Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

ناول … عید اپنوں کے سنگ

ازقلم …. صبا مغل

قسط نمبر 13

سامنے کے منظر نے اسے ساکت کیا ۔۔۔ مناہل لیٹی ہوئی تھی اور اس کے پیٹ پر بیٹھا تھا اذان اس نے گھٹنے فولڈ کیۓ ہوۓ تھے جس پر ٹیک لگائی ہوئی تھی اذان نے ۔۔۔

“اذان مما کہو ۔۔۔ مناہل اذان کو پیار کرتے ہوۓ بولی ۔۔۔

“آنی ۔۔۔ اذان کھل کھلا کر کہتا ۔۔۔

“اذان مستی نہیں , مما بولو میری جان ۔۔۔ مناہل کے چہرے کی رونق دیکھنے کے لائق تھی , وہ اذان کے ساتھ جب بھی ہوتی تو بلکل ایسے ہی خوش رہتی تھی ۔۔۔ کتنا مکمل منظر تھا ۔۔۔

دائم کا دل خوش ہوگیا دیکھ کر ۔۔۔ اسے لگا تھا مناہل شدت سے اس کا انتظار کررہی ہوگی اب شاید غصہ بھی ہو , پر , اس کا ریلیکس ہونا اور اذان کے ساتھ مصروف انداز , دائم کو خوش کرگیا ۔۔۔

“اذان مما کہو ۔۔۔ مناہل نے ایک بار پھر اسے گدگدا کر کہا ۔۔۔

“آنی ۔۔۔ اذان نے کہا ۔۔۔ کھل کھلا اٹھا تھا پھر سے شاید اسے مزہ ارہا تھا اسے تنگ کرتے ہوۓ ۔۔۔

“شریر کہیں کے ۔۔۔ اب کے مناہل نے ناراض ہوکے منہ کو پھلا کر اب چہرہ چھپالیا دونوں ہاتھوں میں ۔۔۔ اذان اس کے ہاتھ ہٹانے لگا بےچینی سے پر اس نے بھی کس کے منہ پر رکھے ہوۓ تھے ۔۔۔ دونوں میں اک نئی جنگ شروع ہوگئی ۔۔۔

“مما مما ۔۔۔ اب کے اذان نے کہا تو اس نے جلدی سے ہاتھ ہٹا کر اس کا منہ چوم لیا ۔۔۔

“اذان میری جان ۔۔۔مناہل نے اسے خود پر گرالیا ۔۔۔ دائم کے لیۓ وہ لمحہ ہی ٹھر گیا ۔۔۔ اب دونوں ہنس رہے تھے ۔۔۔ دائم نے ان کی بےخبری میں کئیں تصویریں کھینچ لیں ۔۔۔

اچانک مناہل کی اس پر نظر پڑی اٹھ کر بیٹھ گئی اور جلدی سے دوپٹے کو ڈھونڈنے کے لیۓ ہاتھ مارنے لگی جو نظر ہی نہیں ارہا تھا ۔۔۔

“ہممم ریڈی ہوجاؤ بڑی حویلی چلنا ہے پھپھو انتظار کررہی ہونگی ۔۔۔ اس کی شرمندگی دور کرنے کے لیۓ دائم بولا تھا ۔۔۔

“جی جی ۔۔۔ وہ شرمندہ سی بولی ۔۔۔

اس نے اس طرح اذان کو اٹھایا ہوا تھا جیسے کوئی لڑکی دوپٹا اگے سے لیتی ہے تاکہ اس کی نمایاں نہ ہو جسامت ۔۔۔ دائم کو اس کے احتیاط پر ہنسی آئی وہ نظروں ہی نظروں میں دوپٹا ڈھونڈرہی تھی جو ملنے کا نام نہیں لے ارہا تھا ۔۔۔

دائم کو بیڈ کے نیچے دوپٹا گرا نظر ایا اس نے اٹھاکر مناہل کو دیا اور کہا “اذان مجھے دو اور ریڈی ہوجاؤ ۔۔۔

اس نے شکر کیا دل میں اور جلدی سے دوپٹا اوڑھ لیا ۔۔۔

اذان دائم کی گود میں ضد کرنے لگا ۔۔۔ مناہل جلدی بال باندھ کر آئی اور بولی ۔۔۔ “چلیں , لائیں مجھے اذان دیں ۔۔۔

