Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9


عریشہ کی آنکھوں پر کالی پٹی بندھی تھی اور وہ ماہر اور زیان کے ساتھ گارڈن نے کھیل رہی تھی ماہر اور زیان اُس سے دوری پر کھڑے اُسے آوازیں دے رہے تھے اور وہ اُنھیں پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی سکندر نے دور سے اُسے دیکھ کر اوپر سے نیچے تک اُس کا جائزہ لیا پیلے سلوار کرتے پر کالے رنگ کا دوپٹہ جو گلے میں ڈالا ہوا تھا ادھر اُدھر سے نے نیاز وہ ہنستی ہوئی دونوں کو پکڑ رہی تھی سکندر مسکرایا ہوا اُس کے ایک دم قریب آکر رک گیا اور عریشہ نے اُسے پکڑ لیا
۔پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے خوش ہوتے ہوئے آنکھوں سے پٹی ہٹائی لیکن سکندر کو اتنے قریب دیکھ کر اُس کی مسکراہٹ تھم گئی اُس نے فوراً اُس کا بازو چھوڑا

اب پکڑ ہی لیا ہے تو چھوڑیئے گا مت۔۔۔۔۔۔۔
سکندر معنی خیزی سے مسکرایا عریشہ فوراً پیچھے ہوئی

ماہر جی زیان آپ دونوں کھیلے میں ابھی آتی ہوں
عریشہ اندر جانے لگی سکندر بھی اُس کے پیچھے چلا آیا

عریشہ۔۔۔۔۔۔
اُس نے عریشہ کی کلائی پکڑ لی

سکندر بھائی میرا ہاتھ چھوڑیئے

بھائی نہیں صرف سکندر۔۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح آج بھی اُسے عریشہ کا بھائی کہنا برا لگا عریشہ اپنا ہاتھ اُس سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی

کیا ہوا عریشہ میرا پاس انا تمہیں اچھا نہیں لگتا کیا
سکندر اُس کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا

ہاتھ چھوڑیئے میں نے کہا۔۔۔۔
عریشہ نے پہلی دفعہ سختی سے کہا

لو چھوڑ دیا اب بتاؤ اتنا گھبراتی کیوں ہو مجھ سے میں تمہیں کھا تھوڑی جاؤنگا

دیکھیے مجھے آپ کا ایسے بات کرنا بلکل پسند نہیں ہے مجھ سے دور رہا کرے آپ ۔۔۔۔۔۔
وہ بنا اس کی جانب دیکھے غصے سے بولی

اور اگر دور نا رہوں تو۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا

تو میں دادی کو بتا دونگی آپ مجھے تنگ کر رہے رہے ہیں۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُس کی جانب دیکھ کے کہا اور اندر چلی گئی اور سکندر مسکرایا اُسے عریشہ کی دھمکی پر ڈر نہیں لگ رہا تھا بلکہ ہنسی آرہی تھی
💜💜💜💜💜💜💜

تم جو کر رہی ہو بلکل صحیح کر یہی ہو عریشہ ۔۔۔۔۔۔۔یہ لوگ یہی زبان سمجھتے ہیں
آج رائنا اُس سے ملنے آئی تھی وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے اندر جا رہیں تھیں

پتہ نہیں آپی مجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آجاتی ہے ایک وقت تھا جب میں اپنی غلطی نا ہونے پر بھی صفائی دینے کے لیے زبان نہیں کھول پاتی تھی اور اب۔۔۔۔۔
کوئی ماہر جی کو کچھ کہہ دے یا تکلیف پہنچانے کی کوشش بھی کرے یہ بات میری روح تک جھنجھوڑ دیتی ہے میرا سارا ڈر ختم ہوجاتا ہے اُس وقت ایسا لگتا ہے وہ میں نہیں کوئی اور ہی عریشہ ہے جو ہر ڈر ہر مشکل کا سامنا کرنے کے لیے نڈر ہو کر کھڑی ہے

