Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

عید اپنوں کے سنگ

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 21

“ہممم سہی کہا , اپنوں میں شادی کرنے کے سائیڈ ایفیکس ہیں یہ ۔۔۔ چلو شاباش جلدی دودھ پی کر سوجاؤ ۔۔۔ صبح جلدی اٹھنا ہے ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔

دائم کی بات پر اس نے دانتوں کے بیچ اپنی زبان دبائی , اپنے زور و شور سے تبصرے کرنے پر ۔۔۔ جس پر وہ مسکرایا تھا ۔۔۔

پھر منہ بناکر دودھ پینے لگی بلکل چھوٹے بچوں کی طرح ۔۔۔ دائم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی جسے لمحوں میں چھپاگیا ۔۔۔

اگلے دن وہ دونوں وقت پر تیار ہوگۓ اور جانے کے وقت وہ آذان کو پیار کرتی رہی اور اپنی ساس کو اس کی روٹین اور باتیں بتانے لگیں ۔۔۔

“مناہل بیٹا کل سے تین دفعہ بتاچکی ہو پھر بھی تمہاری تسلی نہیں ہوئی جو ایک بار پھر سمجھارہی ہو مجھے ۔۔۔ میری جان مجھے تم سے زیادہ تجربہ ہے بچوں کو سنبھالنے کا ۔۔۔

پھپھو اور دائم مسکراۓ ان کی بات پر جبکہ مناہل بےانتہا شرمندہ ہوکر اپنی ساس کے گلے لگی اور کہا ۔۔۔

“مامی جان معاف کردیں غلطی ہوگئی مجھ سے ۔۔۔

“میں مذاق کررہی تھی ۔۔۔ مجھے اچھا لگ رہا ہے تم جس طرح آذان کے لیۓ فکر کرتی ہو , بسس اب چاہتی ہوں ایسی فکر میرے بیٹے کی بھی کرو تو میرا دل اور خوش ہوجاۓ ۔۔۔ انہوں نے اسے پیار کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“جی مامی جان ۔۔۔ اتنا کہے کر اس نے نظریں چرائیں ۔۔۔ وہ خجل ہوکر اِدھر اُدھر دیکھنے لگی ۔۔۔

“چلیں ۔۔۔ دائم نے کہا اس کی شرمندگی کو دیکھتے ہوۓ ۔۔۔

“ہممم ۔۔۔ خیریت سے جاؤ دونوں اور خیریت سے واپس آؤ ۔۔۔ پھپھو نے کہا جس ی تائید مناہل کی ساس نے بھی کی ۔۔۔

یوں وہ دونوں ان کی دعاؤں میں شہر کے لیۓ روانہ ہوۓ ۔۔۔

@@@@@@@@@

(ماضی)

ان کا ٹرپ تین دن کا تھا ۔۔۔ اج تیسرا دن تھا ان کا گھومنے کا ۔۔۔ آخرکار اس نے بھی سہلیاں بنالیں تھیں , اب زونی نے خوش رہنا شروع کردیا تھا , اب اس ماحول میں مکمل ایڈجسٹ تھی وہ ۔۔۔

“ہم نے بہت مزا کیا , یہ ٹرپ یادگار رہے گا ہمیشہ ۔۔۔ میسیکا نے انگلش میں کہا زونی سے جو اب بیسٹ فرینڈ بن چکیں تھیں ۔۔۔

“ہاں مجھے بھی ہمیشہ یاد رہے گا , نیکسٹ ایئر فائنلز کے بعد بھی ٹرپ ہوگا اس میں بھی ہم ضرور جائیں گے ۔۔۔ زونی نے ابھی اور اگے والے وقت کا بھی ابھی سے پلان کرلیا تھا ۔۔۔ وہ بےانتہا خوش تھی ۔۔۔

وہ لوگ جیسے ہی ریسٹورینٹ سے باہر نکلیں ڈنر کرکے اس کی بےساختہ نظر اسٹریٹ کے دوسری طرف گئی جہاں باذل کے ساتھ کسی اور لڑکی کو دیکھ کر وہ شاک ہوئی ۔۔۔

نارملی وہ زیادہ جذباتی نہ ہوتی اگر باذل نے اس کا ہاتھ نہ تھاما ہوا ہوتا دونوں کی ایک دوسرے سے ملتی نظریں اس پر اس لڑکی کی حیثیت واضع کرگئی , وہ کتنی قریب ہے اس کے , زونی کو اچھی طرح اندازہ ہورہا تھا ۔۔۔

