Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

عید اپنوں کے سنگ

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 23

The Final truth …. part 2

“ٹھیک ہو تم روشنی ۔۔۔ اب کیسا محسوس کررہی ہو ۔۔۔ عالم خان نے اسے آنکھیں کھولتے دیکھا تو جلدی سے اس کے پاس اکر بولا ۔۔۔

روشانے اپنے حواسوں میں لوٹتے ہی اس کی آنکھوں کے اگے پھر وہی منظر اگیا ۔۔۔

“نہیں نہیں دور ہوجائیں مجھ سے ۔۔۔ مجھے مت ماریں مجھے مت ماریں , میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ روشانے چیخ چیخ کر کہتی رہی اور عالم خان شاک کی کیفیت میں اسے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔

“سر ڈونٹ وری دوبارہ آرام کا انجشکن دے دیتے ہیں ۔۔۔ دو نرسوں نے اسے تھاما اور دوبارہ انجکشن لگا کر اسے بےہوش کردیا ڈاکٹر نے ۔۔۔

“یہ کیفیت کب تک رہے گی ۔۔۔ عالم خان نے فکر سے پوچھا ۔۔۔

“آۓ تھنک نیکسٹ ٹائم آپ ان کے سامنے نا آئیۓ گا کچھ دیر جب ہوش میں رہیں گی تو خود ہی سمجھ جائیں گی حالات کو ۔۔۔ ڈاکٹر نے کہا ۔۔۔

“پہلی دفعہ انہوں نے اینکاؤنٹر ہوتے دیکھا ہے یہ کیفیت ہونا عام بات ہے ۔۔۔ ڈونٹ وری سر ۔۔۔ ڈاکٹر نے عالم خان کو ریلیکس کرنے کی کوشش کی ۔۔۔ کل سے جو یہیں بیٹھا تھا اس کی فکر میں ۔۔۔

“اگر مجھے پتا ہوتا تم اس قدر ذہن پر سوار کروگی تو تمہیں گھر بھیج کر پھر سب کرتا , روشنی مجھے اندازہ نہ تھا ۔۔۔ معاف کردو مجھے ۔۔۔ عالم خان نے خود سے کہا افسوس کرتے ہوۓ ۔۔۔

زونی واپس گھر چلی گئی تھی کافی دیر یہاں بیٹھی رہی تھی ۔۔۔ حویلی والوں کو بتانے سے منع کردیا تھا عالم خان نے زونی کو ۔۔۔ اس لیۓ اس نے سوچ لیا تھا کسی کو نہیں بتانا ۔۔۔

@@@@@@@@

“پلیز دادا حضور دانیال واپس انا چاہتا ہے اپنوں کے بیچ ۔۔۔ پلیز اجازت دے دیں ۔۔۔ دائم اکبر خان اور مھروز خان کے روبرو بیٹھا اپنے چھوٹے بھائی کا مقدمہ لڑرہا تھا ۔۔۔

“یہ ناممکن ہے , جو اس نے حرکت کی ہے اس کے بعد اسے یہاں آنے کی اجازت نہیں ۔۔۔ دادا حضور نے کہا ۔۔۔

“میرا بھی یہی فیصلہ ہے ۔۔۔ مھروز خان نے کہا ۔۔۔

“پلیز دادا حضور اور باباجان وہ وہاں سے نکل چکا ہے , آج رات پاکستاں کی سرزمین پر قدم رکھے گا ۔۔۔ کہاں جاۓ گا وہ ۔۔۔ دائم نے فکرمندی سے کہا , شاید کچھ رحم اجاۓ ان کو پر ان کے سخت تاثرات نے دائم کی ساری خوشفہمیوں کو دور کردیا ۔۔۔

“جھنم میں جاۓ ہماری طرف پر یہاں نہ آۓ ۔۔۔ مھروزخان کے اس کٹھور انداز پر گل خانم کے ہاتھ سے چاۓ کے کپ گرگۓ جو لے کر ارہی تھیں شام کے اس پہر اپنے شوہر اور سسر کے لیۓ ۔۔۔

کپ تو گرگۓ پر بروقت مناہل ان کو نہ تھامتی تو وہ زمیں بوس ہوجاتیں ۔۔۔

“مامی جان آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔ مناہل نے فکر مندی سے کہا ۔۔

