Rate this Novel
Episode 6
ناول … عید اپنوں کے سنگ
ازقلم …. صبا مغل
قسط نمبر 6
“کیا چاہتی ہے میری بیٹی ۔۔۔ بہروز خان نے اپنی بیٹی سے پوچھا ۔۔۔ اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیر کر پوچھا تھا ۔۔۔
زرتاشہ کے ہونٹ کپکپاگۓ کچھ کہے نہ سکی , اسی لمحے عالم خان اگے بڑھا اپنی بہن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کے ساتھ کھڑا ہوا اور کہا ۔۔۔
“زونی میں تمہارا بھائی تمہارے ساتھ ہوں جو فیصلہ تمہارا ہوگا وہی آخری ہوگا ہمارا فیصلہ , پھر چاہے جو حالات ہوگۓ تمہاری رضامندی جس فیصلے میں ہوئی , وہی ہوگا ۔۔۔ شاباش کہو ۔۔۔ عالم خان کے اس انداز پر وہ شدت سے روپڑی ۔۔۔
“سب ختم ہوجاۓ گا میرے ایک فیصلے سے , سب بکھر جاۓ گا ۔۔۔ باذل خان کی ضد سب تباھ کردے گی ۔۔۔ میں تمہاری ضد ہی تو ہوں باذل خان اور کچھ نہیں ۔۔۔ زونی نے سوچا جس کی دوسری طرف اب عمر خان کھڑا تھا ۔۔۔
باذل خان دانت پیس کر رہ گیا ۔۔۔
“اگر میری مرضی کے خلاف فیصلہ ہوا تو تمہاری خیر نہیں زرتاشہ باذل خان ۔۔۔ باذل خان سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ سوچا ۔۔۔
“کہو زونی ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔
“میں ایک ہی صورت میں اس شخص کے ساتھ رہ سکتی ہوں جب عالم بھائی اور روشانے بھابھی کی رخصتی ہوجاۓ گی ورنہ کسی صورت نہیں ۔۔۔ یہ لفظ اس نے باذل خان کی طرف دیکھتے ہوۓ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہے تھے ۔۔۔
“زونی یہاں تمہاری ذات کی بات ہورہی ہے ۔۔۔ مجھے بیچ میں نہ لاؤ ۔۔۔ عالم خان نے سمجھایا ۔۔۔
“عالم بھائی میں فیصلہ کرچکی ہوں ۔۔۔ زونی نے سکون سے کہا ۔۔۔
نوروز خان حیران ہوۓ اس کے اس فیصلے پر ۔۔۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں , مجھے تمہارا فیصلہ منظور ہے ۔۔۔ باذل خان نے ضبط سے کہا ۔۔۔
“انشاء اللہ عالم اور روشانے کی رخصتی کے ساتھ ہی زرتاشہ آۓ گی یہاں ۔۔۔ بھروز خان نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔
“معاف کیجیۓ چچا جان , مجھے میری بیوی اور بیٹی ابھی چاہیۓ , یہ عید ان کے ساتھ اس حویلی میں گزارنا چاہتا ہوں ۔۔۔ باذل خان نے اپنا مطالبہ سامنے رکھا ۔۔۔
“پر زونی ۔۔۔
عالم خان نے کچھ کہنا چاہا پر اس کی بات کاٹ کر بھروز خان نے کہا ۔۔۔
“زرتاشہ اور شمائل یہیں رہیں گے تمہارے ساتھ , ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔ بھروز خان نے کہا ۔۔۔ عالم خان خاموش ہوگیا باپ کے فیصلے کے اگے پر اسے افسوس تھا اپنی بہن کے اس فیصلے سے ۔۔۔
