Rate this Novel
Episode 24
عید اپنوں کے سنگ
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 24
The Final truth …. part 3
“مجھے تم سے یہی امید تھی شان ۔۔۔ شکریہ ۔۔۔ کل ارہی ہو یونی ۔۔۔ حنین نے کہا ۔۔۔
“مشکل ہے پرسوں ضرور آؤں گی ۔۔۔ روشانے نے اپنے اندازے سے کہا ۔۔۔
“پھر اس نے فون رکھ دیا اور لیٹ گئی آرام کے لیۓ پر کسی صورت اسے آرام نہیں ارہا تھا ۔۔۔ دل بےانتہا بےچین تھا ۔۔۔
“جب فیصلہ ہوچکا ہے تو پھر یہ بےچینی کیوں ہے میرے اندر ۔۔۔ روشانے نے خود سے کہا ۔۔۔
@@@@@@@
اگلے دن شام کو روانگی تھی دانیال اور دائم کی گاؤں کے لیۓ ۔۔۔
آج لنچ سب ساتھ کررہے تھے ۔۔۔ ڈائننگ ٹیبل کی خاموشی کو دائم کی آواز نے توڑا ۔۔۔
“میرا خیال ہے , روشانے بھابھی اگر گاؤں چلیں گی تو زیادہ بہتر رہے گا ان کی صحت پر بھی اچھا اثر پڑے گا ۔۔۔
“نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں … روشانے نے جلدی سے کہا ۔۔۔
“میرا خیال ہے تمہیں گاؤں چلنا چاہیے کیونکہ یہی بہتر موقع ہے گاؤں کی شادی انجوائے کرنے کا , میری کزن کی شادی ہے تمہیں مزا آۓ گا ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔ زونی , دانیال اور عالم بغور اسے ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔
اس سے پہلے روشنی نے کچھ کہہتی عالم نے کہا ۔۔۔
“مجھے ایک دن کا کام ہے اسلام آباد میں وہاں سے کوہ مری لے جاؤں گا اسے گھمانے میرا خیال ہے یہ زیادہ بہتر رہے گا ۔۔۔ انجواۓ کا انجواۓ اور صحت بھی بہتر ہوجاۓ گی ۔۔۔ عالم کی بات پر سب حیران ہوۓ خاص کر دائم جسے پتا تھا عالم خان اس اینکاؤنٹر کی وجہ سے ڈیوٹی سے سسپینڈ تھا کچھ دنوں کے لیۓ ۔۔۔ عالم خان نے کسی پر ظاہر نہ کیا تھا اپنی پریشانیوں کو ۔۔۔
“واٹ , پر میری یونی ہے ۔۔۔ روشانے نے گھبرا کر کہا ۔۔۔
“ایک ویک کی بات ہے روشنی , کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔
“تو پھر زونی اور شمائل کو گاؤں لے جاتا ہوں ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔
“ہاں یہ بہتر رہے گا , میں ریلیکس ہوجاؤں گا ان کی طرف سے ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔
“پلیز عالم بھائی میرے سیمسٹر ہیں نیکسٹ منتھ سے تیاری بلکل نہیں ہوئی , پروجیکٹ کا بھی بہت کام رہتا ہے ۔۔۔ گاؤں میں بلکل پڑھائی نہیں ہوگی ۔۔۔ زونی نے اپنی پریشانی بتائی دانیال اچھی طرح جانتا تھا وہ اس سے بھاگ رہی ہے ۔۔۔
“جیسے تمہیں ٹھیک لگے ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔
“اس کا مطلب تم لوگ میری کزن کی شادی اٹینڈ نہیں کررہے ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔
“مجبوری ہے ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔
“شادی سے ایک دن پہلے ہم گاؤں اجائیں گے دائم بھائی ۔۔۔ زونی نے اپنا پروگرام بتایا ۔۔۔
“ہممم ٹھیک ہے ۔۔۔
“سوری یار ۔۔۔ عالم نے شانے اچکاتے ہوۓ کہا وہ جانتا تھا دائم لو سب کزنز کے ہونے سے مزا انا ہے پر اس کا جانا ضروری تھا اسلام آباد ۔۔۔
