Rate this Novel
Episode 14
ناول … عید اپنوں کے سنگ
ازقلم …. صبا مغل
قسط نمبر 14
وہ قدم قدم اس کی طرف بڑھا وہ پیچھے کی طرف ہونے لگی ۔۔۔ مناہل کی پینٹھ جاکر دیوار سے جالگی ۔۔۔
وہ اس کے روبرو ہوا اور غصے سے اس کے دونوں بازو کو پکڑ کر جھنجھوڑتا ہوا بولا ۔۔۔
“ہوس کہا تم نے , میرے دیۓ عزت اور مان کو , ہوس جانتی بھی ہے کیا ۔۔۔ اگر ایک دفعہ اس کی جھلک دکھادوں تو تم اپنے حواس کھودوگی , سمجھی میری بات ۔۔۔ اس کے انداز میں جارحیت تھی پر خود پر ضبط کرتا ہوا دوبارہ بولا ۔۔۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ بکواس کرنے کی , سمجھتی کیا ہوا خود کو تم , کہیں کی حور پری ہو جس کے لیۓ مرا جارہا ہوں میں , ہاں , تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے بولو , کیوں کی یہ بکواس , بولو مناہل ۔۔۔ وہ اچھا خاصا جھنجھوڑ گیا , وہ حیرت اور صدمے سے ملی جلی کیفیت میں دیکھنے لگی دائم کو ۔۔۔
اس کے چہرے کو دیکھ کر دائم کو چپ ہونا پڑا کیونکہ صدمے سی کیفیت لیۓ چہرہ اور اس پر آنکھوں کا عجیب تاثر , دائم کو نادم کرگیا ۔۔۔
“کیا ہوا مناہل ۔۔۔ اس نے اپنے لہجے کو نرم کرنے کی کوشش کرتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔
وہ بےہوش ہوکر اس کی بانہوں میں جھول گئی ۔۔۔ وہ ہکا بکا ہوکر دیکھنے لگا اس کے وجود کو ۔۔۔
@@@@@@@@
روشانے خاموشی سے راستوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ اگے بیٹھی تھی عالم کے ساتھ جبکہ پیچھلی سیٹ پر زونی , شانزے اور شمائل تھیں ۔۔۔
اکبر خان نے کہا تھا “شانزے کو لے جاؤ یہاں اکیلی ہوجاۓ گی سب کے جانے سے اور روشانے کا بھی دل لگا رہے گا شانزے کے چلنے سے ۔۔۔ یوں شانزے بھی ان کے ساتھ شہر ارہی تھی ۔۔۔
روشانے نے عالم کے حکم پر اپنے پیرینٹس سے نارمل ملی پر ہر اک انداز میں احتجاج تھا ۔۔۔ اس کا موڈ خراب تھا جسے مدنظر رکھتے ہوۓ عالم نے دو تین دفعہ پوچھا “کچھ کھانا ہو یا کہیں پر گاڑی روکیں , پر روشانے صاف انکار کرگئی ۔۔۔
ایک جگہ گاڑی روکنی پڑی کیونکہ شمائل کا پیمپر چینج کروانا تھا ۔۔۔ سب گاڑی سے باہر نکلے ہوٹل میں اندر گۓ ۔۔۔
“اٹھو روشانے اندر چلو ۔۔۔ عالم نے کہا جب کافی دیر تک اسی انداز میں بیٹھی رہی تھی ۔۔۔
“میں نے کہا میرا موڈ نہیں ۔۔۔ میں گاڑی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ روشانے نے ضدی لہجے میں کہا ۔۔۔
“روشانے یہ سب کیوں کررہی ہو ۔۔۔ عالم نے بیزاریت سے کہا ۔۔۔
“میری مرضی ۔۔۔ روشانے کا انداز کٹر تھا ۔۔۔
“بھاڑ میں جاؤ ۔۔۔ عالم خان کو بھی غصہ اگیا ۔۔۔