اُس کی بات پر رائنا دھیمے سے ہنس دی

وہ ماہر کی بیوی عریشہ ہے جو اپنے شوہر کی ڈھال بن کے کھڑی ہوتی ہے اور یہ طاقت اس رشتے کی طاقت ہے کسی نے سچ ہی کہا ہے عریشہ کے اس رشتے میں بہت طاقت ہوتی ہے تبھی تو تم ماہر سے اس قدر اٹیچ ہو گئی ہے ویسے ہے کہاں جناب نظر نہیں اربے
وہ اِدھر ادھر نظریں گھماتے ہوئے بولی

زیان اور وہ اپنے روم میں ہے کوئی مووی دیکھ رہے ہے
مجھے پتہ چلا کہ اُس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو ملنے چلی آئی

میں اُنھیں بلا کر لاتی ہوں۔۔۔۔۔۔

تب تک میں دادی سے مل لیتی ہوں
عریشہ اپنے کمرے میں چلی آئی اور رائنا دادی کے روم میں چلی گئی عریشہ اندر آئی تو دیکھا زیان اور ماہر بیڈ پر کھڑے اخبار کی تلوار بنائیے لڑ رہے ہیں

ماہر جی زیان کیا کر رہے ہیں آپ دونوں ۔۔۔۔۔کیوں لڑ رہے ہیں

بیوی ہم لڑ نہیں رہے ہم وہ کر رہے ہیں دیکھو۔۔۔۔ ۔
ماہر نے ٹی وی کی جانب اشارہ کیا جہاں ایک مووی میں فائٹنگ سین چل رہا تھا وہ مسکرائی

چلیے باہر آپ سے ملنے رائنا آپی آئی ہے۔۔۔۔۔ ۔

ممّی آئی ہے۔۔۔۔۔
زیان اُس کی بات سنتے ہی بعد سے اُترا اور باہر بھگا

بیوی یہ تم نے کیا کیا ۔۔۔۔۔اب ماہر کس کے ساتھ کھیلے گا
ماہر اُسے جاتے دیکھ منہ بسور عریشہ کو بولا عریشہ نے دوپٹہ نکال کر بیڈ پر پھینکا اور زیان والا اخبار اٹھا لیا
بیوی کس دِن کام آئےگی
ماہر اُس کے ساتھ ہنستے ہوئے فائٹ کرنے لگا کچھ ہی دیر میں عریشہ تھک کر بیٹھ گئی

بس ماہر جی میں تھک گئی۔۔۔۔۔

نہیں بیوی ماہر کو کھیلنا ہے اٹھو نا
ماہر اُس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے لگا

دیکھیے ٹی وی میں بھی ختم ہو گیا بیٹھ کے مووی دیکھیے اب۔۔۔۔
اُس کے کہنے پر ماہر بیٹھ گیا ٹی وی پر اگلے ہی پل ایک كسنگ سین چل رہا تھا جس اور عریشہ نے ماہر کی جانب کن انکھیوں سے دیکھا وہ بہت اشتیاق سے آنکھیں بڑی کیے ٹی وی دیکھ رہا تھا

بیوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر کو بھی ایسے کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے عریشہ کی جانب دیکھ کر کہا جس پر عریشہ نے حیرت سے اُسے دیکھا

ایسے نہیں بولتے ماہر جی۔۔۔۔
وہ فوراً وہاں سے اٹھ گئی جانتی تھی ماہر پیچھے پڑ جانا ہے

لیکن ماہر کو کرنا ہے۔۔۔۔۔۔
ماہر بھی اٹھ گیا عریشہ نے اُس کی جانب پیٹھ کرکے آئینے کے آگے کھڑی ہو گئی

ہم ایسا۔۔۔۔۔ نہیں کر سکتے ماہر جی

کیوں نہیں کر سکتے وہ لوگ بھی تو کر رہے ہے نا

وہ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ لوگ بڑے ہے نا۔۔۔۔۔۔ہم تو بچے ہے اور بچے ایسا نہیں کرتے
عریشہ کو فوری طور پر جو بہانہ سوجھا اُس نے بنا دیا
لیکن ماہر کو کرنا ہے کرنا ہے کرنا ہے
ماہر پیر پٹختے ہوئے زور سے بولا

