Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

عید اپنوں کے سنگ

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 28
2nd last episode

دائم کے لیۓ اگلے دن کی صبح حیران کن تھی کیونکہ مناہل نے اس کے کپڑے نکال کر رکھے تھے اور صبح خود اٹھایا ۔۔۔ ویسے بھی کل رات بہت دیر ہوگئی تھی ان کو سوتے سوتے ۔۔۔

“جلدی ریڈی ہوجائیں دائم , نانا حضور کے ساتھ آپ کو زمینوں کے لیۓ جانا ہے ۔۔۔ مناہل مصروف انداز میں بولی ۔۔۔

دائم مسکرایا بھرپور انگڑائی لیتے ہوۓ ۔۔۔

“اس میں مسکرانے کی کیا بات ہے ۔۔۔ مناہل نے کمر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا ۔۔۔

“پکا بیویوں والا انداز ہے تمہارا مناہل ۔۔۔ دائم کے کہنے پر مناہل جھینپی اور جلدی سے بولی ۔۔۔

“ناشتہ ٹیبل پر رکھا ہے جلدی فریش ہوجائیں ۔۔۔ نانا حضور کو لیٹ ہونا پسند نہیں ۔۔۔ مناہل نے یادگیری کروائی ۔۔۔

“ہمممم پتا ہے ۔۔۔ مجھے اکیلے ناشتہ کرتے ڈر لگے گا انتظار کرنا مل کے کریں گے ۔۔۔ دائم نے مذاحیہ انداز میں کہا ۔۔۔

“اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔ مناہل نے مسکرا کر کہا ۔۔۔

دائم فریش ہوکر آیا تو وہ چاۓ رکھے اس کا انتظار کررہی تھی ۔۔۔

کپڑے پہن کر اس نے چاۓ کا مگ ہونٹوں سے لگاتے ہوۓ کہا “شکریہ مناہل مجھے کمرے میں چاۓ پینا پسند ہے ۔۔۔

“جانتی ہوں اس لیۓ بناکر لائی ہوں , کیسی بنی ہے ۔۔۔ مناہل نے مسکرا کر پوچھا ۔۔۔

“بہت اچھی بنی ہے دوست ۔۔۔ ایک اور گھونٹ بھرتے ہوۓ بولا تھا وہ ۔۔۔ مناہل مسکرائی تھی اس کی تعریف پر ۔۔۔

آج کی صبح سہی معنوں میں روشن تھی دائم اور مناہل کے لیۓ ۔۔۔ آج مناہل کو اپنا وجود بہت ہلکہ پھلکہ لگ رہا تھا کیونکہ سارے بوجھ ہٹ چکے تھے ۔۔۔

آج ناشتہ ساتھ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اسے دروازے تک چھوڑنے آئی تھی ۔۔۔ مناہل کے ہونٹ مسلسل مسکرا رہے تھے جیسے کلیان کھل رہیں ہوں ہونٹوں پر ۔۔۔ دائم کے ہر انداز سے خوشی واضع تھی ۔۔۔

گھر سے نکلتے وقت وہ مناہل سے پوچھنا نہ بھولا کہ “کچھ چاہیۓ تو نہیں ۔۔۔

جس پر مناہل نے کہا ” پرابلم نا ہو تو آج میرا موڈ چاٹ کھانے کا ہے شام کو اتے وقت لائیۓ گا اور آذان کی چیزوں کی لسٹ آپ کی رائیٹ پاکٹ میں رکھ دی ہے ۔۔۔

“ضرور لاؤں گا تمہاری پسند کی چاٹ اور آذان کی چیزیں بھی ۔۔۔

دائم نے کہا اور مناہل نے اللہ حافظ کہا اور دائم نے بھی ۔۔۔ یوں وہ کھڑی رہی گیٹ کے پاس جب تک اس کی گاڑی نظروں سے اوجھل نہ ہوئی ۔۔۔ وہ پلٹی تو ناک کی سیدھ میں دانیال کو کھڑا پایا جو دونوں بازو سینے پر باندھے کھڑا تھا اور بولا ۔۔۔

“کیا بات ہے ۔۔۔ کل اتنا شور شرابا , ڈر تھا آج صبح بڑی حویلی سے نا نمودار ہو تم ۔۔۔ پر یہاں تو کاروان الٹا ہے اتنی لڑائی کے بعد اتنی آسانی سے صلح کیسے ہوگئی ۔۔۔ دانیال حیران کن لہجے میں کہے رہا تھا مناہل مسکرائی اور بولی ۔۔۔

