Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ناول … عید اپنوں کے سنگ

ازقلم …. صبا مغل

قسط نمبر 11

عالم خان یونہی نہیں اسے پکڑنے میں کامیاب ہوا تھا بلکہ اسے شک روشانے کی خاموشی پر ہوا ۔۔۔ اصل تصدیق تب ہوئی جب کل شام شانزے چھوٹی حویلی آئی تھی گھبرائی ہوئی پریشان سی ۔۔۔

عالم خان کو لگا شاید کوئی بات کرنے آئی ہو شاید پر پوچھنے پر شانزے بولی ۔۔۔

وہ “اپنی بہن کا کمرہ دیکھنے اور کچھ سیٹنگ کرنے آئی ہے اس کے حساب سے ۔۔۔

جس پر عالم خان پوچھے بنا رہ سکا ۔۔۔ “مثلاً کیسی سیٹنگ ۔۔۔

“ہممم اس کی ضرورت کا سامان اپ کے روم میں سیٹ کرنے آئی ہوں ۔۔۔

اس کا شک یقین میں بدل گیا اس لمحے , کیونکہ روشانے کل رات ہی اتنا شدید ریکشن دینے کے بعد اج اس قدر نارمل اور وہ بھی اتنی ایکسائیٹیڈ کے اپنا سامان یہاں سیٹ کرنے کو اپنی بہن کو بھیج دیا ۔۔ ذرہ سا بھی ہضم نہ ہوئی یہ بات عالم کو ۔۔۔

“اوکے آئیۓ میرے ساتھ ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔

وہ اسے اپنے بیڈروم میں لے ایا جہاں نیا فرنیچر سیٹ کیا ہوا تھا ۔۔۔ اتنی شاندار سیٹنگ دیکھ کر مبہوت ہوگئی تھی وہ ۔۔۔ بہت خوبصورتی سے سجایا ہوا تھا کمرہ ۔۔۔

عالم نے اسے بھرپور موقعہ دیا وہ اپنی کاروائی مکمل کرسکے , اس لیۓ تنہائی فراہم کی شانزے کو خود چلا گیا کمرے سے باہر ۔۔۔

“بہت بےوقوف ہے میری سالی صاحبہ , روشانے بیگم ۔۔۔ جلے پیر بلی کی مانند چلتی , وہی معصوم شانزے سے الگ ہی لگ رہی تھی , جب چھوٹی حویلی آئی تھی کل شام ۔۔۔ اس قدر گھبرائی ہوئی کہ کوئی بےوقوف بھی سمجھ جاۓ کچھ تو گڑبڑ ہے ۔۔۔ پھر مجھ جیسا پولیس آفیسر جس کا روز کا یہی کام ہے وہ کیسے نہ سمجھتا , یہ سب ۔۔۔ بیڈ چوائس روشانے عالم خان ۔۔۔ بیڈ چوائس ۔۔۔ وہ ہسنے پر ایا تو ہنستا چلا گیا اور روشانے کے آنسو بےبسی سے نکل آۓ ۔۔۔

“ابھی نہیں ,اس کے آنسو پونچھتا ہوا بولا ۔۔۔

“رخصتی کے وقت کے لیۓ بچاکے رکھو بہت کام آئیں گے , کیا پتا میں پگھل ہی جاؤں ان کے اگے ۔۔۔ عالم خان نے اس کا مذاق اڑانا بند نہ کیا ۔۔۔

اس لمحے پہلی دفعہ روشانے کو پتا لگا کہ وہ پولیس فورس میں ہے ۔۔۔

اب بھی اس کی گرفت میں مچلتی رہی پر عالم خان نے اسے خود سے دور نہ کیا ۔۔۔

جھولی خالی تھی آنسوؤں سے بھر چکی ہے

دو چار میل نہیں بہت مسافت کر چکی ہے

سچ پوچھتے ہو ؟؟؟؟؟؟ محبت مر چکی ہے

@@@@@@@@@

وہ اسے اپنے ساتھ فارم ہاؤس لے آیا ۔۔۔ جہاں نوروز خان آلریڈی پریشان بیٹھے تھے ۔۔۔ وہ باپ بیٹی کو اکیلا چھوڑ کر خود کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔

“روشانے تم نے مجھے شدید مایوس کیا ہے ۔۔۔ وہ سخت لہجے میں بولے ۔۔۔

“پاپا آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے پلیز ۔۔۔ مجھے نہیں کرنی یہ شادی ۔۔۔۔ وہ دکھی لہجے میں بولی ۔۔۔

“شادی تو اج ہی ہوگی روشانے ۔۔۔ تم نے مجھے شرمندہ کیا ہے بھاگنے کی کوشش کرکے ۔۔۔ ایک دفعہ میری عزت کا خیال نہ ایا تمہیں ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔

“پاپا میں نہیں رہ سکتی اس ماحول میں , مجھے سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔ میرے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا سواۓ بھاگنے کے ۔۔۔ روشانے بےبسی سے بولی ۔۔۔

“روشانے یہی مسئلہ تم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتی اس لیۓ مجھے یہ راستہ اپنانا پڑا , تم سمجھتی تو امریکا میں رہ کر تمہیں سمجھاتا کہ تمہارے اور حنین کا کوئی جوڑ نہیں وہ ایک پکا کرسچن لڑکا ہے , میں ایسے کیسے تمہیں اس جھنم میں کودنے دوں جس کی تمہیں سمجھ نہیں , جس رشتے کو تم جوڑنا چاہتی ہو اس کا کوئی فیوچر ہی نہیں , غلطی میری ہے جو سہی طریقے سے تمہاری پرورش نہ کرسکا ۔۔۔ غلط میں ہی ہوں اتنی ازادی دی کہ تم اپنے دین سے بھٹک گئی ہو ۔۔۔ نوروز خان کے لہجے میں شدید دکھ اور مایوسی تھی ۔۔۔ ان کو اپنی حنین سے آخری ملاقات یاد آئی جس میں انہوں نے حنین سے پوچھا تھا ۔۔۔