دائم نے بغور دیکھا جو بغیر میک اپ اور جیولری کے , ایک دن کی دلہن کہیں سے نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔

“نہیں پہلے اچھے سے تیار ہوجاؤ ۔۔۔ اس طرح نہیں لے جاسکتا ۔۔۔ دائم نے دوٹوک کہا ۔۔۔ اس کو اس کی لاپرواہی شدید بری لگ رہی تھی ۔۔۔

“میں ایسے ہی ٹھیک ہوں جلدی چلیں , دیں مجھے اذان ۔۔۔ مناہل نے اس کی بات کو بغیر کوئی اہمیت دیتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

“مناہل مجھے زبردستی پر مجبور نہ کریں , جو کہا ہے وہی کریں ۔۔۔ دائم نے سخت لہجے میں کہا ۔۔۔

وہ ضبط کرتی ہوئے تیار ہونے لگی ۔۔۔

“کونسا تھوڑے سے میک اپ سے مجھے حور پری لگنا ہے ۔۔۔ مناہل نے برش پٹختے ہوۓ کہا ۔۔۔ اس کے انداز پر دائم کو غصہ ایا پر ضبط کرگیا ۔۔۔

“میک اپ کے علاوہ زیور بھی پہنین , بری میں اتنا زیور اس لیۓ نہیں دیا کہ بکسوں کی زینت بنارہے ۔۔۔ دائم نے ضبط سے کہا ۔۔۔

اسے حیرت ہورہی تھی اس کے تلخ انداز پر ۔۔۔ اذان کو اس کے فیورٹ کھلونے دے کر بیڈ پر بٹھایا اور اس کے روبرو ایا تھا دائم ۔۔۔

“مناہل میری بات سنین ۔۔۔ وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ گیا کہتے ہو ۔۔۔

جس پر وہ ایسے دور ہوئی جیسے کرنٹ کی تار نے چھوا ہو ۔۔۔

“میں نے کہا مجھے ہاتھ مت لگائیں دور سے بات کریں اتنی سی بات سمجھ نہیں اتی اپ کو ۔۔۔ وہ تند لہجے میں بولی ۔۔۔

دائم کو شاک کرگیا اس کا یہ انداز ۔۔۔

“فی الحال سینڈل پہنیں اور چلیں بڑی حویلی میں , سب انتظار کر رہے ہونگے ۔۔۔ رات کو اپ کی بات کا جواب دوں گا اچھی طرح ۔۔۔ دائم کے کہے آخری لفظوں پر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی پر وہ اذان ہو لے کر باہر نکل گیا اتنا کہے کر ۔۔۔۔

“میں باہر انتظار کررہا ہوں جلدی آئیں ۔۔۔

اور وہ جلدی سینڈل پہن کر باہر اگئی ۔۔۔ ساتھ میں چادر اوڑھنا نہیں بھولی کیونکہ بمشکل پانچ منٹ کے واک پر تھی بڑی حویلی تو زیادہ تر پیدل ہی جاتے تھے سب ۔۔۔

@@@@@@@@@

“یہ ٹھیک نہیں کیا تم نے روشانے ۔۔۔ عالم خان نے ضبط سے کہا ۔۔۔

“میں نے کیا کیا ۔۔۔ وہ معصومیت سے آنکھیں پٹ پٹاکر بولی تھی ۔۔۔ زیور اتارنے لگی جو عالم کے کہنے پر پہنا تھا ۔۔۔

“زیادہ ممعصوم بننے کی ضرورت نہیں , تایاجان اور تائی امی کے ساتھ اتنا روڈ کیوں ہوئی تم ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔

“میری مرضی کیونکہ یہ میرا اور میرے پیرینٹس کا معاملہ ہے , اپ بیچ میں نہ پڑیں تو اچھا ہے ۔۔۔ روشانے نے چڑ کر کہا اور گلے سے مالا اتار کر ڈریسنگ پر پٹخی ۔۔۔

“روشانے مجھے سختی پر مجبور نہ کرو , تمہیں میں اجازت نہیں دوں گا اس طرح کے رویۓ کی ۔۔۔ عالم خان نے سختی سے کہا ۔۔۔

