Rate this Novel
Episode 9
ناول … عید اپنوں کے سنگ
ازقلم …. صبا مغل
قسط نمبر 9
“میرا فیصلہ یہی ہے کہ میں اپنی بیوی کو نہیں چھوڑ سکتا , اس حال میں بھی نہیں جب وہ کسی اور سے محبت کی دعویدار ہے ۔۔۔ عالم خان کے سخت کھردرے لہجے میں کہا باہر سے سخت پر اندر سے ٹوٹ گیا تھا وہ مان جو اسے اس پر تھا ۔۔۔ بہت کچھ ٹوٹا تھا اس کے اندر ۔۔۔
“بیٹا تم نے میرا مان بڑھا دیا یہ کہے کر , بس عید کی شام میں اسے بتادوں گا ۔۔۔ نوروز خان مطئمن ہوۓ تھے ۔۔۔
“میرا خیال ہے آپ کو بتادینا چاہیۓ اب روشانے کو , کیونکہ یہی سہی وقت ہے , تب تک سنبھل جاۓ گی ۔۔۔ عالم خان نے بیگانہ لہجے میں کہا ۔۔۔
“نہیں , مجھے پتا ہے کب بتانا چاہیۓ , میں چاہتا ہوں عید کا دن وہ خوش ہوکر گزارے ۔۔۔ اسی رات بتادیں گے ۔۔۔ نوروز خان نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔
“جیسا اپ کو بہتر لگے ۔۔۔ مجھے روشانے کا پاسپورٹ دے دیں تایاجان ۔۔۔ عالم خان نے گھمبیر لہجے میں کہا ۔۔۔
“جی بیٹا ابھی لے کر ایا ۔۔۔ نوروز خان اتنا کہے کر اپنے کمرے کی طرف آۓ ۔۔۔
“میں ویٹ کررہا ہوں ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔
“یہ کیا کررہے ہیں آپ ۔۔۔ سبین خان نے انہیں پاسپورٹ نکالتے دیکھا تو پوچھنے سے خود کو روک نہ پائی ۔۔
“روشانے کا پاسپورٹ عالم کو دے رہا ہوں کیونکہ اس کا کیا کرنا یہ فیصلہ عالم خان کا ہوگا ۔۔۔ نوروز خان اتنا کہے کر روشانے کا پاسپورٹ لے کر لمبے ڈگ بھرتے ہوۓ وہاں سے چلے گۓ سبین دیکھتی رہ گئیں ۔۔۔
اپنی بیٹی کی آزادی کا پروانہ اس کا شوہر لے کر جاچکا تھا ۔۔۔ وہ خوش نہ تھیں اس سب سے ۔۔۔
سبین کا ذہن ماضی کی طرف چلا گیا ۔۔۔
@@@@@@@@
(ماضی)
“کیا بات ہے نوروز اج اپ خوش لگ رہے ہیں ۔۔۔ سبین نے کہا ۔۔۔ شادی کے اتنے سالوں میں پہلی دفعہ اتنا خوش دیکھ کر خوش تھیں ۔۔۔
“مجھے میرے باباجان نے معافی کی نوید دی ہے ۔۔۔ وہ چاہتے ہیں میں تم سب کے ساتھ پاکستاں ان کے پاس آجاؤں ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔
“کیا آپ ہمیشہ کے لیۓ جانے کی بات کررہے ہیں ۔۔۔ سبین نے پوچھا گھبرا کر ۔۔۔
“نہیں , وہ تم سب سے ملنا چاہتے ہیں ۔۔۔ نوروز خان نے بتایا ۔۔۔ اسے تسلی دی کہ امریکا چھوڑنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ۔۔۔
پھر پندرہ دن بعد انہوں نے پاکستان کی سرزمیں پر قدم رکھا ۔۔۔ اج خوش تھے سب مھروز خان ان کو لینے ایا تھا ۔۔۔
حویلی اکر سب سے مل کر بےانتہا خوش ہوا نوروز خان ۔۔۔
جب اکبر خان کے گلے لگا اور کہا ۔۔۔ “میں اج خوش ہوں بابا جان اپ نے مجھے معاف کردیا ہے ۔۔۔
اس کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی ۔۔۔
“صرف معاف کرنے کا سوچا ہے , کیا نہیں ہے اب تک ۔۔۔ اکبر خان نے سرد لہجے میں کہا ۔۔۔
“مطلب ۔۔۔ نوعوز خان نے چونک کر کہا ۔۔۔
“فیصلہ تم نے کرنا ہے , معافی چاہتے ہو یا نہیں ۔۔۔۔ اکبر خان نے دوٹوک کہا ۔۔۔
“باباجان جو کہیں , میں کرنے کو تیار ہوں مجھے بس معاف کردیں ۔۔۔ نوروز خان نے تڑپ کر کہا ۔۔۔ اتنے دنوں کی خوشی ملیامیٹ ہوتی نظر ارہی تھی اسے ۔۔۔
