Rate this Novel
Episode 1
ناول عید اپنوں کے سنگ
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 1
“مجھے نہیں جانا پاکستاں , میں یہیں ٹھیک ہوں , آپ لوگ جائیں ۔۔۔ روشانے نے سکوں سے کہا ۔۔۔
“سب جارہے ہیں آپی , آپ کو بھی چلنا پڑے گا ۔۔۔ روشانے سے چھوٹی شانزے نے کہا ۔۔۔
“مجھے نہیں جانا پاپا کو بتادو سمجھی ۔۔۔ روشانے اپنی بات پر بضد تھی ۔۔۔
“اف آپی پلیز چلیں نا مزا آۓ گا ۔۔۔ اتنے سالوں بعد اپنوں کے ساتھ عید کرنے کا اپنا مزا ہے ۔۔۔ شانزے نے جوش سے کہا ۔۔۔
“مجھے گاؤں وغیرہ جانے کا کوئی شوق نہیں , یہیں زندگی کا چارم ہے ۔۔۔ روشانے کے لہجے میں من مانی تھی ۔۔۔
“آپی پلیز چلیں نا مجھے مزا نہیں آۓ گا آپ کے بغیر ۔۔۔ شانزے نے اپنے طریقے سے انسسٹ کیا ۔۔۔
“بسس میں فیصلہ کرچکی ہوں , ویسے بھی باذل بھائی یہاں ہی آئیں گے , ہم یہیں عید منالیں گے ۔۔۔۔ روشانے نے کچھ سوچ کر کہا اسے پتا تھا باذل خان پاکستاں قطعی نہیں جاۓ گا ۔۔۔
“باذل بھائی بھی لندن سے سیدھا پاکستاں آئیں گے , سب کے ساتھ وہ بھی یہ عید ہمارے گاؤں میں منائیں گے ۔۔۔ شانزے نے مزے لے کر یہ تازہ خبر سنائی ۔۔۔ اسے شدید جھٹکا لگا ۔۔۔
“واٹ , آر یو شیور باذل بھائی آئیں گے ۔۔۔ اسے یقین نہیں ارہا تھا کہ اس کا اکلوتا بڑا بھائی پاکستاں آۓ گا ۔۔۔ اس کے لہجے میں بےپناہ حیرت ہی تھی ۔۔۔
“ہاں پکا بتارہی ہوں چاہے تو بھائی سے پوچھ لو ۔۔۔ شانزے نے یقین سے کہا ۔۔۔
“ویسے شانزے مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے ۔۔۔ اب تو پکا لگ رہی ہے ۔۔۔ روشانے نے پرسوچ لہجے میں کہا ۔۔۔
“کیسی گڑبڑ ۔۔۔ شانزے چونکی اور ایک دم نظریں چرائیں ۔۔۔ روشانے اپنے خیال میں نہ ہوتی تو اس کے تاثرات دیکھ کر کچھ نہ کچھ شک میں ضرور پڑتی پر روشانے کسی اور خیال میں گم تھی ۔۔۔
“تو اب بتائیں , چل رہیں ہیں پاکستان ۔۔۔ شانزے نے پوچھا ۔۔۔
“نو وے ۔۔۔۔ روشانے شدت سے کہتی اٹھ کر چلی گئی ۔۔۔
“ارے کہاں جارہی ہیں آپی ۔۔۔ وہ بھی اس وقت ۔۔۔ شانزے نے کہا ۔۔۔
“پارٹی میں دوستوں کے ساتھ , اینی پرابلم ۔۔۔۔ روشانے نے پلٹ کر کہا ۔۔۔
“پاپا غصہ ہونگے اس وقت نہ جاؤ ۔۔۔ پلیز آپی ۔۔۔ شانزے نے اسے روکنا چاہا ۔۔۔
“بکواس بند کرو چھوٹی ہو چھوٹی بن کر رہو سمجھی ۔۔۔ مجھے لیٹ ہوجاۓ گا ۔۔۔ باۓ ۔۔۔ شانزے اتنا کہے کر پرس اٹھاکر چلی گئی ۔۔۔
@@@@@@@@
“زونی کہاں ہے ربیعہ بھابھی ۔۔۔ بلیک شلوار قمیص میں ملبوس وہ پورے شان کے ساتھ کھڑا تھا بھرپور مردانہ وجاہت لیۓ پوچھ رہا تھا ۔۔۔ اس کے چہرے پر فکرمندانہ تاثرات تھے ۔۔۔
یہ اس حویلی کی نئی نسل کا سب سے بڑا مرد تھا جو اپنے چھوٹے بھائی عمر کی بیوی ربیعہ سے اپنی چھوٹی بہن زرتاشہ عرف زونی کا پوچھ رہا تھا ۔۔۔
