Rate this Novel
Episode 26
عید اپنوں کے سنگ
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 26
“مناہل کیا کہا تم نے معولی نین نقوش , تمہیں کب کس نے ایسی بات کہی ہے ۔۔۔۔ دائم شاک لہجے میں بولا ۔۔۔
“ہاں ٹھیک ہی تو کہا ہے , جانتی ہوں میں , نہیں ہوں میں خوبصورت نا ایمن آپی جیسی نا زونی جیسی , جو کوئی مجھے چاہے یا پسند کرے , پر جس طرح آپ نے مجھے میری بدصورتی کا احساس دلایا , اس طرح کسی نے نہیں دلایا ۔۔۔
“میں نے , کب , کیسے ۔۔۔ سہی معنی میں شاک اب دائم کو لگا تھا ۔۔۔
“ہاں آپ نے , سعدیہ سحر کے مذاق پر آپ نے ہی کہا تھا اللہ نہ کرے , مناہل اور میری گھروالی , کتنی نفرت تھی اس وقت آپ کے لہجے میں , میری بدصورتی کی وجہ سے آپ نے ایسا کہا تھا ۔۔۔ آج بھی آپ کی نظر میں میرے جیسی معمولی لڑکی کی خوشی کی کیا اہمیت ہے کچھ بھی نہیں , اگر میں بھی سب جیسی خوبصورت ہوتی تو یہ سب نہ کرتے میرے ساتھ آپ جو آج شادی میں کیا ۔۔۔ کتنی چاہ سے میں نے آذان کے لیۓ شیروانی لی تھی اور کس بری طرح ٹوک کر سب کے بیچ مجھے بےعزت کرکے اتارنے کو کہا ۔۔۔ کتنی تکلیف ہوئی مجھے آپ کو ذرہ احساس نہیں ۔۔۔۔ مناہل بولنے پر آئی بولتی چلی گئی ۔۔۔
نم آنکھیں لیۓ وہ واشروم میں بند ہوگئی جبکہ دائم بمد دروازے کو دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
@@@@@@@@@@
کل سے آج تک دونوں کے بیچ خاموشی تھی عالم خان اپنی بھڑاس اس پر نکال چکا تھا ۔۔۔ روشانے چپ چاپ اس کے ساتھ ہوٹل واپس اگئی تب سے اب تک دونوں کے بیچ خاموشی تھی ۔۔۔ عالم خان صبح اٹھ کر کمرے سے نکل گیا ۔۔۔ پھر دن کے وقت ایا تو روشانے کو خاموش بیٹھے پایا بیڈ پر , اسی لمحے لنچ لے کر ویٹر روم میں آیا ۔۔۔
ایک گھنٹا پہلے ہی وہ واپس آیا ریسیپشن سے پوچھنے پر پتا چلا تھا صبح سے روم سے باہر نہیں آئی اس کی مسز اور نا ہی روم سے کسی بھی قسم کی سروس کا آرڈر آیا ہے ۔۔۔ ویسے بھی یہاں ہوٹل میں جب سے انتظامیہ کو پتا چلا ہے وہ ایسی پی ہے تب سے سب بچھے جارہے تھے اس کے اگے پیچھے اور ساتھ ہی ساتھ وی آئی پی پروٹوکول دے رہے تھے ۔۔۔ اس لیۓ جب وہ صبح نکلتے وقت ریسیپشن پر کہے کر گیا تھا اگر اس کی مسز کہیں باہر جاۓ تو اسے انفارم کیا جاۓ اور اگر وہ کوئی روم سروس مانگے تو دی جاۓ ۔۔۔
یہ جان کر اس نے کچھ نہیں کھایا اسے افسوس ہوا , یوں تو دونوں نے کل رات سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔۔
“لنچ کرلو , بھوکے بیٹھنا کسی مسئلے کا حل نہیں , کھانا کھالو پھر بات ہوگی تم سے ۔۔۔ عالم خان نے مختصر لفظوں میں اپنی بات کہی ۔۔۔ جس پر روشانے بیڈ سے اٹھی اور صوفے پر اکر بیٹھی ۔۔۔
“آپ بھی کھالیں آکر ۔۔۔ روشانے نے ڈرتے ڈرتے کہا ۔۔۔