بڑی حویلی میں دونوں خاندان بیٹھے تھے ۔۔۔ یہیں بیٹھ کر سب نے کھانا کھایا ۔۔۔
باذل خان ضبط کیۓ بیٹھا تھا جسے شدید غصہ ارہا تھا اپنی بیوی پر ۔۔۔
@@@@@@@
“آؤ چوڑیاں پہنتے ہیں ۔۔۔ شانزے نے مزے سے کہا ۔۔۔ ہر طرف رنگ برنگی چوڑیاں دیکھ شانزے چہک کر بولی ۔۔۔
“شان آپی اپ کونسا کلر پہنیں گی ۔۔۔ شانزے نے پوچھا ۔۔۔
“بلیک کلر کی ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔ یوں عورت اسے پہنانے لگی اور شانزے نے ست رنگی چوڑیاں پہنی دونوں کلائیوں میں ۔۔۔
“مناہل تم بھی پہنو ۔۔۔ شانزے نے کہا ۔۔۔
“نہیں اذان کو پرابلم ہوگی اس کی آواز سے ۔۔۔ مناہل نے سکوں سے کہا ۔۔۔
مناہل مسلسل اذان کو اٹھاۓ میلے میں گھوم رہی تھی ۔۔۔ دائم نے کئی دفعہ اس سے لیا جس پر وہ خاموشی سے اسے دے دیتی پر دوبارہ روکر اس کی گود میں چلا جاتا ۔۔۔ دائم کو شرمندگی ہونے لگتی اس کے بیٹے کا یوں اس پر اجارداری قائم کرنا اسے کسی اور کام کا نہیں چھوڑا تھا اذان نے ۔۔۔
جس خاموشی سے اس نے اذان کی ذمیداری لی ہوئی تھی بغیر کچھ جتاۓ وہ قابلِ تعریف بات تھی ۔۔۔
“جہاں سے میں دیکھ رہا ہوں , اذان کو چوڑیان بہت پسند ہیں دیکھو کیسے کھیل رہا شانزے کی چوڑیوں سے ۔۔۔ دائم خان نے کہا ۔۔۔
“دائم بھائی ٹھیک کہے رہے ہیں ۔۔۔ شانزے نے کہا ۔۔۔
“ہمممم پہن لیتی ہوں ۔۔ مناہل نے مختصر لفظوں میں بات ختم کی ۔۔۔ یوں ست رنگی چوڑیان اس کی سانولی کلائیوں میں سجادیں اس عورت نے ۔۔۔
روشانے مزے سے دیکھ رہی تھی اسے اچھی لگ رہیں تھیں یہ چوڑیاں ۔۔۔
دائم خان چوڑیوں کی قیمت ادا کرنے لگا وہ اگے بڑھیں ۔۔۔
“کتنی پیاری لگ رہیں نا ۔۔۔ روشانے نے مناہل سے کہا ۔۔۔
“ہاں اپ کی اور شانزے کی گوری کلائیوں میں , چوڑیوں کی قیمت بڑھادی ہو جیسے , جبکہ ان چوڑیوں نے میری سانولی کلائیوں کو دیکھنے کے قابل کردیا ہو جیسے ۔۔۔ مناہل نے یاسیت سے کہا ۔۔۔
“یہ کیا بکواس کی ہے تم نے مناہل ۔۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔روشانے اور شانزے دنگ رہ گئیں اس کی بات پر ۔۔۔
“یہی سچ ہے سب ہی مذاق اڑاتے ہیں میری سانولی رنگت پر ۔۔۔ بچپن سے دیکھتی ارہی ہوں , یہی حقیقت ہے ۔۔ مناہل اتنا کہے کر اگے بڑھ گئی ۔۔۔ جبکہ روشانے اور شانزے نے ہونق بن کر ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔
@@@@@@@
کافی دیر گھومنے کے بعد وہ حویلی آئیں تھیں جو دائم خان کے ماموں کی تھی جہاں ان کے رات کے کھانے کا انتظام تھا ۔۔۔ پھر ان کو اپنے گاؤں کے لیۓ روانہ ہونا تھا ۔۔۔
