Rate this Novel
Episode 22
عید اپنوں کے سنگ
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 22
The Final truth …. part 1
تیرے کوچے سے ہم
یوں شکستہ قدم بےحال نکلے
جیسے کسی زندہ شخص کے
اندر سے روح نکلی ہو جیسے
وہ گھر سے باہر نکلی بمشکل چند قدم ہی چل سکی , سامنے میسیکا کھڑی تھی ۔۔۔
“زری آر یو اوکے ۔۔۔ وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے بولی تھی , یہی لمحہ تھا کسی اپنے کا سہارا ملتے ہی وہ اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔۔۔ وہ اس کی پینٹھ تھپتھپاتی رہی اسے تسلی دینے کو ۔۔۔ زونی اپنا سارا وزن اس پر چھوڑا ہوا تھا کچھ دیر بعد میسیکا کو کچھ عجیب محسوس ہوا اس نے جیسے ہی خود سے جدا کیا زونی کو وہ اس کی باہوں میں جھول گئی ۔۔۔
وہ ہسپتال کی کوریڈور میں کھڑی نوروز خان سے بات کرتی سب بتارہی تھی جو کچھ اس نے دیکھا اور سمجھا تھا ۔۔۔
“میں پہنچ رہا ہوں دو دن کے اندر ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔
“انکل کیا میں باذل کو بتاؤں زری کے بارے میں ۔۔۔ میسیکا نے انگلش لہجے میں انکل سے پوچھا ۔۔۔ میسیکا اور باذل کے فیملی ٹرمس تھے آپس میں اس لیۓ وہ جانتی تھی باذل کو ۔۔۔ وہ اکثر زونی کی خبر لیتا رہتا تھا اس سے ۔۔۔
“کوئی ضرورت نہیں , میں خود یہاں اکر اس سے پوچھوں گا ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔
“فی الحال تمہارے اکاؤنٹ میں میں بھیجتا ہوں کچھ اماؤنٹ ۔۔۔ ہاسپیٹل کے ایکسپینسس کے لیۓ ۔۔۔ انہوں نے انگلش میں اس سے کہا ۔۔۔
“انکل پلیز یہاں اکر یہ سب کرلیجیئے گا آپ بس آنے کی کریں ۔۔۔ میسیکا نے فکر سے کہا ۔۔۔
یوں کچھ دیر کے بعد کال ڈسکینکٹ کرکے وہ ویٹنگ ایریا میں بیٹھ گئی سر میں شدید درد محسوس ہورہا تھا پر ہر چیز پر دوست کی فکر غالب تھی ۔۔۔
“تم نے اچھا نہیں کیا باذل خان زری کے ساتھ ۔۔۔ وہ انگلش ٹون میں کہتی خود سے بولی زیرلب ۔۔۔
اسی لمحے میسیکا کے نمبر پر باذل کی کال آئی ۔۔۔ جسے وہ اٹھاگئی نہ چاہتے ہوۓ بھی ۔۔۔
“کہاں ہے وہ , ابھی تک ہاسٹل نہیں پہنچی ۔۔۔ باذل نے انگلش میں پوچھا ڈائیریکٹ ۔۔۔
“ڈونٹ ڈیئر ٹو کال می اگین مسٹر باذل ۔۔۔ زری کانٹ نیڈ یور کنسرنڈ ۔۔۔ اوکے ۔۔۔ ڈونٹ وری اباؤٹ ہر ۔۔۔ ( پھر کبھی ہمت مت کرنا مجھے کال کرنے کی مسٹر باذل , زری کو تمہاری ضرورت نہیں سمجھے , اس کی فکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں) ۔۔۔ وہ دوٹوک کہے کر کال کاٹ گئی ۔۔۔
@@@@@@@@@
