Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

کیا ہوا دادی۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نیچے آیا تو دیکھا دادی اُداس بیٹھی تھی

عریشہ چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔دادی نے دھیرے سے جواب دیا بنا اُسے دیکھا
کہاں چلی گئی اور کیوں
وہ اُن کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا اُسے حیرت نہیں ہوئی تھی بلکہ دیکھ ہوا تھا

پتہ نہیں کہاں گئی ہوگی شاید واپس اُسی دنیا میں جہاں پہلے بھی کسی کو اُس کی ضرورت نہیں تھی ۔۔غلطی کی نا تھی اُس نے اچھی سزا ملی اُسے
بھلا آج کے زمانے میں خود سے پہلے کوئی دوسروں کے بارے میں سوچتا ہے مگر اُس نے ایسا کیا۔۔۔
دین رات تمہارے لیے جیتی رہی وہ ۔ ۔۔ تمہیں ٹھیک کرنے کے لیے کوشش پر کوشش کرتی رہی کبھی ہر نہیں مانی اُس نے ۔۔۔وہ چاہتی تو جا سکتی تھی اُسی وقت تجھے چھوڑ کے جب اُسے سچ پتہ چلا ۔۔۔لیکن وہ نہیں گئی ۔۔۔۔ تیرے لیے رکی یہاں تجھے بچانے کے لیے۔۔۔۔ہار دِن دعا کرتی تھی تیرے ٹھیک ہونے کی۔۔۔۔۔ہمیشہ کہتی تھی ۔۔۔بس ماہر ہی ٹھیک ہو جائے تو سب صحیح ہو جائے گا
لیکن کیا ہوا۔۔۔۔۔کیا ملا اسے۔۔۔۔۔کچھ بھی نہیں پھر کیا کرتی وہ یہاں رہ کر۔۔۔۔۔۔
دادی کی باتوں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کے وہ اُسے ہی ذمےدار سمجھتی ہے لیکن وہ اُنھیں صفائی نہیں سے دے سکا

کچھ سمجھ ہی نہیں آتا کے وہ کیا چاہتی ہے ۔۔میں نے تو نہیں کہا تھا اُسے جانے کو بلکہ ہر وقت کوشش کر رہا ہوں اُسے منانے کی سمجھ نہیں آتا کیا اُسے۔۔۔۔۔۔
ماہر نے دادی سے تو۔کچھ نہیں کہا لیکن دل ہی دل۔میں عریشہ کی عقل پر افسوس ضرور کیا

💜💜💜💜💜💜

تائی امی۔۔۔۔۔۔۔۔دروازہ کھلا تو تائی امی کو دیکھ کر اُس نے جھجھکتے ہوئے پکارا تھا آج پھر اُسے ڈر لگ رہا تھا

ارے تم یہاں ۔۔۔۔مائرا فائزہ جلدی آؤ بھئی دیکھو کوں آیا ہے مہارانی صاحبہ تشریف لائیں ہے۔۔ان کے سواگت کے لیے پھولوں کے ہار اور مٹھائی بھی لے کر آنا
کہیے مہارانی صاحبہ کیسے آنا ہوا اور آپکے پاگل مہاراج کہاں ہے اُنھیں نہیں لائی ساتھ میں آپ
تائی امی نے طنز کے تیر چلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی وہ بے اختیار روں دی

تائی امی۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائرا اور فائزہ بھی وہاں چلے آئے اور عریشہ کو دیکھ کر حیران ہوئے۔

چپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے کوئی رشتا جتانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھ آئی بھول گئی اُس دن کیسے ہے عزت کرکے اپنے گھر سے نکالا تھا مجھے جو یوں منہ اٹھا کر چلی ائی یہاں۔۔۔۔۔۔۔اتنے احسان کیے تجھ پر سب بھول گئی دولت ملتے ہی۔۔۔
تائی امی نے اُسے اُس دِن کی بات یددلائی

کیا ہوا عریشہ تم اچانک کیسے آگئی تمہارے سسرال والوں نے گھر سے نکال دیا کیا
میرا نے ہنستے ہوئے پوچھا

نہیں اُنہوں نے نہیں نکالا میں خود چلی آئی
عریشہ نے سر جھکائے جواب دیا

خود چلی آئی۔۔۔۔تیرے باپ کا گھر ہے نہ جو خود چلی آئی۔۔۔۔۔۔ اُس پاگل کے لیے مجھے گھر سے نکالا تھا اور اب جب خود راستے پر آئی تو میری یاد آئی تجھے لیکن میں اتنی اچھی نہیں ہوں کے تجھ جیسے کچرے کو اٹھا کر گھر میں لے لونگی چلی جا یہاں سے