“تم نے کسی کی بیٹی کو تاعمر انتظار کی سولی پر چھوڑ کر نوروز خان بہت غلط کیا ۔۔۔ مھرین انتظار کرتی چلی گئی تم نہیں آۓ ۔۔۔ ان کے لہجے میں شدید کرب تھا ۔۔۔ نوروز دکھی ہوا تو سبین کو بھی احساس ہوا کہ اس کے شوہر سے غلطی ہوئی ہے ۔۔۔
“بابا جان , مجھے اعتراف ہے , مجھ سے غلطی ہوئی ہے , پر اسے کوئی آس امید نہیں دی تھی میں نے ۔۔۔ وہ اس کی مرضی تھی انتظار کرنا ۔۔۔ نوروز خان نے شرمندہ لہجے میں صفائی دی ۔۔۔
“کینسر کا مرض لاحق ہوگیا اسے ۔۔۔ وہ پچھلے سال گزگئ ۔۔۔ اکبر خان کی بات پر وہ شاک ہوا ۔۔۔ اسے پتا نہیں تھا وہ معصوم اس حد تک چلی گئی ۔۔۔
“نوروز میں مرتی مر جاؤں گی پر کبھی اپنے ساتھ کسی کا نام نہیں جوڑوں گی , یاد رکھنا , میں انتظار کروں گی تمہارے لوٹنے کا ۔۔۔ مھریں نے یہ لفظ کہے تھے نوروز سے جو اس کی بچپن کی منگ تھی ۔۔۔ یہ اس نے تب کہے تھے جب باذل کی پیدائش کے بعد نوروز اپنے ماں باپ سے معافی مانگنے ایا تھا ۔۔۔ نا نوروز خان نے مھرین خان کو اپنایا اور نا ہی اسے معافی مل سکی اپنے ماں باپ سے ۔۔۔
“پروین بھابھی مجھے معاف کردیں , میں اپ کی بہن کا مجرم ہوں ۔۔۔ نوروز خان نے اعتراف کیا ۔۔۔ ہاتھ جوڑے تھے ان کے اگے جس کی اکلوتی بہن چلی گئی ۔۔۔ پروین نے منہ پھیرا ۔۔۔ پر کیا شکایت کرتیں کسی سے , اس کی بہن جب محبت کے سفر میں اتنا اگے نکل گئیں کہ واپسی کے راستے خود پر حرام کربیٹھی تھی ۔۔۔ پروین خان نے صبر کرلیا تھا اپنی بہن کی موت پر , نوروز کا کہا کوئی لفظ ان کا درد کبھی کم نہیں کرسکتا تھا ۔۔۔ اس لیۓ وہ چپ تھیں ۔۔۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد اکبر خان نے کہا ۔۔۔
“نوروز خان تمہاری معافی اسی صورت ممکن ہے جب تم اپنی بڑی بیٹی کا نکاح پروین کے بیٹے عالم خان سے کرواؤگے ۔۔۔
“باباجان میری بیٹی کم عمر ہے بہت عمر کا فرق ہوگا ۔۔۔ نوروز خان نے تڑپ کر کہا ۔۔۔
“نوروزخان فیصلہ تمہارا ہے کوئی زبردستی نہیں ۔۔۔ اگر اعتراض ہے تو مرنے پر بھی نا آنا مجھے کندھا دینے , تمہاری ماں کو بھی قبر میں اتاردیا ہم نے تمہارے بغیر , میں بھی چلا جاؤں گا پرواہ نہ کرو ۔۔۔ واپس چلے جاؤ وہیں جہاں کے ہوکر رہ گۓ ہو ۔۔۔ پھر کبھی یہاں واپس نہ انا ۔۔۔ ان کا لہجہ سخت تھا ۔۔۔ ان کے فیصلے کا اٹل پن ان کے ہر انداز سے ظاہر تھا ۔۔۔
“ایسا نہ کہیں باباجان , ایک یہی درد کم نہیں ہوتا اپنی ماں کا آخری دیدار نہ کرسکا ۔۔۔ اب یہ درد میری برداش سے باہر ہے ۔۔۔ میری بڑی بیٹی روشانے اپ کی امانت ہے میرے پاس ۔۔۔ یہ وعدہ ہے میرا ۔۔۔ نوروز خان نے شدت جذبات سے کہا ۔۔۔
“نہیں نوروز اب زبان اور وعدوں پر مجھے بھروسا نہیں ہے ۔۔۔ بہتر ہے پہلے نکاح ہوگا بعد میں معافی ملے گی ۔۔۔ اکبر خان کی بےاعتباری کا شدید دکھ جاگا اس کے اندر ۔۔۔
“مجھے منظور ہے باباجان ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔ سبین دیکھتی رہ گئی اپنے شوہر کو ۔۔۔ اس وقت تو کچھ نہ کہا ۔۔۔ پر رات میں بولی ۔۔۔
