Rate this Novel
Episode 2
ناول … عید اپنوں کے سنگ
ازقلم …. صبا مغل
قسط نمبر 2
“پاپا , آپی مان جاۓ گی آپ فکر نہ کریں ۔۔۔ شانزے نے تسلی دی ۔۔۔
“شانزے ۔۔۔ کیا روشانے مجھے غلط تو نہیں سمجھے گی جو میں اس کے ساتھ کرنے جارہا ہوں ۔۔۔نوروز خان نے کہا ۔۔۔
“پاپا آپ فکر نہ کریں وہ جلد یا دیر ہی سہی پر سمجھ جائیں گی ۔۔۔ یہی حالات کا تقاضہ تھا اور ہے ۔۔۔ شانزے نے ان کو تسلی دی ۔۔۔ ان کو بےپناھ پیار ایا اپنی اس بیٹی پر ۔۔۔
“شانزے سب نے مجھے مایوس کیا ایک واحد تم ہو جو میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکوں ہو , ورنہ ان دونوں بھائی بہن نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔۔۔ نوروز خان کی آواز میں دکھ ہی دکھ اپنے دونوں بچوں کی بات کرتے ہوۓ جبکہ شانزے کا نام لیتے وقت خوشی کا عنصر تھا ۔۔۔
“اگر سچ میں پیار کرتے ہیں اپنی اس بیٹی سے کھانا کھالیں پلیز ۔۔۔ چلیں میرے ساتھ ہم مل کے کھائیں گے پاپا جانی ۔۔۔ شانزے نے محبت سے لبریز لہجے میں التجا کی اپنے باپ سے اور جب بھی اسے اپنے باپ پر پیار اتا تو “پاپا جانی” بولتی تھی ۔۔۔
اور وہ واقعی ان کو لے جانے میں کامیاب ہوئی ۔۔۔ پھر دونوں نے ساتھ میں کھانا کھایا ۔۔۔ سبین خان ان کو چھپ کر دیکھتی مسکرائیں کہ شانزے ان کو کھانے کی ٹیبل پر لے آئیں ۔۔۔ سنین کو بےپناہ پیار ایا اپنی اس بیٹی پر جو اس کے شوہر کو مناکر لے آئی ۔۔۔
“وہیں کھڑی دیکھ کر مسکراتی رہیں گے یا اپ بھی اکر کھائیں گی کھانا سبین ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔ جس پر وہ جھینپ گئیں ۔۔۔
“مجھے معاف کردیں نوروز , مجھے اس طرح اپ کو طعنہ نہیں مارنا چاہیۓ تھا ۔۔۔ سبین نے دکھی لہجے میں کہا ۔۔۔ نوروز ان کی پہلی اور آخری محبت تھا جس کے لیۓ وہ جینا فرنینڈس سے سبین بنیں اسلام قبول کرکے ۔۔۔ اج بھی وہ خود کو فخر سے سبین خان کہلواتیں تھیں ۔۔۔
نوروز خان نے اپنے ماں باپ کی ناراضگی برداش کرتے ہوۓ یہ شادی کی اور اسے ہمیشہ نبھایا بھی ۔۔۔ دو بچوں کے بعد وہ بمشکل راضی کرپاۓ تھے اپنے ماں باپ کو ایک کڑی شرط ان کی مان کر ۔۔۔ نوروز خان اپنے ماں باپ کی سب سے بڑی اولاد تھے ۔۔۔
“کوئی بات نہیں جو کہا اپ نے سچ ہی کہا تھا ۔۔۔ نوروز خان نے پھیکی ہنسی کے ساتھ کہا ۔۔۔
“پلیز مجھے معاف کردیں غلطی ہوگئی جو غلطی سے کہے دیا ۔۔۔ سبین نے التجا کی ۔۔۔ سبین خان نے سچی محبت ہی کی تھی جو اس ایک شخص کو پانے کے لیۓ سہی معنی میں اسلام قبول کیا نماز اور قرآن پاک پڑھنا جانتیں تھیں یہاں تک کہ وہ اردو پر بھی مکمل عبور حاصل کرچکیں تھیں آنلائن پڑھ کر ۔۔۔ وہ دکھنے میں انگریز لگتیں تھیں کیونکہ اس کی ماں انگریز تھی جبکہ اس کا باپ پاکستانی کرسچن تھا ۔۔۔
