Rate this Novel
Episode 25
عید اپنوں کے سنگ
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 25
The final truth is over
“بہت غلط کیا تم نے , مجھے تم سے یہ امید نہ تھی روشانے عالم خان ۔۔۔ اتنے دن جو وہ اسے اپنی زندگی کی روشنی کہا کرتا تھا آج وہ پھر سے روشانے ہوگئی تھی ۔۔۔ عالم خان کے لہجے میں ٹوٹنے کی آواز تھی ۔۔۔
وہ ساکت نظروں سے اسے دیکھتی رہی ۔۔۔
“مجھے پہلے دن سے شک تھا کہ تم ایسا کچھ کروگی , ہاں اس دن سے جب تم نے موبائیل لیا تب سے , پر جانتی ہو , نا میں نے تم پر نظر رکھی نا کوئی بازپرس کی تم سے , جانتی ہو کیوں , کیونکہ میں تمہیں اعتماد دے کر تمہارا اعتبار جیتنا چاہتا تھا , مجھے احساس تھا تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے جو تمہیں یوں بے خبر رکھ کر اچانک یہ رشتہ تم پر مسلط کرنا , ریادتی نہیں ہے تو کیا ہے ۔۔۔ وہ حیران ہورہی تھی اس کی باتوں سے ۔۔۔ کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ بولا ۔۔۔
” زیادتی تو میرے ساتھ بھی ہوئی ہے روشانے , مجھے ہر وقت یہ باور کروایا گیا کہ ایک لڑکی تمہارے نکاح میں ہے تمہیں خود کو سنبھال کر رکھنا ہے اس کے لیۓ , جانتی ہو سب یہی کہتے تھے کہ تمہاری شکل اپنے تایاجان سے ملتی ہے پر اس کے جیسے کبھی مت بننا جس نے ایک لڑکی کی زندگی تباھ کردی تھی ۔۔۔ میں نے ہمیشہ خود کو تمہاری امانت سمجھا روشانے , میرے خالص جذبات تمہارے لیۓ تھے پر تم کیا نکلی دیکھو , جب پہلی دفعہ تمہیں دیکھا تو شدید افسوس ہوا تم بلکل ویسی نہیں تھی جیسا ایک لڑکی کو ہونا چاہیۓ پھر تمہارا حلیہ بولنے کا انداز سب خود سر اور بدتمیزی والا تھا تو مجھے بھی تم پر غصہ اگیا اور جو نہیں کرنا چاہیۓ تھا وہ سب کرتا چلا گیا ۔۔۔ پھر جب احساس ہوا باہر ملک میں رہنے والے اکثر لڑکے لڑکیوں کا یہی حال ہے تو میں نے سوچا سختی اور قید سے کسی کے اندر آپ محبت پیدا نہیں کرسکتے بلکہ یہ عمل تو انسان کو باغی کرتا ہے , اسی لیۓ میں نے سوچا تم پر سختی کے بجاۓ پیار محبت اور اعتبار دوں پر روشانے تم نے تو میرے اعتبار کی دھجیان اڑادیں ۔۔۔کیوں کیا ایسا تم نے ۔۔۔ کیوں ۔۔۔
وہ شدت سے پوچھنے لگا ۔۔۔
“عالم ممم ۔۔۔۔ اس نے لب کھولے پر کچھ کہے نہ سکی ۔۔۔ روشانے کے آنسو بہتے چلے گۓ اس کی باتیں سن کر ۔۔۔
کتنے خاموش لمحے گزر گۓ دونوں کے بیچ ٹھنڈی ہواؤں نے روشانے کو کپکپانے پر مجبور کردیا ۔۔۔
عالم خان بےبسی سے سرجھکاۓ ہوۓ دوزانو بیٹھا تھا , اس مغرور شخص کا یہ انداز روشانے کو دکھی کرگیا , سر اسے جھکانا چاہیۓ تھا نا کہ عالم کو ۔۔۔ وہ ایسی تو نہیں تھی کسی کا دل دکھانا اسے کہاں پسند تھا ۔۔۔
