Rate this Novel
Episode 18
عید اپنوں کے سنگ
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 18
(ماضی)
باذل خان ناشتہ کرنے کے بعد اسے لیۓ روم میں آیا ۔۔۔ وہ حیران ہوئی وہ بکھرے روم کو بلکل صاف کر کے ہی نیچے ایا تھا ناشتہ کرنے ۔۔۔ زونی نے کبھی اپنے گھر کے مردوں میں یہ عادت نہ دیکھی تھی سو حیران ہونا بجا تھا ۔۔۔
“زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں , یہ لو دوائی ۔۔۔ جلدی کھاؤ ۔۔۔ باذل نے تند لہجے میں کہا , اس کی طرف گولی اور پانی کا گلاس بڑھایا ۔۔۔
“یہ کس چیز کی ہے گولی ۔۔۔ زونی نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔۔۔
“زہر کی یقینن نہیں ہے , بےفکر ہوکر کھاؤ ۔۔۔
اس کے لٹھ مار جواب پر گڑبڑا گئی اور جلدی سے پانی کے ساتھ نگل گئی ۔۔۔
“درد کم ہوجاۓ گا اس گولی سے اور ارام بھی آجاۓ گا ۔۔۔ چلو سوجاؤ رات بھر سوئی نہیں ۔۔۔ اس کے ہاتھ سے گلاس لے کر ٹیبل پر رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ تھامتا بیڈ پر لے گیا اور اسے لیٹنے کا حکم دیا ۔۔۔ وہ اس پر کمفرٹ ڈالتا پیشانی چوم گیا ۔۔۔
“ہمممم اب آرام کرو ۔۔۔ ایک اور حکم اسے دیا ۔۔۔
“پر گھر کے کام ۔۔۔ وہ معصومیت سے بولی , اس کے اس انداز پر وہ اسے گھریلو بیوی لگی جسے گھر کی فکر ہلکان رکھتی ہے , اتنی کم عمری اور میچیورٹی کا یہ انداز , باذل خان کو حیران کرگیا , پر وہ زونی سے اپنی حیرانگی چھپاگیا , جب بولا تو سرسری لہجے میں بولا ۔۔۔
“وہ بھی ہوتے رہیں گے ۔۔۔ فی الحال ارام کرو ۔۔۔۔ اس کے نرم انداز پر وہ کچھ ریلیکس ہوئی ۔۔۔ اس کے عجلت میں پلٹنے پر وہ پوچھ بیٹھی ۔۔۔
“آپ کہیں جارہے ہیں ۔۔۔ زونی نے پوچھا ۔۔۔ وہ بےساختہ اس کا ہاتھ بھی تھام گئی ۔۔۔
وہ حیران ہوکر پلٹا ۔۔۔اور آرام سے اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالتا بولا ۔۔
“ہاں کام سے جارہا ہوں شام تک اجاؤں گا فکر نہ کرو ۔۔۔
“مجھے بھی شام کو ہاسٹل جانا ہے ۔۔۔ زونی نے ڈرتے ہوۓ کہا ۔۔۔ باذل خان کو دوبارہ اسے چھوڑنے کے لیۓ نکلنا پڑے گا اس لیۓ جلدی بتاگئی تاکہ اپنی سھولت سے وہ اس کے جانے کا انتظام کرے ۔۔۔
“فی الحال یہیں رہوگی تم , کیونکہ دو دن بعد ویسے بھی ایسٹر کی چھٹیاں ہورہی ہیں اس لیۓ یہیں رہو تم ایک دن میں پڑھائی کا زیادہ حرج نہ ہوگا سمجھی ۔۔۔۔ باذل خان نے کہا ۔۔۔
“جی جی ۔۔۔ وہ لیٹے لیٹے بولی تھی ۔۔۔
“ویسے بھی , اچھی بیوی کے سارے حقوق یہ شوہر ادا کرے گا , نا تمہیں کوئی شکایت رہے گی مجھ سے نہ تمہارے تایاجان کو کوئی شکایت رہے گی مجھ سے اب ۔۔۔
باذل کے کہے آخری لفظوں سے زونی کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس ہوئی ۔۔۔ شرم سے اس کی پلکیں لرزیں ۔۔۔ وی دلچسپی سے اس کے چہرے کو فوکس کرتا ہوا بولا ۔۔۔