@@@@@@@@@
“ایک کپ کافی مل سکتی ہے ۔۔۔ دانیال نے کہا کچن میں کھڑی زونی سے ۔۔۔
“جی مل سکتی ہے , ملازمہ آپ کے روم میں دے جاۓ گی ۔۔۔ زونی نے مصروف انداز میں کہا ۔۔۔ اس وقت کچن میں کھڑی وہ اپنی بیٹی کے لیۓ سوجی کی کھیر بنارہی تھی جو شام کے وقت شمائیل کو کھلاتی ہے روز ۔۔۔ اپنی بیٹی کے زیادہ تر کام وہ خود ہی کرتی تھی ۔۔۔
“زونی کیا ہم دو منٹ بھی بیٹھ کر بات نہیں کرسکتے جو اس قدر مجھے اوائیڈ کررہی ہو ۔۔۔ دانیال نے یاسیت سے کہا ۔۔۔
“جی بلکل , اب تو بلکل نہیں کرسکتے جب آپ نے اتنی ہمت کرلی جو مجھے تنہا سمجھ کر عالم بھائی سے میرے لیۓ بات کی ۔۔۔ زونی نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑی تھی ۔۔۔
“تو تمہیں لگتا ہے میں نے غلط کیا یہ سب کرکے ۔۔۔ دانیال نے کہا ۔۔۔
“ہاں بلکل غلط کیا ۔۔۔ میں شادی شدہ ہوں , شرم آنی چاہیۓ تمہیں ایسی بات سوچتے ہوۓ بھی اور تم نے تو حد کردی میرے بھائی سے کہے بھی دی ۔۔۔ زونی نے غصے سے کہا وہ جو اپنی نرم طبیت کی وجہ سے مشہور تھی خاندان بھر میں آج سخت اور تند لہجے میں بات کررہی تھی ۔۔۔
“شرم کس بات کی , میں نے جو کہا ٹھیک کہا اور کیا ۔۔۔ باذل بھائی کے ساتھ تم ہوتی تو مجھے صبر اجاتا پر یوں بےرنگ اور بےرونق زندگی تمہیں گزارتے دیکھ کر اذیت محسوس کرتا ہوں میں ۔۔۔ مگنی کرلی آسٹریلیا جاکر دیکھ لیا , سب کرکے دیکھ لیا نہیں بھول سکا تمہیں , کیا کروں بتاؤ ۔۔۔ دانیال نے اپنی بے بسی بتائی , وہ اس کی طرف دیکھ رہا تھا جبکہ زونی منہ پھیر کے کھڑی تھی ۔۔۔
“تم نے مجھے اور میری بیٹی کو کیا سمجھ رکھا ہے جو اتنی گھٹیا بات کی ۔۔۔ ہمیں کسی کی ہمدردی اور ایثار کی ضرورت نہیں ہے اللہ کا شکر ہے میرا شوہر زندہ ہے , میں اس کی ہوں مرتے دم تک رہوں گی , سمجھے ۔۔۔ زونی نے کہا ۔۔۔
“ایسا شوہر جس کا اتا پتا نہیں جسے تمہاری بلکل پرواہ نہیں اس کا انتظار کرکے اپنی زندگی کیوں تباھ کررہی ہو ۔۔۔ بولو ۔۔ جو کچھ دن تھا تمہارے ساتھ پھر چلا گیا ,کہاں , کچھ پتا نہیں ۔۔۔ دانیال نے اسے ابھی کا حوالہ دہا باذل خان کا جو پھر اسے چھوڑ گیا تھا ۔۔۔
“یہ تمہارا سر درد نہیں , یہ ہماری آپس کی بات ہے ۔۔۔ زونی نے غراتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“اپنی زندگی ایک سراب کے پیچھے کیوں خراب کررہی ہو ۔۔۔ دانیال نے افسوس سے کہا ۔۔۔
“یہ بات تو میں آپ سے بھی کہے سکتی ہوں , میں بھی ایک سراب ہوں میرے پیچھے کیوں اپنی زندگی خراب کررہے ہو ۔۔۔۔ اگر باذل نے میرے ساتھ غلط کیا تو تم نے مناہل کے ساتھ غلط کیا ۔۔۔ مجھے افسوس ہوتا ہے کبھی تم میرے اچھے دوست ساتھی تھے , تم نے بہت غلط کیا مناہل کے ساتھ ۔۔۔ زونی نے افسوس سے کہا ۔۔
“ہممممم واقعی کبھی ہم اچھے دوست ساتھی تھے بچپن کے کھیل میں بچپن کی شرارتوں میں ۔۔۔ کہتے بچپن کی دوستی سچی اور انمول ہوتی ہے کیونکہ بغیر کسی غرض اور مطلب کے ہوتی ہے , جس نے کہا غلط کہا , اگر ایسا ہوتا تو تم مجھے سمجھتی زونی ۔۔۔۔ دانیال کے لہجے میں نمی تھی ۔۔۔