“کوئی میرے انتظار میں وہاں جان سے گزر گیا اور میں یہاں امریکا میں مگن رہا ۔۔۔۔ ایسی نافرمان اولاد میرے کسی گناھ کی سزا ہی ہوسکتی ہے ۔۔۔ نوروز خان نے اپنے غم کا اظہار کیا ۔۔۔
“بسسس کریں نوروز ۔۔۔ بھول جائیں وہ سب ۔۔۔ اس لیۓ اپ کے گاؤں جانا نہیں چاہتی میں ۔۔۔ سبین نے تڑپ کر کہا ۔۔۔ واقعی جو ان کا بڑا بیٹا بازل خان کرچکا تھا وہ کسی بھی ماں باپ کے لیۓ باعث شرم تھا جبکہ دوسری طرف ان کی بڑی بیٹی روشانے نے بھی کم تکلیف نہ دی تھی ان کو۔۔۔
“بس چھوڑو اس بات کو ۔۔۔ جو ہونا تھا سو ہوگیا ۔۔۔ کھانا شروع کرو ۔۔۔ نوروز نے شانزے اور سبین کو کہا ۔۔۔
شانزے کو ہمیشہ اپنے باپ کے لیۓ دکھ ہوتا تھا ۔۔۔ وہ سب سے زیادہ اپنے باپ کے نزدیک تھی اس لیۓ ان کی ہر تکلیف اور اذیت سے اگاہ تھی اور محسوس کررہی تھی ۔۔۔
@@@@@@@@
وہ دبے پاؤں گھر میں داخل ہوئی اور جلدی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی تاکہ اپنے کمرے میں جاسکے ۔۔ اسی لمحے پورا لاؤنج روشن ہوا وہ چونک گئی اور پلٹ کر دیکھا تو اس کے پاپا نوروز خان کھڑے تھے ۔۔۔
“مجھے تم سے یہ امید نہ تھی روشانے ۔۔۔ نوروز خان نے سرد لہجے میں کہا ۔۔۔ وہ جو شرمندہ ہوئی تھی , صرف پل بھر کو, کچھ لمحوں میں سنبھل کر بولی ۔۔۔
“مجھے بھی اپ سے یہ امید نہ تھی کہ حنین نے اپ سے بات کی رشتے کی اپ نے ذکر تک نہ کیا اور نہ اسے ریکیمینڈ کیا ۔۔۔ اس کے لہجے میں گستاخی والا تاثر تھا ۔۔۔
“روشانے اتنی لیٹ گھر انا اچھی بیٹیوں کا وطیرہ نہیں ہے ۔۔۔ اچھی بیٹیاں رات کو گھر سے نکلتی نہیں اور نا ہی کلب اور پارٹیز میں جاتیں ہیں ۔۔۔ نوروز خان نے اس کی بات سرے سے اگنور کرتے ہوۓ اپنی بات کہی ۔۔۔ س کا نتیجہ یہ ہوا وہ اور بھی زیادہ ہرٹ ہوکر بدتمیزی سے بولی ۔۔۔
“پلیز پاپا , پاکستان کی جاہلانہ سوچ مجھ پر لاگو کرنے کی کوشش نہ کریں اور ویسے بھی اپ کی اچھی بیٹی کی ڈیفینیشن پر شانزے ہی اترتی ہے مجھے دور رکھیں اس سب سے ۔۔۔ مجھے امریکہ پسند ہے اور میں وہی سوچ رکھتی ہوں آزادانہ اور خودمختیارانہ ۔۔۔ روشانے کے لہجے میں بدتمیزی کا عنصر دیکھ کر نوروز خان نے صبر کا گھونٹ پینے کی کوشش کی اور اس سے پہلے کچھ کہتے سبین خان بولیں ۔۔۔
“تمیز بھول گئی ہو باپ سے کیسے بات کرتے ہیں ۔۔۔
“ہاں اب بھول گئی ہوں کیونکہ اپ لوگ جو بھولنے لگے ہو میری بات کو ۔۔۔ روشانے چڑ کر بولی تھی ۔۔۔
“کس بات پر اتنا غصہ ہو روشی میری جان ۔۔۔ سبین نے پیار سے کہا اب کے سنبھل کر ۔۔۔ اولاد بڑی ہوجاۓ تو ماں باپ کو ہی سنبھل کر بولنا پڑتا ہے ۔۔۔