کیا ہوا ماہر کیوں چلا رہے ہو۔۔۔۔
رائنا نے اندر آتے ہوئے اُس کی آواز سنی تو پوچھنے لگی

آپی بیوی ماہر کی بات نہیں مان رہی ماہر کو بھی ایسا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر اُس کے پاس آکر ٹی وی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا رائنا نے پہلے ٹی وی کو پھر عریشہ کو دیکھا جو شرم سے نظریں جھکائے کھڑی تھی رائنا بنا ہنسے نہیں رہ پائی

ماہر جی۔۔۔۔چلیے کھانا کھاتے ہیں۔۔۔۔

نئیں۔۔۔۔۔ ماہر تم سے غصّہ ہے بات بھی نئیں کریگا
ماہر اُس کی بات پر منہ بناتے ہوئے روم سے باہر چلا گیا
ویسے ہر ضد تو پوری کرتی ہو تم اُسکی تو یہ ضد پوری کرنے میں کیا حرج ہے۔۔۔۔
رائنا نے اُس کے پاس آکر شرارت بھرے لہجے میں کہا

آپی۔۔۔۔۔۔آپ بھی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے رائنا کو خفگی سے گھورا تو وہ ہنس دی
💜💜💜💜💜
ماہر جی ۔۔۔۔۔۔چلیے منہ کھولیے جلدی
ماہر کے پاس کھانا لے کر آئی اور بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی

ماہر کو نہیں کھانا ۔۔۔۔تم ماہر کی فرینڈ نہیں ہو کوئی بات نہیں مانتی

وہ اب بھی اُس سے غصّہ تھا

ٹھیک ہے اگر آپ کھانا کھا لینگے تو ۔۔۔۔۔
عریشہ نے پلیٹ ٹیبل پر رکھی اور اُس کے قریب بیٹھتے ہوئے اُسے لالچ دینے کی کوشش کی لیکن وہ پیچھے ہٹ گیا

کہا نا نہیں کھانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ اُس کا غصّہ کیسے ختم کرے وہ تو اُس کی بات تک بھی نہیں سن رہا تھا وہ سوچ ہی رہی تھی کے اچانک لائٹ چلی گئی اور روم میں اندھیرا ہو گیا

بیوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہر کو ڈر لگ رہا ہے لائیٹ کیوں بند ہو گئی
ماہر نے گھبرا کر اُس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے سر اُس کے شولڈر سے لگا دیا تھا

۔ابھی آجائے گی ماہر جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ماہر کو تسلی دی ماہر اُسے گھبرائی نظروں سے دیکھ رہا تھا اور اسکا چہرہ عریشہ کے اتنے قریب تھا کے وہ اُس کی سانسوں کی ہلکی سی آواز بھی سن سکتی تھی اُس نے دھیرے سے جھک کے ماہر کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے تھے اور اُسے لمحے لائٹ آگئی تھی عریشہ فورا پیچھے ہوئی ماہر بھی لائیٹ کی جانب دیکھتے ہوئے اُس سے دور ہوا

اب تو کھانا کھائے گے نا آپ ۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُسے گھورتے ہوئے کہا ماہر نے سر ہلا دیا
اور وہ ہنس دی

💜💜💜💜💜💜

رحیم اوپر سے میرا فون لے کر آؤ
عالیہ جلدی جلدی میں نیچے اتر آئی تھی ملازم کو دیکھ کر اُسے کہتی ہوئی وہ اپنے بالوں کو ٹھیک کرنے لگی

کتنا وقت لگا رہے ہو جلدی آؤ

سیڑھیوں پر ملازم کو دیکھ کر وہ چینخ کر بولی ملازم گھبرا کر جلدی جلدی اترنے لگا آخری سیڑھی اور اُس کا پاور مڑا اور وہ تو پلر کر سہارا لے کر گرنے سے بچ گیا لیکن فون نیچے گر کر تین حصے میں بٹ گیا عریشہ وہیں صوفے پر بیٹھی اخبار پڑھ رہی تھی اُس نے دیکھا عالیہ غصے سے ملازم کی طرف بڑی کو اُسے تھپڑ مار دیا

