Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ناول … عید اپنوں کے سنگ

ازقلم …. صبا مغل

قسط نمبر 3

گاڑی ایک بنگلے کے سامنے رکی تو نوروز خان نے پوچھا ۔۔۔

“عمر خان بیٹے یہ ہم یہاں کیوں رکے ہیں ۔۔۔

“تایاجان یہ عالم بھائی کا گھر ہے یہیں پر اپ لوگوں کے کھانے کا انتظام کیا ہے پھر گاؤں کے لیۓ روانہ ہونگے ۔۔۔

“ٹھیک ہے بیٹا ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔

یوں سب گاڑی سے اترے تھے اور عمر خان کے پیچھے چل پڑے ۔۔۔ ان کو دیکھ کر ملازم ناشتہ لگارہے تھے اور سب ہاتھ دھوکر ابھی صوفوں پر بیٹھے تھے ۔۔۔ عمر خان بھرپور کمپنی دینے کی کوشش کر رہا تھا پر اس کا پہلو بدلنہ بار بار نوروز خان نے محسوس کیا پر سمجھ سے باہر تھا اس کا یوں پہلو بدلنہ ۔۔۔

“رحیم ۔۔۔ عمر خان نے کہا ۔۔۔

“جی خان صاحب ۔۔۔ ملازم نے مودب لہجے میں کہا ۔۔۔

“تم جاؤ اپنی بیوی اور ماں کو بھیجو کام پر جب تک مہمان ہیں ۔۔۔ عمر خان نے حکم دیا ۔۔۔

“جو اپ کا حکم خان صاحب ۔۔۔ رحیم نے نظر جھکا کر سر خم کیا ۔۔۔ روشانے نے بری نظروں ایسے سعادتمند ملازم کو دیکھا ۔۔۔ اسے زہر لگتے تھے وہ لوگ جو کسی کے سامنے نظر جھکائیں ۔۔

نوروزخان نے عمر کے ریلیکس ہوتے اعصاب کو محسوس کیا ۔۔۔ اب ان کو سمجھ ایا کہ اسے پرابلم روشانے کے کپڑوں سے تھی جو سلیولیس شرٹ اور کیپری پہن کر بیٹھی تھی ۔۔۔ مرد ملازم کا ہونا اسے ناگوار گزر رہا تھا ۔۔۔

کچھ دیر بعد ایک بڑی عمر کی عورت اور اس کے ساتھ درمیانی عمر کی عورت آئیں اور کھانے لگنے کی اطلاع دی ۔۔۔

“آئیں کھانا کھائیں ۔۔۔ عمر نے کہا ۔۔۔

اور پھر سب نے مل کر کھانا کھایا ۔۔۔ روشانے اتنا ہیوی کھانا دیکھ کر بیزاری سے چند نوالے ہی کھاسکی تھی ۔۔۔

“ایک مہینہ کیسے گزارا ہوگا تمہارا شان ۔۔۔ روشانے نے خود سے کہا تھا دل ہی دل میں ۔۔۔

@@@@@@@@

ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی انہیں کھانا کھاۓ کہ اسی لمحے کانچ کا دروازہ کھول کر کوئی ایا ۔۔۔ روشانے نے نظر اتھا کر بھی نہ دیکھا اور ہنوز موبائیل کے اسکریں پر نظر جماۓ چیونگم چبارہی تھی ۔۔۔

“السلام علیکم تایا جان , معاف کیجیۓ گا ایئرپوٹ لینے نہ آسکا ۔۔۔ عالم خان کے لہجے میں احترام تھا اپنے تایا کے لیۓ ۔۔

بلیک شلوار قمیص اس پر کندھوں پر شال رکھے ہوۓ پشاوری چپل پہنے وہ اصل پٹھانوں والا لک دے رہا تھا ۔۔۔ ماتھے پر سنہرے بال بکھرے تھے سرخ سفید رنگت اس پر نیلی آنکھیں وہ بھرپور مردانہ وجاہت لیۓ ہوۓ تھا ۔۔۔ دراز قد اس کی پرسنالٹی پر چار چاند لگارہا تھا ۔۔ نوروز خان بےپناھ خوش ہوۓ اس سے مل کر روشانے نے نظر اٹھا کر دیکھا اپنے باپ کے اتنا خوش ہونے پر سوچا “پاپا تو ایسے خوش ہورہے ہیں جیسے قارون کا خزانہ مل گیا ہو جیسے ۔۔۔ چہرے کے برے زاویۓ بناتے ہوۓ روشانے نے سوچا ۔۔۔

