Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ناول … عید اپنوں کے سنگ

ازقلم …. صبا مغل

قسط نمبر 7

ایک کمی سی ، ایک نمی سی

چاروں جانب پھیل رہی ہے

کئی زمانے ایک ہی پل میں

باہم مِل کر بِھیگ رہے ہیں

اندر یادیں سُوکھ رہی ہیں

باہر منظر بِھیگ رہے ہیں

“تم نے یہی کہا تھا نا کہ اس صورت میں رہو گی میرے ساتھ جب تمہارے بھائی اور میری بہن کی شادی ہوجاۓ , مطلب تم نے مجھے اور میری بیٹی کو سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں دی , نا ہی ہم دونوں کی کوئی اہمیت ہے تمہاری نظر میں , اس بےعزتی اور توہین کے لیۓ کبھی معافی نہیں ملے گی تمہیں , زرتاشہ بھروز خان کبھی نہیں ۔۔۔

باذل خان نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تھا , شدت سے بھرپور اس کا لہجہ تھا , ملگجے اندھیرے میں بھی اس کے چہرے کی تپش محسوس کرگئی , یہ تپش احساسِ توہیں کی تھی زونی اچھی طرح سمجھ رہی تھی ۔۔۔

وہ اس کی گردن پر اپنا لمس شدت سے چھوڑنے لگا وہ تڑپ اٹھی تھی اس کے اس انداز پر ۔۔۔ وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر خود سے دور دھکیلنا چاہا ۔۔۔

“پلیز ایسے نہیں ۔۔۔ اس نے التجا کی دبی آواز میں ۔۔۔

“مجھے روکنے کی غلطی مت کرنا زونی , ورنہ تمہارے حق میں بہت برا ہوگا , شوہر ہوں تمہارا سمجھی , میرا لمس نیا نہیں ہے تمہارے لیۓ ۔۔۔ باذل خان اس کے ہاتھ اوپر کی طرف کرتا اس پر جھکتا کان کے قریب ہونٹ کرکے غراتے ہوۓ بولا تھا انداز میں وارنگ تھی ۔۔۔ وہ جو شاید اور مذاحمت کرتی اسے روکنے کو اس کی شدت سے کہی بات پر ہونٹوں پر قفل لگا کر خود کو اس کے سپرد کرگئی ۔۔۔

عورت کی سخت مذاحمت پر مرد کو مردانگی کے زعم میں جانور بننے میں دیر نہیں لگتی , اور وہ ڈرتی تھی مرد کی اس حیوانیت سے ۔۔۔ یہی سوچ کر زونی نے ساری مذاحمتیں ترک کردیں ۔۔۔

وہ اس کا شوہر تھا سارے حق وہ اس پر رکھتا تھا ۔۔۔ ہونٹوں سے اور ہاتھوں سے مذاحمت کا ارادہ ترک کرچکی تھی پر آنکھوں کا کیا کرتی جو اپنی نسوانیت کی توہیں ہر شدت سے برسنے لگیں تھیں ۔۔۔ وہ جو گردن سے ہوکر دوبارہ اس کے ہونٹ پر جھکا تھا ۔۔ آنکھوں کی مینا برسنے پر شدت رہ گیا ۔۔۔

جانے کیا ہوا پل میں خود کو سنبھال کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔

کتنا مشکل ہے یہ اذیت گوارہ کرنا

دِل سے اُترے ہوئے لوگوں میں گزارہ کرنا

“بھاڑ میں جاؤ میری طرف سے ۔۔۔ باذل خان اتنا کہے کر دوسری طرف جاکر لیٹ گیا کمفرٹ منہ تک تان گیا غصے میں ۔۔۔

ابھی چند لمحے وہ خود سے جنگ لڑتا رہا اور زونی شدت سے روپڑی تھی ۔۔۔

“خدا کا واسطہ ہے , خود بھی سوجاؤ مجھے بھی سونے دو ۔۔۔ باذل خان بولا تھا ۔۔۔ اس کے لہجے میں بےسی تھی ۔۔۔

ابھی وہ اس کے اس طرح چھوڑنے پر اور حیران ہوتی شمائل نے منہ پھاڑ رونا شروع کردیا ۔۔۔ وہ اسے اٹھا کر چپ کروانے لگی ۔۔۔

