Eid Apnon Ke Sang By Saba Mughal Readelle50042 Episode 29 (last)
Rate this Novel
Episode 29 (last)
عید اپنوں کے سنگ
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 29
آخری قسط
“نوروز آپ غلط سمجھ رہے ہیں , کوئی ظلم نہیں کیا آپ نے مجھ پر ۔۔۔ میں تو مذہب اور اس کی تہذیب سے کوسوں دور رہی تھی ہمیشہ ۔۔۔ ہمارا گھرانہ ماڈرن رہا سدا سے اور مذہب کو فالوو بھی کم کیا جاتا تھا میں بمشکل تین چار دفعہ چرچ گئی تھی وہ بھی صرف تب جب کسی کی شادی وہاں ہونا طے پاتی تھی دوسری صورت میں , میں کبھی گئی ہی نہیں تھی ۔۔۔ پھر تم میری زندگی میں آۓ تمہیں پانا میرا جنون تھا جسے پانے کے لیۓ اپنا مذہب بدل لیا میں نے کیونکہ تمہیں پانے کی یہی ایک شرط رکھی تھی تم نے ۔۔۔ آہستہ آہستہ میرے من میں یہ خیال آنے لگا آخر کیا وجہ ہے جو تم اتنے ماڈرن اور لبرل ہونے کے باوجود اس معاملے میں اتنے سخت کیوں ثابت ہوۓ تھے اگر میں اپنا مذہب نہ بدلتی تو تم مجھ سے دستبردار تک ہونے کو تیار تھے اس بات کا برملا تم نے اظہار بھی کیا تھا شادی کے بعد کئی بار ۔۔۔ پھر میرے اندر جستجو جاگی اس مذہب کو جاننے کی ۔۔۔ اور میں نے نماز قرآن پڑھنا تک سیکھ لیا ۔۔۔ یہاں تک اردو بھی بولنا میں نے سیکھی صرف آپ کے لیۓ ۔۔۔ پر ایک غلطی آپ نے بھی کی نوروز ۔۔۔ سبین نے آج اپنے اندر کا حال اسے کہے سنایا , اتنی محبت کے باوجود بہت کچھ اَن کہا اور اَن سنا تھا دونوں کے بیچ , جو آج سبین کہے رہی تھی اور وہ سن رہے تھے ۔۔۔
“وہ کیا سبین ۔۔۔ انہوں نے تعجب سے پوچھا ۔۔۔
“آپ نے مجھ سے مذہب بدل کر شادی تو کرلی پر نہ کبھی خود اس کو فالوو کرتے اور نا کبھی مجھے فالوو کرنے کا کہا ۔۔۔ یہیں آپ سے غلطی ہوگئی نوروز خان , اگر آپ اس سب میں میرے ساتھ ہوتے تو آج حالات الگ ہوتے ہمارے سب بچے مذہب کی اہمیت سمجھتے اور اس پر عمل کرتے ۔۔۔ اور میں کب تک اکیلی اس جستجو میں رہتی ایک وقت آیا بچوں میں مصروف ہوکر میں بھی صرف نام کی مسلمان رہ گئی جس طرح آپ تھے ۔۔۔ کاش آپ بزنس کے ساتھ ساتھ ان سب باتوں کو اہمیت دیتے تو روشانے یہ سب نہ کرتی جو وہ کرنے لگی ہے ۔۔۔ سبین نے دکھ اور افسوس کی ملی جلی کیفیت میں کہا تھا ۔۔۔
نوروز خان نے بھی اعتراف کیا اپنی غلطیوں کا ۔۔۔
“ٹھیک کہے رہی ہو سبین غلطی میری ہی ہے جو یہ وقت دیکھنا پڑرہا ہے ۔۔۔ نا اللہ کے راستے پر سہی سے چلا اور نا اس کے احکامات پر عمل کیا ۔۔۔ بہت ظلم کیا تم پر بھی , عام پٹھان مردوں کی طرح سب فیصلے اکیلے کرتا رہا , کسی معاملے میں تمہاری راۓ کو کبھی کوئی اہمیت نہ دی جس طرح چاہا بچوں کے رشتے طے کردیۓ بغیر تمہاری مرضی پوچھے , بغیر تم سے کوئی راۓ لیۓ پر سبین تم نے کبھی کوئی گلہ کیا نا کوئی شکوہ کیا بلکہ ہر جگہ تم میرے ساتھ ہمقدم رہی اور ہمیشہ میرا ساتھ دیتی رہی , میں بہت برا اللہ کا بندہ , برا شوہر اور ایک بہت برا باپ ثابت ہوا ہوں سبین ۔۔۔ میں بری طرح ہار گیا ہوں میں ٹوٹ گیا ہوں ۔۔۔
کئی آنسو ان کی آنکھوں سے بہے کر نکلے ۔۔۔ جنہیں سبین نے اپنے ہتھیلیوں سے چن لیا اور رو تو وہ بھی رہیں تھیں اپنے شوہر کی بےبسی پر ۔۔۔ نوروزخان نے ان کی آنکھوں سے نکلے آنسو صاف کیۓ ۔۔۔