“اس میں سمجھنے جیسا کیا ہے جو میں سمجھوں ۔۔۔۔ مسٹر دانیال خان تم نے مجھ سے میرا دوست ساتھی میرا ہمراز سب چھین لیا , اتنی فضول بات کرکے ۔۔۔۔ زونی نے اپنا دکھ ظاہر کیا ۔۔۔
دونوں میں عمروں کا فرق کم تھا اس لیۓ دوستی بہت تھی ساتھ پل کر بڑے ہوۓ تھے انسیت تو ہوہی جاتی ہے , مناہل زونی اور دانیال کے کھیل اکثر ساتھ ہوتے تھے , مناہل کو جب تھوڑی سمجھ آئی اور اپنے معمولی ہونے کا احساس ہوا اور اوپر سے نا باپ نا بھائی اور ماں کی بیوگی نے اسے عجیب سی احساس کمتری میں مبتلا کردیا اور چپ چاپ وہ ان دونوں سے دور ہوگئی خاص کر دانیال سے کیونکہ وہ بچپنے میں اکثر اس کے سانولے رنگ کو کالا کہے کر چڑاتا یا پھر اپنی مامون زاد سحر اور سعدیہ سے مل کر اس کا مذاق اڑاتا جو مذاق میں مناہل کو کالی ماتا کہتے تھے ۔۔۔
پتا ہی نہیں چلا کس طرح مناہل ان سے الگ ہٹ کر اپنی دنیا بساگئی جبکہ دوسری طرف زونی جو خود میں مگن رہنے والی پڑھائی میں ہوشیار کھیلوں کی شوقین , دانیال کے ساتھ کھیلتی رہتی , درختوں کی ٹہنیوں پر چڑھنا , باغیچوں سے آم توڑ کر کھانا , انڈور گیمس آؤٹ ڈور گیمس سب دانیال کے ساتھ کھیلنے لگی ۔۔۔ ایسا نہیں تھا وہ مناہل کو بھول گۓ تھے وہ اسے ضرور بلاتے تھے ہر کھیل میں پر وہ نہیں آتی تھی کبھی سر درد, کبھی بخار جیسے بہانے کرتی تو کبھی سوتی بن جاتی ۔۔۔ مناہل اور زونی لڑکیاں تھیں تو ان کی دوستی رہ گئی پر کھیل کود کے لحاظ سے وہ جلد ہی زونی اور دانیال سے دور ہوگئی ۔۔۔ پھر کب دانیال زونی کے محبت میں گرفتار ہوا پتا ہی نہ چلا ۔۔۔ اس سے پہلے وہ سمجھتا زونی کی شادی ہوگئی حادثاتی طور پر , جب وہ چلی گئی لندن تب شدت پکڑلی تھی اس محبت نے ۔۔۔
اپنے دل میں مچلتا سوال اس نے اپنی ماں سے پوچھا بھی کہ اس کی شادی کیوں نہیں کروائی گئی زونی سے تو گل خانم نے بتایا کہ اس کی جان کو خطرہ نہ ہو شاہوں سے اس وجہ سے جبکہ باذل کے ساتھ باہر ملک چلے جانے سے زونی اور باذل دونوں کی جان کا خطرہ ٹل جانا تھا ۔۔۔
“میں نے جو کیا ٹھیک کیا , مناہل میرے ساتھ کبھی خوش نہ رہتی کیونکہ وہ میرے ہر رنگ روپ سے واقف تھی اگر مجھ سے کوئی کمی رہ جاتی اس رشتے کو نبھانے میں تو وہ ٹوٹ جاتی اس لیۓ اس رشتے کا ٹوٹ جانا ہی بہتر تھا ۔۔۔ جہاں تک تمہاری بات ہے تو میری بچپن کی محبت ہو تم جو بےاختیار ہے , جو تمہیں اکیلا تنہا دیکھ کر شدت پکڑ چکی ہے ۔۔۔ دانیال نے بےبسی سے کہا ۔۔۔
“تو تم بھی سن لو میرے لیۓ تم صرف دوست اور ساتھی تھے ۔۔۔ جب تھوڑی سمجھ آئی تو نکاح جیسے رشتے میں بندھ کر میں نے صرف اپنے شوہر سے محبت کی ہے ۔۔۔ تم جانتے ہو پٹھان عورت صرف ایک بار محبت کرتی ہے بار بار نہیں , میں اپنے حصے کی محبت کرچکی ہوں دانیال خان ۔۔۔ زونی نے شدت سے کہا ۔۔۔ اس کے ہر اک لفظ میں سچائی تھی ۔۔۔
“پٹھان مرد بھی ایک بار محبت کرتا ہے زونی , میں اپنے حصے کی کرچکا ہوں ۔۔۔۔ دانیال نے صاف گوئی سے کہا ۔۔۔
