Rate this Novel
Episode 27
عید اپنوں کے سنگ
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 27
“شاید تمہیں اندازہ بھی نہیں آج تم نے کس قدر مجھے تکلیف دی ہے یہ سب کہے کر , جس بات کو تم نے اتنا اپنے سر پر سوار کیا اتنا عرصہ , اس بات کی وضاحت اتنی کافی نہیں کہ تم ایمن کی بہن تھی یعنی میری ہونے والی بیوی کی بہن , اور تم تو اس کی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ تھیں , تم سے میرا دوہرا رشتہ تھا تو تمہاری اہمیت بھی دوگنی تھی , میرے لیۓ تمہاری وہی اہمیت تھی جو ایمن کی نظر میں تھی اس کی پیاری لاڈلی بہن ۔۔۔ گھٹیا لوگوں کی گھٹیا ذہنیت نے سالی آدھی گھروالی کا محاورا بول کر , ایک مقدس رشتے کو گھٹیا اور بےہودہ بنادیا ہے ۔۔۔ اور میں دائم خان نفرت کرتا ہوں اس محاورے سے اور نا ہی اس کو مذاقً بھی پسند نہیں کرتا ۔۔۔ دائم کا لہجہ پرسکوں تھا اور مناسب انداز میں بولتا وہ مناہل کو حیران کررہا تھا ۔۔۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ بولا ۔۔۔
“وہ اس لیۓ جب انہوں نے سالی آدھی گھروالی کہا تو میں نے اللہ نہ کرے کہا ۔۔۔۔ تو کیا غلط میں نے کہا میرا خیال ہے کسی بھی شریف انسان کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ سالی آدھی گھروالی کی بات کی مذمت کرے , تو کیا یہ میری ایمن سے وفاداری نہیں تھی جو اس کی بہن کو اپنی بہن کی طرح سمجھتا تھا اس وقت ۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا اس وقت میں نے کچھ غلط کہا ساری بات نظریۓ کی ہے مناہل ورنہ میں نے کچھ غلط تو نہیں کہا تھا , نا تمہارا مذاق اڑایا نہ کبھی تمہیں ایسی کوئی بات کہی جس سے تمہاری دل آزاری ہو اور کیا واقعی تمہیں اچھا لگتا سالی کے نام پر تم سے گھٹیا باتیں کرتا اور تمہارے جذبات کے ساتھ کھیلتا تمہاری تعریفوں میں زمیں آسمان ایک کردیتا تو تم خوش ہوتی , بتاؤ کیا تم خوش ہوتی جب تمہارے ساتھ فلرٹ کرتا ۔۔۔
آخر میں دائم نے اس سے سوال کیا تھا ۔۔۔ کیا واقعی وہ اتنی بےغیرت تھی جو اس چہز کو پسند کرتی اس وقت , وہ دائم کا نظریہ سن کر شدید شرمندہ ہوئی سوچا نہ تھا مناہل نے وہ ایسا کچھ بھی کہے سکتا ہے وہ اسے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
“بولو جواب دو میری بات کا ۔۔۔ اس کی چپ پر وہ طنزیہ لہجے میں دوبارہ پوچھ بیٹھا ۔۔۔
“دائم کم ہی بولتے ہیں پر جب بولنے پر اتے ہیں تو اچھے اچھوں کی بولتی بند کردیتے ہیں , جانتی ہو مناہل ۔۔۔ ایک دفعہ ایمن نے اس کہا تھا ۔۔۔ آج یقین ایا ایمن ٹھیک کہتی تھی ۔۔۔
“نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا ۔۔۔ مناہل نے کہا ۔۔۔
“تو پھر اتنی سی بات پر کیوں مجھ سے ہر تعلق توڑ گئی جب جس لمحے بڑی حویلی اتا تھا ایمن کے ساتھ تم چھپ جایا کرتی تھیں یہاں تک ولیمے کی دعوت پر تم نہیں آئی تھی ۔۔۔ جانتی ہو ایمن کو ہر وقت تمہاری فکر رہتی تھی اور مجھے ہمیشہ کہتی تھی تمہارا خیال کروں , اس بات کا گلہ بھی کرتی تھی کہ مناہل کو پتا نہیں کیا ہوگا نہ یہاں آتی ہے نا پہلے کی طرح اپنی دل کی بات شیئر بھی نہیں کرتی ۔۔۔