“پلیز نوروز ایسے نہ کہیں ۔۔۔ آپ کی تکلیف سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے ۔۔۔ سبین کے لہجے میں دکھ تھا ۔۔۔
“میں کیا کروں سبین , سارا وقت میرے ہاتھ سے نکل گیا ۔۔۔ میری روشانے گمراہی کے راستوں پر چلنے لگی ہے , چاہا کر بھی کچھ نہیں کرپارہا ۔۔۔ نوروزخان نے کہا ۔۔۔
“ہم کچھ نہیں کرسکتے سواۓ دعا کے , آئیں ہم دونوں مل کر اللہ سے دعا کرتے ہیں وہی سب بہتر کرے گا ہماری روشانے کے لیۓ ۔۔۔
“ہمممم ٹھیک کہے رہی ہو ۔۔۔ انہوں نے کہا ۔۔۔
سبین بھی وضو کرکے اگئی یوں دونوں نے ایک ساتھ تہجد نماز پڑھی ۔۔۔ آج پہلی دفعہ نوروزخان کو پتہ چلا سبین نماز اچھی طرح پڑھنا جانتی ہے ۔۔۔ ان کو افسوس ہوا وہ کیسے مسلمان تھے جنہوں نے کبھی نماز تک نہ پڑھی تھی ۔۔۔ سبین کے دل میں اللہ کی محبت تھی جبکہ خود کو بہت اچھا مسلمان سمجھتے رہے تھے وہ آج تک ۔۔۔ یہ ان کا کمال نہیں تھا کہ ایک لڑکی کو مسلمان کیا یہ تو اللہ کی مرضی تھی جو اس قابل اس لڑکی کو سمجھا جو اسے سچائی کی راہ پر لانے کا ذریعہ صرف نوروزخان بنے تھے ۔۔۔
“بھلا کون ہے جو لاچار ( ومجبور ) کی التجا ( سنتا اور ) قبول کرتا ہے جب کہ وہ اسے پکارتا ہے اور تکلیف کو دور کرتا ہے اور تم کو زمین میں ( گزرے ہوئے لوگوں کا ) خلیفہ ( نائب ) بناتا ہے ، تو کیا اللہ ( تعالیٰ ) کے ساتھ کوئی اور معبود ( بھی ) ہے ، تم میں سے بہت کم لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں ۔۔۔
جس لمحے سبین نے سورہ نمل کی ان آیت کا ترجمہ سنایا نوروزخان کو , تو ان کے آنسو بہے نکلے ۔۔۔ پھر سبین بتاتی چلی گئیں یہی وہ آیات تھیں جن کے ترجمے نے ان کی روح کی بےچینیوں کو دور کردیا تھا اور تب سے آج تک وہ اپنی ہر پریشانی میں اللہ سے ہی رجوع کرتی آئی ہیں ۔۔۔ نوروزخان کو اپنے انتخاب پر فخر سا محسوس ہوا ۔۔۔
آج ان دونوں کے بیچ محبت مسکرارہی تھی جس میں خدا کی محبت بھی اب شامل تھی ۔۔۔ آج دو دلوں میں سہی معنٰی میں سکون اترا تھا ۔۔۔
@@@@@@@@@
عالم خان کا روشانے کو اگنور کرنا روشانے کو دوہری اذیت دے رہا تھا ۔۔۔ عالم خان نے اس سے نا کچھ پوچھا نا روشانے نے کچھ بتایا ۔۔۔ شاید خود سے اعتراف کرنا روشانے کے لیۓ اذیت ناک تھا ۔۔۔
آج ایک ہفتہ گزرگیا تھا روشانے اور عالم کو بات کیۓ ہوۓ ۔۔۔ پچھلے پانچ دنوں سے وہ نور آپا کے گھر جارہی تھی دینی تعلیم حاصل کررہی تھی ۔۔۔ سر پر دوپٹا لینا اس نے اپنی عادت بنالیا تھا کیونکہ اب اس کی اہمیت کا اندازہ روشانے کو اچھی طرح ہوگیا تھا ۔۔۔
زونی کا رویہ آج بھی نرم تھا اس کے ساتھ اس نے اس سے یونی کا پوچھا “اب وہ کیوں نہیں جارہی ۔۔
جس کے جواب میں وہ بولی یاسیت سے کہ ” اب ضرورت نہیں رہی جانے کی کیونکہ میری وحشتوں کو قرار اگیا ہے , میں گھر کی وحشتوں سے بھاگ کر باہر دلچسپی ڈھونڈ رہی تھی , اب جب مجھے سجھ اگیا ہے گھر میں رہنے میں میرا سکون اور قرار ہے تو کیوں جاؤں ۔۔۔
شمائیل کو اپنی گود میں بٹھاکر وہ پیار کرتے ہوۓ سب کہے رہی تھی ۔۔۔ زونی خوش تھی اب روشانے شمائیل کو پیار کرتی اس کا خیال کرتی اور جب زونی گھر نہ ہوتی ملازمہ کو کوئی لاپروائی شمائیل سے برتتے ہوۓ دیکھتی تو ضرور بولتی اور خود بھی اس کا خیال رکھ رہی ہوتی تھی ۔۔۔
