Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

ناول … عید اپنوں کے سنگ

ازقلم …. صبا مغل

قسط نمبر 12

“اتنی بھی جلدی کیا ہے واشروم جانے کی پہلے تمہیں خراج تحسین تو پیش کرلوں روشانے بیگم ۔۔۔ اسے بیڈ پر پٹخا اور خود شیروانی کے بٹن کھولنے لگا ۔۔۔۔ شیروانی اتار کر صوفے پر پھینکی ۔۔۔ اب بلیک قمیص پر بلیک اسٹریٹ پنجامہ پہنے ہوۓ تھا ۔۔۔

“نہیں پلیز ۔۔۔ عالم خان ۔۔۔ وہ تڑپ کر بولی ۔۔۔ مرد کی اس زیادتی کے شدید خلاف تھی وہ اور اج خود کے ساتھ یہ سب ہونے لگا شادی کے نام پر , یہ اس کی برداش سے باہر تھا ۔۔۔ بیڈ پر بکھرا زیور اس چبھنے لگا ۔۔۔ وہ اٹھ بیٹھی ۔۔۔

منٹوں میں اس کا کانفیڈینس اڑنچوھ ہوچکا تھا وہ ایک عام لڑکی ہی بن گئی تھی ساری بولڈنیس عالم خان کے سامنے مدہم پڑگئی تھی ۔۔۔

وہ زبان سے تسلیم نہ بھی کرتی پر اس کا دل تسلیم کرچکا تھا وہ اس کے جسم پر پورا حق رکھتا ہے ۔۔۔ وہ چاہے جس طرح بھی وصول کرے کبھی کوئی مرد شرمندہ نہیں ہوتا اس پر جبکہ دوسری طرف بیوی اس سب کے بعد اپنا اعتماد کھو دیتی اور کبھی خود سے نظر نہیں ملاپاتی ۔۔۔ وہ ایسا کچھ ہونے سے ڈرتی تھی ہاں وہ ڈر گئی تھی اس مرد کی مردانگی سے , اس کے اندر خوف بیٹھ چکا تھا , دل ہی دل میں وہ اعتراف کرچکی تھی وہ اپنی کمزوری کا , جب کی مرد کی مردانگی کی بات آۓ عورت اس کے مقابل سدا کمزور رہی ہے ۔۔۔

“روشانے تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے انے سے پہلے اس زیور کو اتارنے کی , چلو شاباش پہلے پہنو سارا زیور پھر رونمائی دوں ورنہ ایسی اجڑی ہوئی دلہن کو عالم خان کیا خراج تحسین پیش کرے ۔۔۔ عالم خان کی اس عجیب غریب فرمائش پر وہ حیران ہوئی پر زیادہ غور اور فکر کرنے کے بجاۓ اس کے کہے پر عمل کرنے لگی ۔۔۔ جلدی جلدی زیور پہننے لگی ۔۔۔ دوپٹہ سر پر لیا جو بداحتیاطی کی کندھوں پر تھا اور بیٹھ گئی ۔۔۔

اب کے وہ اس کی ٹھوڑی اوپر کرتا ہوا بولا ۔۔۔

“شاباش روشانے , تمہارے سدھرنے کے کچھ چانسسز ابھی بھی ہیں , جانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے ۔۔۔ وہ اس کی ٹھوڑی کو مضبوطی سے تھامتا چہرہ اوپر کو اٹھاتا آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہوا پوچھ رہا تھا ۔۔

“کیا واقعی بغیر کسی عملی کاروائی تم سدھر سکتی ہو یا نہیں ۔۔۔ عالم خان نے سوالیہ نظروں سے اس کی آنکھوں میں جھانکا ۔۔۔

“ہاں ۔۔۔ جیسا کہوگے کروں گی پر یہ سب مت کرو , مجھے میری نظروں میں نہ گراؤ , پلیز ۔۔۔ وہ آنسو اندر ہی اندر گرانے کے لیۓ اپنی پلکون کو جھپکتی معصوم سی گڑیا لگی عالم خان کو بےبسی سے بولتی آخر لفظوں میں التجہ کرنے لگی ۔۔۔