دائم خان اور مناہل نے مل کر گل خانم کو صوفے پر بٹھایا ۔۔۔

“جاؤ جوس لے کر آؤ اماں کے لیۓ ۔۔۔ دائم نے مناہل کو حکم دیا ۔۔۔

“ہمممم ابھی لے کر اتی ہوں مناہل کے چہرے پر شدید فکر کے آثار تھے گل خانم کے لیۓ کیونلہ ماں سے بڑھ کر چاہتی تھیں مناہل کو , اس لیۓ مناہل بھی ان کو بہت چاہتی تھی ۔۔۔ سب کے چہرے پر فکر تھی ۔۔۔

“مجھے جوس نہیں چاہیۓ ۔۔۔ بابا حضور رحم کریں میری ممتا پر , میرے بیٹے کو حویلی انے کی اجازت دے دیں , ورنہ میں مرجاؤں گی ۔۔۔ گل خانم نے اکبر خان سے ہاتھ جوڑ کے التجا کی ۔۔۔

“چپ کرجاؤ گل خانم , بابا حضور کا فیصلہ آخری ہوگا ۔۔۔ دانیال جیسے نالائق اولاد کی مجھے ضرورت نہیں ۔۔۔ تم بھی بھول جاؤ اسے ۔۔۔ مھروز خان نے غصے سے کہا ۔۔۔ مھروز خان کے چہرے کے کرخت تاثرات پر گل خانم گھبرا گئیں نم آنکھوں سے التجا بھری نظروں سے اکبر خان کو دیکھنے لگیں ۔۔۔

جبکہ اکبر خان نے بہو کے جڑے ہاتھ کھول دیۓ اور کہا ۔۔۔

“گل خانم تم بہو نہیں میری بیٹی جیسی ہو ۔۔۔ جو دانیال نے کیا اس کے بعد اگر اسے حویلی انے کی اجازت دوں تو خود سوچو صبیحہ کو کتنی تکلیف ہوگی ۔۔۔ میری بیٹی کی مرضی جانے بغیر میں اجازت نہیں دے سکتا ۔۔۔ اکبر خان نے صاف لفظوں میں اپنا مدعا بیان کیا ۔۔۔

“نانا حضور , میرا یقین کریں امان جان کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا جب مجھے کسی سے کوئی شکوہ شکایت نہیں ۔۔۔ جو ہونا تھا ہوگیا آپ اجازت دے دیں دانیال کو انے کی ۔۔۔ مناہل اپنی بات کہے کر کمرے سے نکل گئی ۔۔۔

ملازم نے اکر چاۓ کے برتن سمیٹے اور زمین صاف کی ۔۔۔ تب تک دائم جاکر صبیحہ خاتوں کو لے آیا بڑی حویلی سے اکبر خان کے حکم پر ۔۔۔

وہی ہوا جو مناہل نے کہا تھا صبیحہ خاتوں کو کوئی اعتراض نہ تھا دانیال کے انے پر , وہ مطئمن تھیں دائم اور مناہل کے رشتے سے ۔۔۔ یوں دادا حضور نے اجازت دے دی دانیال کے واپس حویلی انے پر ۔۔۔ تب تک مناہل سب کے لیۓ چاۓ بناکر لے آئی اور سب کو چاۓ سروو کی ۔۔۔ دائم نے بغور دیکھا اس کا چہرہ جس پر کوئی تاثر نہ تھا وہ ہمیشہ خود کو کمپوزڈ رکھتی آئی تھی ۔۔۔ دائم کو یقین نہیں ارہا تھا اتنا سکون سے مسئلا حل ہوجاۓ گا ۔۔۔

سب کے جانے کے بعد گل خانم نے تنہائی میں صبیحہ خاتوں اور مناہل کا شکریہ ادا کیا ۔۔۔ جس پر صبیحہ خاتوں نے محبت سے گلے لگالیا گل خانم کو ۔۔۔

@@@@@@@@@@

دائم خود ایا تھا اپنے بھائی کو لینے ایئرپوٹ سے , ایئرپوٹ سے سیدھا وہ ہاسپیٹل گۓ تھے روشانے کو دیکھنے کیونکہ جب دائم نے عالم خان کو فون کیا تھا کہ یہ بتانے کو دانیال پاکستاں ارہا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ اسے معاف کردیا ہے سب نے اور حویلی انے کی اجازت مل چکی ہے جس پر عالم خان اسے مبارک باد دی چلو یہ معرکہ سرانجا بھی دے دیا دائم نے اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔۔۔ عالم خان کو دانیال بلکل چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز تھا ۔۔۔ دائم نے جب اسے ایئرپوٹ چلنے کا کہا تو عالم خان نے بتایا کہ روشانے ہسپتال میں ہے ساتھ ہی منع کیا حویلی میں بڑوں کو خبر نہ کرے وہ پریشان ہونگے ۔۔۔

