Rate this Novel
Episode 10
ناول … عید اپنوں کے سنگ
ازقلم …. صبا مغل
قسط نمبر 10
“روشانے سمجھنے کی کوشش کرو عالم اور تمہارا نکاح ہوچکا ہے ۔۔۔ یہ رسمیں فارمیلیٹیز ہیں ۔۔۔ وہ تمہارا شوہر ہے الریڈی ۔۔۔ بچپن میں نکاح ہوچکا ہے تم دونوں کا ۔۔۔ سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔۔ نوروز خان نے اسے پیار سے سمجھایا ۔۔۔ وہ کپڑے بدل چکی تھی پھولوں کا زیور زمیں پر بکھرا پڑا تھا ۔۔۔ بلیک ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہنے وہ ان کی سن رہی تھی ۔۔۔
بہت منتوں کے بعد اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تھا ۔۔۔ اب بھی نوروز خان اور سبین خان اسے سمجھارہے تھے , اس رشتے کی نوعیت ۔۔۔ جسے سمجھنے کو روشانے تیار نہ تھی ۔۔۔
“کیا سمجھوں , آج بھی نہ بتاتے , ڈائیریکٹ رخصت کرتے وقت بتاتے ۔۔۔ مجھے بےوقوف سمجھ رکھا ہے , نہیں مانتی اس نکاح کو , بچپن کا نکاح , نکاح نہیں ہوتا ۔۔ مجھے امریکا واپس جانا ہے ۔۔۔ نفرت کرتی ہوں اس شخص سے , جسے دیکھنا پسند نہیں کرتی اسے شوہر کیسے تسلیم کرلوں , کبھی نہیں ۔۔۔ روشانے نے غصے سے کہا ۔۔۔ اس کے لہجے میں بےانتہا نفرت تھی عالم خان کے لیۓ ۔۔۔
“تمہارے کہنے نہ کہنے سے کچھ نہیں ہوتا روشانے یہی حقیقت ہے اور اسے تسلیم کرو ۔۔۔ نوروز خان نے اپنے لہجے کو نارمل رکھتے ہوۓ سمجھایا ۔۔۔
“آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے پاپا ۔۔۔ روشانے نے ایک آس سے کہا ۔۔۔ اسے یقین نہیں ہورہا تھا یہ سب اس کے پاپا اس کے ساتھ کرسکتے ہیں ۔۔۔
“یہ فیصلہ امریکا سے اتے وقت ہی ہوچکا تھا تم عالم کی بیوی ہو تمہاری رخصتی ہوگی اس عید پر ۔۔۔ اور تمہیں اس رشتے کو نبھانا ہے ۔۔۔ نوروز خان اٹل لہجے میں بولے تھے ۔۔۔
“پلیز پاپا , میں اس سے نفرت کرتی ہوں , نہیں رہ سکتی اس کے ساتھ خدا کے واسطے یہ ظلم نہ کریں ۔۔۔ آپ کی روشانے مرجاۓ گی اس کے ساتھ ۔۔۔ روشانے کے لہجے میں تڑپ اور بےبسی تھی ۔۔۔
“روشانے یہ فیصلہ ہو چکا ہے ضد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہ بات ذہن میں بٹھا لو , پرسوں رخصتی ہے ۔۔۔ اتنا کہہ کر وہ لمبے ڈگ بھرتے ہوئے چلے گئے ۔۔۔
وہ ان کو جاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
“پلیز ماما آپ کچھ کریں آپ تو جانتی ہیں , میں نہیں رہ سکوں گی ان لوگوں کے ساتھ پلیز آپ کچھ کریں ۔۔۔ وہ منتوں پر اتر آئی ۔۔۔ ان کے اگے گڑ گڑارہی تھی ۔۔۔ رونے میں شدت اگئی تھی ۔۔۔
“میں مجبور ہوں میری جان , تمہارے بابا کے آگے , میری نہیں چل سکتی , یہ ان کا فیصلہ ہے اور بہت پہلے ہی ہوچکا ہے ۔۔۔ تمہاری قسمت کا فیصلہ میں مجبور ہوں مجھے معاف کردو ۔۔۔ سبین خان کی بےبسی کو شدت سے محسوس کیا روشانے نے ۔۔۔