دوسرے گاؤں کے سردار تھے دائم کے ماموں , جنہوں نے رہنے کا کہا تھا پر انہوں نے سھولت سے انکار کیا اس لیۓ صرف کھانے کو مان گۓ تھے ۔۔۔
بحرحال ان لوگوں نے خوب مہمان نوازی کی , کھانا خوب سیر ہوکر کھایا سب نے ۔۔۔ مناہل اذان کے کپڑے چینج کروارہی تھی اس وقت روشانے بولی ۔۔۔
“تھکتی نہیں ہو اس کے کام کرکے ۔۔۔ اذان کی معصوم کلکاریاں گونج رہیں تھیں کمرے میں جس پر سب کو ہنسی ارہی تھی ۔۔۔ اذان کا رجحان صرف مناہل کی طرف تھا ۔۔۔
“نہیں تو ۔۔۔ اذان کے بغیر ادھورا محسوس کرتی ہوں ۔۔۔ اس میں سے میری بہن کی خوشبو اتی ہے شان آپی ۔۔۔ مناہل کے لہجے میں شدید محبت تھی ۔۔
“مناہل تم بہت اچھی ہو ۔۔۔ اپنی بہن کی محبت کا حق ادا کیا ہے تم نے ۔۔۔ سحر نے اکر کہا جو دائم خان کی ماموں زاد تھی ۔۔۔ جو ایمن کی بھی سہیلی تھی ۔۔۔
“ہممم ٹھیک کہا تم نے ۔۔۔ روشانے بولی ۔۔۔
“ویسے سانولے رنگ کی لڑکیاں یونہی خود پر توجہ مبڈول کروانے کے ڈرامے کرتی ہیں ۔۔۔ سعدیہ نے کہا جو سحر کی چھوٹی بہن ہے ۔۔۔
“ایسے نہیں کہتے سعدیہ , بری بات ۔۔۔سحر نے ٹوکا ۔۔
“ویسے صبیحہ آنٹی سے کئی دفعہ سب نے پوچھا ہے اسپتال میں بدل تو نہیں گئی تھی مناہل کیونکہ اسے دیکھ کر کون کہے سکتا ہے یہ پٹھانوں کے خاندان سے ہے ۔۔۔ سعدیہ نے ہنستے ہوۓ بتایا ۔۔۔
“سعدیہ چپ کرجاؤ ۔۔۔ اللہ کی بنائی صورت ہے , اس میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں ۔۔۔ روشانے نے بری طرح ٹوک کر کہا سعدیہ سے اور وہ ویسے بھی ایسی تفریق کو قطعی پسند نہیں کرتی تھی ۔۔۔
“میرا خیال ہے دائم بھائی نے چاۓ پی لی ہوگی ۔۔ چلو چلتے ہیں ۔۔۔ روشانے نے کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔
اس کے سخت ریکشن پر سعدیہ شرمندہ سی ہوئی ورنہ کبھی کسی نے اسے یوں ٹوکا نہ تھا ۔۔۔
“شانزے اٹھاؤ اذان کی چیزیں اور مناہل تم اذان کو اٹھاؤ , چلیں دیر ہورہی ہے ۔۔۔ روشانے کا انداز بلکل سرد تھا ۔۔۔
“روشانے اپ بیٹھیں تو سہی سحر نے کہا ۔۔۔
“نہیں شکریہ ۔۔۔ روشانے جو اتنی دیر خوش تھی اب سریس تھی جبکہ مناہل کے تاثرات نارمل ہی تھے ۔۔۔
اور وہ جلدی سے اٹھ کر صحن میںآئی اور دائم سے چلنے کو کہا ۔۔۔ اس کے تاثرات دیکھ کر دائم نے واپس چلنے میں عافیت سمجھی اور چلنے کے لیۓ اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
یوں سب سے مل کر وہ لوگ باہر آۓ ۔۔۔ جبکہ سحر شرمندہ تھی اور سعدیہ باہر آئی ہی نہیں ان کی روانگی کے وقت ۔۔۔
@@@@@@@@@