کتنا لچھ تھا دائم کے اندر مناہل نے سوچا تھا , کیا کچھ وہ اسے یاد دلاگیا ۔۔۔۔ آج شاید اوہ اپنے اندر چھپے سب جذبات کہتا چلا گیا ۔۔۔ پھر ایک دفعہ وہ شروع ہوا اور کہا ۔۔۔
” وہ مجھ سے اکثر تمہارا ذکر کرتی تھی دن میں دس دفعہ میرا ذکر کرتی تو بیس دفعہ تمہارا ذکر ہوتا تھا ۔۔۔ مناہل تم نے اپنی خود ساختہ سوچوں میں گِہر کر اپنی بہن کو چھوڑ دیا ۔۔۔ بہت غلط کیا تم نے , بہت غلط کیا تم نے , پریگنینسی کے آخری دنوں میں بھی ہمارے بیچ تمہاری باتیں ہوتیں , پانچ منٹ کی دوری پر تھی تم پر تم نے پانچ سو میلوں کا فاصلہ قائم کردیا تھا اپنی اور اپنی بہن کے بیچ ۔۔۔ تم سے بہت سے گلے اور شکوے لے کر ایمن چلی گئی , کیا تمہیں احساس ہے اس بات کا ۔۔۔ دائم کے لہجے کی سچائی کو مناہل نے شدت سے محسوس کیا ۔۔۔
وہ نظریں جھکاۓ ان لمحوں کو گنواتا چلا گیا , سارے لمحے فلم کی طرح دونوں کی نظروں میں چلنے لگے ۔۔۔ دائم کی آنکھیں نم ہوئی تھیں یہ سب کہتے ہوۓ , جب اس نے نظریں اٹھائیں پر مناہل شدت سے رورہی تھی اپنی کوتاہیوں پر رورہی تھی ۔۔۔۔
جانے کیوں اسے اپنے اندر درد اٹھتا ہوا محسوس ہوا اس کے رونے سے ۔۔۔
“مناہل بہت معصوم ہے دائم , وہ بہت حساس ہے جلد ہی چھوٹی چھوٹی باتوں کو خود کے سر پر سوار کرکے اپنوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیتی ہے , پر جب اسے سمجھ اتا ہے شدید نادم ہوتی ہے , ایسی ہے میری بہن , اس کے رونے سے مجھے شدید تکلیف ہوتی ہے دائم مجھ سے برداش نہیں ہوتا اس کا رونا ۔۔۔ ایمن نے اس سے ایک دفعہ یہ کہا تھا ۔۔۔
“مناہل میں تمہیں کیا بتاؤں کتنا چاہتی تھی تمہیں تمہاری بہن , تم سے بہتر کون جانتا ہوگا اس کی محبت اس کی محبت کا انداز , ایسا نہیں تھا کہ میرے آنے سے تمہاری جگہ نہیں رہی تھی اس کی زندگی میں , تمہاری اپنی اہمیت اپنی جگہ تھی مناہل ایمن کی زندگی میں ۔۔۔ میں اکثر سوچتا تھا جتنا ایمن تمہیں چاہتی ہے کیا اتنا تم , اسے چاہتی بھی ہو یا نہیں بلکہ مجھے لگتا تھا کہ تم اتنا ایمن ہو چاہا بھی نہیں سکتی جتنا وہ تمہیں چاہتی ہے یاد کرتی ہے ہر لمحے تمہارا ذکر کرتی ہے ۔۔۔۔دائم کی باتوں پر شدت سے روتی ہوئی مناہل نے چونک کر نظر اٹھائی اس کی آخری بات پر ۔۔۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتی دائم خود ہی بولا ۔۔۔
“میں غلط تھا , میری سوچ بھی غلط تھی مناہل , آذان سے تمہاری محبت دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ تم بھی کم پیار نہیں کرتی اپنی بہن سے , کس طرح اسے سینے سے لگالیا تم نے کہ اس بچے کو پتا ہی نہیں چلا کہ اس نے ماں کھوئی ہے , تم بہت اچھی ہو مناہل , تم نے کس طرح آذان کو پالا ہے اس طرح شاید سگی ماں بھی نہ پالے اپنے بچے کو ۔۔۔ تمہارا احسان میں کبھی نہیں اتارسکتا مرکر بھی نہیں ۔۔۔ دائم نے اس قدر جوش اور محبت کے جذبے میں کہا وہ بےساختہ اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اس کے گلے لگ گئی اور بولی ۔۔۔