“آپ غلط کررہے ہیں نوروز , میری معصوم بیٹی کا اتنی سی عمر میں نکاح ۔۔۔ یہ ٹھیک نہیں ۔۔۔ وہ پڑھی لکھی عورت تھیں جہاں سے آئیں تھیں وہاں ایسا کوئی رواج نہ دیکھا تھا انہوں نے ۔۔۔ اس لیۓ تڑپ اٹھی تھی ان کی ممتا اس زیادتی پر ۔۔۔
“سبین تم میرے اور میرے باپ کے بیچ میں نہ آؤ ورنہ اپنے باپ کو راضی کرنے کے لیۓ تم کو چھوڑنا پڑا چھوڑدوں گا ۔۔۔
نوروز خان کے پُرعزم لہجے پر دنگ رہ گئی سبین ۔۔۔ جس شخص کے لیۓ سب کچھ چھوڑا اج وہ اسے بھی قربان کرنے کو تیار ہے ۔۔۔ سبین خان کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی نوروز خان نے اس لمحے ۔۔۔
سبین کو کسی کی کہی بات شدت سے یاد آئی ۔۔۔
“مرد وہ بھی شوہر ہو تو عورت کو سب کچھ دیتا ہے , پر اس کے پاؤں کے نیچے کی زمین ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے ۔۔۔
نوروزخان نے بھی تو یہی کیا تھا اس لمحے ۔۔۔ وہ تڑپ اٹھی تھی سب کچھ چھوڑا جس کے لیۓ , اگر اس نے چھوڑدیا تو کیا رہ جاۓ گا اس کی زندگی میں ۔۔۔ سبین نے کرب سے سوچا ۔۔۔
عورت کسی بھی ملک کی ہو کتنی بھی آزادی کے دعوے کرے پر بیوی مجبور رہتی ہے ہمیشہ اپنے شوہر کے اگے ۔۔۔ وہ بھی ایسا شوہر جو محبوب بھی ہو تو بہت ہی زیادہ مجبور ہوجاتی ہے ۔۔۔
اس دن کے بعد نوروز خان سبین کے لیۓ صرف شوہر ہی رہ گیا تھا محبوب کا احساس کہیں اندر ہی مرگیا تھا ۔۔۔
پھر اگلے دن ہی نکاح ہوا تھا عالم خان اور روشانے کا ۔۔۔ جس کے کاغذ محفوظ کرکے رکھے گۓ سہی وقت کے لیۓ ۔۔ رجسٹرڈ کروانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ لڑکی نا بالغ تھی ۔۔۔
آٹھ سال کا بہت بڑا فرق تھا دونوں میں ۔۔۔ جو گاؤں کے لوگوں کے لیۓ معنی نہیں رکھتا تھا پر کل کو روشانے کے لیۓ مشکل ہوگا اسے ماننا ۔۔۔ سبین اچھی طرح جانتیں تھیں ۔۔۔
کرب سے سبین نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔ ماضی سے حال پہنچ کر انہوں نے سوچا ۔۔۔
“میری بیٹی مجھے معاف کرنا ۔۔۔ کچھ نہ کرسکی تھی نہ کچھ کرپاؤں گی ۔۔۔ صرف دعا ہی کرسکتی ہوں اللہ تم دونوں کو ایک ساتھ خوش رکھے ہمیشہ آمین ۔۔۔
@@@@@@@@@
اپنے فارم ہاؤس کی اسٹڈی میں بیٹھا تھا ۔۔۔ اج کئی دن کے بعد وہ سگریٹ پی کر اپنی فرسٹریشن دور کرنا چاہ رہا تھا جو کسی طرح کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔۔ دل درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔۔ وہ جو سگریٹ چھوڑنے کا سوچ چکا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے سگریٹ کا نشئ ہو جیسے ۔۔۔
“آپ نے مجھے تو سکھایا تھا دادا حضور کہ کبھی اپنے تایاجان کی طرح کسی لڑکی زندگی نہ تباھ کرنا , کسی کا دل نہ توڑنا , میں روشانے کا لباس ہوں اور وہ میرا لباس ہے ۔۔۔ میں روشانے کی امانت ہوں اور روشانے میری امانت ہے ۔۔۔ میں نے اپ کی سکھائی ساری باتوں پر عمل کیا خود کو اس کی امانت سمجھ کر سنبھالے رکھا پھر روشانے نے میری امانت میں خیانت کیوں کی کیوں کی ۔۔۔ آخر کیوں ۔۔.