“اس سے زیادہ کیا جاؤں گی الریڈی بھاڑ میں ہوں ۔۔۔ روشانے دوبدو بولی تھی ۔۔۔
“تم نہیں سدھر سکتیں ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔
“تو کوشش نہ کریں ۔۔۔ وہ شانِ بےنیازی سے بولی ۔۔۔
“آنا ہوتو اجانا ۔۔۔ ایک دفعہ پھر کہے گیا پر روشانے نے منہ پھیر لیا ۔۔
وہ غصے سے وہاں سے چلا گیا ۔۔۔ ادھے گھنٹے کے بعد آۓ وہ یونہی بیٹھی تھی گاڑی میں ۔۔۔ زونی اور شانزے افسردہ ہوگئیں تھیں اس کے اس بہیور سے ۔۔۔
عالم ضبط کرتا رہا کیونکہ اس وقت وہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہ تھا ۔۔۔ وہ قطعی شانزے اور زونی کے سامنے کوئی تماشہ نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
اس وقت بھی کھانے پینے کی چیزوں کی شاپر بڑھائی جسے اس نے تھامنے کی زحمت نہ کی ۔۔۔ عالم نے اس کی گود میں رکھی تو اس نے باہر پھینک دی ۔۔۔
ابھی دو گھنٹے اور کی ڈرائیوو تھی شہر پہنچنے میں پر روشانے اسے سخت غصہ دلاچکی تھی جس کی وجہ سے وہ رش ڈرائیوو کرنے لگا ۔۔۔ دو گھنٹے کا سفر ڈیڑھ گھنٹے میں طے کرکے انہوں نے کراچی شہر میں قدم رکھا ۔۔۔ اس بیچ ایک دو دفعہ ایکسیڈینٹ ہوتے ہوتے رہا ۔۔۔ کراچی پہنچ کر اس کو اپنی گاڑی سلو کرنی ہی پڑی ۔۔۔
اب تک اسے شدید غصہ اچکا تھا روشانے پر ۔۔۔
روشانے اسی گھر کے گیٹ پر پہنچی جہاں اس نے پاکستاں نے کے بعد پہلی دفعہ آئی تھی , تو سکون کا سانس لیا اپنی جان کے بچنے پر ۔۔۔
زونی اور شانزے کو شدید افسوس ہوا روشانے کی بدتمیزی پر ۔۔۔
@@@@@@@@
“مناہل تم نے مجھے ڈرا دیا ۔۔۔ پلیز جوس پیو ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔ اسے سہارا دے کر اٹھایا , رات کے دو بج رہے تھے ۔۔۔ مناہل کی نظر گھڑیال پر دیکھ کر دائم بولا ۔۔۔
وہ اسے خالی نظروں سے دیکھتی رہی جانے کیوں دائم کے چہرے پر شرمندگی کے آثار اتے دیکھ کر مناہل نے نظریں پھیریں ۔۔۔
“میرے دو گھنٹے کی محنت کے بعد جاکر تم ہوش میں آئی ہو ۔۔۔ دائم نے جتایا ۔۔۔
وہ خاموش نظروں سے دیکھتی رہی ۔۔۔
اسے بٹھاکر گلاس اس کے ہونٹوں سے لگایا تو اس نے جوس پینا ہی پڑا ۔۔۔
“اور کچھ چاہیۓ مناہل ۔۔۔ اس نے پیار سے پوچھا ۔۔۔
اس نے نفی میں سرہلایا ۔۔۔
“تو,ٹھیک ہے تم آرام کرو ۔۔۔ اسے دوبارہ لٹا کر اس پر کمفرٹ ڈالا دائم نے ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ سوگئی ۔۔۔ وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا جس کے سانولے چہرے پر درد کے آثار تھے ۔۔۔