میں کہاں جاؤنگی تائی امی ۔۔۔۔۔۔آپ کے سوا میرا ہے ہی کون۔۔۔۔۔۔۔۔

بڑی جلدی یاد آئی تجھے لیکن کوئی فائدہ نہیں تو ہم سب کے لیے مر چکی ہے بہت سالوں تیرا بوجھ اٹھا لیا اب کہیں اور جا کر منہ چھپا اور اگر کوئی نہیں رکھتا تجھے تو جا کر کنوئیں میں ڈوب جا

تائی امی نے دروازہ بند کرنا چاہا تو اُس نے اُنھیں روکا چاہے کتنا بھی کچھ بھی کے لے لیکن اُس کے پاس دوسرا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا سب سہ کر بھی اُسے یہی رہنا تھا

نہیں تائی امی۔۔۔۔۔۔۔

اری ہٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُس کے روکنے پر تائی نے اُس کا بازو پکڑ کے اُسے پیچھے دھکیل دیا تھا اور وہ نیچے گرنے کی بجائے کسی سے جا لگی تھی سر اٹھا کر اُس نے ماہر کا چہرہ دیکھا اور اُس کی روتی آنکھیں دیکھ کر ماہر کو تکلیف ہوئی تھی

لیجئے مہاراج بھی چلے آئی اپنی بیگم کے پیچھے۔۔۔ اسی کے لیے مجھے بے عزت کیا تھا نہ تونے ۔۔۔۔۔۔نکل جا اُس پاگل کو لے کر یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔اور آئندہ ہماری دہلیز پر کبھی قدم مت رکھنا ورنہ کسی کچرے کی گاڑی میں پھنکوا دونگی تجھے

بس ۔۔ تمیز سے بات کیجئے
ماہر نے اُن کے مقابل آتے ہوئے غصے سے کہا

لیجئے انکی بھی سنیئے ۔۔۔۔۔۔جاؤ نہیں کرتی تمیز سے بات کیا کرو گے اُس دن کی طرح سر پھوڑ دو گے میرا۔۔۔۔۔وہ تمہارا گھر تھا اُس لیے وہاں شیر بن گئے یہاں کچھ نہیں کر پاؤگے تم
تائی امی نے اُسے غصے سے گھورتے ہوئے کہا اُس نے عریشہ کی جانب دیکھا

مجھے یاد تو نہیں کے میں نے ایسا کچھ کیا تھا لیکن جان کے خوشی ہوئی کیوں کے آپ اسی لائق ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اگر آپ نے عریشہ کے اب کچھ بھی کہا تو میں آپ کے بڑی ہونے کا لحاظ کرونگا نا عورت ہونے کا

اگر اتنا ہی تجھے پیار ہے اس سے تو کیوں ایسے سڑکوں پر چھوڑ دیا اُسے لے جا اپنے ساتھ نا۔۔۔۔۔

لے کر ہی جاؤنگا۔۔۔۔۔کبھی نہیں چاہونگا کے میری بیوی اس گھٹیا جگہ یا آپ جیسے گھٹیا لوگوں کے بیچ رہے ۔۔۔۔جن کو نا بات کرنے کی تمیز ہے نہ رشتوں کا لحاظ ۔۔ ۔۔پتہ نہیں کیسے یہ اتنے وقت تک جھیلتی رہی آپ کو مجھ سے تو آپ کی شکل برداشت نہیں ہو رہی۔۔ اور آپ فکر مت کیجئے آج کے بعد عریشہ اس گلی میں بھی قدم نہیں رکھے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کے دروازے تک آنا تو بہت دور کی بات ہے۔۔۔ چلو یہاں سے ۔۔۔۔۔۔
ماہر ن اُن کی بات کاٹتے ہوئے غصے سے کہا تھا اور عریشہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے وہاں سے چلا گیا
💜💜💜💜💜💜💜

کیا ضرورت تھی یہاں آنے کی۔۔۔۔۔۔
کافی دیر بعد وہ کچھ بولا تھا وہ بھی بنا اُس کی جانب دیکھے عریشہ نے کوئی جواب نہیں دیا