“تو تمہیں برا لگ رہا ہے کیا ۔۔۔ مناہل نے آۓ برو اچکائی ۔۔۔

“نہیں بھئی مجھے مزا آرہا ہے ۔۔۔ نۓ کپلز کے چونچلے مجھے بڑا مزا دیتے ہیں , اور , اب تو ہماری حویلی میں بھی یہ نظارے دیکھنے کو ملیں گے , مزا آۓ گا ۔۔۔ دانیال شرارتی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاتا ہوا بولا تھا ۔۔

“کیا مطلب ۔۔۔ مناہل نے آنکھیں دکھائیں ۔۔۔

“مناہل تھوڑی چاٹ مجھے بھی چکھانا ضرور , ذرہ چیک کرنا ہے محبت سے لائی چاٹ اور نارمل چاٹ میں کچھ فرق بھی ہے یا نہیں ۔۔۔ دانیال کا انداز شرارتی تھا ۔۔۔

“چاٹ کی امید نہ رکھنا سمجھے اور اگر ایسا کچھ دیکھنا ہے تو اپنی شادی کے وقت دیکھنا پھر سہی سے سمجھ آۓ گی یہ بات ۔۔. مناہل نے اتنا کہے کر اسے انگھوٹا دکھایا اور چل دی ۔۔۔

“اللہ کرے تم یونہی ہنستی مسکراتی رہو مناہل ۔۔۔۔ دانیال نے دل سے دعا کی ۔۔۔

@@@@@@@@@

شام اور شام سے رات ہوگئی روشانے نہ آئی ۔۔۔ عالم خان کا فکر سے برا حال تھا ۔۔۔ ڈرائیور سے پوچھا جس نے بتایا اس ہوٹل کا جہاں وہ کسی سے ملنے گئی تھی ۔۔۔ موبائیل گاڑی میں پڑا تھا روشانے کا جو وہ اٹھانا بھول گئی تھی ۔۔۔

اب تو اور بھی مشکل لگا عالم کو روشانے کو ڈھونڈنا ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں اسے پتا چلا وہ حنین سے ملنے آئی تھی ہوٹل میں ۔۔۔

پہلے حنین سے پوچھ کچھ کی جس پر اس نے بتایا وہ دومنٹ ٹھری تھی اس کے روم میں پھر چلی گئی اس کے روکنے کے باوجود ۔۔۔ حنین عالم خان کی کسٹوڈی میں تھا ۔۔۔

عالم خان کے لیۓ مشکل نہ تھی سی سی ٹیوی فوٹیج دیکھنا اتنی بڑی ہوٹل میں کیمیراز لگے تھے ۔۔۔۔ ساری فوٹیج اس نے دیکھی سب سے عجیب بات اس کا روتے ہوۓ بھاگنا حنین کا پیچھے جانا پھر دس منٹ بعد حنین کا اکیلے واپس انا ۔۔۔ عالم خان کو پریشان کررہا تھا ۔۔۔ آس پاس ہر جگہ روشانے کی فوٹو لے کر پوچھ تاچھ شروع ہوگئی تھی ۔۔۔

زیادہ عجیب کن یہ لگا عالم کو جب وہ حنین کے روم کی طرف جارہی تھی تب بھی فکر اور پریشانی اس کے چہرے پر واضع تھی ۔۔۔

“روشانے کیا بات تھی جس نے تمہیں اتنا مضطرب کیا ہوا تھا ۔۔۔ پلیز واپس آجاؤ ۔۔۔ اللہ تمہاری حفاظت کرے ۔۔۔ عالم خان نے من ہی من سوچا ۔۔۔ فی الحال اس نے سوچ لیا تھا چوبیس گھنٹوں بعد حویلی والوں میں سے کسی کو بتاۓ گا اس کی گمشدگی کا ۔۔۔

@@@@@@@@

اس نے ہلکی چیخ ماری اور آنکھ کھل گئی ۔۔۔ روشانے نے خود سے کہا “کیا میں زندہ ہوں ۔۔۔