“وہ کونسی بات ہے اچھی لڑکی جس نے تمہیں یوں پریشان کیا ہوا ہے , مجھے معاف کردو , مجھے اس طرح تمہاری طرف پیش قدمی نہیں کرنی چاہیۓ تھی , میں تو صرف تمہیں اعتماد دینا چاہتا تھا اپنے ہونے کا , مجھے نہیں اندازہ تھا تم اتنا شدید ریکیٹ کروگی ۔۔۔ دائم آہستہ آہستہ دھیمے لہجے میں بولا ۔۔۔
“جس طرح تم اذان سے ماں کہلوارہی تھی مجھے لگا تم اس رشتے کو لے کر پُرامید ہو , اس لیۓ یہ سب کیا ۔۔۔ پر آئندہ سے ایسا کچھ نہیں ہوگا مناہل ۔۔۔ جو ہوگا تمہاری مرضی اور رضا سے ہوگا ۔۔۔ وہ اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوۓ بولا ۔۔
“کاش تمہیں بتا سکتا , کتنا مشکل ہے میرے لیۓ ایمن کی جگہ کسی اور کو دینا پر اس اب میں تمہاری کوئی غلطی نہیں مناہل اس لیۓ میں بھی تو دل پر پتھر رکھ کر تمہاری طرف بڑھا تھا جسے تم نے ہوس کا نام دے دیا ۔۔۔ دل آزاری بھی میری ہوئی اور بےہوش کر مجھے ہی شرمسار کردیا تم نے مناہل , کمال کرتی ہو ۔۔۔
وہ اس کے بالوں انگلیاں پھیرتا دل ہی دل میں بولا تھا ۔۔۔ مناہل کو سکون سا محسوس ہوا اس لیۓ خودبخود ہونٹ مسکراۓ اس کے ۔۔۔ جانے کیوں اس کے مسکراتے ہونٹ دائم کو پرسکون کرگۓ ۔۔۔۔
@@@@@@@
شانزے نے بات کرنے کی کوشش کی روشانے سے پر اس کے روڈ انداز پر خاموش ہوگئی ۔۔۔ وہ اپنی بہن کے لیۓ آئی تھی اس کی بیگانگی پر شدید دکھی بھی ہوگئی تھی ۔۔۔
عالم حیران ہی ہورہا تھا کس بات پر وہ اتنا شدیس ناراض ہوئی تھی جو ایسے بہیوو کررہی تھی ۔۔۔ کھانا بھی براۓ نام کھایا تھا روشانے نے ۔۔۔
شانزے اور زونی اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں تھیں آرام کرنے ۔۔۔
کچھ دیر بعد عالم ایا , روشانے کو دیکھنے جو ہنوز لاؤنج میں صوفے پر بیٹھی تھی ۔۔۔
“یہاں کیا کررہی ہو اندر چلو کمرے میں ۔۔۔ عالم نے کہا لہجے میں اتنی سختی نہ تھی ۔۔۔
“میں خود ہی اجاؤں گی ۔۔۔ آپ جائیں ۔۔۔ روشانے نے سکون سے کہا ۔۔۔
“روشانے کیا بچپنا ہے چلو ۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ تھام کر زبردستی اٹھا کر لے گیا کمرے کی طرف , وہ بھی بےجان گڑیا کی طرح اس کے ساتھ کھینچی چلی ارہی تھی ۔۔۔ اسے اندر لاکر بیڈ پر پٹخا ۔۔۔
“مسئلا کیا ہے تمہارے ساتھ روشانے ۔۔۔ کیا ہوجاتا ہے تمہیں ۔۔۔ عالم نے چڑ کر پوچھا ۔۔۔ اس کا روڈ انداز عالم کو اپنی توہین لگ رہا تھا ۔۔
“یہ سوال تو میں بھی کرسکتی ہوں اپ سے , مسئلا اپ کے ساتھ کیا ہے جو میرے ہر معاملے میں ٹانگ اڑاتے ہیں سب ۔۔۔ وہ ادے شعکون پر بٹھاکر خود پرسکون لہجے میں بولی تھی ۔۔۔
“سواۓ میرے اور کسی نے کچھ کہا ہی کب ہے تم سے ۔۔۔ عالم خان خود پر ضبط کیۓ ہوۓ تھا ۔۔