اسے رہ رہ کر غصہ ارہا تھا جب وہ سب سے ملی بڑی حویلی میں سواۓ اپنے پیرینٹس اور شانزے کے ۔۔۔ اور پھر وہ خود آۓ ملنے کو تو اس کا انداز سرد تھا جب اسے خود سے لگانا چاہا سبین نے تو ان کو روک گئی ۔۔۔

“پلیز یہ ڈرامے اپنی دوسری بیٹی کے لیۓ رکھیں ,مجھے ضرورت نہیں ان سب کی ۔۔۔ روشانے دبے لہجے میں بولی تھی ۔۔۔ آنکھوں میں شدید نفرت اور غصہ تھا ۔۔۔

ان کی آنکھوں آنسو جھلملاۓ اس کی بےرخی پر ۔۔۔ پر وہ لاپرواہ بن کر اگے بڑھ گئی ۔۔۔

“اب اپ غلطی پر ہیں , مجھے چابی کی گڑیا کی طرح چلانا چاہتے ہیں , میری بھی اپنی مرضی اور راۓ ہوسکتی ہے ۔۔۔ روشانے نے تند لہجے میں کہا ۔۔۔ سارا زیور اتارچکی تھی وہ ۔۔۔

“روشانے وہ تمہارے ماں باپ ہیں ۔۔۔ جن کا احترام تم پر لازم ہے ۔۔۔ عالم اس کی بات کو اگنور کرتا , اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔

“پلیز میرے اور میرے ماں باپ کے معاملوں سے دور رہیں ۔۔۔ اگر اپ کے ماں باپ سے بدتمیز کروں تو ضرور ٹوکیۓ گا ۔۔۔ روشانے اتنا بول کر جانے لگی الماری کی طرف , اپنا رات کا ڈریس پہننے کے لیۓ , نکالنا جو تھا ۔۔۔ عالم نے اس کا بازو تھام کر اپنے روبرو کیا ۔۔۔

“روشانے میں تمہیں کسی کے ساتھ بدتمیزی کی اجازت نہیں دےسکتا ۔۔۔ عالم خان دوٹوک انداز میں بولا ۔۔۔

“واقعی کوئی موم کی گڑیا ہی لگتی ہوں اپ کو , جو اپنے انداز میں اتنی اسانی سے ڈھال لیں گے مجھے , میری اپنی مرضی اور راۓ نہیں ہوسکتی کیا ۔۔۔ روشانے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش میں ہلکاں تھی اور ساتھ بولی بھی تھی ۔۔۔

“موم کی حسین گڑیا ہو تم روشانے , کیا میرے نرم گرم لمس سے پگھل سکتی ہو یا نہیں بس یہی دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔ وہ گھمبہیر لہجے میں کہتا اسے پریشان کرگیا ۔۔۔

“پلیز عالم ۔۔۔ اب کے روشانے گھبرا گئی تھی ۔۔۔

“ششششش روشانے مجھے محسوس کرنے دو ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔

وہ تو سانس روک گئی اس کے اس انداز پر ۔۔۔ وہ اس کے گلے سے دوپٹا سرکا گیا ۔۔۔

وہ اس کے کندھے پر اپنا لمس چھوڑ گیا وہ کانپ گئی تھی اندر سے ۔۔۔ اب اس کے ہونٹوں پر جھکنے لگا ۔۔۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے ۔۔۔ وہ آنکھین بند کرگئی ۔۔۔ درد کی عجیب لہر اس کے سینے میں جاگی اور بےبسی کی انتہا پر محسوس کرتی روشانے نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا , وہ اس کے مقابل نہیں انا چاہتی تھی ۔۔۔ کئی لمحوں تک کوئی لمس محسوس نہ کرکے حیرت میں اس نے جلدی سے آنکھیں کھولیں ۔۔۔

عالم سامنے صوفے پر بیٹھا مسکرارہا تھا ۔۔۔ روشانے نے سکون کا سانس لیا ۔۔۔

“مجھے ڈر لگا کہیں تم واقعی پگھل گئی تو میرا کیا ہوگا , پھر تمہارے لیۓ مجھے اپنے جذبات سرد نہ کرنے پڑ جائیں ۔۔۔ عالم خان نے کہا ہنستے ہوۓ ۔۔۔

“ادھر آؤ روشانے ۔۔۔ اس کے بلانے پر وہ مردہ قدموں سے صوفے کے پاس اکر کھڑی ہوئی ۔۔۔