کافی دیر وہ چپ نہ ہوئہ تو وہ پوچھ بیٹھا “کیا ہوا چپ کیوں نہیں ہورہی ۔۔۔

“اس کے پیمپر کپڑے سب وہاں ہے , اس وقت اب کیا کروں وہ بےبسی سے بولی ۔۔۔

باذل خان اٹھا اور بولا ۔۔۔

“میں جاکر لے اتا ہوں تب تک تم اسے سنبھالو ۔۔۔

دل کھول کر باذل کو اپنی بیوقوفی پر افسوس ہوا کہ اس نے سوچا نہیں سامان کا , بچے کی کتنی چیزیں ہوتیں ہیں ۔۔۔ “چلو مجھے تو اندازہ نہ تھا پر کم از کم زونی تو ماں ہے اسے تو کچھ منہ سے پھوٹنا چاہیۓ تھا , اب اتنی رات کو چھوٹی حویلی کا دروازہ جاکر کھٹکھٹاؤں ۔۔۔ یہ سوچ کر اسے شرمندگی ہورہی تھی ۔۔۔ سر کو مسلتا ہوا وہ کمرے سے باہر نکلا تھا ۔۔۔

“اس وقت کہاں جارہے ہو باذل ۔۔۔ پھپھو اسے اس طرح جاتا دیکھ کر پوچھے بنا رہ نہ سکیں ۔۔۔

“پھپھو شمائل کی ضروری چیزیں لینے چھوٹی حویلی سے , جس کی ضرورت ہے اسے اس وقت ۔۔۔ باذل شرمندگی سے بولا ۔۔۔ اتنا کہے کر وہ قدم اگے بڑگا گیا اتنا لیٹ جانا برا لگ رہا تھا اسے ۔۔۔

“رک جاؤ ضرورت نہیں جانے کی اس وقت , عمر کے ساتھ کچھ چیزیں بھیج دیں تھیں شمائل اور زونی کی , پہلے دیکھ لو , پھر اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو چلے جانا ۔۔۔ پھپھو نے روک کر بتایا اور سائیڈ پر پڑے بیگ کی طرف اشارہ کیا ۔۔

“شکر , وہاں جانے کی شرمندگی سے بچ گیا ۔۔۔ باذل خان نے باآواز کہا جس پر پھپھو مسکرائیں ۔۔۔ جس پر وہ نظر جھکا گیا ۔۔۔

چھوٹا بیگ زمیں سے اٹھاتا ہوا کمرے کی طرف جانے لگا اسی وقت یاد انے پر پلٹا ۔۔۔ اور پوچھا ۔۔۔

“مناہل ,شانزے اور روشانے اگئیں میلا گھوم کر ۔۔۔

“ہاں اگئیں تم کمرے میں جاچکے تھے اس کے بعد ۔۔۔ پھپھو نے بتایا ۔۔۔

“ہمممم ۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔ اتنا کہے کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا بیگ لے کر ۔۔۔

زونی نے بھی شکر کیا یوں گھر والوں کے سامان بھیجنے پر ۔۔۔ وہ جلدی جلدی اس کا پیمپر چینج کرنے لگی ۔۔۔

باذل اس کی پھرتی پر حیران ہوتا رہا , کتنا اسے تنگ کررہی تھی اس کی بیٹی پھر بھی وہ دل سے اس کے سارے کام نپٹارہی تھی ۔۔۔ جانے کیوں باذل نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا وہ اسے جسمانی اذیت دینے سے خود کو بروقت روک گیا ورنہ کتنا مشکل ہوتا زونی کے لیۓ اس کی بیٹی کو سنبھالنا اس کی دی اتنی تکلیف کے بعد ۔۔۔ وہ سوچ کے رہ گیا ۔۔۔ بہت بےچین ہوا تھا سب سوچ کر ۔۔۔

وہ اسے دینے کے لیۓ فیڈر تیار کرنے لگی وہ پوچھ بیٹھا ۔۔

“یہ کیوں دے رہی ہو اسے ۔۔۔

“دو سال کی ہونے والی ہے ۔۔۔ زونی نے نظر جھکا کر بتایا ۔۔۔

باذل کو شرمندگی ہوئی اپنے سوال پر ساتھ ہی ساتھ افسوس بھی ہوا ۔۔۔ دو سال اپنی بیٹی کے ہر مومینٹ سے محروم رہا یہ دکھ تاعمر رہنا تھا اسے ۔۔۔

