Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

تین مہینے بعد۔۔۔۔۔۔
ماہر کو گئے ہوئے تین مہینے ہو چکے تھے گھر کے حالات اب بھی اُسے طرح تھے عریشہ سکندر اور نفیسہ کو اُسے طرح ہینڈل کیے ہوئی تھی اور وہ لوگ ماہر کے انتظار میں اُسے برداشت کرتے آرہے تھے ماہر کو ڈھونڈنے میں سکندر نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن پھر بھی وہ اُسے نہیں ڈھونڈھ پایا تھا نفیسہ کو شک تھا کے عریشہ جانتی ہوگی ماہر کہاں ہے لیکن نفیسہ نے اُس پر کافی دن نظر رکھی نا وہ کہیں باہر جاتی تھی نا کسی سے فون پر بات کرتی تھی جب کچھ پتہ نہیں چلا تو وہ خاموش رہ گئی

وہ بالکونی میں کھڑی باہر دیکھ رہی تھی نظریں تو آسمان پر تھی پر دھیان دور کہیں ماہر کے خیالوں میں تھا ماہر کے جانے کے بعد سے با تک ایک دفعہ بھی اُس نے ماہر سے بات نہیں کی تھی اُس کا حال احوال ڈاکٹر ماہر سے ہی معلوم کرتی رہی

عریشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رائنا نے اُسے پکارا تو وہ روم کے اندر آئی رائنا کل ہی آئی تھی

جی آپی۔۔۔۔۔۔

پھر سے ماہر کو یاد کر رہی ہو۔۔۔تم ایک بار اُسے فون کرکے بات کیوں نہیں کر لیتی
رائنا نے اُسے اُداس دیکھا تو بولی

نہیں آپی ۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ ابھی اور کتنے دِن اُنھیں وہاں رہنا ہوگا میں نہیں چاہتی کے میں اُن سے بات کروں اور پھر وہ ہم سب کو یاد کرکے اُداس ہوتے رہے مجھے پتہ ہے بہت مشکل سے دل لگا ہوگا اُن کا وہاں ۔۔ بہت یاد بھی کرتے ہوگے شروع میں لیکن اب تو عادت ہو گئی ہو گی نہ بس کچھ دن اور پھر وہ ٹھیک ہو جائیں تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے میں تب تک تو انتظار کر ہی سکتی ہوں
وہ اپنی دھونے بولی گئی بنا یے جانے کے کوئی تیسرا بھی اُن کی باتیں سن رہا ہے اور وہ تھی نفیسہ۔
مجھے تو پہلے سے ہی شک تھا کے تونے ہی ماہر کو کہیں چھپایا ہے۔۔ بتا کہا ہے وہ
نفیسہ کو دیکھ کر عریشہ گھبرا گئی تھی اور رائنا بھی اُسے سوجھا ہی نہیں کے وہ کیا جواب دے

امی جی میں۔۔۔۔۔

کوئی بہانے مت بنانا نا اب کوئی دھمکی کام آنے والی جو کر سکتی ہو کر لو ۔۔۔اب میں تمہیں نہیں چھوڑنے والی
نفیسہ نے اُسکی بات کاٹ کر چینختے ہوئے کہا

مامی جی۔۔۔۔۔۔۔۔

رک ۔۔۔۔۔۔خبردار جو ہمارے بیچ میں کچھ بولی
چل یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔
رائنا نے اُنھیں روکنا چاہا تو وہ اُسے دھمکاتی عریشہ کا بازو پکڑے اُسے کھینچنے لگی

کیا ہو رہا ہے مام۔۔۔۔۔۔۔
عالیہ نیچے ہی تھی زیان اور دادی بھی

نفیسہ یہ تم کیا کر رہی ہو
دادی نے حیرت سے پوچھا

آپ بھی چپ ہی رہے تو بہتر ہے۔۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں آپ بھی اس لڑکی کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔۔۔۔ دونوں نے مل کر ماہر کو کہیں بھیج دیا ہے بتا کہاں ہے وہ۔۔۔۔۔
نفیسہ نے دادی کو غصے سے جواب دیا اور عریشہ کو سختی سے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا

چھوڑو اُسے نفیسہ۔۔۔۔۔

آپ بیچ میں مت آئیے۔۔۔۔ اس لڑکی نے ہمارا جینا حرام کر دیا ہے ۔۔۔۔اتنے دن سے ہمیں پریشان کرتی رہی ہمیں بیوقوف بناتی رہی ۔۔۔۔تین مہینے سے ہم ماہر کو ڈھونڈھ رہے ہیں پتہ نہیں اس نے کہاں چھپایا ہے اُسے
نفیسہ بیگم غصے سے بولی آواز پر سکندر اپنے کمرے سے باہر آیا اور وہیں سے سب دیکھنے لگا

بس نفیسہ بہت ہوگیا ۔۔۔ماہر کی سگی بننا بند کرو۔۔۔۔تم اسے اسلئے نہیں ڈھونڈھ رہی کیوں کے تمہیں اُس کی بہت فکر ہے یا بہت پیار ہے ۔۔۔۔بلکہ تم لوگو کو تو اس بات کی فکر ہے کے اگر وہ نہیں ملا تو تمہارے کاغذات پر دستخط کون کریگا۔۔۔۔دولت کے لیے اتنا گر گئے تم لوگ کے انسانیت کو ہی مار دیا

ہاں ہم لوگ برے ہے چاہیے ہمیں اُس کی دولت۔۔۔ کیا ہمارا کوئی حق نہیں تھا جو اکیلے اُسے وارث بنا دیا آپ کے بیٹے نے۔۔۔۔ ہمیں جو ہمارا حق نہیں دیا گیا ہم اُس کے لیے لڑ رہے ہیں تو اُس میں غلط کیا ہے میرے بچوں کا بھی اس پر حق ہے اور اُنھیں یہ حق ملےگا
نفیسہ نے دادی کی بات کاٹ کر جواب دیا عالیہ خاموشی سے اُن کی باتیں سن رہی تھی اور زیان گھبرا کر رائنا نے لگ کر کھڑا تھا

بتا کہاں ہے ماہر۔۔۔۔۔۔۔

رک جاؤ نفیسہ۔۔۔۔۔۔
نفیسہ دوبارہ عریشہ کی بڑھ رہی تھی دادی نے اُنھیں روکنا چاہا تو اُنہونے دادی کو زور سے دھکا دیا دادی زمین اور گر گئی تھی
دادی۔۔۔۔۔۔
رائنا اور عریشہ دونوں رک ساتھ گھبرا کر آگے بڑھی تھی لیکن اُس کے پہلے ہی کسی نے اندر آتے ہوئے دادی کو زمین سے اٹھایا تھا وہ ماہر تھا

ماہر۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر کو۔دیکھ کر دادی نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے اُسے دیکھا ماہر سنجیدگی سے اُنھیں دیکھ رہا تھا اور اُس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھی نفیسہ اُسے دیکھ کر گھبرا گئی تھی پھیر خود کو سنبھالتی ہوئی اُس کی جانب بڑھی

ماہر بیٹا تم آگئے۔۔۔۔۔کہاں چلے گئے تھے تم کتنا ڈھونڈا ہم نے تمہیں۔۔۔۔کہاں کہاں نہیں ڈھونڈھ ایسا کوئی دِن نہیں جب تمہارے ملنے کی دعا نا کی ہو میں نے۔۔کہاں چلے گئے تھے تم
نفیسہ نے اُس کے دونوں بازؤں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا دادی بھی اب کی بے شرمی پر حیرت سے اُنھیں دیکھ رہی تھی رائنا تو ماہر کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی لیکن عریشہ کی آنکھیں اُس کے اوپر آکر پتھر ہو گئی تھی بلیک جینس اور اسکی بلیو شرٹ میں آج وہ کوئی اور ہی ماہر لگ رہا تھا بلکل اُس تصویر جیسا

مام پلیز بس کیجئے ۔۔۔۔۔۔
ماہر نے اُن کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا

اب آپکو کوئی جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے میں سب جانتا ہوں
ماہر نے دھیرے سے کہا اُس کی آنکھیں سرخ تھی اور پلکیں نم

