Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

عید اپنوں کے سنگ

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 20

“واٹ بچے ۔۔۔ وہ شاک لہجے میں بولی ۔۔۔ اس کے انداز سے صاف ظاہر تھا وہ عنقریب اس رشتے کو شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔۔۔ اس کا مطلب اسے لگتا ہے روشانے سب بھول کر اگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔۔۔ روشانے کو لگا شاید اپنی بےوقوفیوں سے وہ اسے غلط تاثر دے چکی ہے کہ وہ اسے شوہر ایکسیپٹ کرچکی ہے ۔۔۔

“اس میں اتنا شاک ہونے کی کیا بات ہے روشی ۔۔۔ عالم خان اس کے انداز دیکھ کر بولا ۔۔۔ آج کل وہ پیار سے اسے روشی کہنے لگا تھا ۔۔۔

“پلیز مجھے کچھ وقت چاہیۓ جیسا آپ سوچ رہے ہیں , ایسا کچھ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں ۔۔۔ روشانے نے جلدی سے کہا ۔۔۔

عالم خان اس کے دبے لفظوں میں چھپا گُریز اچھی طرح سمجھ رہا تھا ۔۔۔ جانے کیوں وہ اسے کچھ سخت کہنے سے خود کو روک گیا ۔۔۔ وہ جو سخت اور اکھڑ مذاج ہوا کرتا تھا جانے کیوں نرم پڑنے لگا تھا اس کے سامنے ۔۔۔ ساری بات محبت کی تھی جس کی سمجھ عالم خان کو نہ تھی کہ یہ محبت انسان سے کیا کچھ کرواسکتی ہے , اسے اس کی شدت کا احساس نہ تھا ۔۔۔

“پلیز عالم کچھ وقت دیں , مجھے سنبھلنے کا , ابھی وقت لگے گا مجھے نارمل ہونے میں , جو سب ہوا اتنا اچانک اور بہت تکلیف دہ رہا ہے میرے لیۓ , پلیز مجھے شارٹ کورس میں ایڈمیشن ڈلوادیں یونیورسٹی میں , آپ چاہیں تو اس طرح بیچ میں بھی کرواسکتے ہیں یہ پاکستاں ہے اور سب کچھ سورسز پر ہوتا ہے ۔۔۔ آپ سے بڑی کونسی سورس ہوگی آخر آپ اس شہر کے ایس پی ہیں ۔۔۔ اس کا التجا بھرا انداز اور منتیں کرتی عالم کو معصوم اور پیاری بلکل اپنی اپنی سی لگی ۔۔۔

“پلیززز ۔۔۔ آنکھیں میچ کر بولتی , اس کا معصوم انداز اسے بہت پیارا لگا جانے کیوں عالم کا دل چاہا وہ اس کا خوشی سے بھرپور انداز بھی دیکھے اس کی ایکسائیٹمینٹ بھی دیکھے ۔۔۔ دل میں عجیب خواہشات نے جنم لینا شروع کردیا تھا ۔۔۔

“اوکے کروادوں گا ڈونٹ وری ۔۔۔ عالم خان نے کہا اس کے چہرے کو دیکھتے ہوۓ ۔۔

“سچ میں یہ ممکن ہے ۔۔۔ وہ ایکسائیٹمینٹ میں بولی تھی ۔۔۔

“بلکل ہے جس یونی میں کہو جس سبجیکٹ میں ایڈمیشن کروادوں گا ۔۔۔ عالم خان نے یقین سے کہا ۔۔۔

“اوہ تھینک یو مجھے یقین تھا آپ میری بات ضرور مانین گے وہ خوشی میں اسے ہگ کر گئی وہ اپنی بےساختگی پر تھوڑا شرمندہ ہوئی پر اس کے چہرے پر کھلے گلاب کے رنگ عالم خان کو بہت بھاۓ تھے ۔۔۔

