Rate this Novel
Episode 5
ناول … عید اپنوں کے سنگ
ازقلم …. صبا مغل
قسط نمبر 5
“باذل بھائی وہ ۔۔۔ دائم خان تھوڑا ہچکایا اس سے پہلے اور کچھ کہتا شمائل نے رونا شروع کردیا ۔۔۔
“مما مما ۔۔۔ کہے کہ جو رونا شروع کیا شمائل نے اس پر زونی بوکھلا گئی جبکہ شاک تاثرات لیۓ وہ زونی کو دیکھتا رہا ۔۔۔ زونی شمائل کو اس سے لینے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔ شمائل اس کی طرف لپکنے لگی ۔۔۔
دائم نے شرمندگی کے مارے نظر جھکالی جبکہ وہ صدمے کی کیفیت میں اپنی بیٹی پر گرفت مضبوط کرگیا ۔۔۔
“پلیز باذل , چھوڑیں میری شمائل کو رورہی ہے , پلیز ۔۔۔ زونی نے التجا کی نم آنکھوں سے , وہ سخت تاثرات لیۓ گھورے جارہا تھا زونی کو ۔۔۔
“باذل بھائی پلیز فی الحال شمائل زونی کو دیں , دائم نے اس کی گرفت سے چھڑا کر زونی کو دی جو اسے خود سے لگاۓ جلدی جلدی جانے لگی پندرہ بیس قدموں کے فاصلے پر چھوٹی حویلی تھی وہ لمحوں میں یہ فاصلہ طے کرگئی اور وہ چلی گئی … اس سے اگے بڑی حویلی کا راستہ تھا ۔۔۔ باذل اسے جاتا دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
“دائم تم میرے بھائی دوست تھے تم نے بھی مجھ سے چھپایا ۔۔۔ تم نے مجھے غیر کردیا ۔۔۔ باذل خان نے سختی سے کہا ۔۔۔
“باذل بھائی چلیں گھر , پھر بات کرتے ہیں ۔۔۔ دائم نے نبھل کر کہا ۔۔۔
“مجھے کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔ باذل سختی سے بولا ۔۔۔
“پلیز راستے پر تماشہ نہ کریں۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔
“میں سب بتاتا ہوں ۔۔۔ دوبارہ جلدی سے بولا ۔۔۔
“میری بیٹی بھی ہے اور مجھ سے ہی چھپایا جارہا ہے ۔۔۔ اتنا وقت جس سے بھی بات ہوتی رہی کسی نے بھی اس کا ذکر نہ کیا ۔۔۔ بہت غلط کیا ہے میرے ساتھ ۔۔۔ باذل خان خودکلامی کے انداز میں کہے رہا تھا ۔۔۔
“بسس اتنا بتادو یہ سب عالم خان کے کہنے پر ہوا ہے نا ورنہ کسی کی اتنی ہمت نہیں مجھ سے چھپاسکے یہ بات ۔۔ باذل نے غصے سے پوچھا ۔۔۔
دائم نے نظریں چرائیں اور کہا تو بس اتنا “پلیز چلیں گھر ۔۔۔
“ہمممم جانتا ہوں ایسی دشمنی صرف عالم ہی نبھاسکتا ہے ۔۔۔ باذل خان نے دانت پیس کر کہا ۔۔۔
“تم نے اقرار نہیں کیا تو انکار بھی نہیں کررہے دائم خان , میں جانتا ہوں یہ سب عالم کے کہنے پر ہوا ہے ۔۔۔ وہ دوبارہ بولا ۔۔۔
“پلیز چھوڑیں یہ باتیں فی الحال چلیں ۔۔۔ دائم کے انسسٹ کرنے پر وہ گاڑی میں بیٹھا اور کچھ دیر میں وہ لوگ بڑی حویلی پہنچے ۔۔۔
باذل خان نارمل انداز میں سب سے ملا , ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا ۔۔۔ فی الحال خاموشی بہتر تھی اس لیۓ چپ رہنے میں عافیت سمجھی تھی اس نے ۔۔۔
@@@@@@@
رات کو اپنے باپ کے روبرو بیٹھ کر باذل خان بولا تھا ۔۔۔