” آئی ایم سوری , مجھے معاف کردیں , مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی جو اتنی باتیں سناگئی آپ کو بہت دل دکھایا پے آپ کا , پلیز مجھے معاف کردیں ۔۔۔ مناہل روتے ہوۓ بولتی چلی گئی وہ شاک ہوا اس کے اس انداز پر ۔۔۔ اگلے لمحے سنبھل کر اس نے مناہل کا سر سینے سے اٹھایا اور اس کے آنسو پونچھے اور اس کے ماتھے پر اپنا پہلا لمس چھوڑا ۔۔۔
وہ ایک دم ہوش میں آئی اور اس سے جدا ہوئی ۔۔۔ دائم سنبھل کر بولا ۔۔۔
“اٹس اوکے مناہل ۔۔۔۔ وہ چپ رہی ۔۔۔ ایک دم اٹھ کر جانے لگی تو وہ اس کا ہاتھ تھام گیا اور بولا ” بیٹھو , ابھی بات ختم نہیں ہوئی مناہل ۔۔۔
“جی ۔۔۔ وہ حیرت سے بولی اور دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔۔
“کیا اب بھی کچھ رہ گیا ہے کہنے سننے کو ۔۔۔ وہ منمنائی ۔۔۔
وہ زیرلب مسکرایا اور کچھ لمحوں بعد وہ بولا ۔۔۔
“اور جہاں تک تم نے اس شیروانی کو اتروانے کی بات پر ناراض ہوئی اور جو باتیں سنائیں مجھے تو ان کا جواب یہ ہے کہ اگر ایمن بھی ایسا کوئی ڈریس آذان کو پہناتی تو بھی ایسے ہی اس سے کہے کر اتارواتا جانتی ہو کیوں یہ دیکھو ۔۔۔
دائم نے اس کا ہاتھ تھاما اور آذان کے کاٹ کے پاس لایا اور دکھایا آذان کے گلے پر ریڈ ریش تھا وہ حیران ہوئی دیلھ کر واقعی غصے اور دکھ میں مناہل نے نوٹس نہیں لیا تھا اس وقت ۔۔۔
“یہ ۔۔۔ یہ ,,, یہ ۔۔۔ مناہل کے ہونٹ کانپے , اس کے آنسو پھر سے بہنے لگے آذان کو سہی ہوئی تکلیف کا سوچ کر ۔۔۔
“سوری میری جان , بہت بری ہوں میں جو اتنی تکلیف اٹھانی پڑی میرے شوق کی وجہ سے ۔۔۔ وہ آذان کو اٹھاکر چومتے ہوۓ بولی تھی دائم اس کو دیکھتا رہ گیا ۔۔۔ کتنی بےچین ہوکر وہ اسے چومے جارہی تھی آذان جو رونے کی تیاری کررہا تھا مناہل کو ایک نظر دیکھ کر مسکرایا اور اس گلے میں بازو حائل کرکے اس کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں موند گیا ۔۔۔ کچھ دیر کے بعد دائم نے کہا ۔۔۔
“ایک نظر یہاں بھی دیکھو یار , شوق بڑے مہنگے پڑتے ہیں ۔۔۔ دائم نے اسے اپنی گردن دکھائی جہاں بھی سفید رنگت لال ہورہی تھی ۔۔۔
“بس یار گلے پر گولڈن کام ہو تو کبھی ایسی شیروانی پہننا بڑا مشکل ہے ۔۔۔
دائم مسکرایا ۔۔۔ جس پر مناہل بھی بےساختہ مسکرائی ۔۔۔
“ٹھیک کہا آپ نے , پہلے صرف لڑکیوں کے کپڑے ایسے ہوتے تھے اب تو مردوں اور بچوں کے کپڑوں کا بھی یہ حال ہے ۔۔۔ مناہل نے کھل کے اعتراف کیا ۔۔۔
“ہمممم ٹھیک کہے رہی ہو مناہل۔۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔
“مناہل کیا ہم دوست بن سکتے ہیں کیونکہ میاں بیوی بعد میں پہلے ہمیں اس رشتے کی شروعات دوستی سے کرنے چاہیۓ ۔۔۔ دائم نے اس کے سامنے ہاتھ پھیلایا ۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ کو دیکھتی اس کے چہرے کو دیکھا جہاں پرشوق جذبات کا جہاں آباد تھا ۔۔۔ وہ بھی مسکرائی اور اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور دونوں مسکراۓ ایک ساتھ ۔۔۔