وہ بےانتہا اج خوش تھی کیونکہ اگزامز سے فارغ ہونے کی خوشی جو تھی ۔۔۔ وہ گاڑی میں بیٹھی مسکرارہی تھی , دائم نے پہلی دفعہ اسے یوں کھل کے مسکرا کر دیکھا تھا وہ بھی آذان کی غیر موجودگی میں ورنہ اس کی ہنسی کی وجہ صرف آذان رہتا تھا ۔۔۔ مناہل انتہا کی سنجیدہ طبیت کی مالک تھی کم ہی مسکراتی تھی ۔۔۔
“بہت خوش ہو ۔۔۔ دائم نے نرم لہجے میں کہا ۔۔۔
“ہاں بہت … اگزامز سے فارغ جو ہوگئی ہوں ۔۔۔ ویسے آج آپ بھی بہت خوش ہوں گے ۔۔۔ مناہل نے اپنی خوشی کے ساتھ اس کی خوشی جوڑ کر کہا تو دائم بےساختہ بولا ۔۔۔
“وہ کیوں بھلا ۔۔۔ دائم نے حیرت سے پوچھا
” آپ بھی تو بیزار ہو گۓ ہوں گے روز کا یہ شہر اور گاؤں کے چکر لگانا میری وجہ سے ۔۔۔ اسی لیے کہہ رہی ہوں اب آپ بھی مصیبت سے فارغ ہوگئے ہیں تو آپ بھی خوش ہونگے ۔۔۔ مناہل نے سادگی سے کہا ۔۔۔
“اب ایسی بھی بات نہیں ہے تم کوئی مصیبت نہیں ہو میرے لیئے بلکہ میری ذمہ داری ہو جسے میں دل سے نبھا رہا ہوں ۔۔۔ دائم کو برا لگا اس کا یوں خود کے لیۓ کہنا ۔۔۔
“جانتی ہوں وہ تو نبھائیں گے آپ , کیونکہ آپ کو لگتا ہے کہ شاید اذان کو سنبھال کر میں آپ پہ کوئی احسان کر رہی ہوں , اس لیۓ ۔۔۔۔ پر یہ بات اپنے دل سے نکال دیں آپ ۔۔۔ اذان میری ذمہ داری ہے جسے نبھاکر میرے دل اور روح کو سکون ملتا ہے , نہ کہ آپ پر کوئی احسان کررہی ہوں , میری جگہ ایمن آپی ہوتیں تو وہ بھی یہی سب کرتیں میری اولاد کے لیۓ ۔۔۔ اس لیۓ میرے لیۓ آپ کو احساس دکھانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ مناہل نے شروع میں نرم آخر میں تند لہجے میں بولی تھی ۔۔۔
“مناہل تم میری ہر بات کو غلط رنگ کیوں دیتی ہو , کبھی تو میری کوئی بات کو مثبت انداز میں بھی تو لے لیا کرو ہمیشہ غلط اندازے لگاتی ہو ۔۔۔ دائم کو شدید رنج پہنچا تھا اس کی باتوں سے ۔۔۔
“میں اپنی حیثیت اچھی طرح جانتی ہوں اسی لیے کسی کی باتوں سے خوش فہم نہیں ہوا کرتی ۔۔۔ مناہل کے یاسیت بھرے لہجے پر دائم کو شدید افسوس ہوا اس کی بات سن کر ہمیشہ کی طرح وہ چپ ہوگیا ۔۔۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولی ۔۔۔
“یہ ہم کہاں جارہے ہیں , ہمیں گاؤں جانا ہے نہ ۔۔۔ شہر کی طرف جاتا راستہ دیکھ لر وہ پوچھ بیٹھی ۔۔۔
“ہم شاپنگ کرنے جارہے ہیں آذان اور تمہاری , سحر کی شادی جو ہے نیکسٹ ویک ۔۔۔ دائم نے اسے یاد کروایا ۔۔۔
“اوہ میرے ذہن سے نکل گیا ۔۔۔ بس آذان کی کرلیتے ہیں , میری پاس بہت کپڑے پڑے ہیں ۔۔۔ مناہل نے پہلی دفعہ اپنی بات اسے بتائی ورنہ وہ اپنے بارے میں کم ہی بولا کرتی تھی زیادہ سے زیادہ آذان کے متعلق دونوں کے بیچ بات ہوا کرتی تھی ۔۔۔
“آذان اور تمہاری دونوں کی کریں گے اور پھر لنچ کرکے , شام کو نکلیں گے گاؤں کے لیۓ ۔۔۔ دائم نے اسے بتایا اپنا پروگرام ۔۔۔