“ہاں میں زندہ ہوں ۔۔۔ روشانے نے خود کو ہاتھ لگاکر تسلی کی ۔۔۔ ہاتھ پاؤں سلامت تھے صاف ستھرے بیڈ پر وہ لیٹی تھی ۔۔۔ یہ بیڈروم کسی کے گھر کا تھا ۔۔۔ ہاتھ پر لگا کینولا اور ڈرپ اسٹینڈ دیکھ کر حیران ہوتی وہ اٹھ بیٹھی ۔۔۔

اپنے جسم پر دوسرے کپڑے دیکھ کر شاک ہوئی سفید گلابی ڈھیلا ڈھالا جوڑا پہن رکھا تھا اس نے ۔۔۔ بیڈ کے سائیڈ پر پڑا دوپٹا اس کا میچنگ لگا جسے اوڑھ کر وہ کمرے سے باہر نکلی ۔۔۔

آہستہ آہستہ قدم بڑھاۓ اس کمرے کی طرف جہان سے آواز ارہی تھی ۔۔۔ وہ چپ چاپ دروازے کی چوکھٹ کے پاس کھڑی ہوگئی ۔۔۔

“تو تم اپنے پرودگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤگے ۔۔۔

ایک جذب کے عالم میں کہتی وہ عورت اور اس کے سامنے بیٹھیں عورتیں پوری توجہ اس پر مرکوز کیۓ سنتی جارہیں تھیں ۔۔۔ ساکت تو روشانے بھی ہوئی آیت اور اس کا ترجمہ سن کر ۔۔۔

” یہ صرف ایک آیت نہیں خدا کی ساری نعمتوں کا ذکر کیا گیا اس ایک آیت میں ہے , وہ ساری نعمتیں جو اللہ نے اپنے بندوں پر کیں ہیں , پھر چاہے وہ خود انسان پر ہوں یا اس کی سھولت کے لیۓ دوسری چیزیں بناکر اس کے لیۓ آسانیاں کیں ہیں ۔۔۔ ان سب کا ذکر اس میں آیا ہے ۔۔۔ اس زمین پر پھاڑ ہوں , درخت ہوں , پودے ہوں , پانی ہو چاہے دوسری اور مخلوقیں سب اللہ نے پیدا کیں ہیں سب کسی نا کسی طرح انسان کے لیۓ فائدہ مند ہیں , تب ہی کہا گیا ہے اور پھر یہ سوال کیا گیا کہ تو پھر تم اپنے پرودگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤگے ۔۔۔

وہ ساکت جامد کھڑی رہی اس لمحے اور سن رہی تھی اسے ۔۔۔ کچھ لمحوں بعد وہ دوبارہ بولیں ۔۔

“تو پھر انسان سوچتا ہے کونسی نعمتیں ہیں جو اللہ کا فضل ہیں اس پر , اللہ نے بغیر انسان کے مانگے اسے عطا کیا ہے پھر یہ اللہ کا فضل نا ہوا تو کیا ہوا ۔۔۔

“تو اس کی مثال کچھ یوں ہے اللہ کا ایک بندہ تھا جس نے دنیا میں صرف اللہ کی عبادت کی اور صرف نیکیاں کی تھیں اس نے کبھی کوئی گناھ نہیں کیا تھا اپنی پوری زندگی میں ۔۔۔ جب آخرت میں اس کے فیصلے کا وقت آیا تو اللہ نے سوال کیا کہ تم پر عدل کیا جاۓ یا فضل کیا جاۓ ۔۔۔

روشانے پوری توجہ سے سن رہی تھی , دل کی کیفیت عجیب ہورہی تھی کتنی میٹھی تھی اس پرنور عورت کی آواز جس نے ایک سحر طاری کردیا تھا چارسو ۔۔۔