“ہمممم …. صبح شرافت سے زونی اور ربیعہ بھابھی سے معافی مانگوگی ۔۔۔ عالم خان ابھی بھی اس کی ٹھوڑی تھامے آنکھوں میں جھانک کر تاعید چاہی ۔۔۔

“ہاں ہاں بلکل مانگوں گی ۔۔۔ وہ جلدی سے بولی ۔۔۔

“گڈ فرمانبردار بیوی بن کر رہو گی یہی تمہارے لیۓ اچھا ہوگا اور تمہاری مرضی کو اہمیت دی جاۓ گی ورنہ دوسری صورت تمہیں تمہارے لیۓ عبرت کا نشان بنادوں گا میں , سمجھی ۔۔۔ عالم اس کی تھوڑءی چھوڑ کر بولا تھا ۔۔۔

“جی جی ۔۔۔ روشانے جلدی سے بولی ۔۔۔

“گڈ ۔۔۔ وہ تعریفی انداز میں بولا ۔۔۔

وہ اس کی تھوڑی چھوڑ چکا تھا اب اس کا زیور اتارنے لگا ۔۔۔

“میں اتاروں دوں گی ۔۔۔ وہ دھیمے لہجے میں نظریں جھکاتی ہوئی بولی ۔۔

اور پھر یوں ہوا کہ تم کچھ ایسے الفاظ کہہ گئے

کہ مجھے بولتی ہوٸی کو چپ سی لگ گئ

“اف روشانے مجھے شاک میں ماروگی ایسی تابعداری پر صدقے نہ جاؤں ۔۔۔ عالم خان کے کہے لفظوں پر وہ ضبط کرگئی ۔۔

اس کی بھرپور مدد کررہا تھا زیور اتارنے میں اس کے ہر اک لمس پر وہ کانپ جاتی ۔۔۔ اسے خوف تھا کہیں وہ اپنی بات سے پھر نہ جاۓ اور اس پر اپنا حق جتانا نہ شروع کردے ۔۔۔

وہ خود کو ہلکہ پھلکہ محسوس کرنے لگی وہ اس کا ہاتھ تھامتا شیشے کے سامنے لے ایا ۔۔۔ دوپٹے کی پنس کھلنے کی وجہ سے بھاری چولی کا گلہ نیچے کی طرف جھک گیا ۔۔۔ جس سے اس کا جسم نمایاں ہوا ۔۔۔ اس نے جلدی سے اگے گلے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔

جس پر عالم نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ہٹا دیا ۔۔

“جانتی ہو, میں تمہارا شوہر ہوں , تم میرا لباس ہو اور میں تمہارا لباس ہوں , اگر شرم تم دنیا کے اور مردوں سے کرو زیادہ بہتر رہے گا , تمہارے حق میں ۔۔۔ عالم خان سکون سے بولا تھا ۔۔۔

اس کی بات پر وہ نظر جھکاگئی دوبارہ ہاتھ نہ رکھ سکی گلے پر ۔۔۔ عالم اس کے گلے میں نازک سی چین پہنائی جس پر دودل بنے تھے جو ایک ہاتھ میں تھامے ہوۓ تھے جس کے نیچے تین چینس لٹکی تھیں ہر اک چین کے آخر میں ایک ڈائمنڈ لگا تھا ۔۔۔

“یہ تمہاری رونمائی کا تحفہ ہے کل سب کا یہی پہلا سوال ہوگا اس لیۓ کچھ دنوں تک اتاروگی نہیں اسے ۔۔۔۔ عالم خان نے نرم لہجے میں کہا ۔۔۔ کچھ دیر پہلے والی سختی کا شائبہ تک نہ تھا اس کے چہرے پر , روشانے حیران تھی اس شخص پر جو پل پل رنگ بدلتا ہے جو اس کی سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔

“جی ۔۔۔ وہ آہستہ سے بولی ۔۔۔

“اوکے تم چینج کرو ۔۔۔

عالم نے اس کی طرف نائیٹی بڑھائی ۔۔۔ “تمہیں اسی طرح کے کپڑوں میں کمفرٹ ہوتی ہے اور ایسا لباس تمہیں پسند جو ہے ۔۔۔ اس کا انداز سراسر چڑانے والا تھا ۔۔۔