@@@@@@@@

اگلے دن مناہل نے چاۓ کا کپ دائم کے سامنے رکھا اور جانے لگی ۔۔۔

“رکو ۔۔۔ دائم کے کہنے پر اس نے جاتے قدم واپس موڑے اور پلٹ کر اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“جی ۔۔۔

“کل رات کی حرکت کی وجہ پوچھ سکتا ہوں ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔

“بلکل نہیں ۔۔۔ وہ سرد لہے میں کہے کر جانے لگی اسی لمحے وہ اس کا ہاتھ سختی سے تھام گیا ۔۔۔

“ہاتھ چھوڑیں میرا ۔۔۔

“کیوں ۔۔ چھوڑنے کے لیۓ تھوڑی تھاما ہے مناہل دائم ۔۔۔ دائم کا لہجہ ہنوز نرم تھا مناہل کے لیۓ ۔۔۔

“مجھے آپ سے کوئی تعلق نہیں رکھنا , یہ شادی میں نے صرف آذان کے لیۓ کی ہے , کتنی بار بتاؤں ۔۔۔ اس کی اچھی تربیت کرنا ہی میرا مقصد ہے صرف ۔۔۔ مناہل نے دوٹوک لہجے میں اپنا موقف بتایا ۔۔۔

“پر مناہل ۔۔۔ دائم نے کچھ کہنا چاہا پر وہ اس کی بات کاٹتی ہوئی بولی ۔۔۔

“پر ور کچھ نہیں , صرف اتنا بتادیں کیا ایمن آپی کو آپ بھول گۓ ہیں , ان سے کی محبت وعدے سب بھول گۓ … وہ تند لہجے میں پوچھتی اس سے سوال کررہی تھی ۔۔۔

“کچھ نہیں بھولا میں سمجھی ۔۔۔ دائم کا انداز اب تھوڑا سخت ہوا کیونکہ مناہل کا یہ انداز اسے ناگوار گزرا تھا ۔۔۔ وہ کیا چاہا رہا تھا اور وہ اسے کیا سمجھ رہی تھی ۔۔۔ جانے کیوں وہ اسے اس ادھورے رشتے میں باندھنے کے بجاۓ مکمل خوشیان دینا چاہتا تھا ۔۔۔ یہی ایک اصل مرد کی نشانی ہے ۔۔۔

“پھر کیسے آپ مجھے بیوی کا مقام دے سکتے ہیں جب آپ نے خود کہا تھا کہ ۔۔۔ وہ بےساختہ کہے گئی جبکہ وہ یہ باتیں دہرانے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔

“کیا کہا تھا میں نے ۔۔۔ دائم نے شاک لہجے میں پوچھا ۔۔۔ جانے کیوں اسے شک گزرا کہ اس کے اس رویۓ کی وجہ وہ خود ہے , کوئی اور نہیں ۔۔۔

“کچھ نہیں ۔۔۔ مناہل ٹالنے کے انداز میں بولی ۔۔۔

“کہو کونسی بات تمہیں اندر ہی اندر کھارہی ہے مناہل مجھے بتاؤ ۔۔۔ دائم کا لہجہ انسسٹ کرتا ہوا تھا ۔۔۔

“کوئی بات نہیں , بسس ایمن آپی کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا وہی صرف وہی ہر جگہ اس گھر اور کمرے میں ہے , میری کہیں کوئی جگہ نہیں , نہ آپ کی زندگی میں , نہ ہی مجھے لینی ہے ۔۔۔ مناہل سختی سے بولی ۔۔۔

مناہل کا درد اس نے اندر تک محسوس کیا ۔۔۔۔

“پر مناہل تم مجھے بھی سنو ۔۔۔ سمجھنے کی کوشش کرو جو اب حالات ہیں ۔۔۔ وہ ایک بار پھر دائم کی بات کاٹ گئی تھی ۔۔۔ اس کی بات کاٹ کر بولی ۔۔۔