“اچھی طرح ارام کرلو کیونکہ رات کو بمشکل ہی نیند کا وقت ملے گا تمہیں ۔۔۔ پھر آرام کی شکایت نہ کرو اس لیۓ کہے رہا ہوں ۔۔۔
وہ اسے اچھے طرح باور کرواگیا اس عنایت کا مقصد ۔۔۔ زونی کی ٹانگیں کانپ گئیں اس کی بات کا مطلب سمجھ کر ۔۔۔ وہ خود میں سمٹ کر رہ گئی ۔۔۔ چہرہ بلکل گلابی ہوگیا تھا اس کی باتوں سے ۔۔۔
وہ جھک کر اس کے گلابی چہرے کو تھام گیا ۔۔۔ اس کے چہرے کے خوبصورت رنگوں کو اپنے ہونٹوں کے تبسم سے چرانے لگا ۔۔۔ زونی کے کسی انداز میں مذاحمت نہ دیکھ کر وہ کتنے لمحے امر کرگیا وہ اپنے منہ زور جذبات میں بہکتا جارہا تھا , وہ مکمل اس کے رحم و کرم پر تھی ۔۔۔ وہ اتنی حسین تھی اس پر نشے کی طرح چھانے لگی تھی اس کے حواسوں پر , وہ اپنے منہ زور جذبوں کو روک نہ سکا چاہ کر بھی ۔۔۔ وہ بیڈ پر اگیا اس کے ساتھ , کمفرٹ میں اس کے وجود کو خود کے نزدیک کرتا وہ ایک بار پھر جذبات میں بہکنے لگا تھا ۔۔۔ وہ اس کے وجود پر چھانے لگا اس کی جسارتیں بڑھنے لگیں ۔۔۔
“آپ کو جانا تھا ۔۔۔
زونی نے گھبرائی آواز میں کہا , اس سے بہتر طریقہ نہ لگا اسے روکنے کا ۔۔۔
“ششششش ۔۔۔ باذل نے بس اتنا ہی کہا اور اس کے ہونٹوں پر جھک گیا ۔۔۔ نیند میں بوجھل آنکھیں لیۓ وہ ایک بار پھر خود کو اپنے شوہر کے سپرد کر گئی , وہ چاہ کر بھی کسی طرح اس پر بند نہیں باندھ سکتی تھی نا ہی اسے غصہ دلانا چاہتی تھی , کیونکہ کل رات اس کا غصہ سہے چکی تھی دوبارہ سہنے کا حوصلہ نہ تھا اس میں , اس لیۓ خودسپردگی میں ہی بہتری جانی اس نے ۔۔۔
دن کے ایک بجے باذل کی آنکھ کھلی زونی اس کے بازو پر سر رکھے سورہی تھی ۔۔۔۔ وہ نرمی سے اس کے سر کو تکیہ پر رکھتا آرام سے اٹھا بیڈ سے تاکہ اس کی نیند میں خلل نہ پڑے ۔۔۔ پلٹ کر باذل نے اس کا چہرہ دیکھا جو ابھی بھی گلابی ہورہا تھا ۔۔۔
“کتنی معصوم ہو تم , چاہے جانے قابل زرتاشہ باذل خان , کیسے میری شدتوں کو برداش کرلیتی ہو اور ایک حرف شکایت بھی نہیں کرتی ۔۔۔ باذل خان نے اسے دیکھ کر خود سے کہا ۔۔۔
اس کے سکون سے سونے پر حیران ہوتا رہا وہ ۔۔۔
“کتنی معصوم ہوتی ہیں لڑکیاں ظالم شوہر کی سب زیادتیاں برداش کرلیتی ہیں پھر بھی ایک حرف شکایت نہیں کرتیں ۔۔۔ باذل خان اتنا کہتا واشروم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔ فریش ہوکر باہر ایا اور آرام سے کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔
@@@@@@@@
شانزے اب پہلے کی طرح روشانے سے بات کرنے سے کترانے لگی تھی کیونکہ اس کے انداز میں اب بھی سرد مہری تھی ۔۔۔ ہاں پہلے والی شدت نہ رہی تھی غصے میں ۔۔۔