“بلکل نہیں ۔۔۔ روشانے شدت سے بولی تھی ۔۔۔ وہ سادہ شلوار قمیص اٹھاکر واشروم کی طرف بھاگی ۔۔۔ اس کی بےباکی پر وہ اچھی خاصی شرمندہ ہوئی تھی ۔۔۔

“سنبھل کر گرجاؤگی ۔۔۔ عالم خان نے کہا ہنستے ہوۓ ۔۔۔

پر وہ ان سنی کرتی واشروم میں بند ہوگئی ۔۔۔

عالم خان کو ہنسی آئی اور نائیٹی کو واپس الماری میں رکھتے ہوۓ بولا ۔۔۔

“تمہیں بھی کبھی پہنے گی میری بیوی صرف میرے لیۓ ۔۔۔ فی الحال تمہارا وقت نہیں ایا ابھی ۔۔۔

کافی دیر بعد وہ آئی تھی کمرے میں , روشانے نے جان بوجھ کر دیر لگائی تھی واشروم میں ۔۔۔۔ عالم خان کو بیڈ پر سوتا پاکر وہ پرسکون ہوئی ۔۔۔ سارا زیور سمیٹ کر اس نے ڈریسنگ پر رکھا ہوا تھا ۔۔۔

صبح اس کے سامنے شرمندگی نہ ہو اس لیۓ پہلے سے اس نے ایک شلوار قمیص نکال کر ہینگ کردیا جہاں عالم خان کے الریڈی ایک دو ڈریس ہینگ کیۓ ہوۓ تھے ۔۔۔

جیسا اس نے سوچا تھا بلکل وہی ہوا تھا الماری میں زیادہ تر وہی ڈریس ہینگ کیۓ ہوۓ تھے جو اس نے مناہل کو پسند کرواۓ تھے ۔۔۔ اس کی ساری ڈرامے بازی اس کے سمجھ میں اچکی تھی ۔۔۔

وہ پرسکون ہوکر بیڈ کے ایک سائیڈ سوگئی ۔۔ پورے دن کی تھکن سوار تھی اس نے عالم کی طرف دیکھا جو پرسکون ہوکر سورہا تھا, لمحوں میں اسے نیند انا شروع ہوئی اور پرسکون ہوکر وہ بھی سوچکی تھی ۔۔۔۔

@@@@@@@@@

صبح بھرپور انگڑائی لے کر مناہل اٹھی ۔۔۔ سامنے صوفے پر دائم کو بیٹھا دیکھ کر اسے اچھی خاصی شرمندگی ہوئی ۔۔۔

دائم ہنسی دباتا ہوا دوبارہ اخبار دیکھنے میں مصروف ہوا ۔۔۔

وہ جلدی اپنا ڈریس نکال کر واشروم میں گئی ۔۔۔۔ کچھ دیر میں وہ فریش ہوکر آئی , ابھی بھی دائم وہیں بیٹھا تھا ۔۔۔ وہ مکمل اسے اگنور کرکے تیار ہورہی تھی ۔۔۔

“مناہل ۔۔۔
اس سے پہلے وہ کمرے سے نکل جاتی دائم نے پکارا وہ پلٹی اور سوالیہ انداز میں کہا ۔۔۔

“جی ۔۔۔

“ادھر آئیں ۔۔۔ دائم کے بلانے پر مرتی نہ مرتی , مرے قدمون سے واپس پلٹی صوفے کی طرف انے لگی جہاں وہ بیٹھا تھا ۔۔۔

ْ”جی کہیں ۔۔۔ دھیمے لہجے میں بولی تھی ۔۔۔

“یہ آپ کی رونمائی ۔۔۔ باکس دائم نے بڑھایا ۔۔۔ جسے اس نے جلدی سے تھام کر ۔۔۔

“تھینکس ۔۔۔ اس نے کہا ۔۔۔ اور ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔ واپس باہر کی طرف جانے لگی ۔۔۔

“یہ رکھنے کے لیۓ نہیں دیا گیا غالباً ۔۔۔ دائم کے لہجے میں ذرہ سا طنز کا عنصر آہی گیا کیونکہ کب سے وہ مسلسل اگنور کرتی آئی تھی ۔۔۔