“پلیز روشی نہیں , شان کہیں مجھے , میں سب کو قسطوں میں بتارہی ہوں مجھے حنین سے محبت ہے اور اسی سے شادی کرنی ہے اور دیکھیں اپ دونوں مجھے ریسپونس نہیں دے رہے اور اب جب کہ حنین تین دن پہلے پاپا سے بات کرچکا تھا پھر بھی نو ریسپونس کیوں ۔۔۔ نوروز اور سبین نے ایک دوسرے کو دیکھا روشانے کی کہی بات پر ۔۔۔
“امید کرتی ہوں صبح تک اپ لوگ مجھے بتائیں گے کہ اپ کا کیا فیصلہ ہے اس ریلیشن شپ کو لے کر ۔۔۔ روشانے نے دوٹوک انداز میں کہا ۔۔۔۔
“اگر مجھے اعتراض ہوا تو ۔۔۔ نوروز نے پوچھا ۔۔۔
“نو پرابلم , ہم کورٹ میرج کرلیں گے کیونکہ میں اور حنین سیریس ہیں اس ریلیشن شپ کو لے کر ۔۔۔ روشانے نے سکون سے کاندھے اچکا کر چلی گئی ان دونوں کو ہکا بکا چھوڑ کر ۔۔۔
@@@@@@@
“اولاد آزمائش ہوتی ہے سبین دیکھ لو , کہیں کا نہیں چھوڑتی , مجھ سے غلطی ہوگئی جو اسے یہاں لے ایا اچھا ہوتا جب نکاح کروایا ہی تھا تو وہیں چھوڑ آتا ۔۔۔ نوروز کے لہجے میں تاسف ہی تاسف تھا ۔۔۔ سبین شرمندہ تھیں اپنے شوہر سے کیونکہ بیٹیوں کی تربیت ماں کے ذمے ہوتی ہے اور وہ اچھی ماں نہ بن سکیں ۔۔۔ یہ دکھ انہیں اندر ہی اندر کھارہا تھا ۔۔۔
“باباجان ٹھیک کہتے تھے لڑکیوں کو اتنی بھی آزادی نہیں دینی چاہیۓ ۔۔۔ نوروز خان نے ایک اور دکھ ظاہر کیا اپنا ۔۔۔
“نوروز اپ فکر نہ کریں ہم پاکستاں چل کر وہیں اس کی رخصتی کردیں گے ۔۔۔ روشانے کو سمجھانا ناممکن ہے ۔۔۔
سبین نے اپنی بات رکھی کیونکہ وہ جانتیں تھیں , نوروز کے خاندان میں طلاق ہونا ناممکن سی بات ہے ۔۔۔ نا ہی کبھی ہوئی ہے ۔۔۔
“مجھے دونوں اولادوں نے میرے چھوٹے بھائی کے سامنے بہت شرمندہ کروایا ہے سبین ۔۔۔ نوروز خان نے دکھ سے کہا ۔۔۔
“بہت ضدی ہے وہ سبین , وہ نہیں مانے گی پاکستان جانے کو , وہ منع کرچکی ہے شانزے کو ۔۔۔ میں مرجاؤں گا اگر اس نے کورٹ میریج کی یہاں کا قانوں بچپن کے نکاح کو نہیں مانتا اور وہ یہیں کی پلی بڑھی ہے ۔۔۔ وہ کسی کے قابو میں نہیں آۓ گی ۔۔۔ نوروز خان بولنے پر آۓ تو بولتے چلے گۓ ۔۔ ان کے لہجے میں بےپناھ دکھ تھا ۔۔۔
“میرے بھائی نے سدا میرا مان رکھا , اس کی معصوم بیٹی کی رخصتی کا تقاضہ کیا ہمارے بیٹے کی ضد پر تب بھی اس نے میرا مان رکھا اور جو تمہارے بیٹے نے کیا وہ معافی کے بھی لائق نہیں ۔۔۔ اب جو روشانے چاہتی ہے اگر وہ کیا تو ناممکن ہے میرا بھائی مجھے معاف کرے ۔۔۔ سب ختم ہوجاۓ گا سبین سب ختم ہوجاۓ گا ۔۔۔
کتنی تڑپ اور درد تھا ان کے لہجے میں , سب جانتی تھی اس کا شوہر کس کرب سے گزر رہا ہے , ان کے لہجے پر ان کا اندر بھی کانپا تھا ۔۔۔