وہ رانگ وے سے جاتی راستہ کراس کرتی اپنے حواس میں نہ لگ رہی تھی , اس کے پاغل پن کا اندازہ ہورہا تھا وہ جلدی ان تک پہچنا چاہ رہی تھی پر اس کے پہچنے تک وہ لوگ نکل چکے تھے ۔۔۔

وہ نڈھال سی , جاتی گاڑی کو دیکھنے لگی ۔۔۔

“زری ڈیئر واٹ ہیپن ۔۔۔ اس کی سہیلی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے پوچھ رہی تھی ۔۔۔ وہ کھوئی کھوئی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ کافی دیر بعد وہ کچھ سنبھلی اپنے حواسوں میں لوٹی تو خود کا بھرم رکھنے کا اس نے سوچا اس لمحے ۔۔۔

وہ خود کو کمپوز کرنے کی بھرپور کوشش کرتی رہی نا چاہتے ہوۓ بھی کئی آنسو ٹوٹ کر گرے تھے اس کی آنکھوں سے ۔۔۔

“نتھنگ ۔۔۔ اس نے کپکپاتے لہجے میں کہا ۔۔۔

آہستہ آہستہ سب جمع ہونا شروع ہوگۓ اس کی دوست اس کے بدلے سب کو تسلی دیتی رہی اور یوں زونی کی خوشی کے سفر کا اختام دکھ تکلیف اور اذیت میں ہوا ۔۔۔

وہ سارا راستہ بے آواز روتی رہی ۔۔۔۔

چلے جانے کی عُجلت میں

دِلوں پر جو گُزرتی ہے

مُسافِر کب سمجھتے ہیں

اُنہیں احساس کب ہوتا ہے

زادِ رہ سمیٹیں تو

کسی کا دل سِمٹتا ہے

رَگوں میں خُون جَمتا ہے

کسی کے الوداعی ہاتھ ہلتے ہیں

مگر دل ڈوب جاتا ہے

مگر جانے کی عُجلت میں

مُسافِر کب سمجھتے ہیں

@@@@@@@@

“جتنی بیوقوفیان تم کرچکی تھیں اس کے بعد مجھے امید نہ تھی تم یہاں تک پہنچ سکتی ہو شان ۔۔۔ حنین نے مسکرا کر سرشار لہجے میں کہا ۔۔

“دیکھو لو ۔۔۔ شان کے لیۓ سب ممکن ہے ۔۔۔ یونی کی کینٹین میں بیٹھی وہ حنین کے روبرو دل کا حال سنارہی تھی جسے سننے کے بعد حنین نے کمنٹ کیا جس کا برا مانے بغیر وہ اپنی کہے رہی تھی ۔۔۔

پندرہ دنون میں یہ ان کی دوسری ملاقات تھی ۔۔۔

“مان گیا تمہیں ۔۔۔ سوچا نہ تھا دوبارہ ہم مل پائیں گے ۔۔۔ حنین نے کہتے ہوۓ اس کا ہاتھ تھام کر اس احساس کو محسوس کرنا چاہا وہ غیر محسوس طریقے سے ٹیبل سے ہاتھ سرکا کر اپنی گود میں رکھ بیٹھی ۔۔۔

“پیار سچا ہو تو خود کو منواہی لیتا ہے ۔۔۔ حنین کے لہجے میں خوشی ہی خوشی تھی ۔۔۔

“میں آج بہت خوش ہوں ۔۔۔ روشانے نے ایک جذب کے عالم میں کہا تھا ۔۔۔

“میں بھی شان , ابھی بھی یقین نہیں آتا تم میرے سامنے روبرو ہو , بس کچھ وقت صبر کرو پھر اس سرزمین سے دور اپنی دنیا بسائیں گے ہم شان ۔۔۔ حنین نے کہا ۔۔۔ وہ اثبات میں سرہلا گئی ۔۔۔

پھر اگے کی پلاننگ کرنے لگے کہ کس طرح سب ممکن کریں ۔۔۔

@@@@@@@

(ماضی)

“کہاں جارہی ہو زری ۔۔۔ میسیکا نے اسے تیار ہوتے دیکھا اور اب جب وہ باہر نکلنے لگی تو اس سے پوچھ بیٹھی انگلش میں ۔۔۔ میسیکا پیار سے اسے زری کہتی تھی جبکہ زونی اسے میکس کہتی تھی ۔۔۔