“بیٹھ جاؤ ۔۔۔ عالم نے اپنے پہلو میں بیٹھنے کی پیشکش کی ۔۔۔

“نہیں میں کھڑی ٹھیک ہوں ۔۔۔ وہ منمنائی ۔۔۔

وہ اس کا ہاتھ تھام کر اپنے پہلو میں گرا گیا , وہ بھی اس کے ایک جھٹکے پر اس کے پہلو میں اگری تھی ۔۔۔ سنبھل کر جلدی سیدھی ہوکر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔

“کیا تم چاہتی ہو میں پہلے جیسا ہوجاؤں تمہارے لیۓ ۔۔۔ عالم اس کے کندھے پر اپنا بازو رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

روشانے کو نہیں پتا تھا وہ اسے حراس کرنا چاہتا ہے یا نہیں , پر وہ اس کے ذومعنی جملے اور اس کے یوں حق جتانے کے انداز پر حراس ہونے لگی تھی , نا چاہتے ہوۓ بھی ۔۔۔

“نہیں بلکل نہیں ۔۔۔ روشانے نے گھبرا کر کہا ۔۔۔

“گڈ , کل تم اچھی طرح ماں باپ سے ملوگی , پھر ہم نے روانہ ہونا ہے شہر کے لیۓ ۔۔۔ عالم نے سکون سے اپنا اگلا پروگرام بتایا ۔۔۔

“واٹ , شہر کیوں ۔۔۔ روشانے حیرت سے بولی تھی ۔۔۔

“کیوں گاؤں میں تمہیں رہنا پسند ہے کیا ۔۔۔ عالم نے حیرت سے پوچھا ۔۔

“ہمممم میں یہیں ٹھیک ہوں اپ اتے جاتے رہتے ہیں نا ۔۔۔ روشانے نے سکون سے کہا ۔۔۔

“کیا واقعی مجھ سے جان چھڑانا چاہ رہی ہو ۔۔۔ عالم نے آۓ برو اچکا کر پوچھا ۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ اس کے تاثرات بغور جاچنے لگا ۔۔۔

“نہیں , نہیں , مجھے لگا اپ کو اچھا لگے گا میرا یہاں رہنا اپ کے ماں باپ کے ساتھ ۔۔۔ روشانے جلدی سے صفائی دیتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

“مجھے تو شدید برا لگ رہا ہے میری نئی نویلی دلہن مجھ سے جان چھڑانے کی بات کررہی ہے ۔۔۔ عالم نے مصنوعی افسوس ظاہر کیا ۔۔۔

“نہیں آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں ۔۔۔ اس نے انگلیان مروڑتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“ان پر ظلم نہ کرو روشانے ۔۔۔ وہ اس کی گرفت سے وہ ہاتھ چھڑا گیا جس کی انگلیاں وہ مروڑ رہی تھی ۔۔۔ وہ مکمل اس سے لگ کے بیٹھی تھی اس کے پرفیوم کی خوشبو روشانے کی نتھوں میں اتر رہی تھی ۔۔۔ اچانک اس کی پیشانی چوم گیا عالم خان وہ جی جان سے کانپ کر رہ گئ , وہ اس کے اس طرح کی قربت عادی نہ تھی ۔۔۔ وہ بھی اسے زیادہ ازماۓ بغیر اٹھ کھڑا ہوا اور الماری سے اپنا نائیٹ ڈریس نکالتے ہوۓ بولا ۔۔۔

“ہمممم تو بسس ٹھیک ہے کل شہر چل رہے ہیں , اپنی پیکینگ کر لینا ۔۔۔

“جیسا آپ کو ٹھیک لگے ۔۔۔ روشانے نے آہستہ سے کہا مری ہوئی آواز میں ۔۔۔

@@@@@@@

“زونی اپنا سامان باندھ لو بیٹا , کل شہر جانا ہے ۔۔۔ سبین خان نے کہا اس کے کمرے میں اکر ۔۔۔

“تائی امی , مجھے لگتا ہے میری ڈگری مکمل نہیں ہوپاۓ گی , پتا نہیں باذل کب لینے اجائیں ۔۔۔ زونی نے فکر سے کہا ۔۔