“میری بیٹی کے لیۓ کیا کرسکتے ہو حنین جورڈن ادیار ( کرسچنس کی ذات ہے ) ۔۔۔ نوروخان نے اس کا مکمل نام لیا تھا ۔۔۔

“میں سمجھا نہیں انکل ۔۔۔ حنین نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

“اپنا مذہب چھوڑسکتے ہو ۔۔۔ نوروز خان نے واضع سوال کیا ۔۔۔

“کبھی نہیں ۔۔۔ اس کا دوٹوک انداز تھا ۔۔۔

“روشانے اور تمہاری اس متعلق بات ہوئی ہے ۔۔۔ انہوں نے کھل کے ایک اور سوال پوچھا ۔۔۔

“یسس آفکورس انکل , ہم کورٹ میرج کریں گے , نو مسلم وے نو کرسچن وے ۔۔۔ حنین نے بتایا نارمل انداز میں ۔۔۔ نوروز خان نے بغور دیکھا اس گولڈن بالوں والے لڑکے جس کا لک ٹپیکل امریکن لڑکوں سا تھا ۔۔۔

“اچھا تو پھر اگے کیا ہوگا حنین جورڈن ۔۔۔ ایک اور سوال انہوں پوچھا ۔۔۔

“وئی لوو ہیپی ٹوگیڈر ایور آفٹر انکل ۔۔۔ حنین کا کانفیڈینس دیکھنے کے لائق تھا ۔۔

“ہممم آر یو شیور اباؤٹ ڈیٹ ۔۔۔ نوروز خان کا انداز اب سرد تھا پر حنین کافی ریلیکس تھا ان کی گفتگو سے کیونکہ کیجیوئیل سوال تھے جس کا مطلب تھا اپنی بیٹی کی پسند کے اگے سرینڈر کرچکے ہیں شاید , جیسا موسٹلی فارن کے مسلمس میں ہوتا ارہا ہے اج کل ۔۔۔

“اوبیویوس انکل , ریلیجن ہمارے بیچ کبھی پرابلم نہیں کرے گا ۔۔۔ وہ اپنا مسلم وے فالو کرے اینڈ می ماۓ کرسچن ویے فالو ۔۔۔ اس کا انداز نارمل سا تھا ۔۔۔

“ہمممم واٹ اباؤٹ چلڈرنس ۔۔۔ نوروز خان سننا چاہتے تھے کتنا کچھ ان کے بیچ ڈیسائیڈیڈ ہے ۔۔۔

“اٹس کلیئر بچے میرا مذہب فالوو کریں گے کیونکہ میرا نام ہی ان کی پہچان ہوگی تو میرا مذہب اپنائیں گے ۔۔۔ ڈونٹ وری انکل وئی ار کلیئر اباؤٹ ایوری تھنگ می اینڈ شان ۔۔۔ حنین نے بتایا ۔۔۔

کچھ اور باتوں کے دوران ان کو پتا چلا حنین کی ماں ایک انڈین مسلم ہے اور باپ برٹش کرسچن جو لندن میں ملے تھے پڑھائی کے دوران شادی کی تھی دونوں نے ۔۔۔ جو نام کی وجہ سے کنفیوژن تھی کہ حنین تو مسلم نام ہے پھر کرسچن کا کیوں وہ بھی کلیئر ہوا اور حنین کی بہن کا نام مریم جورڈن ہے ۔۔۔ یوں ان کی تفصیلی ملاقات میں نوروز خان بہت کچھ جان چکے تھے اس کے بارے میں ۔۔۔

وہاں سے اٹھتے وقت یہ ان کا آخری فیصلہ تھا اگر عالم خان کے پاؤں پکڑ کر بھی روشانے کو اس کے ساتھ باندھے رکھنا پڑا تو وہ کریں گے پر اپنی بیٹی کی بقا کے لیۓ کر گزریں گے کیونکہ ان کو اس بات کا احساس تھا کہ ان کی روشانے کسی کرسچن سے شادی کرلے تو اسلام سے خارج ہوجاۓ گی جو انہیں کسی طرح گوارا نہ تھا ۔۔۔

وہ جانتے تھے کہ وہ اچھے مسلمان نہ تھے اس لیۓ اچھی پرورش نہ کرسکے کہ اس کی بیٹی صرف نام کی ہی مسلمان رہ گئی تھی ورنہ یہ سب کرنے سے پہلے ایک دفعہ سمجھنے کی کوشش تو کرتی کیا واقعی اتنا آسان ہے دو الگ مذہب کا ایک پاک رشتے میں بندھنا ۔۔۔ ایک نسل کی تباھی کی وجہ بن جاتے ہیں ایسے رشتے ۔۔۔۔

اس بات کا ان کو اچھی طرح احساس ہوا کہ انہوں نے بھی ایک کرسچن لڑکی سے شادی کی اس لیۓ اس کی اولاد اس چیز کو غلط نہیں سمجھتی کیونکہ سبین نے اسلام قبول ضرور کیا تھا نوروزخان کی محبت میں , پر کبھی اپنے مذہب پر اسے چلا ہی نہ سکے تھے وہ ۔۔۔ سبین صرف نام کی ہی حد تک مسلمان تھیں ۔۔۔ نوروز خان کو شدت سے اپنی غلطیوں کا احساس ہوا تھا ۔۔۔

