Dil Maane Na By Sanaya Khan Readelle70081 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
رائنا کو فون پر سب بتانے کے بعد وہ واپس اندر آئی ماہر اسی طرح بیٹھا اپنی سوچوں میں گم تھا
وہ آ کر اس کے پاس بیٹھی اور سے خفگی سے گھورا ماہر اسے دیکھتا رہا بنا کچھ کہے بنا کچھ بولے عریشہ اس کے سینے سے لگ گئی اور اپنے دل کا غبار اتارنے لگی وہ اسے تکلیف میں دیکھ کر کتنا ڈر گئی تھی صرف وہی جانتی تھی
الگ ہو کر اس نے ماہر کو غصے سے دیکھا
کیا سمجھتے ہیں آپ خود کو میں نے منع کیا تھا نہ گھر سے باہر نکلنے کے لیے۔۔۔۔۔ کیا آپ کو میری کوئی پروا نہیں ہے جو مجھے ہر بار تکلیف دیتے رہتےہے۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کو مجھے پریشان دیکھ کر خوشی ملتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ پتہ ہے کتنا گھبرا گئی تھی میں اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو کیا ہوتا میرا۔۔۔۔۔۔۔ پہلے آپ کہا کرتے تھے مجھے کبھی رو نے نہیں دیں گے اور اب جب سے واپس آئے ہیں مجھے تکلیف پر تکلیف دیئے جا رہے ہیں آپ کو نہ میرے ر ونے سے فرق پڑتا ہے نہ میری اداسی سے ۔۔۔
وہ آج پہلی بار اُس سے شکایت کر رہی تھی ماہر نے چھت کی جانب دیکھا
خدا کا شکر ہے ۔۔۔۔۔
ایک گہری أه بھرتے ہوئے کہا
دماغ خراب ہے آپ کا ایسی حالت کے لئے کوئی خدا کا شکر ادا کرتا ہے بھلا
اگر یہ سب نہیں ہوتا تو تمہارے دل کے جذبات زبان پر کیسےآتے اتنے دنوں تک جب تم چپ تھی خاموش تھی مجھے کتنی تکلیف ہو رہی تھی تمہیں پتا بھی نہیں ہے آج کم سے کم اسی بہانے تم نے اپنے جذبات کا اظہار تو کیا
ماہر نے اُس کے چہرے پر نظریں جمائے کہا عریشہ کچھ پل کے لیے خاموش ہو کر اُسے دیکھنے لگی
تو اور کیا کرتی میں کتنی تکلیف ہوئی تھی مجھے آپ کی بات سن کر کی آپ مجھے بھول گئے آپ مجھے کیسے بھول سکتے ہیں ماہر جی ہمارا رشتہ تو دل کا تھا نا
برداشت نہیں ہو رہا تھا مجھ سے آپ کے چہرے پر اپنے لئے اجنبیت دیکھ کر آپ کے بدلے ہوئے لہجے میں غیروں جیسی فیلنگز آرہی تھی مجھے۔۔۔۔۔ آپ کا بدلا ہوا انداز آپ کی باتیں سب کچھ بہت اجنبی لگ رہا تھا مجھے کی اس لئے میں بھاگ رہی تھی آپ سے
عریشہ نے نظریں چراتے ہوئے کہا ماہر نے اُس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے اپنی جانب دیکھنے پر مجبور کیا
میں سمجھتا ہوں لیکن کیا تم نے ایک بار بھی نہیں سوچا عریشہ کے اس میں میری کیا غلطی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر یہ سب نہیں کیا میرے ذہن سے اگر وہ ساری باتیں بھول چکی ہے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ جب میں نے تمہیں اس دن دیکھا تو مجھے تمہارا چہرہ اجنبی لگا مجھے یاد نہیں تھا کہ تم میری بیوی ہو مجھے ہمارا نکاح یاد نہیں تھا بھلے ہی میرے ذہن سے تمہاری ساری یادیں مٹ چکی تھی مگر میں پھر بھی تمہیں اپنے دل کے قریب محسوس کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔مجھے کبھی نہیں لگا کہ مجھے تم سے محبت کرنی پڑے گی کیونکہ میں پہلے ہی اپنے دل میں تمہاری محبت محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ تمہاری ناراضگی سے مجھے فرق پڑتا تھا تمہیں روتا دیکھ کر مجھے تکلیف ہوتی تھی اس لیے میں تم سے بات کرنا چاہتا تھا تمہیں سمجھانا چاہتا تھا تمہیں منانا چاہتا تھا تمہیں یہ بتانا چاہتا تھا کہ میری زندگی میں تمہاری کیا امپورٹنس ہے ۔۔۔۔۔۔۔