“اس شخص نے اتنی نکیاں اور عبادات کیں تھیں کہ اس نے اللہ سے عدل کا سوال کیا ۔۔۔ اللہ نے حکم دیا کہ اسے دوزخ کی سیر کرائی جاۓ جب وہ شخص تھوڑا دور چلا اسے شدید پیاس لگی اس سے چلنا مشکل ہوگیا اس نے پانی کا سوال کیا فرشتوں نے کہا اگر وہ اپنی ساری زندگی کی آدھی نیکیاں اور عبادات دے تو اسے پانی مل سکتا ہے , اس شخص نے پیاس سے نڈھال ہوکر اپنی آدھی نکیاں اور عبادات دیں ایک گلاس پانی کے لیۓ , کچھ دور چلا ابھی دوزخ کے دوسرے کونے پہنچا پھر وہی حال ہوا پانی مانگا اس نے فرشتوں سے اور انہوں نے ایک گلاس پانی کے بدلے آدھی زندگی کی نیکیوں اور عبادات کا سوال کیا , وہ مان گیا ۔۔۔ پھر کچھ دور چلا دوزخ کے تیسرے کونے پر پھر وہی کیفیت ہوئی اور پانی کا سوال کیا اس نے فرشتوں سے , جس پر فرشتوں نے کہا اب اس کے پاس دینے کو کچھ نہیں تو پانی کیسے دیا جاۓ تمہیں ۔۔۔ اسی وقت اللہ نے کہا ابھی تو صرف میری ایک نعمت پانی کا حساب لیا ہے تم سے کیونکہ تم نے عدل کا کہا تھا کہ تمہارے ساتھ عدل کیا جاۓ , ابھی تو آنکھ , کان ,ناک ,ہاتھ , پاؤں وغیرہ میری بہت سی نعمتوں کا حساب باقی ہے تمہاری ساری عمر کی عبادت اور نیکییاں تو ایک نعمت پر ختم ہوگئیں ہیں ۔۔۔ اسی وقت اس بندے نے اللہ سے معافی مانگی اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا ۔۔۔

تو پھر بہنوں سوچو اللہ نے کتنی نعمتیں دیں ہیں اور ہم اس کی کس کس نعمت سے انکاری ہوسکتے ہیں ۔۔۔۔ بےشک اللہ رحمٰن ہے , وہی رحیم ہے , وہی غفور ہے انسان ہی ہے جو ناشکراپن کرتا ہے ۔۔۔

“تو میری بہنوں آج یہیں پر ختم کرتے ہیں آج کا سبق اور جیسا کہ تم سب جانتے ہو یہ آیت سورہ رحمٰن کی ہے جیسا کہ سورۂ رحمٰن قرآن مجید کی پچپنویں سورت ہے۔۔ یہ سورت اللہ کے اَسمائے حسنیٰ میں سے ایک خوبصورت نام ’الرحمٰن‘ سے معنون ومنسوب ہے۔

“یہ سورت حسن عبارت اور حسن طرز کے لحاظ سے قرٓآن پاک کی زینت ہے۔ اس سورت کی تلاوت میں ایسا اَثر ہے کہ سننے والے پر بے حد خاموشی اور رقت طاری ہوجاتی ہے۔۔ تفسیر ابن کثیر میں لکھاہے کہ یہ سورت اپنے حسن عبارت اور عمدہ طرزِ اَدا میں دلہن کی طرح آراستہ وپیراستہ اور مزین ہے۔۔۔

“حدیث:اسی لیے حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ ’ہر چیز کے لیے ایک زینت ہوتی ہے اور قرآن کی زینت سورۂ رحمٰن ہے۔۔۔۔

“یہ سورت ہمیں اللہ کی نعمتوں کو برابر یاد رکھنے کی تاکید اور اس سے کبھی غفلت نہ برتنے کی تنبیہ کرتی ہے۔ اس سورت میں کئی بار پروردگار نے ’پھربھلا تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے!‘کے ذریعہ ہمیں اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں۔ خدا کرے کہ ہماری زندگی کا لمحہ لمحہ اس کریم پروردگار کی شکرگزاری اور اطاعت وبندگی میں گزرے آمین ۔۔۔ السلاعلیکم ۔۔۔

سب عورتیں آمین اور واعلیکم سلام بولیں ۔۔۔ یوں سبق ختم ہوا اور سب اٹھ کر جانین لگیں پر روشانے وہیں ساکت کھڑی رہ گئی ۔۔۔ ہر طرف اللہ کی نعمتیں نظر آئیں تو روشانے کی آنکھیں شدت سے بہنا شروع ہوئیں ۔۔۔ اسی لمحے وہی عورت اٹھی جسے سب آپا کہے رہیں تھیں اسے تھام کر صوفے پر بٹھایا اور پیار سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولیں۔۔۔

