Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

ناول … عید اپنوں کے سنگ

ازقلم …. صبا مغل

قسط نمبر 15

وہ نڈر انداز میں سینا تانے اس کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔

وہ بغور اسے دیکھتا رہا ۔۔۔

“ہمممم , جب بیوی اجازت دے تو شوہر کو اس کا حق ادا کرنے میں دیر بلکل نہیں کرنی چاہیۓ , روشانے عالم خان ۔۔۔

عالم نے اپنے حیرت والے تاثرات چھپاکر ایک دم ہشاش بشاش انداز میں بولا تھا ۔۔۔ وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا خود کے قریب کرگیا , اب کے روشانے کو شدید دھچکا لگا ۔۔۔ اسے امید نہ تھی وہ یوں پینترا بدلے گا ۔۔۔ دونوں کا چہرہ ایک دوسرے کے روبرو تھا اب کے عالم خان کی آنکھون میں چیلینج تھا اور روشانے کو اپنے حوصلے پست ہوتے ہوۓ محسوس ہوۓ تھے ۔۔۔

“اج میں دل سے میں کہنا چاہتا ہوں خدا نے تمہیں بڑی فرصت سے ہی بنایا ہے روشانے , اج کی رات , سب سے حسین رات ہوگی میری زندگی کی جسے روشن تمہارا احساس کرے گا ۔۔۔

وہ محبت سے لبریز لہجے میں بولا تھا ۔۔۔

وہ اسے بیڈ پر لٹا چکا تھا ۔۔۔ اس کی بڑھتی جسارتوں نے اسے بےچین کردیا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی عالم یوں کرے گا ۔۔۔ اسے لگا تھا وہ ایسے لفظوں سے عالم خان کو للکارے گی تو شرمسار ہوگا اور آئندہ کبھی اسے ہراس نہیں کرے گا ۔۔۔

“آج جو بھی ہوگا وہ ایک شوہر کی اپنی بیوی سے محبت تو ہو سکتی ہے پر زبردستی قطعی نہیں , روشانے میں کبھی خود کو تم پر مسلط نہیں کرسکتا ۔۔۔ وہ اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنے ہونٹوں کے لمس سے روشناس کرانے لگا , وہ شدید گھبراہٹ کا شکار ہونے لگی تھی ۔۔۔ وہ اس کے ہونٹوں پر مکمل گرفت کرگیا وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح پھڑ پھڑانے لگی تھی اس کی اس جسارت پر ۔۔۔ پر عالم خان اسے اور مضبوطی سے خود میں بھینچ کر اس کی مذاحمت کا دم توڑنے لگا ۔۔۔ کچھ لمحوں بعد اسے ازادی بخشی تو ایک ہی جست میں اٹھ بیٹھی بیڈ پر سے روشانے اور اس کے سامنے ہاتھ جوڑے ۔۔۔

“پلیز نہیں عالم خان , میں مرجاؤں گی , مجھے کچھ وقت دو , اس سب کو ایکسیپٹ کرنے کے لیۓ , پلیز یہ میری آخری التجا ہے پھر کبھی کچھ نہیں مانگونگی آپ سے ۔۔۔

روشانے جلدی جلدی بولی تھی پر اس کی حالت دیکھنے کے لائق تھی بوکھلاۓ ہوۓ چہرے کے تاثرات , اس کے چہرے کے سب رنگ اڑ چکے تھے ۔۔۔

“میں تو محبت سے سب کرنے لگا تھا پر تم نے تو مجھے زبردستی تک کی اجازت دے دی تھی روشانے عالم خان ۔۔۔۔ عالم خان نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔

“مجھے معاف کردیں , مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیۓ تھا ۔۔۔ میں اس سب کے لیۓ تیار نہیں ۔۔۔ وہ بےبسی سے بولی , وہ خود سے اک جنگ لڑنے میں مصروف تھی عالم خان کی ہنسی والے تاثرات کیا دیکھتی ۔۔۔

