Rate this Novel
Episode 16
عید اپنوں کے سنگ
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 16
اس کی چیخ پر وہ اس کے چہرے پر ہاتھ رکھ گیا ۔۔۔
“چپ چپ کیوں ذلیل کروانے پر تلی ہو , میں نے کچھ کیا بھی نہیں اور خوار بھی ہوجاؤں ۔۔۔
“چپ چپ ایک لفظ نہ منہ سے نکلے ہاتھ ہٹانے لگا ہوں ۔۔۔ باذل نے دبے لہجے میں غصہ سے کہا تھا وہ تھر تھر کانپ رہی تھی ۔۔۔ وہ کلس کر رہ گیا اس کے ریکشن پر ۔۔۔
اسی لمحے دروازے پر شدید ناک ہوا ۔۔۔
“یا خدا , یہ بھی دن دیکھنا تھا ۔۔۔ وہ اس کے منہ سے ہاتھ ہٹا گیا ۔۔۔ وہ لمبی لمبی سانس لینے لگی ۔۔۔
“سنو دروازے پر جارہا ہوں تم چپ رہنا سمجھی , ایک لفظ نہیں کہنا کسی سے ۔۔۔ سمجھی کیا کہے رہا ہوں ۔۔۔
اس نے جلدی سے اثبات میں سرہلایا ۔۔۔ وہ آنکھیں دکھاتا ہوا اٹھا تھا بیڈ سے ۔۔۔
“ہمممم ۔۔۔ گڈ ۔۔۔ وہ بولا ۔۔۔
وہ جلدی سے بالوں میں ہاتھ پھیرتا خود ریلیکس کرنے لگا تاکہ انے والے وقت کے لیۓ خود کو تیار کرے ۔۔۔
جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا سامنے کا منظر اسے حیران کرگیا ۔۔۔ اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا تھا ۔۔۔
“بھائی چلیں اچھا نہیں لگتا اس وقت دروازہ بجانا صبح پوچھ لجیۓ گا ۔۔۔ صبیحہ خاتون نے نوروزخان سے کہا ۔۔۔
“آپا , میری بھتیجی چیخی ہے , وہ معصوم ہے , اپنے بیٹے سے پوچھوں گا نہیں ۔۔۔ نوروز خان نے فکرمندی سے کہا ۔۔۔
باذل شدید شرمندگی سے دوچار ہوا اور کھانس کر خود کی طرف متوجہ کرگیا باباجان اور پھپھو کو ۔۔۔
“کیا ہوا زونی کو ۔۔۔ نوروز خان نے جلدی سے پوچھا ۔۔
“اندر اکر دیکھ لیں باباجان سہی سلامت ہے آپ کی بھتیجی, چھپکلی گری تھی اس لیۓ چیخی آپ کی لاڈلی ۔۔۔ انداز بھرپور طنزیہ تھا ۔۔۔
نوروزخان کے چہرے کے تاثرات نارمل ہوۓ جو اب تک فکرمندانہ تھے ۔۔۔
“نہیں بیٹا , ٹھیک ہے ہم چلتے ہیں پھپھو نے جلدی سے کہا نوروز خان کچھ کہتے اس سے پہلے وہ بول گئیں تھیں ۔۔۔
“نہیں پھپھو , اپ اور باباجان اندر آئیں پوری تسلی کرلیں , ورنہ کیا پتا صبح کوئی اور دِفع لگا دیں مجھ معصوم پر ۔۔۔ باذل کا انداز طنز اور افسوس کرتا ہوا تھا ۔۔۔
“بیٹا تم دونوں ارام کرو , بس بچی ہے نا اس لیۓ اس کے چیخنے پر گھبرا گۓ ۔۔۔ صبیحہ خاتون نے بےساختہ وضاحت پیش کی ۔۔۔
“پھپھو بچی ہے تو لے جائیں اپنے پاس سُلائیں اپنے کمرے میں , یقین مانین بلکل اعتراض نہیں کروں گا ۔۔۔ باذل نے سکون سے کہا ۔۔۔
“اللہ کو مانو باذل , کیا باتیں کررہے ہو , اتنی بھی بچی نہیں کے اپنے پاس سلانے لے جاؤں ۔۔۔ پھپھو نے جلدی سے کہا ان کے امداز میں شدید شرمندگی تھی خفت سے بولی تھیں ۔۔۔
“تو بھروسہ بھی رکھیں آپ لوگ مجھ پر , کہ اپ کی بچی میرے ذمے ہے اس کا خیال بھی کروں گا ۔۔۔ باذل نے مضطرب لہجے میں کہا ۔۔۔