” شکر ہے اللہ پاک کا , تمہیں ہوش اگیا کل رات تم ہماری گاڑی کے اگے بےہوش ہوگئی تھی ۔۔۔ شکر اس پاک ذات کا ہے زیادہ چوٹ نہیں آئی تھی اس لیۓ گھر لے آئی کیونکہ میرا شوہر ڈاکٹر ہے یہیں انہوں نے تمہارا علاج کرنا مناسب سمجھا کیونکہ میرے لیۓ مشکل تھا تمہارے ساتھ ہسپتال رہنا ۔۔۔

“شکریہ آپ کا ۔۔۔ روشانے نے دل سے کہا ۔۔۔

“شکریہ میرا نہیں اللہ کا شکر ادا کرو جس نے تمہاری حفاظت کی ۔۔۔ آپا نے کہا ۔۔۔

“میرا نام نور ہے اور میرے شوہر ڈاکٹر ہیں وہ خلق کی خدمت کرتے ہیں اور میں اللہ کے بندوں کو قرآن پڑھاتی ہوں اور خود عالما کا کورس بھی کررہی ہوں اور تم کون ہو ۔۔۔ نور نے اپنا مکمل تعارف خود کروایا ۔۔۔

“میرا نام روشانے عالم خان ہے اور میں ۔۔۔۔ وہ بس اتنا ہی کہے سکی اور چپ ہوگئی ۔۔۔

نور کو کل رات ہی اندازہ ہوا تھا وہ کسی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے اس لیۓ زیادہ پوچھ کچھ کرنے سے بہتر چپ رہنا لگا ۔۔۔

“بہت خوبصورت نام ہے روشانے , اس کا مطلب جانتی ہو ۔۔۔ نور نے پوچھا ۔۔۔ نور ایک تیس سال کی خاتون تھیں جن کے چہرے پر نور ہی نور محسوس ہوا ۔۔۔

“ہمممم روشن یا روشنی ۔۔۔ روشانے نے آہستہ سے کہا ۔۔۔

“ہاں بلکل روشنی دینے والی یا روشنی پُہچانے والی ۔۔۔ بہت پیارا نام ہے ۔۔۔ نور نے نرم لہجے میں کہا ۔۔۔

“پر میں اتنی پیاری نہیں بہت بری ہوں میں ۔۔۔ روشانے نے صاف گوئی سے کہا ۔۔۔

“کوئی انسان برا نہیں بسس یہ حالات ہیں جو برا بنادیتے ہیں ۔۔۔ تمہاری آنکھ سے بہتے آنسو اس بات کی گواہی ہیں ابھی بھی تم اللہ کی منظور نظر ہو ۔۔۔ جس کی نعمتوں کا اعتراف آج تمہاری آنکھوں نے کیا ہے روشانے ۔۔۔ کوئی برا شخص اس کی نعمتوں کا اعتراف نہیں کرسکتا ۔۔۔ نور نے محبت اے لبریز لہجے میں کہا ۔۔۔

“آپ کچھ نہیں جانتیں , میں نے کبھی نماز نہیں پڑھی کبھی اللہ کا ذکر نہیں کیا کبھی قرآن نہیں پڑھا , کبھی روزہ نہیں رکھا یہاں تک کہ میں ایک کرسچن مرد کی محبت میں گرفتار ہوکر اپنے مذہب کو بدلنے تک کا ارادہ کیا تھا ۔۔۔ روشانے اپنے گناہوں کے اعتراف کرتی چلی گئی ۔۔۔

“اب اپ بھی مجھ سے نفرت کریں گی جیسے میرے شوہر کو مجھ سے نفرت ہوگئی ہے ۔۔۔ روشانے نے روتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“نہیں , میں نفرت نہیں کرسکتی تم سے , کبھی نہیں کرسکتی ۔۔۔ جانتی ہو کیوں ۔۔۔ نور نے کہا ۔۔۔