“اگزیٹلی , وہی کہو جو برداش بھی کرسکو , صرف اونچے تیور دکھا کر تم عالم خان کو زیر نہیں کرسکتی روشانے ۔۔۔ میں تو صرف تمہاری برداش آزما رہا تھا ڈیئر وائفی , پر تم تو بری طرح فیل ہوگئی وائفی , افسوس , بہت افسوس ہوا ۔۔۔ ایسے کہتا ہوا وہ واشروم میں چلا گیا اور وہ اسے جاتا ہوا دیکھتی رہ گئی ۔۔۔

روشانے سوائے پاؤں پٹخنے کے کچھ نہ کرسکی ۔۔۔ شرمسار الگ ہوئی تھی ۔۔۔

@@@@@@@

اگلا دن اپنے کہے مطابق عالم نے گھمایا ان چاروں کو ۔۔۔ زونی جلدی اگئی تھی یونیورسٹی سے ۔۔۔ عالم خان اور روشانے کے بیچ خاموشی برقرار تھی ۔۔۔ عالم نے بھی اسے پھر نہیں چھیڑا ۔۔۔

شانزے خوش تھی اور زونی بھی ۔۔۔ روشانے نے دونوں سے زیادہ بات چیت نہ کی تھی ۔۔۔ شانزے نے بھی زیادہ کوشش نہ کی تھی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی عالم کے سامنے کوئی بدمزگی ہو ۔۔۔

شام ہوئی تو وہ ان کو کراچی کے سب سے بڑے مال میں شاپنگ کے لیۓ لایا تھا ۔۔۔ روشانے کے ہاتھ میں اپنا ایک کریڈٹ کارڈ دیا اور کہا ۔۔۔

“جو لینا چاہو لے سکتی ہو ۔۔۔ عالم کا انداز نارمل سا تھا ۔۔۔ روشانے کارڈ کو بغور دیکھنے لگی ۔۔۔

زونی اور شانزے کی شاپنگ کے بل خود پے کرنے لگا دوسرے کریڈٹ کارڈ سے ۔۔۔ وہ روشانے کو آزادی کا احساس دینا چاہ رہا تھا ۔۔۔ اس کے اپنے سکیورٹی گارڈ تھے ساتھ میں ۔۔۔ روشانے جان بوجھ کر ان سے الگ چل رہی تھی عالم خان نے اسے روکا نہیں ویسے بھی گارڈز اس سے فاصلے پر چل رہے تھے روشانے پر نظر بھی رکھی ہوئی تھی ۔۔۔

عالم خود زونی اور شانزے کے ساتھ تھا شمائل کو عالم نے اٹھایا ہوا تھا تاکہ وہ دونوں سکون سے شاپنگ کرسکیں ۔۔۔

روشانے موبائل شاپ میں جاکر اپنے لیۓ نیا موبائل لیا اور پھر کئی طرح کے پاکستانی ریڈی میڈ ڈریس لیتی رہی ۔۔۔ ہر موبائیل کی نوٹیفکیشن پر وہ حیران ہوتا رہا ۔۔۔

“کیا ہوا بھائی , کئیں روشانے بھابھی کو کریڈٹ کارڈ دے کر افسوس تو نہیں ہورہا ۔۔۔ زونی ہنسی تھی موبائیل کی اتنی بیپ سن کر ۔۔۔ شانزے بات کو سمجھ کر مسکرائی ۔۔۔

“ویسے آپی , پاپا کے ساتھ بھی یہی کرتی تھیں جب ناراض ہوتیں تھیں , ان کے کریڈٹ کارڈ کو لمٹ سے زیادہ یوز کردیتیں ۔۔۔

شانزے نے مزے سے بتایا ۔۔۔ پر عالم کو اندازہ ہورہا تھا اب تک لاکھ سے اوپر کی شاپنگ کرچکی تھی ۔۔۔