وہ خود سے چیخ چیخ کر سوال کرہا تھا ۔۔۔۔
“میں نے ہمیشہ اپنے جذبات کو سینچ کر رکھا کبھی کسی لڑکی کی طرف نہیں دیکھا ۔۔۔ میری زندگی کے ہر موڑ پر کئی موقعے آۓ پر میں نے خود کو بچاۓ رکھا پھر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا کیوں , کیوں , کیوں ۔۔۔
چیخ کر اس نے ٹیبل کی ساری چیزیں بکھیر دیں ۔۔۔ جس طرح خود بکھرا تھا ۔۔۔
“ایس پی عالم خان تم ہار گۓ تم ہارگۓ ۔۔۔ تم کبھی سر اٹھاکر چل ہی نہیں سکوگے جس کی بیوی کسی اور سے محبت کرتی ہے کسی اور سے شادی کے خواب دیکھتی رہی ہے ۔۔۔ کیسے سر اٹھا کر چلو گے , کیسے مرد ہو کیسی تمہاری مردانگی تمہارے بستر پر تمہارے پاس ہوکر بھی وہ کسی اور کو تصور کرے گی ۔۔۔ کیسا لگے گا کیا گزرے گی تم پر سوچا ہے کبھی ۔۔۔ تمہارے خالص جذبوں میں اس کی ملاوٹ والے جذبات ہوں گے تو پھر کیسا لگے گا تمہیں ۔۔۔۔
شیشے میں اپنے عکس کی کہی بات نے اسے تڑپا کر رکھ دیا اسی وقت واز اٹھا کر دے مارا اور شیشا چکنا چور ہوگیا ۔۔۔ جس طرح اس کے خواب ہوۓ تھے چکنا چور ۔۔۔
“روشانے تمہاری کوئی معافی نہیں , تم نے میری روح کو گھائل کیا ہے تمہاری کوئی معافی نہیں , کوئی معافی نہیں ۔۔۔ کبھی معافی نہیں ملے گی ۔۔۔
وہ کرب سے چور لہجے میں بولا تھا خود سے ۔۔۔ وہ شدت پسند نہیں تھا پر ایسا لگ رہا تھا بنتا جارہا تھا۔۔۔
@@@@@@@@
“پلیز روشانے اپ بھی چلیں شاپنگ پر ۔۔۔ ربیعہ نے کہا ۔۔۔
“مجھے کچھ نہیں لینا , میں نہیں چل رہی ۔۔۔ روشانے نے سھولت سے منع کیا ۔۔۔
“شان آپی نہیں چلیں گی مجھے بھی منع کرچکی ہیں ۔۔۔ شانزے نے کہا ۔۔۔
“سنا تم لوگوں نے , مجھے پاکستانی شاپنگ کا ایکسپیرینس نہیں ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔
ربیعہ نے مناہل کو اشارہ کیا ۔۔۔
“پلیز آپی چلیں نا ۔۔۔ مناہل نے کہا ۔۔۔ اس کے انسسٹ کرنے پر مانگئی تھی جانے کیوں مناہل اسے اپنی سی لگتی تھی ۔۔۔
“ٹھیک ہے ۔۔۔ روشانے مان گئی ۔۔۔
سب خوش ہوگۓ تھے اس کے یوں ماننے پر ۔۔۔
@@@@@@@@@@
“تمہیں شاپنگ پر جانا چاہیۓ تھا ۔۔۔ باذل خان نے زونی سے کہا ۔۔۔
“میری شاپنگ مکمل ہے کیونکہ عید سے پہلے عالم بھائی کی شاپنگ کرچکے ہیں ۔۔۔ بس شادی کا جوڑا نہیں لیا کیونکہ وہ روشانے کی پسند کا اج ہی لے لیں گے وہ ۔۔۔ زونی نے شمائل کو اٹھاتے ہوۓ بتایا ۔۔۔
“ہمممم کل ہم چلیں گے تاکہ تمہاری اور شمائل کی میں خود شاپنگ کرواؤں ۔۔۔ تم میری پسند کے کپڑے پہنوگی ۔۔۔ باذل نے حکم دیا ۔۔۔ اس کے لہجے میں شدت تھی ۔۔۔
“جی ۔۔۔ جو اپ کا حکم ۔۔۔ زونی نے کہا ۔۔۔
“ایک بات میری یاد رکھنا اگر تمہارے بھائی نے ذرہ بھی تکلیف دی میری بہن کو تو مجھ سے کوئی امید مت رکھنا ۔۔۔ میں روشانے پر ایک آنچ برداش نہیں کرسکتا ۔۔۔ بتادینا اپنے گھر والوں کو ۔۔۔ باذل نے سخت لہجے میں کہا ۔۔۔ انداز وارننگ دینے والا تھا ۔۔۔ وہ بھڑک اٹھی اور سلگ کر بولی ۔۔۔
“باذل یہی بات میرا بھائی بھی اپ سے کہے سکتا ہے ۔۔۔ زونی نے ہمت کرکے کہا ۔۔۔ شمائل کو اس کے کاٹ میں بٹھاکر کھلونے دے کر وہ بولی تھی ۔۔۔ باذل خان ایک دن میں کئیں چیزیں شھر سے لے ایا تھا شمائل کے لیۓ جس میں کاٹ بھی تھا ۔۔۔