“مجھے پورا بھروسہ ہے تم پر باذل ۔۔۔ پھپھو نے جلدی سے کہا ۔۔۔
باذل کمر پر ہاتھ ٹکاۓ اب اپنے باپ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں ان سے پوچھ رہا ہو کہ آپ کو بھروسہ ہے کہ نہیں ۔۔۔ پھپھو نے ٹھوکا دیا تو نوروز خان جلدی سے بولے ۔۔۔
“مجھے بھی بھروسہ ہے تم پر باذل ۔۔۔
“شکریہ اپ دونوں , اب اجازت ہے یہ ناچیز ارام کرے شام سے نیند کا غلبہ تھا کسی نے سونے نہ دیا اب تو سکون سے سونے دیں ۔۔۔ باذل انگڑائی لیتے ہوۓ تھکن سے بھرپور لہجے میں بولا تھا ۔۔۔
“ہاں ہاں تم دونوں ارام کرو ۔۔۔ نوروزخان نے کہا ۔۔۔
وہ چلے گۓ تو دروازہ بند کرتا وہ واپس ایا بیڈ کی طرف , جہاں زونی اپنا سارا زیور اتارچکی تھی ۔۔۔
“شاباش بیڈ خالی کرو یہ سامان اٹھاؤ , اس جھنجھٹ سے چھٹکارا پاؤ , کپڑے بدلو پھر سوجانا , مجھے نیند ارہی ہے تم بھی ارام کرو ۔۔۔ وہ بھرپور انگڑائی لیتا بیڈ کے ایک سائیڈ اکر لیٹ گیا ۔۔۔ وہ اسے دیکھتی رہ گئی جو دوسری طرف منہ کرے آنکھین موند گیا ۔۔۔
وہ جلدی سے اٹھی اس کے حکم کی تکمیل کی ۔۔۔ وہ کچھ دیر بعد واشروم سے آئی تو دیکھا کہ وہ سوگیا تھا تو وہ بھی دوسری طرف اکر وہ بھی لیٹ گئی ۔۔۔
اپنی زندگی کے اس موڑ پر سوچتی ہوئی سوگئی کچھ ہی دیر میں اعصاب اتنے تھکے ہوۓ تھے ۔۔۔
@@@@@@@@@@
(حال)
“یہ رہا آپ کا کارڈ ۔۔۔ روشانے نے اس کے سامنے رکھا جو اپنا ماتھا مسل کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔۔۔
“ہمممم , رکو ایک منٹ ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔
“جی ۔۔۔ وہ پلٹ کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔
“اگر موبائیل لے ہی لیا ہے تو اس کا سہی استعمال کرنے کے لیۓ ایک عدد سم کی بھی ضرورت پڑتی ہے روشانے ۔۔۔ علم خان نے جتاتے لہجے میں کہا ۔۔۔
وہ حیران ہوئی اس کی بات پر ۔۔۔ اسے لگا وہ اس سے چھپا کر استعمال کرے گی پر اب جب وہ جانتا ہے تو جلدی سے خود کو نارمل کرتی بولی ۔۔۔
“تو کیا ایک عدد سم کا بندوبست ہوسکتا ہے کیا ۔۔۔ اس نے اپنے لہجے کو نارمل رکھتے ہوۓ سرسری لہجے میں پوچھا ۔۔۔
“ہممم بلکل ہوسکتا ہے ۔۔۔ موبائیل دو ۔۔۔ عالم اتنا کہے کر اٹھ بیٹھا ۔۔
اس نے جلدی سے شاپر اس کی طرف بڑھایا ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ اس کی نئی موبائیل میں پاکستانی سم لگا کر اس کے حوالے کرتا ہوا بولا ۔۔۔
“بہت بھروسہ کرکے میں تمہیں موبائیل تو دے رہا ہوں ۔۔۔ میرا بھروسہ مت توڑنا روشانے عالم خان ۔۔۔ عالم خان نے جتاتے لہجے میں کہا ۔۔۔
“جی جی ۔۔ روشانے نے موبائیل کو دیکھتے ہوۓ بغور کہا ۔۔۔
وہ اس کے تاثرات دیکھ نہ سکا نہ ہی نوٹ کرسکا کیونکہ اس کا دھیان اپنی بہن زونی کی طرف تھا جو اس کے سینے پر سر رکھ کے شدت سے جو روئی تھی کچھ دیر پہلے مال میں ۔۔۔