“عالم بھائی وہ اوپر ہیں چھت پر ۔۔۔ ربیعہ نے بتایا ۔۔۔
“ہمممم ۔۔۔ وہ ہنکار کر اوپر کی طرف بڑھنے کو قدم بڑھایا ہی تھا کہ ربیعہ بولی ۔۔۔
“میں بلاکر لاتی ہوں بھائی ۔۔۔ ربیعہ کے لہجے میں لڑکھڑاہٹ تھی ۔۔۔ وہ جانتی تھی دونوں بھائی اپنی بہن کی آنکھ میں ایک آنسو نہیں برداش کرپائیں گے ۔۔۔ اس لیۓ ربیعہ نہیں چاہتی تھی عالم خان اپنی بہن کو روتا ہوا دیکھیں ۔۔۔
“نہیں تمہیں زحمت کی ضرورت نہیں میں خود دیکھ لوں گا ۔۔۔ وہ سرد لہجے میں بول کر اوپر سیڑھیوں کی طرف بڑھا ۔۔۔
وہ درازقد اور مضبوط جسم و قامت والے عالم خان کو جاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔
@@@@@@@@
عالم خان اوپر پہنچ کر اسے آواز لگانے کے بجاۓ سیدھا اسے ڈھونڈتا ہوا اس کے سرپر جا پہنچا جو اندھیرے میں گھٹنوں میں سردیۓ سسک رہی تھی ۔۔۔
“زونی , میری بہن , میری جان ایسے روکر , تم مجھے تکلیف دے رہی ہو ۔۔۔ چپ ہوجاؤ ۔۔۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر عالم خان نے کہا ۔۔۔ ضبط سے اسنے ہونٹ بھینچے ہوۓ تھے ۔۔۔
وہ اس کا سر اپنے سینے پر رکھ گیا ۔۔۔ بہن کے آنسو اپنے دل پر گرتے ہوۓ محسوس ہورہے تھے ۔۔۔
اندھیرے کی وجہ سے وہ دیکھ نہیں پارہی تھی پر عالم کا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا کیونکہ اسے بیک وقت غصہ اور دکھ ہورہا تھا ۔۔۔ دکھ اپنی بہن کے آنسوؤں کا اور غصہ اس شخص پر جو اس کی معصوم بہن کو اتنی اذیت دینے کا باعث بنا تھا ۔۔۔
“مجھے پلیز یہاں سے لے چلیں , میں اس شخص کو نہیں دیکھنا چاہتی پلیز بھائی ۔۔۔۔ زونی نے التجا کی ۔۔۔
“زونی میری گڑیا , سمجھنے کی کوشش کرو دادا حضور کا فیصلہ ہے ۔۔۔ ان کی طبیت دیکھو , ان کی التجا پر سب آرہے ہیں ۔۔۔ اگر اس وقت صرف اس شخص کے وجہ سے میں تمہیں اپنے ساتھ شہر لے گیا تو دادا حضور کو دکھ ہوگا ۔۔۔ عالم نے بےبسی سے کہا ۔۔۔ ورنہ وہ اپنی چھوٹی بہن کی اتنی سی بات ضرور مان لیتا ۔۔۔
“پر بھائی وہ شخص بہت ظالم ہے , مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے جاۓ گا ۔۔۔ وہ بھی اس صورت میں جب ۔۔۔۔ زونی سسکتی ہوۓ بول رہی تھی عالم خان کی برداش جواب دے گئی جو اس کا جملا مکمل ہونے سے پہلے اس کی بات کاٹ کر بولا ۔۔۔
“بسسسس زونی ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہوگا تمہارے بھائی سے زیادہ طاقتور نہیں ہے وہ شخص ۔۔۔ بےفکر ہوجاؤ ایک دفعہ تمہیں کم عمری میں باباجان نے رخصت کرکے جو غلطی کی تھی وہ دوبارہ نہیں ہوگی , اب جو ہوگا تمہاری مرضی اور رضا سے ہوگا چاہے جو بھی حالات ہوں ۔۔۔ یہ تمہارے بھائی کا وعدہ ہے ۔۔۔ شاباش میرے ساتھ نیچے چلو ۔۔۔ عالم خان کے سمجھانے پر وہ اٹھی اور اسے سہارا دے کر وہ نیچے لے ایا ۔۔۔