“میں کبھی آپ لوگوں کو معاف نہیں کروں گی اس زیادتی کے لیۓ ۔۔۔۔ روشانے نے روتے ہوۓ کہا ۔۔۔ سبین خان کے ہر انداز میں اضطراب تھا ۔۔۔
“پلیز ماما چلی جائیں اگر اپ کچھ نہیں کرستیں ۔۔۔ چلی جائیں نفرت ہے مجھے اپ سب سے ۔۔۔ مجھے نظر نہ آئیں ۔۔۔ روشانے نے تیز لہجے میں کہا اور خود زمیں پر بیٹھ کر شدت روپڑی ۔۔۔
سبین کی برداش سے باہر ہوا تو وہ چلیں گئیں ۔۔۔ کونسی ماں سے اپنی بیٹی کے آنسو برداش ہونگے , ان کے لیۓ بھی ممکن نہ تھا یہ سب برداش کرنا ۔۔۔
@@@@@@@@@@
وہ زمیں پر بیٹھی بین کررہی تھی ۔۔۔۔ وہ ایسی تو نہ تھی , ہر چیز کا ڈٹ کے مقابلہ کرنے والی مضبوط لڑکی ہوا کرتی تھی ۔۔۔ اج جانے کیوں ساری سوچنے سمجھنے کی صلاحتین مفلوج ہوتیں لگ رہیں تھیں ۔۔۔ شاید جنگ جب اپنوں سے ہی ہو تو انسان ٹوٹ جاتا ہے ۔۔۔ اس کے لیۓ ناممکن تھا یہ یقین کرنا کہ اس کا نکاح ہوچکا ہے وہ بھی اس شخص سے جس سے وہ شدید نفرت کرتی ہے ۔۔۔ یہ احساس ہی اذیتناک تھا ناپسندیدہ شخص اس کا شوہر ہے ۔۔۔
اسی وقت شانزے آئہ اور اس کے پاس زمیں پر بیٹھ کر اس کے آنسو پونچھے اور کہا ۔۔۔
“پلیز آپی , یہ سب قبول کرلیں , عالم بھائی اچھے ۔۔۔۔ شانزے اسے سمجھانے کی کوشش کرنا چاہی ۔۔۔ پر روشانے شدت سے اس کی بات کاٹ گئی ۔۔۔
“بسسسس ایک لفظ اور نہیں , نفرت کرتی ہوں میں تمہارے اس عالم بھائی سے , اگر وہ دنیا کا آخری مرد بھی ہوا تو روشانے کی چوائس نہیں ہوسکتا ۔۔۔ سمجھی تم ۔۔۔ اس کا نام نہ لینا میرے سامنے سمجھی ۔۔۔ ایک ایک لفظ میں نفرت کی شدت تھی آنکھین اب بھی نم تھیں اپنی بےبسی کے کارن ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا دماغ نے کام کرنا بند کردیا ہو جیسے ۔۔۔
روشانے بےبس تھی تو شانزے بھی بےبسی سے اپنی بہن کو دیکھنے لگی اپنی بہن کو درد تکلیف اذیت میں دیکھنا کہاں اسے گوارہ تھا ۔۔۔
کچھ لمحوں بعد وہ بولی ۔۔۔
“پلیز شانزے باذل بھائی کو بلاؤ مجھے ان سے بات کرنی ہے وہی مجھے سمجھیں گے بابا کو سمجھائیں گے ۔۔۔
ایک واحد آخری امید یہی تھی روشانے کو ۔۔۔
“شان آپی وہ چلے گۓ ہیں پلیز آپی سنبھالیں خود کو ۔۔۔ عالم بھائی اچھے ہیں , شادی کرلیں پلیز پاپا کی عزت کے خاطر ۔۔۔ شانزے نے ایک اور کوشش کی ۔۔۔
“بکواس بند کرو ۔۔۔ میرا پاسپورٹ کہاں ہے مجھے یہاں سے جانا ہوگا شانزے ۔۔ روشانے نے تڑپ کر کہا ۔۔۔
“ہاں ایک دفعہ امریکا پہنچ جاؤں بلکہ اس گاؤں سے نکلوں میں گرین کاڑڈ ہولڈر ہوں مجھے سیفٹی دے گا امریکا کا قانون ۔۔۔ وہ خود سے بڑبڑاتی ہوئی بول رہی تھی ۔۔۔ دماغ کھلنا شروع ہوا تھا ۔۔۔ شانزے نے اسے جھنجھوڑ کر کہا ۔۔۔