@@@@@@@@@
سفر خاموشی سے گزرا , ہمیشہ کی طرح فلائیٹ لیٹ آئی تھی اس لیۓ دن کو پہنچے تھے گھر ۔۔۔ زونی ان کا انتظار کررہی تھی لنچ ساتھ کیا انہوں نے ۔۔۔
زونی نے شدت سے محسوس کیا روشانے خوش تھی جبکہ دوسری طرف عالم کے چہرے کی سنجیدگی کو محسوس کیا زونی نے ۔۔۔
کھانا کھاکر روشانے چلی گئی جبکہ زونی چاۓ بناکر عالم خان کی اسٹڈی میں آئی ناک کرکے , وہ اس وقت اسٹڈی میں بیٹھا تھا جو حیرت کی بات تھی زونی کے لیۓ ۔۔۔
عالم خان ایزی چیئر پرپیٹھا تھا ۔۔۔
“بھائی چاۓ ۔۔۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھتی وہ بولی ۔۔۔
“شکریہ زونی , شمائیل کیسی ہے اور باذل سے تمہارے گلے شکوے دور ہوۓ ۔۔۔ عالم نے پوچھا ۔۔۔
“جی بھائی , خان بہت اچھے ہیں اور شمائیل بھی ٹھیک ہے ۔۔۔ زونی کے لہجے میں خوشی تھی باذل کا ذکر کرنے میں ۔۔۔
“دیکھو میں چاہتا ہوں فی الحال یونی میں کسی سے اپنے شادی شدہ ہونے کا ذکر نا کرنا ۔۔۔ عالم خان نے تجویز دی ۔۔۔
“جی بھائی , ویسے بھی میں نے کم ہی سہلیاں بنائیں ہوئیں ہیں ۔۔۔ زونی نے بتایا ۔۔۔
“زونی بس اپنا خیال رکھنا , کسی کے دکھاوے پر کبھی مت جانا ۔۔۔۔ عالم خان یاسیت سے کہا اس کے لہے میں بےانتہا دکھ تھا جسے شدت سے زونی نے محسوس کیا ۔۔۔
“بھائی کیا بات ہے کوئی پریشانی ہے کیا , یا روشانے بھابھی سے کوئی بحث وغیرہ ۔۔۔ زونی نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے پوچھا ۔۔۔
“نہیں کچھ نہیں ۔۔۔ تم جاؤ آرام کرو ہماری وجہ سے تمہیں جاگ کر اپنی دن کی نیند خراب کرنی پڑی ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔
“بھائی آپ پر ایسی ہزاروں نیندہں قربان ۔۔۔ زونی نے بھائی کی محبت میں کہا ۔۔۔
“ہمممم جاؤ آرام کرو , میں بھی کچھ دیر آرام کرلوں ۔۔۔ عالم نے اتنا کہے ر کپ ہونٹوں سے لگایا ۔۔۔
“اللہ آپ کی مشکلیں آسان کرے بھائی ۔۔۔۔ زونی نے دل ہی دل میں کہا کیونکہ وہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی اپنے بھائی کی بےچینی ۔۔۔
وہ اٹھ کر چلی گئی ۔۔۔۔
@@@@@@@@@@@
“کیا کر رہی ہو شان ۔۔۔ حنین نے پوچھا کال پر دونوں پچھلے پندرہ منٹ سے بات کررہے تھے کال پر , وہ محسوس کررہا تھا وہ کچھ کررہی ہے ۔۔۔
“ہمممم اپنا سامان ان پیک کررہی ہوں ۔۔۔ روشانے نے سکون سے کہا ۔۔۔
“اور تم مجھ سے بات کرنے سے پہلے کیا کررہے تھے ۔۔۔ روشانے کو کچھ نہ سوجھا تو یہی پوچھ بیٹھی ۔۔۔
“تمہارے لیۓ نیا نام سوچ رہا تھا کہ مذہب چینج کرنے کے بعد کیا نام ہوگا تمہارا ۔۔۔ حنین نے صاف گوئی سے کہا ۔۔۔
اب تک وہ اسے عالم کی شرط کا بتا نہ سکی تھی , کیونکہ روشانے نے سوچ لیا تھا روبرو سب بتاۓ گی نا کہ فون پر ۔۔۔
“میں نے تو سوچ لیا ہے تم پر اینجلینا نام بہت سوٹ کرے گا کیا خیال ہے اس بارے میں ۔۔۔ مجھے بہت پسند ہے یہ نام شان ۔۔۔ حنین اپنی کہے رہا تھا جبکہ وہ گم صم ہوگئی تھی اس کی بات سن کر ۔۔۔