اس نے ایک غلط نگاھ بھی عالم خان پر نہ ڈالی دوسری طرف عالم خان نے اس پر ایک نظر ڈال کر جلدی نظر پھیری اتنی ناگواری آئی اس کے چہرے پر اتفاق سے اس وقت دونوں نے ایک وقت ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔ روشانے کو پہلی نظر میں زہر لگا یہ شخص کیونکہ وہ سمجھ گئی اس کا یہ تاثر اس کے لباس کو لے کر ہی ہوگا یقینن , روشانے کو اندازہ تھا ۔۔۔

وہ سب سے ملا سواۓ روشانے کے ۔۔۔ ایک غلط نگاھ کے بعد دوسری نہ ڈالی تھی اس نے روشانے پر ۔۔۔

“عالم بیٹا یہ روشانے ہے ۔۔۔ نوروز خان نے بتایا ۔۔۔

“جی تایاجان , اگر برا نہ مانین شام تک گاؤں چلیں سب ساتھ , ورنہ اپ کی مرضی جیسا کہیں ۔۔۔ عالم نے اپنی بات رکھی جسے نوروز خان بخوشی مان گئے اور کہا ۔۔۔

“نہیں بیٹا ٹھیک ہے شام کو گاؤں روانہ ہونگے ۔۔۔

“عمر ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔

“جی عالم بھائی ۔۔۔ عمر نے مودب لہجے میں کہا ۔۔۔

“تم ان کو کمرہ دکھاؤ تب تک ارام کریں ۔۔۔ پھر شام میں نکلتے ہیں ۔۔۔عالم نے کہا ۔۔۔ اور پھر نوروز خان کی طرف رخ کرکے بولا ۔۔۔

“آئیں تایاجان تب تک ہم کچھ بات کرلیتے ہیں ۔۔۔

“ہمممم ۔۔۔ تم لوگ جاؤ عمر کے ساتھ , میں عالم بیٹے کے ساتھ بیٹھا ہوں ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔

“جی ٹھیک ہے ۔۔۔ سبین خان نے کہا ۔۔۔ وہ باہر کو نکلے جبکہ عالم خان اور نوروز خان صوفے پر بیٹھے ۔۔۔

@@@@@@@@@

یوں سبین , روشانے اور شانزے عمر کے ساتھ اوپر آگئیں ۔۔۔ شانزے تعریفی انداز میں بولی ۔۔۔

“عمر بھائی گھر تو بہت اچھا ہے , کافی بڑا بھی لگ رہا ۔۔۔

اونچی لیمپس , لاؤنج میں لگا بڑا سا فانوس, دیواروں پر لگی پینٹینگز اور کچھ اینٹک ڈیکوریشن پیس دیکھ کر , شانزے امپریس ہوئی اور کہے بغیر رہ نہ سکی ۔۔۔

“ہمممم , عالم بھائی نے اپنی پسند سے بنوایا ہے گھر اور اس کی ڈیکوریشن بھی خود کروائی ہے ۔۔۔ عمر نے شانزے کو دیکھتے ہوۓ فخریہ لہجے میں کہا ۔۔۔ شانزے بغور سن رہی تھی جبکہ روشانے بیزار تاثرات لیۓ دیکھ رہی تھی جیسے کہنا چاہ رہی ہو “دفعہ ہو تاکہ سکوں سے ارام کرسکیں اب ۔۔۔

“کہو تو تمہیں پورا گھر گھماؤں ۔۔۔ عمر خان نے شانزے کی دلچسپی دیکھتے ہوۓ آفر کی ۔۔۔

“ارے نہیں تھینکس عمر بھائی , اگر اپ اجازت دیں , میں اور روشی اپی خود ہی دیکھ لیں گے ۔۔۔۔ شانزے نے خوشی سے کہا ۔۔۔ اس سے پہلے عمر کچھ کہتا روشانے بولی ۔۔۔

