Dil Maane Na By Sanaya Khan Readelle70081 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
مجھے بات ڈر لگ رہا ہے ڈاکٹر اگر ماہر کو کچھ ہو جاتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اگر یہ سب دوائی کے اثر سے ہو رہا ہے تو مجھے اُنھیں دوائی نہیں دینی۔۔۔۔۔۔۔۔ اُن کا ٹھیک ہونا اُن کی زندگی سے زیادہ اہم نہیں ہے میں اُن کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتی
وہ آج ڈاکٹر کو کال والے حادثے کے بارے میں بتانے آئی تھی اور کہتے ہوئے رو دی تھی
عریشہ ریلیکس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ڈاکٹر آپ نہیں جانتے کیسی حالت ہو گئی تھی اُن کی ۔۔۔۔جیسے کوئی جنون سوار ہو گیا تھا اُن پر اللہ نا کرے ایسے میں اُنہوں نے خود کو کچھ کر لیا تو۔۔۔۔۔۔۔اُن کی زندگی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے میرے لیے
اُس نے اپنے گال پر بہتے آنسو صاف کیے
خود کو سنبھالو عریشہ ۔۔۔تمہیں کمزور نہیں پڑنا ہے۔۔۔۔تم یہ سب اُس کو اچھی زندگی دینے کے لئے ہی تو کر رہی ہو نا مشکلیں تو آئینگی ہی پر تمہیں ہار نہیں ماننی چاہیے ڈر کے۔۔۔۔۔۔۔اُسے ہمیشہ کے خطرے سی بچانا ہے تو یہ خطرہ اٹھانا ہوگا تمہیں
ڈاکٹر نے پانی کا گلاس اُس کی طرف بڑھایا عریشہ نے ایک گھونٹ لے کر واپس رکھ دیا
ایک بار پھر میں تمہیں وہیں صلاح دونگا کے ماہر کو اسائلم بھیج دو اکثر ایسی سچویشن آنے پر فوری علاج کی ضرورت پڑتی ہے میں جانتا ہوں تمہارے لیے مشکل ہے لیکن ہمت کرنی ہوگی تمہیں کیوں کہ اُس کا دور جانا ہی بہتر ہے ورنہ اُسے ایسے دیکھ کر تم یوں ہی کمزور پڑتی رہوگی اور ایک دِن ہار مان لو گی اتنا آگے بڑھ کر پیچھے مڑنا بیوقوفی ہوگی عریشہ۔۔۔۔۔۔اور یہ بھی سوچو اگر وہ لوگ ماہر کو ایسے دیکھے گے تو اُنھیں بھی شک ہوگا
اُن کی باتوں کو سمجھتے ہوئے عریشہ گہری سوچ میں پڑ گئی اُسے ڈاکٹر کی بات صحیح لگی ویسے بھی وہ نفیسہ اور سکندر کو کچھ کہتے وقت ڈرتی تھی کے وہ ماہر کو کچھ کر نہ دیں اُسے محفوظ رکھنا تھا اور اُس کے لیے یہ بہتر آپشن تھا
لیکن ڈاکٹر اگر کسی کو پتہ چل گیا کے ماہر کا علاج چل رہا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کو پتہ نہیں چلےگا بس کچھ دن سب کو اس دھوکے میں رکھنا ہوگا کے ماہر کہیں چلا گیا ہے کھو گیا ہے اُن کا دھیان صرف ماہر کو ڈھونڈنے میں رہے گا اور بلکل فکر مت کرو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کے ماہر کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی اُس کا پورا خیال رکھا جائیگا حفاظت کی جائیگی میں خود یہ ذمےداری لیتا ہوں۔
اُنہونے یقین دلایا اور عریشہ کو بھروسہ تھا کیوں کہ ڈاکٹر نے اب تک اُس کی اتنی مدد کی تھی
ٹھیک ہے ڈاکٹر اگر یہی صحیح ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے گہری سانس لے کے کہا