اتنا کہے کر وہ بےبسی سے زمیں پر بیٹھتے چلے گۓ سینے کا درد بڑھتا ہی جارہا تھا ۔۔۔
“نوروز کیا ہوا , کیا ہوا , پلیز آنکھیں کھولیں ۔۔۔ سبین کی چیخین گونجنے لگیں ۔۔۔
@@@@@@@@
“شکر ہے اپ مریض کو بروقت لے کر آۓ ورنہ نامکن تھا ان کی جان کو بچانا ۔۔۔ ڈاکٹر نے مخصوص انگریزی لہجے میں سبین خان اور شانزے سے کہا جو رات سے ہسپتال تھیں ۔۔۔
دونوں ماں بیٹی نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔۔۔
اسی لمحے روشانے اتی دکھائی دی اور ان کے قریب اکر بولی ۔۔۔
“مام اپ کو مجھے اٹھانا چاہیۓ تھے , پاپا اب کیسے ہیں ۔۔۔ اس کے لہجے میں باپ کے لیۓ بےپناھ فکر تھی ۔۔۔
“تم نے پوری کوشش کی مارنے کی شکر ہے اللہ نے میرے شوہر بچالیا روشانے ۔۔۔۔ سبین نے سخت لہجے میں اسے سنایا ۔۔۔ روشانے نے دنگ ہوکر اپنی ماں کو دیکھا ۔۔۔
“مام اپ ایسا کیسے کہے سکتی ہیں ۔۔۔ اس کے لہجے میں بےپناھ دکھ بول رہا تھا ۔۔۔
“جو سچ ہے وہی کہا ہے , تم جاسکتی ہو گھر , ضرورت نہیں اس فکر والے ڈرامے کی , گیٹ آؤٹ فرام ہیئر روشانے تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنی مجھے ۔۔۔ سبین شدید ذہنی کشمکش کا شکار ہورہی تھیں جو منہ میں ارہا تھا وہی کہے جارہی تھیں ۔۔۔ روشانے صدمے کی کیفیت میں دیکھ رہی تھی اپنی ماں کو ۔۔۔
“پلیز مام آپی شرمندہ ہیں , اس طرح نہ کہیں ۔۔۔ شانزے نے تڑپ کر کہا ۔۔۔
“تم نہیں جانتی شانزے , کل رات کس طرح اس نے تمہارے باپ سے بات کی ہے ایک معمولی لڑکے کے لیۓ , جاؤ جو کرنا ہے کرلو , مجھے تم جیسی اولاد سے زیادہ عزیز اپنا شوہر ہے ۔۔۔ سبین کے لہجے میں نفرت ہی نفرت تھی ۔۔۔۔
یہ پہلی دفعہ تھا جو سبین خان نے اتنے سخت لہجے میں بات کی تھی روشانے سے ورنہ وہ تو لاڈلی تھی ماں باپ کی ۔۔
“مام پلیز مجھے معاف کردیں ۔۔۔ تڑپ کر روشانے ان کے گلے لگے روپڑی اس بار چاہا کر بھی سبین اسے دھتکار نہ سکیں ۔۔۔
اسی وقت نرس آئی اور انگلش میں کہا ۔۔۔
“ہم پیشینٹ کو روم میں شفٹ کررہے ہیں ۔۔۔۔
“پاپا سے مل سکتے ہیں ہم ۔۔۔ روشانے نے تیزی سے کہا انگلش زبان میں ۔۔۔
“ہاں پر ایک ایک کرکے روم میں شفٹ ہونے کے بعد ۔۔۔ نرس نے مخصوص انگلش لہجے میں کہا اور چلی گئی ۔۔۔
@@@@@@@
“پلیز پاپا اپ ٹھیک ہوجائیں , مجھے معاف کردیں ۔۔۔ روشانے تڑپ کر کہے رہی تھی آنسو مسلسل بہے رہے تھے ۔۔۔ روشانے باپ کے سرہانے بیٹھے بولی تھی ۔۔۔
“چپ ہوجاؤ ۔۔۔ نوروز آہستہ سے بولے ۔۔
“پلیز پاپا معاف کردیں , آئی ایم سوری ۔۔۔ روشانے ایک بار پھر بولی ۔۔۔ اس کے ہر انداز میں ندامت ہی ندامت تھی ۔۔۔
