Rate this Novel
Episode 19
عید اپنوں کے سنگ
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 19
وہ اس کے بالوں کو سکوں سے جدا کرگیا اپنی شرٹ کے بٹنوں سے ۔۔۔ آزادی ملتے ہی وہ جلدی سے دور ہونے لگی ۔۔۔ پر یہ کیا اسے جھٹکے سے دوبارہ بیٹھنا پڑا کیونکہ اس کے بالوں پر دائم کی گرفت تھی ۔۔.
“بہت خوبصورت ہیں یہ زلفین ۔۔۔ وہ بےخود لہجے میں بولا مناہل کو سو والٹ کا جھٹکا لگا اس کے اس انداز پر ۔۔۔ مناہل شاک ہوگئی ۔۔۔ وہ مناہل کی زلفوں کو تھامتا خود پر گراگیا ۔۔۔
“پلیز چھوڑیں ۔۔۔ وہ منمنائی ہلکی آواز میں بولی ۔۔۔
وہ ہوش میں ہوتا تو محسوس کرتا گریز مناہل کا ۔۔۔ وہ تو مدہوش ہوگیا تھا اس کی زلفوں میں ۔۔۔
کتنے خاموش لمحے وہ اسے خود پر گراۓ اس کی زلفیں دائم کے چہرے پر بکھری ہوئیں تھیں ۔۔۔ وہ اس کا چہرہ تھامتا ہونٹوں پر جھکا ۔۔۔ مناہل آنکھیں بند کرگئی اس لمحے , لمحے بھر کی بات ہے اس کے کانوں میں آواز گونجی ۔۔۔
“خدا نہ کرے جو مناہل میری بیوی بنے ۔۔۔
جھٹکے سے آنکھیں کھولیں مناہل نے اور اس پر سے اٹھی ۔۔۔
“دور رہا کریں مجھ سے , آپ کو سمجھ نہیں آتا , دور رہیں ۔۔۔
مناہل کی آواز بھرائی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ حیرت سے دیکھتا رہا اسے , وہ اپنا دوپٹا سینے پر پھیلاۓ کمرے سے باہر چلی گئی ۔۔۔
وہ عجیب اضطراب کی کیفیت میں گھرا ہوا خود کو محسوس کرنے لگا اس کے جانے کے بعد ۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اس کے پیچھے جا نہ سکا ۔۔۔
@@@@@@@
شام کے وقت سے وہ تیار ہوکر عالم کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔ روشانے کی بےچینی محسوس کرکے زونی پوچھے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔ جس پر روشانے اسے ٹال گئی ۔۔۔ جانے کیوں روشانے زونی سے اتنی فرینک نہ ہوتی تھی جبکہ زونی ہمیشہ اس سے اچھے طریقے بات کرتی تھی ۔۔۔
زونی شمائل کو ڈنر کرواکر پھر خود کرنے لگی اس نے روشانے کو بلایا پر وہ انکار کرگئی کھانا کھانے سے ۔۔۔ روشانے کا یہ انداز دیکھ کر زونی چپ کرگئی ۔۔۔
رات کے گیارہ بجے عالم خان نے لاؤنج میں قدم رکھا , وہ اکیلی تنہا لاؤنج میں بیٹھی تھی , عالم خان اسے اگنور کرتا اپنے روم کی طرف جانے لگا ۔۔۔
“آپ کو دکھائی نہیں دے رہا میں لاؤنج میں بیٹھی تھی ۔۔۔ وہ اس کے پیچھے اتے ہوۓ بولی تھی لہجے میں دکھ تھا جس پر وہ حیرت سے پلٹ کر بولا ۔۔۔
“تو مجھے کیا کرنا چاہیۓ تھا تمہارے اس طرح بیٹھنے پر ۔۔۔ عالم خان کا انداز طنزیہ تھا ۔۔۔
“میں اپ کا انتظار کررہی تھی ۔۔۔ وہ اس کی بات کاٹتا ہوا بولا ۔۔۔
“اوہ کمال کردیا تم نے مسز روشانے عالم خان میرا انتظار کرکے تو کیا مجھے بھنگڑا ڈالنا چاہیۓ آپ کی اس تبدیلی پر ۔۔۔ وہ بھرپور طنزیہ لہجے میں بولا ۔۔۔