“کتنی دفعہ کہا ہے یہ روشی ٹیپیکل جاہلوں والے نک نیم سیے نہ بلاؤ مجھے , پورا نام لیتے ہوۓ زبان دکھتی ہے تو شان کہو سمجھی ۔۔۔ روشانے نے بری طرح ٹوکا جس پر شانزے کو شرمندگی ہوئی ۔۔۔ جبکہ عمر کوبھی اس کا انداز برا لگا اور افسوس سے دیکھا اسے ۔۔۔

اسی روشانے کو کچھ وقت پہلے سب گھر والے پیار سے روشی کہتے تھے تب کچھ نہ کہتی تھی وہ , جب سے اسے حنین نے شان کہا ہے تب سے وہ ان کو ٹوکتی ارہی ہے کہ مجھے شان کہو یا روشانے , باقی یہ روشی وغیرہ نہیں ۔۔۔ اب پرانی عادتیں کہاں چھوٹتی ہیں کہنے سے سبین اور شانزے اکثر اسے روشی کہتیں جس پر وہ چڑ جاتی ۔۔۔

“اوکے جو ٹھیک لگے تمہیں , کوئی بھی کام ہو اس بٹن کو پریس کرنا ملازمہ اجاۓ گی ۔۔۔ میں ارام کرنے جارہا ہوں ۔۔۔ عمر سکوں سے کہتا چلا گیا ۔۔۔

شانزے نے سکوں کا سانس لے کر ڈبل بیڈ پر بیٹھی اپنی ماں سبین کے پہلو میں جبکہ روشانے نے کھڑے کھڑے حنین کو کال ملائی واٹس اپ پر شانزے کی موبائل سے کیونکہ وہ عمر سے واۓ فاۓ کا کوڈ پوچھ چکی تھی جبکہ روشانے نے غرور میں کہا نہیں عمر نے بھی اسے افر نہ کی جبکہ عمر خود ہی سبین کے موبائل پر بھی واۓ فاۓ کنیکٹ کرگیا ۔۔۔ اب وہ شانزے کی موبائل پر مزے سے بات کررہی تھی حنین سے اور یہاں کی سب الٹی باتیں بتارہی تھی اسے ۔۔۔ جیسے یہاں کے گندے رستے , گندی سوچ گندی نظر وغیرہ ۔۔۔ اپنے رشتیداروں کی اکڑ کا انداز بتاکر ہنس رہی تھی ۔۔۔ شانزے حیران ہورہی تھی اپنی بہن پر جسے دیکھ کر لگ رہا تھا وہ بےنیاز ہے سب سے حقیقت میں وہ سب دیکھ بھی رہی تھی سمجھ بھی رہی تھی ۔۔۔

اب وہ بڑے مزے سے حنین کو بتارہی تھی ۔۔۔

“جاہل لوگ ہیں یہ حنینن , پتا ہے پہلے مرد ملازم رکھتے ہیں , پھر جب ان کے گھر کی عورتیں آئیں تو ملازموں کے گھر کی عورتوں کو بلا لیتے ہیں ۔۔۔ کیوں ان کے گھر کی عورتوں کی عزت ہے باقی عورتوں کی عزت نہیں ہے کیونکہ غریب ملازم جو ہیں ۔۔۔۔ دوغلے کہیں کے ان کے گھر کی عورتوں کی عزت ہے اور ملازموں کے گھر کی عورتوں کی عزت نہیں جن کو پراۓ مردوں کے سامنے اکر کام کرنا پڑتا ہے ان کے حکم پر ۔۔۔

روشانے زہرخند لہجے میں بول رہی تھی جبکہ شانزے حیران ہورہی تھی اپنی بہن پر ۔۔۔ جبکہ سبین خان نے اپنی بیٹی پر حیران ہونا چھوڑ چکی تھیں وہ آنکھیں موند کر اپنی انکھ سے گرتا آنسو پونچھ گئیں ۔۔۔

@@@@@@@

“آپی گھر تو اچھا ہے اپ دیکھیں تو سہی ۔۔۔ چلیں مل کر دیکھتے ہیں ۔۔۔ کچھ دیر کے ارام کے بعد شانزے نے اٹھ کر کہا روشانے سے جو ابھی فارغ ہوئی تھی حنین سے بات کرکے ۔۔۔