“واقعی تمہیں لوگوں کو زچ کرنے کے سارے پینترے اتے ہیں ۔۔۔ عالم نے کلس کر سوچا تصور میں روشانے سے مخاطب ہوا ۔۔۔

اسی لمحے زونی بچوں کی شاپ میں داخل ہوئی شمائل کے لیۓ چیزیں لینے لگی ۔۔۔ ابھی وہ کچھ ڈریس ہی لے پائی تھی , ابھی اسے فیڈرس بھی لینی تھیں شمائل کی , جیسے ہی اس نے ریک سے فیڈر اٹھایا اسے لگا اس نے باذل کو دیکھا تھا کسی لڑکی کے ساتھ , اس کا دل زوروں سے دھڑکا ۔۔۔ وہ جلدی سے اس کے پیچھے لپکی وہ شاپ سے باہر نکلے تو وہ بھی اس کی طرف بڑھی جیسے ہی شاپ سے باہر نکلی تو سینسر لگا تھا بچوں کے کپڑوں میں سینسر الارم بجنا شروع ہوا جیسے زونی شاپ سے باہر نکلی گارڈ اس کے پیچھے لپکا “میم رکیں اپ ایسے کیسے ۔۔۔ اچانک اگر عالم نہ تھامتا تو وہ گارڈ اسے بازو سے دبوچ لیتا ۔۔۔ شاید ایک طوفان برپا ہوجاتا اگر عالم خان کی بہن کو کوئی نامحرم چھو لیتا ۔۔۔

“کیا ہوا زونی ۔۔۔ عاہم نے پوچھا اس کی بوکھپاہٹ کو دیکھتے ہوۓ ۔۔۔

“بھائی وہ وہ ۔۔۔ شمائل بول نہ سکی ۔۔۔

“تم کیوں پیچھے ارہے ہو ان کے ۔۔۔ شاپ کے گارڈ سے پوچھا جو دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

“سر وہ بغیر پیمینٹ کے شرٹس لے جارہی ہیں تو سینسر الارم بج اٹھے ۔۔۔ گارڈ نے تفصیل بتائی ۔۔۔

“ہممم اوکے , میں پیمینٹ کردیتا ہوں ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔

وہ زونی کو خود سے لگاۓ شاپ میں لے ایا وہ اس کے چہرے کو مسلسل تشویش سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

جلدی پیمینٹ کرکے وہ اور زونی باہر اگۓ جبکہ شانزے فوڈ کورٹ میں تھی روشانے بھی وہیں تھی ۔۔۔

“کیا ہوا زونی مجھے بتاؤ , ایسا کیا دیکھ لیا تم نے ۔۔۔ عالم فکرمندی سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ شدت سے روپڑی نفی میں سرہلاتے ہوۓ ۔۔۔

وہ مسلسل اپنے ہونٹ کاٹ رہی تھی ۔۔۔

“کیا ہوا مجھے بتاؤ ۔۔۔

وہ مسلسل نفی میں سرہلاتی رہی ۔۔۔

“زونی میری جان کیا ہوا ۔۔۔ اپنے بھائی کو تو بتاؤ ۔۔۔ عالم خان کو فکر ہورہی تھی اپنی بہن کی ۔۔۔

“کچھ نہیں بھائی گھر چلیں میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔۔ زونی نے آنکھون کی نمی صاف کرتے ہوۓ کہا ۔۔

“ہمممم ٹھیک ہے ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔

گارڈز سے کہے کر اس نے روشانے اور شانزے کو بلایا اور گاڑی گھر کی طرف موڑی ان کے اتے ہی ۔۔۔