“ڈیڈ آپ کو پتا تھا نا ۔۔۔ شمائل میری بیٹی کا ۔۔۔ باذل کا انداز تصدیق کرنے والا تھا ۔۔۔
“ہمممم تو ۔۔۔ نوروز خان نے بےنیازی سے کہا ۔۔۔
“آپ نے مجھے بتایا تک نہیں , کل کے کل مجھے میری بیوی اور بیٹی بڑی حویلی میں چاہیۓ ۔۔۔ باذل خان نے کہا ۔۔۔
“یہ ناممکن ہے , عالم خان مجھے منع کرچکا تھا اس بار جو فیصلہ ہوگا زرتاشہ کا خود کا ہوگا ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔
“واٹ اب عورتیں فیصلے لیں گی , حویلی میں , قطعی نہیں ۔۔۔ باذل خان نے شدت سے کہا ۔۔۔
“بکواس نہ کرو , تمہاری بات مان کر ایک بار غلطی کی ہے دوبارہ نہیں کروں گا ۔۔۔ انہوں نے غصے سے کہا ۔۔۔
“کونسی میری غلطی , وہ غلطی آپ کی تھی کیونکہ زبردستی میرا نکاح کروایا بلیک میل کرکے , پھر میں نے رخصتی کروالی تو اس میں میری کیا غلطی ہے ۔۔۔ باذل خان بولا ۔۔۔
“باذل مجھے افسوس ہوتا ہے تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوۓ , شرم نہیں آتی تمہیں اپنی غلطی ماننے کے بجاۓ مجھے الزام دے رہے ہو ۔۔۔ وہاں شادی کرکے بیٹھے ہو اور زونی کی بھی زندگی خراب کردی تم نے ۔۔۔ نوروز خان نے نفرت سے کہا ۔۔۔
“یہاں حالات ایسے تھے اگر مجھ سے نکاح نہ کرواتے تو شاید شاہ خاندان والے ونی نا مانگ لیں چاچا جان سے اسی ڈر میں نکاح کروایا تھا اپ لوگوں نے بغیر میری مرضی کے تو پھر مجھ اکیلے کو الزام کیوں دے رہے ہیں ۔۔۔ باذل جتانا نہ بھولا جو حقیقت ہی تھی ۔۔۔
“جو بھی حالات تھے پر تو تم بتادیتے کم از کم اس معصوم کی زندگی یوں تباھ نہ ہوتی ۔۔۔ نوروز خان نے شدت ے کہا ان کو اپنی بھتیجی کا دکھ ہورہا تھا ۔۔۔
“کوئی تباھ نہیں ہوئی ۔۔۔۔ اپ لوگوں نے چھوٹی بات کو بڑا کیا ہے تو کیا ہوا مرد دو شادیان نہیں کرتے کیا اگر میں نے بھی کرلی تو کونسا گناہ کیا ہے جس پر اتنا سب نے وبال مچایا ہوا ہے ۔۔۔ باذل نے ڈھٹائی سے کہا ۔۔۔
“باذل مجھے اپنے بھائی کے سامنے اب شرمندہ مت کروانا جو کرنا تھا وہ کرچکے اب زونی کو اس کے حال پر چھوڑدو , وہ تم سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی ۔۔۔ اور ہمیں اس کی مرضی کو مان دینا چاہیۓ ۔۔۔۔ نوروز خان نے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا جس کا خاطر خواہ کوئی اثر نہ ہوا ان کے بیٹے پر ۔۔۔
“اس کی مرضی کی ایسی کی تیسی , اس کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوگا مرضی میری ہوگی ۔۔۔ باذل خان کے لہجے میں غصہ تھا ۔۔۔
“کیا مرضی ہے تمہاری ۔۔۔ نوروز خان نے پوچھا جلدی سے ۔۔۔
“کل پتا چل جاۓ گا ۔۔۔ باذل نے معنی خیزی سے کہا ۔۔۔
“تم یہاں اپنی بہن کی رخصتی کے لیۓ آۓ ہو ۔۔۔ نوروز خان نے یاد دہانی کروائی ۔۔۔
“نو ڈیڈ , میں یہاں اس کی مرضی کے فیصلے میں ساتھ دینے ایا ہوں ۔۔۔ باذل خان نے کہا ۔۔۔