“اپنی زبان کو لگام دو ورنہ بہت نقصان اٹھاؤگی ۔۔۔ سمجھی تم ۔۔۔ بہت بولنے لگی ہو ۔۔۔ باذل نے بازو سے دبوچ کر کہا ۔۔۔
“آئندہ جتنی ضرورت ہو اس سے دو لفظ کم ہی بولنا , ورنہ نتیجے کی ذمیدار تم خود ہوگی ۔۔۔ باذل نے سختی سے کہے کر اسے جھٹکا تھا جس سے وہ بیڈ پر گری تھی وہ اس پر بغیر دھیان دیۓ کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔
“بہت برے ہیں آپ , کبھی بدل نہیں سکتے کبھی نہیں ۔۔ زونی روتے ہوۓ خود سے بولی ۔۔۔
@@@@@@@@@
اس وقت روشانے کو شدید جھٹکا لگا جب عالم خان نے ان لوگوں کو جوائن کیا مال میں ۔۔۔
“اس کھڑوس کو کیا ضرورت تھی یہاں آنے کی ۔۔۔ شانزے کے کان میں منمنائی روشانے ۔۔۔
“ان کی شادی ہے مے بی اپنی بیوی کے لیۓ کچھ لینے آۓ ہوں ۔۔۔ شانزے نے کاندھے اچکا کر کہا ۔۔۔
“ویسے اس جلاد نامی شخص کی بیوی کون ہوسکتی ہے , بڑی ہی کوئی بدنصیب ہوگی ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔
“مجھے نہیں پتا شادی کے دن دیکھ لیں گے ۔۔۔ شانزے نے جلدی سے کہا ۔۔۔
مناہل کے انسسٹ کرنے پر روشانے نے اسے کافی ریڈی میٹ ڈرہس پسند کرواۓ ۔۔۔ وہ جو پسند کررہی رہی کڑتیاں وغیرہ وہ سب پیک کے لیۓ جارہے تھے ۔۔۔
“مجھے یقین نہیں ارہا تم نے سب ڈریسز میری پسند کے لیۓ ہیں ۔۔۔ روشانے خود کو روک نہ پائی یہ کہنے سے ۔۔۔
“ہمممم شان آپی ۔۔۔۔ مناہل نے نظریں چرائیں اور کہا تھا ۔۔۔
پھر شادی کا جوڑا لیتے وقت بھی مناہل نے اس کی راۓ کو اہمیت دی ۔۔۔
عالم خان خاموشی سے کھڑا تھا کاؤنٹر کے پاس اس نے ایک غلط نظر ان پر نہ ڈالی ۔۔۔ صرف پیمینٹ ہی کررہا تھا ۔۔۔
وہ کیا بتاتا کسی کو کتنی مشکل سے ضبط کیۓ کھڑا تھا ۔۔۔ روشانے کا حلیہ اسے شرم سے پانی پانی کررہا تھا ۔۔۔ جو ریڈ شرٹ بلیو جینز پہنے ہوۓ تھی کئی مرد مڑ مڑ کر اسے دیکھتے ہوس بھری نظروں سے ۔۔۔ وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرپارہا تھا ۔۔۔
“بس چند دن کی بات ہے ۔۔۔ پھر میری پسند کے حلیۓ میں نظر آؤگی تم اور تمہاری سانسیں بھی میری مرضی سے چلیں گی , مکمل اپنے رنگ میں رنگ دوں گا تمہیں , صرف میرے حصار میں رہوگی تم کسی اور کا نام کبھی تمہاری زبان پر نہیں آۓ گا ۔۔۔ عالم خان نے شدت سے سوچا ۔۔۔
ابھی ایک لڑکا جان بوجھ کر ٹکرا گیا کچھ منٹ گزرے ایک اور ٹکرایا ۔۔۔ عالم خان کی ہمت جواب دے گئی ۔۔۔ وہ بےوقوف ان کے جھوٹ موٹ کے سوری پر اٹس اوکے کہے رہی تھی ۔۔۔
“اندھے ہو دکھائی نہیں دیتا ۔۔۔ عالم خان نے اس لڑکے کو کس کے تھپڑ مارا ۔۔۔ وہ گھبرا گیا روشانے بھی ڈر گئی ۔۔۔ شاپ کی سکیورٹی ائی اور اس لڑکے کو باہر لے گئی ۔۔۔
“اندھی ہو تم سمجھ نہیں رہی , وہ جان بوجھ کر کر رہے ہیں ۔۔۔ اتنی سمجھ تو ہونی چاہیۓ تم میں ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔
“یہاں کے گھٹیا لوگوں کے ڈبل اسٹینڈرڈ واقعی میری سمجھ میں نہیں اتے ۔۔۔ اس سے زیادہ تیز آواز میں بولی تھی وہ ۔۔۔
“اگر نہیں سمجھ اتے تو اپنا حلیہ ہی درست کرلو ۔۔۔ عالم نے غصے سے کہا ۔۔۔