“پاسپورٹ پاپا نے عالم بھائی کو دے دیا ہے ۔۔۔ شانزے نے بتایا ۔۔۔
“واٹ ۔۔۔ روشانے شاک لہجے میں بولی ۔۔۔
“ایسا نہیں ہوسکتا , ایسا نہیں کرسکتے میرے ساتھ میرے ماں باپ ۔۔۔ روشانے صدمے کی کیفیت میں بولی ۔۔۔
کچھ لمحوں بعد خود کو سنبھال کر جلدی اٹھی تھی ۔۔۔ شانزے بغور دیکھ رہی تھی اپنی بہن کی کاروائی ۔۔۔
روشانے اپنا موبائیل ڈھونڈنے لگی جو اسے مل نہیں رہا تھا ۔۔۔
“کیا ہوا آپی کیا ڈھونڈ رہیں ہیں ۔۔۔ شانزے نے پوچھا ۔۔۔
“میرا موبائیل نہیں مل رہا ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔ کمرہ الٹا پلٹا کردیا نہ ملنا تھا نا ملا ۔۔۔ شانزے بھی اس کی مدد کرنے لگی ۔۔۔
“پلیز مجھے اپنا فون دو شانزے ۔۔۔ روشانے نے تھک کر کہا ۔۔۔ شانزے نے اسے تھمایا ۔۔۔
“کیا کرنے لگیں ہیں آپی ۔۔۔ شانزے نے تڑپ کر پوچھا ۔۔۔ وہ اسے کمرے سے باہر جاتا ہوا دیکھنے لگی ۔۔۔
@@@@@@@@@
وہ باہر نکل کر ٹیرس پر آئی اور جلدی سے کال ملائی ۔۔۔ اتفاق سے اس نے جلدی اٹھا بھی لی ۔۔۔ حسنین کے کال اٹھانے پر وہ دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرگئی ۔۔۔
“حسنین ۔۔۔ وہ تڑپ کر بولی ۔۔۔
“کیا ہوا شان ۔۔۔ وہ بھی بے چین ہو اٹھا ۔۔۔
“حسنین … اس کا نام ایک بار پھر لےکر وہ روپڑی ۔۔۔۔
“روشانے کیا ہوا ۔۔۔ وہ اس کا مکمل نام لے گیا ورنہ وہ اسے شان ہی کہتا تھا اکثر ۔۔۔ وہ سسکی ایک بار پھر شاید جسے ہم چاہتے ہیں اس کی آواز سنتے ہی شدت سے روپڑتے ہیں ۔۔۔
“پلیز شان بولو ۔۔۔ میرا دل بیٹھا جارہا ہے ۔۔۔ حسنین کے لہجے میں بھی تڑپ تھی ۔۔۔
“سب نے مل کے مجھے ٹریپ کیا ہے حسنین , میری فیملی کہتی ہے بچپن میں میرا نکاح ہوچکا ہے اور یہاں میری رخصتی کررہے ہیں پرسون , حسنین میں صرف تم سے ہی پیار ۔۔۔۔
وہ تڑپ کر شدت سے سب بولے جارہی تھی اچانک اس کے ہاتھ سے موبائیل چھین لیا گیا ۔۔۔ پلٹ کر مڑی عالم خان کو دیکھ کر سانس ہی روک گئی لمحے بھر کو ۔۔۔
“واقعی تم انتہا کی بےشرم ہو روشانے عالم خان ۔۔۔ اس کے لہجے میں نفرت تھی روشانے کے لیۓ ایک ایک لفظ چباکر وہ بولا تھا ۔۔۔
“بےشرم میں نہیں تم ہو عالم خان ۔۔۔ وہ زہر آلود لہجے میں بولی تھی ۔۔۔
“کیونکہ میں بےخبر تھی اس رشتے سے , اس لیۓ حسنین سے محبت کربیٹھی ہوں اور اسی سے شادی کرنا چاہتی ہوں پر تم تو جانتے بوجھتے ہوۓ غلط کررہے ہو , میری زندگی تباھ کررہے ہو ۔۔۔ روشانے نے تیز لہجے میں کہا ۔۔۔
“اپنی بکواس بند کرو , یہ میری غلطی نہیں کہ تم بےخبر تھی یہ قصور تمہارے ماں باپ کا ہے جو تمہاری بےشرمی بےحیائی دیکھتے ہوۓ پہلے بتادیتے تو یہ نوبت نہ آتی سمجھی تم ۔۔۔ عالم خان دوبدو بولا ۔۔۔