“اٹز اوکے ۔۔۔ ریلیکس ہوجاؤ ۔۔۔ روشانے کچھ پرسکوں ہوئی ان کی بات سن کر ۔۔۔ دونوں دن اس نے ہی اپنے باپ کے پاس اسٹے کیا ۔۔۔ سبین منع کرتی رہی پر وہ ضد پر اڑی رہی ۔۔۔
آج تیسرے دن ڈاکٹر نے شام میں ڈسچارج کرنے کے آرڈر دیۓ تھے۔۔۔
“روشانے تم تھک گئی ہوگی تین دن مسلسل رہی ہو ۔۔۔ نوروزخان نے اپنی بیٹی سے کہا ۔۔۔
“نہیں پاپا , میں ٹھیک ہوں کیونکہ دن میں ریسٹ کرلیا کرتی تھی گھر جاکر ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔
“تو تم گھر جاؤ شام کو شانزے اور تمہاری ماما کے ساتھ اجاؤں گا گھر ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔
“نہیں پاپا , اب اپ کے ساتھ ہی گھر جاؤں گی ۔۔۔ روشانے سکون سے بولی ۔۔۔ چہرے پر بےپناھ تھکن تھی پر پھر بھی وہ باپ کو اکیلے چھوڑنے پر تیار نہ تھی ۔۔۔
“کیا میرے ساتھ پاکستان بھی چلوگی یا نہیں ۔۔۔ نوروز خان نے پوچھا ۔۔۔
“کیا اب بھی اپ پاکستان جائیں گے , ابھی تو اپ مکمل صحت یاب بھی نہیں ہوۓ ۔۔۔ روشانے نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔
“جی میری جان اب تو میرا جانا اور ضروری ہوگیا ہے ۔۔۔ وہ حیران ہی ہوئی نوروز خان کے اس جواب سے ۔۔۔
“وہ کیوں پاپا ۔۔۔ روشانے نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔
“کیونکہ اب زندگی کا بھروسہ نہیں رہا میری جان , اچھا ہے ایک دفعہ اپنوں سے مل ہی لوں ۔۔۔ نوروز خان کے کہنے پر روشانے کا دل کانپا ۔۔۔
“تو کیا تم چلوگی میرے ساتھ ۔۔۔ ان کے لہجے میں آس تھی ۔۔۔
“جی پاپا , میں اپ کے ساتھ چلوں گی , پلیز اپ بھی میری ایک بات مان لیں ۔۔۔ روشانے نے التجا بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔
“کونسی بات ۔۔۔ انہوں نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس سے پوچھا ۔۔۔
“واپس اکر اپ حنین اور میری بات طے کریں گے ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔
“ٹھیک ہے بیٹا ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔
“لوو یو پاپا , آئی ایم سوری فاردیٹ ڈے ۔۔۔ وہ ان کے گلے لگ کر لاڈ سے بولی ۔۔۔
“اٹز اوکے میری جان ۔۔۔ انہوں نے کہا ۔۔۔
@@@@@@@@@
“بس ڈیڈ مجھے اپ کا فیصلہ پسند نہیں ایا , ایک تو اپ کی طبیت خراب ہوئی مجھے لیٹ بتایا اور اوپر سے منع بھی کردیا امریکا انے سے ۔۔۔ باذل خان نے شکوہ کیا ۔۔۔
“بسس باذل تم سیدھا پاکستان جاؤ وہیں ہم مل لیں گے ۔۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔ ان کے لہجے میں اب کم ہی اس کے لیۓ محبت ہوتی تھی ۔۔۔ نوروز خان کا سرد لہجہ شدت سے محسوس کیا باذل خان نے ۔۔۔
“اوکے ڈیڈ اپ کی کب کی فلائیٹ ہے ۔۔۔ باذل خان نے پوچھا ۔۔۔۔
“نیکسٹ ویک ۔۔۔ انہوں نے پوچھا ۔۔۔