“پھر بھی میرا خیال ہے اپنا کورس مکمل کرلینا چاہیۓ آپ کو ۔۔۔ زونی نے اپنی راۓ دی ۔۔۔
“ٹائیم نہیں میرے پاس , زندگی بہت چھوٹی ہے زونی , مجھے اصل کی پہچان ہوگئی ہے , میری واپسی کے سفر کی یہ ایک رکاوٹ ہوگا یہ کورس , اللہ کا شکر ہے میری تعلیم مکمل ہے اب جس تعلیم کی کمی ہے پہلے اسے مکمل کرلوں پھر اور کسی کورس کا سوچوں گی ۔۔۔
زونی خاموش ہوگئی اس کے جواب سے ۔۔۔ روشانے کے اندر ہوئی تبدیلی کو وہ خوب سمجھ رہی تھی ۔۔۔
@@@@@@@@@@
نور آپا نے آج حقوق العباد پر تفصیل سے بات کی ۔۔۔ جس پر روشانے کے آنسو تھم نہیں رہے تھے والدین کے حقوق , انسان کے حقوق ہوں یا شوہر کے حقوق ہوں سب سن کر روشانے کو احساس ہوا کتنے غلط طرز کی زندگی گزار رہی تھی وہ ۔۔۔ کسی کا کوئی بھی حق وہ ادا نہ کرسکی تھی ۔۔۔ ڈھیر ساری شرمندگی اس کے اندر جاگی , اپنے ماں باپ کی خاص کر عالم خان کی وہ مجرم تھی اس احساس نے اسے شدید بےچین کیا اس لمحے ۔۔۔
کلاس ختم ہونے کے بعد سب چلیں گئیں وہ اکیلی رہ گئی تھی ۔۔۔ نور اس کے پاس اکر بیٹھی اور بولی ۔۔۔
“جو ہوگیا روشانے اس پر افسوس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اگے بڑھو جو بچ گیا ہے اسے بچالو ان لمحوں کو سمیٹ لو , جن سے معافی مانگنی ہے ان سے مانگو جن کو معاف کرنا ہو ان کو معاف کردو ۔۔۔ یقین کرو یہی زندگی کا قانون ہے اسی سے زندگی آسان ہو سکتی ہے ۔۔۔ ہر لمحے اللہ کا شکر ادا کرو جس نے تمہیں مہلت دی ہے کہ اپنے رشتوں کو سمیٹ لو ۔۔۔ یوں خودترسی کا شکار ہوکر خود کو ناشکروں میں شامل نہ کرواؤ ۔۔۔ شکر کرو اس رب جس نے تمہیں بچالیا اتنا بڑا گناھ کرنے سے ۔۔
نور آپا کا میٹھا نرم لہجہ دل کو ٹھنڈک پہنچا رہا تھا ہر طرف سکون ہی سکون پھیلنے لگا تھا روشانے کے ۔۔۔
اسی لمحے کسی کی چیخ نے اس تسلل کو توڑا ۔۔۔ نور معذرت کرتی وہاں سے اٹھ کر گئی ۔۔۔
کچھ دیر کے بعد روشانے باہر نکلی تو دیکھا نور ایک لڑکی کو پیار سے سمجھا کر اندر لے جارہی تھی جیسے روشانے کی نظر پڑی تو حیران رہ گئی وہ لڑکی کوئی اور نہیں اس دن کی ریسٹورینٹ والی تھی جس کے ساتھ بیٹھے مرد کو عالم نے مارا تھا ۔۔۔
“کیا ہوا روشانے ۔۔۔ نور آپا نے پوچھا اس کے چہرے کے عجیب غریب تاثرات دیکھ کر ۔۔۔
“یہ کون تھی ۔۔۔ روشانے نے ان کا سوال نظر انداز کرکے اپنے اندر مچلتا سوال پوچھا ۔۔۔
“یہ میری نند ہے نائلہ , روشانے , جو اپنی حدوں سے نکلی تو دربدر ہوگئی ۔۔۔ نور نے درد سے چور لہجے میں بولی ۔۔۔
“کیا مطلب ۔۔۔
“نامحرم کی محبت اسی طرح تباھ کردیتی ہے جس پر سب سے زیادہ بھروسہ کررہی تھی وہی اس کی عزت روندنے چلا تھا عالم بھائی اگر اس دن اس شخص کو نا مارتے تو آج اس ملک کی کئیں لڑکیاں دوسرے ملک میں بک رہیں ہوتیں , وہ شخص ڈرگ مافیا اور لڑکیوں کو سپلاۓ کرنے کا کام کرتے تھے ۔۔۔ عالم بھائی وہ وڈیوز نائلہ کو دیں جو اس نے نکالیں ہوئیں تھیں تب سے وہ اپنے حواس کھوچکی ہے ۔۔۔ بہت خوشنصیب ہو تم جو اتنے اچھے انسان کی بیوی ہو جو اس طرح خلق خدمت کررہا ہے اس گند کا صفایا کررہا ہے , جس میں ہاتھ ڈالنے سے ہر کوئی ڈرتا ہے ۔۔۔