“مجھے کچھ نہیں سننا نہ سمجھنا ۔۔۔ مناہل نے بےچینی سے کہا ۔۔۔

ان کی بحث اور لمبی ہوجاتی اگر اسی لمحے آذان کے رونے نے دونوں کو چپ رہنے پر مجبور نہ کیا ہوتا ۔۔۔ وہ جلدی سے اسے اٹھاتی چپ کروانے لگی ۔۔۔ اس کے مسلسل رونے سے مناہل کو اندازہ ہوا کہ بھوک کی وجہ سے رورہا ہے آذان ۔۔۔

وہ جلدی سے اس کا فیڈر بناتی بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔۔ اب اسے گود میں لٹاۓ فیڈر پلارہی تھی مسلسل ہلتے لب سے اندازہ ہورہا تھا وہ کچھ قرانی آیات پڑھ کر اس پر پھونک رہی تھی ۔۔۔

دائم اسے مسلسل دیکھ رہا تھا خوشگوار انداز میں ۔۔۔ وہ جب بھی آذان کو سنبھالتی وہ اسے یونہی بےخود ہوکر دیکھا کرتا ۔۔۔ وہ ہمیشہ حیران ہوتا کہ کیسے سنبھال لیتی تھی وہ آذان کو اتنی آسانی سے , جبکہ اس کی اپنی ماں یا پھپھو جن کو بچوں کو سنبھالنے کا ایکسپیرینس تھا وہ بھی نہ سنبھال پاتیں تھیں آذان کو جبکہ مناہل اتنی کم عمر اور ریزروو رہنے والی لڑکی اتنی خوش اسلوبی سنبھال گئی تھی آذان کو ۔۔۔

دائم کو گمان گزرتا جیسے واقعی مناہل نے اسے جنم دے کر پیدا کیا ہے دونوں مان بیٹا ایک دوسرے میں مگن اسے اگنور کردیتے , ابھی بھی وہ اس کی چٹیا کو پکڑے ہوۓ تھا اس سے کھیل رہا تھا وہ اسے مسکرا کر محبت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

“بلکل اپنے باپ پر گۓ ہو آذان , لگتا ہے تمہیں بھی لمبے بال بہت پسند ہیں ۔۔۔ دائم نے آذان کے گال پر چٹکی کاٹتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔ وہ چور نظروں سے مناہل کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا جو اسے اگنور کرکے آذان کو فوکس کیۓ ہوۓ تھی ۔۔۔ ایک غلط نگاھ بھی اس نے دائم پر نہ ڈالی تھی ۔۔۔

“بیٹا تم تو خوشنصیب ہو جو تمہاری ماں تمہیں اپنے بالوں سے کھیلنے دیتی ہے ورنہ مجھے تو اس سے بھی محروم رکھا ہوا ہے ۔۔۔ سن رہے ہو میری جان ۔۔۔ آذان فیڈر ختم کرچکا تھا ۔۔۔ اب باپ کی بات پر ان کی طرف دیکھ کر منہ بسورنے لگا جس پر دائم مسکرایا اور بولا۔۔۔

“شکریہ جو تم میرے درد کو سمجھے ۔۔۔ وہ مناہل کو تپانے کے لیۓ یہ سب کررہا تھا واقعی وہ چڑ کر دانت پیس گئی خود کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھا ہوا تھا اس نے ۔۔۔

لمحے بھر کی بات تھی اگلے لمحے آذان نے قہقہہ لگایا بےساختہ جس پر دائم نے کہا ۔۔

“مجھے چڑاتے ہو بڑے بےمروت ہو بلکل اپنی مان پر گۓ ہو جسے اپنی ذات کے علاوہ کچھ دیکھائی ہی نہیں دیتا ۔۔۔

“کیا مسئلا ہے آپ کا , کیوں مجھے تنگ کررہے ہیں ۔۔۔ مناہل نے غصے سے آنکھیں دکھاتے ہوۓ کہا دائم کو ۔۔۔