“آپ کم تھے جو دادا جی نے شانزے کو شہر بھیجا ہے میرے نام سے ,مجھے کسی کی ضرورت نہیں , اس لیۓ میرا نام لے کر کوئی کام کرے گا تو مجھے غصہ آۓ گا ہی ۔۔۔ روشانے اچھے خاصے جتاتے لہجے میں بولی تھی ۔۔۔
“روشانے اتنی سی بات پر اتنا غصہ ۔۔۔ عالم خان اس کے روٹھنے کی وجہ جان کر شدید حیران ہوا ۔۔۔
“مجھے سکون سے رہنے دیں کیوں عذاب کی جارہی ہے میری زندگی ۔۔۔ روشانے نے ہاتھ جوڑ کر کہا ۔۔۔
“کونسی عذاب ہوئی ہے جو تم یوں کہے رہی ہو ۔۔۔ وہ اس کے جڑے ہاتھ کھولتا ہوا بولا تھا جس پر جلدی سے اس نے اپنے ہاتھ دور کیۓ عالم خان کی گرفت میں سے ۔۔۔
“خدا کا واسطہ ہے مجھے بخش دیں , چپ ہوں چپ رہنے دیں ۔۔۔ زبردستی ہر معاملے میں ہوسکتی ہے پر خوش رہنے پر اپ کسی کو مجبور نہیں کرسکتے کیونکہ خوشی کا تعلق دل سے ہے عالم خان , میرا دل کبھی مطئمن نہیں ہوگا اپ کے ساتھ سے ۔۔۔ یہ رشتہ مجھ پر میری ذات پر سواۓ بوجھ کے کچھ نہیں ایک دن اس رشتے کے ملبے کے نیچے دب کر مجھے ختم ہوجانا ہے ۔۔۔
روشانے کی شدت سے کہی بات پر وہ خاموشی سے باہر نکل گیا ۔۔۔ کیونکہ عالم خان کے پاس کہنے کو کچھ رہا ہی نہیں ۔۔۔
@@@@@@@@
اگلے دن زونی یونیورسٹی چلی گئی تھی جبکہ شمائل شانزے کے پاس تھی ۔۔۔
روشانے دیر تک سوتی رہی عالم نے اسے اٹھانے کی زحمت نہ کی ۔۔۔ اج روشانے پچھلے دنوں کی بنسبت بہت خوش تھی کیونکہ عالم خان سے رات کی گفتگو نے اسے خوش کیا تھا ۔۔۔ اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھرپور طریقے سے کرکے پرسکوں تھی وہ ۔۔۔
“آپی آئیں ناشتہ کرتے ہیں ۔۔۔ شانزے شمائل کو اٹھاۓ چلی آئی اور کہا تھا روشانے سے ۔۔۔
“اپنے کام سے کام رکھو , میں تمہاری آپی نہیں , ہاں عالم خان کے پیچھے بھابھی کہوگی تو مجھے برا نہیں لگے گا ۔۔۔ باقی میرا تم لوگوں سے ڈائریکٹ کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔ روشانے غصے سے کہتی لاؤنج سے باہر گارڈن میں اگئی ۔۔۔
پیچھے شانزے دکھی ہوکر اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی ۔۔۔
@@@@@@@@
“سوری کل رات مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیۓ تھا ۔۔۔ مناہل نے شرمندہ لہجے میں دائم سے کہا جو ڈریسنگ کے سامنے کگڑا بال بنا رہا تھا ۔۔۔
“اٹز اوکے ۔۔۔ دائم نے بےتاثر انداز میں کہا ۔۔۔ اس نے ایک غلط نظر نہ ڈالی اس پر ۔۔۔ کیونکہ مناہل کے چہرے پر شدید شرمندگی کے آثار تھے جانے کیوں وہ اسے شرمندہ دیکھ نہیں پارہا تھا ۔۔۔
وہ واپس پلٹنے لگی تو دائم پکار بیٹھا ۔۔۔
“مناہل ۔۔۔
“جی ۔۔ مناہل نے جلدی سے کہا ۔۔۔