وہ بسس دیکھتی رہ گئی نور آپا کو جن کی ہر ایک بات میں عالم خان کے لیۓ دعائیں ہی دعائیں تھیں ۔۔۔ روشانے کو افسوس ہوا جس نے کتنا غلط سمجھا تھا اس دن عالم خان کو وہ اسے پولیس کی وردی میں گنڈہ سمجھ رہی تھی پر وہ تو اصل سچا انسان تھا جو سہی معنوں میں اپنی ڈیوٹی کررہا تھا ۔۔۔ نور آپا کا دیور عالم خان کے انڈر کام کرتا تھا اور دوستی بھی تھی دونوں میں , نائلہ کو عالم بہنوں کی طرح سمجھتا تھا ۔۔۔
@@@@@@@@@
مناہل اپنے خیال میں کمرے میں آئی جیسے ہی اس کی نظر زمین پر پڑی آذان کے پاس سانپ کو دیکھ کر اس کی روح فنا ہوگئی ہو جیسے ۔۔۔ آذان خطرے سے بےخبر کھیل رہا تھا اپنی دھن میں ۔۔۔
مناہل نے لمحوں میں فیصلہ کیا اور چادر لے کر سانپ پر پھینکی اور اسے اس میں لپیٹ کر پکڑ کر باہر لے آئی اور بڑا پتھر اٹھا کر اسے مارنے لگی صحن کے بیچوں بیچ ۔۔۔ دائم حیرت سے دیکھنے لگا ۔۔۔
“بسسس کرو مناہل سانپ مرچکا ہے ۔۔۔ دائم نے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔
اسی لمحے پتھر پھینک کر اس کے گلے لگ گئی تھر تھر کانپنے کے ساتھ ساتھ شدت سے رورہی تھی ۔۔۔
“دائم ۔۔۔ دائم ۔۔۔ میں ڈرگئی تھی ۔۔۔ آذان کو کچھ ۔۔۔ مناہل روتے روتے بولی ہنوز کپکپی اس پر طاری تھی ۔۔۔
“تم جیسی بھادر ماں کے ہوتے ہوۓ آذان کو کیا ہوسکتا , آذان پر آنچ بھی نہیں آسکتی کبھی تمہارے ہوتے ہوۓ ۔۔۔ تم جو کاکروچ سے ڈرنے والی ہوا کرتی تھی ۔۔۔ مناہل یہ کونسا روپ ہے تمہارا اور کتنے روپ ہیں جن سے میں بےخبر ہوں ۔۔۔ وہ اس کے بالوں انگلیاں پھیرتے ہوۓ بولا ۔۔۔
“گریٹ مناہل ۔۔۔۔ پر باقی پیار کے مظاہرے کمرے میں کریں کیونکہ سب بڑے بھی اچکے ہیں دائم بھائی ۔۔۔ دانیال کی بات پر شرمندہ ہوکر دونوں الگ ہوۓ ۔۔۔ سب ہنس پڑے دونوں کو دیکھ کر ۔۔۔
دائم کی امی نے اسی وقت خیرات اور صدقے کا فیصلہ کیا جس کو سب نے سراہا ۔۔۔ رات تک سب کی زبانوں پر مناہل کی بھادری کی بات تھی ۔۔۔
@@@@@@@@@
وہ آذان پر ورد کرکے کاٹ میں لٹاکر جیسے ہی پلٹی دائم سے ٹکرائی اور گھبرا کر بولی ۔۔۔
“میں ڈرگئی دائم ۔۔۔ وہ بوکھلا گئی تھی اچانک اسے اپنے پیچھے پاکر ۔۔۔
“میں بھی ڈرگیا ہوں ۔۔۔ دائم نے زیرلب کہا جسے مناہل نے سن لیا اور بولی ۔۔۔
“کیا مطلب ۔۔۔
“اگر میں کہوں میں اپنے دل کی خواہش سے ڈرگیا ہوں تو کیا تم سمجھوگی مجھے ۔۔۔ وہ گمبہیر لہجے میں بولا ۔۔۔
“کیا مطلب وہ تعجب سے بولی ۔۔۔
” یہ دل تمہاری تمنا کرنے لگا ہے , اگر میں کہوں مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے تو کیا میرا اعتبار کروگی ۔۔۔ مجھے بےوفا تو نہیں کہوگی مناہل ۔۔۔ دائم دھیمے لہجے میں کہتا مناہل کو حیران کرگیا ۔۔
“شاید نہیں ۔۔۔ مناہل دھیمے لہجے میں بولی ۔۔۔
“شکریہ مناہل مجھے سمجھنے کے لیۓ , ہم دونوں کی زندگی کا یہ ادھوراپن , میں دور کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ وہ اسے پیار سے تھامتا بیڈ پر لایا آج مناہل نے اسے نہیں روکا آج مناہل کے ہر انداز میں خودسپردگی تھی ۔۔۔
دائم نے سائیڈ ٹیبل کے ڈرا سے ایک ڈبا نکالا ۔۔۔ ڈائمنڈ کا پینڈنٹ گولڈ کی چین میں تھا ساتھ میچنگ ڈائمنڈ کے ایرینگز تھے ۔۔۔