“نہیں بہت لیٹ ہوجاۓ گی ۔۔۔ آذان مجھے یاد کررہا ہوگا ۔۔۔ اس کے چہرے پر فکر کے تاثرات تھے ۔۔۔
“ایک ہفتہ رہ گیا ہے شادی میں اور ہمیں بھرپور شرکت کرنی ہے مناہل ۔۔۔ کل سے روزانہ تمہیں دوسری گاؤں جانا ہوگا کیونکہ ماموں جان کا یہ حکم ہے جسے ہمیں ماننا ہے ۔۔۔ دائم نے اسے ایک اور اپنا پروگرام بتایا ۔۔۔
“روزانہ ۔۔۔ اس نے منہ بنایا بیزار سا ۔۔۔
“جی روزانہ آپ اور آذان چلیں گے میرے ساتھ ۔۔۔ باقی گھر والے تو مین ایوینٹس میں آئیں گے ۔۔۔ اماں تو آج رات کو روانہ ہوجائیں گی دوسرے گاؤں بسس انہیں ہمارے آنے کا انتظار ہے ۔۔۔
دائم نے اسے پورا پروگرام بتایا تفصیل سے جسے سن کر وہ برے برے منہ بناتی رہی ۔۔۔۔
وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اسے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا کم ہی پسند ہے اس کی جان جاتی تھی لوگوں کو فیس کرنے میں ۔۔۔
مناہل بلکل چپ ہوگئی تھی یہ سب سن کر , عجیب عجیب خیالات ارہے تھے اس کے من میں , دائم کے ساتھ شرکت کرنا اسے بےچین کررہا تھا ۔۔۔
“یا خدا اتنے خوبصورت مرد کے ساتھ کھڑی کیا میں اچھی لگوں گی , پلیز اللہ مجھے اس لمحے سے بچالو , مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے ۔۔۔ وہ خود سے اندر ہی اندر اللہ سے دعا مانگتی رہی ۔۔۔ بےانتہا کمپلیکس جاگے اس کے اندر ۔۔۔
“ایمن آپی کاش آپ زندہ ہوتیں , ایک آپ ہی تھیں جو میرے اندر کے غم اور تکلیف کو سمجھتی تھیں ۔۔۔ لوگوں کے عجیب و غریب تاثرات جو مجھے دیکھ کر وہ اظہار کرتے تھے آپ ان زخمون پر مرہم رکھا کرتیں تھیں , لوگوں کو جواب دیتی تھیں میرے لیۓ لڑتی تھیں , دیکھیں اب کوئی نہیں میرا آپ ہی میرا بھائی اور میری بہن ہوا کرتیں تھیں , آپ کے جانے سے میں بلکل تنہا اور اکیلی ہوگئی ہوں ۔۔۔ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی بلکل نہیں رہ سکتی ۔۔۔
وہ بے آواز روتی رہی دوسری طرف منہ کرکے ۔۔۔ ساری خوشی ملیا میٹ ہوگئی تھی ۔۔۔
@@@@@@@@@
(ماضی)
وہ ستارہ کبھی نہیں چمکا
جو مری روشنی کا ضامن تھا
پورے چوبیس گھنٹوں بعد اسے ہوش آیا , صرف میسیکا کو سامنے پاکر اس نے کچھ بولنے کی کوشش کی , ایک بار پھر اذیت محسوس کی پھر وہی سب یاد ایا , وہ تڑپنے لگی اس کی یہ حالت دیکھ کر نرس نے ڈاکٹر کو بلایا اور کچھ ہی دیر میں دوبارہ آرام کا انجشکن لگا کر اسے سلادیا ۔۔۔
اگلے دن جب وہ ہوش میں آئی نوروز خان کو پاکر ان کے ہاتھ تھام کر روپڑی ۔۔۔ آج اس کی کنڈیشن کل سے بہتر تھی آج اسے صبر اگیا تھا ۔۔۔
نوروز خان کی آنکھین نم ہوئیں اس کی حالت دیکھ کر شدید افسوس ہوا ان کو اپنے فیصلے پر ۔۔۔