“پلیز مجھ سے ایسی باتیں نہ کیا کریں میرے اور حنین کے بیچ کلیئر تھا مذہب ہم اپنا اپنا ہی فالوو کریں گے , یہ کوئی بڑا ایشوو تھا ہی نہیں پاپا ۔۔۔ روشانے نے کہا سکوں سے ۔۔۔

“تمہارے لیۓ ایشوو نہیں تھا پر میرے لیۓ تو ہے ۔۔۔ کیونکہ اولاد کو گمراہی کے رستے سے روکنا باپ کا اولین فرض ہے ۔۔۔ ایک دن تمہیں ضرور احساس ہوگا کس مجبوری میں , میں نے یہ سب کیا ہے ۔۔۔ نوروز خان نے بھراۓ لہجے میں کہا ۔۔۔

“آپ ٹھیک نہیں کررہے میرے ساتھ پاپا , اس کے لیۓ کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔۔ روشانے نے دکھ سے کہا ۔۔۔

“تمہاری جیسی بیٹی کے ساتھ ایسا ہی کیا جاتا ہے ۔۔۔ نوروز خان نے دل کے درد کو دباتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“میں ایک بالغ لڑکی ہوں اس لئے شادی میرا اپنا فیصلہ ہونا چاہیے نہ کہ زبردستی کا مسلط کیا گیا کوئی رشتہ۔۔۔ پلیز پاپا سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔ اس نے ایک اور کوشش کی ۔۔۔

“تمہارا نکاح بچپن میں ہوچکا ہے اس لیۓ تمہارے کسی فیصلے کو سننے کا جواز نہیں بنتا بہتر ہے مان لو اس رشتے کو ۔۔۔ نوروز خان نے دوٹوک لہجے میں کہا ۔۔۔

“میں نہیں مانوگی مجھے واپس جانا ہے , میں دوبارہ بھاگ جاؤں گی ۔۔۔ پر اس رشتے میں بندھی نہیں رہوں گی ۔۔۔ روشانے نے تیز لہجے میں کہا اور اپنا اگلا قدم بتایا ۔۔۔

بےساختہ ان کا ہاتھ اٹھا اور اس کی بولتی بند ہوگئی ۔۔۔ وہ ساکت نظروں سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی ۔۔۔ ان کو امید نہ تھی وہ ایسا کہے گی ۔۔۔

اسے وہیں روتا چھوڑ کر کمرے سے باہر چلے گۓ نوروز خان ۔۔۔

@@@@@@@@

وہ کمرے سے باہر نکل آۓ ۔۔۔ عالم خان کے روبرو کھڑے ہوۓ شکستہ بے حال سے تھے وہ ۔۔۔

“اب تم ہی اسے سنبھالو عالم خان , تم ہی اسے سمجھاکر لاؤ ۔۔۔ نوروز خان افسوس سے بولے ۔۔۔

“بےفکر ہوجائیں آپ تایا جان , سکوں سے جاکر ارام کریں , ہم آتے ہیں کچھ دیر میں حویلی ۔۔۔ عالم خان نے کہا ۔۔۔

وہ جو ساکت کھڑی تھی کمرے کے دروازے کی چوکھٹ پر ایک دم بول اٹھی اور کہا ۔۔۔

“پلیز پاپا مجھے اس جلاد کے پاس اکیلے چھوڑ کر نہ جائیں پلیز پاپا ۔۔۔ وہ منتیں کرنے لگی ان کے روبرو اکر ۔۔۔

اس کا باپ اگے بڑھ گیا بغیر کوئی تاثر دیۓ جبکہ وہ ان کے پیچھے لپکی اسی لمحے عالم خان نے اس کا بازو دبوچا ۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا باپ چلاگیا ۔۔۔ وہ روتی رہ گئی وہ شخص قہر بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔

“بسسس روشانے , مجھے کسی سختی پر مجبور نہ کرو شرافت سے رخصت ہونے کے لیۓ مان جاؤ یہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا ۔۔۔ عالم خان نے تنبہی کی ۔۔۔

“کبھی نہیں ۔۔۔ مجھے مار کر بےہوش کردو یا پھر میری لاش کو رخصت کرواؤ باقی زندہ تم ایسا کرنے میں ناکام ہی رہوگے عالم خان ۔۔۔ روشانے کٹر ضدی لہجے میں بولی ۔۔۔ اس کی آنکھون میں ایک چیلینج تھا کہ “اب کیا کروگے عالم خان ۔۔۔

“ایسے تو ایسے سہی ۔۔۔۔ وہ اسے بازو سے دبوچتا اسی کمرے میں واپس لایا تھا ۔۔

“اب جو میں کروں گا وہ میری مرضی نہیں تھی اس کی زمیدار تم ہو روشانے ۔۔۔ مجھے تو تاعمر افسوس رہے گا پر تم بھی تاعمر پچھتاؤگی اپنے اس عمل سے ۔۔۔ مجھے پورا یقین ہے ۔۔۔ وہ سخت پر بےتاثر لہجے میں بولا تھا ۔۔۔

اسے بیڈ پر پٹخ کر وہ گراتے ہوۓ لہجے میں بولا “تمہاری ضد نے مجھے مجبور کردیا ہے یہ سب کرنے پر ۔۔۔

وہ بوکھلا گئی اس کی آنکھوں میں جنون دیکھ کر ۔۔۔ اس نے وہان سے بھاگنا چاہا پر وہ اسے پاؤں سے پکڑ کر روک گیا اس کی راہیں مسترد کر گیا ۔۔۔ اس نے اپنے ایک کندھے پر پڑی شال کو اوڑھنا چاہا ۔۔۔ عالم نے شال پر ہاتھ ڈال کر کہا ۔۔