روشانے نے حیرت سے پوچھا “کیوں …

” کیونکہ تم نے تم جو کہہ رہی ہوں وہ روتے ہوئے کہہ رہی ہو ,تمہارا رونا اس بات کا اعتراف ہے کہ تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اگر تم اس بندے کی طرح جس نے ساری عمر عبادت اور نیکیاں کیں مغرور ہوکر بات کرتی اور ان سب باتوں کا اعتراف کرتیں تو تم پر اللہ کبھی فضل نہ کرتا اپنا ۔۔۔ پر اللہ نے تم پر فضل ہی کیا ہے یہ بھی اس کی نعمت ہے تم پر کہ ابھی تک تمہیں مکمل غافل نہیں ہونے دیا ابھی تمہارے دل کے دروازے بند نہیں ہوۓ جو روشنی کا سفر نہ کرسکو تم ۔۔۔ جب تک ہم زندہ ہیں توبہ کے دروازے کھلے رہتے ہیں جب چاہو اس میں داخل ہوکر فلاح پالو ۔۔۔ نور کی ایک ایک بات اس کے دل چھورہی تھی پر پھر وہی بات جہاں نیکی ہو وہاں بدی بھی ہوتی ہے , اسی طرح شیطان بھی انسان کے اندر وسوسے پیدا کرکے اسے دوبارہ گمراہ کرنا چاہتا ہے ۔۔۔

روشانے نے اندر کے وسوسوں کو زبان دیتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“کیا اللہ مجھے پیار کرے گا , میری اتنی غلطیوں اور کوتاہیوں کے باوجود بھی ۔۔۔

اس کی بات پر نور مسکرائی اور بولی ۔۔۔

“وہ ستر ماؤں کے برابر پیار کرتا ہے اپنے بندوں سے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ترین ہے سوچو ایک ماں ہماری ذرہ سی چوٹ پر تڑپ اٹھتی ہے سوچو وہ ستر ماؤں کے برابر چاہنے والا ہے اسے کتنی تکلیف اور درد ہوتا ہوگا جب ہم پر کوئی مصیبت آتی ہے اور ہم تکلیف میں ہوتے ہیں ۔۔۔ اللہ تو اپنے ان بندوں سے بھی محبت کرتا جو اس کے دین سے منکر ہیں اس کی نافرمانی کرتے ہیں اللہ ان کی بھی فکر کرتا ہے ان پر بھی اپنی نعمتیں نچھاور کرتا ہے ۔۔۔ تو بتاؤ تم اپنے پرودگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤگے ۔۔۔

وہ شدت سے روپڑی نور کے کہے لفظوں پر ۔۔

کچھ دیر ان سے باتیں کرتی رہی وہ اور دل کو سکون ملتا رہا ۔۔۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ اپنے گھر سے دو گلی دور ایک گھر میں موجود ہے کیونکہ جب اس نے بتایا کہ اس کے شوہر کا نام ایس پی عالم خان تو وہ حیران ہوکر بولیں “یہ تو ان کے شوہر کے دوست ہیں ۔۔۔

یوں وہ دونوں میاں بیوی خود اسے چھوڑنے آۓ تھے ۔۔۔ روشانے نے نور سے اجازت مانگی کہ وہ نماز قرآن پڑھنا اور سیکھنا چاہتی ہے ان سے ۔۔۔ جس پر نور نے خوش ہوکر اسے گلے لگایا اس کے آنسو صاف کیۓ اور اجازت دے دی ۔۔۔

@@@@@@

عالم خان نے شکر ادا کیا اللہ کا جس نے روشانے کو ملادیا ۔۔۔ پر اس نے ظاہر نہ کیا روشانے کے سامنے کہ اسے کتنی فکر ہے اس کی ۔۔۔

اس کی طبیت کو مدنظر رکھتے ہوۓ عالم خان نے فی الحال کوئی بات نہ چھیڑی پر جبکہ کل دن کو جب روشانے حنین سے ملنے گئی تھی اس وقت عالم خان نے فون کرکے نوروز خان کو اپنے فیصلے سے اگاہ کیا تھا ۔۔۔ جس پر انہوں نے تند لہجے میں کہا ۔۔۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی عالم خان یہ فیصلہ لینے کی ۔۔۔ وہ میری بیٹی ہے یہ فیصلہ میرا ہوگا کیا اس کے لیۓ سہی ہے کیا غلط تم کون ہوتے ہو اس قسم کا کوئی فیصلہ کرنے والے ۔۔۔