💜💜💜💜💜💜
وہ ماہر کو گھر سے شاپنگ کے بہانے لے آئی تھی لیکن جانے سے پہلے دادی کو سب بتا دیا تھا اور ماہر کو اُن سے ملایا تھا دادی کو عریشہ پر پورا بھروسہ تھا اُنہوں نے اُس کے اس فیصلے پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا وہ ماہر کو لیے شاپنگ مال آئی تھی اور وہاں سے اپنی گاڑی سے نکل کر ڈاکٹر کی گاڑی میں بیٹھ کر وہ دونوں ایک نئے راستے پر چل دیئے تھے یہ اس لیے کے ڈرائیور کو شک نا ہو
بیوی ہم کہیں جا رہے ہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے شہر سے باہر جاتے راستے کو دیکھ کر پوچھا
ہم نہیں ماہر جی آپ جا رہے ہیں۔۔۔۔۔کچھ دن آپکو اُن انکل کے ساتھ رہنا ہے
اُس نے سامنے گاڑی چلاتے شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
نہیں بیوی ماہر نہیں جائیگا تمہارے بنا ۔۔۔۔۔۔
میری بات سنئیے۔۔۔۔۔۔آپ کا جانا بہت ضروری ہے اسی لیے میں آپ کو بھیج رہی ہوں آپ ہی نہ کہا تھا کہ آپ بیوی کی ہر بات مانے گے ۔۔۔۔آپ کو بھروسہ ہے نہ مجھ پر
اُس نے ماہر کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا ماہر نے سے ہلا دیا لیکن چہرہ مایوس ہو گیا تھا
تو پھر بس کچھ مت پوچھیے میں جو کر رہی ہوں آپ کے لیے کر رہی ہوں ۔۔۔میرے لیے بہت مشکل ہے ماہر جی آپ کو خود سے دور بھیجنا لیکن آپ کے لیے میں یہ جدائی برداشت کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔آپ وہاں محفوظ رہے گے ہر خطرے سے ۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ماہر کو سمجھاتے ہوئے کہا وہ چپ ہو کر اُسے دیکھنے لگا گاڑی سڑک کے ایک طرف رکی جہاں ڈاکٹر واحد کھڑے تھے ڈرائیور اُتر کر اُن کے پاس چلا گیا
اپنا خیال رکھیے گا ماہر جی اب آپ کے اندر صرف آپ کی ہی نہیں میری بھی جان بستی ہے
عریشہ اُس کے گلے لگ گئی اُس کا دل نہیں چاہا کے ماہر کو الگ کرے لیکن وہ مجبور تھی
ماہر کو جلدی بلوا لینا بیوی ۔۔۔۔۔
وہ باہر نکلی تو ماہر نے کھڑکی سے سر نکالتے ہوئے کہا
بہت جلد ہم ساتھ ہونگے ماہر جی اور تب سب ٹھیک ہوگا
اُس کی گاڑی کو عریشہ نے نظروں سے بوجھل ہونے تک دیکھا
💜💜💜💜💜💜
اُس نے ڈاکٹر کے کہے کے مطابق گھر میں یہی بتایا کے ماہر کہیں چلا گیا ہے اُس کے گم ہونے کی کمپلیٹ بھی لکھائی تاکہ اُن لوگوں کو یقین ہو جائے نفیسہ اور سکندر اس خبر سے پریشان ہو گئے تھے لیکن سکندر نے اُسے یقین دلایا تھا کے وہ ماہر کو ڈھونڈھ لیگا ویسے بھی ابھی اُن کے پاس دو مہینے کا وقت تھا
عریشہ اپنے کپڑے فولڈ کرکے الماری میں رکھ رہی تھی جب سکندر بنا دستک دیے اندر آیا اُسے دیکھ کر عریشہ نے دوبارہ رخ پھر لیا
میں جانتا ہوں تمہیں ماہر کے گم ہونے کا کوئی خاص افسوس نہیں ہے ۔۔۔۔ہو کر بھی وہ آخر صرف نام کا شوہر تھا بیوی کا حق تو تمہیں کبھی ملا ہی نہیں تو اُس کے گم ہونے سے کیا فرق پڑیگا تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر مسکراتے ہوئے الماری سے ٹیک لگائے اُسے دیکھنے لگا عریشہ وہاں سے ہٹ کر بیڈ پر رکھے کپڑے اٹھانے لگی