ماہر بیٹا۔۔۔۔۔۔۔

مجھے یقین نہیں ہوتا کے آپ نے صرف دولت کے لیے یہ سب کیا ۔۔۔۔آپ ایک بار مجھے کہہ کے تو دیکھتی میں کبھی انکار نہیں کرتا مام۔۔۔۔۔
اتنے دن تک آپ پریشان ہوتی رہی بے سکون ہوتی رہی ایک بار تو کہا ہوتا کے ماہر یہ سب کچھ مجھے چاہیے میرے نام کر دے۔۔۔۔۔اپنے آپ کو بھی آپ کے حوالے کے دیتا مام
ماہر نہیں روک پایا خود کو رونے سے اُس کا دل پچھلے ہر دِن رویا تھا جب سے وہ ہوش میں آیا تھا اور آج آنکھوں بھی رو دی تھی اُس نے ہمیشہ صرف پیار چاہا تھا اور اُسے صرف دھوکہ ملا

سکندر اور عالیہ مجھ سے الگ نہیں تھے کبھی بھی جب میں خود آپ سب کا ہوں تو یہ دولت میری کیسے ہوئی مام۔۔۔۔یہ دولت میرے لیے کبھی بھی کچھ نہیں تھی میرے لیے تو ہمیشہ سے آپ لوگ ہی میری دولت تھے آپ کے پیار اور ساتھ کے سوا اور کچھ نہیں چاہا میں نے کبھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر بھی نیچے آیا تھا اور نفیسہ بیگم کے پاس کھڑا تھا نفیسہ بیگم سن ہو کر اُس کی باتیں سن رہی تھی عریشہ دادی اور رائنا کے ساتھ عالیہ بھی اُس کی باتوں پر اپنے انسوں نہیں روک پائی ماہر نے اپنی پچھلی جیب سے کچھ کاغذات نکالے تھے شاید وہ سب سوچ کر آیا تھا

یہ لیجئے مام میں نے ان کاغذات پر دستخط کرکے یہ سب آپ کے نام کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔بس ایک ریکویسٹ ہے آپ سے ۔۔۔۔۔۔مجھے اس گھر میں رہنے دیجئے میں اس گھر کو نہیں چھوڑ سکتا اس گھر میں بہت ساری خوبصورت یادیں ہے امی کی پاپا کی عالیہ سکندر اور میرے بچپن کی آپ کی ۔۔۔۔۔۔میں بہت جلد اس گھر کی قیمت ادا کردونگا ۔۔۔
اُس نے کاغذات اُن کی جانب بڑھائے جسے سکندر نے فوراً تھام لیا

آپ لوگ سکون سے اپنی زندگی گزار سکتے ہے کبھی آپ لوگو کو پریشان نہیں کرونگا بس ہمیشہ آپ کی خوشیوں کی دعا کرونگا

وہ نفیسہ بیگم کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا جو اُن کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہی تھی

بس ماہر۔۔۔۔۔یہ لوگ اس لائق نہیں ہے۔۔۔۔یہ تمہارے پیار تمہاری اچھائی کے لائق نہیں ہے ۔۔۔۔ان لوگوں نے تمہاری جان لینے کی کوشش کی ۔۔۔۔انہیں سزا میلنی ہی چاہیے۔ ۔۔۔
رائنا نے آگے بڑھ کر اُن دونوں پر ایک نفرت بھری نظر ڈالتے ہوئے کہا

نہیں آپی۔۔۔۔۔۔ جو بھی ہو ہے تو یہ میرے اپنے ہی ۔۔۔۔اور اپنی کو سزا دینا خود کو سزا دینے سے کم نہیں ہوتا
اور پھر کیوں ۔۔۔۔۔۔اس دولت کے لیے ۔۔۔۔۔میری دولت تو آپ لوگ ہے میری فیملی ہی میرے لیے سب کچھ ہے ۔۔۔۔۔۔مجھے آپ لوگوں کے پیار اور ساتھ کے سوا اور کچھ نہیں چاہیے۔۔۔۔۔
اُس کا یہ روپ دیکھ کر عریشہ کے دل میں اُس کی جگہ اور گہری ہو گئی تھی اب تک تو صرف اُس نے ماہر کے چہرے کی خوبصورتی دیکھی تھی آج اُس کا صاف دل دیکھ کر عریشہ کی محبت میں اضافہ ہو گیا تھا