“دفع ہوجاؤ تم , اگر تم نے ایسا ویسا کچھ سوچا مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا عید کے تیسرے دن میں رخصت کرہا ہوں میری بیٹی ۔۔۔ اگر تم نے روشانے کا ساتھ دیا تو تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔۔ نوروز خان نے اسے اپنا فیصلہ سنایا اور دھمکی دینا نہ بھولے ۔۔۔
“ڈیڈ پلیز سمجھنے کی کوشش کریں , بچپن کے نکاح کی کوئی ویلیو نہیں , ایک طرف مجھے کہتے ہیں زونی کی مرضی اہم ہے دوسری طرف اپنی بیٹی کے ساتھ کیا کررہے ہیں آپ ۔۔۔ امریکا سے سیدھا گاؤں میں , خود سوچیں ہم غلط کررہے ہیں وہ نہیں رہ پاۓ گی اس ماحول میں ۔۔۔ اگر زونی کی مرضی اہم ہے تو روشانے کی بھی اہم ہونی چاہیۓ ۔۔۔ باذل نے اپنی طرف سے سجھانے کی کوشش کی ۔۔۔
“تم باپ نہیں ہو میں ہوں روشانے کا باپ , بہتر ہوگا تم اپنے کام سے کام رکھو ۔۔۔ عالم خان اس قابل ہے کوئی بھی باپ اپنی بیٹی اس کے سپرد کرسکتا ہے ۔۔۔ نوروز خان کے لہجے میں بھتیجے کے لیۓ محبت ہی محبت تھی ۔۔۔
“اور میرے بارے میں کیا خیالات ہیں آپ کے ۔۔۔۔ باذل نے پوچھا ۔۔۔
“تم اس قابل ہی نہیں تھے جس کے نکاح میں کوئی باپ اپنی بیٹی دے ۔۔۔ نوروز خان نے حقیقت پسندی سے کہا ۔۔۔
“بہت شکریہ اپ کا , آپ کے نادر خیالات جان کر خوشی ہوئی ۔۔۔ مجھ سے کوئی امید مت رکھیۓ گا ۔۔۔ باذل خان کو افسوس ہوا اپنے باپ پر جس نے ہمیشہ بیٹے سے زیادہ بھتیجے کو اہمیت دی تھی ۔۔۔ اج بھی اپنے بیٹے کی کوئی وقت نہیں ان کی نظر میں ۔۔۔۔ وہ تاسف سے ان کو دیکھتا ہوا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
@@@@@@@@@@
“آج دوسرے گاؤں گھومنے چلتے ہیں وہاں میلا لگا ہے ۔۔۔ دائم بھائی نے کہا ہے وہ لے چلیں گے ۔۔۔ شانزے نے روشانے کو بتایا ۔۔۔
“وہ جلاد تو نہیں ہوگا ورنہ مجھے نہیں چلنا ۔۔۔ شانزے جانتی تھی روشانے کسے جلاد کہے رہی ہے ۔۔۔
“عالم بھائی نہیں ہونگے ۔۔۔ شانزے نے اطلاع دی ۔۔۔
“تھینکس گاڈ تو پھر پروگرام بناؤ چلتے ہیں اس بہانے وقت گزرے ۔۔۔ یہ دن ختم ہوں اور واپسی ہو میری امریکا ۔۔۔ روشانے اپنے لاڈ بھرے انداز میں بولتی سبین کے گود میں سر رکھ گئی ۔۔۔
سبین پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتی اس کا چہرہ دیکھتی رہی ۔۔۔۔
“امی اپ اج کل ایسے مجھے کیوں دیکھتی ہیں , میرے دل کو کچھ ہونے لگتا ہے ۔۔۔ روشانے نے اپنے اندازے سے کہا ۔۔۔
“جانے پھر کب دیکھوں گی تمہیں , روشانے میری بیٹی میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں پر اس سے زیادہ اپنے شوہر سے , میں اسے تکلیف نہیں دے سکتی اس لیۓ چپ ہوں ۔۔۔ سبین نے سوچا پر کہا کچھ نہیں ۔۔۔
“ماما پلیز ایسی حسرت بھری نظروں سے مجھے نہ دیکھیں پلیز الجھن ہوتی ہے مجھے ۔۔۔ روشانے ان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