آج تک خود کو قابلِ رحم سمجھتی تھی کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ان چاہے شخص کے ساتھ اسے باندھا گیا اور مجبور کیا جارہا تھا اس رشتے کو نبھانے پر , پر جانے کیوں اج عالم خان کی باتیں سن کر خود سے زیادہ وہ اسے قابلِ رحم لگا زیادتی تو عالم خان کے ساتھ بھی ہوئی ہے ۔۔۔ وہ تو چاہے جانے قابل شخص کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ہونے کی صلاحیت رکھتا تھا پھر اس کے ساتھ یہ کیوں ہوا ۔۔۔ روشانے کے اندر شدید درد جاگا عالم خان کے لیۓ ۔۔۔
وہ قدم قدم بڑھاتی اس کے روبرو آئی دوزانو بیٹھی اس کے سامنے وہ جو سر جھکاۓ ہوۓ تھا اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جس پر عالم خان نے چونک کر جھکا سر اٹھایا ۔۔۔
“آئی ایم سوری عالم , مجھ سے غلطی ہوئی , میں چاہ کر بھی حنین کو نہیں بھول سکی جیسے موقع ملا میں نے اس سے رابطے بحال کرلیۓ پر مجھے جو سزا دینا چاہیں دیں پر حنین کو کچھ نہ کریں پلیز , اسے کچھ نہیں ہونا چاہیۓ ۔۔۔
وہ کہنے پر آئی کہتی چلی گئی ۔۔۔
“جانتی ہو , یہ تو میں جانتا تھا تم اس سے رابطے میں ہو پر تم اس سے مل کر مجھے دھوکا دینے کا منصوبہ بنارہی ہو یہ سوچا نہ تھا , بھلا ہو باذل کا جس نے تمہیں اور حنین کو ملتے دیکھ لیا تھا اور مجھے بتادیا ۔۔۔
وہ شاک ہی ہوئی تھی عالم خان کی بات سن کر ۔۔۔ باذل خان کا نام اسے حیران کرگیا ۔۔۔
“آپ جانتے تھے پھر بھی مجھے کچھ نہیں کہا , کیوں ۔۔۔ وہ حیرت زدہ لہجے میں بولی ۔۔۔
“کیا مشکل تھا میرے لیۓ تمہیں روکنا قید کرلیتا تمہیں , زندگی کا دائرہ تنگ کرکے زبردستی ازدواجی تعلق قائم کرکے تمہارے پاؤں میں اولاد کی زنجیر باندھ لیتا , کیا کرلیتی تم , کیابگاڑ لیتی میرا , بتاؤ کچھ کرسکتی تھی اگر میں یہ سب کرتا تو تم میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتی تھی , ایسے روک کر تمہیں , مجھے کیا ملتا سواۓ مردانہ غیرت اور انا کی تسکین کے , خالی کھولی تمہارے جسم کے , روح کا تعلق بنانا تھا زبردستی جسمانی نہیں , کچھ بھی حاصل نہ ہوتا مجھے روشانے عالم خان کچھ بھی حاصل نہ ہوتا ۔۔۔ بات غیرت اور انا سے بہت اگے جاچکی تھی بات محبت کی تھی جس میں انا اور غیرت کچھ نہیں رہتی , مجھے تمہارے جسم کی کبھی طلب ہی نہیں رہی تھی ورنہ تم کونسا میری پہنچ سے دور تھی روشانے ۔۔۔۔ وہ کہنے پر آیا سب کہتا چلا گیا ۔۔۔
وہ اسے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔ روشانے اج سہی معنوں میں لاجواب ہوگئی تھی ۔۔۔
@@@@@@@@@@@@
دائم اور دانیال کے لیۓ چھوٹی حویلی میں کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا بڑی حویلی والوں کو بھی بلا لیا گیا تھا ۔۔۔