دو دن ہسپتال میں گزرے وہ اسے لے کر اپنے دوست کے اپارٹمینٹ لے کر اگۓ تھے ۔۔۔ میسیکا نے اچھی دوست ہونے کا ثبوت دیا ہر وقت رہی اس کے ساتھ ۔۔۔
نوروزخان کو سامنے پاکر باذل ان کے گلے لگا ۔۔۔ کتنے وقت بعد وہ ان کے گھر آۓ تھے ۔۔۔
“واٹ آ سرپرائیز ڈیڈ آپ لندن آۓ ہیں پر کب ۔۔۔
نوروز خان نے اسے ایک لمحے میں خود سے دور کردیا اور منہ پر تھپڑ ماری وہ شاک ہوا ۔۔۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایک اور شادی کرنے کی زونی سے , تم پہلے سے شادی شدہ تھے اگر تو ۔۔۔ تم نے مجھے کسی سے نظر ملانے کے قابل نہیں چھوڑا باذل , ہمیشہ تمہاری حرکتوں سے نالان رہا ہوں , مجھے افسوس ہے تم میری اکلوتے بیٹے ہو , میری بڑھاپے کا سہارا۔۔۔ نوروز خان تند لہجے میں بولے ۔۔۔
باذل واپس پلٹنے لگا ان کی ایک تھپڑ پر ۔۔۔
“کہاں جارہے ہو شرم نہیں آتی تمہیں , بتاؤ کیوں کیا یہ سب اگر ایک دفعہ خیال نہیں آیا زونی پر کیا گزر رہی ہوگی تین دن سے اس کی خبر تک نہ لی تم نے ۔۔۔ وہ کیسی ہے , کس حال میں ہے , کیا گزری ہے اس پر ۔۔۔ کوئی فکر نہیں تمہیں کیوں ہو ایسے تم , لاپرواہ , خوغرض , اپنی من مانی کرنے والے کیوں ۔۔۔ شرم اتی ہے تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوۓ ۔۔۔ نوروز خان اپنی شدید نفرت اس پر انڈیل رہے تھے وہ حیرت کا مجسمہ بنا کھڑا سنتا رہا ۔۔۔
“جب سب الزام لگاہی دیۓ تو صفائی کیوں مانگ رہے ہیں مجھ سے ۔۔۔۔ اپنی کس حس کی تسکین کے لیۓ سوال کرکے ان کے جواب سننا چاہتے ہیں , کیا واقعی اپ کی تسلی ہوگی میرے جوابوں سے ۔۔۔ کبھی نہیں ہوگی آپ کو تسلی اور جہاں تک زونی کی فکر کی بات ہے تو وہ آپ ہیں نا مجھ سے بہتر فکر کرنے والے اس کی , مجھ سے زیادہ آپ کو اس کی پرواہ ہے , تو میری بھی ایک بات سن لیں وہ بھی بلکل آپ پر گئی ہے , آخر آپ کی بھتیجی ہے اپنے تایا جان پر ہی جاۓ گی , جو یوں بغیر موقع دیۓ ایک تھپڑ مارکر اپنا غصہ بھی نکالتی ہے اور الزام بھی لگاتی ہے ۔۔۔ باذل کی کہی عجیب غریب بات ان کو کنفیوز کرہی تھی کیونکہ اس نے پوری بات میں نا اقرار کیا نا انکار کیا تھا اپنی شادی والی بات پر ۔۔۔ پر ہاں اس کے ہر اک انداز میں گلہ اور شکوہ تھا نوروز خان اور زونی سے ۔۔۔
“زونی کے لیۓ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ بسس میری ایک بات کا جواب دو کیا واقعی اس معصوم پر یہ ظلم کرچکے ہو , تم پہلے سے شادی شدہ ہو ۔۔۔ بولو جواب دو ۔۔۔ وہ غصے کی شدت میں اس سے سوال کررہے تھے ان کی آنکھوں میں اپنے لیۓ اتنی شدید نفرت باذل نے پہلی دفعہ دیکھی تھی وہ شاک تھا زونی کے لیۓ ان کا فکرمند ہونا اور اپنے بیٹے پر یوں الزام لگانا بغیر اس کی سنے ۔۔۔