کل رات ہی وہ ہاسٹل واپس آئیں تھیں ٹرپ سے , ساری رات وہ زونی سے پوچھتی رہی پر اس نے زبان نہ کھولی ۔۔۔ اب بھی سویرے بغیر کھاۓ پیۓ کہیں جانے کے لیۓ ریڈی دیکھ کر میسیکا حیران تھی تو پوچھے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔ ویسے بھی آج سنڈے تھا دونوں نے یہیں وقت گزارنا تھا کل سے کلاسس شروع ہونی تھیں دوبارہ سے ۔۔۔

“بس یہیں پاس میں ۔۔۔ زونی نے جلدی میں کہا انگلش میں ۔۔۔ اس کے ہر انداز میں بےچینی تھی جبکہ میسیکا کے ہر انداز میں اپنی سہیلی کے لیۓ فکرمندی تھی ۔۔۔

“میں بھی چلوں تم پریشان لگ رہی ہو , ہم دوست ہیں ۔۔۔ دوست ہی دوست کے کام آتے ہیں ۔۔۔ میسیکا نے انگلش میں کہا ۔۔۔

“نو آۓ کین مینیج میکس۔۔۔ زونی عجلت میں کہتی باہر نکل گئی ہاسٹل سے ۔۔۔

اپنے گھر کا راستہ اچھی طرح ذہن میں دہراتی وہ ایک بس میں بیٹھی پھر کیب کرواکر اپنے گھر کے سامنے کھڑی اس نے گھڑی دیکھی ۔۔۔ صبح سات بجے نکلی تھی وہ , اس وقت دس بج رہے تھے ۔۔۔

ایک نظر خود پر ڈالی جو بلیک کرتی پر بلیو جینز پہنے گلے میں دوپٹا سرپر اسکارف پہنے اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی تھی دل تھا کہ زوروں سے دھڑک رہا تھا ایسا لگ رہا تھا سینا توڑ کر باہر انے کو بےتاب ہے ۔۔۔

گھر کی گھنٹی بجانے کے بجاۓ اس نے چابی سے دروازہ کھولا ۔۔۔

“شکر میں نے خود ہی ایکسٹرا چابی رکھلی بغیر خان سے پوچھے ۔۔۔ زونی نے خود سے کہا ۔۔۔

دروازہ کھول کر وہ آہستہ قدموں سے سیڑھیان چڑھتی اپنے بیڈروم کا دروازہ کھولا اور سامنے کے منظر نے اسے چکرا کر رکھ دیا اس کے بیڈ پر دوسری لڑکی نامناسب حلیۓ میں کمفرٹ لیۓ ہوۓ تھی ۔۔۔ آنکھوں کے اگے اندھیرا چھانے لگا تھا وہ دروازے کو نہ تھامتی تو اب تک زمیں بوس ہوجاتی ۔۔۔

آنکھوں سے آنسو شدتِ غم سے بہنے لگے تھے ۔۔۔ وہ پلٹ کر جانے لگی اس کا سر جاکر اس ستمگر کے سینے سے جالگا ۔۔۔

دونوں کی نظریں ملیں لمحے بھر کو , زونی نے نفرت سے نظریں پھریں باذل کو صرف شارٹس اور سینڈو میں ملبوس دیکھ کر اس کے گلے پر لپسٹک کے نشان سب واضع کردیا ۔۔۔

“کچھ نہیں بچا تھا یہ سوچ کر بغیر کسی گلے اور شکوے کے وہ وہاں سے جانے کا سوچ کر اس کے پاس سے گزرنا چاہا پر وہ پھیل کر کھڑا ہوگیا اس کا راستہ روک گیا ۔۔۔

“زونی میری بات سنو ۔۔۔ وہ ہمت کرکے بولا , زونی کے خطرناک تاثرات اسے پریشان کررہے تھے ۔۔۔

“مجھے کچھ نہیں سننا ۔۔۔ دور ہوجائیں میری نظروں سے ۔۔۔ آۓ ہیٹ یو خان ۔۔۔ وہ نفرت سے بولی , وہ اس پر ایک بھی نظر نہ ڈال رہی تھی ۔۔۔

“زونی ۔۔۔ وہ ایک بار پھر اسے پکار بیٹھا ۔۔۔

“یہ کون ہے باذل ۔۔۔ گولڈن ڈیپ گلے کی نائیٹی پہنے باہر نکلی ۔۔۔ صاف اردو لہجہ گوری رنگت سنہری بالوں والوں لڑکی حسن کا شاہکار لگی زونی کو ۔۔۔

“مجھے چھوڑو ۔۔۔ پہلے تو تم بتاؤ , تم کون ہو خان کی ۔۔۔ زونی نے تند لہجے میں پوچھا ۔۔۔