“میں کیوں خود کو بدلوں ان کے لیۓ , ان گھٹیا مردوں کو کوئی کچھ نہیں کہتا جو کہنا ہو صرف عورتوں سے ہی کہا جاتا ہے ۔۔۔ روشانے شدت سے بولی ۔۔۔
“تم سے کچھ کہنا بےکار ہے اج کے بعد تم شاپنگ پر نہیں آؤگی ۔۔۔ عالم خان نے حکم صادر کیا ۔۔۔
“مجھے بھی کوئی شوق نہیں اس گھٹیا جگہ انے کا ۔۔۔ روشانے دوبدو بولی ۔۔۔
وہ پیر پٹختی ہوئی دکان سے نکلی ۔۔۔ وہ اس کا بازو تھامتا اپنے ساتھ لے کر جارہا تھا زبردستی ۔۔۔ وہ خود کو چھڑانے کی کوشش میں ہلکاں تھی ۔۔۔
“عالم خان میرا بازو چھوڑو ۔۔۔ تیز لہجے میں بولی ۔۔۔
“چپ ایک لفظ اور نہیں , گاڑی تک اسی طرح میرے ساتھ چلو ۔۔۔ میں نے کہا سمجھ نہیں ارہا چپ ایک لفظ نہ کہنا ۔۔۔
روشانے شدید مذاحمت کررہی تھی خود کو چھڑانے کی پر اس مضبوط قامت شخص کے سامنے وہ بلکل کمزور سی تھی ۔۔۔
شانزے اور مناہل اس کے پیچھے انے لگیں سر جھکاۓ ۔۔۔
وہ گاڑی تک پہنچا اسے اندر بیٹھا کر , خود کسی ادمی سے بات کررہا تھا ۔۔۔ وہ دیکھتی رہ گئی اس شخص کو ۔۔۔
شدید غصے میں وہ دروازہ کھول کر باہر آئی وہ اس سے کہے رہا تھا ۔۔۔
“ہممم سامان لے کر دوسری گاڑی میں آؤ ۔۔۔
“جی صاحب ۔۔۔ ڈرائیور پلٹ گیا ۔۔۔
“تم کیوں باہر نکلی ۔۔۔ اندر بیٹھو ۔۔۔عالم کے لہجے میں غصہ تھا ۔۔۔
“آپ میں اور اس لڑکے میں کیا فرق رہا ذرہ بتائیں گے ۔۔۔ روشانے نے تیور دکھاکر پوچھا ۔۔
“تمہیں مجھ میں اور اس میں فرق نہیں سمجھ ارہا ۔۔۔ عالم نے حیرت امیز لہجے میں کہا ۔۔۔ اسے یقین نہیں ارہا تھا اس قدر بےوقوف ہوگی وہ ۔۔۔
“نہیں ۔۔۔ دونوں ایک نمبر کے گھٹیا ہو بلکہ اس سے زیادہ اپ ہیں۔۔۔ یہ حال کیا ہے میرے بازو کا تم نے ۔۔۔ روشانے نے تند لہجے میں کہا ۔۔۔ اسے اپنا بازو دکھایا جہاں اس کی انگلیوں کے نشان تھے ۔۔۔
“کوں کتنا گھٹیا ہے یہ وقت انے پر پتا چلتے گا ۔۔۔ آئندہ تم کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔ تم بےشرمی کا اشتہار بن کر بازاروں میں گھومو اور گھٹیا دوسرے کہلائیں ۔۔۔ عالم کے کیۓ طنز نے اس جی بھر کر سلگایا پر سامنے بھی روشانے تھی بولی تو لہجے میں بھرپور طنز تھا ۔۔
“آپ کو میرے حلیۓ سے اتنا پرابلم ہے نا تو مت دیکھا کریں میری طرف , جیسے مجھے اپ سے نفرت ہے اور میں اپ کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی ۔۔۔
“مجبوری ہے ۔۔۔ چلو اندر بیٹھو ۔۔۔ عالم نے بھی طنزیہ کہا ۔۔۔
وہ پیچھے کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی ۔۔۔ کچھ لمحوں وہ دونوں آئیں ۔۔۔ جو اس کے ساتھ پیچھے بیٹھ گئیں ڈر کے مارے ۔۔۔
“روشانے اگے آؤ ۔۔۔ عالم نے حکم دیا ۔۔۔
“میں نہیں آؤں گی سمجھے اپ ۔۔۔ روشانے تیز لہجے میں بولی ۔۔۔
“بھائی میں اجاؤں ۔۔۔ شانزے ہمت کرکے بولی جگھڑا ختم کرنے کے لیۓ ۔۔۔
“ہممممم آجاؤ ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔ روشانے آنکھیں دکھاتی رہی پر شانزے اگنور کرتی اگے بیٹھ گئی ۔۔۔
@@@@@@@
“باذل یہ کیا کہے رہے ہو تم ۔۔۔ ایسا نہیں کرسکتے تم ۔۔۔ نوروز خان حیران تھے ۔۔۔