دائم اور دانیال ہسپتال گۓ تھے روشانے کو دیکھنے جو دوائیوں کے زیراثر سوئی ہوئی تھی ۔۔۔ عالم خان کو تسلی دے کر وہ لوگ گھر اگۓ , جہاں زونی ان کا انتظار کررہی تھی , عالم نے بتایا تھا ۔۔۔

دائم اور دانیال گھر اگۓ , لاؤنج میں زونی اکر دائم سے ملی اور دانیال کو سلام کیا ۔۔۔ جس کا جواب اس نے نظر جھکا کر دیا ۔۔۔ وہ پلٹ گئی اوت ملازمہ سے کھانا لگوانے لگی ۔۔۔

“دائم بھائی کھانا لگ گیا ہے ۔۔۔ زونی نے کہا بغیر ایک نظر ڈالے دانیال پر ۔۔۔

“ہمممم ۔۔۔ تم بھی آؤ ہمارا ساتھ دو ۔۔۔ دائم نے ازلی نرم لہجے میں کہا ۔۔۔

“جی ٹھیک ہے ۔۔۔ زونی نے کہا ۔۔۔ صاف ظاہر تھا زونی مسلسل اگنور کررہی تھی دانیال کو ۔۔۔ دانیال بظاہر خاموش تھا اندر کے شور کو دباۓ ہوۓ ۔۔۔

وہ تینوں اکر ڈائینگ پر بیٹھے اور کھانے لگے ۔۔۔ عالم خان کے نا ہونے کی وجہ سے وہ بھرپور کمپنی دے رہی تھی ان کو پر زیادہ تر دائم اور زونی ہی بات کررہے تھے وہ اس کی پڑھائی کو لے کر مختلف سوالات کررہا تھا جبکہ دانیال کی سب سماعتیں اس کی طرف تھیں یہی آواز جسے سننے کو وہ ترستا رہا آسٹریلیا میں ۔۔۔

کھانے کے بعد وہ دونوں اکر صوفے پر بیٹھے ۔۔۔

“چاۓ یا کافی ۔۔۔ زونی نے پوچھا ۔۔۔ حویلی میں سب کی رات کو عادت تھی چاۓ یا قہوہ پینے کی ۔۔۔

“میں ارام کروں گا ۔۔۔۔ دائم نے انگڑائی لیتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“میں کافی لوں گا ۔۔۔ دانیال نے کہا ۔۔۔ جس پر وہ پلٹ گئی ۔۔۔

دائم تو ارام کرنے جاچکا تھا جبکہ دانیال لاؤنج میں صوفے پر بیٹھا تھا ۔۔۔ وہ کافی اور پانی اس کے سامنے رکھ کر جانے لگی ۔۔۔

“رکو زونی , بیٹھوگی نہیں ۔۔۔ دانیال نے آہستہ سے کہا ۔۔۔

“نہیں , رات کے اس پہر اکیلے بلکل بھی نہیں , اب تو بلکل بھی نہیں ۔۔۔ زونی نے دوٹوک تند لہجے میں کہا اور جانے لگی ۔۔۔

“تو مجھے میرا کمرہ بتاکر جاؤ ۔۔۔ دانیال نے کہا ۔۔۔ ایک اور بہانہ تھا اسے روکنے کا ۔۔۔

“آج بھی عالم بھائی نے اپ کے لیۓ وہی روم سیٹ کروایا ہے جو پہلے کرواتے تھے ۔۔۔ اتنا کہے کر زونی چلی گئی ۔۔۔ وہ کڑوی کافی ہونٹوں سے لگاکر پیتا چلا گیا ۔۔۔ جانتا تھا اس نے جان بوجھ کر کڑوی بنائی ہے اور نا چینی ملائی ہے تاکہ رات کے وقت نا پیۓ پر وہ اسے کیا بتاتا اس کے ہاتھوں سے زہر پی لیتا یہ کافی کچھ بھی نہیں ۔۔۔

مجھے تب بھی محبت تھی

مجھے اب بھی محبت ہے

تیرے قدموں کی آہٹ سے

تیری ہر مسکراہٹ سے

تیری باتوں کی خوشبو سے

تیری آنکھوں کے جادو سے

تیری دلکش اداؤں سے

تیری قاتل جفاؤں سے

مجھے تب بھی محبت تھی

مجھے اب بھی محبت ہے

تیری راہوں میں رکنے سے

تیری پلکوں کے جھکنے سے

تیری بےجا شکایت سے

تیری ہر ایک عادت سے

مجھے تب بھی محبت تھی

مجھے اب بھی محبت ہے__!!!