“یہ میری طرف سے پیار کا پہلا تحفہ مناہل تمہارے لیۓ , شکریہ مجھے سمجھنے کے لیۓ , میرے بیٹے کو اتنا پیار دینے کے لیۓ شاید سگی ماں بھی اتنا نہ کرسکے جتنا تم نے کیا ہے آذان کے لیۓ ۔۔۔ دائم دل سے اعتراف کرنے لگا اس کی خوبیوں کا ۔۔۔
“دائم ایسے نہ کہیں ایمن آپی ہوتیں تو وہ بھی اتنا کرتیں آذان کے لیۓ ۔۔۔ مناہل نے جلدی سے کہا ۔۔۔
“یہ تمہاری اچھائی ہے مناہل جو کبھی کسی بات کا کریڈٹ نہیں لیتی بحرحال میرے لیۓ تم کسی رحمت سے کم نہیں جس نے سمیٹ لیا میری بکھری زندگی کو ۔۔۔ مجھے لگتا تھا ایمن کے بعد کوئی اس دل کا دروازہ نہیں کھول سکتا پر تم تو پورے حق سے براجمان ہوگئی ہو ۔۔۔ میں یہ نہیں کہتا ایمن سے بڑھ کر تمہیں چاہنے لگا ہوں یا اس سے کم , بسسس اتنا سمجھ لو تمہارا اپنا مقام اپنی جگہ ہے ۔۔۔ محبت میں تمہارا اپنا مقام ہے جس پر کوئی اور نہیں ۔۔۔ اجازت ہے اس اپنے ہاتھوں سے پہناؤں ۔۔۔ دائم نے آخر میں پوچھا ۔۔۔
وہ تو اس کے پیار کے اعتراف پر ہی کھل ہی اٹھی اس کا یہ انداز مناہل کو پیارا لگا وہ شرم کے مارے کہے نہ سکی کہ وہ بھی اس کے دل میں پورے حق سے داخل ہوچکا ہے ۔۔۔
“ہمممم ۔۔۔ نظریں جھکا گئی اتنا کہے کر جو اس کی اجازت کا انداز تھا ۔۔ شرمیلی مسکراہٹ لیۓ چہرے پر رونق ہی رونق تھی مناہل کے چہرے پر ۔۔۔
اپنے ہاتھوں سے چین پہنا کر پھر ایرنگ اٹھاۓ دائم بولا ۔۔۔
“یہ صبح پہناؤں گا ورنہ اس وقت تکلیف نہ دیں تمہیں یا مجھے ۔۔۔ دائم کے اس طرح کہنے پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ اگلے چند پلوں بعد اسے سہی معنوں میں سمجھ آئی دائم کی کہی بات جب وہ اس پر اپنی محبت نچھاور کررہا تھا کبھی ہونٹوں پر کبھی کان کی لو پر کبھی گردن پر جابجا اپنے لمس چھوڑتا مناہل کو شرمانے پر مجبور کر رہا تھا فرار کی ساری راہیں بند کرچکا تھا اس پر دائم اور شرما کر وہ اس کے سینے میں منہ چھپاتی دائم کو بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔ آج کی رات وہ اپنے رشتے کو مکمل کرگیا اور مناہل کو زندگی کے نۓ رنگوں سے متعارف کرانے لگا ۔۔۔
اگلی صبح جب شیشے کے سامنے بیٹھی وہ بال سلجھارہی تھی مناہل کے چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ تھی کیونکہ دائم اس پیچھے اکر کھڑا ہوکر محویت سے دیکھنے لگا ۔۔۔ مرد کے دیکھنے کا یہ انداز وہ بھی شوہر کا ہو تو بیوی یونہی کھل اٹھتی ہے ۔۔۔ شوہر کی محبت بھری نگاھ عورت کے اندر خوشیان بھردیتی ہے ۔۔۔
“جانتی ہو مناہل حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے ورنہ اپنے انداز میں اللہ نے سب کو خوبصورت بنایا ہے ۔۔۔ عورت کو تو اللہ نے قدرتی مرد سے زیادہ خوبصورت بنایا ہے میری نظر سے اگر آج دیکھو تو تم دنیا کی سب خوبصورت لڑکی ہو اور خاص کر یہ لمبے بال مجھے بہت پسند ہیں ۔۔۔ وہ اس کی زلفیں چوم گیا ۔۔۔ مناہل خود میں سمٹ کر رہ گئی ۔۔۔ وہ کندھوں سے اسے تھامتا اپنے روبرو کھڑا کرگیا ۔۔۔
“میری آنکھوں میں دیکھو مناہل , اور بتاؤ کیا پھر کبھی خود کو کسی سے کمتر تو نہیں سمجھوگی نا , ورنہ مجھے لگے گا کمی تو مجھ سے پھر رہ گئی ہوگی تمہیں سراہنے میں ورنہ ۔۔۔
“بسسس وہ اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ گئی ۔۔۔