“جاؤ تم یہاں سے پھر کبھی میرے راستے میں نہ آنا اور نا کبھی میرے بھائی سے ایسی غلیظ بات کرنا ۔۔۔ مت پوچھو اس وقت مجھے کتنی اذیت اور تکلیف محسوس ہوئی جب عالم بھائی نے مجھ سے ایسی بات کی , اس کے لیۓ تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی اور نا ہی باذل خان کو جس کے نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے مجھے مالِ غنیمت سمجھ رکھا ۔۔۔۔ زونی دکھ اور افسوس سے جو منہ میں ایا کہتی چلی گئی جبکہ اس کے آخری لفظوں کو دانیال نے کاٹا اور ہا ۔۔۔
“بسسسس ایک اور لفظ مت کہنا ۔۔۔ دانیال نے تیز لہجے میں کہا ۔۔۔ اسے زونی کا یوں خود کو مال غنیمت کہنا شدید ناگوار گزرا تھا ۔۔۔۔ زونی حیرت سے سے اسے دیکھنے لگی جس کا ریکشن شدید تھا چہرہ سرخ ہوگیا تھا اور آنکھیں بھی لال ہوگئیں تھیں ۔۔۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ بولا ۔۔
“میری محبت کی اتنی توہین کرنے کی اجازت نہیں دوں گا تمہیں ۔۔۔ نہیں آؤن گا اج کے بعد کبھی تمہارے راستوں میں , جہاں رہو خوش آباد رہو ۔۔۔ وہ ساکت ہوکر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
جیوے سوہنیا جی چاہے کسی کا ہوکر جی
مانا کہ تو اب نہیں میرا
کبھی تو تھا میرا بھی
جیوے سوہنیا جی چاہے کسی کا ہوکر جی
“اور ہاں جس دن تم خوش آباد رہوگی اس دن کے بعد ۔۔۔۔دانیال کہتے کہتے چپ ہوا اور پھر عجیب لہجے میں بولا ۔۔۔
“تمہیں کچھ بھی کہنا بےکار ہے زونی کیونکہ ہر حال میں تمہیں میں ہی غلط لگوں گا ۔۔۔ بس پھر چپ ہوکر پلٹ گیا اور وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
دانیال نے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرتا ہوا لمبے ڈگ بھرتا کمرے میں چلاگیا ۔۔۔
ہستی بستی رہیں وہ راہیں جن پے چلتا توں
میری بھی گلیوں میں اتا جاتا تھا توں
آج بھی یاد ہے مجھے آہٹ تیرے قدموں کی
جیوے سوہنیا جی چاہے کسی کا ہوکر جی
کچھ دیر بعد ناک ہوا دانیال نے کہا “آجاؤ ۔۔۔ اسے لگا ملازمہ ہوگی کافی لے کر آئی ہوگی کپ کی آواز پر آنکھیں کھولیں اور سامنے زونی کو پاکر حیران ہوا ۔۔۔
“سوری زونی ۔۔۔ اور کچھ کہے نہ سکا وہ ۔۔۔
“اٹس اوکے , میری دعا ہے تم زندگی میں اگے بڑھو اور ہمیشہ خوش رہو , تم بہت اچھے ہو دانیال تمہیں تمہاری حصے کی خوشیاں ضرور ملیں ۔۔۔ میری یہی دعا ہے ۔۔۔ زونی نے سکون سے کہا جس کے چہرے کے تاثرات بلکل نارمل تھے , جس کے بعد دانیال کو بھی اپنے اعصاب ڈھیلے پڑتے ہوۓ محسوس ہوۓ ۔۔۔
“تھینک یو زونی ۔۔۔ دانیال نے تشکر سے کہا ۔۔۔ وہ ہلکی سی سمائیل پاس کرے پلٹ گئی ۔۔۔
کبھی کبھار سندیشہ دے دے کیا ہے تیرا حال
رت پردیسی رکھتی ہوں گی تیرا خیال
یہاں تیرے بن پتھجھڑ سا ہی ہر اک موسم ہی
جیوے سوہنیا جی چاہے کسی کا ہوکر جی
جانے کیوں ایک بار پھر دانیال کی آنکھیں نم ہونا شروع ہوئیں ۔۔۔