“جس دیس دوبارہ انا نہیں وہاں کی چیزوں کو دیکھنے میں میں اپنا وقت برباد نہیں کرتی ۔۔.. روشانے نے کندھے اچکا کر مزے سے کہا ۔۔۔ وہ شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے بال بنارہی تھی ۔۔۔

“اف روشی آپی ۔۔۔ شانزے نے کہا ۔۔۔

“کتنی دفعہ کہوں شان کہو , مجھے اسی نام سے بلاؤ سمجھی ۔۔۔ برش پٹخ کر بولی اور آنکھیں دکھائیں ۔۔۔

“آرام سے شان اپی امی سورہی ہیں ۔۔۔ شانزے نے کہا ۔۔۔ جس پر اس نے زبان دبائی دانتوں کے بیچ ۔۔۔

“شان آپی چلیں گھر دیکھ ہی لیتے ہیں جب تک عالم بھائی اور پاپا بات کررہے ہیں ۔۔۔ شانزے نے دھیمے لہجے میں انسسٹ کیا ۔۔۔

“ایک دفعہ کی کہی بات نہیں آتی سمجھ تم کو شانزے , نو مین نو ۔۔۔ اب کے روشانے آہستہ پر سخت لہجے میں بولی تھی ۔۔۔

“اف اپی اپ کتنی روڈ ہو قسم سے , مجھے لگتا ہے اپ گاؤں چل کر بھی کسی سے سیدھے منہ ملنے کا ارادہ نہیں رکھتیں ۔۔۔ شانزے نے اس کا ایٹیٹیوڈ دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“بلکل ٹھیک سمجھا ہے تم نے , جن لوگوں سے میں دوبارہ ملنے کا ارادہ نہیں رکھتی تو ان سے اچھے سے بات بھی نہیں کروں گی کیونکہ فضول کے رابطے کے سلسلے رکھنا مجھے پسند نہیں ۔۔۔ ڈیئر یہی اسٹریجٹی ہے اور یہی پالیسی ہے میری ۔۔۔ روشانے مزے لے کر بولی ۔۔۔

“واہ واہ ۔۔۔ شان آپی واہ , کمال کردیا اپ نے پکی امریکن نکلیں اپ , رشتوں میں بھی اسٹریجٹیز اور پالیسیز سے کام لیں گی ۔۔۔ اپ کا تو کوئی جواب نہیں شان آپی ۔۔۔ شانزے نے کہا ۔۔۔

“تھینک یو تھینک یو ۔۔۔ اس کی ڈھٹائی پر شانزے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔

پھر شانزے کی منتین کرنے پر آخر کار وہ مان گئی گھر دیکھنے پر ۔۔۔ پورا گھر ذوق و شوق سے دیکھ رہی تھی شانزے جبکہ وہ بیزار ہی رہی بسس مجبورً اس کے ساتھ چل رہی تھی ۔۔۔

@@@@@@@@

“اف ۔۔۔ پاپا سوگۓ ہیں شانزے , میں بھی سوجاتی ہوں ۔۔۔ روشانے نے امگڑائی لیتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“شان آپی نہیں , اگر اپ سوئیں تو پھر صبح ہی اٹھیں گے گدھے گھوڑے بیچ کر سونے کی عادت ہے اپ کو ۔۔۔ شانزے نے منع کیا ۔۔۔

“مجھے سخت نیند ارہی ہے دو دن کی بےارامی ہے , اب برداش سے باہر ہے یار شانزے ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔

“پر آپی , پاپا ادھے گھنٹے میں اٹھ جائیں گے ۔۔۔ اپ نہیں اٹھیں گی پھر ۔۔۔شانزے نے کہا ۔۔۔

“شان , شانزے ٹھیک کہے رہی ہے , پھر تم نہیں اٹھوگی ۔۔۔ سبین نے اپنی بیٹی کو سمجھانا چاہا ۔۔۔

“ماما میں اٹھ جاؤں گی ۔۔۔ شانزے تم اٹھانا اٹھ جاؤں گی ۔۔۔ پلیز سونے دو ۔۔۔ روشانے بیک وقت دونوں سے مخاطب ہوکر بولی تھی ۔۔۔