“کیا ہوا روشانے اپ کا موڈ کیوں خراب ہورہا ہے ۔۔۔ دائم نے ڈرائیونگ کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔ اس کے ساتھ اگے مناہل بیٹھی تھی کیونکہ اذان اس کی گود میں تھا یوں اسے آسانی رہتی ۔۔۔ جبکہ وہ اگے بیٹھنے کے خلاف تھی پر روشانے نے اسے سمجھایا بچے خوش ہوتے ہیں کیونکہ اگے کے مناظر دیکھ کر ۔۔۔۔ اس لیۓ وہ بیٹھ گئی ۔۔۔ دائم خوش تھا کیونکہ بار بار اپنے بیٹے کو دیکھتے رہنا اسے اچھا الگ رہا تھا ۔۔۔
“مجھے سخت زہر وہ لوگ لگتے ہیں جو فرق کریں لوگوں کے بیچ رنگ روپ کو لے کر ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔ ویسے بھی وہ اپنی ہر بات کھل کے کہنے کی قائل تھی ۔۔۔
“کھل کے کہوگی کس نے کس کو کیا کہا ۔۔۔ دائم نے پوچھا ۔۔۔
“پلیز شان آپی مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا کوئی مجھے یوں ڈسکس کرے ۔۔۔ مناہل کے دوٹوک لہجے پر تپ ہی چڑھ گئی روشانے کو ۔۔۔ اس لیۓ وہ بھی سخت لہجے میں بولی ۔۔۔
“تو تمہارا فرض ہے کہ اس کی نوبت ہی نہ آنے دو , خود ہی لوگوں کا منہ توڑ جواب دو , تاکہ کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔۔۔ روشانے کا انداز بھی سخت تھا ۔۔۔
دائم خان اور شانزے خاموش تماشائی تھے ۔۔۔ پھر دونوں خاموش ہوگئیں ۔۔۔ کسی نے کچھ نہ کہا پھر ۔۔۔
دائم خان تو ویسے بھی سمجھ گیا تھا یہ سب ضرور سعدیہ اس کی ماموں زاد نے کہا ہوگا مناہل کو کچھ , کیونکہ , مناہل عام پٹھانوں کی طرح سرخ سفید رنگت نیلی یا سنہری آنکھوں کی مالک نہ تھی ۔۔۔ بلکہ اپنے سانولے رنگت کی وجہ سے کسی نے کسی کے مذاق کا نشان ہمیشہ بنتی رہتی تھی جس کا ذکر ایک دو دفعہ وہ ایمن کی زبانی بھی سن چکا تھا ۔۔۔
دانیال اور عمر بھی اس کی چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے تھے اس کی رنگت کو لے کر وہ بھی ہنس لیتا ان کے ساتھ جبکہ ایمن لڑ پڑتی تھی سب سے اپنی بہن کے لیۓ جبکہ مناہل خاموشی سے سب برداش کرلیتی تھی ۔۔۔
مناہل ہر وقت خاموش رہنے والی چپ چاپ سی لڑکی تھی نا ہی زیادہ گھلتی ملتی تھی ناہی کسی محفل کا حصہ بننا پسند کرتی تھی ۔۔۔ جبکہ اس کی بنسبت ایمن شوخ چنچل سی رنگوں کے ساتھ کھیلتی بہت اچھی پینٹر بھی تھی , خدا نے اسے بےانتہا خوبصورتی سے نوازا تھا ۔۔۔ ایمن اور مناہل اتنی انڈرسٹیڈنگ تھی کہ وہ اکثر ایک جیسا لباس پہنتی تھیں ہر موقعے کی نسبت سے ۔۔۔ اکثر سب یہی کہتے تھے جو لباس ایمن پہن لے اس لباس کو چار چاند لگ جاتے ہیں جبکہ اچھا لباس مناہل کی پرنسنالٹی کو چمکانے کا کام کرتا تھا ۔۔۔