میں تم سے یہ کہنا چاہتا تھا کہ پچھلا سب کچھ بھول چکا ہوں لیکن تمھارے ہی ساتھ ایک نئی شروعات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ تم تو مجھے سمجھتی تھی نہ اریشہ تو کیوں نہیں سمجھ پائی یہ سب ۔۔۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں تمہیں تکلیف ہوئی ہے اور یہ تکلیف میں نے ہی دی ہے لیکن کیا تم نے میرے بارے میں سوچا ۔۔۔۔۔۔ میں اپنی زندگی کے دو سال کھو چکا ہو مجھے کچھ یاد نہیں ہے کہ میں ان دو سالوں میں کہاں رہا میں نے کیا کیا میری ہر یاد مٹ چکی ہے میں چاہوں تو بھی وہ دو سال واپس نہیں لا سکتا اسی لئے ۔۔۔۔۔۔۔ اسی لیے میں اب ایک لمحہ بھی نہیں گنوا نا چاہتا مجھے تمہاری ضرورت ہے عریشا آئی نیڈ یو ۔۔ ۔
اُسے اب جب موقع ملا تو اُس نے بنا رکے دل کی ہر بات اُس کے سامنے رکھ دی تھی عریشہ اُس کی نظروں کو سیدھے اپنے دل میں اترتا محسوس کر رہی تھی غلطی تو اُس سے بھی ہوئی تھی واقعی اس بار وہ ماہر کو سمجھ نہیں پائی تھی شاید اس لیے کیوں کے یہ معاملہ دل کا تھا اور دل کے فیصلے لیتے وقت انسان اکثر کمزور پڑ جاتا ہے
مجھ سے ناراض رہ کر مجھے یوں تکلیف مت دو میرا ساتھ دو میں اگر سب کچھ بھول گیا ہو تو مجھے یاد دلاؤ نئ یاد بنانے میں میری مدد کرو
ماہر نے اُس کا چہرہ اُسے طرح تھامے ہوئے تھا اور وہ چپ ہو کر خالی نظروں سے اُسے دیکھے جا رہی تھی
آج چپ مت رہو عریشہ ۔۔۔۔۔۔ پلیز کچھ بولو
ماہر اُس کی خاموشی سے عاجز ہو کر بولا عریشہ ہوش میں آئی اور اُس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی
آپ کو آرام کی ضرورت ہے چلیں ۔۔۔۔۔۔
اُس نے بات ایک دم سے بدل جس اور ماہر بہت حیران ہوا مطلب اتنی باتیں بتانے کے بعد بھی اُس اور کو اثر نہیں ہوا تھا
جب تک تم مجھے میری بات کا جواب نہیں دیتی مجھ سے بات نہیں کرتی مجھے آرام نہیں آئے گا
وہ اُداس ہوتے ہوئے بولا
گھر چل کر بات کریں گے ماہر جی۔ چلیے دادی پریشان ہوجائیں گی
عریشہ نے دادی کی بات کی تو وہ اٹھ گیا لیکن اُسے دکھ ہوا تھا میں عریشہ اب بھی اُسے نہیں سمجھ رہی
💙💙💙💙💙
وہ کافی دیر سوکر جب نیند سے جاگا تو خود کو اکیلے پایا عریشہ روم میں نہیں تھی اسے بہت غصہ آرہا تھا اتنا سب کچھ کہنے کے بعد بھی عریشہ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا اس کے جذباتو کی کوئی قدر ہی نہیں تھی وہ دھیرے سے بیڈ سے اترا پورا بدن اور سر درد کر رہا تھا لیکن پھر بھی وہ ابھی دادی کے پاس جانے کی سوچ رہا تھا جانتا تھا وہ بہت پریشان ہوئی ہوگی ان سے بات کرکے ان کو تسلی دینا چاہتا تھا اس نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے چاہے لیکن بازو بہت درد کر رہا تھا اس لئے اس کے ہونٹوں سے ہلکی سی آہ نکلی پر وہ ہمت کرکے دوبارہ بٹن کھولنے لگا شرٹ اتارنے میں بھی اسے تکلیف ہو رہی تھی عریشہ اندر آئی اور جب اس نے دیکھا تو وہ اس کے قریب آی
دیجئے میں کرتی ہوں