“مجھے دو میں اسے فیڈر پلا دیتا ہوں تم آرام کرو ۔۔۔ بےساختہ وہ کہے گیا ۔۔۔

وہ اسے شمائل دیتے ہوۓ بولی ۔۔۔

“نہیں پیۓ گی اپ سے , دیکھ لجیۓ گا ۔۔۔

باذل خان نے اسے گھورا ایسا کہنے پر وہ چپ ہوگئی ۔۔۔

پھر واقعی ایسا ہوا شمائل ضد پر تھی تھوڑا دودھ لے کر منہ میں لیتی پھر گرادیتی , بیڈ , باذل کے کپڑے خود کو گندا کرگئی ۔۔۔

“سچ میں میری بیٹی ہی ہو , میری طرح ضدی , میری جان اتنے دن کیوں دور رہی اپنے باپ سے ۔۔۔ باذل کے لہجے میں بےانتہا,محبت تھی اور جیسے فخر ہوا تھا اس پر گئی ہے ۔۔۔

زونی کروٹ لے کر دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

“باذل میرا دل کہتا ہے تم اچھے شوہر نہ سہی پر اچھے باپ ضرور ہو ۔۔۔ زونی نے سوچا ۔۔۔ وہ مسکرائی تھی اس لمحے باذل کی نظر اس پر پڑی اور کہا ۔۔۔

“پلیز اسے فیڈر پلاؤ اور چینج کرواؤ اسے , تب تک میں بھی چینج کرلوں ۔۔۔ باذل نے کہے کر اس کی طرف بڑھایا شمائل کو وہ اسے تھام کر پلانے لگی ۔۔۔

“بابا کے ساتھ اتنے نخرے , ماما کے ساتھ بلکل سیدی ہو تم ۔۔۔ وہ اس کی ناک دبا کر بولا ۔۔۔ زونی مطئمن ہوکر شمائل کے ساتھ مصروف ہوگئی جبکہ باذل کپڑے چینج کرنے گیا ۔۔۔

@@@@@@@@@@@

اگلا پورا دن سوکر گزارا روشانے نے , تھکن اتنی تھی اسے ۔۔۔

“خدا کو مانیں شان اپی اٹھ بھی جائیں اب ۔۔۔ شانزے نے کہا ۔۔۔ شام کے چار بج رہے تھے روشانے خود سے اٹھنے کا نام نہیں لے رہی تھی دو دفعہ سبین اٹھاگئی تھی ۔۔۔

“مسئلا کیا ہے تمہارے ساتھ شانزے کی بچی ۔۔۔ وہ اس کے کمفرٹ کھیچنے پر بولی ۔۔۔

“اٹھ بھی جائیں , شام ہونے کو آئی ہے , اج سب کی افطاری یہیں ہے بڑی حویلی میں ۔۔۔ شانزے نے اسے اطلاع دی ۔۔۔

“تو میں کیا کروں ۔۔۔ وہ بےپروائی سے بولی ۔۔۔

“سب پوچھیں گے اپ کا , پلیز اٹھ جائیں , برا لگتا ہے ۔۔۔ شانزے نے سمجھایا اپنی بڑی بہن کو ۔۔۔

“دفاع ہوجاؤ , میری طرف سے سب بھاڑ میں جائیں , سونے دو , تھک گئی ہوں ۔۔ کمفرٹ میں منہ ڈالتی بولی ۔۔۔

“پلیز شان آپی اٹھ جائیں ۔۔۔ وہ منت کرتے ہوۓ بولی ۔۔

“میں افطاری کے وقت آؤں گی , ویسے بھی میں نے کونسا روزہ رکھا ہے ۔۔۔ روشانے نے نیند میں ڈوبی آواز میں کہا ۔۔

“یہی تو کہے رہی یوں روزہ نہیں رکھا کم ازکم روزے داروں کو افطاری کروانے کا ثواب کمالیں ۔۔۔ شانزر نے سمجھاتے ہوۓ کہا ۔۔۔ سبین خان نے ہی شانزے کو بھیجا تھا کیونکہ وہ خود کام میں مصروف تھیں ۔۔۔