“میری فکر مت کرو , میں باہر سے کھا آیا ہوں ۔۔۔۔ عالم خان جاکر بیڈ پر بیٹھ گیا اور موبائیل چلانے لگا ۔۔۔ جانے کیوں روشانے کے دل نے کہا اس نے بھی رات سے کچھ نہیں کھایا ۔۔۔ بھوک سے برا حال تھا روشانے کا پر شرمندگی کے مارے کہے نہ سکی , اب اس کے آفر کرنے پر ڈٹ کے کھانے لگی ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں عالم خان کے موبائیل پر رنگ ہوئی نمبر دیکھتا وہ کمرے سے باہر نکل آیا اور باذل خان کی کال اٹھائی ۔۔۔ سلام دعا کے بعد بات پوچھنے میں پہل باذل نے کی کیونلہ عالم خان کا مایوس لہجہ بہت کچھ اسے باور کروارہا تھا ۔۔۔
“کب ارہے ہو واپس تم دونوں , بات ہوئہ روشانے سے ۔۔۔ باذل نے پوچھا عالم خان سے کال پر ۔۔۔
“ہمممم کل آجائیں گے , سب ختم ہوگیا باذل , کچھ نہیں بچا ہمارے بیچ , میرا آخری بھرم بھی ٹوٹ گیا ۔۔۔ روشانے نے پلٹنے کے سارے راستے خود پر بند کرکے بیٹھی ہے بہت ضدی اور خودسر عورت ہے ۔۔۔ عالم خان نے افسوس سے کہا ۔۔۔
“کیا مطلب ہے ان سب باتوں کا , وہ بیوی ہے تمہاری عالم , تم سارے حق رکھتے ہو اس پر ۔۔۔ باذل نے تیز لہجے میں کہا اسے یہ امید نہ تھی عالم خان سے ۔۔۔
“خالی خولی حق رکھ کے کیا کروں میں , حکومت تو کسی کے دل پر کروں یا کسی کے خیالوں پر بھی میرا پہرا ہو اس قدر میرے حصار میں ہو وہ , یہ ہے اصل حکومت جس کے بعد سارے حقوق اور فرائض کی ادائیگی واجب ہوجاتی ہے ۔۔۔ اور جس حق کی تم لوگ بات کررہے ہو وہ یہ ہے کہ , تم سب کی بات مان کر اس کے ساتھ زبردستی کروں یا پھر اولاد کی زنجیر ڈال دوں , کوئی فائدہ نہیں , جب عورت خودسر اور باغی ہوجاۓ تو کوئی چیز اس کے پاؤں کی زنجیر نہیں بن سکتی اولاد بھی نہیں ۔۔۔۔ میں نہیں کرسکا وہ جس کے لیۓ سب نے مجھے مجبور کیا , کیونکہ اپنی مردانگی دکھاکر اپنی نظروں میں گرنے سے بہتر ہے باعزت طریقے سے اسے آزاد کردوں ۔۔۔ عالم خان نے کھل کے اسے بتادیا اپنا فیصلہ ۔۔۔
“تم ایسا نہیں کرسکتے , ڈیڈ کو کیا جواب دوگے , کتنا یقین تھا انہیں تم پر ۔۔۔ باذل خان شاک ہوا تھا اس کی بات سن کر اسے یہ امید نہ تھی عالم خان ۔۔۔
“کون یقین کرے گا پٹھان عورت کی بےوفائی پر , پر دیکھو روشانے نے ثابت کردیا اس میں اصل پٹھانوں کا خون ہی نہیں یا پھر پٹھان عورت بھی بےوفائی کرسکتی ہے ۔۔۔
“کہنے کو تو میں بھی کہے سکتا تم میں اصل پٹھانوں والی بات ہی نہیں , ایک بیوی نہیں سنبھلی تم سے ۔۔۔ باذل نے غصے سے کہا ۔۔۔
“ہاہاہا , ایسے کرکے تم سمجھتے ہو میری غیرت جاگ جاۓ گی اور میں اپنے فیصلے سے ہٹ جاؤں گا , ناممکن ہے یہ باذل خان ۔۔۔ عالم خان کے کھوکھلے قہقہے نے باذل کو دکھی کردیا ۔۔۔
“پلیز عالم یہ ٹھیک نہیں , وہ اس حنین کے چکر میں اپنا مذہب بدلنے کو تیار ہے , پلیز اسے فنا ہونے سے بچالو , جو کرنے وہ جارہی ہے وہ غلط ہے ۔۔۔۔ باذل نے منت کی ۔۔۔
“اللہ حافظ , دعا کرنا روشانے کے لیۓ ۔۔۔ عالم خان کال کاٹ دی ۔۔۔ باذل خان کو خوب غصہ آیا اس کی بات پر کہ عالم نے اسے جواب نہیں دیا ۔۔۔ وہ اسے دوبارہ کال کرنے لگا جسے وہ بار بار کاٹ رہا تھا ۔۔۔ آخر اس نے ترک کردیا عالم کو کال کرنا ۔۔۔
@@@@@@@@