عالم خان ان سے بھی زیادہ تیز لہجے میں بولا ۔۔۔

“میں ۔۔۔ آپ نے پوچھا , میں کوں ہوتا ہوں یہ فیصلہ کرنے والا , یہی پوچھا نہ آپ نے , میں وہ شخص ہوں جس نے اپنی زندگی کے قیمتی سال برباد کیۓ اس لڑکی کے لیۓ جو باہر ملک میں رہ کر آزادی کی زندگی گزاررہی تھی اور میں یہاں خود کو اس کا پابند سمجھتا رہا نا خود کسی کی طرف بڑھا نا کسی کو خود کی طرف آنے دیا ۔۔۔ میں وہی شخص ہوں جس کا سب کچھ روشانے نوروز خان ہے , جسے ہر وقت باور کرواتے رہے دادا حضور ۔۔۔ ہاں میں وہ شخص ہوں جس کی بیوی اپنے شوہر کے ہوتے ہوۓ بھی کسی غیر مرد سے ملتی رہی باتیں کرتی رہی اپنے قیمتی جذبات اور احساسات لٹاتی رہی , ہاں وہی بےغیرت شخص ہوں تایاجان جو محبت میں اندھا بہرا گونگا بنارہا ۔۔۔ آپ نے مجھے کٹھ پتلی سمجھ رکھا ہے کیا , جیسے چاہیں گے ویسے چلائیں گے ۔۔۔ نہیں قطعی نہیں ۔۔۔ جب آپ کو یہ حق حاصل رہا اپنی منگ چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ گھر بساگۓ تو پھر یہ حق روشانے کو کیوں حاصل نہیں ۔۔۔ جو آپ کے لیۓ غلط نہیں تھا تو وہ روشانے کے لیۓ بھی غلط نہیں ۔۔۔ بلکہ آج ایک بات میں آپ کو بتاؤں نا غلط میں ہوں نا روشانے بلکہ آپ ہو غلط ہمیشہ سے معاف کجیۓ گا یہی سچ ہے تایا جان ساری غلطی آپ کی ہے , پہلے مکمل آزادی دے کر بیٹی کو بگاڑا پھر زبردستی اسے اس رشتے میں باندھنا غلط ہے جس سے وہ بےخبر اور انجان تھی ۔۔۔ روشانے کے باغی پن کے ذمیدار آپ ہیں , اسے غلط سہی کا فرق نا بتانے کے ذمیدار آپ ہیں , سبین آنٹی سے محبت میں اسلام قبول تو کروالیا پر کبھی اس مذہب کی اصل تعلیم نہ دی انہیں محروم رکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا آپ کی اولاد نام کی مسلمان رہ گئی خاص کر روشانے , اسے احساس ہی نہیں حنین کے لیۓ اپنا مذہب چھوڑ کر کا کس گناھ کی مرتکب ہونے والی تھی اور ذرہ سوچیں اگر وہ اپنا مذہب بدل لیتی تو ہم کیا کرلیتے , کبھی سوچا ہے آپ نے ۔۔۔ عالم خان ساری تمیز تہذیب بالاۓ طاق رکھ کر بولا تھا ۔۔۔

“عالم ۔۔۔ نوروزخان کے ہونٹ کپکپاۓ ایسا لگا عالم نے ان کی روح کو جھنجھوڑ دیا ہو جیسے ۔۔۔

“مجھے معاف کردیں اتنا کڑوا بول گیا ہوں میں , کیا کروں تایاجان , کس اذیت سے گزر رہا ہوں بیان نہیں کرسکتا ۔۔۔ عالم خان اب کے نرم لہجے میں بولا تھا پر شدید تاسف تھا اس کے انداز میں ۔۔۔

“بسس کرو عالم اور کچھ مت کہو ۔۔۔ مجھے احساس ہوگیا ہے روشانے کو یہاں تک لانے میں میرا ہی ہاتھ ہے ۔۔۔ مجھے یقین ہے جو تم کروگے وہ ٹھیک کرو گے روشانے کے لیۓ ۔۔۔ نوروزخان نے کہا ۔۔۔

“ہمممم کوشش ہی کررہا ہوں سب ٹھیک کرنے کی ۔۔۔ بسس دعا کریں اللہ روشانے کو سمجھ دے کہ وہ اس گناھ سے بچ جاۓ فی الحال اس سے کہے چکا ہوں اگر حنین اسلام قبول کرلے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ان کے رشتے سے ۔۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔

“اگر وہ نہ مانی تو ۔۔۔۔ نوروزخان نے فکرمندی سے کہا , سانس رکتی ہوئی محسوس ہونے لگی اسے ۔۔۔