“اس سال انٹر کے اگزامز دینے ہے تمہیں ۔۔۔ پچھلی بار تم نہ دے سکی اس کا افسوس ہے مجھے ۔۔۔ دائم نے بغیر اس کی طرف دیکھے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
“پر اذان کو میری ضرورت ہے ۔۔۔ میں کیسے دے سکتی ہوں اگزامزس ۔۔۔ مناہل نے بےبسی سے کہا ۔۔۔
“یہ بہانے ہیں سارے , تمہیں پیپرز دینے ہیں ۔۔۔ تیاری شروع کرو ۔۔۔ دائم نے اگلا حکم دیا ۔۔۔
“جی ۔۔۔ مناہل مری ہوئی آواز میں بولی تھی ۔۔۔ اسے پڑھائی میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی جبکہ اس خاندان کی سب سے جینیئس لڑکی زونی تھی جو ہمیشہ ٹاپر رہی تھی ۔۔۔ ایمن بھی ٹھیک ٹھاک پڑھ لیا کرتی تھی پر مناہل کی جان جاتی تھی پڑھائی سے ۔۔۔ اب دائم کے اس حکم پر جل کر خاک ہوگئی تھی ۔۔۔
“کل سے کتابیں مجھے کمرے میں دکھنی چاہیئیں ۔۔۔ دائم کی بات اس نے دانت پیس کر سنی اور کہا ۔۔
“ہاں کل ہونے تو دیں ۔۔۔ یہاں لائبریری بنادوں گی ۔۔۔ مناہل نے دل ہی دل میں سوچا ۔۔۔
دائم اذان کو پیار کرتا کمرے سے چلا گیا ۔۔۔۔
@@@@@@@
“پلیز عالم بھائی مجھے واپس جانا ہے گاؤں ۔۔۔ اگلے دن رات کو شانزے نے کہا ۔۔۔
“واٹ پر کیوں وہ بھی اتنا جلدی ۔۔۔ عالم حیران ہوا اس کے چہرے کی بیزاریت دیکھ کر ۔۔
“بسس بھائی , یہاں دل نہیں لگ رہا ۔۔۔ شانزے نے سادگی سے کہا ۔۔۔
“سوری کرتا ہوں روشانے کی طرف سے ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔
“نہیں نہیں اپ نہ کہیں ۔۔۔ شانزے نے کہا ۔۔۔
“پلیز مجھے نہ روکیں , مجھے دادا حضور کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا ہے ۔۔۔ شانزے نے سکون سے کہا ۔۔۔
“اوکے , پر دو دن ٹھر جاؤ , کل میں خود تم سب کو کراچی گھماؤں گا ۔۔۔ عالم نے اس کی خوشی کے لیۓ پلان بنایا ۔۔۔
“ٹھیک ہے بھائی ۔۔۔ شانزے کہے کر اندر کمرے کی طرف چلی گئی ۔۔۔ وہ اسے جاتا دیکھتا رہا ۔۔۔ دل میں ملال ہوا ۔۔۔
@@@@@@@@@
“تھوڑی سی شرم آۓ تو کر بھی لو ۔۔۔ عالم نے کمرے میں اتے ہی روشانے کو کہا جو ایک کتاب پڑھ رہی تھی ۔۔۔
“جن کو آنی چاہیۓ ان کو تو نہ آئی تو مجھے کیا خاک آۓ گی ۔۔۔ روشانے کتاب پر نظر جماتی ہوئی بولی ۔۔۔
“تمہاری بہن دکھی ہوکر واپس گاؤں جانے کا کہے رہی ہے ۔۔۔ صرف تمہارے اس رویۓ کی وجہ سے ۔۔۔ عالم خان نے جتایا ۔۔۔
وہ اس کی بات سن کر بغیر کسی شرم کے ڈھٹائی سے بولی ۔۔۔
“اچھی بات ہے واپس چلی جاۓ مجھے اس کی ضرورت نہیں , پتا نہیں کس کے لیۓ آئی ہے یہاں ۔۔۔ جہاں اہمیت نہ ہو وہاں ٹھرنا بےکار ہے ۔۔۔
وہ دوبارہ کتاب کی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔ وہ اسے اچھا خاصا زچ کرچکی تھی ۔۔۔