شانزے نے ایک دو بار پوچھا زونی کی اداسی کی وجہ پر زونی اسے ٹال گئی ۔۔

عالم خان کی ساری توجہ زونی پر تھی جس کی بےچینی چھپاۓ نہیں چھپ رہی تھی ۔۔۔

@@@@@@@@@

پلکوں کی مُنڈیروں پہ اُتر آتے ہیں چُپ چاپ
غم ایسے پرندے ہیں جو پالے نہیں جاتے

کچھ لوگوں کی ہر دور میں پڑتی ہے ضرورت
کچھ لوگ کبھی دِل سے نِکالے نہیں جاتے

وہ بیڈ پر سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس آئی اور چاند کو دیکھتے ہوۓ خود سے بولی ۔۔۔

“باذل خان تم بےوفا ہی ہو کیوں تم سے سب امیدیں لگاتی ہوں ۔۔۔ تم نے جھوٹ بولا تم واپس جارہے ہو تم یہیں ہو تمہیں پہچاننے میں مجھ سے غلطی کبھی نہیں ہوسکتی ۔۔ کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا جو یوں سزا دے رہے ہو مجھے ۔۔۔ ہمیشہ میں نے ہی برداش کیا ہے تمہاری سب زیادتیوں کو ۔۔۔

اسے وہ وقت یاد ایا جب کم عمری میں اس کا نکاح اور رخصتی ہوئی تھی ۔۔۔۔

@@@@@@@

ماضی

“تم نے ٹاپ کیا ہے او لیول میں ۔۔۔ مجھے فخر ہے تم میری بہن ہو زونی ۔۔۔ عالم خان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور خوشی سے کہا ۔۔

پورے گاؤں میں مٹھائی بانٹی گئی تھی اس موقعے پر ۔۔۔

“پہلی لڑکی ہے گاؤں کی جس نے اولیول پڑھا ہے ۔۔۔ دائم نے فخر سے کہا ۔۔۔

“سارا کریڈٹ عالم بھائی کو جاتا ہے ۔۔۔ زونی نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا ۔۔۔

“گڑیا ساری محنت تمہاری ہے ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔

سب نے اسے گفٹس دیۓ ۔۔۔ آج کا پورا دن گاؤں میں اسی چرچے میں گزرا اکبر خان کی پوتی نے انگریزوں والے امتحان (گاؤں والے اولیول اور اے لیول کو انگریزوں کا امتحان کہتے تھے جبکہ نائینتھ میٹرک و بورڈ کا اگزام کہا جاتا ) میں ٹاپ کیا ہے , کوئی بھروز خان کی بیٹی کہے کر سراہتا رہا ۔۔۔

“بیٹا کل تم اور دائم جاؤگے , نوروز خان اور باذل ارہے ہیں پاکستان ۔۔۔ اکبر خان نے عالم اور دائم سے کہا رات کے وقت ۔۔۔

“جو حکم دادا حضور ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔ اس کے انداز میں سعادتمندی تھی ۔۔۔

@@@@@@@@@

ماضی

اگلے دن کراچی ایئرپوٹ پر عالم اور دائم لینے گۓ واپس جب گاؤں پہنچے تب حویلی میں دکھ کا سماں تھا ۔۔۔ سب حیران پریشان ہوۓ ۔۔۔

پتا چلا بھروز خان کے ہاتھوں قتل ہوگیا ہے شاہ خاندان کے سپوت کا ۔۔۔ جو ہوا تو غلطی سے تھا پر قتل تو ہوا تھا ۔۔۔

ان کے فارم ہاؤس کے پولٹری فارم کے حصے میں کچھ کتے گھسے آۓ تھے جن پر وہ فائرنگ کررہے تھے کیونکہ کتے قابو میں انے کا نام ہی نہیں لے رہے اس لیۓ مجبورً مارنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔ مرغیوں اور کتوں کا شور شدید تھا,ساتھ میں فائیرنگ بھی کی جارہی تھی ۔۔۔

کیسے اچانک ایک بچہ کسی کونے سے نکل ایا جو بھروزخان کی گولی کی نظر ہوگیا ۔۔۔ ان کے ہاتھ سے گن چھوٹ گئی دوڑ کر بچے کو اٹھایا جس میں ایک بھی سانس نہ رہی تھی ۔۔۔