“اچھا میری جان نہیں دیکھتی , اتنی خوبصورت ہے میری بیٹی سکون سے دیکھنے بھی نہیں دیتی مجھے ۔۔۔ اب کے سبین سنبھل کر بولیں تھیں ۔۔۔
“ماما نظر لگ جاۓ گی شان آپی کو ۔۔۔ شانزے نے ہنستے ہوۓ کہا ۔۔۔ اس اموشینل ماحول کو نارمل کرنے کا یہی طریقہ ٹھیک لگا شانزے کو ۔۔۔ ورنہ اپنی ماں کی کیفیت خوب سمجھ رہی تھی ۔۔۔ انجان بےخبر صرف روشانے تھی ورنہ باقی سب تو باخبر تھے ۔۔۔۔
یوں افطاری کے بعد روشانے شانزے اور مناہل گۓ تھے , زونی نے منع کردیا تھا , ربیعہ امید سے تھی ان دنوں اس لیۓ اس کا رش میں جانا ٹھیک نہ تھا ویسے بھی ۔۔۔ مناہل اپنے ساتھ اذان کو لے جانا نہ بھولی تھی کیونکہ اذان اس کے علاوہ کسی سے سنبھلتا ہی نہیں تھا ۔۔۔
@@@@@@@@@
“ہممممم تم نہیں آئی شوہر سے ملنے تو کیا ہوا میں نے سوچا خود ہی اجاتا ہوں ۔۔۔ باذل اس کے کمرے میں اگیا تھا ۔۔ وہ حیران تھی اس کی ڈھٹائی پر ۔۔۔ جو جاۓ نماز اٹھاکر نماز پڑھنے کا ارادہ رکھتی تھی یوں اسے اپنے روبرو پاکر گھبرا گئی تھی ۔۔۔
“آپ جائیں یہاں سے ۔۔۔ مجھے اپ سے کوئی تعلق نہیں رکھنا ۔۔۔ زونی نے ہمت کرکے کہا ۔۔۔
“تمہیں لیۓ بغیر نہیں جانے والا ۔۔۔ اور جہاں تک تعلق کی بات ہے تو یاد رکھنا سارے تعلق تمہارے مجھ سے ہی نکلتے ہیں ۔۔۔ سمجھی ۔۔۔ باذل خان نے تیز لہجے میں کہا ۔۔۔
“تعلق نہیں رکھنا , تمہاری اس بات کی ایسی کی تیسی ۔۔۔ باذل نے اس کی نقل کرنے کے انداز میں کہا جیسے محفوظ ہورہا ہو اس کی گویائی سے ۔۔۔ وہ شرمندہ ہوئی پل بھر کو پھر اس کی زیادتیان یاد کرکے ایک بار پھر ہمت کرکے بولی ۔۔
“میں چیخ کر سب کو بلالوں گی سمجھے آپ ۔۔۔ اندر ہی اندر ڈری ہوئی تھی بظاہر خود کو مضبوط دکھانے کی کوشش میں ہلکان تھی ۔۔۔
“ہممم چیخو اور بلاؤ مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔ دیکھوں تو سہی میاں بیوی کو جدا کرنے کا گناھ کس سے سرزد ہوگا ۔۔۔ اس کی ڈھٹائی پر زونی باذل خان کو دیکھتی رہ گئی ۔۔۔ کیا چیختی وہ اپنی معصوم سوئی ہوئی بیٹی پر نظر ڈال کر ارادہ ترک کیا , اس کی نیند میں خلل آۓ ایسا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔
اسی وقت سوئی ہوئی شمائل کو اٹھایا باذل خان نے نرمی سے جیسے کوئی آبگینا ہو اور اس کے ماتھے پر بوسا دیا ۔۔۔
“ہممم چلو میری گڑیا اپنے پاپا کے گھر , دل کو سکوں ملا تھا اسے خود سے لگاۓ باذل خان کو ۔۔۔
وہ اس کا بازو تھامتا باہر ایا کمرے سے ۔۔۔ وہ اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
جہاں ربیعہ اور پروین خانم کھڑیں تھیں ۔۔۔
“بیٹا تراویع پڑھ کر اجائیں تمہارے چاچو اور بھائی پھر تم ان کی اجازت سے زونی کو لے جاؤ ۔۔۔ پروین خانم نے سمجھانے کے انداز میں نرمی سے کہا ۔۔۔ وہ جانتیں تھیں اس کا غصہ جو ہمیشہ غضب کا رہا ہے ۔۔۔