اس نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہویے اس کی شرٹ نکالنی چاہی
رہنے دو میں خود کر لوں گا مجھے کسی کی ضرورت نہیں
ماہر نے اپنے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اسے روکا تو وہ مسکرائی اور آگے بڑھی
کبھی کبھی دوسروں کی مدد بھی لے لینی چاہئے
وہ پیچھے سے اس کی شرٹ نکال کر الگ کرتے ہوئے بولی ماہر نے اسے خفگی سے گھورا
وہ دوسری شرٹ نکال کر اسے پہنانے لگی
احسان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کر لوں گا میں
ماہر نے اُس کے ہاتھ سے شرٹ چھین لی جسے اگلے ہی پل عریشہ نے واپس کھینچا
اتنی فورمل باتیں مت کیجئے یہ پہلی بار نہیں ہیں جو آپ میرے ہاتھوں سے شرٹ پہن رہے ہیں
اُس نے ماہر کے ہاتھ آستین میں ڈالتے ہوئے کہا
Really
ماہر حیرت سے پوچھا
جی ہاں اور ایک نہیں کئی بار میں آپ کو پہنا چکی ہوں
وہ سامنے سے آکر کالر ٹھیک کرتے ہوئی مسکرائی اُس کے بال اڑ کر ماہر کے چہرے پر جا رہے تھے
افف ۔۔۔۔ تمھارے بال
وہ اُلجھتے ہوئے بولا عریشہ کو پہلے والی بات یاد آئی تو وہ مسکرائی
اب یہ بھی یاد دلانا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔کے بال تنگ کر رہے ہیں تو کیا کرنا ہے
وہ اُس کی جانب دیکھ کر مصنوعی غصے سے بولی تو ماہر نے ہاتھ سے بالوں کو پیچھے کیا لیکن دوبارہ جھکنے پر واپس بال سامنے آجاتے اور وہ اُنھیں آنکھوں میں جانے سے بچا رہا تھا عریشہ نے ماہر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر گلے کے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اپنی گردن پر رکھے ٹھیک اُس طرح جیسے ماہر نے کیا تھا
ہولڈ کرکے رکھیے ۔۔۔۔
اور اُس کا ڈائلاگ دوہراتے ہوئے وہ اُس کی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگی ماہر کے چہرے پر گہری مسکراہٹ آئی اور عریشہ بھی سر جھکائے مسکرائی بٹن بند ہونے کے بعد اُس نے ماہر کی جانب اشارہ کرکے پوچھا سمجھ گئے تو اُس نے گردن ہلا دی ماہر کے ہاتھ اُس کی گردن سے ہاتھ کر اُس کی کمر پر آگئے تھے اور اُسے جانے سے روکا ہوا تھا
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کے تم میرے ٹھیک نا ہونے کا بہت فائدہ اٹھا چکی ہو۔۔۔۔۔۔سچ سچ بتاؤ کچھ ایسا ویسا تو نہیں کیا نا میرے ساتھ
وہ دھیرے سے کہتا ہوا شرارت سے مسکرایا
ایسا ویسا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے آنکھیں سکیڑ کر اُسے گھورا وہ نظریں آنکھوں سے نیچے لیجاتے ہوئے اُس کے ہونٹوں پر جھکا کے اچانک زیان کی آمد پر ہڑبڑا کر دونوں پیچھے ہوئے
ماموں ۔۔۔۔
زیان دوڑتا ہوا اُس کی طرف آیا تھا اور اُس کے گرد ہاتھ باندھتے ہوئے پیار سے بولا تھا
سیریسلی چھوٹے نواب فرسٹ ٹائم تیری اینٹری پر غصہ آ رہا ہے
وہ جھک کر اُس کے گال کھینچتے ہوئے بولا اور عریشہ کی جانب دیکھا
ماموں نیچے چلو نا۔۔۔۔۔۔
زیان اُس کی بات پر بنا کچھ کہے اُس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا
اوکے چلو۔۔۔۔۔
وہ اُس کے ساتھ چلا گیا لیکن پیچھے پلٹ کر عریشہ کو دیکھنا نہیں بھولا
💜💜💜💜💜💜💜💜
کیا لگتا ہے آگے کیا ہوگا
کیا سکندر سدھر جائیگا
کیا ماہر اُسے معاف کر دیگا
کیا نفیسہ ناٹک کر رہی ہے
اور کیا عریشہ اور ماہر کے سامنے اب کوئی پروبلم نہیں آئےگی