“کیا ہوا شان تم نے کچھ کہا نہیں اینجلینا نام کیسا ہے اگر یہ نہیں تو جولیٹ بہت پسند ہے مجھے نام ۔۔۔ تم اتنی خوبصورت ہو یہ دونوں نام تم پر سوٹ کریں گے , کچھ کہو شان ۔۔۔ حنین نے پوچھا ۔۔۔
“کچھ نہیں ۔۔۔ روشانے گم صم لہجے میں بولی ۔۔۔
“کونسا نام ٹھیک رہے گا بتاؤ , کل مل رہی ہو نا میرے ہوٹل کے روم پر ہم فیوچر ڈسکس کریں گے , کیا خیال ہے ۔۔۔ حنین آج بول رہا تھا جبکہ روشانے کو چپ ہی لگ گئی تھی ۔۔۔
“کل نہیں پرسوں مل کر روبرو بات کریں گے ۔۔۔ روشانے نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوۓ اپنی بات کہی ۔۔۔
“کل کیوں نہیں ۔۔۔ اس نے پوچھا ۔۔۔
“کچھ گیسٹ ہیں اوکے رکھتی ہو پھر بات ہوگی باۓ ۔۔۔ روشانے جلدی سے بولی اور کال کاٹ گئی ۔۔۔ وہ سراسر بہانہ کرگئی تھی اس سے ۔۔۔
حنین شاک ہوا ۔۔۔ پھر سوچا شاید کوئی ایا ہوگا اس لیۓ اس طرح کاٹ گئی کال ۔۔۔ حنین نے سوچا اور خود کو تسلی دی ۔۔۔
@@@@@@@@@@
جتنا دن کو خوش تھی روشانے اتنا ہی اب پریشان اور بےچین تھی حنین کی باتوں نے اسے دل ہی دل میں دکھی کردیا تھا ۔۔۔
رات کا کھانا بھی براۓ نام کھایا اس نے ۔۔۔ زونی اس کے پاس بیٹھ کر لچھ دیر کمپنی دینا چاہی پر اسے یوں غیر حاضر دماغ بیٹھا ہوا محسوس کیا زونی نے ۔۔۔
ویسے بھی گفتگو یک طرفہ نہیں دوطرفہ ہوتی پے اور اس وقت گفتگو صرف یکطرفہ ہی تھی اس لیۓ جلد ہی زونی خاموش ہوگئی ۔۔۔
اور کچھ دیر بعد شمائیل کے سونے کا بہانہ کرکے زونی اٹھ گئی تو وہ کمرے میں اگئی ۔۔۔ کافی دیر تک جب عالم روم میں نا ایا تو وہ سمجھ گئی کہ اب وہ نہیں آۓ گا روم میں نا ہی یہاں سوۓ گا , شاید اب اسٹڈی میں ہی اپنا ڈیرا جمالے ۔۔۔
یہ سوچ اتے ہی جانے کیوں وہ اور دکھی ہوگئی وہ تو اس کی توجہ کی عادی تھی اس کا یوں اگنور کرنا اسے بےچین کیۓ ہوۓ تھا ۔۔۔
آخر وہ کس کو اپنا حالِ دل سناۓ اپنی بےچینیاں اور فکریں بتاۓ خود کو بےانتہا تنہا محسوس کرتی وہ روپڑی , سمجھ نہیں ارہا تھا اتنا رونا کیوں ارہا تھا ۔۔۔
کچھ دیر رونے لے بعد من ہلکہ ہوا تو روشانے بےساختہ اٹھی اور پیپر پین لے کر اس نے اپنا نام لکھا اور پہلے روشانے نوروز خان لکھ کر اسے کاٹ کر اینجلینا لکھا دل تڑپ ہی اٹھا جلدی سے پیپر پھاڑ گئی جیسے دل کو دھچکا لگا ہوا ۔۔۔
اگلے صفحے پر روشانے نوروز خان نام لکھ کر پھر کاٹ گئی جولیٹ لکھا عجیب کیفیت ہوئی دل کی جلدی سے پیپر پھاڑا تو دل کو کچھ سکون آیا ۔۔۔
ایک بار پھر روشانے نوروزخان لکھا پر دل مطئمن پھر بھی نہ ہوا بےساختہ اس نے اسے کاٹ کر روشانے عالم خان لکھا جو اچھا لگ رہا تھا اسے ۔۔۔ پھر دل میں آیا لکھے اینجلینا حنین , پر جیسے ہی وہ ایسا کرنے لگی ایسا لگا دل خون کے آنسو رورہا ہے ہاتھ لرزنے لگے چاہتے ہوۓ بھی وہ روشانے عالم خان نام کاٹ نہ سکی , وہ نہ لکھ سکی اینجلینا حنین ۔۔۔۔
“تم میری زندگی کی روشنی ہو روشانے عالم خان , آۓ لو یو روشنی ۔۔۔۔ عالم خان کے لفظ گونجنے لگے آس پاس وہ شدت سے روپڑی اپنی غلطیوں کوتاہیوں کو سوچ کر ۔۔۔
وہ اس صفحے پر روشنی لکھ گئی روشانے عالم خان لکھے نام کے ساتھ ۔۔۔ ایسا لگا چاروں سوں واقعی روشنی پھیل گئی ہو ۔۔۔ وہ اس صفحے پر اپنے ہونٹ رکھ گئی ۔۔۔ آنکھیں بہنے لگیں اس کی ۔۔۔