“آپ کو اس طرح مجھ سے بات نہیں کرنی چاہیۓ ۔۔۔ روشانے نے ضبط سے کہا ۔۔۔ اس کا چہرہ سرخ ہوا عالم خان کی اس تذلیل بھرے انداز پر ۔۔۔
“روشانے میرا دماغ نہ خراب کرو میں الریڈی تھکا ہوا ہوں اس پر تمہاری یہ گوگلی والا انداز , مجھے سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔ اب کیا چاہتی ہو تم ۔۔۔ صبح تم نے اپنی بھرپور نفرت کا اظہار کیا تھا ہم سب کے لیۓ , اب اس انداز کو میں کیا نام دوں ۔۔۔ عالم خان کی باتوں سے اندازہ ہورہا تھا کہ اسے اس کی صبح والی باتوں کا شدید دکھ ہوا ہے ۔۔۔
“آئی ایم سوری , مجھے اپنی صبح کی غلطی کی معافی مانگنی ہے ۔۔۔ روشانے کے شرمسار انداز پر وہ شاک ہوا ۔۔۔ یقین نہیں ارہا تھا یہ وہی روشانے ہے ۔۔۔
“مجھے معاف کردیں , شدید نیند میں مجھے اندازہ نہ ہوسکا , میں کیا کیا بول گئی ۔۔۔ مجھے ایسا نہیں بولنا چاہیۓ تھا ۔۔۔ وہ روشانے کو بغور دیکھ رہا تھا جبکہ وہ اپنے ٹوہ میں بولے جارہی تھی ۔۔۔
“اٹس اوکے روشی ۔۔۔ اس کے شرمسار ہونے پر وہ کچھ ریلیکس ہوا ۔۔۔ اس کے اعصاب کچھ ڈھیلے پڑے ۔۔ وہ اس کا ہاتھ تھام گیا وہ چونکی ایک لمحہ کو اس کی گرفت سے ہاتھ چھڑانا چاہا دوسرے لمحے خود پر ضبط کرنے لگی وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔
“اچھا لگا تمہیں احساس ہوا اپنی غلطی کا ۔۔۔ وہ نارمل لہجے میں بولا ۔۔۔
“آپ نے کھانا کھایا ۔۔۔ وہ جلدی سے بولی ۔۔۔ شاید اس کا دھیان ہٹانا چاہ رہی تھی خود پر سے ۔۔۔
“ہمممم موڈ نہیں اور تم نے ۔۔۔ اب وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔ انداز ریلیکس سا تھا ۔۔۔۔ روشانے کی کمر پر گرفت مضبوط کرتا ہاتھ میں ہاتھ تھامے روم کی طرف بڑھتے قدم روشانے کو پریشان کررہے تھے ۔۔۔
“میں کھانے پر آپ کا انتظار کررہی تھی ۔۔۔ وہ چلدی اے بولی ۔۔۔
“تو آؤ کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔ وہ جو روم کی طرف جارہا تھا اسے خود سے لگاۓ اب کچن کی طرف مڑگیا اسے لے کے ۔۔۔
وہ کھانا گرم کرنے لگی ۔۔۔۔ وہ جس کے چہرے کے رنگ اڑے ہوۓ تھے اب نارمل ہونے لگے تھے ۔۔۔ عالم خان اسے بھرپور نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔
“اس وقت تم مکمل بیوی والے روپ میں ہو , اچھی لگ رہی ہو روشی ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔ روشی لفظ اسے زہر لگتا تھا وہ ضبط کرگئی ۔۔۔
اس کی نظروں کے انداز پر وہ دوسری طرف دیکھتی اپنا سارا دھیان کام پر دینے لگی ۔۔۔
“چلو باہر چلتے ہیں کسی رومینٹک پلیس پر ڈنر کرکے پھررررر ۔۔۔ عالم خان مسکراہٹ دباتا بولا تاکہ وہ اس کی طرف متوجہ ہو ۔۔۔
“پھر کیا ۔۔۔ وہ گھبرا کر بولی ۔۔۔
“ارے گھبرا کیوں رہی ہو , کہیں تم شرما تو نہیں رہی ۔۔۔ ویسے روشانے اس صدی کا سب سے حسین پل ہوگا جب تم مجھ سے شرماؤ ۔۔۔ عالم خان کے لہجے میں شہد ہی شہد ٹپک رہی تھی یہ سب کہتے ہوۓ ۔۔۔