دو دن اور رہ کر شانزے گاؤں واپس جاچکی تھی ۔۔۔ عالم خان نے اس کو کافی شاپنگ کروائی تھی ۔۔۔ جتنے دن شانزے تھی شمائل کو وہ سنبھال رہی تھی کیونکہ صبح کے چھے گھنٹے زونی یونی میں ہوتی تھی وہاں سے واپس اتی تو شانزے اسے تیار کرکے کھانا کھلا کر سلادیتی تھی تاکہ زونی ارام کرسکے ۔۔۔
باقی وقت بھی ملازمہ کے ہوتے ہوۓ بھی زونی اپنی بیٹی کو خود سنبھال رہی تھی , اتنے دنوں میں روشانے کو اندازہ ہوگیا تھا زونی کم عمر ہونے کے باوجود ایک اچھی ذمیدار ماں ہے ۔۔۔۔ زونی کا بچے کے ساتھ پڑھائی کرنا حیران کن تھا روشانے کے لیۓ ۔۔۔ جس کا وہ برملا اظہار بھی کرتی رہتی تھی ۔۔۔
آج شانزے نہیں تھی تو شمائل ملازمہ سے سنبھل نہیں رہی تھی ۔۔۔ عالم خان صبح کے دس بجے نکل رہا تھا شمائل کی آواز سن کر فکرمند ہوکر ملازمہ سے اس کے رونے کی وجہ پوچھی ۔۔۔
“صاحب شانزے بی بی سنبھال رہیں تھیں اتنے دنوں سے اب دوبارہ مجھ سے مانوس ہونے میں وقت تو لگے گا ۔۔۔
ملازمہ نے بےبسی سے کہا ۔۔۔ عالم خان اسے اٹھاکر چپ کروانے کی کوشش کرنے لگا وہ اور شدت سے رونے لگی ۔۔۔
عالم اسے اٹھاۓ اپنے کمرے میں لے ایا ۔۔۔
“کیا مصیبت ہے لے جاؤ اسے یہاں سے رحیمہ , دیکھ نہیں رہی میں سورہی ہوں ۔۔۔ روشانے نے بند آنکھوں سے کہا اور تکیہ کانوں پر رکھتی دوبارہ کمفرٹ میں منہ ڈالے سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
شمائل اپنی بےقدری پر اور شدت سے روپڑی ۔۔۔ عالم خان شاک ہوا اپنی بیوی کی بےحسی پر ۔۔۔
“سنائی نہیں دیتا , جاؤ دفع ہو , تم لوگوں نے مجھے شانزے سمجھ رکھ۔۔۔۔۔ وہ کمبل پھینکتی غصے سے بولی سامنے عالم خان کو شمائل کو اٹھاۓ دیکھ کر نروس ہوئی ایک لمحے کو ۔۔۔
“اتنی بےحسی اور نفرت ایک معصوم بچی کے لیۓ , چلو ہمارے رشتے کے پیچھے تمہارا جو بھی تعلق ہو اس سے پر تمہارے اکلوتے بھائی کی اولاد ہے , کیسی خودغرض عورت ہو تم ۔۔۔ عالم خان خود کو روک نہ پایا یہ سب کہنے سے ۔۔
“نہیں ہیں مجھے بچے پسند , روتے چیختے چلاتے بچے ۔۔۔ اس میں خود غرضی کیسی ہے ۔۔۔ خود غرض تو وہ ماں ہے جو اپنا بچہ چھوڑ کر پڑھائی کرنے جاتی ہے , میں نہیں ہوں خودغرض سمجھے ۔۔۔ روشانے نے بدتمیزی سے کہا ۔۔۔
“اپنی بکواس بند کرو ۔۔۔ عالم خان کو اس پر غصہ آیا ۔۔
“کیوں سچ کڑوا لگتا ہے ۔۔۔ حقیقت یہی ہے خودغرض تم دونوں بھائی بہن ہو بلکہ تم سب لوگ ہو ۔۔۔ میرے بھائی کو چارے کی طرح استعمال کرکے اس بےجوڑ رشتے میں باندھ دیا خود ہی , اتنے ہی اچھے تھے تم سب تو چچا جان اپنی بیٹی کو ونی نہ کرنا پڑے اس ڈر سے میرے بھائی کی آزادی چھین لی , دادا جان نے , میرے باباجان کو معافی کی شرط میں میری زندگی کو داؤ پر لگادیا ۔۔۔ تم سب لوگ خودغرض اور ظالم ہو , ہم نہیں ۔۔۔ روشانے کے منہ میں جو ایا بولتی چلی گئی , ویسے بھی اس کی برداش کی اسیٹیمنا کم ہی تھی ۔۔۔ بےساختہ عالم کا ہاتھ اٹھنے والا تھا بروقت خود کو روک گیا ۔۔۔ پر روشانے لمحے بھر کو چپ ہونے کے بعد بولی ۔۔۔