ربیعہ نے ایک نظر اپنی معصوم نند کو دیکھا جس کی عمر صرف اکیس سال تھی ۔۔۔ پر اسنے اتنے دکھ دیکھے تھے کہ بڑی حویلی کے مرد مسکرانا بھول گۓ تھے ۔۔۔ اکلوتی بیٹی کا دکھ اتنا بڑا جو تھا ۔۔۔ کانچ جیسی نازک سی گڑیا لگتی تھی زونی , ربیعہ کو , اس کا حسن حوروں کو مات دے , اکثر سب کہتے تھے اور ربیعہ بھی ایسا سوچتی تھی ۔۔۔ سرخ سفید رنگت اس پر نیلی آنکھیں اس حسن کو بڑھاتیں تھیں ۔۔۔ ویسے بھی پٹھانوں کو خدا نے بےپناہ حسن سے نوازا ہے پھر عورت ہوں یا مرد ۔۔۔
عالم اسے خود سے لگاۓ کمرے تک چھوڑنے گیا ۔۔۔
“شکریہ بھائی , اپ میرا ساتھ کبھی نہ چھوڑنا پلیز ۔۔۔ زونی نے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا اپنے بھائی کا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔ وہ جو سب کے ساتھ سختی سے پیش اتا تھا اپنی چھوٹی بہن کے لیۓ بلکل موم جیسا نرم مزاج رکھتا تھا ۔۔۔
“میری گڑیا یہ تمہارا بھائی ہمیشہ تمہارے ساتھ ہے اور رہے گا فکر نہ کرو ۔۔۔ اور ہاں ایک اور بات ۔۔۔ عالم خان نے نرم لہجے میں کہا ۔۔۔
“تم بڑی حویلی نہیں جاؤگی , بس یہیں رہنا تم ۔۔۔ اتنا کافی ہوگا دادا حضور کے لیۓ ۔۔۔ عالم خان نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔
“اگر بڑی حویلی والے آئیں گے , مجھے نہیں ملنا ان سے ۔۔۔ زونی نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔
“جیسا تم چاہوگی بلکل ویسا ہوگا ۔۔۔ اب ارام کرو تم ۔۔۔ ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ عالم خان نے اسے یقین دہائی کروائی ۔۔۔ وہ اپنے بھائی کا ضبط سے لال پڑتا چہرہ دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
عالم اتنا کہتا ہوا چلا گیا ۔۔۔ وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
@@@@@@@@
“میں نے منع کیا تھا روشانے کو باہر پارٹی میں جانے سے تم نے روکا کیوں نہیں ۔۔۔ نوروز خان نے اپنی انگریز نین نقوش سنہری باب کٹ بالوں والی بیوی سبین سے کہا ۔۔۔
“میں نے بہت روکا تھا پاپا ۔۔۔ شانزے نے جلدی سے صفائی دی اپنے باپ کو ۔۔۔
“شانزے تم چپ کرو ۔۔۔ میں تمہاری ماں سے پوچھ رہا ہوں , سبین تم بتاؤ ۔۔۔ تم نے اسے روکا یا نہیں ۔۔۔ نوروز خان نے سخت لہجے میں بازپرس کی ۔۔۔ جس پر سبین گڑبڑائیں تھیں ۔۔۔ جو شوہر ایک عرصہ کبھی اس کے سامنے بول نہ سکا تھا اب ایک حادثے کے بعد سخت شوہر اور سخت باپ کا روپ دھار چکا تھا ۔۔۔