ساری رات وہ اس صفحے کو خود سے لگاۓ سوگئی ۔۔۔ ساری فکریں اور بےچینیاں دور ہوگئیں ہر فکر سے آزاد ہوکر بےفکر ہوکر سوگئی تھی وہ ۔۔۔
@@@@@@@
اگلے دن اس نے عالم سے بات کرنے کی کوشش کی وہ ان سنا کرکے واشروم چلا گیا ۔۔۔ اس نے عالم خان کے کپڑے نکالل کر رکھے جنہیں سائیڈ کرتا دوسرے کپڑے نکال کر پہن گیا ۔۔۔ وہ اسے مکمل اگنور کرتا اسے رونے پر مجبور کررہا تھا ۔۔۔ روشانے کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں ۔۔۔
“عالم خان میری بات سنیں ۔۔۔ روشانے نے اسے شیلف کی طرف جاتے ہوۓ دیکھا تو بولی ۔۔۔
“میرا خیال ہے اس کام میں دیر نہیں ہونی چاہیۓ , حنین سے مل کر جلدی بتاؤ کہ اسے میری شرط منظور ہے یا نہیں ۔۔۔ وہ اس کی بات کو اگنور کرتا اپنی کہے گیا ۔۔۔
“پر عالم میری بات تو سنین ۔۔۔ مجھے کچھ کہنا ہے ۔۔۔ روشانے ہمت کرے دوبارہ بولی وہ اس کے حوصلے توڑ رہا تھا ۔۔۔ وہ بہت زیادہ گھبرائی ہوئی تھی ۔۔۔
” کیا حنین سے بات ہوئی تمہاری ۔۔۔ وہ اپنی ضروری فائیل ٹٹولتا ہوا بولا تھا اس کا سارا دھیان شیلف پر رکھی فائیلوں پر تھا ۔۔۔
“یہ باتیں روبرو ہوتیں ہیں فون پر نہیں عالم ۔۔۔ روشانے نے چڑ کر کہا اسے تپانے کے لیۓ ۔۔۔ مسلسل اگنورینس برداش کرنا اس کی برداش سے باہر تھی ۔۔۔
“تو جاکر روبرو ملو , کونسی رکاوٹ ہے اب جو اتنا وقت لے رہی ہو , جاؤ جلدی کرو , تمہیں اس رشتے میں اور باندھے رکھنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ۔۔۔ عالم خان سکون سے اتنا کہے کر فائیل اٹھا کر چلا گیا وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
وہ ابھی ناشتے سے فارغ ہی ہوا تھا روشانے کو سلیولیس شرٹ اور کیپری میں دیکھ کر حیران ہوا جو گیلے بالوں کے ساتھ بےانتہا حسین لگی اسے۔۔۔ لمحوں میں حیرت پر قابو پاتا وہ اس کے سائیڈ سے گزرتا اسے اگنور کرتا ہوا چلا گیا ۔۔۔
وہ حیرت زدہ تھی ۔۔۔
“تو کیا اب میں تمہاری غیرت نہیں رہی عالم خان جو تم نے کوئی اعتراض نہیں کیا میرے اس لباس پر جس پر تمہیں شدید چڑ ہوا کرتی تھی ۔۔۔ روشانے نے حیرت سے سوچا ۔۔۔
“نا تم اس کی زندگی کی روشنی رہی , نا اب تم اس کی روشانے عالم خان ہو اس کے لیۓ , شاید روشانے نوروز خان بھی نہیں رہی ورنہ تایا کی بیٹی اپنے خاندان کی عزت ہی سجھتا تمہیں ۔۔۔
اندر کی آواز پر اس کا دل شدید اداس ہوا ۔۔۔
“میں تو شاید اس کے لیۓ کہیں کی نہیں رہی اب ۔۔۔ وہ بےساختہ زیرلب بولی ۔۔۔ جلدی سے اس کے پیچھے باہر نکلی تاکہ گارڈس وغیرہ سب ملازموں کے سامنے اکر اس کی غیرت جگاۓ ۔۔۔ جانے کیوں دل میں خواہش جاگی کہ وہ اس پر غصہ کرے منع کرے یہ لباس پہننے سے ۔۔۔
وہ اس پر ایک نظر ڈالتا گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا بغیر کچھ ہے ۔۔۔
وہ غصے میں روم میں آئی اور بےساختہ ڈریسنگ کے سب سامان گراگئی ایک جھٹکے میں ۔۔۔
“ہوں ۔۔۔ چلی جاؤں گی حنین کے ساتھ , نہیں چاہیۓ تمہارا پیار تمہارا ساتھ عالم خان آۓ ہیٹ یو , آۓ ہیٹ یو ۔۔۔ وہ غصے سے بولی ۔۔۔