وہ کچھ دیر بعد روم میں آیا تو روشانے کھانا کھاچکی تھی ۔۔۔ وہ کچھ لمحے ٹہلتا رہا روم میں روشانے الجھی نظروں سے دیکھنے لگی تھی اسے ۔۔۔ تھک کر وہ صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔ روشانے نے افسوس سے اسے دیکھا جس کا روشن چہرہ آج روشن نہیں لگ رہا تھا ماتھے پر کئی بل تھے جو اس کی فکر اور پریشانی ظاہر کررہے تھے ۔۔۔
“بہت سوچا میں نے , آخر ایک فیصلے پر پہنچا ہوں میں ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔ وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی اسے ۔۔۔
“سارے حربے آزما کر دیکھ لیۓ , محبت پیار اعتماد سب دینے کے بعد بھی جب اس پھاڑی پر تمہارے لہجے میں فکر اور پریشانی دیکھی تو کس کے لیۓ اس حنین کے لیۓ تو روشانے نوروز خان , میری زندگی میں کچھ بچا ہی نہیں , اب کچھ بھی ہنا اور سننا بےکار ہے تم اپنے حد سے باہر نکل چکی ہو اور تمہاری حدوں میں عالم خان کہیں بھی نہیں , تو ٹھیک ہے تم آزاد ہو اس زبردستی کے رشتے سے ۔۔۔ عالم خان کے لہجے میں کیا کچھ نہ تھا روشانے کا دل سہی معنی میں ڈوبا تھا جب اس نے اسے روشانے نوروز خان کہا ۔۔۔
“پہلے روشانے عالم خان تم بنی پھر روشنی پھر واپس روشانے عالم خان اور اب روشانے نوروزخان , واقعی سب ختم ہوگیا ۔۔۔ روشانے کے اندر سے آواز آئی جانے کیوں چبھن کا احساس جاگا ۔۔۔ وہ تو یونی میں بھی خود روشانے عالم خان کہلواتی تھی ۔۔۔ اس کی چپ نے حیران کیا عالم کو اسے لگا وہ خوش ہوگی پر خوشفہمی کے سب شیشے توڑ کر وہ بولا ۔۔۔
“روشانے نوروز خان , طلاق تب ہوگی جب حنین اسلام قبول کرکے تم سے نکاح کرنے کے لیۓ مانے گا تو ہی تم اس کے ساتھ جاسکتی ہو ورنہ کسی صورت نہیں ۔۔۔
وہ جو اب تک خاموش تھی شرمندگی کے مارے , ساری شرمندگی اُڑنچھو ہوئی اس کی بات سن کر ۔۔۔
“تو آخر پتا چلا واقعی تم سب شدت پسند ہو ۔۔۔
اب بولی تو ازلی نڈر انداز میں , صاف ظاہر تھا کہ عالم خان کی بات اسے شدید ناگوار گزری تھی ۔۔۔
“ہممممم جسے تم شدت پسندی کہے رہی ہو وہ تمہاری بقا کے لیۓ کررہا ہوں میں ۔۔۔ شاید تم نہیں سمجھوگی ۔۔۔ عالم خان بولا اس کی ناگواری کو اگنور کرکے ۔۔۔
“یہ شدت پسندی ہی ہے عالم خان اور کچھ نہیں , اس لیۓ یہ کنڈیشن رکھ رہے ہو ۔۔۔ روشانے تند لہجے میں بولی ۔۔۔
“شدت پسندی تو یہ بھی ہے کہ حنین کے لیۓ تم اپنا مذہب بدلنے تک کو تیار ہو ۔۔۔ عالم نے کہا وہ شاک ہوئی اسے اس بات کی بھی خبر ہے ۔۔۔
“یہ شدت پسندی نہیں مجبوری ہے ہماری کیونکہ جس طرح تم نے اس دن مرڈر کیا ریسٹورینٹ کے باہر اس سے صاف پتا چلتا ہے ہم یہاں محفوظ نہیں ۔۔۔ روشانے نے حنین کی رٹی رٹائی بات کہی ۔۔۔
“وہ اینکاؤنٹر تھا اس سے زیادہ تفصیل تمہیں بتانے کا میں روادار نہیں , سمجھی ۔۔۔ اس نے کہا ۔۔۔
“بحرحال جو تم کہے رہے ہو ممکن نہیں ۔۔۔ روشانے نے چڑ کر کہا ۔۔۔
“تو طلاق بھی نہیں , چپ چاپ گزاردو زندگی اس بےنام رشتے میں ۔۔۔ عالم خان نے کندھے اچکاۓ ۔۔۔
“ہمممم تو آخر تم نے ایک اور بہانہ ڈھونڈ ہی لیا مجھے روکنے کا اس رشتے میں باندھے رکھنے کا ۔۔۔ روشانے کے لہجے میں طنز تھا ۔۔۔