“کیا ہوا تھا زونی جو اتنے وقت بعد اس طرح روئی تھی ۔۔۔ عالم خان کا ذہن اسی بات میں اٹکا تھا جبکہ دوسری طرف روشانے کا ذہن کچھ اور ہی تانے بانے بن رہا تھا ۔۔۔
@@@@@@@@
(حال)
“یہ لو ۔۔۔ دائم خان نے لفافہ بڑھایا تھا مناہل کی طرف جو اذان کو گود میں لیۓ بیٹھی تھی ۔۔۔
“یہ کیا ہے ۔۔۔ اس نے سوالیہ لہجے میں پوچھا ۔۔۔
“انرول کارڈ بن کر اگیا ہے اگزامز کی تیاری رکھو , سمجھی , بلکہ اب سے میں خود پڑھایا کروں گا ۔۔۔ دائم نے جتنے سکون سے کہا تھا اتنا ہی جلدی اس کے چہرے اطمنیان ہرن ہوا تھا ۔۔۔
“میں نے کہا میرا دل نہیں ہے پھر کیوں مجھے فورس کررہے ہیں ۔۔۔ مناہل نے منہ بناکر کہا ۔۔۔
“مناہل تمہیں کہا تھا پڑھائی پر توجہ دو ۔۔۔ دائم نے تنبہی کی ۔۔
“میں نے بھی کہا تھا میرا موڈ نہیں اگے پڑھنے کا ۔۔۔ مجھے تنگ نہ کیا کریں ۔۔۔ وہ اذان کو اٹھاکر چلی گئی وہ اسے جاتا دیکھتا رہ گیا ۔۔۔ لفافہ بھی وہیں چھوڑگئی ۔۔۔
پورا وقت مناہل نے اسے اگنور کیا ہوا تھا ۔۔۔ اگر دائم کوئی بات کرتا تو بھی وہ اگنور کرجاتی ۔۔۔
“پوچھ سکتا ہوں اس ناراضگی کی وجہ ۔۔۔ شام کو چاۓ دیتے وقت وہ پوچھ بیٹھا ۔۔۔
“پلیز میری مرضی کے خلاف , مجھے پڑھنے پر مجبور نہ کریں ۔۔۔ مناہل نے چڑکر کہا ۔۔۔ کمرے سے چلی گئی ۔۔۔
رات کے دس بجے وہ دودھ کا گلاس لیۓ جیسے کمرے میں داخل ہوئی تو حیران رہ گئی وہ صوفے پر بیٹھا تھا سامنے ٹیبل پر بکس پھیلے تھے ۔۔۔
“آؤ مناہل پڑھائی کا وقت ہوگیا ہے , میں نے کہا تھا اب سے خود پڑھاؤں گا ۔۔۔ دائم نے نارمل لہجے اور نارمل انداز میں کہا ۔۔۔
وہ اس کی ڈھٹائی پر دانت پیس کر رہ گئی ۔۔۔
“اتنی دفعہ کی کہی بات سمجھ نہیں اتی اپ کو دائم ۔۔۔ مجھے نہیں پڑھنا مطلب نہیں پڑھنا ۔۔۔ مناہل غصے میں کہتی باہر کی طرف بڑھنے لگی اسی وقت دائم اس کا ہاتھ تھام کر اپنے پہلو میں گرادیا ۔۔۔ وہ سیدھا اس کے سینے سے آلگی ۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔ مناہل نے روڈ لہجے میں کہا ۔۔۔
“بیوی کے ساتھ یہ سب بدتمیزی کے زمرے میں نہیں آتا مناہل ۔۔۔ دائم اس کے غصے کو اگنور کرتا سکون سے بولا تھا وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اپنے قریب کرگیا ۔۔۔ کمر سے ہاتھ ہٹاتا اس کے شولڈر پر بازو پھیلا گیا ۔۔۔ جیسے وہ اس کے شکنجے میں ہو تاکہ فرار کی راہیں بند ہوسکیں ۔۔۔
“ہاتھ ہٹائیں ۔۔۔ مناہل نے بیزاریت سے کہا ۔۔۔
“اوکے ہٹا دوں گا تم سکون سے بیٹھو اگر تو ۔۔۔ دائم نے اس کی آنکھون میں دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“اوکے ۔۔۔ مناہل کے سرینڈر کرنے پر وہ ہاتھ ہٹا گیا ۔۔۔
“دائم ۔۔۔ اس کے کچھ کہنے کے لیۓ منہ کھولا اس کا نام ہی بمشکل لے پائی وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ گیا ۔۔۔ اس کے ہونٹ کانپ گۓ اس کے لمس پر ۔۔۔