“تب کی تب دیکھی جاۓ گی , عالم بول کر گیا ہے , اس لیۓ جانا ضروری ہے ۔۔۔ سبین نے کہا ۔۔۔

“ٹھیک ہے تائی امی پر باذل غصہ نہ ہوں , ان سے پوچھ لینا چاہیۓ , میرے پاس تو ان کا نمبر بھی نہیں ۔۔۔ زونی نے فکرمندی سے کہا ۔۔۔

“میں سنبھال لوں گی تم فکر نہ کرو , بسس تم ایک کام کرنا ۔۔۔ سبین نے اسے ریلیکس کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“جی تائی امی حکم کریں ۔۔۔ وہ بولی ۔۔۔

“روشانے کا خیال کرنا , اس کی کوئی بات بری لگے اگنور کرنا عالم سے شکایت مت کرنا ۔۔۔ ان کے لہجے میں التجا تھی کیونکہ وہ اس کی طبیت اچھی طرح جانتی تھیں وہ غصے کی تیز ہے کسی پر بھی اتارسکتی ہے اپنا غصہ ۔۔۔

“تائی امی , فکر نہ کریں , جیسا اپ چاہتی ہیں وہی ہوگا روشانے میرے لیۓ بہنون کی طرح ہے بھلا بہنوں کی کوئی بات کب بری لگتی ہے ۔۔۔ زونی پیار سے بولی ۔۔۔

“شاباش , تم نے میری بات کا مان رکھا زونی , مجھے خوش ہے تم نے بچے کے بعد بھی اپنی پڑھائی جاری رکھی ۔۔۔

انہوں نے گلے لگا کر اسے پیار کیا ۔۔۔ زونی مسکرائی ان کے اس انداز پر ۔۔۔ یہ پہلی دفعہ تھا جو انہوں نے اچھے سے بات کی تھی زرتاشہ سے ۔۔۔

@@@@@@@

“نوروز خان , میرا خیال ہے یہ کچھ دن تم شہر روشانے کے پاس ٹھرجاؤ پھر تم لوگوں کی واپسی ہے ۔۔۔ اکبر خان نے اپنے بیٹے سے کہا ۔۔۔ رات کے اس پہر باپ بیٹے اکیلے بیٹھے تھے ۔۔۔ عالم بتاکر گیا تھا کل روشانے کو اپنے ساتھ شہر لے کر جارہا ہے ۔۔۔

“نہیں باباجان یہ دن میں اپ کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں ۔۔۔ نوروز خان نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا ۔۔۔

“پر بیٹا , زونی بھی شہر جاۓ گی اس کا بھی اسکول کھل گیا ہے ۔۔۔ اکبر خان یونیورسٹی کو بھی اکثر اسکول ہی کہتے تھے ۔۔۔

“باباجان اسکول نہیں یونیورسٹی ۔۔۔ نوروز نے کہا ۔۔

“ہاں ہاں وہی ۔۔۔ وہ جلدی سے بولے تھے ۔۔۔

“تم اکیلے ہوجاؤ گے ۔۔۔باپ کو اپنے بیٹے کی فکر تھی جبکہ نوروز خان کو صرف اپنے باپ کا خیال تھا ۔۔۔

“نہیں ہم یہیں آپ کے پاس رہیں گے باباجان ۔۔۔ نوروزخان نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔

“خوش رہو آباد رہو , نوروز سچ میں تم نے مجھے بہت بڑی خوشی دی ہے , روشانے کو میرے عالم کی دلہن بناکر , یقین مانو سارا گاؤں کہتا تھا تم بیٹی کے بڑے ہوتے ہی بدل جاؤگے , پر مجھے یقین تھا اس بار میرا بیٹا میرا مان نہیں توڑے گا ۔۔۔ تم نے مجھے بہت بڑی خوشی دی ہے ۔۔۔ اکبر خان کے ہر اک لفظ میں بیٹے کےلیۓ محبت ہی محبت تھی ۔۔۔

“بسسس , بابا جان , اللہ کا کرم ہے جو اس نے مجھے توفیق دی کہ اپ کو خوش کرسکا ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔ وہ ان گھنٹنوں کے پاس بیٹھا بولا تھا ۔۔۔ بچپن سے اس کی عادت تھی باپ کے سامنے یونہی عقیدت سے بیٹھ جاتا , اب عمر کے اس حصے میں بھی باپ کے اگے جھکے تھے نوروزخان ۔۔۔ اکبر خان کو ٹوٹ کر پیار ایا اپنے سب سے بڑے اور لاڈلے بیٹے پر جن کو انہوں نے اب سے زیادہ آزادی دی اور سب بھائیوں میں زیادہ پڑھایا تھا ۔۔۔