@@@@@@@@

اگلے دن روشانے کو جیسے ہوش آیا سامنے عالم خان کو نا پاکر وہ پرسکوں تھی ۔۔۔ وہ پردے کی آڑ میں اب دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ سکون سے بیٹھی تھی ۔۔۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری زونی آئی ساتھ دائم اور دانیال بھی ۔۔۔ وہ سب سے مل کر بلکل ریلیکس ہوگئی ۔۔۔ آج اسے کوئی پینک اٹیک نہ ہوا تھا کچھ گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی ۔۔۔

سکون سے جوس پیا اور پھر فروٹ کھایا اس نے ۔۔۔ ایک بار پھر ڈاکٹر ایا اور بولا ۔۔۔

“اگر انہوں نے دن کا کھانا کھالیا اور وومٹ وغیرہ نہ ہوئی شام کو ڈسچارج کردیں گے ۔۔۔

“تھینک یو ڈاکٹر ۔۔۔ دائم نے اکر کہا ۔۔۔

کچھ دیر بعد ڈاکٹر اپنے روم میں اکر بیٹھے تو سامنے عالم کو بیٹھا دیکھ کر چونکے ۔۔۔ اسی لمحے عالم نے کہا ۔۔۔

“کیا اب میں اپنی بیوی سے مل سکتا ہوں ڈاکٹر ۔۔۔

“ہممم بلکل مل سکتے ہیں اچھا یہی ہوگا سب کے ہوتے ہوۓ مل لیں ورنہ اکیلے میں سخت ریکشن ہوگا ان کا ۔۔۔ ڈاکٹر نے سمجھاتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“تھینک یو ڈاکٹر ۔۔۔

“ویلکم سر ۔۔۔

وہ ڈاکٹر کے روم سے نکل کر روشانے کے روم کی طرف گیا وہاں زونی اس کے پاس بیٹھی تھی جیسے ہی عالم روم میں داخل ہوا وہ زونی کے ہاتھ تھام گئی ۔۔۔

“بھابھی ریلیکس ہوجائیں ۔۔۔ زونی نے کہا ۔۔۔

“اب کیسی طبیت ہے ۔۔۔ عاہم نے پوچھا کچھ لمحے ٹھر کر ۔۔۔

“میں میں ۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ گھبراتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“پلیز روشنی ریلیکس ہوجاؤ ۔۔۔

سب کے سامنے عالم اس سے ہلکی پھلکی گفتگو کرنے لگا یوں وہ کچھ حد تک ریلیکس ہوگئی تھی ۔۔۔ پھر شام کو ہاسپیٹل سے اسے ڈسچارج کردیا گیا ۔۔۔

گھر اکر وہ اپنے روم میں چلی گئی ۔۔۔ سب کے کمرے سے جانے کے بعد روشانے نے پہلا کام یہی کیا اپنا موبائیل ڈھونڈا اور جلدی سے اپنے کمرے کو بند کرے اس نے کال لگائی حنین کو ۔۔۔

حنین نے کال اٹھاتے ہی بےتابی سے کہا “کیسی ہو شان کیا ہوا جو دو دن سے نا یونی آئی نا رابطہ کیا میں شدید پریشان تھا تمہارے لیۓ ۔۔۔

“حنین تم نے ٹھیک کہا تھا عالم خان کی بہت پہنچ ہے اس نے بےدردی سے میرے سامنے مرڈر کردیا وہ بہت برا انسان ہے تمہیں بھی ماردے گا مجھے بھی ۔۔۔۔

وہ بےتابی سے جلدی جلدی بتانے لگی ساتھ ساتھ دروازے پر بھی نظر جماۓ ہوۓ تھی ۔۔۔

“میں نے کہا تھا نا جس کام کو تم آسان کہے رہی وہ اتنا بھی آسان نہیں ۔۔۔۔

“تم نے ٹھیک کہا تھا , یہی بہتر ہے میں اپنا مذہب بدل لوں اور میں اپنا مذہب بدلنے کو تیار ہوں حنین ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