“ہمممم بلکل نہیں روشانے ۔۔۔ اتنا کہے کر اس کی شال کو اس کے جسم سے جدا کرکے دور پھینکی ۔۔۔ اب اس کا ہاتھ اس کی قمیص پر تھا ۔۔۔

“پلیز نہیں عالم ۔۔۔ روشانے کو اس کے ارادوں کا اچھی طرح اندازہ ہوا ایک کندھے سے پھاڑ دی اس کی قمیص ۔۔۔ برہنی کندھے پر ہاتھ رکھ گئی ۔۔۔ وہ اس کے دونوں ہاتھ قابو کرتا بیڈ پر گرادیا ۔۔۔

روشانے کی چیخین نکل گئیں جسے لمحوں میں ہونٹوں میں قید کردیا گیا وہ مکمل اسے بیڈ پر گراۓ اس پر حاوی تھا۔۔۔ روشانے کی ہمتین جواب دیں گئیں ۔۔۔ جیسے ہی اس کے ہونٹوں کو آزادی بخشی اسی لمحے روشانے بولی ۔۔۔

“پلیز نہیں , میں رخصتی کے لیۓ تیار ہوں یہ مت کرو پلیز ۔۔۔ اپنے سینے پر بازو لپیٹ کر بولی تھی خود کو چھپانے کی کوشش کی ۔۔۔

نازک سی جان تھی میری ڈر چکی ہے
سچ پوچھتے ہو؟؟ محبت مر چکی ہے

انتظار کے لمحے طویل ہی ہوتے چلے گئے
راحت چین و قرار قلیل ہی ہوتے چلے گئے

بلند و بالا حوصلے پستہ ہوگئے ہیں

قسمت آخر آخر نصیب سے ہر چکی ہے
سچ پوچھتے ہو؟؟ محبت مر چکی ہے _ جی ہاں محبت مر چکی ہے _!!!!!

“سوچ لو ایسا نہ ہو وہاں جاکر ایک اور تماشہ شروع کردو ۔۔۔ عالم خان نے سخت لہجے میں پوچھا ۔۔.

“نہیں بلکل نہیں کروں گی , مجھے حویلی واپس لے چلو ۔۔۔ وہ تڑپ کر روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

“بلکل نہیں , مجھے تم پر بھروسہ نہیں , یہیں سے تیار ہوکر چلوگی تم ۔۔۔ عالم خان فیصلہ کن لہجے میں بولا تھا ۔۔۔

اس سے الگ ہوا وہ ۔۔۔ زمین پر پڑا ایک اور بیگ اٹھاکر بیڈ پر رکھا اسے کھول کر اس میں سے شادی کا ڈریس نکالا ۔۔۔

“شرافت سے پانچ منٹ میں پہن کر آؤ ۔۔۔ ڈریس اس کی طرف بڑھا کر بولا تھا ۔۔

ڈریس دیکھ کر اسے یاد ایا یہ وہی ڈریس تھا , جسے اس نے مناہل کے لیۓ پسند کیا تھا ۔۔۔ افسوس ہوا سب نے مل کر اسے دھوکا دیا ۔۔۔

وہ مردہ قدموں سے ڈریس تھام کر واش روم کی طرف بڑھی ۔۔۔ بھاری جوڑا پہنے وہ باہر آئی تو عالم خان صوفے پر بیٹھا تھا ۔۔۔

“پارلر والی کو اندر بھیج رہا ہوں , کچھ بھی انکار کیا تو مجھے واپس انے میں دیر نہیں لگے گی ۔۔۔ سارا خاندانی زیور تمہیں پہننا ہے انکار مجھے پسند نہیں , تمہاری طرف سے انکار نہیں ہونا چاہیۓ کسی بھی کاروائی میں ۔۔۔ وہ حکمیہ لہجے میں بولا تھا ۔۔۔

“جی جی ۔۔۔ روشانے نے اتنا کہے کر نظر پھیر لی ۔۔۔

عالم کی نظر اس کے زخمی ہونٹ پر پڑی جہان خون جم گیا تھا ۔۔۔ اس نے پانی کا گلاس لے کر , ہاتھ نم کیۓ اور اپنی انگلیوں کے پوروں سے صاف کرنے لگا ۔۔۔ وہ چاہنے کے باوجود اس کا ہاتھ نہ جھٹک سکی ۔۔۔ پر اس کا جسم کپکپانے لگا ۔۔۔

“ریلیکس روشانے عالم خان , عشق کے اور امتحان اب بھی باقی ہیں ۔۔۔ وہ اس کے کپکپانے پر طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔

روشانے کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔۔ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کے اپنے قریب کیا ۔۔۔

“آؤ جوس پیو , پھر ہی تو ہمت آئے گی , آخر بولڈ ہے میری بیوی , اتنے میں کمزور پڑگئی توتوتوتو ۔۔۔۔ عالم کا لہجہ مذاق اڑاتا ہوا تھا ۔۔۔

اسی لمحے جوس کا گلاس اس کے ہونٹوں کو لگا گیا عالم خان ۔۔۔ آنکھوں کی نمی بڑھنے لگی ۔۔۔ وہ گھونٹ گھونٹ پینے لگی ۔۔۔

“ہمممم اور نہیں رونا ورنہ میک اپ کیسے کرپاۓ گی پارلر والی اور روشانے تمہارا میک اپ بلکل خراب نہیں ہونا چاہیۓ , مجھے تم حسین ترین ہوکر ملو , روتی بلکتی سسکتی ہوئی بلکل نہیں ۔۔۔ پارلر والی کو بھیجتا ہوں ۔۔۔ عالم خان نے اسے اچھی طرح وارن کیا ۔۔۔