دانیال نے داداحضور اور پھپھو سے معافی مانگی جس پر سب نے اسے دل سے معاف کردیا ۔۔۔ اپنے تایاجان , تائی اور شانزے سے اتنے وقت کے بعد مل کر وہ بےانتہا خوش ہوا ۔۔۔ نوروز خان بھی خوش ہوۓ اپنے بھتیجے سے مل کے ۔۔۔
دانیال کے انے کی خوشی میں دوسرے گاؤں کے سردار جو اس کے ماموں تھے وہ اپنی فیملی کے ساتھ ملنے آۓ ہوۓ تھے سحر نہیں آئی تھی کیونکہ اس کی شادی تھی جبکہ سعدیہ آئی تھی ۔۔۔ آج اس کا انداز ہی نرالا تھا بہت خوبصورت سے کیا گیا میک اپ اس کے دو آتشہ حسن کو چار چاند لگا رہا تھا اس پر بلیک ڈریس اس کی سفید رنگت پر خوب جچ رہا تھا ۔۔۔
وہ دانیال سے سلام دعا کے بعد اس کا حال احوال پوچھ رہی تھی تو وہ بھی سکون سے جواب دے رہا تھا اپنی کزن کو ۔۔۔ سعدیہ نے ایک ادا سے اپنے بال جھٹکے اور اس کے پیچھے دیکھنے لگی ۔۔۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو میرے پیچھے ۔۔۔ دانیال نے اچنبھے سے پوچھا ۔۔۔
“دیکھ رہی ہوں آسٹریلیا سے کوئی گوری لاۓ ہو ساتھ یا نہیں ۔۔۔ یا وہیں چھوڑ آۓ ہو اسے اگلے بار لے آؤ گے ۔۔۔ سعدیہ نے مزے سے کہا ۔۔۔ دانیال کو سمجھ نہ ایا وہ مذاق کررہی ہے یا طنز ۔۔۔
“کیوں لانی تھی کیا ۔۔۔ دانیال نے مذاحیہ انداز میں کہا ۔۔۔
“ہاں مجھے لگا مناہل جیسی کالا ماتا سے بچنے کے لیۓ وہاں شادی کرچکے ہو تبھی تو اس کی شادی دائم ۔۔۔ اب کے اس کے طنزیہ انداز پر ضبط کرتا وہ اس کی بات کاٹ کر بولا ۔۔۔
“ایک منٹ اگر یہ تم ہمارے بچپن والے مذاق کا حوالہ دے کر کہے رہی ہو تبھی بھی یہ انتہائی گھٹیا مذاق ہے اور تمہیں کوئی حق نہیں مناہل کا مذاق اڑانے کا دوسری بات اگر یہ تم سیریسلی کہے رہی ہو تو ایک بار ہی میں یہ بات سمجھ لو کہ مناہل کو دائم بھائی کے لیۓ گھر والوں نے انتخاب کیا ہے جو آذان کی وجہ سے کرنا پڑا , مناہل کا اصل حسن اس کا خوبصورت اور حساس دل ہے ورنہ خوبصورت چہرے کے ساتھ بدصورت دل اور بدزبان بہت دیکھی ہیں میں نے ایک زندہ مثال تو تم کھڑی ہو میرے سامنے ۔۔۔۔ دانیال بولنے پر آیا تو سرد انداز میں جو منہ میں آیا کہتا چلا گیا ۔۔۔
“دانیال اس کے لیۓ تم مجھے سنارہے ہو اتنی باتیں ۔۔۔ سعدیہ نے شاک لہجے میں پوچھا ۔۔۔ اسے امید نہ تھی دانیال اس طرح اس کی ذات کے پرخچے اڑاۓ گا ۔۔۔ یہ کام تو وہ ہمیشہ کرتی آئی تھی مناہل کے ساتھ , جس کا مذاق اڑانا اور جس تماشہ لگانا سعدیہ کو خوب اتا تھا ۔۔۔ آج اپنی بےعزتی پر چہرہ سرخ پڑیا تھا غصے سے ۔۔۔
“ہاں تمہیں ہی سنارہا ہوں , کیوں کوئی اور نظر ارہی ہے کیا جسے سناؤں ۔۔۔ آئندہ اس لہجے میں مناہل کا ذکر نہ سنوں تمہارے منہ سے سمجھی ورنہ اس سے بھی زیادہ بدلحاظ مجھے پاؤ گی تم ۔۔۔۔ دانیال کے سخت اور دوٹوک لہجے پر وہ اسے دیکھتی رہ گئہ جبکہ دانیال جاکر عمر کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔
اتنا غصہ اسے ارہا تھا کہ ایک نوالہ بھی وہ کھا نہ سکی ۔۔۔
جب گل خانم اسے کھانے کے لیۓ انسسٹ کررہی تھی اس لمحے اچانک اکر دانیال نے کہا ۔۔۔
“رہنے دیں امان جان اج اس نے میری باتوں سے پیٹ بھرلیا ہے اس لیۓ اب اس سے نہیں کھایا جاۓ گا ۔۔۔
وہ چہرے پر طنزیہ تاثرات لیۓ بولا تھا جبکہ سعدیہ پاؤں پختی ہوئی رفوچکر ہوگئی ۔۔۔
@@@@@@@@
دروازہ پر ناک ہوا تو دانیال نے کہا “یسسس ۔۔۔
مناہل کافی کا کپ رکھ کر جانے لگی اور کہا ۔۔۔ “مامی جان نے بھیجی ہے ۔۔۔
“تھینکس مناہل ۔۔۔ دانیال نے نرم انداز میں کہا ۔۔۔
“رکو مناہل دو منٹ میری بات سنو ۔۔۔ دانیال نے کہا ۔۔
وہ پلٹ کر بولی ۔۔۔
“ہممممم کہیں ۔۔۔
“سوری , سب کو لگتا ہے آۓ ہرٹ یو ۔۔۔ دانیال نے کہا ۔۔۔ “
سب کو کس کو دانیال ۔۔۔ وہ تند لہجے میں بولی ۔۔۔
“آۓ مین مجھے بھی ایسا لگتا ہے ۔۔۔ دانیال نے گڑبڑا کر کہا ۔۔۔
“اور جہان تک میں تمہیں جانتی ہوں تمہیں ایسا بلکل نہیں لگتا کہ تم نے کچھ غلط کیا ہے تو پھر دوسروں کے کہنے اور سوچنے کے مطابق مجھ سے معاف مانگنے ضرورت نہیں ۔۔۔ مناہل نے طنزیہ انداز میں کہا ۔۔۔
“تو کیا تم مجھ سے ناراض نہیں ۔۔۔ دانیال نے پوچھا ۔۔۔
“کون ہو تم , اتنے خاص نہیں , جس سے ناراض ہوں میں , اتنا قابل ابھی تم بنے ہی نہیں سمجھے ۔۔۔ مناہل کے لب و لہجے پر وہ اشششش کر اٹھا ۔۔۔
“اف مناہل خان یو آرر سو روڈ ۔۔۔۔ دانیال نے کہا چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہونے لگی جسے چھپاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
“تو کیا مجھے نہیں ہونا چاہیۓ , جب یہ ڈیسائیڈیڈ تھا ہم دونوں شادی بلکل نہیں کریں گے تو اس دن فون پر کیا ڈرامہ کیا تھا تم نے سارے خاندان کے بڑوں کے سامنے , شکر کرو وہیں تمہارا پول نہیں کھولا کہ یہ ساری باتیں تمہاری اپنی من گھڑت ہیں ۔۔۔ سب کے سامنے مجھے مجرم بنادیا , سچ میں اتنا غصہ آیا مجھے , سامنے ہوتے منہ توڑ دیتی تمہارا , کیا بکواس کرتے رہے ۔۔۔ وہ کشن اٹھاکر اس پر پھینکتی ہوئی بولی دل تو چاہتا ہے گرم کافی تمہارے منہ پر پھینک کر تمہیں سیدھا کرتی ۔۔۔
“ہاں جیسے کالی ماتا کہنے پر تم نے چیری بلاسم پالیش لگائی تھی تم نے ۔۔۔ میرا اتنا نرم مذاج بھائی بھی تمہیں ذرہ نرم نہ کرسکا ابھی بھی وہی کھڑوس ہو تم مناہل خان ۔۔۔ دانیال نے کہا ۔۔۔
“اچھا بکواس بند کرو میں جارہی ہوں آذان کو سلانے کل بات ہوگی تم سے ۔۔۔ مناہل اتنا کہے کر جانے لگی ۔۔۔
“رکو تو دو منٹ بیٹھ جاؤ , کچھ میرے دکھ درد سن لو پلیز ۔۔۔۔ دانیال نے کہا منہ لٹکا کر ۔۔۔
“پلیز مجھ سے نہیں سنا جاۓ گا زونی نامہ ابھی اس وقت , کل صبح سنانا ۔۔۔۔ مناہل اتنا کہے کر واقعی باہر چلی گئی ۔۔۔ پھر دروازے پر روک گیا اسے ۔۔۔