“نہیں اٹھیں گی پلیز گاؤں چل کر سوجائیۓ گا ۔۔۔ شانزے نے منت کی وہ ان سنی کر گئی ۔۔۔

پر وہ روشانے ہی کیا جو کسی کی مانے پھر واقعی وہ کمبل اوڑھ کر سوگئی ۔۔۔

@@@@@@@@

“ناراض ہوگی روشانے , یہ ہم نے ٹھیک نہیں کیا اسے وہاں اکیلا چھوڑ کر , شدید غصہ کرے گی ۔۔۔ سبین نے رات کے پہر اپنے شوہر سے کہا ۔۔۔

وہ بڑی حویلی میں رات میں ہی پہنچے تھے ۔۔۔ سب بہت خوش ہوۓ تھے ۔۔۔ دادا حضور کے پوچھنے پر بتایا کہ “روشانے صبح آۓ گی عالم خان کے ساتھ کیونکہ دو تیں دن کی تھکن کی وجہ سے اس سے اٹھا نہیں جارہا تھا , بیمار پڑجاتی اس لیۓ وہیں رہنے دیا ۔۔۔

وہیں پر رات کا کھانا کھاکر وہ لوگ خاص زونی سے ملنے چھوٹی حویلی آۓ پر وہ ان کے سامنے نہ آئی وہ کمرے میں خود کو بند کرگئی ۔۔۔ نوروز خان بےسی سے دیکھتے رہ گۓ ۔۔۔ سبین کو بھی دکھ ہوا ۔۔۔ شانزے کو بھی تکلیف ہوئی اپنی بھابھی کے اس رویۓ پر ۔۔۔ جو بھی تھا بازل خان نے کیا تھا جس میں ان لوگوں کا کوئی ہاتھ نہ تھا ۔۔۔

“کچھ نہیں ہوتا سبین وہ اس کا شوہر ہے سنبھال لے گا ۔۔۔ صبح دونوں اجائیں گے فکر نہ کرو ۔۔۔ نوروز خان نے پرسوچ لہجے میں کہا ۔۔۔

“نوروز مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے جان بوجھ کر اپ اسے وہاں چھوڑ آۓ ہیں , ورنہ اسے اٹھانا اتنا بھی ناممکن نہ تھا ۔۔۔ سبین نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“تم ٹھیک سمجھی ہو , عالم خان نے مجھے کہا تھا ۔۔۔۔ اس لیۓ ایسے حالات بنانے پڑے کہ وہ رک جاۓ وہیں ۔۔۔ نوروز نے اعتراف کیا کہ اس کا شک درست ہے ۔۔

“پر کیوں ۔۔۔ سبین نے پوچھا ۔۔۔

“کل تم خود ہی دیکھ لینا ۔۔۔ نوروز خان اتنا کہے یر لیٹنے لگے تاکہ ارام کرسکیں ۔۔۔

“آؤ سوجاؤ , شدید تھکن ہورہی ہے ۔۔۔ نوروز خان نے اپنی بیوی سے کہا ۔۔۔

وہ اکر بیڈ پر لیٹ گئیں ۔۔۔ نوروزخان تو سو گئے پر اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی ۔۔۔ وہ ماں تھی اپنی بیٹی کے مستقبل کو لے کر پریشان اور فکر مند تھیں ۔۔۔

@@@@@@@@

وہ انگڑائی لے کر اٹھی ۔۔۔ کھڑکیوں سے اتی روشنی بتارہی تھی صبح ہوگئی ہے ۔۔۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔

” اف اتنا سوگئی میں ۔۔۔ وہ جلدی سے بولی ۔۔۔

“شانزے ٹھیک کہتی ہے میں گدھے گھوڑے بیچ کر سوجاتی ہوں ۔۔۔ اس نے کلس کر سوچا۔۔۔

ادھر ادھر دیکھا کسی کو نا پاکر جلدی سے باہر آئی شاید لاؤنج میں ناشتہ کررہے ہوں سب ۔۔۔ وہ جلدی سے نیچے آئی ۔۔۔ وہاں بھی کسی کو نا پاکر شاک ہی ہوگئی تھی ۔۔۔