اتنا کہے کر اس کی کمر سے ہاتھ نکال گیا ۔۔۔

پارلر والی نے اسے تیار کروانا شروع کیا ۔۔۔ وہ بلکل چپ گم صم کیفیت میں بیٹھی رہی ۔۔۔ وہ اسے سارا زیور پہنانے لگی ۔۔۔ گلے میں بھاری سونے کا سیٹ , پھر تین مالا والا سیٹ ۔۔۔ دونوں بازو پر بازو بند پہناۓ , دونوں کلائیوں میں کانچ کی چوڑیاں ساتھ میں بھاری سونے کے کنگن ۔۔۔ سر پر بالوں میں پہننے کا کافی زیور تھا ۔۔۔ اسے الجھن ہوتی رہی ۔۔۔

دونوں پیروں میں بھاری پائل , دونوں پاؤں کی تین انگلیوں میں انگوٹھیان پہنا کر ۔۔۔ وہ حیرت سے دیکھ رہی تھی اپنے وجود کو جسے اتنے زیادہ زیور بھردیا گیا ۔۔۔ روشانے کو خود سے نفرت محسوس کررہی تھی ۔۔۔

“بس یا اور کچھ بھی رہتا ہے ابھی ۔۔۔ کلس کر پوچھ بیٹھی روشانے ۔۔۔

“شکر ہے اپ بولیں تو سہی میں حیران تھی اس قدر خاموشی پر مجھے لگا کسی اسٹیچو کو تیار کررہی ہوں ۔۔۔پارلر والی مذاحیہ لہجے میں بولی ۔۔۔

“اب جاؤ تم ۔۔۔ روشانے نے روڈ لہجے میں کہا ۔۔۔

“وہ میڈم ہاتھوں پر تھوڑی مہندی لگوالوں پھر ہاتھ کا زیور پہنا کر , پھر چلی جاؤں گی ۔۔۔ پارلر والی نے بتایا ۔۔۔

“واٹ مہندی ۔۔۔ وہ حیران ہوئی ۔۔۔

“جی اپ کے شوہر نے کہا ہے ۔۔۔ پارلر والی نے بتایا ۔۔۔

روشانے خاموش ہوگئی ۔۔۔ اس کے ہاتھوں پر پارلر والی پھرتی سے مہندی لگارہی تھی ۔۔۔ اسے مہندی کی سمیل سے الجھن ہورہی تھی ۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ بولی ۔۔۔

“اب ہاتھ دھولیں ۔۔۔

“اتنا جلدی ۔۔۔ وہ حیران ہوئی ۔۔۔

“یہ ایمرجنسی کون ہے رنگ آجاۓ گا ۔۔۔ اس نے کہا ۔۔۔

بھاری جوڑے اور زیور کے ساتھ چلنا مشکل لگا روشانے کو ۔۔۔ پارلر والی اس کے ساتھ واشروم آئی اور ہاتھ دھلانے لگی ۔۔۔ وہ بےبسی سے سب دیکھتی رہی , ٹاول سے اس کے ہاتھ صاف کرواۓ پھر کریم لگوایا ۔۔۔

“اب اپ کو سمیل نہیں آۓ گی ۔۔۔

پھر پارلر والی اسے ہاتھ کا زیور پہنانے لگی ۔۔۔ اسے سینڈل پہنا کر پارلر والی بولی ۔۔۔ “اب اپ ریڈی ہیں آئیں دیکھیں کتنی پیاری لگ رہی ہیں ۔۔۔ روشانے کے منع کے باوجود وہ اسے شیشے کے سامنے کھڑا کرگئی ۔۔۔

میک اپ نے تو اسے حسین بنادیا تھا پر اتنا بھاری زیور ایک اضافی بوجھ مانند لگ رہا تھا ۔۔۔

“یہ زیور نہیں ہے یہ زنجیرین ہیں جن سے تم مجھے باندھنا چاہتے ہو خود سے , میں مرجاؤں گی عالم خان ۔۔۔ وہ خود سے بولی سسک کر ۔۔۔

“شششش کہا تھا ایک بھی آنسو نہیں ۔۔۔ عالم نے کہا ۔۔۔وہ حیران ہوئی پارلر والی جاچکی تھی اور عالم کھڑا تھا ۔۔۔

اس پر چادر ڈال کر اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا ۔۔۔ چادر میں اپنا وجود اچھی طرح ڈھانپ لیا اس نے ۔۔۔

@@@@@@@@@

اسے حویلی اتے ہی اسٹیج پر بٹھادیا گیا ۔۔۔ کچھ دیر میں مناہل اور دائم کے نکاح کا شور اٹھا ۔۔۔ ان کا نکاح ہوتے ہی دونوں کو اسٹیج پر بٹھادیا گیا تھا ۔۔۔

کچھ دیر بعد عالم خان اور اس کا دوبارہ نکاح پڑھادیا گیا ۔۔۔ یہ سب عالم کی مرضی سے ہوا کیونکہ اس نے مولوی صاحب کو سب حالات بتاکر پوچھا کہ وہ چاہتا ہے اب دوبارہ نکاح کریں کیا یہ ممکن ہے ۔۔۔ مولوی صاحب نے کہا بلکل ہوسکتا ہے ۔۔۔ یوں دوبارہ ان کا نکاح پڑھایا گیا ۔۔۔ جو ان کے سرپرست کے بجاۓ انہوں نے خود قبول کیا تھا ۔۔۔

اب دونوں جوڑے اسٹیج پر بیٹھے تھے ۔۔۔ کچھ دیر بعد رخصتی کا شور اٹھا ۔۔۔ مناہل سب کی دعاؤں میں رخصت ہوئی ۔۔۔ جبکہ دوسری طرف روشانے کے سر پر نوروز خان نے ہاتھ رکھا وہ سرد تاثرات سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی ۔۔۔ جیسے ہی انہوں نے اسے خود سے لگانا چاہا وہ بیچ میں ہاتھ رکھ کر فاصلہ قائم کرتی دور ہوئی ۔۔۔