“جی میں سمجھی نہیں , مجھے اذان کی فکر ہورہی جلدی باہر چلیں شاید اگیا ہو رات بھر بےچین رہا ہوگا میرا دل کہتا ہے ۔۔۔ مناہل کچھ لفظ تیز کہے پھر کچھ لفظ آہستہ آہستہ خود سے کہنے لگی ۔۔۔

اس کی بےچینی اور بےتابی دیکھنے کے لائق تھی ۔۔۔ دائم عجیب احساسات میں گھرا ہوا خود کو محسوس کرنے لگا ۔۔۔

“ایمن تمہاری محبت ایسی ہے اگر تم مجھ سے زیادہ ہماری اولاد کو توجہ دو تو شاید میں عدم اعتماد کا شکار ہوجاؤں , میں اپنی محبت میں شراکت بلکل برداش نہیں کرسکتا یار کیا کروں ۔۔۔ دائم بےبسی سے کہتا اور ایمن کھل کھلا اٹھتی ۔۔۔

“تم کچھ مت کرو , سب مجھ پر چھوڑدو دائم خان , میں اتنا پیار دوں گی تمہیں کہ تمہیں تھکا دوں گی , اپنی اولاد سے جیلس نہ ہونگے کبھی ۔۔۔ ایمن لاڈ سے کہتی تھی ۔۔۔

“تمہاری محبت اور تھکادے ناممکن , میری طلب اور بڑھا دے گی تمہاری محبت , نشہ سی ہے تمہاری محبت ۔۔۔ دائم شدت جذبات سے کہتا ۔۔۔

وہ خیالوں سے نکل کر اٹھا اور باکس اٹھاکر کنگن نکالے اور اس کا ہاتھ تھاما وہ چھڑانے لگی ۔۔۔

“میں پہن لوں گی دائم بھ۔۔۔ ایک دم اس نے زبان کو بریک لگائی , دائم کو اچھی خاصی بےعزتی محسوس ہوئی اور جلدی سے اس کی دونوں کلائیوں میں کنگن پہنا گیا ۔۔۔

“یہ تمہاری رونمائی ہے مناہل , کمرے سے باہر نکلتے ہی یہی پہلا سوال ہوگا پلیز کچھ خیال کرلو تمہارا اس طرح کا بہیورر مجھے اور تمہیں دونوں کو شرمندہ کرواۓ گا باہر ۔۔۔ دائم نے سمجھاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔

“سوری ۔۔۔ مناہل نے آہستہ سے کہا ۔۔۔

“کوئی بات نہیں , پہلی صبح ہے ہمیں ساتھ کمرے سے باہر نکلنا چاہیۓ اس لیۓ تمہارا ویٹ کرتا رہا کل کی اخبار ہی دیکھ رہا تھا اور تم بغیر میرے باہر جارہی تھی ۔۔۔ دائم نے اسے بتایا ۔۔۔

“مجھ سے یہ سب فارمیلٹیز نہیں ہوتیں پلیز مجھ سے امید نہ رکھیں ۔۔۔ چلیں اب ۔۔۔ مناہل کے دوٹوک انداز پر حیران ہوا ۔۔۔ فی الحال خاموشی میں عافیت جان کر چپ ہوا اور باقی کا سمجھانا کسی اور وقت کے لیۓ اٹھا رکھا تھا ۔۔۔

دونوں ایک ساتھ باہر آۓ تھے دن کے گیارہ بج گۓ تھے ۔۔۔ سب سے دونوں ملے , ابھی تک عالم اور روشانے ڈائینگ پر نہیں آۓ تھے ۔۔۔ گل خانم کی گود میں اذان کو دیکھ کر اسے تھام لیا ۔۔۔ ایسے لگا جیسے دو بچھڑے یار ملے ہوں مناہل کی خوشی اور اذان کی قلقاریاں دیکھنے لائق تھیں ۔۔۔ وہ اسے چومے جارہی تھی ۔۔۔

سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔

زونی اور شانزے ناشتہ لائیں تھیں کیونکہ بڑی حویلی کی دونوں بیٹیوں کا پہلا ناشتہ میکے سے انا تھا ۔۔۔ یہ چھوٹی حویلی کا مین ڈائینگ تھا جو دونوں پورشنز کو جوڑتا بھی تھا ۔۔۔۔ اس وقت سب موجود تھے سواۓ روشانے اور عالم کے ۔۔۔

“میرا خیال ہے ناشتہ ٹھنڈا ہورہا ہے عالم کے کمرے کے دروازے پر کھٹکھٹانا چاہیۓ ۔۔۔ پروین خان نے کہا ۔۔۔

“ہہہممم ۔۔۔ بھروز خان نے کہا ۔۔۔

“جاؤ ربیعہ بلا کر آؤ ۔۔۔ بھروز خان نے اپنی چھوٹی بہو کو حکم دیا ۔۔۔

“باباجان بھابھی کو رہنے دین , میں اور شانزے بلانے اتے ہیں ۔۔۔ زونی نے کہا کیونکہ ربیعہ امید سے تھی اسے زحمت سے بچانا چاہ رہی تھی زونی ۔۔۔

“ہممم ٹھیک ہے جاؤ بلا آؤ ۔۔۔ بھروز خان نے کہا ۔۔۔

مناہل سب سے پیار لینے کے بعد اذان کو گود میں لیۓ سائیڈ پر بیٹھ گئی جبکہ دائم اور عمر اپنی گفتگو میں لگ گۓ ۔۔۔

@@@@@@@

“روشانے اٹھو ۔۔۔ عیان تھک گیا تھا اس کے جاگنے کا انتظار کرتے ہوۓ بالاخر اسے جھنجھوڑ کر اٹھایا ۔۔۔

“شانزے سونے بھی دو ۔۔۔ وہ گہری نیند میں بولی تھی ۔۔۔ وہ حیران ہوا اس کی اتنی گہری نیند پر ۔۔

“ایکسکیوز می , ہوش کرو شوہر ہوں تمہارا , تمہاری بہن نہیں ۔۔ عالم کے کرخت لہجے پر وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔

“سوری نیند میں پتا نہیں چلا , ہمیشہ شانزے اٹھاتی ہی ہے ۔۔۔ روشانے نے ایک بھرپور انگڑائی لی اور بال سمیٹتے ہوۓ کہا ۔۔۔

سنہری لٹین چہرے کو چھوتی نیلی آنکھوں میں نیند کا خمار لیۓ وہ لبون کو کاٹتی , عالم خان کا دل دھڑکا رہی تھی ۔۔۔ واقعی اس کا حسن بےمثال لگا عالم خان کو ۔۔۔

عالم خان کی موجودگی کا احساس ہوا تو جلدی سے سیدھی ہوئی ۔۔۔ اس کا مبہوت ہوکر دیکھنا اسے الجھا گیا ۔۔۔

جلدی سے بیڈ سے اٹھی اور واشروم کی طرف جانے لگی ۔۔۔

عالم خان نے بیچ میں اکر روکا ۔۔۔ اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔

“صبح کو اٹھ کر سلام کی عادت ڈالو خود میں , صبح کمرے سے باہر نکلو بڑوں کو ضرور سلام کرنا چاہیۓ ۔۔۔ عالم کے حکم کو اس نے دانت پیس کر سنا پر ضبط کرتے ہوۓ بولی ۔۔

“جی جی السلام علیکم ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔ اس کے چہرے کا تاثر عجیب تھا ۔۔۔

“ہممم واعلیکم سلام ۔۔۔ یاد ہے نا جو رات میں طے ہوا تھا ہمارے بیچ ۔۔۔ عالم نے یاد دہانی کروائی ۔۔۔

“ہممم یاد ہے ۔۔۔ روشانے بولی ۔۔۔

یاد انے پر کپڑے اٹھاتی واشروم گئی جلدی سے ۔۔۔

“جلدی انا زونی اور شانزے بلانے آئی تھیں ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔

“جی ٹھیک ہے ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔

وہ جلدی فریش ہوکر آئی ۔۔۔ سمپل ڈریس میں بھی وہ پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔

“کچھ جیلوری پہن لو روشانے ۔۔۔ عالم نے یاد دلایا ۔۔۔ اس کے یاد دلانے پر اسے پہننی پڑی جیولری ۔۔۔ ہاتھوں میں کنگن پہنے تو عالم نے رنگس بڑھائیں جسے بھی اس نے پہن لیۓ ۔۔۔

اسے یہ جیولری اضافی بوجھ لگ رہیں تھیں پر مجبوری سمجھ کر پہن لی ۔۔۔

“عالم خان عجیب مصیبت ہے اب تم ہی سب سکھاؤگے اپنی بیوی کو ۔۔۔ عالم نے سوچا روشانے کو دیکھتے ہوۓ ۔۔۔

روشانے باہر نکلنے لگی تو عالم نے کہا “دوپٹہ تو پہن لو ۔۔۔

اسے اپنی بےوقوفی پر شرمندگی ہوئی ۔۔

“سوری میرے ذہن سے نکل گیا۔۔۔ عالم کو حیرانگی ہوئی اس کی کہی بات پر ۔۔۔ جانے کیوں دل کو اتنا یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنا جلدی بدل سکتی ہے ۔۔۔

“میرا خیال ہے دوپٹے پر پن لگا لو تاکہ باہر ایسا کچھ نہ ہو ۔۔۔ عالم نے مشورہ دیا ۔۔۔

“مجھے دوپٹا پن اپ کرنا نہیں اتا ۔۔۔ روشانے نے ہونٹ سکوڑ کر اپنی پریشانی بتاتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“میرا خیال ہے زونی سے سیکھ لو ۔۔۔ ایک اور مشورہ اس کی طرف سے ایا ۔۔۔

“ہاں ٹھیک رہے گا ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔ وہ اسے بغور دیکھ رہا تھا تاکہ اس کے اندر کی کیفیت کا اندازہ لگا سکے ۔۔

“ہممم چلو ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔

یوں وہ دونوں باہر ایک ساتھ آۓ ۔۔۔ دونوں کو ساتھ دیکھ کر خوشی ہوئی بڑوں کو , خاص کر , روشانے کے لباس نے سب کو خوشی دی ۔۔۔ جس نے سر پر دوپٹا لیا ہوا تھا عالم کے کہنے کے بعد ۔۔۔

کسی کو امید نہ تھی وہ اس قدر نارمل ہوجاۓ گی وہ بھی اتنا جلدی ۔۔۔

@@@@@@@@

ناشتے کے بعد , مرد تو باہر نکل گۓ عورتیں سب ساتھ بیٹھیں تھیں ۔۔۔

عالم نے اسے جاتے ہوۓ کہا “کچھ دیر کے بعد وہ اسے بڑی حویلی لے کر چلے گا سب سے ملوانے ۔۔۔ جس پر اس نے اثبات میں سرہلایا ۔۔۔

دوسری طرف دائم نے دیکھا مناہل مکمل اذان میں مصروف تھی ۔۔۔ اسے دیکھ کر کوئی کہے ہی نہیں سکتا کل رات شادی ہوئی ہے اس کی ۔۔۔ سوچا تھا اس سے بات کرے اور بتاۓ شام کو پھپھو سے ملانے لے جاۓ گا اور اس کے ددھیال سے اس کے دادا دادی نے بھی کہا تھا ملوانے کے لیۓ ۔۔۔ پر مناہل کو خود سے اس قدر لاپرواہ دیکھ کر اس سے بولنے کا ارادہ ترک کرنا پڑا ۔۔۔

عالم خان اور روشانے پر ایک نظر ڈالتا اور دوسری نظر مناہل پر ڈال کر افسوس کرتا ہوا باہر نکل گیا چھوٹی حویلی کے مین گیٹ سے ۔۔۔

“مناہل تم سے بہتر تو روشانے بھابھی ہے ۔۔۔ دائم نے کلس کر سوچا ۔۔۔

@@@@@@@@@

روشانے نے رات کے رویۓ پر معافی مانگ لی تھی ربیعہ اور زونی سے ۔۔۔

دونوں نے خوشی سے معاف بھی کردیا ۔۔

کچھ دیر بعد وہ معذرت کرتی اٹھی تو شانزے بھی اس کے پیچھے اس کے روم کی طرف آئی اور بولی ۔۔۔