یو ایڈیت گدھے یہ کیا کیا تم نے میرا فون توڑ دیا

عالیہ یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔ہاتھ اٹھانے سے پہلے یہ تو سوچ لیتی کے یہ بہت بڑے ہے تم سے عمر میں ۔۔۔۔
عریشہ فوراً وہاں آئی

نظر نہیں آتا تمہیں اس بیوقوف نے میرا فون توڑ دیا
توڑ نہیں دیا ٹوٹ گیا غلطی سے ۔۔۔۔ کیا تم سے کبھی غلطی نہیں ہوتی ۔۔۔۔اس کا مطلب یہ تو نہیں کے تم ان پر ہاتھ اٹھا دو۔۔۔۔
عریشہ غصے سے بولی

تم اپنے کام سے کام رکھو اور یہ گیان نا اپنے پاس ہی رکھو

یہ دیکھنا بھی میرا ہی کام ہے عالیہ کے میرے گھر میں کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ان سے معافی مانگو
عریشہ نے غصے سے کہا تو عالیہ کے ساتھ رحیم نے بھی اُسے حیرت سے دیکھا
What۔۔۔۔۔۔

لگتا ہے ٹھیک ہے سنائی نہیں دیتا تمہیں۔۔۔میں نے کہا ان سے معافی مانگو
عریشہ نے لفظوں پر زور دیتے ہوئے اپنی بات دہرائی

میں اس نوکر سے معافی مانگوں۔۔۔۔۔۔

ہاں اس نوکر سے جو تمہارے سارے کام کرتا ہے اس نوکر سے جس کے بنا تم اپاہج ہو۔ایک گلاس پانی بھی اٹھ کر نہیں پی سکتی معافی مانگو ۔۔۔۔۔۔۔

میں معافی نہیں مانگوں گی سمجھیں تم۔۔۔

عالیہ۔۔۔۔۔۔اگر تم نے ان سے معافی نہیں مانگی تو آج سے اس گھر کا کوئی ملازم تمہارا کوئی بھی کام نہیں کریگا تمہیں اپنے کام خود کرنے ہونگے۔۔۔۔۔اور تم جانتی ہو کے میں ایسا کر سکتی ہیں

عریشہ نے اُسے جتاتے ہوئے کہا عالیہ پہلے حیران ہوئی پھر سے جھٹکا

I m sorry۔۔۔۔
وہ اُسی غصے سے بولی

انہیں انگریزی نہیں آتی عالیہ۔۔۔۔۔ہندی یا اردو کا استعمال کرو اور تھوڑا نرمی سے احسان نہیں کر رہی ہو کوئی۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ کے ٹوکنے پر اُس نے ناگواری سے اُسے دیکھا

معاف کرنا غلطی ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملازم سے معافی مانگ کر وہ عریشہ کو نفرت بھری نظر ڈالتی ہوئی باہر چلی گئی

💜💜💜💜💜💜
کانچ ٹوٹنے کی زوردار آواز پر وہ کمرے میں آئی اندر کا منظر دیکھ کر اُس کے قدم دروازے میں ہی پتھر ہو گئے ۔۔پورا روم بکھرا پڑا تھا ڈریسنگ ٹیبل پر پڑا سارا سامان زمین پر بکھرا پڑا تھا دیوار پر لگا بڑا سا آئینہ زمین پر ٹکڑے ٹکڑے پڑا تھا ماہر جنونی کیفیت میں بیڈ سے تکیوں کو پھینک کر چادر کھینچ رہا تھا وہ کمرے نے موجود ایک کے بعد ایک ہر چیز کو تباہ کر رہا تھا سارے فوٹو فریم نکال کر زمین پر پٹخ رہا تھا اور عریشہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کے کیا کرے کیسے اُسے روکے۔۔۔۔