“ہیں سب کہاں ہیں ۔۔۔ روشانے خود سے بولی ۔۔۔

“وہ گاؤں جاچکے ہیں کل رات ہی ۔۔۔ عالم خان نے اچانک اکر کہا ۔۔۔

“واٹ ۔۔۔ ایسا کیسے کرستے ہیں ۔۔۔ وہ شاک لہجے میں بولی تھی ۔۔۔

“ناشتہ کرلو پھر نکلنا ہے ۔۔۔ عالم خان نے بےنیازی سے کہا ۔۔۔

“مجھے نہیں جانا گاؤں ۔۔۔ انہیں بلاؤ وہ واپس آئیں گے تب جاؤں گی گاؤں ۔۔۔ وہ ضدی لہجے میں بولی ۔۔۔

“کیا مسئلہ ہے تمہارا , کہے دیا نہ , ناشتہ کرو میں تمہیں لے کر چل رہا ہوں ۔۔۔ عالم خان نے تیز لہجے میں کہا روشانے کا بدتمیز انداز اسے ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا ۔۔۔

“مجھے نہیں جانا کسی ایرے غیرے کے ساتھ ۔۔۔ واپس بلائیں انہیں ۔۔۔ میری بات کروائیں ابھی کے ابھی ۔۔۔ اب کے بھرپور ضدی اور خودسر لہجے میں پاؤں پٹختے ہوۓ بولی ۔۔

“بہری ہو سنائی نہیں دیتا کیا کہے رہا ہوں ۔۔۔ عالم اس سے تیز لہجے میں بولا تھا ۔۔۔

“ہاں بہری ہوں ایروں غیروں کے لیۓ , میرے پاپا اور امی کو بلاؤ واپس , ان کے بغیر نہیں جاؤں گی نہیں جاؤں گی ۔۔۔ سجھے اپ عالم بھائی ۔۔۔ وہ بلکل ہی اپے سے باہر ہورہی تھی جو منہ میں ارہا تھا بولے جارہی تھی ۔۔۔ روشانے کی خود سری اور بدتمیزی کو بھرپور محسوس کیا عالم خان نے ۔۔۔

“بکواس بند کرو , اپنی اس بدتمیز زبان سے مجھے بھائی کہنے کی ضرورت نہیں سمجھی ۔۔۔۔ عالم خان نے تند لہجے میں کہا ۔۔۔

“ٹھیک ہے تم لائق ہی نہیں عزت کے ۔۔۔ نہیں کہوں گی بھائی سمجھے تم ۔۔۔ وہ سیدھا اپ سے تم پر اگئی تھی ۔۔۔

اس کے اتنی خودسری اور بدتمیزی سے کہنے پر وہ اس کے بازو تھام کر اسے جھنجھوڑتا ہوا بولا ۔۔۔

“بسس ایک لفظ اور نہ کہنا , بہت بدتمیز لڑکی ہو تم ۔۔۔ مجھے تم کہنے کی ہمت نہ کرنا اگلی بار ورنہ ۔۔۔

“ورنہ کیا کریں گے اپ ۔۔۔ روشانے اس جھنجھوڑنے پر بوکھلا ہی گئی اور اس سے پوچھ بیٹھی ۔۔۔

“ہممم آپ کہنا ۔۔۔ چلو ناشتہ کرو پھر گاؤں کے لیۓ نکلنا ہے ۔۔۔ عالم خان نے اسے چھوڑتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔

اب اس کے گال تھپ تھپاکر بولا ۔۔۔ “شاباش اب تم کہنے کی غلطی مت کرنا ۔۔۔ نا ہی مجھے بھائی کہنا ۔۔۔

اس کے اس انداز پر روشانے سٹپٹاگئی اور جلدی سے سنبھل کر بولی ۔۔

“مجھے نہیں جانا اپ کے ساتھ , پاپا سے بات کرواؤ میری ۔۔۔ وہی ہٹ دھرمی وہی ضدی انداز تھا اس کا , عالم خان اس پر نفرت کی نگاھ ڈال کر بولا ۔۔۔