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ تم میری قدر نہیں کرتی میں تمہیں اتنی اہمیت دیتا ہوں اور تم مجھے یوں نظر انداز کرتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر بھی چل کر اُس کے پیچھے آیا عریشہ دوسری الماری میں کپڑے رکھ رہی تھی
بس کرو عریشہ اب یہ دوری ختم کر دو
سکندر نے قریب آکر اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئی اُس کا رخ اپنی جانب کیا اور پلٹنے کے ساتھ ہی عریشہ نے اُسے ایک زوردار تھپڑ سے نوازہ وہ گال پر ہاتھ رکھے اُسے حیرت سے دیکھنے لگا
خبردار جو آئندہ میرے ساتھ ایسی بیہودہ باتیں کرنے کی یا مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش بھی کی
عریشہ۔۔۔۔۔۔
سکندر نے غصے سے کہا
عریشہ نہیں عریشہ بھابھی بولو۔۔۔۔۔مت بھولو کے میں تمہارے بڑے بھائی کی بیوی ہو ۔۔۔اور بھابھی کا درجہ ماں کے برابر ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔یا پھر تم اتنے بدتمیز ہو کے اپنی ماں سے بھی ایسی باتیں کرنے میں تمہیں شرم نہیں آتی
Just shut up
یو شٹ اپ ۔۔۔۔تم نے کیا سوچا کے میرے منہ میں زبان نہیں ہے یا میں تمہاری بدتمیزیاں اس لیے برداشت کر رہی ہوں کیوں کے میں تم سے ڈرتی ہوں۔۔۔۔۔۔یہ تمہاری غلط فہمی ہے میں صرف اس رشتے کا لحاظ کرکے چپ تھی ۔۔۔۔لیکن اگر تم نے اس رشتے کا مان نہیں رکھا تو میں بھی اپنی حد بھول جاؤنگی
عریشہ نے انگلی اٹھا کر اُسے وارن کرتے ہوئے کہا سکندر نے پہلی بار اُس کا یہ روپ دیکھا تھا اس لیے وہ حیران تھا
دھمکی دے رہی ہو تم مجھے۔۔۔۔یو نو وہاٹ۔۔۔۔۔۔ایک منٹ صرف ایک منٹ لگے گا مجھے تمہیں اس گھر سے دھکے دے کر نکالنے کے لیے۔۔۔۔۔۔
ایک منٹ نہیں ایک دِن کا وقت دے رہی ہوں تمہیں اگر نکال سکتے ہو تو نکال کر دکھاؤ کیونکہ اب میرا اس گھر میں رہنا تمہارے لیے کسی مصیبت سے کم نہیں ہے۔۔۔۔۔
Just wait۔۔۔۔۔۔۔
سکندر اُسے آنکھوں سے ڈرانے کی کوشش کرتا جانے کو پلٹا وہ اُس کے سامنے آئی
اور ہاں ۔۔۔۔۔۔ تمہیں بہت شوق ہے نہ بے چاری عورتوں کو سہارا دینے کا تو جا کر کسی بیوہ یا طلاق شدہ کا دامن کیوں نہیں تھام لیتے تمہاری آگ بھی بجھ جائیگی اور اسی بہانے ایک نیکی بھی کما لو گے۔۔۔۔لیکن میری طرف آگے سے بری نظر اٹھانے کی غلطی بھی مت کرنا سکندر
اس نے سکندر کو آخری جھٹکا دیا اور سکندر غصے سے سرخ آنکھیں لیے وہاں سے چلا گیا وہ نہیں جانتا تھا یہ عریشہ ماہر کی بیوی ہے جو ماہر کے جانے کے بعد اور مضبوط ہو گئی تھی کیوں میں اُسے ڈر نہیں تھا کے ماہر کو کوئی تکلیف پہنچا دیگا اس لیے سنبھال کے چلے اب وہ بے فکر نڈر عریشہ تھی جو اُن کے لیے مصیبت بننے والی تھی
💜💜💜💜