شانزے اس کے پیروں کے پاس بیٹھی بولی تھی ۔۔۔ شانزے اس کے پیر گدگدارہی تھی شاید اس بہانے اٹھ جاۓ ۔۔۔

“تمہیں ہی مبارک ہو یہ ثواب , مجھے بخش دو معاف کرو ۔۔۔ روشانے نے اتنا کہے کر اسے لات ماری جو شانزے کو زمیں پر گراگئی ۔۔۔

وہ دوبارہ کمفرٹ میں منہ دے کر سوگئی ۔۔۔ جبکہ شانزے “ہاۓ اف مرگئی کرتی رہ گئی گرنے کی وجہ سے ۔۔۔

@@@@@@@@

آہستہ آہستہ سب بڑی حویلی میں جمع ہونا شروع ہوگۓ تھے ۔۔۔۔ زونی اپنی نظرداری میں ملازموں سے کام کروارہی تھی ۔۔۔

شانزے اور روشانے بیٹھی فروٹ کاٹ رہیں تھیں ۔۔۔ جس میں بھی روشانے کاٹ کم اور کھا زیادہ رہی تھی ۔۔

“سدھر جائیں شان آپی ۔۔۔ وہ اس کے یوں کھانے پر ٹوک رہی تھی ۔۔۔

پر سامنے بھی تو روشانے تھی جو شان بے نیازی سے بولی “اتنا تو سدھر گئی ہوں کے اٹھ کر آ گئی ہوں اور اب کام بھی کروا رہی ہوں اور کتنا سدھروں ۔۔۔

“توبہ ہے آپی , اپ بھی نا ۔۔۔ شانزے حیراں ہوئی اس کی ڈھٹائی پر ۔۔۔

“ویسے کتنا اچھا لگ رہا ہے زونی بھابھی اگئیں ہیں , چ میں سکون اگیا ہے انہیں دیکھ کر , ہے نا شان آپی ۔۔۔ شانزے نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔۔۔

وہ سیب کا پیس منہ میں لیتے بولی “مجھے تو ایسا کچھ نہیں لگ رہا کیونکہ ہم نے کونسا بھابھی کا پیار دیکھا ہے وہ جتنا رہیں لندن رہیں اور ہم امریکا , سو ان کا ہونا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔۔۔

روشانے نے سادہ لہجے میں کہا تھا پر عالم خان کو سخت ناگوار گزرا اس کا یہ انداز , نفرت سی محسوس ہوئی اس بدزبان لڑکی سے , جسے بولنے کی تمیز تک نہ تھی ۔۔۔ اس کی زبان سے زیادہ غصہ اس کے حلیۓ پر ہورہا تھا جو سلیولیس شرٹ پر کیپری پہنے ہوۓ تھی ساتھ میں اسکارف تھا تو نام کا جوگلے میں جھول رہا تھا ۔۔۔

اگر اسے اس کے باپ نے یہاں انے سے پہلے سمجھایا نہ ہوتا تو اب تک وہ اس کی حلت کردیتا اس بیہودہ لباس پہننے پر ۔۔

اس کے بابا نے کچھ یوں کہا تھا کہ “دیکھو بیٹا فی الحال روشانے کو کچھ نہ کہا جاۓ کسی بات پر کیونکہ وہ لاعلم ہے تمہارے اور اس کے نکاح سے , جب وہ اس رشتے سے اگاھ ہوجاۓ گی اور رخصت ہوکر چھوٹی حویلی آۓ گی تو جس طرح چاہے وہ اسے کہے سکتا ہے اور اپنے پسند کے سانچے میں ڈاھلنا چاہے تو ڈاھلے پیار محبت سے بیوی بنانے کے بعد ۔۔۔

اپنے باپ کے سمجھانے پر وہ فیصلہ کرچکا تھا فی الحال اسے کچھ نہیں کہے گا ۔۔۔

وہ انہیں اگنور کرتا اگے بڑھنے لگا تو شانزے نے اسے سلام کیا جس کا جواب دیا اور اس کا حال احوال پوچھا جس کا جواب وہ دے رہی تھی ۔۔۔ روشانے خاموش بیٹھی رہی ایک نظر نا ڈالی اس ناپسندیدہ شخص پر ۔۔۔ وہ چلا گیا تو شانزے اس سے باز پرس کرنے لگی ۔۔

“آپی بندہ کم سے کم گھر آئے کسی مہمان کو سلام تو کر ہی لیتا ہے ۔۔۔ شانزے نے سمجھایا ۔۔۔

“پلیز مجھ سے نہیں ہوتی یہ منافقت , مجھے معاف رکھو اس سب سے ۔۔۔ روشانے بولی ۔۔.