“ہن ہن ہن ۔۔۔ بھول ہے تمہاری , تم سے زیادہ مجھے جلدی ہے کہ تم اس رشتے سے آزاد ہو کر مجھے بھی آزاد کرو جو میرے کندھے پر ہے بوجھ , اپنی غلط فہمی دور کر لو کہ تمہیں باندھے رکھنے کا مجھے کوئی شوق ہے , قطعی نہیں , میرے لیۓ تم جاچکی ہو , اب تو بس رسمِ جدائی نبھانی ہے ۔۔۔ عالم خان اس سے بھی زیادہ طنزیہ لہجے میں بولا ۔۔۔
روشانے اسے دیکھتی رہ گئی اور کچھ بول ہی نہ سکی ۔۔۔ کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولا ۔۔۔
“کل ہم واپس جا رہے ہیں صبح کی فلائیٹ سے , پرسوں حنین سے مل کر فیصلہ کرلینا اور مجھے یقین ہے اگر وہ تم سے سچی محبت کرتا ہوگا تو شاید میری کنڈیشن مان جاۓ اور میرا وعدہ ہے تم دونوں نکاح کے بعد جہاں رہو کوئی کچھ نہیں کہے گا تایاجان کو اور سارے خاندان کو میں خود دیکھ لوں گا تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا یہ وعدہ ہے میرا ۔۔۔ عالم خان نے پرعزم لہجے میں کہا اس کے لہجے کی پختگی کو روشانے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
“اپنی پیکینگ کرلو ۔۔۔ عالم اتنا کہے کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔
ابھی سامان پیک کرتے ہوئے سے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ حنین کی کال آنا شروع ہوگئی اس کے موبائل پر ۔۔ جانے کیوں وہ کال کاٹ گئی یہ سوچ کر کہ روبرو اب اس سے بات کرے گی اور سب بتاۓ گی ۔۔۔
@@@@@@@@
“کیا بات ہے خان آپ پریشان ہیں ۔۔۔ زونی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
“نہیں تو ۔۔۔ باذل نے خود کو نارمل ظاہر کیا ۔۔۔ وہ اس کے سامنے کافی رکھ کر جانے لگی ۔۔۔
“کہاں جارہی ہو ۔۔۔ باذل کے پوچھنے پر وہ رکی ۔۔
“شمائیل کو دیکھنے ۔۔۔ زونی نے کہا ۔۔۔
“دن کو کیوں اسے سلادیا ۔۔۔ باذل نے پوچھا ۔۔
“دن کو ایک گھنٹہ اسے ضرور سلاتی ہوں ۔۔۔ اس طرح شام کو فریش رہتی ہے اور رات کو وقت پر سوتی ہے ۔۔۔۔ زونی نے اسے بتایا ۔۔۔ وہ اسے محویت سے دیکھ رہا تھا اور سن بھی رہا تھا ۔۔۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ زونی نے پوچھا ۔۔۔
” سوچ رہا ہوں خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ تم کتنی سمجھدار بھی ہو اتنی کم عمری میں , اتنی سمجھداری کی مجھے تم سے امید نہ تھی , تم بہت اچھی پرورش کررہی ہو ہماری بیٹی کی ۔۔۔ زونی تم بہت اچھی ہو ۔۔۔ باذل نے کہا ۔۔۔
“تھینکس ۔۔۔۔ زونی کو خوشی ہوئی اس کی منہ سے اپنی تعریف سن کر ۔۔۔
“پلیز مجھے معاف کردو , تم اچھی ہو پر میں بہت برا ہوں بہت تکلیف دی تمہیں ۔۔۔ اب بھی میرا مکمل وقت تمہیں نہیں دے سکتا مجبور ہوں , کل چلا جاؤں گا یہاں سے ۔۔۔ باذل کی باتوں نے اس کے چہرے کی رونق چھین لی آنکھوں کی چمک ویرانی میں بدل گئی لمحوں میں ۔۔۔
“اف خان پلیز بار بار نہ کہیں سوری , اور اتنا جلدی جارہے ہیں کیوں ۔۔۔ زونی نے بےبسی سے پوچھا ۔۔۔ وہ اس کی بانہوں میں بکھرنے لگی تھی جسے سمیٹنا وہ چاہ رہا تھا ۔۔۔