“وہی جو اپ نے سنا ۔۔۔ میں جارہا ہوں فی الحال , کیونکہ روشانے کا احتجاج مجھ سے برداش نہیں ہوگا ۔۔۔ اس کے اور حنین کے بارے میں , میں سب جانتا ہوں ۔۔۔ اسے امید ہے کوئی ساتھ دے نہ دے میں ضرور دوں گا اور اگر اس نے مجھے دیکھا تو اسے امید ہوگی اس کا بھائی اس کا ساتھ دے گا۔۔۔ اس کی امید توڑنا میرے بس سے باہر ہے ڈیڈ ۔۔۔ باذل کے لہجے میں بےبسی تھی ۔۔۔
“باذل میں جو کررہا ہوں اس کی بقا کے لیۓ کررہا ہوں ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔
“جانتا ہوں ۔۔۔ مجھے یہاں سے جانا ہوگا ڈیڈ ۔۔۔ زونی اور شمائل یہیں ہونگے کچھ وقت میں دونوں کو بلا لوں گا ۔۔۔ چاند رات کو باذل اپنے باپ کو بتارہا تھا وہ کل جارہا ہے ۔۔۔
“ہاں وہ بھاگ رہا تھا بلکل بزدل بن کر , ہاں بھاگ رہا تھا۔۔۔ اندر کی آواز کو دباتا وہ چلاگیا اپنے باپ کے سامنے سے ۔۔۔
@@@@@@@
“آپ کہیں جارہے ہیں ۔۔۔ اسے سامان نکالتا دیکھ کر حیران ہی ہوئی ۔۔۔
“ہاں کل میری لندن واپسی ہے ۔۔۔ باذل نے بتایا ۔۔
“کیا آپ ہمیں چھوڑ کر جارہے ہیں ۔۔۔ زونی نے بےساختہ پوچھا ۔۔۔ اپنی بات پر شرمندہ ہوکر زبان دانتوں میں دبائی ۔۔
“کیوں بھائی کی شادی چھوڑ کر چلوگی میرے ساتھ ۔۔۔ باذل نے پوچھا ۔۔
“اپ اپنی بہن کی شادی چھوڑ کر جارہے ہیں ۔۔۔ زونی دوبدو بولی ۔۔۔
“تم اپنی بات کرو , میرے معاملے میں نہ پڑو ۔۔۔ وہ تھوڑا سختی سے بولا ۔۔۔
“میں اپنے بھائی کی شادی ضرور اٹینڈ کروں گی ۔۔۔ زونی نے کہا ۔۔۔
“ہمممم اچھی بات ہے کرلو پھر میری قید میں انا ہے سمجھی ۔۔۔ باذل نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے نزدیک کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“پلیز باذل ایسی باتیں مجھ سے نہ کریں ۔۔۔ زونی آہستہ سے بولی ۔۔۔
“کچھ غلط کہے رہا ہوں کیا ۔۔۔ اس کی تھوڑی پکڑ کر چہرہ اونچا کرکے پوچھا ۔۔۔
“پلیز باذل ۔۔۔ وہ اس کے ہونٹوں پر جھکا اور اپنی شدتیں لٹانے لگا ۔۔۔ وہ تڑپ کر خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔ کچھ دیر بعد اس کی سانسوں کو بخشہ اس نے ۔۔۔
“مجھے لگتا ہے میرا نام باذل خان نہیں “پلیز باذل” تم نے رکھ لیا ہے ۔۔۔ باذل خان اس کے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرتے ہوۓ بولا معنی خیزی سے ۔۔۔ زونی کی جان لبوں پر اگئی تھی ۔۔۔ اس سے پہلے وہ اور کوئی جسارت کرتا , موبائل پر کال نے اسے متوجہ کیا ۔۔۔ وہ کال رسیوو کرتا باہر چلا گیا ۔۔۔
زونی نے شکر کیا اپنی جان بخشے جانے پر ۔۔۔ اس کے حکم مطابق سامان پیک کرنے لگی اس کا ۔۔
@@@@@@@
عید کے دن سب مردوں نے سفید شلوار قمیص پہنی تھی ۔۔۔ مناہل نے اذان کو بھی سفید شلوار قمیص پہنائی تھی ۔۔۔ بہت خوبصورت لگ رہا تھا وہ ۔۔۔
سبیں کے کہنے پر روشانے نے ست رنگی گھیر والا فراک پہنا تھا ۔۔۔
“مام بہت بھاری ہے ۔۔۔ روشانے گھبرا کر کہا ۔۔۔
“بہت خوبصورت لگ رہی ہے میری بیٹی ۔۔۔ سبین نے اسے پیار کرتے ہوۓ ۔۔۔
“مجھے شرم ارہی ہے ایسا ڈریس پہن کر ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔
“عید پر یہاں ایسے سوٹ پہنے جاتے ہیں ۔۔۔ سبین نے سمجھایا ۔۔۔ اسے کیا بتاتی یہ خاص اس کی ساس نے اس کے لیۓ بنوایا تھا ۔۔۔
سبین خان , پروین خان اور گل خانم نے روایتی پٹھانوں والے سوٹ زیب تن کیۓ تھے ۔۔۔ روایتی پٹھانوں والا زیور سب نے پہنا تھا ۔۔۔
کچھ گاؤں کی عورتوں نے روشانے کو پیار کیا ان کا انداز عجیب لگا پر پشتو زبان میں کہتی وہ اسے حیران کررہی تھی ں ۔۔۔ روشانے حیران اس لیۓ ہورہی تھی نا سمجھنے کے باوجود اتنا اسے سمجھ ارہا تھا وہ اس کی چاچی پروین اور عالم کے ساتھ کچھ جوڑ کر اسے کہے رہی تھیں ۔۔۔
اسی لمحے گزرتی مناہل کو روک کر روشانے نے کہا ۔۔۔ “یہ مجھے اس طرح دیکھ کر کیا باتیں کررہی ہیں تم تو پشتو سمجھتی ہو مجھے بتاؤ ۔۔۔
“ویسے ہی اس لباس کی تعریف کررہی ہوں گی ۔۔۔ مناہل کہے کر جلدی سے جانے لگی ۔۔۔
دن کے کھانے کے بعد باذل سب سے مل کر روانہ ہونے لگا ۔۔۔ کسی نے کچھ نہ پوچھا اس سے ایسا لگ رہا تھا جیسے سب کو معلوم ہو اس کے جانے کی وجہ سواۓ روشانے کے ۔۔۔ کیونکہ وہی ایک تڑپ کر روپڑی بھائی کے گلے لگے اور بس یہی کہتی رہی “مجھے بھی ساتھ لے چلیں ۔۔۔ عید ختم ہوگئی ہے مجھے واپس چلنا ہے , پاپا امی اور شانزے کو رہنے دیں پاکستان , مجھے نہیں رہنا ۔۔۔ باذل کا دل تڑپ اٹھا تھا ۔۔۔
نظر چرا کر اسے تسلی دیتا بوجھل دل کے ساتھ گاڑی میں آبیٹھا آنکھوں پر کالا چشمہ پہن لیا اس نے ۔۔۔
شام کے وقت مناہل کو ہلدی لگانے کی رسم کی گل خانم نے یوں اسے مایوں بٹھایا گیا ۔۔۔
کچھ دیر بعد پروین خان روشانے کی ساس نے اسے بٹھایا اور ہلدی لگانے لگی وہ شاک ہوکر سبین اور شانزے کو دیکھنے لگی ۔۔۔ اسے جھٹکے پر جھٹکے لگ رہے تھے ۔۔۔ وہ جو سوچ رہی تھی کہ کسی سے پوچھے کہ آخر عالم خان کی ہونے والی بیوی کون ہے ۔۔۔ اس کی نوبت ہی نہ آئی پروین کے رسم کرنے پر وہ خودبخود سمجھ گئی ۔۔۔ جو اب اسے پھولوں کا زیور پہنارہی تھی ۔۔۔ بےیقینی کے تاثرات تھے اس کے چہرے پر , اتنی بولڈ ہونے کے باوجود وہ کسی کا ہاتھ نہ جھٹک سکی ۔۔۔ سب اس پر رسم کرنے لگے ۔۔۔ جیسے ہی سب نے سبین کو بلایا کہ وہ اکر رسم کرے وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی اور بھاگتے ہوۓ اپنے کمرے میں اگئی ۔۔۔
سب حیرت سے دیکھنے لگے اسے جاتا ہوا ۔۔۔ سبین نے سب کو مطئمن کرنے کے لیۓ کہا کہ شاید گھبرا گئی ہے اس لیۓ ایسے ریکٹ کرگئی ہے ۔۔۔
جب اچانک کل رات بتایا گل خانم نے کہ وہ مناہل کو عید کی شام ہی مایوں بٹھائیں گی تو پروین خان نے سوچا وہ بھی اپنی بہو کو بٹھائیں گی ۔۔۔ یوں اس طرح اچانک فیصلہ ہوا مایون بٹھانے کا ورنہ پہلے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اج کل کی لڑکیاں لاپرواہ ہوتی ہیں اس لیۓ پرانے وقتوں کی طرح پورا ہفتہ بٹھانے کی ضروت نہیں اس لیۓ سوچا عید کے دوسرے دن , دن میں بٹھائیں گی اور رات کو مہندی کی رسم ہوگی اور اگلے دن نکاح اور رخصتی ۔۔۔
پر گل خانم کے فیصلے کی وجہ سے عید کے دن ہی رسم ہوگئی مایون کی اور نوروز خان اور سبین کو موقعہ ہی نہ ملا روشانے کو اگاھ کرنے کا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