“آوکے تو میں بھی نیکسٹ ویک کنفرم کرتا ہوں ۔۔۔ باذل خان نے کہا ۔۔۔
“ٹھیک ہے ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔ کچھ دیر اور باتیں کرکے فون رکھا تھا ۔۔۔
@@@@@@@@
پاکستان کی سرزمیں پر قدم رکھ کے نوروز خان نے دل سے اپنے رب کا شکر ادا کیا ۔۔۔ شانزے بےانتہا خوش تھی سبین کے تاثرات نارمل تھے ۔۔۔ اگر کسی چہرے پر بیزاریت تھی تو وہ روشانے تھی ۔۔۔
سبین اور شانزے پاکستانی ڈریسنگ میں ملبوس تھیں کیونکہ وہ دونوں جب بھی کبھی کسی پاکستانی کے گھر جاتیں تھیں امریکا میں تو اکثر مشرقی لباس پہنتی تھیں جبکہ روشانے ہمیشہ مغربی لباس کو ترجیع دیتی ۔۔۔
نوروز اور سبین نے کبھی بےجا پابندیاں نہ لگائیں تھیں اپنی بیٹیوں پر ۔۔۔ جس کا نتیجہ تھا کہ روشانے کافی خودسر ہوگئی تھی ۔۔۔ جبکہ اس کی بنسبت شانزے سمجھدار اور مصلحت پسند بھی تھی ۔۔۔
“اف پاپا بیزار ہوگئی ہوں کب تک ڈرائیور اور گاڑی آئیں گے پھر گاؤں کے لیۓ بھی نکلنا ہے ۔۔۔ یہ کہتے ہوۓ روشانے کے لہجے میں بیزاریت تھی ۔۔۔
“السلام علیکم تایا جان ۔۔۔ اسی وقت ایک خوبرو نوجوان لڑکے نے اکر کہا ۔۔۔۔
“واعلیکم سلام عمر خان ہو تم ۔۔۔ نوروز خان نے سوچتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“بلکل سہی پہچانا اپ نے تایاجان ۔۔۔ عمر ان کے گلے لگ کر بولا ۔۔۔
پھر سب کو اس نے مشترکہ سلام کیا جس کا جواب سبین اور شانزے نے دیا پر روشانے منہ دوسری طرف کرکے کھڑی رہی ۔۔۔ عمر حیران ہی ہوا اس کے انداز پر اور چونکا اپنے تایا کی آواز پر جو پوچھ رہےتھے ۔۔۔
“عالم خان نہیں ایا ۔۔۔
“جی تایا جان ان کی کچھ مصروفیات تھیں ۔۔۔ عمر نے سھولت سے کہا ۔۔۔ اس کا گریز اچھی طرح سمجھے تھے وہ ۔۔۔
“چلیں تایا جان ۔۔۔ عمر نے کہا ۔۔۔
“ہممم چلو ایک منٹ ۔۔۔
“روشانے یہ تمہارے چاچا جان کے بیٹے عمر ہیں ان سے ملو ۔۔۔
نوروز خان نے خاص روشانے کو ملوایا جس پر اس نے منہ بنا کر جسٹ “ہاۓ” کہا ۔۔۔ روشانے کے چہرے پر واضع بیزاریت تھی ۔۔۔
“السلام علیکم ۔۔۔۔ عمر نے سنبھل کر کہا ۔۔۔
“روشانے بھائی کے سلام کا جواب تو دو ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔
“واعلیکم سلام عمر بھائی ۔۔۔ چہرے پر وہی بیزاریت تھی باپ کی تنبہی کے باوجود پر سلام کا جواب دے دیا نا چاہتے ہوۓ بھی ۔۔۔
“چلیں تایاجان ۔۔۔ عمر خان ضبط سے بولا کیونکہ روشانے کے انداز سے شدید توہیں کا احساس جاگا اس کے اندر ۔۔۔
“اوکے چلو ۔۔۔ وہ بھی شرمندہ ہوۓ تھے ۔۔۔ روشانے نے ان کو شدیس مایوس کیا تھا ۔۔۔ پر وہ لاپرواہ بن کر سب کے ہم قدم چلنے لگی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