“نو نو نو ۔۔۔۔ آۓ ڈونٹ ہیٹ یو ۔۔۔ آۓ کانٹ ۔۔۔ آۓ لوو یو عالم خان آۓ ڈونٹ نو واۓ آۓ لوو یو ۔۔۔ واۓ ۔۔۔ واۓ ۔۔۔ وہ بےساختہ خود سے سارے اعتراف کرگئ جو کرنے سے ڈرتی تھی ۔۔۔ زمین پر بیٹھتی چلی گئی وہ ۔۔۔
@@@@@@@@@
سلیولیس شرٹ پر شرگ پہن کر وہ حنین کے فلیٹ پر جارہی تھی ڈرائیور کے ساتھ بغیر اسے بتاۓ ۔۔۔ شاید اس کی ہمت نہ تھی یہ بتانے کی کہ یہ آخری ملاقات اس سے کرنے ارہی ہے اور اس سے معافی بھی مانگے گی کہ فضول میں اس سے انتظار کروایا جبکہ وہ اپنے شوہر سے محبت کرنے لگی اس سے جدائی گوارہ نہیں اب اور تاعمر اس کی وفادار بن کر رہنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔۔۔
وہ حنین کی محبوبہ سے پہلے ایک دوست بھی تھی وہ دوبارہ اس تعلق کو سوچتے ہوۓ سب کچھ اسے بتانے کا ارادہ رکھتی تھی , اسے یقین تھا وہ اسے معاف کردے گا ۔۔۔
سب سوچتے ہوۓ اس کے دل کو آج کچھ سکون مل رہا تھا جانے کیوں سب ارادے کرنے کے بعد ایک کمی سی محسوس ہورہی تھی جانے کیوں ایسا تھا روشانے کی سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔
دل بوجھل ہورہا تھا اور قدم بھاری ہورہے تھے حنین کو اداس کرنے کا سوچتے ہوۓ ۔۔۔
ہوٹل کے روم کے سامنے پہنچی اور اس سے پہلے دروازہ ناک کرتی وہ پہلے ہی کھلا تھا ۔۔۔ وہ دوقدم اگے بڑھ کر روم میں اگئی حنین کی پینٹھ تھی دروازے کی طرف اس لیۓ وہ اسے دیکھ نہ سکا ۔۔۔
“ڈیڈ وہ وقت دور نہیں جب آپ کو سکون ملے گا سہی معنوں میں , مسٹر نوروز خان کی بیٹی کرسچن ہوجاۓ گی , جب اس پر وہ سب گزرے گا جو آپ سب کو فیس کرنا پڑا تھا , تب مزا آۓ گا , کسی کی بہن بیٹی سے محبت کرنا پھر ان کا مذہب چینج کرواکر شادی کرنا , آپ کی بہن کے ساتھ جو کیا انہوں نے وہ سب اب ان کی بیٹی کرے گی ۔۔۔ ٹائیم رپیٹ اٹسیلف ڈیڈ ۔۔۔ حنین طنزیہ ہنستا ہوا بولتا چلا گیا ۔۔۔ وہ شاک ہوگئی تھی یہ سب سن کر ۔۔۔
“آۓ پراؤڈ آف یو ماۓ سن ۔۔۔ باپ اپنے بیٹے سے بولا ۔۔۔
“آۓ لوو یو ڈیڈ ۔۔۔ حنین نے کہا ۔۔۔
“ڈونٹ ڈیئر ٹو ڈو دس حنین ۔۔۔ انہوں نے کہا ۔۔۔
“واٹ ڈیڈ ۔۔۔ حنین نے بےساختہ کہا ۔۔۔
“اس لڑکی کے ساتھ تمہیں نہیں رہنا ساری عمر , شادی تمہاری الریڈی فکسڈ ہے ڈونٹ فارگیٹ ڈیٹ , اونلی فیو ایئرز یو ہیوو ٹو لوو وتھ ہر ۔۔۔ باپ نے اپنے بیٹے سے کہا ۔۔۔
“یس آفکورس اٹس روینج اونلی ڈیڈ ۔۔۔ حنین نے کہا ۔۔۔
“اینڈ کرسچن کمیونیٹی چیئرمین پراؤڈ آف یو ماۓ سن , ایک ایوارڈ دیا جاۓ گا جب تم ایک مسلم کو کرسچن بناؤگے , اٹ ول بی آا اونر فار آس , دس وے وئی کین انسپائیر مینی پپل ٹو چینج دیئر ریلیجن ۔۔۔ باپ مزے سے بتارہا تھا اور بیٹا ہامی بھر رہا تھا وڈیو کال پر دونوں کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی ۔۔۔
روشانے دنگ رہ گئی تھی ان کی گفتگو پر وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی حنین اس کے ساتھ یہ سب کرسکتا ہے ۔۔۔