“تمیز سے اپنی حد میں رہو , تم سے نہیں اپنے بیٹے سے بات کررہا ہوں مناہل آئندہ اس لہجے میں بات کی مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔ دائم انگلی اٹھاکر اسے وارن کرتا ہوا بیڈ سے اٹھا اور الماری کی طرف بڑھا اپنے کپڑے نکال کر واشروم میں چلا گیا ۔۔۔

مناہل نے شدید شرمندگی محسوس کی اور افسوس ہوا اپنے بدتمیزی بھرے انداز پر ۔۔۔ اب واشروم کے بند دروازے کو دیکھتی رہی جہاں جاکر وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوا تھا ۔۔

@@@@@@@

(ماضی)

“کل کی تیاری رکھو تمہیں ہاسٹل چھوڑ آؤں گا ۔۔۔ باذل خان نے کہا ۔۔۔ وہ جو کچن میں کھڑی اس کے لیۓ اور اپنے لیۓ کافی بنارہی تھی اس کی بات پر چونکی اور جلدی سے بولی ۔۔۔

“کل ۔۔۔ پر ابھی تو دو چھٹیاں ہیں نا میری ۔۔۔ زونی نے حیرت سے کہا ۔۔۔

“مجھے شہر سے باہر جانا ہے ضروری کام ہے , میں اکیلا نہیں چھوڑسکتا تمہیں یہاں ۔۔۔ باذل نے پرسوچ انداز میں کہا ۔۔۔

“یہ میرا گھر ہے , میں اکیلی رہ لوں گی , ہاسٹل میں بھی تو اکیلے رہ۔۔۔ زونی نے آہستہ سے کہا ۔۔۔

“بحث مت کرو زونی , جو کہا ہے وہ کرو ۔۔۔ باذل خان نے حکمیہ لہجے میں کہا ۔۔۔

اتنا کہے کر وہ کچن سے چلا گیا ۔۔۔ وہ کافی کے مگ رکھتی ٹرے میں کچن سے باہر جانے لگی ۔۔۔ جانے کیا زونی کے من میں ایا اسی لمحے پلٹ کر اپنا کافی کا مگ واش بیسن میں انڈیل دیا اور کپ وہیں چھوڑ کر صرف باذل کی کافی کا مگ لیۓ بیڈروم کی طرف جانے لگی ۔۔۔

وہ اس کے سامنے رکھتی ہوئی جاکر بیڈ پر بیٹھی ۔۔۔

“تمہاری کافی کہاں ہے ۔۔۔ باذل نے ایک کپ دیکھ کر پوچھا ۔۔۔

“میرا موڈ نہیں ۔۔۔

“ہممم تم فریش ہوجاؤ ۔۔۔ باذل خان نے حکم دیا وہ اس کا مخصوص حکم ملتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔ وہ اس کی فرمانبرداری کو بہت پسند کرتا تھا ۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ ڈریسنگ سے باہر نکلی بلیک سلویلیس نائیٹی پہنے , کھلی سنہری زلفیں صرف لپ گلوس لگاۓ وہ اس پر بجلیاں گرارہی تھی ۔۔۔ خوشبو میں رچی بسی وہ باذل خان کو اپنے طرف متوجہ کرچکی تھی ۔۔۔

“تابعدار بیوی خدا کی بھیجی کسی نعمت سے کم نہیں ۔۔۔۔ وہ محبت سے لبریز لہجے میں کہتا اس کی طرف بڑھا ۔۔۔

وہ اس کو بانہوں میں اٹھاۓ بیڈ کی طرف بڑھا ۔۔۔

“سوری باذل میں نے آپ کو ناراض کردیا , مجھے معاف کردیں ۔۔۔ وہ جو اس پر بھرپور شدتیں لٹارہا تھا اس کی بات سن کر سخت بدمزہ ہوا ۔۔۔ زونی کا لہجہ ملتجی تھا ۔۔۔