“وہ کسی کی سنتی کب ہے ۔۔۔ سبین خان نے نظر چراتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“میں نے پوچھا تم نے روکا تھا یا نہیں ۔۔۔ بوروز خان نے سخت لہجے میں کہا ۔۔۔
“میں نے نہیں روکا , میں باہر تھی , شانزے نے روکا تھا ۔۔۔ اب کے سبین نے تسلیم کی اہنی غلطی ۔۔۔
“تو یہ کہو نا کہ تم خود ایک پارٹی میں گئی ہوئی تھی ۔۔۔ تم سدھر جاتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔۔۔ ساری غلطی تمہاری ہے ۔۔۔ میرے کسی اولاد کی اچھی پرورش نہ کرسکی تم سواۓ شانزے کے جسے میں اپنی آغوش نہ لیتا تو یقینن اج یہ بھی اپنے دونوں بھائی بہن جیسے نقش قدم پر چل رہی ہوتی ۔۔۔ نوروز خان کے لہجے میں غصہ اور دکھ دونوں تھا ۔۔۔
“اب اپ زیادتی کررہے ہیں نوروز خان ۔۔۔ سبین نے دکھ سے کہا ۔۔۔
“زیادتی پر تم اور تمہارا بیٹا ہیں جنہوں نے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ چھوڑا مجھے ۔۔۔ اور تم کہتی ہو زیادتی تمہارے ساتھ میں کررہا ہوں ۔۔۔ نوروز خان نے تیش میں کہا جبکہ شانزے آنسو بھری آنکھوں سے یہ جگھڑا سن رہی تھی ۔۔۔
“میں نے کیا , کیا ہے , جو کیا اس نے اپنی مرضی سے کیا ہے ۔۔۔ اور ویسے بھی جیسا باپ ویسا بیٹا ہوتا ہے , میری بات یاد رکھیۓ گا نوروز خان ۔۔۔ سبین کہنے پر آئی تو نوروز خان کو ان کی برسون پرانی زیادتی کا طعنہ مارگئی ۔۔۔
سبین اتنا کہے کر پاؤں پٹختی ہوئی چلی گئیں ۔۔۔ شانزے اور نوروز ان کو جاتا ہوا دیکھنے لگے ۔۔۔
@@@@@@@@
“کیا ہوا اج کچھ پریشان لگ رہی ہو شان ۔۔۔ حنین نے روشانے کا ہاتھ تھامنے کے لیۓ ہاتھ بڑھاتے ہوۓ کہا ۔۔۔ اپنے ہاتھ کو جلدی سے ہٹاکر وہ گود میں رکھ چکی تھی اور بولی ۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں آئی ایم اوکے ۔۔۔ نو پرابلم ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔ کچھ پریشان تھی پر حنین سے چھپارہی تھی جس کا اندازہ حنین کو ہورہا تھا ۔۔
“اچھا چھوڑو , بسس اتنا بتاؤ , تمہارے پاپا نے ہماری ملاقات کا ذکر کیا کہ میں تم سے شادی کی خواہش رکھتا ہوں ۔۔۔ ان سے بات کی ہے میں نے ۔۔۔ حنین نے بتایا اپنی تین دن پہلے والی ملاقات کا جو نوروز خان سے ہوئی تھی ۔۔۔
“واٹ تم نے پاپا سے کہا ۔۔۔ شان کا حیران ہونا بجا تھا اسے امید نہ تھی حنین ایک ملاقات میں اس کے پاپا سے پرپوزل کی بھی بات کرلے گا ۔۔۔
“یسس آفکورس ۔۔۔حنین نے کہا ۔۔۔ شان شاک ہی تو ہوئی تھی حنین کی بات سن کر ۔۔۔
“آۓ کانٹ بلیوو دس , پاپا نے ایک لفظ کا ذکر نہ کیا , نہ مجھ سے نہ گھر میں کسی اور سے ۔۔۔ اب کے سہی معنوں میں روشانے چونکی ۔۔۔ حنین حیران ہوا اس کے ریکشن پر ۔۔۔