دائم کو یاد تھا ایک دفعہ اس کی اور ایمن کی مگنی کے بعد اس نے ایمن سے اکیلے ملنے کی خواہش کا اظہار اپنی مامون زاد سحر اور سعدیہ سے کیا کیونکہ وہ لوگ شاہد خان کی شادی اٹینڈ کرنے دوسرے گاؤں اگۓ تھے , جس پر انہوں حامی بھرلی تھی ۔۔۔
وہ حویلی کی پچھلی طرف کھڑا ایمن کا انتظار کررہا تھا جو گلابی جوڑے میں اج کے فنکشن میں قیامت ڈھارہی تھی ۔۔۔ وہ پرجوش تھا کہ اچانک اس کی نظر پڑی وہ آئی ہوئی جلدی سے اس نے اسے پیچھے گلے لگالیا اور اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا کہ کہیں وہ ڈر کر چیخ نہ مارے اور بولا ۔۔۔
“آج تو بجلی گرارہی ہو مجھ پر , پھر مجھ سے ہی بھاگ رہی ہو ایمن , حد ہے بھ۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ ہٹانے لگی , شدت سے اس نے ناخن گاڑے جس کی وجہ سے وہ ہاتھ ہٹا گیا ۔۔۔
“دائم بھائی , میں مناہل ہوں , ایمن نہیں ۔۔۔ شدت سے وہ بولی اس کی آواز کانپ رہی تھی ۔۔۔ ڈر تو دائم بھی گیا تھا مناہل کو دیکھ کر۔۔۔
اسی وقت سحر اور سعدیہ نکل آئیں اور ہسنے لگیں ۔۔۔
“ہاہاہا ۔۔۔کیوں کیسی رہی ایمن سے اپ کی ملاقات ۔۔۔ سحر نے ہنستے ہوۓ کہا جبکہ کے ان دونوں کے ساتھ دائم کے کچھ اور مامون زاد تھے جن سب نے مل کر یہ مذاق پلین کیا تھا ۔۔
“ویسے سچ بتائیں سالی ادھی گھروالی سے رومینس کیسا لگا ۔۔۔ سعدیہ نے کہا ۔۔۔
“اللہ نہ کرے مناہل اور میری گھروالی ۔۔۔ دائم نے بےساختہ کہا ۔۔۔
جس پر سب کا قہقہ گونجا ۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔ ایمن نے اسی وقت اکر کہا ۔۔۔ جس پر مناہل وہاں سے بھاگ گئی ۔۔۔
ایمن ںے سب کو خوب ڈانٹ لگائی اس مذاق پر خوب سرزش کی ۔۔۔ سب کا خیال تھا اس کے لیۓ مناہل سے معافی مانگنی چاہیۓ ۔۔۔ سب ایمن کے ساتھ آۓ اس سے ایسکیوز کرنے اسے ڈھونڈا وہ مل نہیں رہی تھی ۔۔۔ پتا چلا وہ عالم خان کے ساتھ گاؤں واپس جاچکی ہے ۔۔۔
سب کو افسوس ہوا خاص کر دائم کو ۔۔۔ اس نے پھر محسوس کیا مناہل اس سے دور بھاگنے لگی ہے ۔۔۔ دائم نے ایک دو دفعہ کوشش کی وہ اس سے بےتکلف ہو آخر وہ اس کی کزن تھی پھر سالی بھی , پر اس کی چپ اور دوٹوک انداز پر وہ خاموش ہوگیا ۔۔۔
پھر ایمن اور شادی کے دنوں میں بھی مناہل نے سالی کی طرح کوئی شرارت نہ کی , اس کا سرد انداز برقرار رہا پھر ان کے ولیمے کے دن دانیال اور مناہل کی مگنی ہوگئی , پھر بھی مناہل کے سرد انداز میں کوئی فرق نہ ایا ایک اور رشتہ جڑنے کے باوجود ۔۔۔
ایمن نے بھی اپنی طرف سے کوشش کی پر مناہل کا رویہ نہ بدلا دائم کے ساتھ اور دائم کو بھی اس بات کی کوئی پرواہ نہ رہی تھی ۔۔۔