“روشانے مرگئی ہے یہ میرا جنازہ سجا ہے ۔۔۔ دور رہیں مجھ سے ۔۔۔ سرد انداز میں کہتی دور ہوئی ۔۔۔ عالم ضبط کرتا رہ گیا یہی سب اس نے سبین اور شانزے کے ساتھ کیا ۔۔۔ وہ روپڑیں پر اس کی آنکھ سے ایک آنسو نہ نکلا ۔۔۔

عالم خان نے اجازت چاہی نوروز خان سے رخصتی کے لیۓ انہوں نے کرب سے اجازت دی ۔۔۔ وہ ساکت ایک نقطے پر نظر جماۓ چلی جارہی تھی ۔۔۔ سبین اور شانزے گلے لگ کے ایک دوسرے کے روپڑیں ۔۔۔

سبین کو ایک لمحے کو سکوں نہیں ارہا تھا ۔۔۔

“نوروز خان , میری بیٹی تڑپ رہی ہے اسے واپس لے آئیں ۔۔۔ وہ مرجاۓ گی ۔۔۔ ماں کا دل بےچین تھا ۔۔۔

“سبین سنبھالو خود کو ۔۔۔ نوروز خان نے کہا ۔۔۔ دکھی تو وہ بھی تھے۔۔۔

” مجھے چین نہیں ارہا میری بیٹی ٹھیک نہیں ۔۔۔

شوہر کے گلے لگے وہ روپڑیں ۔۔۔ کتنی دیر وہ اسے تسلی دیتے رہے ۔۔۔

@@@@@@

روشانے اور مناہل , بڑی حویلی سے رخصت ہوکر چھوٹی حویلی کی زینت بن کر آئیں تھیں ۔۔۔ دونوں بھائیوں کے الگ ہورشنز تھے جدید طرز کے بنے ہوۓ تھے ۔۔۔

مناہل کو زونی اور ربیعہ کمرے تک چھوڑنے آئی تھیں ۔۔۔ دونوں نے اسے روایتی انداز میں بٹھایا ۔۔۔
ملازمہ کھانا لے کر آئی تو چند نوالے ہی حلق سے اتارے مناہل نے اور بولی ۔۔۔

“پلیز ربیعہ بھابھی اذان کو لے کر آئیں وہ پریشان ہورہا ہوگا ۔۔۔ مناہل کے لہجے میں فکر تھی ۔۔۔

“چپ کرکے بیٹھو , کل اجاۓ گا , اج جیسے تیسے پھپھو نے اسے اپنے پاس سلادیا ہے ۔۔۔۔ ربیعہ نے ڈپٹا ۔۔۔

“پر وہ میرے بغیر پریشان ہوگا ۔۔۔ مناہل نے فکر سے کہا ۔۔۔

“مناہل اج کی رات یہ سوچنے کی نہیں ہے , چپ کرکے بیٹھو ۔۔۔ آؤ زونی ہم اسے سمجھاتے ہیں کیا کیا ہوتا ہے اج کی رات ۔۔۔ ربیعہ کی بات پر زونی پھیکی سی ہنسی ہنسی , جبکہ ربیعہ کا چہرہ گلنار ہوگیا صرف ذکر پر ہی ۔۔۔ ربیعہ کے چہرے کی رونق صاف ظاہر کررہی تھی کہ اسے عمر نے کتنی محبت سے رکھا ہوا ۔۔۔ شوہر کی من چاہی بیوی کا روپ کیسا ہوتا ہے , ربیعہ اس کا جیتا جاگتا ثبوت تھی ۔۔

“پلیز بھابھی مجھے کچھ نہیں جاننا , اپ دونوں جاکر آرام کریں , میں بھی تھوڑا ارام کروں ۔۔۔ مناہل نے کہا ۔۔۔

“نہیں نہیں آرام کا سوچنا بھی مت اج کی رات ایسا کچھ نہیں ہونے والا مناہل رانی ۔۔۔ ربیعہ نے زونی کو آنکھ ماری مذاق میں اسے رانی کہا تھا اس نے ۔۔۔

“چھوڑیں ربیعہ بھابھی , کیوں مناہل کو تنگ کرتیں ہیں دائم بھائی سب سنبھال لیں گے ۔۔۔ چلتے ہیں ۔۔۔ زونی نے کہا ۔۔۔ زونی کے انداز میں شوخ پن نہ تھا جبکہ ربیعہ کے انداز میں شوخیہ پن تھا ۔۔۔

“چلو ٹھیک ہے تم کہتی ہو چھوڑدیتی ہوں , اپنا خیال رکھنا مناہل رانی ۔۔۔ اج تو تمہاری خیر نہیں ۔۔۔ ربیعہ شرارتی ہنسی ہنسی تھی ۔۔۔ وہ خود کو روک نہیں پا رہی تھی اس کو چھیڑنے سے کیوں کہ اسے مزہ آ رہا تھا مناہل کی چھیڑ خانی کرنے میں ۔۔۔

یوں وہ دونوں اسے پیار کرتی ہوئی چلیں گئیں ۔۔۔

وہ دلہن بنی سر جھکاۓ بیٹھی تھی , دل کی حالت عجیب تھی , نہ کوئی تمنا نہ کوئی آرزو , بس کشمکش کا شکار تھی ۔۔ چند لمحے ہی گزرے تھے دائم دروازہ کھول کے اندر آگیا , دل تھا کہ سینا توڑ کے باہر آنے کو تیار تھا اس قدر تیز دھڑکنوں کی رفتار جو بڑھ گئی تھی ۔۔۔ بےچینی , عروج پر تھی ۔۔