اسی وقت مناہل آ کر بولی “میں کچھ ہیلپ کروا دون ۔۔۔

“نہیں بہن تم تو معافی ہی رکھو اذان تو چاہتا ہے کہ اس کی ماما کوئی کام ہی نہ کرے اس لیۓ جتنی دفعہ کام کروانے آئی ہو اس نے جو رونا مچایا ہے اللہ معاف کرے , تم جاؤ اسی کے پاس ہم کرلیں گے رہنے دو ۔۔۔ روشانے اور شانزے نے ایک ساتھ ہاتھ جوڑ کر کہا ۔۔۔

جس پر مناہل منہ بسور کر بولی “میں آنی ہوں اذان کی سمجھی آپ دونوں ۔۔۔

“پہلے اس سے بلوالو پھر ہم بھی مان لیں گے ۔۔۔ روشانے نے مزے سے کہا کیونکہ وہ دیکھ رہی تھی جب بھی اذان ماما کہتا مناہل اسے سمجھانے بیٹھ جاتی آنی , بار بار کہتی خود پر انگلی رکھ کر کہتی اذان کو آنی کہو اذان آنی کہو ۔۔۔

اور پھر خود پر انگلی رکھ پوچھتی “بتاؤ اذان میں کون ۔۔

“ماما , ماما ۔۔۔ اذان کہتا اور پھر کھلکھلانے لگتا ۔۔۔ کل بھی وہ اسے کہتی رہی پر مجال جو اذان نے ایک دفعہ بھی آنی کہا ہو مناہل کو ۔۔۔

اسی لیۓ اس وقت بھی روشانے نے اسے چھیڑا ۔۔۔ جانے کیوں روشانے کو معصوم سی مناہل بہت پسند تھی اس کی معصومیت اور سادگی ۔۔۔

وہ پیر پٹختی ہوئی چلی گئی جبکہ وہ دونوں ہسنے لگیں ۔۔۔ پھر افطاری کے وقت بھی اذان مناہل کی گود میں تھا ۔۔۔ سب نے دسترخوان پر بیٹھ کر روزا کھولا پھر ڈنر بھی وہیں کھایا گیا ۔۔۔

@@@@@@@@@

“ویسے سب بڑے اندر کیا کررہے ہیں , کونسی میٹنگ چل رہی ہے ۔۔۔ روشانے نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

“عالم بھائی کی شادی کی ڈیٹ فکس ہے عید کے تیسرے روز ۔۔۔ مناہل نے بتایا ۔۔۔

“ہیں ویسے کس کے ساتھ ۔۔۔ خانا خراب کس بدبخت کا نصیب پھوٹا ہے ۔۔۔ روشانے نے ٹپیکل پٹھانوں کے اسٹائیل میں مذاق اڑاتے ہوۓ لہجے میں کہا اور اپنے انداز پر کھلکھلائی ۔۔۔ جس پر ربیعہ , زونی شانزے اور مناہل سب خاموش تھیں ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔

“ہمیں نہیں پتا ۔۔۔ ربیعہ نے نظر چراتے ہوۓ کہا ۔۔

“کوئی بتاۓ گا بھی آخر , ویسے چلو گاؤں کی شادی اس بہانے دیکھ لیں گے کیوں شانزے ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔

“ہممم آپی ۔۔۔ شانزے سیریس لہجے میں بولی ۔۔۔

اسی لمحے ملازمہ نے مناہل کو بلایا جس پر سب حیران ہوئیں کہ آخر بڑوں کی میٹنگ میں مناہل کو بلانے کا کیا مقصد ہوسکتا ہے ۔۔۔

بحرحال حکم تھا اس لیۓ وہ اذان کو زونی کو دے کر جانے لگی ۔۔۔ اذان ضد کرنے لگا تو دوبارہ اسے اٹھالیا اور اسے لے کر کمرے سے نکل آئی ۔۔۔

