Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

عید اپنوں کے سنگ

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 17

باذل کی آنکھ کسی کے سسکنے کی آواز پر کھلی تھی ۔۔۔

“خاموش ہوجاؤ کیا رونا دھونا مچایا ہوا ہے ۔۔۔ وہ بےبسی سے زمین پر بیٹھی مسلسل رورہی تھی ۔۔۔ باذل خان اپنی شرمندگی چھپاتا سرد لہجے میں بولا تھا ۔۔۔

اس کی آواز پر لمحے بھر کو چپ ہوئی پھر دوبارہ رونا شروع ہوگئی پر اب کے آواز کچھ کم تھی تاکہ وہ غصہ نہ ہوجاۓ ۔۔۔

“سنائی نہیں دیتا چپ ہوجاؤ , کچھ غلط نہیں کیا جو اس طرح آنسو بھارہی ہو ۔۔۔ باذل نے ڈھٹائی سے کہا وہ مکمل بیدار ہوچکا تھا گھڑی صبح کے آٹھ کا وقت دکھارہی تھی وہ بھرپور انگڑائی لیتا اٹھ بیٹھا تھا ۔۔۔

“آپ نے میرا ریپ کیا ہے خان ۔۔۔ زونی نے اپنی عمر کے حساب سے جو سمجھا وہ بول گئی ۔۔۔ اس نے تو صرف میاں بیوی کی محبت کا سن رکھا تھا جس میں اس طرح تو کوئی نہیں کرتا جس طرح باذل نے اس کے ساتھ کیا تھا کل رات ۔۔۔

“واٹ ۔۔۔ باذل نے شاک لہجے میں کہا ۔۔۔ وہ جلدی سے بیڈ سے اترا تھا اس کی عجیب غریب بات سن کر ۔۔۔

“کیا کہا تم نے ۔۔۔ اس نے چادر میں لپٹی زونی سے کہا ۔۔۔ جو اس کے سخت انداز پر دوبارہ وہ لفظ نہ کہے سکی اور نظریں جھکاۓ روتی رہی ۔۔۔ وہ ضبط کرتا ہوا بولا ۔۔۔

“پاغل ہو کیا , اتنا نہیں پتا یہ میاں بیوی کی محبت ہے , ریپ اسے نہیں کہتے ۔۔۔ اٹھو فریش ہوجاؤ ۔۔۔ اب یہ بکواس کسی کے سامنے دہرانا مت ۔۔۔ باذل خان اس کا بازو تھامتا اسے واشروم لے گیا ۔۔۔

وہ چل کم گھسیٹ زیادہ رہی تھی اس کے ساتھ ۔۔۔ درد کی کئیں لہریں اس کے اندر اٹھ رہیں تھیں پر وہ باذل خان کے ڈر کی وجہ سے خاموش ہوگئی تھی ۔۔۔

باذل خان کا لہجہ اور انداز اب نرم تھا اس کے ساتھ , اسے پاکیزگی کا مطلب سمجھاتا اسے واشروم تک چھوڑ گیا تاکہ فریش ہوجاۓ وہ ۔۔۔

@@@@@@@@

(ماضی)

وہ کھڑکی کے پاس کھڑا باہر کے مناظر دیکھتا رہا سر کو مسلتا اس کا ہاتھ اس کے اندر کی بےچینی کو واضع کررہا تھا ۔۔۔

کچھ دیر بعد زونی واشروم سے باہر نکلی گیلے وجود کے ساتھ دوپٹے کو خو پر لپیٹے خود کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی تھی اس نے ۔۔۔ زونی کے قدمون کی لڑکھڑاہٹ نے اسے شدید شرمندگی سے دوچار کیا ۔۔۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کل رات وہ اسے شدید درد سے دوچار کرچکا تھا ۔۔۔۔

یہ کچھ لمحوں کی ہی بات تھی کیونکہ اس کے کانوں میں اپنے باپ کے لفظ گونجے تھے اس لمحے , جو انہوں نے پرسوں باذل کو کہے تھے زونی سے بات کرنے کے بعد ۔۔۔