وہ بھی چند لمحے ٹہر کر اپنی بلیک واسکوٹ اتار کر صوفے پر رکھی اور خود اس کے سامنے اکر بیٹھا تھا ۔۔ وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولا ۔۔۔

“جانتا ہوں تمہاری حالت اور میری حالت میں زیادہ فرق نہیں ۔۔۔ بےچین تم بھی ہو , تو , پریشان حال میں بھی ہوں ۔۔۔۔

اس نے کسمسا کر ہاتھ اس کی گرفت سے نکالنا چاہا پر وہ اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرچکا تھا ۔۔۔

“پلیز ۔۔۔ میرا ہاتھ چھوڑ دین ۔۔۔ اس نے دھیرے سے کہا ۔۔۔

“ہممم نہیں ۔۔۔ وہ اس کے جواب پر حیران ہوئی شاید وہ اس شخص یہ ایکسپیکٹ نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔

“جو بھی حالات ہوں , نکاح ہوا ہے ہمارا , اس حیثیت سے تمہیں تمہارا حق دینا میرا فرض ہے ۔۔۔ اس نے دھیمے لہجے میں اپنا موقف رکھا ۔۔۔

“نہیں بلکل نہیں , میں نے مانگا نہیں اپ سے اپنا حق , تو , اپ پر کیسا فرض , نہیں مانتی میں ایسے رشتے کو جس کا تعلق دل سے نہ ہو اور اپ پہلے سے اپنا پیار کسی اور پر لٹا چکے ہیں مجھے اپ سے کوئی امید نہیں مجھے بخش دیں ۔۔۔

وہ حیران ہوا اس کے اس انداز پر ۔۔۔ اتنا روڈ اور بدتمیز انداز ہوگا اس کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔

“دور رہیں مجھ سے ۔۔۔ مناہل شدت سے بول کر جلدی سے بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی ۔۔۔ دائم تو شاک ہی ہوگیا اس کے اس انداز پر ۔۔۔ وہ جلدی سے اس کی طرف لپکا ۔۔۔ اسے بازو سے تھامنا چاہا وہ تڑپ کر دور ہوئی ۔۔۔

“مجھے ہاتھ مت لگانا پلیز نہیں ۔۔۔ مناہل شدت سے رونے لگی ۔۔۔

“مناہل میری بات سنو ۔۔۔ وہ اس کے قریب ہوا تاکہ وہ اس کی سنے اور کچھ ریلیکس ہو پر وہ الٹا چیخ مارتی اس سے دور ہوئی اور بولی ۔۔۔

“دور سے بات کریں , پاس مت انا میرے ۔۔۔

“اوکے اوکے مناہل , ریلیکس ہوجاؤ , اس وقت باہر گئی تم , تو اچھا نہیں ہوگا , اپنا اور میرا تماشہ مت بناؤ پلیز , کچھ راتیں مجھے برداش کرلو اس کمرے میں , پھر کچھ کرتا ہوں ۔۔۔ دائم نے گھبرا کر جلدی سے کہا ۔۔۔۔

“ممم مج مجھے ۔۔۔ اذان چاہیۓ ااسسس اسے لے آئیں ۔۔۔ مناہل نے سسکتے ہوۓ کہا لفظ ٹوٹے پھوٹے تھے ۔۔۔

دائم کو دکھ ہوا اس معصوم لڑکی کے لیۓ ۔۔۔

“دانیال تم نے بہت غلط کیا اس معصوم کے ساتھ پہلے ہی کانفیڈینس کم تھا , بچا کچا اعتماد تم نے ریجیکٹ کرکے ختم کردیا ۔۔۔ اس سے بڑی کیا زیادتی ہوگی اس کے ساتھ کہ شادی شدہ ایک بچے کا باپ اس کی قسمت میں لکھ دیا گیا ۔۔۔ بہت زیادتی ہوئی ہے اس کے ساتھ ۔۔۔ دائم کو شدید افسوس ہوا اس کے لیۓ ۔۔۔

“پلیز کپڑے بدلو اور سکون سے سوجاؤ , میرا تمہیں تنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ریلیکس ہوجاؤ مناہل ۔۔۔ جہاں تک بات ہے اذان کی تو مناسب نہیں لگتا اس وقت لانا , کل سے انشاء اللہ تمہارے ساتھ سوۓ گا اذان ۔۔۔ پلیز سمجھو میری بات ۔۔

دائم نے سکون سے کہا تاکہ وہ ریلیکس ہوجاۓ ۔۔۔ اور واقعی اس کے نرم لہجے پر مناہل پرسکون ہوئی اور زیور اتارنے لگی بیڈ پر بیٹھ کر ۔۔۔

دائم واشروم چلاگیا کچھ دیر میں چینج کر ایا تب تک مناہل بھی زیور اور میک اپ کی جھنجھٹ سے آزاد ہوچکی تھی ۔۔۔

وہ سائیڈ پر ہوا تو وہ اپنا ڈریس اٹھاتی واشروم میں چلی گئی ۔۔۔

کچھ دیر میں وہ باہر آئی خود کو اچھی طرح دوپٹے میں لپیٹے ۔۔۔ چہرے ہاتھ پاؤں پر کریم لگانے کے بعد اپنے بال سلجھانے لگی ۔۔۔ وہ بغور اسے دیکھتا رہا جو اسے مکمل اگنور کرکے بیٹھی تھی ۔۔۔

اپنے کاموں سے فارغ ہوکر وہ تکیہ اٹھاکر صوفے پر سونے کے لیۓ جانے لگی تو دائم نے کہا ۔۔