“شششش ۔۔۔ پڑھنا تم نہیں چاہتی تو اس کا آسان حل یہ ہے ہم فیملی پلان کرلیں کیا خیال ہے تمہارا اس بارے میں مناہل دائم خان ۔۔۔ دائم نے بھاری لہجے میں کہا ساتھ ہی ساتھ اس کے چہرے پر آئی آوارہ لٹ کو کان کے پیچھے کرنے لگا ۔۔۔ اس کا نرم گرم لمس گال پر محسوس کرتی وہ گھبرا گئی ۔۔۔
حیرت میں وہ اس رنگ بدلتے شخص کو دیکھنے لگی ۔۔۔ مناہل کی آنکھین باہر نکلیں تھیں اس کی بات سن کر ۔۔۔
“کیا خیال ہے اس بارے میں ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا پوچھنے لگا ۔۔۔
“نہیں نہیں مجھے ابھی پڑھنا ہے , آپ کا خیال غلط ہے ۔۔۔ مناہل نے گھبرا کر جلدی سے کہا اور مناہل کے اس انداز پر وہ اپنی ہنسی دباتا ہوا بولا ۔۔۔
“پکا دل سے پڑھوگی ۔۔۔ دائم کا انداز سوالیہ تھا ۔۔۔
“بلکل دل سے پڑھوں گی ۔۔۔ وہ جلدی سے بولی اور ساتھ ہی ساتھ اپنا سر ہلانے لگی زور شور سے تاکہ اسے یقین اجاۓ ۔۔۔ اس کے بچوں والے انداز پر دائم کو بے انتہا ہنسی آنے لگی پر وہ جیسے تیسے اپنی ہنسی کنٹرول کرتا رہا اور ضبط کرتا ہوا بولا ۔۔۔
“ہمممم تو پھر ٹھیک ہے ۔۔۔ آؤ پڑھنا شروع کرتے ہیں فزکس سے ۔۔۔ دائم نے اس کی مشکل دور کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“ہان ٹھیک ہے ۔۔۔ مناہل نے جلدی سے بک اٹھائی ۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ سے ٹیکس بک لے کر ٹیبل پر رکھی ساتھ نوٹس کھولے ۔۔۔ پینسل اور نوٹ بک تھما کر اس پر ضروری پوائینٹ لکھوانے لگا اسے ۔۔۔ پہلے وہ بیزاریت سے منہ بناتی رہی پر اس کے سمجھانے کا انداز ایسا تھا وہ خودبخود دلچسپی لے کر سمجھنے اور لکھنے لگی ضروری پوائینٹس ۔۔۔
دائم کو پہلے وہ ڈل اسٹوڈنٹ لگی پر آخر میں ریویژن کے وقت اسے احساس ہوا اتنی بھی ڈل نہ تھی مناہل پڑھائی میں جتنا وہ سب سمجھتے آۓ تھے اسے ۔۔۔
@@@@@@@@
(ماضی)
باذل بھرپور انگڑائی لے کر اٹھا تھا ۔۔۔ بیڈ خالی دیکھ کر واشروم کی طرف بڑھا وہان بھی اسے ناپاکر سمجھ گیا کہ وہ باہر جاچکی ہے اس کے بغیر ۔۔۔
“اف اس بیوقوف کو ذرہ سی عقل نہیں , اکیلی چلی گئی باہر ۔۔۔ باذل نے کلس کر سوچا ۔۔۔
وہ باہر ایا فریش ہوکر وہ پھپھو کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی ۔۔۔ وہ دروازے کے پاس ہی رک گیا ۔۔۔ وہ بےپرواہ انداز میں لیٹی تھی دوپٹہ ایک طرف پڑا اپنے ہونے پر ماتم کررہا تھا ۔۔۔
“زونی کل رات جو تم نے کیا وہ غلط تھا اس طرح چیخ کر اپنے شوہر کی بےعزتی کروانا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ پھپھو اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ بولیں تھیں ۔۔۔
“سوری پھھپو میں ڈرگئی تھی ۔۔۔ زونی نے جلدی سے صفائی دی ۔۔۔
“باذل شوہر ہے تمہارا , ہمیشہ اس کے ساتھ ہی تمہیں رہنا ہے ۔۔۔ پھپھو نے سمجھایا ۔۔۔