“تم غیرتمند ہو تو مت کرو مجھ سے شادی , طلاق دو مجھے یہ رشتہ ختم کرو ۔۔۔ کیا کروگے ایسی لڑکی کے ساتھ رہ کر جس کے دل میں تمہاری لیۓ کوئی گنجائش ہی نہیں , میں جسکو نفرت کے بھی قابل نہ سمجھوں جس پر ایک نظر نہیں ڈالنا چاہتی وہ تم ہو عالم خان , شدید نفرت کرتی ہوں شدید ۔۔۔۔ اس کے ایک ایک لفظ میں شدید ناپسندیدگی کا اظہار تھا عالم خان کے لیۓ ۔۔۔
وہ اس کے دونوں بازو پکڑ کر اس سے بھی کہیں زیادہ نفرت سے بولا ۔۔۔
“میں بھی تمہاری محبت میں مرا نہیں جارہا , میں بھی تم سے اتنی ہی نفرت کرتا ہوں کہ تم پر تھوکنا بھی پسند نہ کروں ۔۔۔ پر میری مجبوری ہے تمہیں برداش کرنا کیونکہ تم میرے نکاح میں ہو , میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا , کبھی نہیں چھوڑوں گا چاہے کچھ بھی ہوجاۓ سمجھی ۔۔۔ تمہیں بیوی کی طرح ہی رہنا ہوگا میرے ساتھ ۔۔۔
اس کے آخری لفظوں کا مطلب سمجھ کر روشانے کو گھن ہوئی اس سے ۔۔۔ وہ اس سے خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
“چھوڑو مجھے عالم خان چھوڑو مجھے ۔۔۔ وہ بھرپور مذاحمت کررہی تھی پر اس طاقتور مرد کے سامنے وہ ایک چیونٹی تھی ۔۔۔
وہ اسے گھسیٹتا ہوا اس کے روم میں لے ایا جہاں شانزے سر پکڑے بیٹھی تھی ۔۔۔
“تم جاؤ یہاں سے شانزے دروازہ بند کرو اور جاؤ ۔۔۔ عالم خان نے حکمیہ لہجے میں کہا ۔۔۔
“عالم بھائی پلیز شان آپی کو چھوڑیں ۔۔۔ اس نے منت کی ۔۔۔
“میں نے کہا جاؤ تم ۔۔۔ عالم نے ایک بار پھر سخت لہجے میں کہا ۔۔۔
“شانزے مت جانا , اس جلاد کے پاس مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ ۔۔۔ ایسا لگتا تھا عالم خان کی گرفت میں اس کا بازو ٹوٹ ہی جاۓ گا ۔۔۔ کچھ دیر اور یہ پکڑ رہی بازو اکھڑ ہی جانا ہے ۔۔۔
شانزے بےبسی سے اسے دیکھتی چل گئی باہر اور عالم کے حکم مطابق دروازہ بند کردیا ۔۔۔۔
اس کا بازو چھوڑا عالم خان نے وہ زمین پر گرگئی ۔۔۔ سسکی نکلی اس کے ہونٹوں سے وہ وہیں پڑی زمین پر اٹھنے کی کوشش نہ کی ۔۔۔۔ اسے دوبارہ ایک بازو سے دبوچ کر اپنے روبرو دوبارہ کھڑا کیا عالم نے ۔۔۔ اب کے اس کا چہرہ دبوچ کر بولا ۔۔۔
“جلاد کہو , ظالم کہو , کچھ بھی کہو , بیوی میری ہی ہو میری ہی رہو گی , میری گرفت سے نکلنا ناممکن ہے روشانے بیگم ۔۔۔ شوہر ہوں تمہارا ذہن میں بٹھالو , اب تمہارا جینا مرنا سب میرے ساتھ ہے سمجھی ۔۔۔ اس کے لہجے میں حکم تھا اس کے لیۓ ۔۔
“ہاں سمجھ گئی , تم انسان نہیں جانور ہو جانور ۔۔۔ جو صرف ہوس ہی سمجھتا ہے , تم شادی جیسے بندھن کو زبردستی کسی پر مسلط کرکے , اسے زیر ہی کروگے اور کروگے ہی کیا ۔۔۔ روشانے شدید نفرت سے بولی تھی ۔۔۔ انتہا سے زیادہ بدتمیز لہجہ تھا اس کا ۔۔۔