” اب کچھ بھی کہنا اور سننا فضول ہے ڈیڈ ۔۔ میں آپ کو کوئی صفائی نہیں دوں گا جو سمجھنا ہے سمجھ سکتے ہیں آپ ۔۔۔ باذل نے ضدی لہجے میں کہا ۔۔۔
“ٹھیک ہے تم کچھ نہیں بتا رہے تو ایک بات میری بھی سن لو میں اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں اسے تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے زونی کو ۔۔۔ نوروزخان نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔ وہ بغیر کچھ کہے واپس پلٹ گیا ۔۔۔ نوروز خان اس کے گھر سے باہر نکل گۓ ۔۔۔
اتفاق ہوا دو دن بعد عالم خان بھی لندن آیا صرف اپنی بہن کو دیکھنے کے کس طرح رہ رہی ہے وہ , اپنی تسلی کے لیۓ پر اپنی بہن کی ٹوٹی بکھری حالت نے اسے شدید دکھی کیا ۔۔۔ دل چاہ رہا تھا اسی وقت باذل کو ماردے پر زونی کی قسم نے اسے روک دیا ورنہ جانے وہ کیا کرجاتا ۔۔۔
“بھائی مجھے پاکستان جانا ہے واپس اب یہاں نہیں رہنا ۔۔۔ زونی اس کے گلے لگے بولی تھی ۔۔۔
“بیٹا تم میرے ساتھ امریکا چلو گی , یہاں نہیں رہو گی ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔
“نہیں تایاجان مجھے واپس پاکستان اپنوں کے ساتھ رہنا ہے , میں امریکا نہیں چلنا چاہتی ۔۔۔ زونی نے پہلی دفعہ اپنے حق میں کچھ بولی تھی ۔۔۔
“میں اپنے بیٹے سے ہر تعلق توڑ دوں گا تم بس چلو میرے ساتھ اب تم ہو میری بیٹی ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔
“تایا جان آپ کی محبت پر شک نہیں پر پلیز زونی کے لیۓ پاکستان ٹھیک رہے گا ۔۔۔ آپ واپس امریکا چلے جائیں , میں اپنی بہن کو لے کر خود جاؤں گا ۔۔۔ عالم خان نے اتنے غصے اور تکلیف کے باوجود اپنے تایا سے تمیز اور مودب انداز میں بولا تھا ۔۔۔
“مجھے معاف کردو میری بیٹی , میں تمہارا گنہیگار ہوں ۔۔۔ نوروز خان نے شرمندہ لہججے میں کہے کر زونی کے اگے ہاتھ جوڑے جسے جلدی سے وہ کھول گئی اور بولی ۔۔۔
“پلیز تایاجان آپ خود کو کچھ نہ کہیں , یہ سب میرے نصیب میں تھا ۔۔۔
عالم خان بس ضبط کرتا رہ گیا ۔۔۔
کچھ دنوں میں اس کا اے لیول کے فرسٹ ایئر کا سرٹیفکیٹ نکلواکر وہ اپنے بھائی کے ساتھ پاکستان روانہ ہوگئی جبکہ نوروزخان واپس امریلہ جاچکے تھے بغیر باذل خان سے ملے ۔۔۔