“اگر اہل نہیں تھے تو کیوں رخصتی کروائی , جب بیوی رکھنے کی قابلیت نہ تھی تم میں ۔۔۔ نوروز خان کے ایک جملے نے شدید ذلت سے دوچار کیا تھا باذل کو ۔۔۔

لفظ اہل اور قابلیت سراسر اسے اپنی مردانگی پر کاری ضرب کی طرح لگے ۔۔۔ توہیں محسوس ہوئی اپنے باپ کے لفظوں سے پانچ منٹ کی کال میں وہ اسے کافی کچھ سنا چکے تھے ۔۔۔ ان کے آخری الفاظ یہ تھے کہ ۔۔۔۔

“اگر بیوی رکھنے کی قابلیت نہیں ہے , اسے لاوارث سمجھ رکھا تو یہاں امریکا چھوڑ جاؤ ہم خود سنبھال لیں گے ۔۔۔ پڑھائی یہاں بھی کرسکتی ہے وہاں اکیلے رونے تڑپنے کے لیۓ نہیں چھوڑ سکتا اپنی بچی کو ۔۔۔ شرافت سے چھوڑ جاؤ یہاں , اگر پیسوں کا مسئلا ہے تو وہ بھی بھیج دوں گا , اس کی بھی فکر نہ کرنا ۔۔۔ نوروز خان نے سختی سے آخری لفظ کہے تھے ۔۔۔ باذل خان کا چہرہ سرخ پڑچکا تھا غصے سے ۔۔۔

“بسس کریں ڈیڈ , اتنا ذلیل کرنے کی ضرورت نہیں اپنی بیوی کو خود سنبھال لوں گا , آئندہ آپ کو شکایت کا موقع بھی نہیں دون گا ۔۔۔ باذل خان نے کہا ۔۔۔ وہ بدتمیز نہیں تھا اس لیۓ سب برداش کرگیا ۔۔۔

“جلد سے جلد اسے ہاسٹل سے اپنے گھر شفٹ کرو , یہ میرا حکم سمجھو ۔۔۔نوروز خان نے ایک اور حکم جاری کیا ۔۔۔

“جی ڈیڈ کچھ وقت میں شفٹ کردوں گا فی الحال ممکن نہیں میرے لیۓ ۔۔۔ باذل خان نے ضبط سے کہا ۔۔۔

“تو کم ازکم ہر ویک گھر تو لے جایا کرو , یہ کیا … چھ مہینوں میں صرف ایک دفعہ ہی لے گۓ … نوروز خان نے ناراض لہجے میں کہا اپنے بیٹے سے ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے انہیں شدید رنج ہوا تھا اس کے اس عمل سے ۔۔۔

وہ دنگ رہ گیا ان کی بات پر ۔۔۔ مطلب وہ ایک ایک بات بتاچکی تھی باذل کی یہی لمحہ تھا اس کا غصہ اور بڑھا گیا تھا زونی پر ۔۔۔

“باذل ایک بات یاد رکھنا میں تمہیں اس کی حق تلفی نہیں کرنے دوں گا ۔۔۔ اب زونی میرے لیۓ روشانے اور شانزے سے بڑھ کر ہے کیونکہ تمہارے اور اس کے رشتے کے بعد سے وہ سب سے بڑھ کر ہے میرے لیۓ کیونکہ اسے تاعمر ہمارے ساتھ رہنا ہے جبکہ بیٹیاں تو رخصت ہوکر اپنوں گھروں کی ہوجائیں گی ۔۔۔ سمجھ ایا کچھ ۔۔۔ نوروز خان کے لہجے میں بہت محبت تھی زونی کے لیۓ آخر میں ان کا لہجہ سخت ہوا باذل کی لاپرواہی کو لے کر ۔۔۔