“جس دن تمہیں تمہارے حصے کی خوشیان ملیں گی اس دن میں بھی پرسکون ہوکر اپنی زندگی میں اگے بڑھ جاؤں گا زونی , ورنہ تب تک انتظار کرتا رہوں گا تمہارا ۔۔۔ یہ میرا خود سے وعدہ ہے ۔۔۔۔ دانیال نے خود سے کہے کر کافی کا کپ ہونٹوں سے لگایا ۔۔۔ ویسے بھی کچھ دیر میں گاؤں کے لیۓ نکلنا تھا اسے اور دائم کو ۔۔۔
@@@@@@@
جن کے ساتھ اتنا وقت گزرا ہو ان کو تکلیف دینا آسان نہیں ہوتا جس طرح ابھی وہ دانیال سے بات کر آئی تھی وہ ضروری تھا ۔۔۔
“دانیال تم بہت اچھے ہو , میرے بچپن کے دوست سہیلی سب تھے تم , اگر اب بھی تم سے نرمی سے بات کی تو تمہاری امید بڑھتی اس لیۓ یہ رویہ اپنانا ضروری تھا تاکہ نا کوئی امید رہے نا کوئی آس ۔۔۔۔ زونی نے خود سے اعتراف کیا ۔۔۔
جانے کیوں آنکھین نم ہوئیں دانیال کا سوچ کے ۔۔۔
“نا تم غلط ہو نا میں دانیال , ساری پرابلم اس قسمت کی ہے دانیال جس نے مجھے باذل خان جیسے ہرجائی کی قسمت میں لکھا ہے اور تمہاری نصیب میں مجھ سراب سے محبت کرنا ۔۔۔ اب کے زونی نے زیرلب کہا ۔۔۔ دل چاہا پھوٹ پھوٹ کر رودے قسمت کی ایسی ستم ظرفی پر ۔۔۔ اس سے پہلے واقعی روپڑتی پھوٹ پھوٹ کر کسی نے اسے کمر سے تھام کر خود سے لگالیا ۔۔۔
وہ اس خوشبو کو کیسے نا پہچانتی , اپنے ہرجائی کی خوشبو کو ۔۔۔
وہ اس کے سینے میں منہ چھپاگئی ۔۔۔ کچھ لمحون بعد خواب سا گمان ہوا تو جلدی سے اس سے الگ ہوکر دیکھا ۔۔۔ شاک سی کیفیت تھی ۔۔۔
“ہاں میں ہی ہوں تمہارا شوہر ۔۔۔ تمہارا ہرجائی باذل خان ۔۔۔ سچ میں دل چاہتا ہے اس پٹھانی کے ہونٹ چوم لوں کیا بولی ہو تم دانیال خان سے , دل خوش کردیا تم نے , ابھی سامنے نہیں آنا تھا پر مجبورٌ آنا پڑگیا میری جان , آنا پڑا , آنا ہی پڑا , روتی دھوتی بیوی کو چھوڑنا بہت مشکل لگا میری جان ۔۔۔ باذل خان کہنے پر ایا کہتا چلا گیا ۔۔۔ وہ شاک ہوکر سننے لگی اپنءلے ہرجائی کو ۔۔۔
اور پھر واقعی وہ اس کے ہونٹوں پر شدت سے ٹوٹ پڑا ۔۔۔ کتنے لمحے امر کرگیا تھا وہ , زونی نے آنکھین بند کرلیں اس لمحے ۔۔۔ اسے بیڈ پر لٹا گیا اس کا دوپٹا اس کے تن سے جدا کرگیا ۔۔۔ گردن پر جابجا اپنی شدتین لٹاتا چلا گیا ۔۔۔ ابھی وہ اس سے اگے بڑھتا زونی اپنے ہوش ہواس میں لوٹی اور شدت سے اسے دھکا دے کر خود سے دور کرنا چاہا پر وہ ٹس سے مس نہ ہوا ۔۔۔
“دور ہوجائیں مجھ سے بہت برے ہیں آپ ۔۔۔۔زونی نے غصے سے کہا ۔۔۔
“دور تو نہیں رہ سکتا سارے حق رکھتا ہوں تم پر میری جان ۔۔۔۔ وہ اس پر گرفت مضبوط کرتا اس کے گال پر دانتوں سے کاٹ گیا ۔۔۔
“کوئی حق نہیں آپ کا مجھ پر یا میری اولاد پر , اتنے سال اکیلے رہ گئی دوبارہ بھی رہ لوں گی ۔۔۔ پہلے بھی ایک بار بےوفائی کرچکے ہیں ایک بار پھر میرے مقابل دوسری عورت اگئی خان , کبھی معاف نہیں کروں گی , کبھی نہیں ۔۔۔ وہ شدت سے بولی ایک بار پھر مال کا منظر آنکھوں کے سامنے ایا ۔۔۔
“جس سے اس کا باپ نالان رہے اس سے اس کی بیوی کیسے خوش رہ سکتی ہے ۔۔۔ ہے نا میری پٹھانی ۔۔۔ باذل نے آنکھ دبائی جس سے زونی کو غصہ بڑھا اس کی ڈھٹائی پر ۔۔۔
“کیا سمجھ رکھا ہے آپ نے مجھے ہاں کیا سمجھا ہے بولیں ۔۔۔ وہ غصے سے بولی ۔۔۔ وہ بیڈ سے اٹھنے لگی غصے سے کہتی پر وہ اسے خود پر گرا کر بولا ۔۔