“ہمممم میں , میں ان کی پیاری بیوی ماہ نور ۔۔۔۔ ایک ادا سے اس نے کہا اور باذل کے ساتھ اکر کھڑی ہوئی اس کے بازو کا تھامے بولی تھی ۔۔۔ چھناک سے دل ٹوٹا زونی کا ۔۔۔ آنکھیں پانی سے بھرنے لگیں ۔۔۔

“لٹل گرل اور تم کون ہو خان کی ۔۔۔ ماہ نور نے مغرور انداز میں پوچھا ۔۔۔ زونی اسے کوئی اسکول گرل لگی پہلی نظر میں اس لیۓ لٹل گرل اسے کہے بیٹھی ۔۔۔

“میں ۔۔۔ اس کی زبان لڑکھڑائی , ماہ نور کا حق جتاتا انداز اس کے حوصلوں کو ڈگمگا گیا ۔۔۔

مان ٹوٹا ۔۔۔ غرور ٹوٹا ۔۔۔۔

مت پوچھ ہم سے کیا کیا چُھوٹا

“تم اندر جاؤ ماہ نور ۔۔۔ تم سے بعد میں بات کروں گا ۔۔۔ باذل نے جلدی سے کہا ۔۔۔

“جاؤ ماہ نور حلیہ درست کرو ۔۔۔ باذل خان نے ایک اور حکم دیا ۔۔۔

“ایک منٹ خان ۔۔۔ ماہ نور جانتی تھی اسے پسند نہیں نائیٹی میں کسی کے سامنے آنا پھر چاہے کوئی لڑکی کیوں نہ ہو ۔۔۔

اب وہ اس کی طرف متوجہ ہوئی اور کہا ۔۔۔

“لٹل گرل , یہ عمر پڑھائی کی ہے جاؤ اس پر توجہ دو , آئندہ بواۓ فرینڈ بناؤ تو اپنی عمر کا بنانا سمجھی ۔۔۔ وہ زونی کا گال تھپتھپاتی ہوئی چلی گئی ۔۔۔ جو ماہ نور سمجھی اسی حساب سے زونی کو بےعزت کرتی چلتی بنی ۔۔۔

وہ چلی گئی واپس روم میں ۔۔۔

اسی لمحے وہ اس کا بازو تھامتا اسے نیچے لایا اور کہا ۔۔۔

“کیوں آئی یہاں , میں نے کہا تھا خود لاؤں گا گھر ۔۔۔ اور یہ چابی کہاں سے لی تم نے گھر کی ۔۔۔ واپس کرو , اتنی ہمت اگئی تم میں , جو خود ہی منہ اٹھاکر اگئی گھر ۔۔۔۔

وہ حیرت سے اس شخص کی ڈھٹائی کو دیکھتی رہی اور جانے کیا ہوا اس نے بغیر سوچے سمجھے اس کے منہ پر تھپڑ مارا اس کی چلتی زبان تب جاکر تھمی وہ حیرت زدہ تھا اتنی سی لڑکی کی ہمت پر ۔۔۔ وہ کچھ بولنے کے قابل نہ رہا اس لمحے ۔۔۔

“خان , میں نفرت کرتی ہوں آپ سے , اتنی نفرت بتا نہیں سکتی ۔۔۔ ایک تو ظلم کیا آپ نے شادی کرکے الٹا مجھے سنارہے ہیں بجاۓ شرمندہ ہونے کے ۔۔۔ آپ کی سب زیادتیان برداش کیں جس طرح چاہا آپ نے کیا میں نے کچھ نہیں کہا , مہینوں بےخبر رہے مجھ سے میں نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔ مجھ پر اپنا غصہ اتارکر اپنی تسکیں کی میں چپ رہی , لیکن اب نہیں , نہیں رہوں گی آپ کے ساتھ , نفرت ہے مجھے آپ سے ہمارے اس رشتے اس تعلق سے ۔۔۔ آج سے آپ کو آپ کی نئی شادی مبارک ہو ۔۔۔

“رکو ۔۔۔ وہ اس کا بازو تھام گیا ۔۔۔ بہت کچھ کہنے کا وہ ارادہ کرچکا تھا پر وہ اس کی بات کاٹ کر بولی ۔۔۔

“یہ حق آپ کھو چکے ہیں ۔۔۔ وہ اپنا بازو چھڑاتی ۔۔۔ چابیان اس کے قدمون میں پھینکتی چلی گئی وہ اسے جاتا دیکھتا رہ گیا ۔۔۔ وہ شدد رہ گیا اس جیسی بزدل لڑکی کی بھادری کا یہ انداز دیکھ کر اتنا کچھ وہ بول جاۓ گی سوچا نہ تھا باذل نے ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