کچھ پوچھ رہا ہوں میں تم سے۔۔۔۔۔۔
اُس نے گاڑی کی اسپیڈ سلو کرتے ہے اُس کی جانب دیکھا لیکن وہ اب بھی اُسے نظر انداز کیے بیٹھی تھی ناراضگی صاف چہرے سے جھلک رہی تھی

عریشہ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اب اور کچھ مزید پوچھتا کے عریشہ نے ٹیپ کا بٹن دبا کر گانا شروع کر دیا تاکہ اُس کی بات نہ سنی پڑے ماہر بس اُسے دیکھتا رہ گیا اُسے واپس لینے آنے کا اچھا سلہ دے رہی تھی وہ اُسے لیکن آج یہ حالات بھی تو ماہر کی ہی وجہ سے آئے تھی اُس نے کتنی امیدیں کی تھی ایک خوشحال زندگی کی اور سب ٹوٹ گئی آج تائی امی کو موقع اُس نے دیا تھا بے عزت کرنے کا عریشہ کا دھیان تائی امی کی باتوں سے ہٹ کر گاڑی میں بجتے گانے کی طرف گیا تھا اُس کے لفظ جیسے اُس کے دل کی اواز تھے

تیری آنکھوں کے دریا کا
اترنا بھی ضروری تھا
محبت بھی ضروری تھا
بچھڑنا بھی ضروری تھا
ضروری تھا کی
ہم دونو طواف ا آرزو کرتے
مگر پھر آرزؤں کا
بکھرنا بھی ضروری تھا
تیری آنکھوں کے دریا کا
اترنا بھی ضروری تھا

اُس نے ایک پل۔کے لیے ماہر کی جانب دیکھا تھا اور اُس کی نظروں کو محسوس کرکے ماہر نے اُسے۔۔۔عریشہ کی آنکھ سے ایک انسوں گرا تھا جسے رگڑتے ہوئے اُس نے چہرہ کھڑکی کی جانب کر لیا تھا

وہی ہے سورتیں اپنی
وہی میں ہوں وہی تم ہو
مگر کھویا ہوا ہوں میں
مگر تم بھی کہیں گم ہو
محبت میں دغا کی تھی
سو کافر تھے سو کافر ہیں
ملی ہیں منزلیں پھر بھی
مسافر تھے مسافر ہیں
تیرے دل کے نکالے ہم
کہاں بھٹکے کہاں پہنچے

عریشہ کو ہر لمحہ یاد آنے لگا جب وہ دور ہو کر بھی اُس کے قریب تھا اور آج قریب ہو کر بھی دور لگ رہا تھا

مگر بھٹکے تو یاد آیا
بھٹکنا بھی ضروری تھا
محبت بھی ضروری تھا
بچھڑنا بھی ضروری تھا
عریشہ نے اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے ٹیپ بند کر دیا وہ کمزور نہیں ہونا چاہتی تھی کیوں کے ماہر کی ہمدردی نہیں چاہے تھی اُسے جو آجکل وہ اُسے دے رہا تھا گاڑی کو بریک لگا تو ماہر نے اُس کی جانب دیکھا

میں جانتی ہوں آپ مجھے دادی کی خاطر ہی واپس لے کر آئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔آپ فکر مت کیجئے ۔۔۔ اس رشتے کو نبھانے کے لیے آپ کو سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔نا کوئی زبردستی کریگا آپ کے ساتھ۔۔۔۔۔میرا ہونا نا ہونا ایک برابر ہی ہے۔۔۔۔آپ مجھے کسی بے جان کرسی ٹیبل کی طرح سمجھ سکتے ہیں جس کا آپ کی زندگی میں کوئی دخل نہیں ہوگا
اریشانے دھیرے سے کہا اور ماہر کا دل کیا اُس کے منہ پر دو تھپڑ مرے مگر اُس نے اپنا غصے کنٹرول کیے دھیرے سے پوچھا

دیوار سمجھ سکتا ہوں تمہیں۔۔۔۔۔
اُس کے پوچھنے پر عریشہ نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا

کیوں کے تمہاری باتیں سن کے میرا دل کر رہا۔ہے
میں اپنا سر پھوڑ لوں۔ اور تمہارے جتنی سخت دیوار ہمارے گھر میں ایک بھی نہیں ہوگی
اس بار وہ غصے سے چینخ کر بولا تھا اور عریشہ در کر پیچھے ہوئی تھی اور گاڑی سے باہر نکل گئی تھی
💜💜💜💜💜💜