“رک کیوں گۓ مارو یہی تو کرسکتے ہو تم روایتی گاؤں کے پڑھے لکھے جاھل مرد ہو ۔۔۔
“اپنی بکواس بند کرو , ایک تھپڑ لگایا تو چودہ طبقے روشن ہو جائیں گے تمہارے اور اگلی مرتبہ کہنے کے قابل نہیں رہوں گی یہ کسی عام مرد کا ہاتھ نہیں ہے یہ پولیس والے کا ہاتھ ہے جب پڑتا ہے تو اتنی زور کا پڑتا ہے کہ صدیوں یاد رہے ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔ اس سے پہلے روشانے اور کچھ کہتی شمائل کے رونے پر اسے اٹھاتا عالم خان باہر چلاگیا ۔۔۔
وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔
@@@@@@@
وہ آذان کو اس کے کاٹ میں سلاکر پلٹی اسی لمحے دائم کو اپنے پیچھے دیکھ کر حیران ہوئی ۔۔۔
“کچھ چاہیۓ آپ کو ۔۔۔ گھڑی میں رات کے گیارہ کا ٹائم دیکھ کر بولی ۔۔۔
“نہیں , کتاب اٹھاؤ پڑھنا ہے آج بہت لیٹ ہوگۓ , مجھے اٹھادیتی ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔
“مجھے لگا آپ کے سر میں درد ہے , شاید آج آپ نہیں پڑھائیں گے ۔۔۔ مناہل نے کچھ سوچ کر کہا ۔۔۔
“تو اگر میں نہیں پڑھاؤں گا تو تم کتاب ہی نہیں کھولوگی ۔۔۔ دیکھو مناہل مجھے سختی پر مجبور نہ کرو ۔۔۔
مناہل نے لب کھولے کچھ کہنے کے لیۓ پر شاید آج وہ اس کی سننے کے موڈ میں بلکل نہ تھا, اس لیۓ دوبارہ شروع ہوا ۔۔۔
“بسسس پھر وہی بہانہ کروگی آذان کا , میری ایک بات کان کھول کر سن لو اگر تم آذان کے معاملے میں کوتاہی نہیں برداش کرسکتی تو میں بھی تمہاری پڑھائی کے معاملے میں لاپروائی برداش نہیں کروں گا ۔۔۔ یہ مجھ سے کبھی برداش نہ ہوگا میرے بچے کی وجہ سے تم اپنی ایجیوکیشن ادھوری چھوڑو ۔۔۔ کچھ سیکھو جا کر زونی سے , بچی کے ساتھ پڑھائی بھی جاری رکھی ہوئی اور ایک تم ہو جس کو بس بہانہ چاہیۓ نہ پڑھنے کا ۔۔۔
وہ شدید غصے میں بولے جارہا تھا بغیر اسے موقع دیۓ , آہستہ آہستہ اس کا لہجہ اور تیز ہونے لگا ۔۔۔
“ایک اور بات , ایک اکیلی تم نے ٹھیکہ نہیں لیا آذان کو سنبھالنے کا جو ایک لمحہ اسے خود سے دور نہیں کرتی ایک گلاس پانی مانگو تو بھی تمہاری جان نہیں چھوڑتا وہ , اتنا تھوڑی عادی کرتے ہیں بچوں کو ۔۔۔ اسے دوسروں کی بھی عادت ڈالنے دو اس طرح تو تم خود کو ٹائم نہیں دے پاؤگی ۔۔۔
مناہل شاک ہوکر اسے سن رہی تھی ۔۔۔
“اب کھڑی کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہوں اٹھاؤ کتابیں پڑھنا نہیں ہے ویسے بھی چند ہی دن رہ گۓ ہیں امتحان میں ۔۔۔
وہ بولنے پر ایا تو نان اسٹاپ بغیر مناہل کو موقع دیا بولتا چلا گیا وہ جو اتنی دیر سے کچھ بولنے کے لیۓ لب کھولتی پر دائم اسے بلکل موقع نہ دے رہا تھا اس لیۓ تھک خاموش ہوگئی تھی ۔۔۔
“کیا ہوا بولو اب پڑھنا نہیں ہے کیا , اب کہو گی تھک گئی ہوں , اب پڑھا نہیں جارہا کل پڑھ لوں گی , کہو کہو جو دل میں ہے کھل کے کہو ۔۔جو کہنا ہے کہے دو ۔۔۔