پاکستان اکر چند دنوں کے بعد اسے پتا چلا وہ ماں بننے والی ہے اس لمحے ایک بار پھر وہ ٹوٹ کر روئی پر اپنوں نے اسے اس قدر سنبھالا کہ وہ ان لمحوں میں بھی مضبوط رہی ۔۔۔ ناذل خان کو نہ بتانے کا فیصلہ اس کا اپنا تھا پر نوروز خان جانتے تھے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ زونی سے رابطہ رکھا جبکہ دوسری طرف سبین خان کے لیۓ اپنے بیٹے کی جدائی نے انہیں توڑدیا تھا وہ صرف فون پر رابطے میں تھیں اپنے شوہر سے چھپ کر ۔۔۔ ماں نے کوشش کی بیٹے سے کہ آخر کیوں کیا اس نے یہ سب زونی کے ساتھ پر باذل خان کی چپ نہ ٹوٹی وہ ماں سے ہر بات کرلیتا سواۓ اس بات کے ۔۔۔ آخر سبین خان نے پوچھنا چھوڑ دیا ۔۔۔ انہیں اپنے بیٹے سے مطلب تھا صرف ۔۔۔
@@@@@@@@@@
“مجھے نہیں لگتا وہ کبھی مجھے ڈائیورس دے گا حنین ۔۔۔ روشانے کچھ سوچ کر کہا ۔۔۔ آج وہ دونوں گارڈن میں کم رش والی جگہ بیٹھے ایک دوسرے کے روبرو بیٹھے تھے ۔۔۔
“مجھے بھی یہی لگتا ہے ۔۔۔۔ حنین نے اس کی بات کی تائید کی ۔۔۔ کیونکہ جس طرح کے حالات وہ بتارہی تھی لگ تو یہی رہا تھا ۔۔۔
روشانے آج کل عالم خان کو بھرپور خیال رکھ کر اس کا اعتماد جیتنے کی کوشش کررہی تھی ۔۔۔
“مجھے لگتا ہے ایک یہی طریقہ ہے اب ۔۔۔ حنین نے کہا ۔۔۔
“کیا ۔۔۔ روشانے آئی برو چکا کر پوچھا ۔۔۔
“کورٹ سے لینی پڑے گی شاید عزت کے خوف سے وہ دے دے ڈائیوورس جلدی ۔۔۔
“شاید ۔۔۔۔ وہ مبہم لہجے میں بولی ۔۔۔
“شان میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں تم سے ۔۔۔ حنین نے کہا ۔۔۔
“ہمممم کہو ۔۔۔ روشانے نے کہا ۔۔۔۔
“میں چاہتا ہوں ہمارے بیچ جو مذہب کی دیوار کھڑی کی ہے تمہارے ڈیڈ نے اب وہ بھی گرادینی چاہیۓ ہمیں ۔۔۔ تاکہ کوئی چیز ہمیں جدا نہ کرسکے , تاکہ کوئی وجہ ہی نہ رہے ہمارے بیچ جدائی کی ۔۔۔ تم سمجھ رہی ہو نا ۔۔۔ حنین نے اچھی خاصی تمہید باندھی اپنی بات کہنے کے لیۓ ۔۔۔
” میں نہیں سمجھی تمہاری بات حنین ۔۔۔۔ روشانے نے ناسمجھی سے کہا ۔۔۔
” دیکھو شان ۔۔۔ وہ لمحے بھر کو چپ ہوکر دوبارہ بولا ۔۔ وہ حیران تھی ایسا کیا تھا جسے کہنے کے لیۓ حنین اتنی تمہید باندھ رہا ہے ۔۔۔۔
“تمہاری مام نے بھی تمہارے ڈیڈ کے لیۓ اپنا مذہب چھوڑا , یہی ان کی سچی محبت کی نشانی تھی ۔۔۔ مجھے یقین ہے تم بھی اپنی مام کی طرح اپنا مذہب بدلوگی , یہی ہماری محبت کا تقاضہ ہے ۔۔۔ شان تم میرا ساتھ دوگی نا , تم میرے ساتھ ہو نا ۔۔۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ تھام کر پوچھ رہا تھا ۔۔۔ وہ حیرت کی انتہا پر تھی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی حنین ایسی کوئی ڈیمانڈ کرے گا کبھی ۔۔۔۔
“بولو شان جواب دو ۔۔۔ وہ ایک بار پھر پوچھ رہا تھا کیا وہ راضی ہے اس کے اس فیصلے میں ۔۔۔ وہ آنکھوں میں کشمکش کے تاثرات لیۓ دیکھتی رہ گئی ۔۔۔ کچھ وقت بعد اس نے اپنے لب کھولے اور کہا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