“بلکل ٹھیک کہا اور کروں گا ہی کیا ۔۔۔ ہاں جانور ہوں اور ایک جانور کی خصلت سے تمہیں ضرور روشناس کرواؤں گا ۔۔۔ انتظار کرو , دو دن کی بات ہے پھر میری دسترس میں میرے کمرے میرے بیڈ پر جب میرے لیۓ سج سنور کر سیج سجاؤگی , تب پوچھوں گا تم سے ۔۔۔ تب تمہیں تمہارے کہے لفظوں کی معنی سمجھ آۓ گی ۔۔۔ عالم خان نے اس کی کسی بات کا برا مانے بغیر بولا تھا ۔۔۔ اس کے لفظوں سے وہ شرم سے پانی پانی ہوگئی تھی ۔۔۔
“تو۔۔توتو۔۔ تو , بہت پچھتاؤگی تم ۔۔۔۔ عالم خان نے اسے سراسر چڑایا ۔۔۔
“پچھتاؤنگی میں نہیں , تم پچھتاؤگے , تم جسم حاصل کرلوگے زبردستی صرف یہی کرسکتے ہو اور کچھ نہیں ملے گا تمہیں سواۓ نفرت کے ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔
“یہ تو وقت بتاۓ گا ۔۔۔ فی الحال دو راتیں خوب آرام کرو کیونکہ اس کے بعد تمہیں کسی رات ارام نصیب نہیں ہوگا , اپنے حسن پر ماتم کرتے ہوۓ گزارو گی تم ہر رات ۔۔۔ کیونکہ میرے پاس تمہیں دینے کے لیۓ نفرت اذیت تو ہوگی پر محبت قطعی نہیں ۔۔۔ عالم خان نے اپنی بھرپور نفرت کا اظہار کیا ۔۔۔
“مجھے بھی تمہاری محبت کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔ روشانے دوبدو بولی ۔۔۔
“سچ میں بہت پچھتاؤگی اپنے کہے ہر لفظ پر اور افسوس کروگی اس زندگی پر ۔۔۔ کوئی غلطی مت کرنا , شرافت سے خود کو رخصتی کے لیۓ تیار رکھو , سمجھی ۔۔۔ عالم اسے وارن کرتا ہوا کہا تھا ۔۔۔ وہ دانت پیستی رہی اس کی بات پر , کوئی لفظ نہ ملا جو اسے کہے پر آنکھوں میں شدید نفرت لیۓ اس شخص کو گھورتی رہی ۔۔۔
“کچھ چیزیں وقت کے لیۓ چھوڑدیتے ہیں روشانے , آرام کرو تم ۔۔۔ شاباش بہت ضروری ہے تمہارے لیۓ ۔۔۔ وہ اس کے گال تھپتھپاتا ہوا چلا گیا ۔۔۔
وہ اپنے چہرے کو صاف کرنے لگی جہاں اس نے اپنے ہاتھ کا لمس چھوڑا تھا ۔۔۔
“کبھی نہیں آخری دم تک کوشش کروں گی , میں ہار نہیں مانوگی , میں روشانے ہوں ۔۔۔ اس نے سوچا اور اس پر عمل کرنے کی منصوبہ بندی کرنے لگی ۔۔۔
@@@@@@@@
اگلی رات مہندی کی رسم تھی ۔۔۔ روشانے کی خاموشی سب کے لیۓ حیرت انگیز تھی ۔۔۔ دن کا کھانا براۓ نام کھایا اس نے ۔۔۔
خاموش احتجاج برقرار تھا کسی سے نا بات کرنا نا کسی کی بات کا جواب دینا ۔۔۔ سبین بولتی رہ گئی پر اس نے ایک لفظ نہ کہا یہاں تک نوروز خان اس سے بولنے لگے سمجھانے لگے تب بھی روشانے کی چپ نہ ٹوٹی ۔۔۔
پارلر والی آئی مناہل اور اسے تیار کرنے ۔۔۔ خاموشی سے مہندی کا ڈریس گرین اورینج کامبینیشن کا پہن کے اگئی ۔۔۔
مناہل نے بات کرنا چاہی پر ایک لفظ نہ بولی ۔۔۔ یہاں تک پارلر والی اس کی تعریف میں زمین آسمان ایک کرگئی پر اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ ایا ۔۔۔