“جی پھپھو ۔۔۔ زونی نے کہا ۔۔۔
“پر پھپھو میری پڑھائی , مجھے پڑھنا ہے ۔۔۔ زونی نے اپنی فکر بتائی ۔۔۔
“فکر نہ کرو لندن میں بھی پڑاھا سکتا ہوں ۔۔۔ تم شوق کو مرنے نہ دو ۔۔۔ باذل نے سکون سے کہا ۔۔۔
وہ ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی ۔۔۔ جلدی سے دوپٹہ سر پر لیا ۔۔۔ باذل اس کے بیوقوفانہ انداز پر ہنسی کنٹرول کرتا ہوا بولا ۔۔۔
“لیٹی رہو ۔۔۔ وہ بیڈ کے کونے پر بیٹھا تو وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی تھی ۔۔۔
“آؤ باذل سہی ہوکر بیٹھو ۔۔۔ پھپھو نے کہا پھر بھی وہ کونے پر ٹکا رہا ۔۔۔
“نہیں پھپھو بابا جان سے مل لون , ناشتے کے بعد اسے تیار کروادیجیۓ گا چچا جان سے ملواکر آؤں ۔۔۔ وہ جلدی سے باہر نکل گئی تھی ۔۔۔ باذل اسے دیکھتا ہوا پھپھو سے بولا تھا ۔۔۔
“ہاں کھانا لگواتی ہوں ۔۔۔ پھپھو نے کہا ۔۔۔
@@@@@@@@@@
(ماضی)
پھر واقعی پنجائیت میں جب ونی مانگی گئی تو بھروز خان نے بتایا کہ اس کی بیٹی کا نکاح ہوچکا ہے اس کے بھتیجے سے , جس کے ساتھ رخصت کرنے کا ارادہ ہے ان کا جو لندن سے خاص رخصتی کے لیۓ آیا ہوا ہے ۔۔۔
بھروز خان نے کھل کے اعتراف کیا یہ سب غلطی سے ہوا تھا ۔۔۔ ورنہ کسی بچے کو قتل کرکے ان کو کیا ملنا ہے ۔۔۔
بحرحال حالات کو مدنظر رکھتے ہوۓ پنچائیت نے اپنا فیصلہ سنادیا کہ بھروزخان کی سب سے بہترین , زرخیز زمیں , شاہوں کے حوالے کی جاۓ گی ۔۔۔ اس فیصلے کو بخوشی مان لیا بھروزخان نے ۔۔۔ شاہوں کو شدید غصہ تھا اس فیصلے پر بھروزخان کی حکمت عملی نے بڑی دشمنی کو ہونے سے روک دیا ۔۔۔۔
بھروزخان نے بچے کے باپ کے اگے ہاتھ جوڑ کر کہا ۔۔۔
“مجھے احساس ہے کوئی چیز آپ کے اولاد کی زندگی کا حرجانہ نہیں بھرسکتی , میرے اندر اتنا ظرف نہیں کہ اپنی اولاد قربان کرسکوں پر آپ کے اولاد کے بدلے اپنی جان ضرور دے سکتا ہوں کیونکہ یہ گناھ مجھ سے ہوا ہے تو اس کی سزا بھگتنے کو تیار ہوں ۔۔۔ پر شاہوں اور خان کی دشمنی اپنی انے والی نسل میں لانے کو تیار نہیں ۔۔۔
ان کے ان لفظوں پر شاہ خاندان نے ان کو معاف کردیا اور زمین زر لینے سے انکار کردیا یہ کہے کر “کوئی دولت اولاد کی دولت سے بڑھ کر نہیں , اپنی اولاد کی جان کی قیمت کم ازکم یہ زمین نہیں ہوسکتی ۔۔۔
یوں یہ معاملہ تو نمٹ گیا پر باذل اور زرتاشہ کو ایک انمول رشتے میں باندھ گیا جس کا تصور کسی کے وہم گمان میں نہ تھا ۔۔۔
@@@@@@@@
(ماضی)
“چچا جان , اللہ کا شکر ہے سب خیر و عافیت سے نمٹ گیا ۔۔۔ باذل خان نے کہا ۔۔۔
“اللہ کا شکر ہے , جس نے شاہوں کے دل میں رحم ڈال دیا ورنہ معاملہ خراب ہوسکتا تھا ۔۔. بھروزخان نے کہا ۔۔۔
“بسسس بیٹا تم سے التجا ہے میری بیٹی کا ہمیشہ خیال رکھنا ۔۔۔ بھروزخان نے بھتیجے سے التجا کی ۔۔
