہ اکیلی نہ ایا کرو واپس ۔۔۔ لاؤ شمائل کو مجھے دو ۔۔۔ زونی کے کندھے پر بچی کو لینے کے لیۓ ہاتھ بڑھایا , اسی لمحے باذل نے اس کا رخ اپنی طرف کیا اور بچی کو لے کر بولا ۔۔
“یہ کس کی بیٹی ہے دائم ۔۔۔ اس کے لہجے میں تجسس تھا ۔۔۔ زونی کبھی اس ہرجائی کو دیکھتی کبھی اس کے ہاتھ میں تھامی شمائل کو ۔۔۔ باذل کی نظر زونی پر مرکوز تھی ۔۔۔
بنا رکھی ہے غیروں سے بھی اس نے
وہ ہم سے بھی لگاوٹ کر رہا ہے
اور کوئی سمجھاؤ نہ جاکے اس بیوفا کو!
وہ محبت میں ملاوٹ بھی کر رہا ہے
جاری ہے ۔۔۔