“میں تمہیں کچھ کہتا نہیں اس کا مطلب یہ نہیں تم سہی ہو ۔۔۔ عالم نے تند لہجے میں کہا ۔۔۔
“تو ۔۔۔ روشانے نے آۓ برو اچکاۓ ۔۔۔
“اس کا مطلب یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں کچھ وقت دوں اس رشتے کو سمجھنے کے لئے اور تمہیں سنبھلنے کے لیئے ۔۔۔ عالم نے سمجھایا ۔۔۔
“ہممممم , وقت کے ساتھ آپ کو سمجھ آجائے گا کہ زبردستی کے تعلق کبھی بھی نہیں چلتے, مجھے پورا یقین ہے اس بات پر ۔۔۔ روشانے نے سکون سے کہا ۔۔۔
“مجھے زبردستی پر مجبور نہ کرو روشانے عالم خان , تمہیں سمجھنا ہے اور میری بیوی بن کر ہی رہنا ہے ۔۔۔ عالم خان دوٹوک لہجے میں بولا ۔۔۔
“ناممکن ہے یہ عالم خان ۔۔۔ روشانے نے ضدی لہجے میں کہا ۔۔۔
روشانے کا چیلینجنگ انداز اسے غصہ دلا گیا ۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ سے کتاب چھین کر ٹیبل پر پٹخی اور اپنے روبرو کھڑا کر گیا ۔۔۔
“میں چاہوں تو منٹوں میں , تمہاری اکڑ , تمہارا غرور توڑ دوں اور تمہارے اندر میری بیوی ہونے کے احساسات جگا سکتا ہوں ۔۔۔ سمجھی تم ۔۔۔ عالم کے لہجہ میں غرور تھا اپنی مردانگی کا ۔۔۔
“ہاں سمجھ گئی , آپ سواۓ زبردستی کے , کر ہی کیا سکتے ہیں ۔۔۔ روشانے نڈر لہجے میں بولی ۔۔۔
“ہمممم زبردستی کہنا آسان ہے پر ۔۔۔ وہ اس کے بازو پر گرفت مضبوط کرتا اس پر جھکتا ہوا بولا تھا , اس نے جان بوجھ کر جملا ادھورا چھوڑا اسے ڈرانے کے لیۓ ۔۔۔
“میں ابھی کے ابھی تم سے تمہارا سارا غرور چھین سکتا ہوں روشانے عالم ۔۔۔ اس سے پہلے سدھر جاؤ ۔۔۔ وہ اس کے کان کے پاس سرگوشی کے انداز میں بولا ۔۔۔ اس کے کان کی لو پر اپنا لمس چھوڑا تھا عالم نے ۔۔۔ وہ جو اس کے لمس پر گھبرا جاتی تھی اج ذرہ نہ ڈری نہ گھبراہی بلکہ کھڑی رہی اسی انداز میں آنکھون میں نفرت لیۓ ۔۔۔
وہ اس کی آنکھون میں جھانکتا بولا “پھر کیا کہتی ہو ۔۔۔
وہ ایک دم اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی خود سے دور کرتے ہوۓ بولی ۔۔۔ “مجھے ڈرانے کی ضرورت نہیں , مرد ہو کرو زبردستی , میں بھی دیکھوں کہاں کا مرد , کہاں کی مردانگی ہے اس سب میں ۔۔۔ کونسی تمہاری انا کو سکون ملے گا یہ سب کرکے , میں بھی تو دیکھوں ۔۔۔
وہ ایک دم اپنا دوپٹا اتار کر زمیں پر پھینکتی ہوئی چیلیجنگ انداز میں بولی تھی ۔۔۔
“جو کرنا چاہو کرسکتے ہو پر یاد رکھنا روشانے نوروز خان کے اندر بسی اس نفرت کو کبھی ختم نہیں کرسکتے تم عالم خان ۔۔۔۔
آج وہ اپنے اندر کا سارا خوف اس کے سامنے نکال کر نڈر بن کر کھڑی تھی عالم خان اس کے اس انداز پر دنگ رہ گیا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