“کون کیا سوچتا ہے مجھے اب پرواہ نہیں , آپ کے لیۓ میں خوبصورت ہوں یہی آج کی حقیقت ہے اور پمیشہ رہے گی ۔۔۔ یہ اعتماد میرے اندر آپ کی محبت نے دیا ہے جو کبھی کوئی نہیں توڑ سکتا ۔۔۔ شکریہ دائم ۔۔۔
وہ اس کے گلے لگ گئی وہ اس پر اپنی گرفت مضبوط کرگیا ۔۔۔ محبت اس ملن پر مسکرا اٹھی دو دلوں کے ملاپ کا نام ہی محبت ہے ۔۔۔
@@@@@@@@
آنکھ سے دُور نہ ھو دل سے اُتر جائے گا
وقت کا کیا ھے گزرتا ھے گزر جائے گا
اِتنا مانوس نہ ھو خلوتِ غم سے اپنی
تُو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا
تم سرِ راہ وفا دیکھتے رہ جاؤ گے
اور وہ بامِ رفاقت سے اُتر جائے گا
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اُچھالا دے دوں
مَیں نہیں کوئی تو ساحل پہ اُتر جائے گا
زندگی تیری عطا ھے تو یہ جانے والا
تیری بخشش تری دہلیز پہ دھر جائے گا
ضبط لازم ھے مگر دکھ ھے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
“مجھے گاؤں جانا اپنے ماں باپ سب سے ملنا ہے ۔۔۔ روشانے اس کے سامنے آئی جو اپنے کمرے میں جانے لگا تھا جو آج کل اس نے اپنا بنایا ہوا تھا ۔۔۔
“اتنے دنوں کے بعد آخر تمہیں خیال آہی گیا سب کا ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔
وہ اس کے بیگانگی بھرے انداز کے طنز پر دکھی ہوگئی تھی ۔۔۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولا ۔۔۔
“ٹھیک ہے انتظام کروادوں گا چلی جانا ۔۔۔
“آپ نہیں چلیں گے ۔۔۔ ہچکچاکر روشانے نے پوچھا ۔۔۔
“نہیں ۔۔۔ وہ تند لہجے میں بولا ۔۔۔
“پر عید ہے چند دنوں میں ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔
“میں خود ہی آجاؤں گا , فی الحال تمہارا بندوبست کردیتا ہوں ۔۔۔ عالم کا امداز ہنوز سرد تھا ۔۔۔
“تو ٹھیک ہے میں آپ کے ساتھ جاؤں گی ۔۔۔ روشانے نے کہا جلدی سے ۔۔۔
“نہیں تم چلی جاؤ , میں شاید عید کی رات دیر سے پہنچوں ۔۔۔ اتنا کہے کر وہ کمرے کے اندر چلاگیا ۔۔ چند لمحے دروازے کو گھورنے کے بعد وہ بغیر ناک کے اندر اگئی ۔۔۔ اپنی جلد بازی پر جی بھر کے شرمندہ ہوئی تھی کیونکہ وہ بغیر شرٹ کے کھڑا اسے گھور رہا تھا ۔۔۔
“سوری سوری ۔۔۔وہ شرمندہ لہجے میں بولی ۔۔۔
“کن کن باتوں کے لیۓ کروگی تم , رہنے دو یہ سوری ووری۔۔۔ وہ جلدی سے ٹی شرٹ پہنتا ہوا بولا ۔۔۔
“کیا مجھے معاف نہیں کرسکتے آپ , میری سب بےوقوفیوں اور کوتاہیوں کے لیۓ , پلیز عالم خان ۔۔۔ وہ عالم خان کے روبرو آکھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ اسے گھورنے لگا پر وہ بغیر کسی پرواہ کے اس کے ہاتھ تھام گئی اور دوبارہ بولی ۔۔۔
“پلیز عالم خان , مجھے معاف کردیں , میں شدید شرمندہ ہوں آپ سے , یہ گلٹ مجھے ماردے گا عالم خان ۔۔۔ میں مرجاؤں گی آپ کے بغیر ۔۔۔ وہ اس کے ہاتھوں پر سرگراۓ روپڑی ۔۔۔۔ سب اسے بتاتی چلی گئی کس طرح اس نے آخری دفعہ ہوٹل جاکر حنین کو بتانے جارہی تھی وہ عالم خان کو نہیں چھوڑسکتی اور پھر حنین کے سب اعتراف پھر پارک میں جو ہوا پھر نور آپا کے گھر جو ہوا سب بتاتی چلی گئی ۔۔۔
“میں کبھی آپ کو یقین نہیں دلاسکتی کہ میں حنین کو چھوڑنے کا فیصلہ کرچکی تھی مجھے آپ سے محبت ہوگئی تھی , میں اپنا اعتبار کھوچکی ہوں آپ کبھی یقین نہیں کریں گے میرا ۔۔۔ وہ روتے ہوۓ بولی ۔۔۔