“جی اچھی طرح سمجھ گیا ۔۔۔ باذل نے دانت پیس کر کہا ۔۔۔

چند اور باتوں کے بعد نوروز خان نے فون تو رکھ دیا پر ان کے لفظوں کی بازگشت نے اسے پوری رات سونے نہ دیا ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے اسے جلتے توے پر بٹھادیا ہو ۔۔۔ غصہ تھا کہ بڑھتا ہی جارہا تھا کسی طرح کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔۔ نا ان کی باتیں ہضم کر پارہا تھا , نہ اُگل پا رہا تھا نا نِگل پارہا تھا باذل کی کیفیت کچھ ایسی ہوگئی تھی ۔۔۔

اس نے کئی گلاس توڑے یہاں تک کافی ڈیکوریشن پیس گھر کے بھی پر دل تھا کہ سکون میں نا ارہا تھا اندر کا شور بڑھتا ہی جارہا تھا ۔۔۔

“بس زونی , بہت شوق ہے نا تمہیں میری بیوی بننے کا , کل کے کل ہی سارے شوق پورے کروں گا ۔۔۔ تاعمر یاد رکھوگی اپنی اس چالاکی کا نتیجہ ۔۔۔ بہت غلط کیا ہے تم نے خود کے ساتھ بہت غلط , بلکہ مجھے بھی غلط کرنے پر اکسادیا , بہت پچھتاؤگی تم ۔۔۔۔ آخری عزم کرنے کے بعد ہی جاکر اسے نیند آئی تھی ۔۔۔

وہ خیالوں سے نکل ایا اور سنبھل کر بولا ۔۔۔

“جلدی ریڈی ہوجاؤ ناشتہ کرنا ہے پھر دوائی بھی لینی ہے ۔۔۔

وہ اس کی سرد آواز پر چونکی بالوں میں جو ہیئر برش چلارہی تھی وہ ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گیا ۔۔۔

“جی جی ۔۔۔ جلدی سے جواب دے کر جھک کر برش اٹھایا اور دوبارہ بالوں میں چلانے لگی ہیئر برش جلدی جلدی ۔۔۔

اتنے لمبی بال تھے جلدی سلجھنا آسان نہ تھے ۔۔۔ ایک تو بالوں کی الجھن دوسرا باذل خان کی نظریں اس کا دل اندر ہی اندر کانپ رہا تھا ۔۔۔ وہ قدم قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھنے لگا وہ سہمی نظروں سے اس کا اپنی طرف انا دیکھ رہی تھی ۔۔۔

“ذرہ دھیان سے یار , اتنے خوبصورت بالوں پر یہ ظلم نہ کرو , یہاں کی لڑکیاں مرتی ہیں ایسے بالوں کے لیۓ ۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ سے برش لے کر خود ہی انہیں سلجھانے لگا ۔۔۔ وہ شیشے سے چور نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جس کے چہرے کا تاثر نرم سا تھا دل کو کچھ سکوں ایا ۔۔۔ وہ اس کے لمبے بال سلجھاتا اگے کو رکھ دیتا کندھے پر تاکہ الجھے اور سلجھے بالوں درمیاں فرق رہے , یوں اسے آسانی رہنی تھی اس کے لمبے بال سلجھانے میں ۔۔۔ وہ اسے کیا بتاتی کہ حویلی تو ملازمہ تھی اس کی مدد کرتی لمبے بالوں کو سلجھانے میں ۔۔۔

سارے بال سلجھانے کے بعد وہ اس کی پینٹھ پر ہونٹ رکھ گیا ۔۔۔ وہ شدت رہ گئی ۔۔۔ وہ اس پر اپنی شدتوں کی بارش کرنے لگا ۔۔۔ جو کبھی ایک آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتا تھا اس لمحے اس کا یہ روپ اسے حیران کررہا تھا ۔۔۔ اس کا رخ اپنی طرف کرکے باذل اس کے ہونٹوں پر جھک گیا , اب اس کے لمس میں رات والی جنونیت نہ تھی پر شدت اب بھی برقرار تھی ۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اسے روک نہ سکی ۔۔۔ کتنے لمحے گزرگۓ تھے پتا ہی نہ چلا ۔۔۔ اچانک باذل اس سے جدا ہوکر بولا ۔۔۔