“جی چچا جان فکر نہ کریں , میں اسے اپنے ساتھ لندن لے جاؤں گا جلد ہی , فی الحال اسٹوڈنٹ ویزا پر تاکہ وہ پڑھ سکے اگے , کیونکہ زونی کی عمر کم ہے اسے بحیثییت بیوی کے لے جانا ناممکن ہے ۔۔۔
باذل نے اپنی مجبوری بتائی ۔۔۔
“جیسا تمہیں ٹھیک لگے باذل خان مجھے تم پر بھروسہ ہے ۔۔۔ بھروزخان نے کہا تھا دل سے ۔۔۔
@@@@@@@@@@
(ماضی)
یوں دو مہینے بعد وہ اس کے ساتھ لندن جارہی تھی ۔۔۔ ہزاروں خواب آنکھوں میں سجاۓ ۔۔۔
نوروزخان نے اسے موبائیل لے کر دے دی تھی ساتھ ہی ساتھ باذل خان کو حکم دیا تھا لندن لے جاکر اسے وہان سم بھی لگوادے ۔۔۔
ان دو مہینوں میں اسے اس کی ماں اور پھپھو نے شادی شدہ زندگی کئی پہلو سمجھا دیۓ تھے ۔۔۔ اسے گھر بسانے کے طریقے سکھاۓ وہ ان کی کہی ہر بات اپنے پلو سے باندھتی رہی ۔۔۔
پر اس وقت اس پر حیرت کا پھاڑ ٹوٹا جب وہ اسے گھر بجاۓ ہاسٹل لے گیا اور بتایا وہ یہیں رہ کر پڑھائی کرے گی کیونکہ وہاں سے اس کا سکول قریب تھا اس کا اے لیول میں ایڈمیشن کرواچکا تھا ۔۔۔
اس سے پرانا موبائیل لے کر نیا موبائل دیا جس میں اس کا اور گھر والوں کے نمبر الریڈی سیوو تھے ۔۔۔
“میں ملنے اتا رہوں گا , کوئی بھی مسئلا ہو مجھے کال کرلینا ۔۔۔ باذل خان نے آخر میں یہ کہا جس پر وہ اپنی آنکھ کی نمی چھپاتی , وہ سر اثبات میں ہلاگئی تھی ۔۔۔
“اللہ حافظ ۔۔۔ باذل نے کہا ۔۔۔
“اللہ حافظ ۔۔۔ زونی نے دکھ سے کہا ۔۔۔ اس کے دکھ سے لاپرواہ ہو کر وہ چلا گیا اور وہ اسے جاتا دیکھتی رہے گئی ۔۔۔
پہلے دومہینوں میں وہ کبھی کبھار ہی بات کرتا رہا ۔۔۔ شروع میں زونی سے اس کی لمبی بات ہوتی تھی پر آہستہ آہستہ وہ بھی کم ہونے لگیں ۔۔۔
اس دوران ایک بار ہی وہ اسے گھر لے گیا ۔۔۔ وہ بھی ایک دن کے لیۓ ۔۔۔ وہ اس کی شدید مصروفیات پر حیران ہوتی رہی ۔۔۔
وہ بیزار ہونے لگی تھی اس زندگی سے , ایسی شادی شدہ زندگی تو اسے پھپھو نے تو نہیں بتائی تھی جیسی وہ باذل کے ساتھ گزار رہی تھی ۔۔۔
باذل کا اس طرح اگنور کرنا اسے دکھی کرگیا تھا ۔۔۔ اب پہلے سے بھی زیادہ کم بات ہونے لگی تھی دونوں کے بیچ ۔۔۔ اکثر زونی کو یہی لگتا تھا باذل,صرف اپنی کہتا ہے اس کی سنتا کم ہی ہے ۔۔۔ شاید وہ ہی چپ ہوگئی تھی ۔۔۔
وہ سب سے جھوٹ بول کر باذل خان کا بھرم رکھ رہی تھی ۔۔۔ سبین خان سے اس کی فون پر بات ہوتی رہتی تھی ۔۔۔
چھے مہینے گزر چکے تھے اسے ایسی تنہائی والی زندگی گزارتے ہوۓ وہ کم ہی کسی سے بات کرتی تھی کلاس میں اس کی کوئی دوست نہ تھی سب سے الگ تھلگ رہتی اپنے کام سے کام رکھتی تھی , یہاں بھی وہ اپنی ہوشاری کے جھنڈے گاڑ چکی تھی ۔۔۔
وہ اپنی کلاس میں ایک ہی ایسی پاکستانی تھی جو اسکارف بھی لیتی تھی اور دوپٹا بھی پہنا کرتی تھی جو ہر وقت پن اپ رہتا تھا ۔۔۔ ورنہ باقی پاکستانی لڑکیاں مغربی حلیۓ میں رہتی تھیں جو اسی ماحول کا حصہ لگتی تھیں جبکہ ان کے بنسبت وہ منفرد اور جدا تھی سب سے ۔۔۔