“آۓ تھنک کنفرم کچھ گڑبڑ ہے ۔۔۔ روشانے نے سوچتے ہوۓ کہا اس کی چھٹی حس کا اشارہ تھا ۔۔۔ حنین اس کے سنہری رنگت والے چہرے کو دیکھتا رہ گیا ۔۔۔ روشانے عرف شان اس وقت بار میں بیٹھی سوفٹ ڈرنک سے لطف اندوز ہورہی تھی ۔۔۔ یہاں اس کی یونی فیلو نے پارٹی رکھی تھی ۔۔۔ یہاں ان کا پورا گروپ موجود تھا ۔۔۔ ان کے گروپ میں چار لڑکے چار لڑکیاں تھیں ۔۔۔ شان اور حنین کو کپل کی حیثیت حاصل تھی ۔۔۔
“شان یہ تم کیسے کہے سکتی ہو ۔۔۔ حنین نے کہا ۔۔۔
“پاپا کی چپ اور ہم سب کا پاکستان کا پروگرام , کچھ گڑبڑ ضرور ہے , اس شانزے پاپا کی چمچی سے پوچھنا پڑے گا ۔۔۔ شان نے پرسوچ انداز میں کہا ۔۔۔
“پاکستان کیوں خیریت میں ۔۔۔ حنین نے پوچھا ۔۔۔
“ہمارے دادا حضور کی خواہش ہے , شانزے بتارہی تھی ۔۔۔ شان نے کہا ۔۔۔
“تو تمہیں جانا چاہیۓ کچھ پاپا کی مانو اور پھر کچھ اپنی منواؤ , یہی اصول ہے کچھ مانو پھر کچھ منواؤ۔۔۔ حنین نے کہا ۔۔۔
“حنین تم ایسا کہے رہے ہو ۔۔۔ شان نے تصدیق چاہی ۔۔۔
“ہاں بلکل , تمہیں جانا چاہیۓ اپنے خاندان سے ملو , پاپا بھی خوش اور تم بھی خوش پھر اپنی منوانا ۔۔۔ حنین نے آئیڈیا دیا ۔۔۔
“تمہارے بغیر کیسے رہوں گی اس گاؤں میں ۔۔۔ شان نے اپنا مسئلہ بتایا ۔۔۔
“کچھ وقت کی بات ہے پھر ساتھ ہی ہونگے ۔۔۔ حنین نے کہا ۔۔
پھر کافی سمجھانے کے بعد حنین اسے راضی کرچکا تھا پاکستان جانے کے لیۓ ۔۔۔ اب وہ کچھ مطئمن ہوئی تھی حنین کے سمجھانے پر ۔۔۔ اس دوران گھر سے کالز اتیں رہیں کچھ کالز کاٹنے کے بعد وہ سائیلینٹ پر کرگئی فون کو ۔۔۔
@@@@@@@@@
شانزے اسٹڈی کا دروازہ ناک کرکے اندر اگئی جہاں نوروز خان آنکھوں میں نمی لیۓ کچھ تصویریں دیکھ رہے تھے ۔۔۔ شانزے کو تکلیف ہوئی اپنے باپ کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر ۔۔۔ نرمی سے اپنے باپ کی آنکھوں کی نمی صاف کی جو گالوں پر آئی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ ان کے سامنے دوزانو بیٹھ چکی تھی ۔۔۔
وہ باپ جو ان کا باپ کم بڑا بھائی زیادہ لگتا تھا کیونکہ نوروز خان نے خود کو کافی مینٹین رکھا ہوا تھا ۔۔۔ آج جانے کیوں شانزے کو وہ بوڑھے لگ رہے تھے ۔۔۔ وہ تصویروں پر ہاتھ پھیر رہے تھے ۔۔۔
“پلیز پاپا کھانا کھالیں ۔۔۔ شانزے نے کہا ۔۔۔
“مجھے بھوک نہیں تم کھالو … انہوں نے کہا اور یاد انے پر پوچھا ۔۔۔
” روشانے آئی ۔۔۔
“نہیں پاپا , میری کال نہیں اٹھارہی ۔۔۔ شانزے نے بتایا ۔۔۔
“جانتا ہوں بلاکی ضدی ہے ۔۔۔ نہیں اٹھائے گی ہماری کالز ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔
“ایک کام کہا تھا تم سے شانزے ۔۔۔ وہ پاکستان جانے کے لیۓ مانی ۔۔۔ نوروز خان نے پوچھا شانزے سے ۔۔۔
شانزے ان کو بےبسی سے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