“تو جو اس کے نصیب میں ہوگا وہی ہوگا , ہم اس کی بقا کے لیۓ کررہے ہیں جو اس کے لیۓ بہتر ہے , اگر واقعی اس کے نصیب میں گمراہی ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں ۔۔۔ عالم نے سچائی سے کہا ۔۔۔

“ایسے نہ کہو عالم , میری بیٹی تباھ ہوجاۓ گی ۔۔۔ نوروز خان کا لہجہ نام تھا ۔۔

“ہمممم کوشش کرسکتے ہیں باقی اللہ جو چاہے وہی ہوگا ۔۔۔ آپ باپ ہیں اللہ سے دعا کریں اس کے لیۓ تایاجان ۔۔۔۔ عالم خان نے کہا تھا ۔۔۔

“وہی کرتا رہتا ہوں , تم بھی میرے لیۓ دعا کرنا عالم , اگر ایسا کچھ ہو تو میں یہ سب دیکھنے سے پہلے مرجاؤں , بس اتنی دعا کرنا میرے لیۓ ۔۔۔۔ نوروز خان نے درد سے چور لہجے میں کہا ۔۔۔

“اللہ نہ کرے تایاجان آپ سلامت رہیں ۔۔۔ عالم نے کہا تھا ۔۔

“روشانے تمہارے حوالے عالم ۔۔۔ وہ فون کاٹ گۓ ۔۔۔

تب سے عالم کو ان کی فکر تھی پھر روشانے کا لاپتہ ہونا پریشان کرگیا تھا اسے ۔۔

@@@@@@@@@@

ایک باپ پھوٹ پھوٹ کر رودیا اپنی کوتاہیوں پر ۔۔۔ آج عالم خان نے سہی معنوں میں اسے احساس دلایا کہ جو کچھ ہوا ان میں سب سے زیادہ ان کی غلطی ہے ۔۔۔

ظہر کی آذان ہورہی تھی وہ وضو کرکے مسجد گۓ باجماعت نماز پڑھی بہت مشکل لگا ان کو نماز پڑھنا کیونکہ ایک عرصہ ہوا تھا انہیں نماز پڑھے ہوۓ ۔۔۔ دعا کے وقت ہاتھ اٹھاۓ شدت سے روپڑے ۔۔۔

آج پہلی دفعہ اس لڑکی کی قبر پر گۓ جو ان کی محبت میں فنا ہوگئی تھی ۔۔۔ ہاں مھرین کی قبر پر ۔۔۔

“جانتا ہوں تم ان سب چیزوں سے اگے نکل چکی ہو پر پھر بھی اپنے دل کی تسلی کے لیۓ آج ایا ہوں مجھے معاف کردو تمہارا گنہیگار ہوں معاف کردو مجھے ۔۔۔ میری بیٹی کو میرے گناہوں کی سزا نہ ملے , وہ گمراہ نہ ہوجاۓ بس اتنی التجا ہے ۔۔۔

آج اتنے سالوں بعد نوروز خان سہی معنوں میں پشیمان ہوا تھا ۔۔۔

بوجھل دل اور قدمون کے ساتھ قبرستان سے باہر نکلے تھے ۔۔۔
پھر نوروز خان نے سب نمازیں ادا کیں آج کے دن ان کی ہر دعا میں روشانے ہی روشانے تھی ۔۔۔

جب سبین نے رات کے آخری پہر نوروز خان کو نا پایا بستر پر تو اٹھ کر دیکھا وہ جاۓ نماز پر بیٹھے رورہے تھے ۔۔۔ سبین کے دل کو کچھ ہوا اس لمحے وہ ان کے پاس ہی بیٹھ گئی زمین پر ۔۔۔

“سبین کیا تم نے زبردستی اسلام قبول کیا تھا ہمارے مذہب میں جبر نہیں ہے , میں نے بہت غلط کیا جو محبت میں تم سے اتنی بڑی قربانی مانگ کر تمہیں اپنوں سے دور کردیا , جس کا نتیجہ یہ ہوا تمہارا بھتیجا اس بات کا بدلا میری بیٹی سے لے رہا تھا وہی کچھ کرنا چاہ رہا ہے جو تمہارے ساتھ میں نے کیا ۔۔۔ سبین نے حیرت سے نوروز خان کی بات سنی ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