“اچھا رکو مناہل سوری اس دن کے لیۓ جو فون پر سب کے بیچ کہا ۔۔۔ دانیال نے یاد انے پر کہا ۔۔۔
“اٹس اوکے چھوڑو جو ہوا سو ہوا ۔۔۔ ویسے بھی مگنی کے وقت بھی صاف میں نے تمہیں کہے دیا تھا کسی اور کی محبت میں گرفتار شخص میری چوائس نہیں ہوسکتا دانیال خان ۔۔۔ گھروالوں کی وجہ سے ہمیں ماننا پڑا تھا ۔۔۔ مناہل نے صاف گوئی سے کہا ۔۔۔
“ہممممم مجھے یاد ہے سب ۔۔۔ اب پلیز زیادہ تیور نہ دکھاؤ سمجھی ۔۔۔ دانیال خان نے کہا ۔۔۔ وہ چلی گئی سکون سے اور وہ اسے جاتا دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
@@@@@@@@@@
سحر کی شادی کے سب اوکیشن کے لیۓ دائم نے خود شاپنگ کی تھی ڈریسز کے ساتھ اس کی میچنگ چوڑیان اور سینڈل بھی ۔۔۔ وہ واقعی حیران ہوئی سب دیکھ کر ۔۔۔
“پلیز یہی کپڑے پہننا ۔۔۔ دائم نے ریکیوسٹ کی ۔۔۔
“ہمممم ۔۔۔ وہ دیکھتے ہوۓ بولی ۔۔۔ دائم کو پتا نہیں چل رہا تھا کہ اسے پسند بھی آۓ یا نہیں , وہ بغیر چون چران کے مان گئی , حیران کن تھا دائم کے لیۓ ۔۔۔
مایوں اور مہندی کی رسومات خیر اور عافیت سے گزرگئیں ۔۔۔ آج شادی کے دن آذان کو شیروانی پہناتے وقت اس کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی ۔۔۔
دائم کو یاد تھا مال میں بھی کس قدر خوش تھی شیروانی لیتے وقت پھر پھپھو اور امان جان کو دکھاتے وقت بھی بہت ایکسائیٹیڈ تھی ۔۔۔
دائم نے خاص کر مناہل کے لیۓ بلیک گولڈن ڈریس لیا تھا شادی کے دن کے لیۓ تاکہ آج اس کی آذان اور مناہل کی میچنگ لگے ڈریسنگ ۔۔۔
جب وہ تینوں ریڈی ہوکر باہر نکلے دانیال نے کہا ۔۔۔ “واؤ میچنگ میچنگ زبردست بھائی ۔۔۔
“شکریہ ۔۔۔ دائم نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
“او میڈم تعریف پر شکریہ کہتے ہیں ۔۔۔ دانیال نے مناہل سے کہا ۔۔۔
“اچھا ضروری تو نہیں ۔۔۔ مناہل نے آنکھیں گھمائی اور اگے بڑھ گئی ۔۔۔
دائم مسکرایا دونوں کی ازلی نوک جھونک عروج پر تھی ۔۔۔ دل میں جو تھوڑی بہت فکریں تھیں دائم کے وہ سب دور ہوچکیں تھیں مناہل کے نارمل بہیور دانیال کے ساتھ کی وجہ سے ۔۔۔ ورنہ اسے ڈر تھا وہ کہیں مناہل کو دانیال کا یہاں ہونا ناگوار نہ گزرے , پر ایسا کچھ نہ ہوا , وہ مطئمن تھا اب ۔۔۔
“کھڑوس کہیں کی ۔۔۔ دانیال نے پیچھے سے کہا ۔۔۔
وہ آذان کو اٹھاۓ باہر نکلی جو مسلسل ریں ریں کررہا تھا ۔۔۔
“کیا ہوا میری جان ۔۔۔ وہ اس کے منہ سے دودھ کی بوتل لگاتے ہوۓ بولی ۔۔۔ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی جبکہ دائم اور دانیال اگے بیٹھے تھے ۔۔۔ کچھ دیر کے بعد آذان دوبارہ رونا شروع ہوا ۔۔۔
“کیا ہوا ہے اسے ۔۔۔ دائم نے پوچھا ۔۔۔
“پتا نہیں ۔۔۔ مناہل نے کہا ۔۔۔
شادی پر بھی مسلسل روکر آذان سب کی نظروں کا مرکز رہا ۔۔۔ مناہل کی ساری خوشی ختم ہوگئی اس لی جگہ فت نے لے لی ۔۔۔