“ٹھیک ہے چلو چلتے ہیں ۔۔۔ وہ گیس بند کرتی جلدی سے بولی ۔۔۔
“نہیں تم نے اتنے پیار سے کھانا گرم کیا ہے یہیں کھاتے ہیں ویسے بھی باہر جانے میں بہت ٹائیم ویسٹ ہوگا ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔
وہ دوبارہ گیس کھول گئی ۔۔۔ وہ اس کے نظروں کے حصار میں گھری تھی ۔۔۔ کھانا لگاتی ٹیبل پر وہ اسے بیوی کی روپ میں بہت پیاری لگی ۔۔۔
دونوں نے مل کر کھانا کھایا اور روم میں اگۓ ۔۔۔ وہ شدید تھکا ہوا تھا اس لیۓ اسے چاۓ دے کر وہ واشروم میں چلی گئی ۔۔۔ وہ چاۓ پیتے ہوۓ اسے دیکھنے لگا جو سادہ شلوار قمیص میں بھی بےانتہا حسین لگ رہی تھی ۔۔۔ اج اس کے بیویوں والے روپ کو دیکھتے ہوۓ وہ خود پے کیا ضبط ٹوٹنے لگا تھا جانے کیوں روشانے کا پل پل بدلتا انداز اسے خوش بھی کرتا کبھی شک میں مبتلا کرنے لگتا وہ اپنے پولیس والے انداز کو دباتا اسے شوہر کے رو سے دیکھنے لگتا تو دل کو خوشی ملتی ۔۔۔
“آج میں بہت خوش ہوں روشانے ۔۔۔ وہ چاۓ کا کپ رکھتا شیشے کے سامنے کھڑی روشانے کے پیچھے کھڑا ہوکر بولا ۔۔۔
وہ اس کے ہاتھوں سے برش لیتا سائیڈ پر رکھ گیا ۔۔۔
“تم بہت خوبصورت ہو جانتی ہو ۔۔۔ وہ اس کے شولڈر سے بال ہٹاتا بولا ۔۔۔
“ہمممم ۔۔۔ وہ ہلکی آواز میں بولتی نظر جھکا گئی ۔۔۔
کچھ لمحے محبت کے نچھاور کرتے کچھ پل گزرے تھے کہ اس کی موبائیل کی رنگ نے ان فسون خیز لمحات کو توڑا ۔۔۔
“ویٹ کال دیکھ لوں ۔۔۔ عالم خان بولا ۔۔۔ روشانے نے شکر کا سانس لیا ۔۔۔ وہ اس سے دور ہوکر کال اٹھاتا کمرے سے باہر نکلا ۔۔۔
کال ضروری تھی اسے باہر انا پڑا پر اس کا سارا دھیان روشانے کی طرف تھا ۔۔۔ ادھے گھنٹے کے بعد کمرے میں ایا وہ سوچکی تھی ۔۔۔
“ہممممم اج تم سے بہت باتیں کرنی تھیں روشانے عالم خان , چلو اج نہ سہی کل کرلیں گے ۔۔۔ آۓ لووو یو روشانے , میری زندگی کا تم روشن ستارہ ہو ۔۔۔ وہ اس کی پیشانی سے بال ہٹاتا محبت سے لبریز لہجے میں بولا ۔۔۔
وہ محبت سے اس کے ماتھے پر جھکتا ہوا ایک محبت بھرا لمس چھوڑ گیا ۔۔۔ روشانے کا دل زور سے دھڑکا پر وہ ضبط سے آنکھیں بند رکھیں ۔۔۔
وہ اٹھ کر واشروم چلا گیا ۔۔۔ وہ پٹ سے آنکھیں کھول گئی ۔۔۔
“آئی ایم سوری عالم خان بٹ آۓ ڈونٹ ۔۔۔ وہ کروٹ بدل کر تکیۓ میں منہ چھپاگئی ۔۔۔۔ دل کی بےچنی بڑھی تھی یہ سب سوچتے ہوۓ ۔۔۔ عجیب خیالات ذہن میں ارہے تھے وہ سب کو جھٹکتی آنکھیں موند گئی ۔۔۔ اپنے مقصد کے لیۓ اسے عالم خان کا اعتماد جیت کرہی پورا کرنا تھا جس کے لیۓ ہی وہ اس سے معافی مانگ کر دل صاف کرنا چاہ رہی تھی ۔۔۔ جس میں وہ اچھی طرح کامیاب ہوئی تھی ۔۔۔
@@@@@@@
باذل خان اسے ایسٹر کی چھٹیوں میں لندن کی کچھ مشہور جگہ گھمانے لگا ۔۔۔ زونی خوش تھی اس کے ساتھ پر اس کے گھومنے کا انداز عجیب لگا تھا اسے جس طرح وہ ہڈ پہنے گوگلس لگاۓ چلتا ایسا لگتا جیسے خود کو چھپا کر کوئی چل رہا ہو جیسے ۔۔۔ واقعی جس طرح وہ اس کے ساتھ تھا جیسے ہوکر بھی نہ ہو ۔۔۔