دائم کو مناہل کے اس رویۓ کا شدت سے احساس تب ہوا جب عمر اور ربیعہ کی شادی میں مناہل نے شرکت کی , اس کا جوش اور ولولا دیکھنے کے لائق تھا , ایمن ان دنوں امید سے تھی ۔۔۔
دائم کو یاد کرنے پر بھی اور کوئی وجہ یاد نہ آئی اس کے اس رویۓ کی وجہ ۔۔۔ مناہل سب کے ساتھ نارمل تھی سواۓ دائم کے , اب تو وہ عادی تھا اس کے اس رویۓ کا ۔۔۔ ابھی بھی وہ بیگانوں کی طرح باہر دیکھ رہی تھی جبکہ شانزے مزے سے اس سے باتیں کررہی تھی اور روشانے بھی باتوں میں حصہ لے لیتی پر مناہل بےنیاز بنی باہر دیکھتی رہی جیسے اس سے ضروری کوئی کام نہ ہو اذان تو مزے سے سوگیا تھا اس کی گود میں ۔۔۔
“دائم بھائی اپ کو پتا ہے اذان مما بولتا ہے , پتا ہے آپ کو کسے بولتا ہے ۔۔۔ شانزے ایسے بتارہی تھی جیسے کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو اذان نے ۔۔۔
“ہممم جانتا ہوں ۔۔۔ دائم نے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔
“ویسے مناہل کو اذان سے ایمن اپی کی خوشبو اتی ہے تو اذان کو بھی اپنی ماں کا احساس مناہل سے اسکتا ہے نا ,ہے نا دائم بھائی ۔۔۔ شانزے نے کہا اس کا لہجہ تصدیق کرنے والا تھا ۔۔۔
“ہمممم ظاہر سی بات ہے , یہ تو ہے , مناہل خیال ہی اتنا کرتی ہے اذان کا , یہ اس کا احسان ہے میری ذات پر جو تاعمر نہیں اتارسکتا ۔۔۔ دائم نے کھلے دل سے کہا ۔۔
“کسی کو میرا احسانمند ہونے کی ضرورت نہیں , یہ سب میں اپنی بہن ایمن آپی کے لیۓ کررہی ہوں اور کسی کے لیۓ نہیں ۔۔۔ مناہل نے دوٹوک لہجے میں کہا ۔۔۔
“مناہل یو ر بیکم روڈ سو مچ روڈ ایٹیٹیوڈ ۔۔۔ روشانے نے کہا چڑ کر ۔۔۔ حیران ہی تھی اس کے انداز پر ۔۔۔
“چھوڑو اسے یہ ایسی ہی ہے ۔۔۔ دائم خان نے کہا ۔۔۔ جبکہ مناہل چپ ہی رہی ۔۔۔
“سن لیا اپ لوگوں نے ایسی ہی ہوں میں ۔۔۔ مناہل نے سرد لہجے میں کہا ۔۔۔
شانزے اور روشانے نے ایک دوسرے کو دیکھ کر کندھے اچکاۓ اور باہر دیکھنے لگیں ۔۔۔ کچھ دیر میں وہ لوگ بڑی حویلی پہنچے , روشانے نے اندر چلنے کو کہا دائم کو ۔۔۔ جس پر تھکن کا کہے کر معذرت کی اس نے ۔۔۔ وہ تینوں بڑی حویلی کے اندر اگئیں ۔۔۔
@@@@@@@@
وہ نماز پڑھ کر اٹھی تھی باذل اس کے سرد انداز دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اب وہ بیڈ کے بجاۓ صوفے کی طرف بڑھی تھی اپنی اوڑھنے کی چادر لے کر ۔۔ اسی لمحے وہ بیڈ سے اٹھا تھا ۔۔۔
“ہمارا رشتہ تو یاد ہے ناں کہ وہ بھی بھول گئی ہو ۔۔۔ باذل خان نے اس کے کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوۓ کہا ۔۔۔ اب وہ اپنے سینے سے اس کی پینٹھ جوڑ گیا ۔۔۔ اس کے کندھے پر سر رکھ کان میں سرگوشی کی ۔۔۔