“چلیں ناشتہ کریں ۔۔۔

“جی جی ۔۔۔ وہ اپنے ہونٹوں کو جنبش دے کر بولی ۔۔۔ زونی کی نظریں مسلسل جھکی تھیں ۔۔۔ اس کی جھکی پلکوں کا منظر دلچسپ تھا باذل کے لیۓ ۔۔۔

“تو جاؤ نیچے جاکر بناؤ ناشتہ میرے لیۓ ۔۔۔ میں فریش ہوکر اتا ہوں ۔۔۔ مجھے لیٹ پسند نہیں اس لیۓ کچھ اور سوچنے بجاۓ کام پر توجہ دینا ۔۔۔ باذل نے حکمیہ لہجے میں کہا ۔۔

“جی , ابھی بنادیتی ہوں ۔۔۔ وہ جلدی جانے لگی وہ اس کا ہاتھ تھام گیا ۔۔۔

“بیوی بننے کا شوق ہو تو سب فرائض ادا کرنے پڑتے ہیں ۔۔۔ باذل نے ایک اور وار کیا ۔۔۔

“کیا مطلب ۔۔۔ زونی نے بھیگے لہجے میں کہا ۔۔۔ زونی کے ہونٹ اب بھی کپکپارہے تھے ۔۔۔

“پہلے کپڑے نکالو میرے پھر جاکر ناشتہ بناؤ ۔۔۔ فریج میں کافی کچھ اویلیبل ہے سہی سے دیکھ لینا ۔۔۔ باذل کا نہا حکم ملتے ہی وہ بولی ۔۔۔

“جی ٹھیک ہے ۔۔۔ وہ اس کے کپڑے نکالنے لگی ۔۔۔ وہ واشروم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔

اس کی آنکھین نم ہورہی تھیں اس کے بیوی لفظ میں طنز کا عنصر محسوس کررہی تھی ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں سب باتوں کی توڑ جوڑ کرنے کے بعد سمجھ گئی باذل خان کے اس رویۓ کی وجہ یقینن تایاجان نے کچھ کہا ان سے ۔۔۔ زونی نے سوچا ۔۔۔

وہ جلدی جلدی ہاتھ چلاتی اس کا ناشتہ بنانے لگی ۔۔۔ درد تو کہیں پیچھے رہ گیا تھا اس وقت اس کا سارا دھیان ناشتہ بنانے پر تھا کہ کہیں لیٹ نہ ہوجاۓ اور باذل خان کو غصہ نہ اجاۓ ۔۔۔

@@@@@@@@@

عالم خان حیران تھا اس کے چہرے کی رونق لوٹ آئی تھی ۔۔۔ روشانے کے ہر انداز میں چینج تھا ۔۔۔

وہ اسے ناشتہ سروو کرتی ایک اچھی بیوی لگ رہی تھی ۔۔۔ اس لمحے عالم خان نے سوچا ۔۔۔

“واقعی مجھے اتنی سختی کرنے کے بجاۓ کچھ نرمی سے کام لینا چاہیۓ تھا , اپنے نرم انداز سے میں اسے اس رشتے کا احساس دلاسکتا ہوں ۔۔۔

زونی , شانزے اور روشانے کو کل کا دن پورا گھمایا عالم خان نے ۔۔۔ جس کی وجہ سے اج زونی کچھ ریلیکس تھی ۔۔۔ پھر بھی کافی دفعہ پوچھنے کے بعد بھی عالم خان کو زونی نے اپنے رونے کی سہی وجہ نہ بتاسکی ۔۔۔

عالم خان ناشتہ کرکے اپنے روم کی طرف گیا تو روشانے بھی اس کے پیچھے لپکی ۔۔۔

“سنیں ۔۔۔ وہ جو روم میں اپنی گھڑی پہن رہا تھا ۔۔ اس کی طرف دیکھا سوالیہ نظروں سے اور کہا ۔۔۔