“یہ بھی کوئی وقت ہوا ایسی باتیں کرنے کا سدھر جاؤ زونی ۔۔۔ یہ باتیں کل بھی ہوسکتیں ہیں ۔۔۔ باذل اتنا کہے کر اسے خود پر گراگیا ۔۔۔ اس کی معصومیت پر اسے ٹوٹ کر پیار آیا ۔۔۔

“مجھے کل واپس نہیں جانا ہاسٹل ۔۔۔ زونی نے ڈرتے ذرتے کہا ۔۔۔

“اف تمہارا بچپنا نہیں جاسکتا ۔۔۔ باذل نے آنلھیں کھائہں جو اس لمحے یہ باتیں کرکے اس کا موڈ خراب کررہی تھی ۔۔۔ وہ کچھ اور بولتی وہ جلدی سے “ششش” کہتا اس کے ہونٹوں کو قفل لگاگیا ۔۔۔

اگلے دن زونی کے اتنا کہنے کے باوجود اسے ہاسٹل چھوڑ آیا وہ روتی رہی پر باذل بےپرواہ بنا رہا ۔۔۔

کچھ دن بعد وہ سنبھل گئی آخر ۔۔۔ وہ اسے کال کرتی رہتی اکثر تھوڑی دیر بات کرکے کال کاٹ دیتا ۔۔۔ خود سے باذل کم ہی بات کرتا تھا ۔۔۔

آج اس نے کال کرکے اس سے پرمیشن مانگی تھی کالیج کے ٹوئر پر جانے کی جس پر پہلے تو وہ اعتراض کرگیا پر زونی کے اسرار پر مان کر اسے اجازت دے دی ۔۔۔ وہ آج بےانتہا خوش تھی کیونکہ کئی دن سے یکسوئیت کا شکار ہورہی تھی ۔۔۔ ایک مہینے سے اس کی اور باذل کی ملاقات بھی نہ ہوئی تھی , اب زونی نے اسے کہنا چھوڑدیا تھا گھر کا ۔۔۔

گھومنے کا پلان اپنی روممیٹ سے ڈسکس کرتی بےانتہا خوش تھی ۔۔۔

@@@@@@@@@

“اج بہت خوش لگ رہی ہو ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔ وہ اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی یونی جارہی تھی ۔۔۔۔ وہ اس کا ایڈمیشن کرواچکا تھا کمپیوٹر کے ڈپلومہ کے کورس میں ۔۔۔ زونی اور وہ دونوں الگ الگ یونی میں تھیں اس لیۓ زونی ان کے ساتھ نہ تھی ویسے بھی وہ سوفٹویئر انجنیئرنگ پڑھ رہی تھی ۔۔۔

“کریڈٹ گوز ٹو یو ۔۔۔ روشانے نے چہک کر کہا ۔۔۔ وہ مسکرایا ۔۔۔

“تھینک یو ایک ہفتے میں آپ نے میرا کام کردیا ۔۔۔ روشانے کے لہجے میں بھرپور خوشی تھی ۔۔۔

“یو ویلکم روشی ۔۔۔ عالم اس کی خوشی میں خوش تھا ۔۔۔ بلیک کلر کی کرتی پہنے ساتھ میں گولڈن ٹراؤزر اور بلیک گول

“پلیز عالم مجھے روشی نہ کہا کریں مجھے یہ نام اچھا نہیں لگتا ۔۔۔ اوہ پلیز ڈونٹ مائینڈ اٹ ۔۔۔ رئیلی آئی ایم سو مچ ہیپی ۔۔۔۔ روشانے کے ہر انداز سے خوشی چھلک رہی تھی ایسا لگتا تھا اس سے اپنی خوشی چھپاۓ نہیں چھپ رہی تھی ۔۔۔