“کیا ہوا زونی , تمہیں مزا نہیں ارہا لندن گھومتے ہوۓ ۔۔۔ باذل نے پوچھا جب وہ ریسٹورنٹ کی لاسٹ سیٹ پر بیٹھے ڈنر کر رہے تھے ۔۔۔
“مجھے آپ کے حلیۓ سے الجھن ہوتی ہے ۔۔۔ اجنبیت سا احساس ہورہا ہے ۔۔۔ زونی نے سادگی سے کہا ۔۔۔
“اوکے آئندہ نہیں گھماؤں گا لندن ۔۔۔ باذل نے ناراض لہجے میں کہا ۔۔۔
“اب میں نے ایسا بھی نہیں کہا خان ۔۔۔ جو آپ کو برا لگ گیا ۔۔۔ زونی نے جلدی سے کہا ۔۔۔ باذل کے چہرے سے اندازہ ہورہا تھا اسے اس کی بات بری لگی ہو جیسے ۔۔۔
“سکون سے کھانا کھاؤ پھر گھر چلنا ہے ۔۔۔ باذل سرد لہجے میں بولا ۔۔۔ اس کا انداز ناگوار لیۓ ہوۓ تھا ۔۔۔
“آپ نے کہا تھا ایک اسٹریٹ گھمانے لے جائیں گے ڈنر کے بعد ۔۔۔ زونی نے افسردہ لہجے میں کہا ۔۔۔ اسے دکھ ہورہا تھا اس نے کیوں ناراض کردیا اپنے شوہر کو ۔۔۔
تین دن سے اسے گھمانے کے ساتھ شاپنگ بھی کروارہا تھا ۔۔۔ وہ اس کے ساتھ کچھ ریلیکس ہوگئی تھی ۔۔۔ وہ ہر وقت ڈری سہمی رہتی کہ کہیں اسے کوئی بات بری نہ لگ جاۓ ۔۔۔ نا چاہتے ہوۓ اسے ناراض کرگئی اس بات کا دکھ ہورہا تھا زونی کو ۔۔۔
دن کا آغاز جتنا اچھا رہا اختام اتنا ہی برا رہا ۔۔۔
@@@@@@@@
پارسل رسیوو کرتا حیران ہوا تھا عالم خان ۔۔۔ وہ گھر پر تھا اس لیۓ ملازم اسے دے گیا تھا پارسل ۔۔
پارسل کھولتے ہی اندر روشانے کے سب ڈاکیومینٹس دیکھ کر حیران ہوا ۔۔۔
“یہ کیا ہے ۔۔۔ وہ جو ہینڈ فری لگاۓ موبائیل میں مصروف تھی ۔۔۔ عالم خان نے ڈاکومینٹس اس کے اگے پھینکے ۔۔۔
پارسل دیکھ کر وہ بولی ۔۔۔ اندر سے اپنے ڈاکومینٹ دیکھ کر اس کے چہرے پر خوشی کا تاثر ایا ۔۔۔
“اف میں اسی کا ویٹ کررہی تھی ۔۔۔ وہ خوشگوار انداز میں بولی ۔۔۔
“پر میں منع کرچکا تھا روشانے ۔۔۔ عالم خان بولا ۔۔۔
“اور میں نے کہا تھا میں کوئی شارٹ کورس کرنے کا سوچ رہی ہوں , بوریت نہیں ہوگی مجھے ۔۔۔ مجھے ایڈمیشن لینا ہے ۔۔۔ وہ ضدی لہجے میں بولی ۔۔۔
“میں چاہتا ہوں کل جس طرح تم نے شمائل کو لے کر بیزاریت دکھائی ایسا نہ ہو کل کو ہمارے بچے ہوں تمہارا یہی انداز برقرار رہے , اس لیۓ میرا خیال ہے تم شمائل کو وقت دو بچوں میں دلچسپی لو , مجھے بچے بہت پسند ہیں روشی ۔۔۔ وہ حیران ہوئی عالم خان کی بات سن کر ۔۔۔ اس کے انداز میں شوہرانہ جذبات تھے ۔۔۔
“واٹ بچے ۔۔۔ وہ شاک لہجے میں بولی ۔۔۔ اس کے انداز سے صاف ظاہر تھا وہ عنقریب اس رشتے کو شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔۔۔ اس کا مطلب اسے لگتا ہے روشانے سب بھول کر اگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔۔۔ روشانے کو لگا شاید اپنی بےوقوفیوں سے وہ اسے غلط تاثر دے چکی ہے کہ وہ اسے شوہر ایکسیپٹ کرچکی ہے ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