“مجبوری ہے میری , پٹھانی , جس مشن پر ہوں وہ ابھی پورا نہیں ہوا دعا کرنا میرے لیۓ ۔۔۔ باذل نے کہا ۔۔۔
“پلیز خان , پھر سے انتظار , رابطے میں تو رہیں گے نا ۔۔۔ زونی نے نم آنکھوں سے پوچھا ۔۔۔ وہ اس کی آنکھیں چوم گیا , آنسو بہنے لگے گالوں پر جسے ہونٹوں سے چننے لگا کسی قیمتی سیپ کی طرح ۔۔۔
“میں کروں گا رابطہ تم سے , پر تم نہیں , وعدہ کرو مجھے معاف کردوگی اگر واپس نہ آسکا ۔۔۔ باذل نے دکھی لہجے میں پوچھا ۔۔۔
“چپ اگر دوبارہ ایسا کچھ کہا تو آپ سے پہلے خود مرجاؤں گی ۔۔۔ زونی نے غصے سے کہا ۔۔۔
“آپ آئیں گے واپس مجھے یقین ہے اللہ پر , جس نے آپ کو میرے نصیب میں لکھا ہے اس کاتب تقدیر پر مجھے یقین ہے ۔۔۔ زونی کے لہجے میں یقین تھا ۔۔۔
“پہلے کبھی نہیں ڈرا میں پر اب ڈرتا ہوں تم سے دور ہونے پر , تمہاری اور شمائیل کی فکر رہتی ہے , مرنے سے ڈرتا ہوں میں اب زونی , دیکھو آخر کار تمہاری محبت نے مجھے بزدل بنا ہی دیا ۔۔۔ باذل نے اپنے احساسات بیان کیۓ ۔۔۔
“میں کمزوری نہیں آپ کی طاقت ہوں , جائیں بےفکر ہوکر جائیں , یاد رکھیۓ گا آپ کو واپس آنا ہے ۔۔۔ زونی مے پورے یقین سے کہا وہ اسے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
“ہمممم , ڈیڈ , مام , شمائیل , شانزے اور روشانے کا خیال کرنا ہے تمہیں ۔۔۔ باذل نے کہا ۔۔۔
“میں سب کا خیال کرلوں گی پر میرا اور شمائیل کا خیال خان آپ نے کرنا ہے واپس اکر ۔۔۔ زونی نے کہا ۔۔۔
اس کے چہرے پر یقین تھا جبکہ باذل جانے کیوں بےیقین سا تھا ۔۔۔ ساری فکریں ایک طرف رکھ کر وہ اس کے معصوم چہرے پر اپنی محبت کے لمس چھوڑنے لگا جس سے اس کا چہرہ گلنار ہوگیا ۔۔۔ محبت کے ان لمحوں کو امر کرنے لگا باذل خان ۔۔۔
@@@@@@@@@
وہ واشروم میں بیٹھی کافی دیر روتی رہی , کتنا وقت گزرا پتا ہی نہیں چلا , مناہل کو یقین تھا اب تک دائم سوگیا ہوگا ۔۔۔
وہ جیسے ہی باہر آئی دائم کروٹ کے بل سورہا تھا ۔۔۔ وہ آذان کے کاٹ کے پاس آئی اور اسے پیار کرنے لگی ۔۔۔
“سوری میری جان , ماما نے آپ کو فریش کرکے نہیں سلایا کیونکہ میں غصے میں تھی پر آئندہ ایسے نہیں ہوگا , پر آپ بھی اپنے بابا کے چینج کروانے پر مان گۓ اور ان کے ہاتھ سے فیڈر پی کر سوگۓ , یہ تو غلط بات ہے نا , ماما کے ساتھ آئندہ یہ فاؤل مت کرنا , سمجھے آذان میری جان ۔۔۔ وہ اسے اپنی سنانی لگی پھر اس پر قران کا ورد کرکے پلٹی تو دائم سے ٹکرائی جو سینے پر بازو باندھے دیوار کی طرح کھڑا تھا اس کے راستے میں , مناہل بوکھلا گئی اسے جاگتا اور اپنے سامنے یوں کھڑے کڑے تیوروں سے گھورتا پاکر ۔۔۔
“جب اپنی بھڑاس نکال ہی لی تم نے تو سامنے والے کی صفائی بھی سنی جاتی ہے نا کہ واشروم میں بند ہوجانا اس مسئلے کا حل ہے ۔۔۔ دائم کی سرد انداز میں کہی بات پر اسے اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس ہوئی ۔۔۔
پہلی دفعہ اسے گھبراہٹ ہوئی تھی دائم سے ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