@@@@@@@@

سب نے رات کا کھانا بڑی حویلی میں کھایا تھا ۔۔۔ مناہل نے کمرے میں اتے ہی سوۓ ہوۓ اذان کو بیڈ پر لٹایا , اپنے کپڑے جلدی بدل کر ایزی سا لان کا سوٹ پہن کر آئی تھی ۔۔۔

اذان کا شلوار کڑتا نکال کر اس کے کپڑے ارام سے بدلنے لگی تاکہ اس کی نیند نہ ٹوٹے , اس کا پیمپر چینج کردیا , آئل سے ٹانگوں پر مساج کرکے پھر شلوار پہنائی ۔۔۔ اس ریڈی کرواکر اس کا ماتھا چوما ۔۔۔یہ سب کرتے ہوۓ اس کے چہرے پر الوہی چمک تھی دائم جو اس لمحے کمرے میں ایا مبہوت ہوکر دیکھنے لگا ۔۔۔

اب مناہل اپنی گود میں بٹھاۓ اسے فیڈر پلانے لگی کیونکہ اس سے بچہ زیادہ بہتر نیند کرتا ہے اور اس کی جلدی نیند ٹوٹتی بھی نہیں ۔۔۔ ساتھ ساتھ وہ اس پر ایات کا دم کررہی تھی ۔۔۔ دائم کپڑے نکالنے الماری کی طرف بڑھا تھا پر چور نظروں سے اس کی کاروائی بغور دیکھتا رہا ۔۔۔

اتنی کم عمری میں بچے کو اتنا مچیورٹی سے سنبھالنے پر وہ حیران ہی تھا ۔۔۔ انیس سال کی عمر , بہت کم عمر تھی مناہل کی , اتنا کچھ اس کا کرنا سب کے لیۓ , قابلِ تعریف تھا ۔۔۔ دائم جانے کیوں اس کے لیۓ اتنا سوچنے لگا تھا ۔۔۔

اس کا بستر بیڈ کے بیچوں بیچ سیٹ کررہی تھی تو دائم نے کہا “اسے کاٹ میں لٹادو , سکون سے سوۓ گا ۔۔۔

دائم کی بات ناگوار گزری پر ضبط کرگئی تھی ۔۔۔

“یہیں ٹھیک تو ہے , ہمارے بیچ ۔۔۔ آخری لفظوں پر اس نے زبان دبائی , شاید وہ یہ کہنا نہ چاہتی تھی ۔۔۔

“تم بات مانتی کیوں نہیں , ہر بات میں بحث ضروری ہے مناہل ۔۔۔ دائم نے کہا ۔۔۔

“ٹھیک ہے ۔۔۔ مناہل نے بات ختم کرنا چاہی ۔۔۔

وہ اذان کو کاٹ میں لٹا کر پلٹی تو دائم سے ٹکراگئی جو اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا ۔۔۔

وہ جلدی سے اس کے پاس سے گزرنا چاہ رہی تھی پر وہ اسے تھام گیا بازؤں سے ۔۔۔ وہ حیران ہوئی ۔۔

“میں نے شام میں تم سے کچھ کہا تھا مناہل ۔۔۔ شاید تم بھول گئی ۔۔۔ دائم کا لہجہ ہنوز نرم تھا کوئی سختی کا گمان تک نہ تھا ۔۔۔

“پلیز ہاتھ ہٹائیں ۔۔۔ مناہل آہستہ سے بولی تھی ۔۔۔

“مناہل کیا بات ہے , اس طرح کیوں بھاگتی ہو مجھ سے ۔۔۔ دائم سکوں سے بولا تھا ۔۔۔ اس کے بازو پر نرمی سے اس کے ہاتھ دھرے تھے ۔۔۔

“پلیز , میں نے کہا , مجھ سے دور رہیں مجھے میرے حال پر چھوڑدیں ۔۔۔ مناہل سختی سے بولنا چاہتی تھی پر دائم کی نرمی اسے کسی قسم کی سختی سے باز رکھے ہوۓ تھی ۔۔۔