کافی دیر بعد دائم بولا ۔۔۔ “میرا خیال ہے اسے شیروانی تکلیف دے رہی ہے ۔۔۔ چینج کرو اسے ۔۔۔
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے بچے رش کی وجہ سے اریٹیٹ ہوتے ہیں مناہل نے کہا ۔۔۔
کچھ دیر اور گزرنے کے بعد دائم بولا ۔۔۔ “مناہل گھر سے یہ مسلسل رورہا ہے پلیز چینیج کرواؤ یہ ۔۔۔
“پر دائم ۔۔۔
“مناہل سمجھ نہیں ارہا آذان کو چینج کرواؤ ابھی کے ابھی ۔۔۔ بلکہ میں خود لاتا ہوں اس کے کپڑے ۔۔۔
“دائم تم رہنے دو جو مناہل کو ٹھیک لگے کرنے دو ۔۔۔ گل خانم نے جلدی سے کہا ۔۔۔ وہ مناہل کے احساسات سمجھ رہیں تھیں آذان کے لیۓ , اسے برا لگنا تھا یہ سب ۔۔۔ پر دائم کی نظر صرف اپنے بیٹے پر تھی جو مسلسل روۓ جارہا تھا ۔۔۔
اس کے بیگ سے لائیٹ شرٹ اور نیکر نکال کر مناہل کو تھمائی اور بولا ۔۔۔
“چینج کرو ابھی کے ابھی ۔۔۔ دائم کے دوٹوک انداز پر وہ کپڑے بدلنے لگی آذان کے , پر مناہل کا دل تھا کہ مسلسل خون کے آنسو رورہا تھا ۔۔۔
وہ آذان کو اسے تھماکر خود باہر چلی گئی پنڈال کی طرف ۔۔۔ پھر دائم ہی اسے اٹھاۓ ہوۓ تھا جبکہ مناہل نے ایک دفعہ بھی آذان کی خبر نہ لی دائم سے ۔۔۔
@@@@@@@@@@
“کیا بات ہے مناہل جو تم مجھے اور آذان کو شادی میں یوں اگنور کررہی تھی , ایون کپلز کے فوٹو کے وقت بھی نہیں آئی تم اسٹیج پر ۔۔۔ رات کو واپس انے کے بعد دائم نے شکوہ کیا مناہل سے بیڈروم میں ۔۔۔
“میں کوں ہوتی ہوں جو آتی اسٹیج پر آپ کے اور آذان کے ساتھ ۔۔۔ مناہل نے سرد لہجے میں پوچھا ۔۔۔
“کیا بکواس کررہی ہو ۔۔۔ دائم نے غصے سے پوچھا ۔۔۔
“وہی جو آپ سن رہے ہیں ۔۔۔ مناہل نے کہا سینے پر دونوں بازو بامدھتے ہوۓ ۔۔۔
“بیٹھے بٹھاۓ کیا ہوجاتا ہے تمہیں مناہل , کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے تم کون ہو میری اور آذان کی , کیا اہمیت ہے تمہاری ۔۔۔ دائم نے ضبط کرتے ہوۓ نرم لہجے میں کہا ۔۔۔
” میری جو اہمیت ہے وہ آج میں نے دیکھ لی ہے آپ کو بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ مناہل نے دوٹوک لہجے میں کہا ۔۔ وہ منہ پھیر گئی ۔۔۔
“کیا مطلب ہے اس بات کا مناہل ۔۔۔ وہ اس کا بازو تھام کر اپنی طرف رخ کرتا پوچھنے لگا ۔۔۔
“اگر واقعی میں , میں آذان کی سگی ماں ہوتی تو کبھی اس طرح نہ کرتے آپ میرے ساتھ جو آج آپ نے کیا میرے ساتھ ۔۔۔ مناہل نہ چاہتے ہوۓ بھی اس سے شکوہ کر بیٹھی ۔۔۔
“کیا واقعی تم کو لگتا میں ایسا سوچ سکتا ہوں ۔۔۔
“ہاں آپ سب سوچ سکتے ہیں ۔۔۔ مجھ جیسی معمولی نین و نقوش لڑکی کی کیا اہمیت ہوسکتی آپ کی نظر میں سب سمجھتی ہوں میں ۔۔۔
وہ دنگ رہ گیا اس کی سوچ پر ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