“یو آر رائیٹ روشانے , مجھے لگتا ہے تمہیں روشنی کہنا چاہیۓ یہ زیادہ تم پر سوٹ کرے گا کیونکہ تم میری زندگی کی روشنی ہی تو ہو ۔۔۔ عالم خان نے مسکرا کر کہا ۔۔۔ اس کی نظر راستے پر تھی جبکہ روشانے نے چونک کر دیکھا اسے دیکھا اور پھر دیکھتی ہی رہ گئی ۔۔۔

“کتنا بدل گیا ہے یہ شخص , کیا محبت انسان کو اتنا بدل سکتی ہے کیا ۔۔۔ مجھے لگتا تھا تم کبھی نہیں بدل سکتے تم وہی رہوگے ہمیشہ , وہی اکھڑ مذاج روڈ ایروگینٹ دوسروں پر اپنی مرضی چلانے والے , پر میں غلط تھی بلکل غلط تھی ۔۔۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتی اندر ہی اندر خود سے بولی تھی ۔۔۔

“کیا سوچ رہی ہو اور اگر یوں دیکھوگی تو مجھ سے محبت ہوجاۓ گی تمہیں روشانے عالم خان , میری زندگی کی روشنی ۔۔۔ عالم خان نے مسکرا کر اسے دیکھا وہ گڑبڑا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگی ۔۔۔

پھر دونوں کے بیچ خاموشی چھاگئی ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ اسے یونی کے اندر لے گیا اور اس کی کلاس تک چھوڑنے آیا ۔۔۔

“اپنا خیال رکھنا ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔

“جی ۔۔۔ اتنا کہے کر وہ اندر بڑھ گئی ۔۔۔

@@@@@@@

آج کا دن اس کا شدید مصروف رہا کیونکہ بڑی حویلی میں دعوت تھی ۔۔۔ مناہل نے صبح کو دائم کے جانے کے بعد اس نے پڑھائی کرکے پھر بڑی حویلی گئی تھی آذان کو لے کر , اپنی ساس سے اجازت لے کر جنہوں نے بخوشی اسے جامے کی اجازت دی تھی ۔۔۔ ویسے بھی ان کو بھی رات میں انا تھا بڑی حویلی ۔۔۔

پورا وقت تھکن میں گزرگیا ۔۔۔ رات کو دیر ہوگئی اسے انے میں اتے ہی آذان کو چینج کرواکر فیڈر دیا وہ نیند میں تھا جلد ہی سوگیا ۔۔۔ تب تک دائم چینج کرکے بستر پر لیٹ گیا ۔۔۔
پھر مناہل واشروم گئی بھاری کپڑوں سے نجات حاصل کی اب خود کو ریلیکس محسوس کرنے لگی تھی ۔۔۔ فریش ہوکر وہ لائیٹ آف کرتی بیڈ پر لیٹی اچانک وہ اٹھی اور جلدی سے سب لائیٹس آن کرگئی ۔۔۔ دائم بھی چونکا اس کے اس انداز پر ۔۔۔

“ایمن آپی کی تصویریں کہاں گئیں صبح تک تو یہیں تھیں , دائم اٹھیں جواب دیں ۔۔۔ کہاں گئیں میری آپی کی تصویریں ۔۔۔ وہ اس کے سر پر کھڑی پوچھ رہی تھی کمر پر ہاتھ ٹکاۓ بلکل تھانیدار والا انداز تھا اس کا ۔۔۔

پہلے تو اس نے محسوس نہ کی تبدیلی کیونکہ تھکن سے چور وجود بس آرام کا طلبگار تھا اوپر سے آذان کو سلانے کی جلدی تھی کہ کہیں نیند نہ اڑجاۓ اس کی پھع تو اس نے شدید تنگ کرنا تھا ۔۔۔ ابھی لائیٹ بند کرتے وقت سرسری نظر دیوار پر پڑی جہان سے ایمن کی بنائی پینٹنگز اور دائم اور اس کی انلارج تصویر کا نہ ہونا اسے محسوس تو ہوا پر تھکن کی وجہ سے بےسمجھی سے لیٹ گئی پر لیٹتے ہی اسے سمجھ آئی بات تو اٹھ بیٹھی اب لائیٹ آن کرکے اس کے سر پر کھڑی پوچھ رہی تھی ۔۔۔