“ابھی میرے نکاح میں ہے زرتاشہ باذل خان , کسی کی اجازت مجھے درکار نہیں ۔۔۔ اتنا کہے کر وہ اس کا بازو سختی سے تھامتا ہوا لے جانے لگا ۔۔۔
ربیعہ کال ملارہی تھی پر جانتی تھی سب دس بجے تک آئیں گے گھر کے مرد ۔۔۔ کسی کو امید نہ تھی اس وقت باذل اکر یہ حرکت کرے گا ۔۔۔
زونی آہستہ آواز میں منتین کرنے لگیں , ڈر بھی لگ رہا تھا اس کے غصے سے ۔۔۔
“پلیز باذل , مجھے نہیں جانا اپ کے ساتھ ۔۔۔ چھوڑیں میرا بازو ۔۔۔
“ربیعہ بھابھی چادر دیں اس کی ۔۔۔ باذل نے ایک اور حکم دیا ۔۔۔ ربیعہ نے پروین خانم اپنی ساس کی طرف دیکھا ۔۔۔
“جاؤ بیٹا لے کر آو چادر ۔۔۔
وہ اس پر چادر ڈالتا اسے خود کے ساتھ لے گیا ۔۔۔ پروین خانم اور ربیعہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئیں ۔۔۔ سب کو خوف عالم خان سے ارہا تھا جانے اس کا کیا ریکشن ہو اب ۔۔۔
@@@@@@@@@
وہ مسلسل رورہی تھی جسے سیدھا وہ اپنے کمرے میں لایا تھا اور سبین خان سے صاف کہے ایا “میرے پیچھے انے کی ضرورت نہیں ۔۔ اپنی بیٹی کو بیڈ پر لٹا کر اس پر کمبل ڈالا اور مسکرایا ۔۔۔ باذل خان کے اندر سکون سا اترا ۔۔۔
دوسرے لمحے اس کی مسکراہٹ معدوم ہوئی اور زونی کی طرف پلٹ کر بولا ۔۔۔
“تمہاری اتنی ہمت کہ میرے ماں باپ سے نہیں ملی اور ان کی پوتی سے بھی نہیں ملنے دیا اتنی اکڑ اگئی ہے تم میں , ہاں بولو ۔۔۔ وہ اس کا منہ دبوچ کر بولا ۔۔۔
“ایسی حالت کروں گا یاد رکھوگی , کیا سمجھ رکھا ہے تم نے خود کو , میری بیٹی کو مجھ سے چھپانے کا تمہارا ارادہ تھا اتنی جُرت ہوگئی ہے تمہاری ۔۔۔ لندن واپس چلوگی تم میرے ساتھ اسی گھر میں سمجھی ۔۔۔ ایک اور حکم سناگیا وہ ۔۔۔
اس کے لہجے میں دھاڑ تھی وہ تھر تھر کانپنے لگی ۔۔۔ آنکھوں میں خوف اتر ایا , اس ظالم کی پکڑ سے ۔۔۔
“اگر اپنے بھائی اور باپ کے سامنے اکڑنے کی کوشش کی تو اس خاندان میں خون خرابے کی زمیدار تم خود ہوگی ۔۔۔
باذل خان اسے دھمکانے پر اگیا تھا۔۔۔
“کچھ دیر میں چاچا جان اور عالم آئیں گے کوئی چالاکی کی , تو چھین لوں گا تم سے اپنی بیٹی ترس جاؤگی اس کو ۔۔۔ کوئی مذاحمت مت کرنا , اس فیصلے میں اپنی رضامندی دے دینا ۔۔۔ سمجھ آئی میری بات ۔۔۔ وہ تند لہجے میں بولا ۔۔۔ اس کا زبردستی والا انداز تھا ۔۔۔
“جی جی ۔۔۔ زونی گھبرا کر بولی ۔۔۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونے لگے اس کے گھبراہٹ کے مارے ۔۔۔
“ہمممم گڈ ۔۔۔ یہی امید تھی مجھے تم سے ۔۔۔ باذل خان نے کہا ۔۔۔
وہ کمرے سے باہر نکلا اور وہ زمیں پر بیٹھ کر سسک اٹھی جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا , اپنی بیٹی کی وجہ سے وہ اسے واپس وہیں لے جاۓ گا جہان اس نے اذیتوں بھرے دن کاٹے تھے ۔۔۔