“مال غنیمت بلکل نہیں , میری جان , میرا عشق جنون سب ہو تم جو پہلے کبھی میرا پروفیشن تھا , اب وہ صرف تم ہو میری جان , آۓ لوو یو زونی ۔۔۔ باذل نے اعتراف کیا ۔۔۔
“کتنی لڑکیوں سے یہ باتیں کرتے آۓ ہیں جھوٹے مکار ہیں آپ خان ۔۔۔ زونی نے تیز لہجے میں کہا ۔۔۔
“اور جانتی ہو ۔۔۔۔ ضدی پن میں تو میں اس حد تک جا سکتا ہوں کہ کوئی مجھ پر بلا وجہ الزام لگائے تو میں اسے سچ ثابت کرنے میں بھی دیر نہیں کرتا پر ۔۔۔ باذل نے مزے سے کہا ۔۔۔
“پر کیا ۔۔۔ زونی نے آہستہ سے پوچھا ۔۔۔
“پر یہ کہ یوں تو تمہاری ایسی باتوں سے ضدی ہوجاتا ہوں جو الزام لگاتی ہو ہنس کر اپنے سر لے لیتا ہوں میری جان پر اج نہیں کیونکہ اتنی اچھی باتیں بولیں تم نے دانیال سے کہ میرا دل خوش ہوگیا ہے , جو عورت شوہر کی غیر موجودگی میں بھی اپنی عزت کی حفاظت کرے وہ عزیم ہے زونی , آج تم نے پورے کے پورے باذل خان کو خرید لیا میری جان ۔۔۔ باذل خان نے شدت جذبات سے کہا اور خود میں بھینچ گیا اسے ۔۔۔۔ اس کا مطلب وہ کچن میں ہوئی اس کی گفتگو دانیال سے سب سن چکا تھا ۔۔۔
“تو پھر ماہ نور کون تھی ۔۔۔ زونی کی سوئی وہیں کی وہیں اٹکی تھی ۔۔۔
” اف پورا کا پورا باذل خان مل گیا پھر بھی تمہاری سوئی تو اسی ماہ نور پر اٹکی ہے ویسے تم عورتین کمال کرتی ہو ۔۔۔ جواب نہیں تم لوگوں کا , شوہر ہرجائی ہو پھر بھی اس کی وفادار رہتی ہو اگر وہ اکر کہے دے پورا کا پورا تمہارا ہے تو مطمئن بھی نہیں ہوتیں اور اعتبار بھی نہیں کرتیں ۔۔۔ حد ہے بھئی حد ہے ۔۔۔ باذل نے بلکل بی جمالو انداز میں کہا , باذل کا یہ انداز زونی کو حیران کرگیا ۔۔۔
“پلیز خان بتائیں , بتائیں نا , تو پھر ماہ نور کون ہے کیوں کیا لندن وہ سب آپ نے ۔۔۔ زونی پوچھے بنا رہ نہ سکی اس لیۓ دوبارہ انسسٹ کرنے لگی ۔۔
“سوری زونی اس وقت میں ایک مشن پر تھا جب تمہاری زمیداری مجھ پر آئی تھی , میں ایک سیکریٹ ایجینٹ ہوں جو بظاہر سوفٹ ویئر انجینیئر بن کر چلتا ہوں پر حقیقت میں میرا تعلق ایک ایجینسی سے ہے , ماہ نور ٹیریرسٹ تھی ہمیں صرف اسے نہیں اس کے پورے گروہ کو پکڑنا تھا جس کے لیۓ اس کے نزدیک ہونا پڑا مجھے , اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے سرخرو کیا اور پورے گروپ کو پکڑواچکا ہوں میں ۔۔۔ باذل نے کھل کے اعتراف کیا ۔۔
“آپ نے شادی کی تھی اس سے ۔۔۔ زونی کی سوئی وہیں کی وہیں اٹکی تھی باذل نے سر پیٹا ۔۔۔
“زونی میں جھوٹ نہیں بولوں گا , اس مشن کے لیۓ ضروری تھا ۔۔۔ تم سے شادی سے پہلے ہی میں اس سے شادی کرچکا تھا اس وقت پاکستان بھی اس سلسلے میں آیا تھا ۔۔۔ وہ جھوٹی تھی وہ پاکستانی نہیں بلکہ ہمارے پڑوس ملک سے تھی جو پوری دنیا میں ہمارے پاکستان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں , گناھ ان کا , الزام اس پاک زمین پر ۔۔۔ اتنا چھوٹا ٹکڑا زمین کا الگ کرکے مسلمان اتنی بڑی ایٹمی طاقت رکھے ہوۓ ہیں یہ کسی کو گوارا نہیں , یہ ان سے برداش نہیں ۔۔۔ بھلے میری نیشنلٹی باہر ملک کی ہے پر اس زمین سے محبت میرے خون میں رچی بسی ہے جب جب اس پاک سر زمین پے کوئی الزام اتا ہے میری پوری کوشش ہوتی ہے اس کے تہے تک جاکر اصل کرپٹ کو نکال کر سامنے لاؤں , اسے میرا جنون سمجھو یا میرا مقصد میں ہر حد سے گزرنے کو تیار رہتا ہوں , ماہ نور نے خود کو پاکستانی ظاہر کیا تھا اسی لیۓ یہ شادی کرنی پڑی مجھے تاکہ اس کے قریب ہوسکوں اس معاملے کو سلجھا سکوں ۔۔۔ یہ میری ڈیوٹی تھی , سوری تم کو تکلیف دی , جس وقت تم ماہ نور کے روبرو آئی اس وقت میرا مشن اپنی پیک پر تھا تم سے رابطہ کرکے اپنے مشن کو فیل نہیں کرسکتا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ تم آور میں ان کے سامنے اگۓ تھے اگر کسی قسم کا رابطہ رکھتا تو تمہاری جان کو خطرہ پڑجاتا جو کسی صورت مجھے منظور نہ تھا ۔۔۔۔ شکر ہے تم واپس پاکستان چلی گئیں اس مشکل وقت میں , اگر تم نہ جاتی تو کسی طرح عالم سے رابطہ کرکے تمہیں بجھوا دیتا کیونکہ تم منظر پر سامنے اگئی تھی ان کا ٹارگیٹ نہ بنو تم , مہری یہی کوشش تھی ۔۔۔ اس کے بعد انڈیا جانا پڑا ۔۔۔ اف کیا کیا بتاؤں ۔۔۔ باذل نے کھل کر سب اسے بتاتا چلاگیا ۔۔۔
وہ اس کے سینے پر سر رکھے پوری محویت سے سن رہی تھی ۔۔۔
“زونی مجھے معاف کردو بہت ذہنی تکلیف اور اذیت دی تمہیں بہت برا شوہر ہوں میں , بہت برا ۔۔۔ وہ اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ گئی ۔۔۔
“بس کردیں باذل , بہت اچھے ہیں آپ , اس زمین کے لیۓ اتنا کچھ کیا آپ نے , مجھے فخر ہے آپ پر ۔۔۔ زونی نے دل سے کہا ۔۔۔۔
“پر زونی ہماری زندگی خطرے میں رہتی ہے اور اس وقت جس مشن پر میں یہاں ہوں اگر مجھے کچھ ہوجاۓ تو تم اپنا اور شمائیل کا بہت خیال رکھنا اور اگر میں نہ رہوں تو دانیال کا ہاتھ تھام ۔۔۔۔ وہ اپنی رو میں کہتا چلا گیا ۔۔۔
اس لمحے زونی کے زوردار تھپڑ نے باذل کو چپ کرواگیا اور اسے شاک کرگیا ۔۔۔
“آئندہ اس قسم کی بات کی منہ توڑدوں گی آپ کا خان ۔۔۔ ابھی ملے ہیں اور ابھی بچھڑنے کی باتیں کرنا شروع کردیں بہت برے ہیں آپ ۔۔۔ اسے تھپڑ مارکر اس کے سینے پر دوبارہ سر رکھ گئی ۔۔۔
“بسسس میری پٹھانی , ڈھائی کلو کا ہاتھ ہے بہت زور کا پڑا ہے , اب تھپڑ کا پورا حساب دوگی اور وہ اس کے ہونٹوں پر جھکتا چلا گیا ۔۔۔
محبت دکھ نہیں دیتی
اگر بے غرض ہو جذبہ
اگر منزل بنے رستہ
اگر چاہت کے پردے میں
کوئی لالچ نہ ہو لپٹا
اگر تم سونپ دو سب کچھ
صلے میں کچھ نہیں مانگو
اگر سودا نہ ہو کوئی
محبت بس محبت ہو
تو محبت دکھ نہیں دیتی
وہ دل سے اپنے شوہر کا حق ادا کرنے لگی ۔۔۔ دو محبت کرنے والوں کے ملن پر زندگی مسکرانے لگی ۔۔۔ یہ خوشی کتنے وقت کی تھی یہ وقت نے ہی بتانا تھا ۔۔۔ فی الحال اس وقت وہ ایک دوسرے میں گم دنیا بھلا بیٹھے تھے ۔۔۔
@@@@@@@@@@
شام کو دائم اور دانیال گاؤں روانے ہوگۓ جبکہ اگلی صبح کی فلائیٹ سے روشانے اور عالم خان اسلام آباد روانہ ہوۓ ۔۔۔