“پلیز مناہل , اتنا تو بھروسہ کریں کہ اپ کی مرضی کے بغیر کوئی نیا تعلق شروع نہیں ہوگا ۔۔۔ اپ مجھ پر اعتماد رکھیں بیڈ پر سوجائیں ۔۔۔ دائم نے گھمبہیر لہجے میں کہا تھا ۔۔۔

وہ اثبات میں سرہلاتی بیڈ کے کونے پر سوگئی ۔۔۔ دائم کے دل کو کچھ سکون ملا تھا اس کے تعاون کرنے پر ۔۔۔

@@@@@@@@@@

ابھی کچھ دیر پہلے ہی زونی اور ربیعہ بھابھی روشانے کو بٹھاگئیں تھیں سجے ہوۓ کمرے میں ۔۔۔ اس سے کھانا کا پوچھا جس پر صاف انکار کرگئی وہ دونوں کو ۔۔۔ وہ دونوں اپنا سا منہ لے کر چلیں گئیں اس کے سرد انداز پر ۔۔۔ جاتے جاتے زونی پلٹ کر بولی ۔۔۔

“اچھا روشانے بھابھی اپنا خیال رکھنا , صبح ناشتہ ہم لائیں گے ۔۔۔ زونی نے پیار سے کہا تھا ۔۔۔ اس کا مطلب بڑی حویلی سے لانے کا تھا ۔۔۔

“اس زحمت کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔ وہ بدتمیزی سے بولی تھی زونی سے ۔۔۔

ربیعہ اور زونی خاموشی سے نکل گئیں کمرے سے ۔۔۔ ان کے نکلتے ہی وہ جلدی جلدی زیور اتارنے لگی بیزاریت سے ۔۔۔

ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی عالم خان نے کمرے میں قدم رکھا ۔۔۔۔

“کیسا لگ رہا ہے , میری بیڈ پر سج سنور کر بیٹھنا ۔۔۔ عالم خان نے پوچھا اس کے ہر انداز میں غرور اور اکڑ تھی ۔۔۔۔

“زہر لگ رہا ہے , نفرت ہورہی ہے اج خود سے عالم خان ۔۔۔ روشانے حقیقت پسندی سے بولی ۔۔۔۔

“ہمممم گڈ , اتنا سمجھ لو یہ میری شدید ترین خواہش ہے کہ تم خود سے بے انتہا نفرت کرو ۔۔۔ جانتی ہو , میں اپنی کسی خواہش کو حسرت رکھنے کا قائل بھی نہیں ۔۔۔ عالم نے ہنستے ہوۓ کہا ۔۔۔ وہ جل کر خاک ہوئی اور اٹھ کھڑی ہوئی بیڈ سے ۔۔۔۔

“میرا تمہارے منہ لگنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے جو تم چاہتے تھے وہ ہو گیا اب تم جیو اپنی زندگی مجھے جینے دو اپنی زندگی اپنے طریقے سے ۔۔۔۔

اتنا کہہ کر وہ اس کے پاس سے گزر کر واش روم کی طرف جانے لگے ۔۔۔

“ابھی کہاں روشانے بیگم ۔۔۔۔ کہاں پوری ہوئی ہے میری چاہتیں ۔۔۔۔ وہ اس بازو تھام کر اپنے روبرو کرتا ہوا بولا ۔۔۔۔

“جو تم چاہتے تھے وہ تو ہو گیا اور کیا چاہتے ہو ۔۔۔ روشانے تکلیف میں بولی ۔۔۔

“یہ آدھا ادھورا ہے , میں مکمل سب کچھ اپنے حساب سے ہوتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔ وہ گہرے لفظوں میں بولا ۔۔۔ جس پر وہ نظر چراتی ہوئی بولی ۔۔۔

“میرا موڈ نہیں ہے تم سے بحث کرنے کا جان بخشو میری ۔۔۔ آخر میں وہ ہاتھ جوڑ گئی ۔۔۔۔

“اتنی آسانی سے نہیں بہت اکڑ اور غرور ہے تم میں ۔۔۔ ابھی بھی اس کا بخوبی مظاہرہ کر چکی ہو جسے میں نے اپنی نظروں سے خود دیکھا ہے ۔۔۔۔ وہ بھرپور طنزیہ انداز میں بولا تھا ۔۔۔

“کیا مطلب ۔۔۔ وہ حیرت میں بولی ۔۔۔

“تمہیں زونی اور ربیعہ سے بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے تھی روشانے عالم خان ۔۔۔۔ عالم خان گھمبہیر لہجے میں بولا ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں سخت تنبہی تھی ۔۔۔

“میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی ۔۔۔ وہ گھبرا کر بولی تھی ۔۔۔

” تم نے ان دونوں سے کی بدتمیزی اور تم نے تو اپنے ماں باپ اور بہن سے بھی خوب بدتمیزی کی ہے اور میرا بھی ذرا لحاظ نہیں کیا ساتھ کھڑا تھا تمہارے پھر بھی , افسوس , بندہ شوہر کا ہی تھوڑا لحاظ کرلیتا ہے روشانے , تم میں تو وہ بھی نہیں ۔۔۔۔ وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا ۔۔۔

اس کے انداز اور پھر باتوں پر اسے گھبراہٹ ہوئی جلدی سے واشروم کی طرف جانے لگی ۔۔۔ اس کا بازو دبوچ کر روک گیا عالم اسے ۔۔۔ وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

“اتنی بھی جلدی کیا ہے واشروم جانے کی پہلے تمہیں خراج تحسین تو پیش کرلوں روشانے بیگم ۔۔۔ اسے بیڈ پر پٹخا اور خود شیروانی کے بٹن کھولنے لگا ۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