ماہر جی۔۔۔۔۔۔۔

ماہر نے بلکونی کے دروازے پر لگے پردوں کو زور سے کھینچ کر پھینکا سلائڈ دور کھلا ہوا تھا ورنہ وہ اُسے بھی توڑ دیتا وہ بالکنی میں آگیا تھا عریشہ خود کو سنبھالتی گھبرا کر اُس کی طرف بڑھی۔۔۔اُس وقت وہ جس حالت نے تھا کچھ بھی کر سکتا تھا عریشہ کے پیر میں کانچ چبھ رہے تھے اور وہ اُس تکلیف کو نظر انداز کر رہی تھی ماہر بالکنی میں لگی گرل کی دیوار کو پیر مار کر توڑنے کی کوشش کر رہا تھا
عریشہ نے اُس کی پشت سے لگتے ہوئے دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے اُسے مضبوطی سے پکڑ لیا تھا وہ اُس کی جانب پلٹا اُس کا چہرہ دیکھ کر عریشہ کو پہلی دفعہ بہت ڈر لگا غصے سے بھری آنکھیں سرخ ہو گئی تھی بکھرے بال اور پسینے سے بھیگا چہرہ جس پر دنیا بھر کی سختی تھی اُس نے عریشہ کے ہاتھ ہٹا کر اُسے دھکا دیا اور دوبارہ دیوار کو مارنے لگا
نہیں ماہر جی رک جائے
اگر وہ دیوار ٹوٹ جاتی تو وہ سیدھے نیچے زمین پر جا گرتا عریشہ بے بسی سے روتے ہوئے اُس کا بازو پکڑے اُسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی دادی بھی گھر پر نہیں تھی رائنا اور زیان کو چھوڑنے گئی تھی اور اُسے کسی نوکر کو بلانے کا بھی نہیں سوجھا
عریشہ کے روکنے کا اُس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا
چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ایک بار پھر عریشہ کو دھکا دیا تھا اور وہ دیوار سے جا لگی تھی ماہر اُس گرل پر پوری طاقت سے وار کر رہا تھا لیکن وہ بہت مضبوط تھی عریشہ اٹھ کے اُس کے سامنے آئی
ماہر جی شانت ہو جائیے میری بات سنیے
عریشہ نے اُس کی جانب ہاتھ بڑھانا چاہا ماہر سختی سے ہاتھ پکڑ کر اُسے پیچھے دھکیل دیا

عریشہ نے پوری ہمت اور طاقت جمع کر کے اُسے اپنی جانب کھیچا اور وہ دونوں زمین پر گرے تھے ماہر نے دوبارہ اٹھنا چاہا تھا لیکن عریشہ نے اُس کا بازؤں پکڑ کے اُسے روکا ۔۔۔۔۔۔
رک جائے ماہر جی۔۔۔۔ہوش میں آئیے۔۔۔۔۔دیکھیے مجھے

ماہر کے ٹھیک سامنے وہ بیٹھی تھی اور ۔ماہر اُسے غصے سے دیکھ رہا تھا عریشہ نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے اُس کا چہرہ تھاما تھا

پلیز ماہر جی ایسا مت کیجئے خود کو تکلیف مت پہنچائیے آپ جانتے ہیں آپ کو چوٹ لگتی ہے تو مجھے بھی درد ہوتا ہے اور آپ ہی نے کہا تھا نا کے آپ اپنی بیوی کو روتا نہیں دیکھ سکتے
وہ اُسے اتنے قریب سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی اور ماہر خالی خالی نظروں سے اُسے دیکھنے لگا جیسے اُس نے کچھ سنا ہی نہ ہو اُس کا سختی سے بھینچے لب دھیرے سے کھلے تھی اُس کا چہرے پر کوئی سختی نہیں تھی اُس نے دھیرے سے آنکھیں بند کی اور اُس کا سے عریشہ کے کندھے پر گر گیا
💜💜💜💜💜
کیا عریشہ اس سچویشن سے گھبرا کر ماہر کا علاج کرنے کا خیال چھوڑ دے گی ۔۔۔۔ کیا لگتا ہے