“تو ٹھیک ہے بیٹھی رہو , یہ بھی میرا وعدہ ہے کہ ان سے بات نہیں کرواؤں گا چلنا ہے تو چلو ورنہ بیٹھی رہو اپنا ہی گھر سمجھو ۔۔۔

“نہیں ہے یہ میرا گھر , نہ مجھے اب گاؤں جانا ہے , مجھے واپس امریکا جانا ہے , میری بات کرواؤ ان سے ۔۔۔

روشانے ضدی لہجے میں بولی تھی ۔۔۔ عالم خان دانت پیس کر بولا ۔۔۔

“واقعی تم انتہا کی بےوقوف ہو , میری طرف سے بھاڑ میں جاؤ , جب میری کہی بات سمجھ آۓ تو بتادینا لے کر چلوں گا گاؤں , ورنہ یہیں ٹھیک ہو ۔۔۔

عالم خان اتنا کہے کر چلا گیا اوپر کی طرف ۔۔۔

وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔۔

نا اس کا موبائل انٹرنیشنل رومینگ پر تھا اور نا واۓ فاۓ کا کنیکشن کے کسی سے رابطے کا ذریعہ نکل سکے ۔۔۔

اس نے فون اٹھایا تاکہ پاپا کو کال کرسکے پر فون بھی ڈسکینکیٹ تھا ,غصے میں ٹیبل پر ٹھوکر ماری ٹیبل کو تو کچھ نہ ہوا الٹا اپنے پاؤں میں درد لے بیٹھی ۔۔۔ آنکھ میں آنسو لیۓ کچھ دیر بیٹھی رہی اور اپنی بےبسی کا ماتم کیا ۔۔۔

“بھوکے ننگے لوگ دکھاوے کا فون رکھا ہوا ہے ۔۔۔ وہ غصے سے بولی ۔۔۔

کافی دیر بعد جب اسے سمجھ ایا کہ وہ اس کی بات نہیں مانیں گا تو خاموشی سے اس نے ناشتہ کیا اور ملازمہ سے کہا کہ “عالم خان کو بلاۓ اب ۔۔۔

جس پر ملازمہ نے کچھ دیر بعد اکر کہا ۔۔۔

“خان صاحب نے کہا ہے جس کا کام ہے وہ خود اکر بات کرے ۔۔۔۔

ملازمہ کے زبانی اس کی بات سن کر کلس کر رہ گئی اور پاؤں پٹخے۔۔ کافی دیر سب کو سوچ سوچ کر سو باتیں سناتی رہی ۔۔۔ جب پورا غصہ خیالوں ہی خیالوں میں اتارچکی تو سیڑھیاں چڑھتی اوپر اگئی , ملازمہ کے بتاۓ کمرے میں بغیر ناک کے اندر اگئی سامنے اسے بغیر شرٹ کے دیکھ کر بےانتہا شرمندگی محسوس کرکے کہا ۔۔۔

“سوری سوری ۔۔۔ کہتی باہر کو لپکی ۔۔۔ وہ باہر جانے لگی ۔۔۔

“ناک کرکے آتی تو معافی مانگنے کی نوبت نہ آتی ۔۔۔ عالم خان نے کہا جسے جاتے ہوۓ اس نے سنا ۔۔۔

کچھ دیر بعد اس نے ناک کیا جب اندر سے آواز آئی “اجاؤ تو اندر اگئی ۔۔۔ عالم خان شیشے کے سامنے کھڑا اپنے بال بنارہا تھا ۔۔۔

“ہممم کہو ۔۔۔ اس نے کہا ۔۔۔

“میں نے ناشتہ کرلیا ہے اب گاؤں چلیں ۔۔۔ یہ بتائیں کب تک نکلنا ہے ۔۔۔ وہ انگلیاں مروڑ کر پوچھ رہی تھی ۔۔۔

وہ مکمل اس کے رحم وکرم پر تھی جانتی تھی اس لیۓ مفاہمت سے کام لے رہی تھی ۔۔۔

“ہممم گاؤں کے لیۓ نکلنا ہے پہلے اپنا حلیہ درست کرو ۔۔۔

“میرے حلیۓ کو کیا ہوا ۔۔۔وہاں جاکر کرلوں گی ۔۔۔۔ روشانے دانت پر دانت جماکر بولی ۔۔۔ بلا کا کا غصہ آ رہا تھا پر برداشت سے کام لے رہی تھی ۔۔۔