مناہل اندر ہی اندر اداس تھی پر بظاہر خاموش تھی ۔۔۔ گل خانم تو اتنا خوش تھیں بار بار مناہل کی نظر اتارتیں رہیں جسے دیکھ کر سعدیہ بولی ۔۔۔
“ویسے پھپھو بھی حد کرتیں ہیں مناہل کو بھلا نظر کون لگاۓ گا وہ تو خود دائم بھائی کے پہلو میں بیٹھی داغ کی مانند ہے جو دائم بھائی جیسے چاند پر لگا ہے ۔۔۔
ویسے یہ لفظ اس نے جسے سنانے کے لیۓ کہے تھے اس نے بخوبی سن لیۓ تھے ۔۔۔ مناہل کے چہرے پر ایک تاریک سایہ لہرایہ , دائم کے سرخ سفید ہاتھوں کے پاس اپنے سانولی ہاتھ دیکھ کر دل درد سے بھرگیا ۔۔۔۔
“یا اللہ مجھے اتنے حسین لوگوں کے بیچ اتنا معمولی کیوں بنایا ۔۔۔ کیوں , کیوں ۔۔۔ مناہل نے کرب سے سوچا ۔۔۔
کسی نے اس کا ہاتھ دائم کے ہاتھ پر رکھا تڑپ کر اس نے تھوڑا فاصلہ قائم کیا ۔۔۔ اس کا یہ انداز دائم نے محسوس کیا ۔۔۔
دوسری طرف عالم اور روشانے کو ساتھ بٹھاکر رسم کی جارہی تھی ۔۔۔
“ہمممم گڈ روشانے بیگم , لگتا ہے کل رات میری بات اچھی طرح سمجھ اگئی ہے ۔۔۔ عالم نے طنز کیا اور روشانے نے نفرت سے منہ پھیر لیا پر زبان سے ایک لفظ ادا نہ کیا ۔۔۔
دانت پر دانت جماۓ ضبط کیۓ بیٹھی رہی اپنے اشتعال کو دباتی رہی ۔۔۔
“روشانے کو ابھی تم نے سمجھا کہاں ہے عالم خان ۔۔۔ جب تک سمجھو گے تب تک تمہاری پہنچ سے دور جاچکی ہوگی روشانے ۔۔۔ اس نے سوچا پر کہا کچھ نہیں ۔۔۔
نوروز اور سبین کے لیۓ اتنا کافی تھا وہ چپ ہے ۔۔۔۔
@@@@@@@
“پلیز آپی ایک بار اور سوچ لیں ۔۔۔ شانزے نے ڈرتے ہوۓ کہا ۔۔
“میں سوچ چکی ہوں , مرتے دم تک یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی تم نے مجھے میرا پاسپورٹ واپس لادیا ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔ اس وقت وہ مہندی کا ڈریس چینج کرچکی تھی ۔۔۔
“آپی , آپ کی بلیک میلنگ کی وجہ سے چوری کی ہے پہلی دفعہ ۔۔۔ شانزے نے جتایا , اس کے چہرے پر دکھ تھا اپنی آپی کے اس فیصلے کی وجہ سے ۔۔۔
“یہ بلیک میلنگ نہیں تھی شانزے ۔۔۔ میں حقیقت میں سوسائیڈ کرلیتی اگر تم ہامی نہ بھرتی پاسپورٹ لانے کےلیۓ ۔۔۔ روشانے نے صاف گوئی سے کہا ۔۔۔
“ہمممم , اگے اپ خود ذمیدار ہو جو اگر پکڑی گئیں تو ۔۔۔ شانزے نے ڈرایا شاید باز اجاۓ اس کی آپی ۔۔۔ پر سامنے تو روشانے تھی جسے کسی بات کا ڈر وخوف نہیں تھا بس ایک ہی عزم تھا کہ کسی طرح اس سب سے دور بھاگ جائے ۔۔۔ اور ایک بار جو وہ ٹھان لے تو پھر وہ کرکے رہتی ہے ۔۔۔
“آج کی پورے دن کی ایکٹنگ میں کسی کو شک ہی نہیں رہا ہوگا کہ میں بھاگنے کا فیصلا لے چکی ہوں ۔۔۔ روشانے نے مزے سے کہا ۔۔۔
“آپی اللہ اپ کا نگہبان ۔۔۔ شانزے بولی ۔۔۔
“ہمممم تم جاؤ اب ارام کرو ۔۔۔ صبح سویرے نکل جاؤں گی جب سب حویلی والے نیند میں ہونگے اور اس کے بعد کی میں ان کی نیندیں اڑادونگی ۔۔۔ روشانے نے اپنا ارادہ ظاہر کیا ۔۔۔