شاھ حویلی کی منتوں مرادوں والی اولاد کھیلتے ہوۓ یہاں چھپ گئی تھی جس کا کسی کو علم نہ تھا ۔۔۔ شاہ حویلی فارم ہاؤس کے بلکل پاس ہی تھی ۔۔۔

دکھ کا کہرام مچ گیا دونوں طرف ۔۔۔

نوروز خان بھائی کی حالت دیکھ کر خود پریشان ہوگۓ تھے ۔۔۔ اکبر خان جو نوروز کے انے کا جشن منانے کا ارادہ رکھتے تھے , سب پروگرام دھرے کے دھرے رہ گۓ ۔۔۔

شاہ خاندان نے پنجائیت بلانے کا فیصلہ لے چکے تھے ۔۔۔ اڑتی اڑتی یہ خبر پہنچ گئی تھی کہ شاہ خاندان ونی لیں گے کیونکہ دولت کی کمی ان کو نہ تھی جو بیٹے کے بدلے پیسے لیں ۔۔۔

کئی راتوں سے نیند اڑی ہوئی تھی بھروز خان کی , اس خبر نے تو ان کو شدید پریشان کردیا ۔۔۔

“بابا جان کچھ کریں میں اپنی معصوم بیٹی کو ونی نہیں کروں گا صلح کی کوئی ترکیب نکالیں , میں اپنی جان دے دوں گا پر بیٹی کو ونی نہیں کروں گا ۔۔۔ بھروز خان باپ کے ہاتھ تھام کر بولے تھے ۔۔۔

“صبر کرو بھروز خان , جذباتی نہ بنو اور کوئی راستہ ہے تو مجھے بتاؤ ۔۔۔ اکبر خان نے کہا ۔۔۔ ہر طرف خاموشی چھاگئی کیونکہ اگر ونی نہ دی تو دونوں خاندانوں میں ایک جنگ چھڑجانی تھی ۔۔۔ نوروز خان اور مھروز خان خاموش تماشائی تھے ۔۔۔

“باباجان , کسی طرح اگر زونی کی شادی کردیں تو ونی کیسے ہوگی ڈیڈھ دن ہے ہمارے پاس ۔۔۔ نوروز خان نے اس خاموشی کو توڑا جو اکبر خان کے سوال پر چھائی تھی ۔۔۔

“حویلی میں کسی لڑکے سے کروں گا تو اس کی جان کے دشمن بن جائیں گے شاہ خاندان والے ۔۔۔ اکبر خان نے پریشانی سے کہا ۔۔۔ ان کا خیال دانیال کی طرف تھا جو زونی سے دوسال ہی بڑا تھا اور شہر میں پڑھتا تھا ۔۔۔ دانیال اور زونی دونوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں وہ لوگ ۔۔۔

اکبر خان نے اپنی فکر بتائی ۔۔۔

“باباجان باذل خان ہے نا , اس کا نکاح کروادیتے ہیں زونی سے اگر اپ کو اعتراض نہ ہو ۔۔۔ نوروز خان نے اپنا بیٹا پیش کیا ۔۔۔

“باذل , ہاں یہ ٹھیک رہے گا ۔۔۔ تم اس سے بات کرو ۔۔۔ یہ احسان ہوگا تمہارا نوروز۔۔۔ اکبر خان نے کہا ۔۔۔

“بابا جان , ایسے تو نہ کہیں , میری اولاد اپ کی ہی ہے ۔۔۔ نوروزخان نے باپ کا ہاتھ چوم کر کہا ۔۔۔

اکبر خان اور بھروز خان کے اندر امید کی کرن جاگی تھی ۔۔۔ اب انہیں انتظار تھا جلدی نوروزخان باذل سے بات کرکے جواب دے ۔۔۔