@@@@@@@@@

“سچ اج خوشی کا دن ہے , جب عالم اور روشانے کی شادی کے دن پکے ہوگۓ ہیں ۔۔۔ نوروز خان نے کہا اور اپنے چھوٹے بھائی بھروز سے گلے لگا ۔۔۔ پھر دونوں بیٹے اپنے باپ اکبر خان کے گلے لگے ۔۔۔ سب بھائی بہن بھابھیوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی ۔۔۔

اسی وقت مھروز خان نے اپنی اہلیہ گل خانم کے اشارے پر کہا ۔۔۔

“بابا جان , میں چاہتا ہوں دانیال بھی ارہا ہے آسٹریلیا سے کیوں نہ عالم اور روشانے کے ساتھ دانیال اور مناہل کی بھی شادی ہوجاۓ ۔۔۔ اس بہانے اذان اپنے گھر اجاۓ , سچ دل چاہتا ہے اب ہمارا پوتا ہمارا وارث ہمارے ساتھ رہے , ہمارے انگن میں کھیلے , مناہل اجاۓ بہو بن کر تو ہمارے آنگن کی رونق لوٹ آۓ ۔۔۔ مھروز خان نے اکبر خان سے بات کی بجاۓ اپنی بڑی بہن صبیحہ خاتون کے کیونکہ وہی اپنی بیٹی کی اولاد کے فیصلے کرتے آۓ تھے ۔۔۔

“صبیحہ بیٹی تم کیا کہتی ہو مھروز خان کی اس بات پر ۔۔۔
اکبر خان نے اپنی بیٹی سے پوچھا ۔۔۔

“مجھے کوئی اعتراض نہیں , پر میرا خیال ہے پہلے دانیال سے فون پر پوچھ لو وہ آبھی رہا ہے یا نہیں پھر تاریخ رکھتے ہیں ۔۔۔ صبیحہ خاتون نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا ۔۔۔ ان کے لہجے میں خوشی تھی آخر اپنی بیٹی کے فرض سے سبکدوش کون نہیں ہونا چاہتا ۔۔۔ اگر خدا اس کو ان کی بیٹی کے فرض سبکدوش کروا رہا ہے تو وہ کیوں نہ خوش ہوتیں , وہ بےانتہا خوش تھیں ۔۔۔

جس پر مہروز خان اور ان کی اہلیہ گل خانم بہت خوش ہوئے اور اسی وقت کال لگائی ۔۔۔ سب کی نظریں اسی پر مرکوز تھیں ۔۔۔

سلام دعا کے بعد مھروز خان نے اپنا فیصلہ بتایا جس پر دانیال نے کہا ۔۔۔

“پلیز باباجان اپ اسپیکر کھولیں اور مناہل کو بلائیں پلیز , پھر میں بات کروں گا ۔۔۔

سب حیران ہوۓ مھروز خان نے اسپیکر کھولا ۔۔۔

سب کو مشترکہ سلام کرکے دانیال نے کہا ۔۔۔

“آج سب کے سامنے روبرو بات ہوجاۓ تو اچھا ہے اس لیۓ پلیز مناہل اجاۓ تو میں بات کا آغاز کروں ۔۔۔ دانیال کے اس لہجے پر سبھی شاک تھے ۔۔۔ کچھ لمحوں میں مناہل نے قدم رکھا ۔۔۔

“جی مجھے بلایا ۔۔۔ مناہل آہستہ سے بولی کیونکہ سب بڑوں کو دیکھ کر وہ گھبرائی ہوئی تھی صبیحہ خاتوں کا کم و بیش یہی حال تھا ۔۔۔

“دانیال تم سے بات کرنا چاہتا ہے مناہل بیٹی ۔۔۔ مھروز خان نے کہا ۔۔۔

“بیٹا اسپیکر کھلا ہے , دانیال کہو ۔۔۔ مھروز خان مناہل کے پاس آۓ تھے ۔۔۔

“السلام علیکم مناہل ۔۔۔ دانیال کی آواز پر حیران ہوئی ۔۔۔

“جی واعلیکم سلام ۔۔۔ وہ دھیمے لہجے میں بولی ۔۔۔

“بابا جان , اس وقت مناہل اکیلی نہیں ہوگی یقینن اذان اس کی گود ہوگا ۔۔۔ دانیال نے یقین دہائی چاہی ۔۔۔