“آپ اپنی بہن کے لیۓ تڑپتے رہے اب وہ شخص اپنی بیٹی کے لیۓ تڑپے گا اور روۓ گا ۔۔۔ حنین نے انگلش میں کہا ۔۔۔ اس کے لہجے کی سفاکیت کو شدت سے محسوس کیا روشانے نے , اچانک بےساختہ اس کا ہاتھ لگا واز کو اس کے شور پر اس نے نظر گھمائی حنین نے اور روشانے کو پاکر دنگ رہ گیا ۔۔۔
“شان لسن ۔۔۔ حنین گھبرا گیا اور جلدی سے موبائیل رکھ کر اس کی طرف بڑھا ۔۔۔
“نونو نو ۔۔۔ روشانے نے کہا صدمے کی کیفیت میں ۔۔۔ وہ اتنا کہے کر وہاں سے بھاگی وہ اس کے پیچھے لپکا تھا ۔۔۔ پھر پتا ہی نہیں چلا صدمے کی کیفیت میں وہ کتنا بھاگتی چلی گئی حنین کی پہنچ سے بہت دور بہت دور چلی جانا چاہتی تھی ۔۔۔
ایک گارڈن میں پہنچ گئی تھی وہ , سینڈل ٹوٹ چکی تھی , شاید موبائیل کہیں گرگیا تھا ۔۔۔۔ وہ کتنی دیر گھٹنوں میں سردیۓ روتی رہی کتنا وقت گزرا پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔ کافی دیر بعد کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
اس نے سر اٹھایا سوجی نم آنھوں کے ساتھ ہونٹ لرز رہے تھے ۔۔۔
“واؤ دیکھو کتنی حسین لڑکی ہے دوستوں یار کی بےوفائی پر رورہی ہوگی یہاں اکیلی بیٹھ کر ۔۔۔ ایک لڑکے نے کہا ۔۔۔ وہ ڈرگئی تھی ان کی باتوں سے پہلے ہی عالم خان کی بےاعنتائی اس پر حنین کا اعتراف سننے کا دکھ اور اب ان لڑکوں سے اپنی عزت کا خوف ۔۔۔
“چھوڑو یار چلو ۔۔۔ ان پانچ لڑکوں میں سے ایک اور بولا ۔۔۔ وہ ان کے گہرے میں تھی ۔۔۔
“یار حلیہ تو دیکھو , یار کے ساتھ مزے کرچکی ہوگی اب ہم بھی مزے لیتے ہیں اس حسن کے ۔۔۔ ان میں سے ایک اس کے جسم کو نظروں میں لیتا بولا ۔۔۔
باقی سب گندے جملے کسنے لگے اس نے خود کو ان کی نظروں سے چھپانے کے لیۓ دوپٹا لپیٹنا چاہا جو اس کے پاس ہوتا تو خود کو ڈھانپتی اس سے خود کو ۔۔۔
“جس دن تمہیں احساس ہوگا اس دوپٹے کی اہمیت کا تب تمہیں پتا چلے گا کہ اس کی کیا اہمیت ہے تب کبھی اس کو خود سے جدا نہیں کروگی روشنی ۔۔۔۔ عالم خان کے لفظ گونجے اس کے کانوں میں جو اس نے اس دن گاڑی میں کہے تھے روشانے سے اور آنسو بہے نکلے اس کے ۔۔۔
دل چاہا زمین پھٹے اور اس میں سماجاۓ ۔۔۔
ایک لڑکے نے اسے پکڑ کے اٹھایا اور اپنے روبرو کرکے گلے لگانا چاہا دوسرے نے اس کا شرگ اتارنے کے لیۓ ہاتھ بڑھایا , گارڈن خالی ہوگیا تھا اور اوپر سے سنسان جگہ وہ خود اکر بیٹھی تھی ۔۔۔ اس نے چیخنا چاہا تو ایک نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔
اپنی عزت اسے سب سے زیادہ عزیز تھی اس کے جانے کے خوف سے ہی روح فنا ہونے لگی تھی ۔۔۔
اسی لمحے ان میں سے ایک نے دو لڑکوں کو دھکا دے کر روشانے کو چُھوڑایا اور کہا ۔۔۔ “بھاگو لڑکی , بھاگ جاؤ ۔۔۔
یہ وہی لڑکا تھا جس نے کہا تھا چھوڑو جانے دو ۔۔۔ شاید وہی ایک شریف تھا ۔۔۔
اور بےساختہ وہ بھاگتی چلی گئی کانٹے پاؤں میں چبھے پر وہ بےپرواہ بنی بھاگتی رہی اچانک مین روڈ پر پہنچ گئی تھی وہ اور سامنے سے اتی گاڑی سے ٹکراگئی ۔۔۔۔
روشانے کی نظروں کے اگے اندھیرا چھاتا چلاگیا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