@@@@@@@@

“یہ ناممکن ہے ڈیڈ وہ بچی ہے اور میری عمر دیکھیں ۔۔۔ باذل خان سنتے ہی ہتھے سے اکھڑگیا ۔۔۔

“عمر کچھ معنی نہیں رکھتی , تم میری بات مانوگے باذل خان ۔۔۔ نوروز,خان نے سمجھایا ۔۔۔

“پہلے روشانے کے ساتھ زیادتی کرچکے ہیں اب میرے ساتھ ۔۔۔ باذل خان نے شکایت کی ۔۔۔

“کیا کمی ہے عالم میں دیکھو پولیس فورس میں جارہا ہے سی ایس ایس کا اگزام پاس کرچکا ہے ۔۔۔ نوروز خان نے اس کے فیوچر کی بات کی جو برائیٹ تھا صاف نظر ارہا تھا ۔۔۔

“کمی کا مجھے نہیں پتا پر روشانے اس ماحول میں نہیں رہ پاۓ گی , اب مجھے بھی ان گواروں میں پھسا رہے ہیں ۔۔۔ باذل خان نے چڑ کر کہا ۔۔۔ اسے برا اس بات کا لگ رہا تھا اتنا وقت باہر ملک رہنے کے باوجود اس کا باپ اپنی پرانی روایتوں پر چل رہا تھا ۔۔۔

“ماشاء اللہ سے اولیول میں ٹاپ کرچکی ہے زونی ۔۔ نوروزخان نے فخریہ لہجے میں کہا ۔۔

“جانتا ہوں پر ہے تو اسی گاؤں کی , عمر دیکھیں اس کی پلیز مجھے معاف کریں ۔۔۔ کسی اور کو قربانی کا بکرہ بنائیں ۔۔۔ باذل خان نے بےمروت لہجے میں کہا ۔۔۔

“باذل مجھے بےعزت نا کرواؤ , تمہارے اگے ہاتھ جوڑتا ہوں ۔۔۔ تھوڑا سا میرا ہی احساس کرلو کہو تو پاؤں پڑجاؤں تمہارے تو ہی شاید سکون ملے تمہیں ۔۔۔نوروز خان کی امپوشنل بلیک میلینگ پر وہ گھبرا گیا ۔۔۔ کتنی بھی مارڈن اولاد ہو باپ کو جھکانا کبھی نہیں چاہتی ۔۔۔ ایسا ہی باذل خان کے ساتھ ہوا , اسے چپ ہونا پڑا باپ کے اس انداز کے بعد ۔۔۔

“بسسس کریں ڈیڈ , ٹھیک ہے صرف نکاح نہیں رخصتی بھی ہوگی ۔۔۔ باذل خان نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔

“پر باذل وہ چھوٹی ہے ابھی اس رشتے کے تقاضون کو نبھانے کے لیۓ ۔۔۔ نوروز خان نے فکر سے کہا ۔۔۔

“میں کچھ نہیں جانتا اپ چاچاجان کو بتادیں , اگر اعتراض ہے تو مجھے بھی انکار ہے ۔۔۔ مجھے نیند ارہی ہے جو فیصلا ہو اپ کا بتادینا ۔۔۔ وہ اپنی جینز کے پاکٹ میں ہاتھ ڈالتا کمرے سے نکل گیا ۔۔۔

وہ من ہی من مسکراتا رہا اپنی شرط کا سوچ کر ۔۔۔ “اب دیکھتا ہوں کیسے نکاح کرواتے ہیں کون اپنی اتنی کم عمر بیٹی کو رخصت کرے گا ۔۔۔

اسی لمحے کسی سے اس کی ٹکر ہوئی ۔۔۔ سارا دودھ کا جگ باذل کے کپڑوں کو خراب کرتا زمین بوس ہوا ۔۔۔