پڑھائی کے باوجود اتنا ٹائم بچ جاتا تھا جو اسے اکیلے پن اور تنہائی کا احساس دلاتا تھا ۔۔۔ وہ اکتاگئی تھی اس اکیلے پن سے اور جھوٹ جھوٹ بول بول کر ۔۔۔
آج اس کا برتھ ڈے تھا وہ سترہ سال کی ہوگئی تھی وہ سب کو یاد کرتی روپڑی کیونکہ سب نے وش کیا پر باذل نے نہیں کیا جانے کیوں اسے امید تھی وہ اج کے دن ضرور آۓ گا پر وہ نہ ایا یہ اس کی زندگی کا خاص دن بھی گزرگیا ۔۔۔رات کے ایک بج رہے تھے ابھی وہ شدت سے رونے میں مصروف تھی کہ موبائیل بجنا شروع ہوا جانے کیوں لگا باذل کی کال ہوگی پر نوروزخان کی کال دیکھ کر وہ آنسو پونچھتی کال اٹھا گئی ۔۔۔
سلام دعا کے بعد وہ اس کو برتھ ڈے وش کرنے لگے اور لیٹ پر معذرت کی ۔۔۔ اس نے تھینکس کہا تھا معذرت بھی قبول کرلی ۔۔۔
جس پر وہ اس کے لہجے کا بھاری پن محسوس کرگۓ ۔۔۔
“کیا ہوا زونی بیٹی باذل کہاں ہے جو تم رورہی ہو ۔۔۔ نوروزخان نے پوچھا ۔۔۔
“وہ میں ۔۔۔ اس کی زبان لڑکھڑاگئی ۔۔۔ وہ کچھ کہے نہ سکی ۔۔۔ وہ اتنا دور ہوکر بھی اس کا دکھ سمجھ گۓ تھے ایک بار پھر آنسو بہے نکلے شدت سے ۔۔۔
“بیٹا میرا,خیال ہے اب ہاسٹل کے بجاۓ تمہیں گھر رہنا چاہیۓ اب تو لندن کے راستے وغیرہ تم سمجھ جاؤگی زیادہ مشکل نہ ہوگی تمہیں ۔۔۔ نوروزخان نے کچھ سوچ کر تھوڑی دیر بعد کہا ۔۔۔
“جی تایا ابو … وہ آہستہ سے بولی ۔۔۔
“میں باذل سے کہوں گا اب تمہیں گھر لے آۓ ۔۔۔ نوروزخان نے کہا اور ان کو یہی مسئلے کا حل لگا ۔۔
“آپ نہ کہیں انہیں , میں یہیں ٹھیک ہوں ۔۔۔ زونی نے اس کی ناراضگی کے فکر سے کہا تھا ۔۔۔
اس کی بات پر وہ چپ ہوگۓ تھے کچھ دیر بعد بولے ۔۔۔
“بیٹا چھے مہینوں میں کتنی بار تمہیں گھر لے گیا ہے اور کتنے دنوں کے لیۓ ۔۔۔ نوروزخان نے پوچھا ۔۔۔
“ایک ہی بار ایک ہی دن کے لیۓ وہ گھر لے گۓ تھے ۔۔۔ زونی نے بےساختہ کہنے کو کہے گئی , پھر پچھتانے لگی ۔۔۔
نوروزخان کو افسوس ہوا یہ سوچ کر اس دوران دونوں عیدیں آئیں تھیں مطلب یا تو وہ دونوں عیدوں پر اکیلی رہی تھی یا ایک پر اور اج سالگراہ کے دن بھی یقینن وہ نہ ایا تھا ۔۔۔ ان کو شدید غصہ ایا اپنے بیٹے کی لاپرواہی پر ۔۔ اس سے زیادہ وہ اس سے بات نہیں کر پائے تھے ۔۔۔ چند اور باتیں کرکے فون رکھ گۓ جبکہ ان چند باتوں کے دوران زونی نے باذل کا بھرم رکھنے کی پوری کوشش کی پر نوروزخان اس کے کسی اور جھوٹ پر یقین نہ کرسکے ۔۔۔
@@@@@@@@@
(ماضی )
وہ حیران تھی اگلے دن شام کو وہ اسے لینے اگیا تھا ۔۔۔ زونی نے سلام کیا جس کا جواب اس نے سرہلا کر دیا ۔۔۔ وہ حیرت سے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی جو سفید کے بجاۓ سرخ ہورہا تھا ۔۔۔ اس کی سمجھ سے باہر تھا اس کا یہ انداز ۔۔۔