“اپنی سیاہ بختی بھی کسی کو بھولی ہے کبھی؟ ویسے بھی جتنا بھاگنا چاہو سیاہ بختی چھوڑتی نہیں پیچھا ۔۔۔ چھوڑیں , مجھے اٹھنا بھی سحری کے وقت ۔۔۔ زونی نے سخت لہجے میں کہا ۔۔۔
“بہت زبان چلنے لگی ہے تمہاری , منٹوں میں بند کرسکتا ہوں ۔۔۔ باذل نے تند لہجے میں کہا ۔۔۔
“جانتی ہوں ایک ہی طریقہ ہے اپ کے پاس ۔۔۔ زونی نے طنزیہ کہا ۔۔۔
“ہمممم تو پھر کیا خیال ہے تمہارا , کہ تمہاری سوچ پر عمل کیا جاۓ ۔۔۔ باذل نے مذاق اڑاتے لہجے میں کہے کر اسے پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا ۔۔۔
“چھوڑیں مجھے , ایسی بیہودہ حرکتیں جاکر اپنی دوسری بیوی سے کریں ۔۔۔ وہ بیزاریت سے بولی ۔۔
“میں تو یہ حرکتیں دونوں بیویوں سے کروں گا , باۓ دہ وے وہ دوسری نہیں تم ہو ۔۔۔ باذل نے مسکراتے ہوۓ کہے کر اس کا دوپٹا گلے سے نکال کر سائیڈ پر پھینکا ۔۔
“سچ میں بہت خوبصورت ہوگئی ہو پہلے سے کئیں زیادہ ۔۔۔ محسوس تو کرنے دو , اتنی مذاحمت اچھی نہیں ہوتی یار ۔۔ باذل خان کے ہاتھوں نے اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا ۔۔۔ اس کے ہونٹوں پر شدت سے لمس چھوڑتا اس کی آواز بند کرگیا ۔۔۔۔
زونی کے ہونٹوں کو کئی منٹوں کے بعد آزادی بخش کر اسے دیکھنے لگا جو لمبی سانسیں لے کر خود کی طبیت بحال کررہی تھی ۔۔۔
“پلیز مجھ سے دور رہیں , مجھے اپ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا ۔۔ زونی نے منہ پھیر کر کہا ۔۔۔
“اب تو سارے تعلق مجھ سے نکل آۓ ہیں کیا کریں بیوی ۔۔۔ وہ اسے خود پر گراتے ہوۓ بولا ۔۔
“پلیز مجھے سونا ہے پلیز شمائل اٹھ گئی تو پھر ارام کا ٹائم نہیں ملے گا ۔۔۔ وہ منت پر اتر آئی تھی وہ ہنوز مذاحمت کررہی تھی ۔۔۔
“ہم دونوں باپ بیٹی نے قسم کھائی تمہیں ارام بلکل نہیں کرنے دیں گے ۔۔۔ باذل نے آنکھ دبا کر شراارتی انداز میں کہا ۔۔۔
“باذل پلیز ۔۔۔ ہاتھ جوڑتی ہوں میری جان بخشو , مجھے اور کسی آزمائش میں نہ ڈالیں ۔۔۔ وہ ہاتھ جوڑ کر بولی ۔۔۔
“یہ آزمائیشین تم نے خود چنی ہیں , اب مجھ سے کوئی امید مت رکھنا ۔۔۔ میری بہن کو بیچ میں لاکر تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے زرتاشہ باذل خان ۔۔۔ وہ تند لہجے میں بولا ۔۔۔ اب کے اس کی آنکھوں میں نا کوئی لگاوٹ تھی اور اس کی پکڑ بھی سخت تھی ۔۔۔ اس کے ہر انداز سے نرمی مفلوج ہوگئی تھی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