@@@@@@@@@
“بازل ٹھیک نہیں کررہے تم , اس سب کا تمہاری بہن پر بھی اثر پڑے گا ۔۔۔ سبین خان نے سمجھاتے ہوۓ کہا جو سکوں سے پانی پی رہا تھا ۔۔۔ سبین نے شکر کیا کہ روشانے دوسرے گاؤں گئی ہوئی تھی ورنہ مسئلا اور بڑھ جاتا ۔۔۔
“بیٹا یہ فیصلے جلد بازی میں نہیں بڑوں کے بیٹھنے پر ہوتے ہیں ۔۔۔ صبیحہ خاتون نے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔
“پھپھو شادی ہوگئی بچہ بھی ہوگیا , اب کس بات کا فیصلہ , سراسر دماغ خراب کیا جارہا ہے میری بیوی کا , جو کسی صورت میں کسی کو کرنے نہیں دوں گا , پھر چائے وہ میری بہن کا ہونے والا شوہر ہو یا کوئی اور میرا باپ ہی کیوں نا ہو ۔۔۔ باذل خان کی بات پر پھپھو حیران ہوکر اسے دیکھنے لگی جس نے سارا ملبہ دوسروں پر گرا کر خود بری الزام ہوکر کھڑا ہے ۔۔۔
“پھپھو میرا خیال ہے کہ سمجھانے کی ضرورت مجھے نہیں ان لوگوں کو ہے ۔۔۔ باذل خان سکون سے بولا ۔۔۔
“پلیز کھانا لگوائیں , مجھے اور میری بیوی کو شدید بھوک لگی ہے پھر ارام بھی کرنا ہے پھر سحری پر بھی تو اٹھنا ہے ۔۔۔ باذل خان کی بات پر صبیحہ خاتون سبین کو دیکھنے لگیں جو بےبسی کی تصویر بنیں کھڑی تھیں ۔۔۔۔ باذل کے اتنے نارمل انداز پر پھپھو اششش کر اٹھیں ۔۔۔
“باذل میری بات سنو ۔۔۔ اب کے سبین پھر بولیں ۔۔۔
“امی کھانا لگائیں پھر بات ہوگی , تب تک زونی کو لے کر اتا ہوں ۔۔۔ ان کی بات کاٹ کر باذل اپنی کہے گیا ۔۔۔
@@@@@@@@
“ماتم کررہی ہو ابھی تک , میرے مرنے کا انتظار کرو , پھر تاعمر کرتی رہنا ماتم زرتاشہ باذل خان ۔۔۔ اسے اسی جگہ زمین پر بیٹھا دیکھ کر باذل خان بولا تھا ۔۔۔ باذل کی بات سن کر اس نے تڑپ کر سر اٹھایا جس پر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی اور بےساختہ بول اٹھا ۔۔۔
“کس نے کہا اگ بجھ چکی ہے اور راکھ ہی راکھ ہے , ذرہ طوفان ایا تو پتا چلا دھیان رکھنا راکھ کے نیچے اگ لگی ہے ۔۔۔ وہ اس کی تڑپ پر چوٹ کرگیا جو اس نے اس کے مرنے کا کہنے پر ریکشن دیا تھا زونی نے ۔۔۔
“اٹھو چل کر کھانا کھائیں ۔۔۔ باذل نے کہا اس کا بازو تھام کر زمیں سے اٹھایا اور واشروم لے گیا اسے زبردستی منہ دھلوایا ۔۔۔ اس کے انکار کو خاطر خواہ اس نے کوئی اہمیت نہ دی ۔۔۔
اپنی بیٹی پر نظر ڈالی جو مزے سے سوئی تھی ۔۔۔ “ہممم گڈ , بابا کی جان تم نیند کرو ممی پاپا بھی ارہے ہیں کھانا کھاکر ۔۔۔ باذل کے لہجے میں بےپناھ محبت تھی اپنی بیٹی کو لے کر جسے شدت سے محسوس کیا زونی نے ۔۔۔
“پلیز مجھے نہیں کھانا ۔۔۔۔ وہ منمنائی ۔۔۔
“تمہارے اچھے اچھوں کو کھانا پڑے گا ۔۔۔ ہمممم چلو ۔۔۔ باذل اپنی کہے کر اسے باہر لے ایا ۔۔۔ وہ تڑپ کر پھپھو کی طرف جانے لگی جسے باذل کی پکڑ نے روک دیا ۔۔۔