“نہیں , یہیں سے تم انسانوں والے حلیۓ میں چلو گی ۔۔ اس وقت یہ ڈریس پہنو ۔۔۔ پھر نکلتے ہیں ۔۔۔
اس نے ایک فیمل ڈیزائینر شلوار قمیص اس کے سامنے پھینکا ۔۔۔

“میں اس طرح کا لباس نہیں پہنتی ۔۔۔ وہ خودسری سے بولی ۔۔۔ ڈریس اٹھاکر زمیں پر پٹخا ۔۔۔

“یہ اپنے انداز تم تایاجان کو دکھانا میرے ساتھ چلنا ہے تو تم یہی پہنوگی , اور گاؤں میں تم اسی طرح کا لباس پہنتی نظر آؤ مجھے ۔۔۔ گاؤں میں تمہیں میں مغربی حلیۓ میں نہ دیکھوں ۔۔۔ سمجھی ۔۔۔ عالم خان کا انداز دو ٹوک تھا وہ سلگ ہی گئی تھی ۔۔۔ اج تک اس کے باپ بھائی نے اس طرح بات نہ کی تھی اس لیۓ ہضم کرنا تقریبً ناممکن تھا ۔۔۔

“نہیں سمجھی ۔۔۔ کیا کرلوگے , ہاں , یہی , ایسا لباس پہنوں گی اور تم کوں ہوتے ہو اعتراض کرنے والے , ہاں بولو , صرف سو کالڈ کزن ۔۔۔ روشانے انتہائی بدتمیزی سے بولی ۔۔ روشانے کا دل چاہ رہا تھا اس کا گریبان پکڑ کے پوچھے اور کہے سب ۔۔۔ پرخود پر ضبط کرگئ کیونکہ اپنے اکیلے پن کا احساس شدت سے ہوا تھا ۔۔۔۔

“میں کون ہوتا ہوں یہ تو تمہیں بعد میں پتہ چل جائے گا فی الحال اتنا سمجھ لو اگر میں نے تمہیں گاؤں میں مغربی لباس پہنے دیکھا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔ عالم خان نے غصے سے کہے کر ڈریس زمیں سے اٹھا کر اس کے منہ پر پھینکا ۔۔

“جاؤ تبدیل کرکے آؤ , میں نیچے ویٹ کررہا ہوں , پھر گاؤں کے لیۓ نکلنا ہے ۔۔۔

عالم خان کا لہجہ حکمیہ تھا ۔۔۔

روشانے کو شدید غصہ ایا اس کے یوں ڈریس منہ پر پھینکنے پر , سو سامنے سے اس کے منہ پر پھینک گئی جوڑا اور بولی ۔۔۔

“کیا خرابی ہے میری اس حلیۓ میں ہاں جو تمہاری بات مانو ۔۔۔

وہ ضبط کرگیا اس کا یوں سامنے سے ڈریس پھینکنا , اب کے اس کا بازو دبوچ کر اسے شیشے کے سامنے لے گیا اور بولا ۔۔

“دیکھو یہ خرابی ہے اس حلیۓ میں کوئی بھی غیرتمند شخص تم جیسی بےحیا لڑکی کو اپنی گاڑی میں بٹھاۓ , تم اپنے جسم کی نمائش کرتی بےحیا اور بےغیرت لڑکی ہو ۔۔۔ جبکہ میں ابھی اتنا غیرت مند ہوں کہ اس لباس میں نہیں لے جاسکتا تمہیں اپنے ساتھ ۔۔۔ کم ازکم اس بیہودہ لباس میں ۔۔۔ عالم خان اپنی بھرپور نفرت کا اظہار کرگیا اس کے لباس پر جس کا نتیجہ یہ ہوا وہ بھی جو منہ میں ایا بول گئی ۔۔۔

“یہ کیسی غیرت ہے جس کا معیار کسی کے کپڑوں سے ہو میں تھوکتی ہوں ایسی نام نہاد غیرت پر ۔۔۔

اور روشانے واقعی اس کے پیروں کے پاس تھوکتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔ عالم شاک ہوا اس کے لفظوں پر ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