آپ اپنے دل میں کوئی گلٹ مت رکھیے گا مام۔۔مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔۔۔۔۔میں آپ کے لیے کچھ بھی کروں وہ کم ہی ہوگا
اُس نے دوبارہ نفیسہ کی جانب رخ کیا تھا

میں نے اپنی ماں کو کبھی نہیں دیکھا جب دیکھا تو آپ کو ہی ما ں کے روپ میں دیکھا میں بھلے ہی آپ کا بیٹا نہیں لیکن آپ ہی میری ماں ہے۔۔۔۔۔۔اور ماں کی محبت کا قرض تو کبھی ادا ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔
پہلی۔دفعہ نفیسہ نے اسکا چہرہ دیکھا اور اُسے شاید شرم محسوس ہوئی

دیکھا نفیسہ۔۔۔۔۔۔یہ اُس محبت کی بات کر رہا ہے جو تم نے اسے کبھی نہیں دی ۔۔۔۔۔۔۔۔مبارک ہو نفیسہ ہیرے کو پیروں تلے روند کر تم نے اپنے لیے مٹی کا ڈھیر چن لیا اب چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔میرے بچے کو اب سکون سے رہنے دو ۔۔۔۔جاؤ۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُس کے آپس آتے ہوئے کہا سکندر نفیسہ کا ہاتھ پکڑے اُسے بہت لے گیا اور علیہ بھی اُن کے پیچھے چل دی لیکن وہ باہر نکلنے تک ماہر کو دیکھتی رہی اور ماہر اُسے

دادی۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر دادی کی جانب پلٹ کر اُن کے گلے لگا اور پہلی دفعہ مسکرایا تھا اُس کی مسکراہٹ بھی بلکل اُسے جیسی تھی خوبصورت دادی نے اُس کے ماتھے پر پیار کیا وہ رائنا کے پاس آکر اُس کے گلے لگا

آپی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہر تمہیں پتہ نہیں تمہیں دیکھ کر آج ہم سب کو کتنی خوشی ہو رہی ہے
رائنا نے اُسے دیکھتے ہوئے کہا

چھوٹے نواب۔۔۔۔۔۔ کیسے ہو ۔۔۔۔۔
ماہر زیان کو دیکھ کر جھکا اور اُس کے گال پر باری باری پیار کیا عریشہ اُس کی ہر حرکت کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی

We missed you mamu
زیان نے ماہر کے گال پر کس کرتے ہوئے کہا

I miss you to chote nawaab۔۔۔۔
ماہر نے اُس کے گال۔کھینچے اُسی وقت اُس کی نظر عریشہ پر پڑی اور اُس سے نظریں ملنے پر عریشہ نے سانس روکی جب کے ماہر کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی اُس نے دادی کی جانب دیکھا

دادی یہ کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اُس کے الفاظ وہاں کھڑے ہر کسی کو حیران کر گیۓ عریشہ اب بھی اُسے طرح کھڑی تھی

کیا مذاق کر رہے ہو ماہر ۔۔۔۔لگتا ہے کوئی اچھی شرارت سوچ کر آئے ہو
رائنا کو لگا وہ مذاق کر رہا ہے ماہر نے دوبارہ عریشہ کو دیکھا

آپی بتائیے نا کون ہے یہ۔۔۔۔۔سوری میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔۔۔۔
پہلی بار عریشہ کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی

یہ تم کیا کہہ رہے ہو ماہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُس کے پاس آکر حیرت سے پوچھا

کیا ہوا دادی۔۔۔۔۔
دادی کے تصورات دیکھ کر وہ پریشان ہوا تھا

ماہر تم عریشہ کو نہیں پہچانتے یہ تمہاری بیوی ہے۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُس کے سوال کا جواب دیا تھا اور ماہر نے حیرت سے عریشہ کو دیکھا عریشہ اُسے دیکھتے ہوئے پیچھے چار قدم چلتی پلٹ کر اپنے کمرے میں چلی گئی جب کے ماہر اُسے آخر تک دیکھتا رہا عریشہ کی زندگی کی اصلی جنگ تو اب شروع ہوئی تھی
💜💜💜💜💜💜💜