“ہممم کہو ۔۔۔

“کیا میں بھی ایڈمیشن لے سکتی ہوں یونی میں کسی کورس کے لیۓ زونی کی طرح ۔۔۔ گھر میں بیٹھ کر بور ہوجاتی ہوں ۔۔۔ روشانے نے انگلیاں مڑوڑتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“میرا خیال ہے تمہیں گھر کو اور ہمارے رشتے کو ٹائم دینا چاہیۓ روشانے ۔۔۔ عالم خان نے سکون سے کہا ۔۔۔

“اب سارا دن اکیلی گھر پر بور ہوتی رہوں ۔۔۔۔ روشانے نے جلدی سے کہا ۔۔۔

“اپنی سہیلیوں سے باتیں کرو اور آنلائن کچھ کرنا چاہو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔

“اور ویسے بھی تمہاری ایجیوکیشن مکمل تو ہے ۔۔۔ عالم خان نے کچھ سوچ کر کہا ۔۔۔

“پر مجھے یونی جانا ہے کسی شارٹ کورس کے لیۓ پلیز ۔۔۔ روشانے نے کہا اس کے لہجے میں التجا تھی ۔۔۔

“تمہارے ڈاکومینٹس بھی یہاں نہیں ہیں روشانے , مشکل ہوگی ۔۔۔ عالم خان نے ایک اور وجہ بتائی انکار کی ۔۔۔

“وہ منگواۓ جاسکتے ہیں , یہ کوئی مسئلا نہیں ۔۔۔۔ سامنے بھی روشانے تھی جس کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود تھا وہ عالم خان کو ہر ایک بات پر لاجواب کر رہی تھی ۔۔۔ جانے کیوں وہ اسکی اتنی سننے لگا تھا ۔۔۔

“مسئلا ڈاکومینٹس نہیں ہیں روشانے , میں نہیں چاہتا یہاں جوائن کرو تم یونی جبکہ تم الریڈی اپنی ایجیوکیشن مکمل کرچکی ہو ۔۔۔ تو پھر شارٹ کورس تو صرف بہانا مجھے لگ رہا ہے تمہارا گھر سے دور رہنے کے ۔۔۔ عالم خان اب کے صاف گوئی سے بولا ۔۔

“مجھے گھر میں قید کرکے رکھنا چاہتے ہیں کیا آپ ۔۔۔ روشانے خان نے آئی برو اچکا کر پوچھا ۔۔۔

“میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں روشانے تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو ۔۔۔ عالم خان اپنی طبیت کے خلاف نرمی سے بات کررہا تھا جس کا اندازہ نہ تھا روشانے کو ۔۔۔

“مجھے بھی زونی کی طرح یونی جانا ہے بسس ۔۔۔ روشانے ازلی ضدی لہجے میں بولی ۔۔۔

“اوکے دیکھتا ہوں , فی الحال مجھے جانا ہے پھر اس پر بات ہوگی اس ٹاپک پر ۔۔۔۔

عالم خان جلدی سے کہتا وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔ وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔

@@@@@@ۘ@@

مناہل آذان کو گود میں لیۓ بیٹھی تھی , اسی وقت دائم ایا پر اس نے ذرہ توجہ نہ دی وہ اسی میں مگن رہی ۔۔

“پانی مل سکتا ہے ۔۔۔ دائم خان سر کو مسلتا ہوا بولا ۔۔۔

“جی ابھی لائی ۔۔۔۔ وہ جلدی سے بولی ۔۔۔

وہ اذان کو اٹھاتی ہوئی جانے لگی ۔۔۔ “اسے چھوڑو یہیں , جاکر پانی لاؤ ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔

وہ آذان کو اس کے پاس بٹھاکر جانے لگی ۔۔۔ پر آذان بھی اپنے نام کا ایک تھا ضدی ہوکر رونے لگا تاکہ مناہل اسے اٹھاکر لے جاۓ اپنے ساتھ , اس بچے کو ایک منٹ کی دوری بھی مناہل سے گوارا نہ تھی , ایسا لگ رہا تھا ۔۔۔