“میں نہیں چھوڑ سکتا تمہیں تمہارے حال پر , بیوی ہو میری , تمہیں تمہارا مقام دینا چاہتا ہوں جو تمہارا جائز مقام ہے ۔۔۔ اس کے پیار بھرے انداز پر وہ پہلو بدل کر رہ گئی ۔۔۔

“نہیں مجھے اپ سے کچھ نہیں چاہیۓ , حقیقت یہی ہے ۔۔۔ مناہل نے کہا ۔۔۔

“اس طرح مناہل زندگی نہیں گزرتی , یہ بیگانگی کی دیوار ہٹے گی تو ہی سب ٹھیک ہوگا ہمارے بیچ ۔۔۔ دائم کے لہجے اور آنکھوں میں شوہرانہ جذبات دیکھ کر مناہل کی کیفیت عجیب ہوئی تھی ۔۔۔

دائم نے پیار سے اس کے ماتھے پر اس رشتے کی پہلی مہر مثبت کی ۔۔۔ وہ بےچین ہوئی تھی ۔۔۔

“تم محسوس کرو مناہل , ہمارا رشتہ بہت مضبوط ہے , میں چاہتا ہوں اور مضبوط کریں اسے ہم مل کر , اذان ہو مکمل فیملی کا احساس دیں ۔۔۔ دائم نے گھمبیر لہجے میں کہا ۔۔۔ اس کا انداز ایسا تھا وہ دیکھتی رہ گئی اس نے حوالہ بھی مضبوط دیا تھا جو خاموش ہونا پڑا اسے ۔۔۔

وہ اس کا دوپٹا اس کے گلے سے اتار کر سائیڈ پر رکھا ۔۔۔ وہ ایک بار پھر جسارت کر گیا بےچین ہوکر مناہل نے پہلو بدلا ۔۔۔

وہ اس کے ہاتھوں پر دباؤ بڑھا کر اس کے جانے کی راہیں روک گیا ۔۔۔ اب کے اس کے اندر غضب کی مذاحمت جاگی پر دائم اس پر اپنا دائرہ تنگ کرنے لگا ۔۔۔ مضبوط حصار میں وہ اچکی تھی وہ اسے اپنے سینے سے لگاۓ اس کی کان کی لو چوم گیا ۔۔۔ دائم نے کوئی سرگوشی کی اس کے کان کے پاس پر دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی سمجھ ہی نہ سکی تھی وہ ۔۔۔ اسی لمحے جب وہ اس پر مکمل حاوی ہونے لگا ایک آواز زور سے اسے سنائی دی ۔۔۔

“اللہ نے کرے , مناہل اور میری گھروالی ہو ۔۔۔ دائم کی یہ آواز اتنی زور سے اس کے آس پاس گونجنے لگی تھی کہ وہ پوری زور سے اسے دھکا دے کر خود سے دور کیا مناہل نے ۔۔۔ ایک بھرپور مرد کو وہ لڑکھڑاگئی اتنی شدت تھی اس کے دھکے میں ۔۔۔

“دور رہیں مجھ سے , اگر اتنی ہوس ہے اپ کے اندر تو ایک اور شادی کرلیں پر مجھے معاف کریں , بخش دیں , مجھ سے دور رہیں شدید نفرت ہے مجھے اپ سے اور اپ کے وجود سے , دور ہوجائیں مجھ سے ۔۔۔

وہ تیش میں اکر جو منہ میں ارہا تھا بغیر سوچے سمجھے کہے جارہی تھی ۔۔۔ جیسے ہی اس کی نظر دائم پر پڑی تو شاک رہ گئی جس کے چہرے پر غضب کا غصہ تھا آنکھوں میں شعلے نکل رہے ہوں جیسے , چہرہ سرخی مائل ہوگیا تھا مناہل کے اس توہیں بھرے انداز پر ۔۔۔ مناہل کی ٹانگین کانپنے لگیں تھیں ایسا لگا قدم بےجان سے ہوگۓ ہوں جیسے ایک قدم اٹھانے کے قابل نہ رہی ہو جیسے ۔۔۔

بس ایک ہی خوف اس کے اندر جاگا ۔۔۔ “جانے اب کیا کرے گا وہ اس کے ساتھ ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