@@@@@@@@@@
صبح سویرے کچھ ضروری سامان لے کر وہ نکل آئی ۔۔۔ شال میں خود اچھی طرح ڈھانپے ہوۓ تھی ۔۔۔
دل ہی دل میں ہزاروں دفعہ عالم خان پر لانت بھیجتی ہوئی قدم قدم چلتی جارہی تھی ۔۔۔
“اصل تماشہ اب لگے گا تمہاری عزت کا عالم خان , کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا میں نے حویلی والوں کو ۔۔۔ بہت غیرت مند بنتے ہیں ۔۔۔ اب دیکھتے ہیں کہاں جاتی ہے تم لوگوں کی غیرت ۔۔۔ نفرت ہے مجھے سب حویلی والوں سے ۔۔۔ اس نے سوچا نفرت سے ۔۔۔ چلتی جارہی تھی۔۔۔
“اف شہر جانے کتنا دور ہو کس سے پوچھوں ۔۔۔ وہ چہرہ ڈھانپے سوچتے ہوۓ چلی جارہی تھی ۔۔۔
گھڑی میں دیکھا دن کے دس بجنے والے تھے پینے کا پانی ختم ہوچکا تھا ۔۔۔ ابھی بھی کچھ اثار نہیں لگ رہا تھا کہ شہر کا راستہ مل جاۓ ۔۔۔
“اف اور کتنا دور ہوگا مین روڈ , کاش موبائیل ہوتا تو گوگل میپ پر ہی راستہ ڈھونڈ لیتی ۔۔۔ وہ باآواز سوچتی ہوئی خود سے بول رہی تھی تین گھنٹوں کی مسافت نے اسے مار ہی ڈالا تھا ۔۔۔ ایک دو دفعہ کسی نے چلتے اس سے پوچھنا چاہا “کہاں جانا ہے بی بی ۔۔۔ پر گھبراہٹ میں اس سے بولا نہ گیا کیونکہ ڈر تھا کوئی اسے پہچان نہ لے ۔۔۔
“اب کیا کروں کس سے پوچھوں کتنا دور ہے راستہ ۔۔۔ وہ تھک کر درخت کی چھاؤں میں بیٹھی بولی تھی خود سے ۔۔۔
“کہو تو میں تمہاری کچھ مدد کردوں روشانے عالم خان ۔۔۔ اچانک وہ اس کے سامنے اکر کھڑا ہوگیا ۔۔۔
“بھاگنے کا شوق پورا ہوگیا یا ابھی بھی کوئی کمی رہ گئی ہے تو بصد شوق پوری کرلو , میں نہیں چاہتا قربانی کی بکری کی کوئی حسرت رہ جاۓ دل میں ۔۔۔ جانتی ہو میرا دل کیا چاہتا ہے , میرا دل چاہتا ہے پہلے ساری تمہاری حسرتین پوری ہوجائیں پھر میں اپنی ساری کسریں تم سے نکالوں گا ۔۔۔ عالم خان طنزیہ لہجے میں بولا تھا ۔۔۔ وہ ہکا بکا ہوکر اسے سن رہی تھی ۔۔۔
“یور ٹائم از آوور ناؤ روشانے عالم خان , ناؤ اٹس ماۓ ٹرن ڈیئر ۔۔۔ وہ اس کے چہرے کو طنزیہ دیکھتا ہوا بولا جس کا چہرہ لٹھے مامند سفید ہورہا تھا ۔۔ اس کے سرد لہجے میں کہی بات پر روشانے کی ریڑ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی ۔۔۔
وہ بھرپور مردانہ انداز میں اسے اپنی گود میں اٹھا گیا , اسی وقت جانے کہاں سے اس کے ایک اشارے پر پراڈو گاڑی آئی سامنے سے جسے اس میں ڈالا تھا عالم نے ۔۔۔
اس نے چیخنا چاہا تو اس کے ہونٹوں پر سختی سے ہاتھ جما دیا اور اس کی چیخوں کا گلا گھونٹ دیا عالم نے ۔۔۔ وہ پچھلی سیٹ پر اس کے ساتھ گری پڑی تھی اور اس کی باہوں میں بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپنے لگی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