“اندھی ہو کیا دکھائی نہیں دیتا ۔۔۔ غصے سے بولا تھا وہ ۔۔۔

“سوری سوری ۔۔۔ زونی نے ڈرتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“اکیا نام ہے تمہارا ۔۔۔ باذل نے آۓ برو اچکا کر پوچھا ۔۔۔ سرخ سفید رنگت سنہری بالوں کی پونی بناۓ کوئی بچی لگی اسے ۔۔۔ ویسے بھی اس کی عادت نہ تھی گھر کی لڑکیوں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا ۔۔۔

“زرتاشہ ۔۔۔ اس نے انگلیان مروڑتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“مطلب زونی ۔۔۔ باذل نے حیرت سے بھرپور لہجے میں پوچھا ۔۔۔

“جی جی ۔۔۔ اس نے گھبرا کر کہا ۔۔۔

“ماۓ گڈنیس یہ تو دکھتی بھی بچی ہے ۔۔۔ باذل خان کو افسوس ہوا ۔۔۔ وہ جلدی سے بھاگ گئی ۔۔۔

“بلکل نہیں مانیں گے میری شرط ۔۔۔ باذل نے خود کو تسلی دی ۔۔۔

باذل کمرے میں کپڑے چینج کرکے بال بناتے ہوۓ سوچا “اور اگر مان گۓ تو پھر باذل خان تمہارا کیا ہوگا ۔۔۔

ماتھے پر پڑی لکیریں سب واضع کررہیں تھیں کہ وہ کس قدر پریشان ہوا ہے ۔۔

@@@@@@@

ماضی

“آپ سورہے ہیں ۔۔۔ دائم نے تشویش سے پوچھا ۔۔۔

“ہاں تو کیا,سونے پر پابندی ہے کیا ۔۔۔ بیڈ پر لیٹ کر بندہ اور کرے گا بھی کیا ۔۔۔ باذل نے چڑ کر کہا ۔۔

“نہیں وہ باہر نکاح کی تیاریان مکمل ہیں مولوی صاحب پہچنے والا ہے باذل بھائی ۔۔. اور اپ سونے لگے ہیں ۔۔۔ دائم نے حیرت سے کہا ۔۔۔

“واٹ نکاح کس کا نکاح ۔۔۔ باذل کا لہجہ شاک تھا ۔۔

“آپ کا اور زرتاشہ کا باذل بھائی ۔۔. دائم نے کہا ۔۔

دائم کی بات,سن کر سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔

کچھ دیر میں زرتاشہ کے سارے حقوق باذل خان کے نام محفوظ کردیۓ گۓ ۔۔۔ نوروز خان نے اسے گلے لگالیا اس کی فرمانبرداری پر ۔۔۔ وہ نظریں چراتا رہا اس معصوم وجود سے جسے شاید اس رشتے کی نوعیت کا اندازہ بھی نہ ہو ۔۔۔ باذل خان نے خود سے سوچا ۔۔۔

عالم خان اور عمر خان ضبط کرکے کھڑے تھے وہ دونوں سخت خلاف تھے اس کی رخصتی کے پر بھروز خان فیصلہ کرچکے تھے ۔۔۔

اکبر خان نے رخصتی کی اجازت دی یوں چھوٹی حویلی سے بڑی حویلی رخصت ہوکر اگئی زونی ۔۔۔

باذل خان جب کمرے میں ایا وہ بیڈ سے ٹیک لگاۓ سورہی تھی ۔۔۔ صرف لپسٹک اور کاجل لگی پہلی دلہن باذل خان نے دیکھی تھی جس کا حسن حورون کو مات دے رہا تھا ۔۔۔

وہ ارام سے اسے سیدھا کرکے لٹانے لگا ۔۔۔

“اف کتنا زیور ہے کیا سوۓ گی بیچاری ۔۔۔ باذل نے دل میں سوچا ۔۔۔
ابھی وہ اس کی نتھنی ہی اتاررہا تھا کسمساکر زونی نے آنکھین کھولیں اور اسے یون خود پر جھکا دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی ۔۔۔ باذل خان اچھا خاصا گھبرا گیا ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