وہ اسے ہوٹل چھوڑ کر خود چلا گیا کسی سے ملنے ۔۔۔ اس کے بعد شام کو اسے اسلام آباد گھمانے لے گیا ۔۔۔
دو دن اسلام آباد رہ کر تیسرے دن کوہ مری روانہ ہوۓ دونوں باۓ روڈ ۔۔۔ وہ عالم خان کے ساتھ کافی حد تک ریلیکس ہوگئی تھی ۔۔۔ وہ ڈر اور گھبراہٹ کچھ حد تک دور ہوگئی تھی پر خوف اب بھی تھا اندر ہی اندر ۔۔۔
آج منگل کے دن وہ ایوبیا دیکھنے آۓ تھے جہاں دونوں نے خوب انجواۓ کیا ۔۔۔ چیئر لفٹ , کیبل کار میں بیٹھے تھے ۔۔۔
“میں نے آپ کا یہ روپ پہلی دفعہ دیکھا ہے عالم خان ۔۔۔ روشانے نے واپسی میں کہا ۔۔۔
“کیسا روپ ۔۔۔ عالم نے پوچھا ۔۔۔
“سچ آپ کے ساتھ گھومنے کا اپنا مزہ ہے , سچ میں یہ ٹرپ ہمیشہ یاد رہے گا عالم خان ۔۔۔ روشانے دل سے بولی ۔۔۔ جس طرح ہر جگہ کے بارے میں بتاتا اس کے ساتھ انجواۓ کرتا بلکل اپنا سا لگ رہا تھا روشانے کو ۔۔۔
“ہمممم شکریہ روشنی ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔
پھر کچھ دیر ہوٹل میں آرام کرکے رات کو مال روڈ اگۓ جہاں ونڈو شاپنگ وہ کرتی رہتی ۔۔۔ وہ ہر جگہ اسے موبائیل دیتی اور فوٹو کا کہتی وہ بغیر چون چران کے اس کی پکس کلکس کرتا رہتا ۔۔۔ رات کا ڈنر وہیں کسی ریسٹورنٹ میں کرتے پھر ہوٹل اکر تھک کے سوجاتے ۔۔۔
@@@@@@@@@
وہ اگلے دن سویرے نکل آۓ تھے گھومنے کے لیۓ ۔۔۔ ہوٹل سے دو گھنٹے کا سفر کرکے اسپاٹ پر پہنچے تھے ۔۔۔
“کتنا خوبصورت منظر ہے , میں نے آج تک اتنا خوبصورت منظر نہیں دیکھا ۔۔۔۔ زونی نے کہا ۔۔۔
سامنے وادی کشمیر نیچے دریاۓ نیلم کی شور کرتا پانی دن کے اس پہر اج اتفاق سے کم لوگ تھے ۔۔۔ وہ مبہوت ہوکر دیکھ رہی تھی ۔۔۔
“جانتے ہیں میرا دل چاہتا ہے یہیں کی ہوکر رہ جاؤں عالم خان ۔۔۔ روشانے نے بے ساختہ کہا خوشی سے چہک کر ۔۔۔
وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے اس طرح جھکا گیا پاؤں تو پھاڑی پر جمے تھے پر آدھا جسم ہوا میں , وہ اس طرح سرے پر تھی اگر وہ ہاتھ چھوڑدے تو شاید وہ نہ رہے اس دنیا میں ۔۔۔
“جانتی ہو میرا دماغ کیا کہتا ہے ایک لمحہ دیر کیۓ بغیر ہاتھ ہٹادوں تمہاری کمر سے اور تم یہاں سے گرجاؤ , تمہارا جسم فنا ہوجاۓ , ریزہ ریزہ ہوجاۓ تمہارا وجود , جو تم نے میرے ساتھ کیا ہے وہ ناقابلِ معافی ہے , دھوکا دیا تم نے مجھے ۔۔۔ جانتی ہو نہیں کرسکتا میں یہ سب , کیونکہ محبت کے اس مقام پر میں پہنچ گیا ہوں جہاں انا فنا ہوگئی ہے اور غیرت کا نام ونشان نہ رہا مجھ میں ۔۔۔ تو آخر تم نے مجھے بےغیرت بنا ہی دیا ۔۔۔ ہاں ہوگیا ہوں میں بےغیرت , دیکھ لو کتنا بےبس ہوگیا ہوں نہیں مارسکتا تمہیں , کبھی نہیں مارسکتا , کبھی نہیں ۔۔۔۔
وہ دنگ رہ گئی اس مرد کی بات سن کر جس کو وہ اناپرست خودپرست اور گھٹیا سمجھتی تھی اس کا یہ روپ یہ انداز شاکنگ ہی تھا روشانے کے لیۓ ۔۔۔۔
وہ اسے بڑے سے پتھر پر بٹھا کر خود گھٹنوں کے بل بیٹھ چکا تھا بےبسی سے , بےبسی ہی بے بسی تھی اس کے ہر انداز میں ۔۔۔ روشانے شاک ہوکر اسے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