“کیا بات ہے ۔۔۔ کچھ پریشان ہیں ۔۔۔ زونی نے معصومیت سے پوچھا اس کی رف ڈرائیونگ دیکھتے ہوۓ ۔۔۔
“مجھے ڈر لگ رہا ہے خان ۔۔۔ اس کے حکم موجب وہ اسے خان بلانے لگی تھی ۔۔۔ لہجے میں گھبراہٹ تھی اس کی چپ دیکھتے ہوۓ ۔۔۔
“چپ ایک لفظ نہ کہنا ورنہ شاید کہیں گاڑی نہ ٹھوک دوں ۔۔۔ باذل خان نے غصے سے کہا ۔۔۔ وہ جو خوش تھی اس کے انے پر اب گھبراہٹ نے جگہ لے لی تھی ۔۔۔ وہ سختی سے ہونٹ پر ہونٹ جماۓ ڈرائیو کررہا تھا جبکہ زونی کو اس ٹھنڈ میں پسینہ آنے لگا تھا اس کے غصے کو دیکھتے ہوۓ ۔۔۔
وہ دل ہی دل میں اس کے لیۓ دعا کررہی تھی وہ نارمل ہوجاۓ جلدی سے ۔۔۔ وہ اسے دیکھ رہی تھی پر اس کی نظریں سامنے راستے پر جمی تھیں ۔۔۔ زونی محسوس کر سکتی تھی وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا ہے ۔۔۔
“یہ تم نے بلکل اچھا نہیں کیا زرتاشہ , تمہیں یہ سب نہیں کہنا چاہیۓ تھے ڈیڈ سے ۔۔۔ گھر کے سامنے گاڑی روکتے ہوۓ باذل خان نے کہا ۔۔۔
اس کی انکھون میں جنونیت تھی یہ سب کہتے ہوۓ ۔۔۔
“خان میرا یہ مقصد نہیں تھا انہوں نے پوچھا تو۔۔۔تو ۔۔۔ زونی نے جلدی سے صفائی دینا چاہی پر وہ اسے ان سنا کرکے اپنے سائیڈ کا دروازہ کھول کے باہر نکلا پھر اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور اسے بازو سے دبوچ کر باہر نکالا ۔۔۔
“بسسس ایک اور لفظ نہیں , جو کہنا تھا مجھ سے کہتی ڈیڈ سے نہ کہتی ۔۔۔ وہ ایک ایک لفظ چباتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
وہ اسے گاڑی سے باہر لایا اور گھر کے اندر لے ایا ۔۔۔
“یہ کیا کررہے ہیں خان ۔۔۔ وہ اسی طرح اس کا بازو تھامتا ہوا لے جانے لگا ۔۔۔
“وہی جس کی تمہیں آرزو تھی , حسرت تمہاری حسرت نہیں رہے گی اب ۔۔۔ بیوی کا مقام دے رہا ہوں ۔۔۔ باذل خان نے نظریں سامنے جماتے ہوۓ اب اسے خود سے لگاۓ اوپر بیڈروم میں لے جانے لگا ۔۔۔ اس کی بات سن کر وہ گھبراگئی تھی ۔۔۔ اس نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی ۔۔۔
“نہیں خان ایسے نہیں ۔۔۔ وہ سسکی ۔۔۔
وہ اسے بازو سے گھسیٹتا کمرے میں لے گیا اور بیڈ پر پٹخا , وہ معصوم جسے ابھی اس رشتے کو سمجھنا تھا وہ اس کی جارحیت دیکھ کر ڈر گئی تھی ۔۔۔ وہ مکمل اس کی گرفت میں تڑپ رہی تھی پر سامنے والا بےپرواہ بنا رہا اس کی چیخ و پکار سننے والا کوئی نہ تھا یہاں ۔۔۔
جس شدت کا غصہ وہ کل سے اپنے اندر محسوس کررہا تھا وہ سارا کا سارا اس پر اتارنے لگا اس کے کسی لمس میں نہ محبت تھی نہ مان تھا بس تھا تو جنون , نفرت اور غصہ ۔۔۔ وہ غصہ جو کل اس کے ڈیڈ نے اس پر اتارا تھا اس کی لاپروائیاں گنواکر ۔۔۔
وہ معصوم کلی کتنی اور کس طرح ٹوٹی تھی اس کا باذل خان کو ذرہ بھی اندازہ نہ تھا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