وہ ایسے کہنے کا کہے رہا تھا جیسے کوئی عظیم احسان کررہا ہو اسے بولنے کی اجازت دے کر ۔۔۔ اب دائم اپنی ساری حسین اس پر مرکوز کرچکا تھا وہ مکمل ہم تن گوش تھا اس کی طرف ۔۔۔
وہ اس کے سب انداز کو سوچ کر لمبی سانس خارج کرتی ہوئی بولی ۔۔۔
“تو سنیں اور ذرہ نیچے کاؤچ پر نظر دوڑائیں یہ صرف دکھاوے کے لیۓ نہیں پھیلائی گئی ہیں کتابیں , غالبٍا میں پچھلے تین گھنٹوں سے , یہاں پڑھ رہی تھی , تھک کر آذان نیچے سوگیا اسے اٹھاکر بس کاٹ میں لٹانے کو اٹھی تھی ۔۔۔ چاہۓ اپنی تسلی کے لیۓ سوال کرنا چاہیں کرسکتے ہیں ۔۔۔ آۓ ڈونٹ مائینڈ ایٹ آل ۔۔۔
اس کے طنزیہ پر اب کے دائم شاک ہوا تھا ۔۔۔
دائم خان شدید شرمندہ ہوا اپنے کہے لفظوں پر کیونکہ اکثر صوفے پر اسے پڑھاتا تھا جو بیڈ کے رائیٹ سائیڈ پر تھا ۔۔۔ رائیٹ سائیڈ وہ سوتا تھا اس لیۓ وہاں کتابیں نہ دیکھ کر وہ سمجھا اس نے پڑھائی نہیں کی اج ۔۔۔ جبکہ بےبی کاٹ بیڈ کے سامنے تھا ۔۔۔ مناہل آذان کی آسانی کے لیۓ بیڈ کے لیفٹ طرف اسے کھلونے دے کر وہیں پاس ہی کاؤچ پر پڑھ رہی تھی تاکہ آذان دائم کی نیند بھی خراب نہ کر سکے اور سکون سے کھیلتا رہے ۔۔۔ جبکہ وہ خود پڑھ بھی رہی تھی اور اس پر نظر بھی رکھ سکے ۔۔۔ اسی وجہ سے دائم کو شدید غلط فہمی ہوگئی تھی اب اپنے لفظوں پر شدید شرمسار ہوکر کھڑا تھا ۔۔۔
“سوری میں کچھ زیادہ ہی بول گیا ۔۔۔ اس کا لہجہ شرمندگی سے بھرپور تھا ۔۔۔
“ویسے ایمن ٹھیک کہتی تھی آپ کے بارے میں جب آپ بولنے پر اتے ہیں تو شیطان بھی پناھ مانگے آپ کی زبان سے ۔۔۔ مناہل نے بےساختہ کہا , کہنے کو کہے گئی پر اپنی زبان کے پھسلنے پر شدید افسوس ہوا اسے اور زبان کو دانتوں دبا گئی ۔۔۔
دائم شاک ہوا اس کی بات پر واقعی ایمن ایسا کہا کرتی تھی اس سے ۔۔۔
“خدا کو مانیں دائم , شیطان بھی پناھ مانگے اپ کی زبان سے , جب بولنے پر آئیں تو رکتے ہی نہیں آپ , چپ کروانا مشکل ہے آپ کو ۔۔۔ ایمن آنکھیں دکھاتے ہوۓ اسے بولتی تھی ۔۔۔
کتنا کچھ , کتنے گزرے لمحے یاد آۓ دائم کو , ایمن کی باتیں اس کی شرارتیں اس کے قہقہے , کتنی زندہ دل لڑکی تھی وہ ۔۔۔ ساری رونقیں اس سے تھیں دائم کی زندگی میں ۔۔۔
“سوری سوری ۔۔۔ مناہل نے شرمندگی سے کہا ۔۔۔
“آپ کے لیۓ کھانا گرم کرکے لاتی ہوں , بھوک لگی ہوگی آپ کو ۔۔۔ مناہل نے اپنی بات کا اثر ختم کرنے کے لیۓ جلدی سے کہا ۔۔۔
“نہیں بھوک نہیں ۔۔۔ دائم نے بھاری لہجے میں کہا ۔۔۔ وہ چہرے کا رخ پھیر گیا وہ جانتی تھی وہ اپنی آنکھوں کی نمی چھپارہا ہے ۔۔۔
“تھوڑا سا کھالیں میں گرم کرکے ابھی آئی ۔۔۔ مناہل اتنا کہے کر جلدی سے باہر نکلی ۔۔۔
@@@@@@@@