وہ مناہل کے انداز پر اٹھا اس کا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بٹھایا وہ جلدی سے کھسک کر دور ہوکر بیٹھ گئی ۔۔۔ وہ چہرے پر ناگوار تاثرات لیۓ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

“دیکھو مناہل تم سمجھنے کی کوشش کرو میں چاہتا ہوں تم اس کمرے کو مجھے اپنا سمجھو اس لیۓ اس کمرے سے ایمن کی تصویریں ہٹائیں ہیں , کچھ غلط سوچنے کی ضرورت نہیں ساری حویلی میں اس کی بنائی پینٹنگز اور تصویریں ہیں ۔۔۔ دائم کا انداز سمجھانے والا تھا ۔۔۔

“کیا سمجھ رکھا ہے آپ نے مجھے , ہاں کیا سمجھا ہے مجھے , جلن اور حسد ہے اپنی بہن سے جو اس کی چیزیں برداش نہیں مجھے اس کمرے میں ۔۔۔ نا میں حاسد ہوں نا میں قابض ہوں دائم خان آپ نے مجھے بلکل غلط سمجھ رکھا ہے ۔۔۔ سمجھ کیوں نہیں اتا آپ کو ۔۔۔ مناہل کو شدید غصہ ارہا تھا ۔۔۔ اپنا غصہ دبانے کے باوجود لہجے کی تلخی برقرار تھی ۔۔۔

“مناہل میں سب سمجھتا ہوں کچھ ہے یا کوئی بات ہے جو تمہیں اندر ہی اندر دیمک کی طرح کھارہی ہے ۔۔۔ تم کھل کے کہو مجھ سے , اچھی لڑکی تم نے میری ساری پریشانیاں اپنے سرلیں ہیں اس لیۓ تمہاری فکر اور پرواہ مجھے رہتی ہے , میں نہیں روک سکتا خود کو تمہاری فکر کرنے سے ۔۔۔ تم بہت اچھی ہو مناہل ۔۔۔ دائم اس کے غصے کو دیکھتے ہوۓ خود نرم ہوگیا اور نرمی سے بولا تھا سب ۔۔۔ اس کے پیار بھرے انداز پر مناہل چپ کرگئی زیادہ بول ہی نہ سکی ۔۔۔ تنے ہوۓ اعصاب کچھ نارمل ہوۓ تھے مناہل کے ۔۔۔

“مجھے ایمن آپی کی سب چیزیں اسی جگہ پر چاہیئیں جہان رکھیں تھیں ۔۔۔ پلیز میں یہاں ایمن آپی کو آپ کی زندگی سے نکالنے نہیں آئی ۔۔۔ مناہل کا

“جانتا ہوں تم صرف آذان کے لیۓ آئی ہو پر مجھے لگتا ہے تمہیں میری ضرورت ہے اور مجھے بھی تمہاری ضرورت ہے مناہل ۔۔۔ میں یہ کبھی نہیں کہے سکتا مناہل کہ میں ایمن کو بھول سکتا ہوں وہ اپنی جگہ پر ہے پر میرے دل میں تمہاری بھی گنجائش نکلتی ہے ۔۔۔ یہ شاید اللہ کی مرضی ہے جس نے ہمیں نکاح جیسے بندھن میں باندھا ہے جو دنیا کا سب بہتریں اور مقدس رشتہ ہے , جس کی وجہ سے میں اپنے امدر تمہارے لیۓ فکر اور احساس رکھتا ہوں ۔۔۔ میں چاہتا ہوں سب نارمل ہو ہمارے بیچ ۔۔۔۔