“شان آپی , پلیز مجھ سے تو بات کریں میری کوئی غلطی ہے تو معافی مانگتی ہوں پر مجھ سے ناراض نہ رہیں ۔۔۔ شانزے عاجزی سے بولی تھی ۔۔۔

“کیا فرق پڑتا ہے میری ناراضگی سے ۔۔. روشانے نے سوال کیا ۔۔۔ سرد پن تھا اس کے ہر انداز میں ۔۔۔

“آپی بہت پڑتا ہے , پلیز مان جائیں ۔۔۔ ناراض نہ رہیں مجھ سے ۔۔۔ شانزے نے منت بھرے لہجے میں کہا اور ہاتھ جوڑے اس کے اگے ۔۔ جسے نظر انداز کرکے روشانے بولی ۔۔

“جو تم لوگوں نے کیا ہے , کبھی تم میں سے کسی کو معاف نہیں کروں گی ۔۔۔ اصلی دشمنی تم لوگوں نے نبھائی ہے ۔۔۔ پاپا , مما , تم اور باذل بھائی کسی کو معاف نہیں کروں گی ۔۔۔ باذل بھائی بھی بھاگ گۓ جب میری مدد کا وقت ایا ۔۔۔ کسی کو کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔۔۔ تم سب میرے مجرم ہو میرے احساسات کے قاتل ہو ۔۔۔

اس کے ایسے لفظوں نے شانزے کا دل ہی چیر کر رکھ دیا وہ تڑپ اٹھی تھی اس کے لب و لہجے پر ۔۔۔

شانزہے تڑپ کر اس کے گلے لگی تو روشانے نے اسے بے دردی سے خود سے الگ کیا اور کہا “کب جا رہے ہو واپس آمریکا بتاؤ کب جا رہے ہو مجھے اس جہنم میں اکیلے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیۓ ۔۔۔

روشانے کے آنسو چھلک پڑے جسے بےدردی سے اس نے صاف کیا ۔۔۔

“آپی وہ ۔۔۔ وہ ۔۔۔ شانزے کی ہمت نہ تھی اس کے سوال کا جواب دے پاتی ۔۔

“مجھے دیکھو اور بتاؤ , یہ میں ہوں تمہاری روشانے آپی , کیا ایسی تھی میں , یہ زیور نہیں زنجیریں جس سے مجھے باندھا گیا , نہیں دکھتا میں مررہی ہوں میری گھٹن نظر نہیں ارہی , یہ میری خوشی نہیں , نہیں ہوں میں خوش ۔۔۔ جس شخص کے پاس تم لوگوں نے مجھے قید کیا ہے , اس نے مجھے زرخید غلام سمجھا ہوا میری مرضی نہیں اس کی ہی مرضی چلے گی ۔۔۔ اب میری سانسوں پر بھی وہی حاکم بن کر بیٹھا ہے ۔۔۔ اسے پتا ہے میرے اگے پیچھے کوئی نہیں کچرے کی طرح پھینکا ہے مجھے میرے ماں باپ نے اس پر ۔۔۔ یہ ذلت میرے نصیب میں لکھنے کا شکریہ کہے دینا ان لوگوں سے ۔۔۔ روشانے شدت سے کہے رہی اور آنسو اس کے بہے رہے تھے تو شانزے بھی روۓ جارہی تھی ۔۔۔

“آپی ایسے نہ کہیں , عالم بھائی نے کچھ غلط کیا ہے اپ کے ساتھ جو اتنا ہرٹ ہوئی ہیں , مجھے بتائیں ۔۔۔ پاپا کو بتاؤں گی میں , وہ بات کریں گے عالم بھائی سے ۔۔۔ شانزے نے تڑپ کر کہا ۔۔۔

“چپ ایک لفظ بھی عالم کے بارے مت کہنا , اس کی دی اذیت کم ہی ہے شاید , زیادہ درد مجھے ان اپنوں نے دیا ہے جو میرے اپنے کہلانے کے لائق نہیں تھے جنہیں اپنا سمجھتی رہی تھی میں ۔۔۔ روشانے نے شدت سے کہا ۔۔۔