“باذل یہ کیسی زبردستی ہے , چھوڑو اس کا بازو۔۔۔ سبین خان بولی اس کے سامنے اکر جو زونی کو تھامے ٹیبل کی طرف جارہا تھا ۔۔۔
“یہ یہی زبان سمجھتی ہے , اپ میان بیوی کے بیچ نہ بولیں ۔۔۔ باذل خان اتنا کہے کر اسے لے کر ٹیبل پر ایا ۔۔۔ اسے اپنے ساتھ بٹھایا ۔۔۔
“آپ بھی آئیں شروع کریں امی اور پھپھو ۔۔۔ باذل خان اتنا کہے کر اپنی پلیٹ میں کھانا نکالنے لگا ۔۔۔۔ وہ اپنے ہاتھوں سے کھلانے لگا اسے نوالے بناکر ۔۔۔ وہ بمشکل حلق سے اتارنے لگی ۔۔۔ سبین خان اور صبیحہ خاتون ہکا بکا دیکھ رہیں تھیں باذل خان کے اس انداز کو ۔۔۔
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ سب مرد حضرات آگۓ تھے ۔۔۔ باذل خان اس کا ہاتھ تھامے اسے نوالے کھلارہا تھا ۔۔۔
“آئیں کھانا شروع کریں چچا جان , آؤ عالم اور عمر تم بھی بیٹھو ۔۔۔ ڈیڈ اپ کا اپنا ہی گھر ہے آپ بھی اجائیں ۔۔۔ باذل خان سکون سے بولا ۔۔
“باذل کسی قسم کی بدمزگی نہیں چاہتے ہم , زونی کو لے کر ہم گھر جارہے ہیں ۔۔۔ عالم خان نے ضبط سے کہا جس کا چہرہ غصے سے لال ہورہا تھا ۔۔۔ شدیدطیش ارہا تھا پر ضبط کیۓ ہوۓ کہا تھا کیونکہ اس کے بابا کا حکم تھا ۔۔۔ باذل نے بغیر کوئی ریکشن دیۓ ایک اور نوالا زونی کے منہ میں دیا جو منہ کھول نہیں رہی تھی جسے زبردستی اس کے ہونٹوں پر دبایا تو اسے منہ کھولنا ہی پڑا ۔۔۔ زونی کے آنسوں رواں تھے ۔۔
“باذل , زونی کا ہاتھ چھوڑو , سبین جاؤ شمائل کو لاؤ ۔۔۔ نوروز خان نے بات کو سنبھالنے کے لیۓ جلدی سے کہا ۔۔۔
“امی آپ نہیں جائیں گی , میری بیٹی شمائل سورہی ہے , اس کی نیند نہ خراب کریں ۔۔۔ باذل خان سکوں سے اٹھا اور زونی کو بھی اٹھایا اپنے ساتھ وہ بلکل کٹھ پتلی بنی ہوئی تھی اس کے ہاتھوں کی ۔۔۔
“کچھ بھی کہنے سے پہلے ایک دفعہ زرتاشہ باذل خان سے پوچھیں اس کا فیصلہ کیا ہے پھر اگے بات ہوگی ۔۔۔ باذل خان ٹشو سے ہاتھ صاف کرتا ہوا اٹھا تھا اور زونی کو بھی اپنے ساتھ لاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
اسے سب کے سامنے روبرو لے ایا تھا ۔۔۔
“باذل مجھے غصہ نہ دلاؤ , زونی پر تمہارا کوئی حق نہیں , اسے جانے دو ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔ جسے سرے سے نظر انداز کرتا وہ اپنے چچا جان کے سامنے روبرو ایا اور بولا ۔۔۔
“آپ اپنی بیٹی سے پوچھیں چچاجان , میں اسے اپنے ساتھ لندن لے جانے ارادہ رکھتا ہوں اپنی بیٹی اور بیوی سے دستبرادری کسی طور مجھے منظور نہیں ۔۔۔ باذل خان کا لہجہ اٹل تھا ۔۔۔ عالم خان مٹھیان بھینچ کے کھڑا تھا وہ بڑوں کے اگے کچھ کہے کر ان کی شان میں گستاخی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔ اپنی بہن کے آنسو اس کے دل پر گررہے تھے ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