“کیوں اتنا جلدی چلیں گئیں , ہمیں چھوڑ کر ایمن آپی , دیکھیں دائم ادھورے لگتے ہیں آپ کے بغیر ۔۔۔ کتنی محبت کرتے ہیں آپ سے ۔۔۔دائم آپ کے ہیں اور آپ کے ہی رہیں گے تاعمر ۔۔۔ وہ کچن میں اکر اپنے آنسو پونچھ کر خود سے بولی ۔۔۔
رات کے اس پہر کوئی کچن میں نہ تھا ویسے بھی یہ ایک گاؤں تھا یہاں سب جلدی سونے کے عادی تھے ۔۔۔ اس لیۓ اس وقت کچن میں اکیلی تھی وہ ۔۔۔ کھانا گرم کرنے لگی جلدی جلدی کہیں دائم سو نہ جاۓ دوبارہ ۔۔۔
وہ کھانا گرم کرکے ساتھ میں پانی کا گلاس رکھے ٹرے تھامے اپنے روم کی طرف جانے لگی ۔۔۔
وہ صوفے کے سامنے پڑی ٹیبل پر کھانا رکھتی ۔۔۔ دائم کی طرف پلٹی جو آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا تھا ۔۔۔ مناہل کو اس کے کرب کا اچھی طرح اندازہ تھا ۔۔۔
اس نے دائم کو آوازیں دیں پر ہنوز اسی پوزیشن میں لیٹا رہا ۔۔۔ مناہل کو غصہ آیا اور اسے جھنجھوڑ کر اٹھانے کا ارادہ کرتی ہوئی اس کی طرف مڑی کسی چیز میں پاؤں اٹکنے کی وجہ سے سیدھا اس پر اگری ۔۔۔ دونوں اس افتاد پر بوکھلا گۓ ۔۔۔
وہ سینے پر گری تھی , ہلکے سے جھوڑے اسٹائل میں بندھے بال کھل کر اس کے چہرے پر بکھر گۓ لمحے بھر کو دائم سانس روک گیا ۔۔۔ اس کی زلفوں کی خوشبو نے اسے معطر کردیا ۔۔۔
“ایمن پلیز یار بال بڑھاؤ مجھے لمبے بال بہت پسند ہیں ۔۔۔ دائم اکثر ایمن سے کہتا تھا شادی کے بعد ۔۔۔
“پلیز دائم , مجھے نہیں پسند لمبے بال بس شولڈر سے کچھ نیچے تک ٹھیک ہیں ۔۔۔ لمبے بالوں کا کیا کرنا جسے سلجھانہ بھی ایک عذاب ہو ۔۔۔۔ ایمن چڑ کر کہتی ۔۔۔۔
“میں مدد کردوں گا سلجھانے میں , پلیز بڑھاؤ نا ۔۔۔ دائم التجا کرگیا پیار سے ۔۔۔ جس پر وہ اثبات میں سرہلاتی پر اس کے بال بڑھتے ہی کم تھے ۔۔۔ اس لیۓ اپنی پیاری بیوی کے لمبے بالون کی حسرت ہی رہی اسے ۔۔۔
دائم سوچوں سے نکل کر جلدی سے بولا ۔۔۔
“یہ کونسا نیا طریقہ دریافت کیا ہے اٹھانے کا مناہل بیگم ۔۔۔
“وہ غلطی سے پاؤں پھسل گیا۔۔۔ وہ شرمندہ ہوکر اٹھنے لگی پر اس کے لمبی بال اس کی قمیص کے بٹن میں پھنس گۓ تھے ۔۔۔ وہ دوبارہ اس پر گرگئی ۔۔۔ شرمندہ ہوکر مناہل نے نظریں جھکالیں اور جلدی نکالنے لگی جو نکلنے کے بجاۓ اور الجھ گئی ۔۔۔ مناہل کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگیں ۔۔۔ اندر ہی اندر ڈھیر ساری شرمندگی نے اسے دوچار کیا ۔۔۔
وہ بری طرح اپنے بالوں کو کھیچنے لگی تاکہ اس سے دور ہوسکے جس پر دائم اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ گیا ۔۔۔
“رہنے دو میں خود نکال لوں گا , چپ کرکے بیٹھو ۔۔۔ ورنہ تم نے ان خوبصورت بالوں کا ستیاناس کردینا ہے ۔۔۔۔ دائم دھیمے لہجے میں کہتا مناہل کا دل دھڑکا گیا ۔۔۔ اس نے چونک کر دائم کو دیکھا جس کی توجہ بالوں پر تھی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
۔۔