“شانزے اگر ذرہ سی بھی مجھ سے محبت ہے تو جلدی امریکا واپس چلی جاؤ ورنہ تمہاری بھی زندگی خراب کردیں گے یہ لوگ ۔۔۔ روشانے کے لہجے میں اپنی پامالی کا دکھ بول رہا تھا ۔۔۔

“آپی ۔۔۔ شانزےحیرت کی شدت سے بولی تھی ۔۔۔

“چلی جاؤ شانزے اب مجھے کسی اپنے کی ضرورت نہیں , میرے پاس اکر مجھے اور تکلیف نہ دو , میرے حصے کے غم مجھے اکیلے ہی سہنے دو , جتنا تم لوگ یہ جھوٹی ہمدردی کروگے میرے زخم اور بڑھیں گے , مجھے میرے حال پر چھوڑدو خدا کا واسطہ ہے ۔۔۔ ہوسکے مجھے مردہ سمجھ کر مجھ پر فاتح پڑھ لو , مجھے زندہ دفن کرہی چکے ہو تم سب ۔۔۔۔ روشانے اتنا کہے کر اپنے کمرے میں بند ہوگئی ۔۔۔

شانزے دکھی ہوکر واپس پلٹ گئی ۔۔۔

“شانزے ۔۔۔

وہ چھوٹی حویلی سے نکل جاتی اچانک اپنے نام کی پکار پر رکنا پڑا ۔۔۔ پلٹ کر دیکھا عالم نے پکارا تھا ۔۔۔

“جی عالم بھائی ۔۔۔ شانزے نے نظر چرائی ۔۔۔

“کیا ہوا اس طرح جارہی تھی ۔۔۔ اس کے چہرے کا رنگ اڑا دیکھ کر اسے تشویش ہوئی تھی ۔۔۔

“وہ ایک کام یاد اگیا تھا ۔۔۔ شانزے نے بہانہ گڑھا تھا ۔۔۔

“آؤ میں تمہیں چھوڑ آؤں ۔۔۔ عالم نے پیار سے کہا ۔۔۔ شانزے اسے بلکل اپنی چھوٹی بہن کی طرح عزیز تھی ۔۔۔

“میں چلی جاؤں گی ۔۔۔ شانزے نے ٹالتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“کچھ ہوا ہے , مجھے لگا تم روشانے کے پاس بیٹھوگی ۔۔۔ عالم خان نے اپنے اندازے کے مطابق کہا ۔۔

“وہ وہ ۔۔۔ آپی کو آرام کرنا تھا , ان کو کمرے میں چھوڑ کر میں نکل آئی ۔۔۔ شانزے کی زبان میں لڑکھڑاہٹ اس کے جھوٹ کا پتا دے رہی تھی ۔۔

“سچ بتاؤ روشانے نے کیا کہا ہے تم سے ۔۔۔ جو اس قدر بوکھلا گئی ہو تم ۔۔ عالم خان نے اس مرتبہ صاف لفظوں میں پوچھا ۔۔۔

“کچھ نہیں , وہ ریلیکس ہیں یہاں ۔۔۔ شانزے نے جھوٹ سے کام لیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہیں پھر سے عالم بھائی ناراض نہ ہوں اس کی آپی سے ۔۔۔

“ہممم وہ اور ریلیکس , اچھی بات ہے ۔۔۔ عالم خان کے کہنے کے انداز پر شانزے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔

“آؤ چھوڑ آؤں تمہیں ۔۔۔ عالم خان کے کہنے پر وہ اس کے ساتھ مین گیٹ عبور کرگئی ۔۔۔

@@@@@@@@@

عالم اور روشانے بڑی حویلی جاچکے تھے جبکہ دائم کو زمینوں پر لیٹ ہوگئی تھی اس لیۓ وہ جلدی کمرے کی طرف جانے لگا تاکہ مناہل کو بڑی حویلی لے جاسکے , اسے یقین تھا سب وہاں مناہل کا انتظار کررہے ہونگے ۔۔۔

کمرے کا دروازہ کھلا تھا سامنے کا منظر دیکھ کر وہ حیران رہ گیا ۔۔۔

جاری ہے

۔