“سب نارمل تو ہے کیا ایب نارمل ہے ۔۔۔ ہاں بولیں کیا نارمل نہیں ۔۔۔ جانے کیا دکھتا ہے آپ کو ایب نارمل ۔۔۔ سکون سے جیئیں اپنی زندگی اور مجھے بھی سکوں سے رہنے دیں آذان کے ساتھ ۔۔۔ مناہل کا انداز عجیب لگا دائم کو ۔۔۔

“اوکے فکر نہ کرو , کل ہی لگادوں سب ایمن کی تصویریں ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔

“نہیں ابھی , ورنہ ابھی ایک پل نہیں رہوں گی یہاں ۔۔۔ مناہل کے انداز میں دھمکی تھی ۔۔۔

“اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔ دائم نے آخر ہار مان لی ۔۔۔ پھر ان دونوں نے مل کر واپس لگائیں تصویریں ۔۔۔ یوں مناہل کے اندر واپس سکوں اترا اور دونوں سوگۓ کچھ ہی دیر میں ۔۔۔

@@@@@@

“پیپر کی تیاری ہوگئی ہے ۔۔۔ دائم نے اس سے پوچھا کیونکہ کل اس کا پہلا پیپر تھا ۔۔۔

“جی ۔۔۔ مناہل کتاب پر سے نظریں ہٹاکر بولی ۔۔۔

“کل میں تمہیں خود چھوڑنے جاؤں گا کالیج ۔۔۔ دائم نے بتایا ۔۔۔

“ٹھیک ہے ۔۔۔ وہ بول کر دوبارہ کتاب کی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔

“کیا خیال ہے کچھ دن شہر ٹھر جاؤ اس طرح تم مسافت سے بچ جاؤگی ۔۔۔ پیپر دینے میں بھی آسانی رہے گی ۔۔۔ دائم نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوۓ فکر سے کہا ۔۔۔۔

“نہیں وہاں آذان کو تکلیف ہوگی , میں یہیں ٹھیک ہوں , اگر آپ کو پرابلم ہو لے جانے میں تو رہنے کا سوچا جاسکتا ہے ۔۔۔ مناہل نے نارمل لہجے میں کہا ۔۔۔

“نہیں مجھے کوئی پرابلم نہیں ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔

“تو ٹھیک ہے کل صبح چھ بجے نکلیں گے تو وقت سے امتحان کے سینٹر پہنچ جائیں گے ۔۔۔

“ہممم سہی ہے ۔۔۔ وہ دوبارہ کتاب کی طرف متوجہ ہوگئی اور دائم کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔

پورا دن اپنی طرف سے سب نے کوشش کی کہ آذان اس کے پاس نہ ہو تا لکہ سکون سے پڑھسکے پر آذان کہاں اسے چھوڑنے والا تھا ۔۔۔

رات کے وقت اذان کو لٹاکر کاٹ میں پلٹی تو دائم کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس دیکھ کے حیران ہوئی ۔۔۔

“یہ کیا ۔۔۔ مناہل نے پوچھا ۔۔۔

“تمہارے لیۓ ۔۔۔ چلو جلدی سے پی کر سوجاؤ ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔

“دائم , میں بچی نہیں ہوں ۔۔۔۔ مناہل نے منہ بنایا بلکل رونے والا ۔۔۔

“جانتا ہوں پر اگزامز کے دنوں میں روز رات کو یہ بادام والا دودھ زبردستی پلایا جاتا ہے ہمارے گھروں میں ۔۔۔ شاباش جلدی پیو پھر سونا ہے ۔۔۔

“اف اپنوں میں شادی کا نقصان یہ بھی ایک ہے کہ جن چیزوں سے میکے میں بھاگا کرتے ہوں وہ یہاں بھی بگھتنی پڑتیں ہیں ۔۔۔ مناہل نے منہ بنا کر کہا ۔۔۔

وہ حیران ہوا اس کے یوں تبصرے کرنے پر ۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