“ہاں ہے تو ۔۔۔ مھروز خان حیرت سے بولے ۔۔۔

“ہممم جانتا ہوں ان دونوں کی اٹیجمینٹ ۔۔۔ دانیال نے نارمل لہجے میں کہا ۔۔۔۔ اتنا کہہ کر وہ کچھ لمحے خاموش ہوا سب حیران ہوئے اس کی بات پر ۔۔۔ اس سے پہلے کہ مھروز خان دوبارہ کوئی سوال پوچھتے دانیال خودی بولنا شروع ہوا اور بولا تو کچھ یوں ۔۔۔

“بابا جان چھے مہینے پہلے میرے آسٹریلیا جاتے وقت مناہل سے میں نے بات کی تھی اور کہا تھا کہ میں پاکستاں میں اپنا فیوچر نہیں دیکھتا , میں مستقل آسٹریلیا ہی رہوں گا ۔۔۔ اس لیۓ اذان سے اتنی اٹیجمینٹ نہ رکھے جو دونوں کے لیۓ تکلیف کا باعث بنے ۔۔۔ میں نے ایک سیدھی اور آسان بات , آسان لفظوں میں کہی تھی اور مناہل نے اس وقت مجھے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ وہ قطعی کسی صورت بھی اذان کو نہیں چھوڑ سکتی اور اس کے بغیر آسٹریلیا نہیں جائے گی جہاں وہ رہے گی وہی اذان رہے گا ۔۔۔ پر بابا یہ اتنا آسان نہیں ہے کہ میں کسی اور کی اولاد کو آسٹریلیا لے جا سکوں چاہے وہ میرے بھائی کی ہی کیوں نہ اولاد ہو ۔۔۔ آپ کو پتہ ہے قانونی کاروائی کتنی ہوتی ہے باہر ملکوں میں , کسی اور کی اولاد کو لے جانا ناممکن ہے ۔۔۔۔ یہ سب باتیں میں نے مناہل کو سمجھائیں بھی تھیں پر وہ اپنی بات سے ہٹنے کو تیار نہ تھی ۔۔۔ یقین کریں بابا جان میں اپنے بھائی کی اولاد سے بہت محبت کرتا ہوں اور مناہل کے احساسات کی قدر کرتا ہوں اور آپ خود میری مجبوری سمجھیں میری جگہ رکھ کر اس صورتحال میں , میں کیا کروں ۔۔۔ جبکہ مناہل خود مجھ سے یہ رشتہ توڑچکی ہے یہ کہے کر کہ وہ اپنی پوری زندگی اپنی بہن کی اولاد کے لیۓ وقف کرنے کو تیار ہے ۔۔۔۔ یہاں تک مجھے انگوٹھی واپس کرگئی میرے سمجھانے پر ۔۔۔ مجھے حیرت ہے کہ اس نے آپ میں سے کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا , پر کیوں ۔۔۔ مجھے معاف کردیں مجھے نہیں لگتا یہ تعلق چل سکتا ہے ۔۔۔۔ پلیز مناہل ایک دفعہ سب کو بتا دو کہ جو بھی باتیں میں نے اس وقت کہیں ہیں ان میں سے ایک بھی جھوٹ ہو تو ضرور کہنا ۔۔۔ بتاؤ سب کو کہ میرے لفظوں میں سچائی ہے یا جھوٹ , پلیز جو سچ ہے کہو ۔۔۔

سب سانس روکے دانیال خان کی بات سن رہے تھے ۔۔ اس کے آخری لفظوں پر سب نے سوالیہ نظروں سے مناہل کی طرف دیکھا ۔۔۔

سب کی نظرین اس پر مرکوز تھیں وہ کیا کہتی ہے ۔۔۔ سب کی بےچینی عروج پر تھی خوشی کا ماحول غم میں بدلنے لگا تھا ۔۔

خود پر جمی سب کی نظریں مناہل کو بوکھلانے پر مجبور کرگئیں ۔۔۔ حالات یوں ہوجائیں گے اس نے سوچا نہ تھا ۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