“مجھے یقین ہے تم پر روشانے , اس دن ہوٹل کے روم میں یہی بتانے اسے جارہی تھی تم ۔۔۔ عالم خان کے پریقین لہجے پر دنگ رہ گئی ۔۔۔
“کیا واقعی اب بھی آپ میرا اعتبار کریں گے ۔۔۔ وہ حیران کن لہجے میں بولی تھی ۔۔
“ہممممم کروں گا جس طرح کبھی مجھے اس بات پر اعتبار تھا محبت سے تمہارا دل میں جیت لوں گا , محبت کبھی رائیگان نہیں جاتی روشانے ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔
“مجھے معاف کردیں عالم , جس طرح آپ چاہتے ہیں بلکل اس طرح کی زندگی گزاروں گی آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گی ۔۔۔ روشانے جلدی سے بولی ۔۔۔
“بسس کرو روشانے , اتنے دن سے بہت انتظار کیا ہے ان لمحوں کا جب تم خود اکر اپنی محبت کا اعتراف کرو ۔۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔
“آپ بہت اچھے ہیں عالم , تاعمر آپ کی شکر گزار رہوں گی جو آپ نے مجھے میری کوتاہیوں اور بےوقوفیوں سمیت چاہا ۔۔۔
“کیا کروں محبت جو تم سے کرتا ہوں ۔۔۔ عالم خان مسکرا کر بولا ۔۔۔ وہ اس کے گلے لگ گئی ۔۔۔ وہ اسے خود میں بھینچ گیا ۔۔۔
محبت اپنے رائیگان نا جانے پر نازان تھی اور دو محبت کرنے والوں کو دیکھ کر مسکرائی تھی ۔۔۔
@@@@@@@@@@
عید سے کچھ دن پہلے زونی , شمائیل اور روشانے اور پہنچے تھے ۔۔۔ عالم کے سمجھانے پر وہ زونی کے ساتھ اگئی تھی ۔۔۔ مشرقی لباس میں سر پر دوپٹا لیۓ روشانے سب کو اچھی لگی ۔۔۔ اس نے اپنے ماں باپ سے معافی مانگی اور انہوں نے دل سے معاف کردیا اسے ۔۔ وہ اپنے ماں باپ کے گلے لگے سکون محسوس کرنے لگی ۔۔۔ اور نوروز خان نے اس لمحے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے روشانے کا ایمان سلامت رکھا ۔۔.
وہ اٹھنے لگے تو روشانے پوچھ بیٹھی “بابا جان کہاں جارہے ہیں ۔۔۔
“جب اللہ تعالیٰ ایمان کو سلامت رکھے تو شکرانے کا نفل پڑھنا ضروری ہے , وہی پڑھنے جارہا ہوں میری جان ۔۔۔ نوروزخان نے کہا ۔۔۔
“تو پھر مجھے بھی پڑھنا چاہیۓ باباجان ۔۔۔ روشانے کہا ۔۔۔
“مجھے لگتا ہے مجھے بھی پڑھنا چاہیۓ ۔۔۔ سبین نے کہا ۔۔۔
یوں تینوں نے اپنے رب کا شکر ادا کیا شکرانے کے نفل پڑھ کے ۔۔۔۔
@@@@@@@@
نیوز چینل پر چلتی بریکنگ نیوز نے سب کو شاک کردیا کہ کس طرح ایک نامعلوم افراد نے ان سیاستدانوں کا نام منظر پر لایا جو لڑکیوں کو باہر ملک سپلاۓ کرنے والوں میں انوالوڈ ہیں مکمل ثبوتوں کے ساتھ یہ سب پیش کیا گیا تھا جن میں کچھ کو بیچ کر جسم فروشی جیسا کام کروایا جاتا ہے اور دوسری وہ لڑکیاں جن کو ٹیٹرزم میں لایا جاتا ہے ۔۔۔
عالم خان نے گرفتار کیا تھا ان سیاست دانوں کو اور اس نے میڈیا سے کہا “اللہ کا شکر ہے اس مشن کو مکمل کرنے میں ایک ایسے فرد کا ہاتھ ہے جو منظر پر نا اکر سب کام کرتا رہا اور اگے بھی کرتا رہے گا ہمیں اس کے لیۓ دعا کرنی چاہیۓ , بس اتنا کہوں گا میں ۔۔۔
میڈیا اور سوال کرنے لگی پر ان کو اگنور کرتا وہ اگے بڑھ گیا ۔۔۔ سب خبرنامہ غور سے سن رہے تھے اس لمحے زونی اٹھی اور نوروزخان کے سامنے دوزانو بیٹھی ۔۔۔ سب حیرت سے دیکھنے لگے اس منظر کو ۔۔۔
“تایاجان , جانتے ہیں وہ نامعلوم شخص کون ہے ۔۔۔ زونی کے کہنے پر وہ پوچھ بیٹھے ۔۔۔
“کون ہے ۔۔۔