“اذان ماما ارہی ہے , تم پاپا کے پاس بیٹھو ۔۔۔ مناہل پیار سے اس کے گال پر پیار کرتی بولی پر آذان اس کی طرف ہمکنے لگا ۔۔۔ پر مناہل اسے چھوڑ کر جلدی پانی بھرنے کے لیۓ چلی گئی ۔۔۔ وہ واپس آئی تو دیکھا آذان چیخنے کے انداز میں رورہا تھا ۔۔۔ جلدی اسے پانی دے کر آذان کو اٹھایا , اس کے اٹھانے کے چند لمحوں بعد وہ چپ کرگیا ۔۔۔

دائم حیرت سے دونوں کو دیکھنے لگا ۔۔۔

“بڑے چالاک ہو باپ کی کوئی عزت نہیں تمہارے نظر میں ۔۔ دائم نے مزاحیہ انداز میں منہ بسورا ۔۔۔ آذان ذرہ تقجہ نہ دی باپ کے لفظوں پر جبکہ مناہل کو ہنسی آئی دائم کے انداز پر , جسے وہ ضبط کرگئی پر دائم کی نظر پڑی اس کے ضبط کرنے پر تو بول اٹھا ۔۔۔

“کچھ تو شرم کرو آذان , کبھی باپ کی بھی پرواہ کرلیا کرو , یاد رکھنا میں چاہوں تو ان چالاکیوں کا خوب بدلہ لے سکتا ہوں , آج کل تو اس باپ کو تو دو لمحے کو بھی میسر نہیں ہوتے تم اور کل جب تمہاری بڑی خواہشیں ہونگی بڑے مہنگے الیکٹرونکس کھلونے , موبائل , لیب ٹاپ تب یہی باپ تمہیں یاد آیا کرے گا , سمجھے ۔۔۔ اگر اتنی بے مروتی کرو گے توکل مجھ سے کوئی امید مت رکھنا تم سن رہے ہو آذان ۔۔۔ دائم نے بھرپور سرزش کرتے ہوۓ کہا تھا جبکہ وہ کھلکھلاتا ہوا باپ کو چڑانے لگا ۔۔۔ مناہل کے ہونٹوں پر تبسم بکھر گیا دونوں باپ بیٹے کے انداز پر ۔۔۔

اس نے پانی کے ساتھ سردرد کی گولی لی اور اسے اپنی طرف بلانے کے لیۓ بازو وارے پر وہ مناہل کے سینے میں منہ چھپاگیا , مطلب انے سے صاف انکار ۔۔۔ وہ اس کی مسکراہٹ دیکھتا آنکھیں موند گیا ۔۔۔ کچھ ہی دیر گزری تھی اسے آنکھیں موندے ۔۔۔

دونوں کے قہقہوں پر وہ متوجہ ہوکر آنکھیں کھول کر دیکھنے لگا کتنا مکمل منظر تھا یہ آذان اپنے چھوٹے سے ہاتھوں میں مناہل کی لٹ کھینچ کر اپنے قریب کرتا اور وہ اس کے قریب ہوکر اس کی ناک سے ناک رگڑ لیتی اور دونوں کھل کھلا اٹھتے اپنی شرارتوں پر ۔۔۔

وہ دیکھنے لگا دونوں کو ۔۔۔ دل کے اندر سکوں اترا اپنے فیصلے پر ۔۔۔ اس کی پرشوق نظروں کو محسوس کرکے مناہل چونکی اور جلدی سے بال سمیٹنے لگی ۔۔۔

“ہممم باہر چلے جاتے ہیں اگر اپ ڈسٹرب ہورہے ہیں تو ۔۔۔ مناہل نے جلدی سے کہا , اس کی آنکھوں کی سرخی اس کی تھکن واضع کررہی تھی ۔۔۔۔

“نہیں نہیں مجھے پرابلم نہیں , بیٹھے رہو دونوں ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔

مناہل اٹھنے کا ارادہ ترک کرکے وہیں بیٹھ گئی ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