“وہ باذل خان ہیں تایاجان , وہ سیکرٹ ایجینٹ ہیں یہ سب کام کرتے ہیں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر بغیر کوئی شہرت حاصل کیۓ یہ سب کرتے ہیں بغیر کسی غرض کے ۔۔۔ میں جانتی ہوں وہ خود کبھی نہیں بتائیں گے پر یہ جاننا اپ کا حق ہے ۔۔۔ زونی نے کہا ۔۔۔
نوروزخان حیران ہوۓ تھے یہ سن کر ۔۔۔ اسی لمحے ایک آواز پر سب چونکے ۔۔۔
“کمال ہے بیوی , اتنا کانفینڈس جو مجھ سے بغیر اجازت لیۓ میرے کارنامے تم بتاؤ سب کو ۔۔۔ باذل خان کی آواز پر سب چونکے ۔۔۔
وہ دوڑ کر بےساختہ اس کے گلے لگی “شکر ہے آپ اگۓ آپ کو سہی سلامت دیکھ کر ۔۔۔
“یار سب بیٹھے ہیں دادا حضور کا ہی تھوڑا لحاظ کرلو ۔۔ باذل خان نے کہا ۔۔۔ وہ شرمندہ سی اس سے الگ ہوئی ۔۔۔
“دل خوش کردیا تمہارے والہانہ انداز نے باقی پیار روم میں میری پٹھانی ۔۔۔ اس کے کان کے پاس سرگوشی کرتا وہ جاکر باپ کے گلے لگا باری باری سب سے ملتا سب کا پیار وصول کرنے لگا ۔۔۔ سب کے انداز میں فخر تھا اس کے لیۓ ۔۔۔
کچھ دیر میں چھوٹی حویلی سے سب اگۓ روشانے کو دیکھ کر باذل خان خوش ہوا ۔۔۔ وہ بھائی کے گلے لگ گئی ۔۔۔ باذل خان کو سکون ملا اسے اس روپ میں دیکھ کر ۔۔۔
اگلے دن عالم خان بھی پہنچ گیا تھا گاؤں ۔۔۔ آج نو ذل الحج تاریخ تھی جس کا روزہ کافی گھر کے افراد نے رکھا تھا کیونکہ اس کی فضیلیت بھی تو بہت ہے ۔۔۔ سواۓ دادا حضور اورصبیحہ خاتون کے سب نے روزہ رکھا تھا بڑی اور چھوٹی حویلی میں ۔۔۔ اس لیۓ فیصلا کیا گیا بڑی حویلی میں سب مل کر افطاری کریں گے ۔۔۔
اکبر خان بڑی حویلی میں سب اپنوں کو دیکھ کر خوش تھے آج ان کا خاندان مکمل ہوا تھا اس عید پر سب ان کے اپنے موجود تھے اس سے بڑی خوشی کی بات کیا ہوگی ایسا لگ رہا تھا کل کے بجاۓ آج ہی ان کی عید ہوگئی ہو جیسے ۔۔۔
دل ہی دل میں انہوں نے نظر اتاری اپنے خاندان کی ۔۔۔ یہ عید ان کے لیۓ ڈھیر ساری خوشیان لائیں تھیں اس عید پر وہ دانیال خان اور شانزے کی مگنی کا فیصلا کرچکے تھے اس بار کے فیصلے میں صرف ماں باپ نہیں بچوں کی بھی راۓ پوچھی تھی انہوں نے جب دونوں بچوں نے انہیں رضامندی دی تب انہوں نے ان کے ماں باپ کے اگے اپنا فیصلا رکھا ۔۔۔ جسے وہ مان گۓ یوں عید کے دن قربانی کے بعد شام میں سادگی سے دانیال خان اور شانزے کی مگنی ہوگئی ۔۔۔
رات کو چاندنی کی روشنی میں دانیال خان کے روبرو بیٹھی شانزے اپنی باتیں کرتی اپنی اپنی سی لگی تھی اسے ۔۔۔
“اب آپ بھی اپنے بارے میں کچھ بتائیں گے یا صرف میں ہی بولتی رہوں ۔۔۔ شانزے جس طرح دھونس بھرے انداز میں کہا تھا دانیال خان کو یقین ہوگیا تھا وہ اسی دھونس سے اس کے دل کے بند دروازوں کو بھی کھول دے گی بہت جلد ۔۔۔ چاند کی چاندنی میں اس کی ناک میں چمکتی ڈائمینڈ کی لونگ دانیال خان کو اچھی لگ رہی تھی ۔۔۔
ایک طرف مناہل کے ہاتھ میں چوڑیان پہناتا دائم , تو دوسری طرف باذل خان کی جسارتوں پر چھوئی موئی ہوتی زونی اپنے کمرے میں اور تیسری طرف عالم خان اور روشانے اک دوسرے کے گلے لگے محبت بھری باتیں کرتے اپنے کمرے میں اور چوتھی طرف ایک نئی محبت کی کونپل پھوٹنے لگی تھی دانیال خان اور شانزے کے بیچ ۔۔۔۔۔
چاروں طرف محبت ہی محبت بکھر رہی تھی اس عید پر ۔۔۔
ختم شد
۔