کیا سوچ رہے ہو سکندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ فلیٹ میں آئے تھے جو اب ساری پراپرٹی کے ساتھ اُنھیں مل چکا تھا سکندر آنے کے بعد سے ہی کسی گہری سوچ میں گم تھا اور عالیہ رونے میں مصروف تھی سامنے پیپر پڑے تھی اور اُس کی نظریں پیپر پر تھی اور دھیان ماہر کی باتوں پر

میں سوچ رہا ہوں کے ایسا کیا کروں جو اُس عریشہ کو سبق سکھا سکوں
اُس نے نفیسہ کی جانب دیکھ کر کہا

بس اب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہمیں جو چاہیے تھا ہمیں مل گیا اب ہمیں اُن سب سے کوئی مطلب نہیں
نفیسہ نے سر جھٹکتے ہوئے کہا شاید ماہر کی باتوں نے اُسے شرمندہ کردیا تھا

نہیں مام اُس لڑکی نے جو کیا اُس کا بدلہ تو میں لے کر رہونگا اُس نے مجھے چیلنج کیا تھا اگر میں نے اب بھی اُسے جواب نہیں دیا تو یہ میری ہار ہوگی اب تک اُسے اس لیے برداشت کیا کیوں کہ پہلے پراپرٹی اپنے نام کرنی تھی اب اُسے اُس کی اوقات بتانی ہے ماہر کے نام پر اُس نے بہت نچایا ہمیں مجھے۔۔۔۔۔۔ سکندر احمد کو اُس نے چونوتی دی تھی وقت آگیا ہے اب اُسے راستے لگانے کا ماہر میں اُس کی جان بستی ہے نا تو اب اُسے بے جان کر دونگا میں

کیا کرنے کی سوچ رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ نے اُسے حیرت سے دیکھا

میں ماہر کو مار دونگا
اُس نے دھیرے سے جواب دیا اور نفیسہ کے ساتھ علیہ نے بھی اُسے حیرت سے دیکھا

دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا ۔۔۔۔پاگل ہو گئے ہو تم ۔۔۔تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ہم جو چاہتے تھے وہ مل گیا اب بھول جاؤ عریشہ کو بھول جاؤ پچھلی باتیں
نفیسہ نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا

۔نہیں بھول سکتا اُس نے میری جو بے عزتی کی کبھی نہیں بھول سکتا میں۔۔۔۔۔۔۔جب تک میں اُسے جواب نہیں دونگا مجھے چین نہیں آئیگا۔۔۔۔ماہر کی بیوی ہونے پر بہت گھمنڈ ہے اُسے ماہر نہیں رہیگا تب پتہ چلے گا اُسے سکندر کیا چیز ہے

سکندر تم ایسا نہیں کروگے۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہہ دیا

آپ کے کہنے پر ہی اُسے زندہ رکھا تھا اب اُس کی ضرورت نہیں ہے آپ کو تو کیوں میرے بیچ میں آرہی ہے

سکندر نے سختی سے جواب دیا

مام۔۔۔۔۔۔۔
ابھی نفیسہ کچھ کہتی اُس کے پہلے عالیہ نے پکارا
تو دونوں اُس کی جانب متوجہ ہوئے

آپ جانتی ہے ماہر بھائی نے یہ کاغذات کب بنائے تھے
اُس نے کاغذات ہاتھ۔میں لیتے ہوئے کہا

دو سال پہلے اُسی دِن جب انکا اکسیڈنٹ کروایا تھا آپ لوگو نے یہ سوچ کر کے ماہر بھائی سب جاننے کے بعد آپ لوگو کے خلاف ہو جائینگے آپ کو گھر سے نکال دینگے ۔۔۔۔۔لیکن ماہر بھائ۔۔۔۔۔۔۔ اُسی دِن اپنا سب کچھ ہمیں دینے کا فیصلہ کر چکے تھے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آرہا کے میں نے آپ دونوں کا ساتھ کیوں دیا ماہر بھائی کا ساتھ کیوں نہیں دیا ۔۔۔۔کاش کے میں اُن کی سگی بہن ہوتی تو شاید اُن کی طرح ہی ہوتی ۔۔۔۔۔۔میں نے اُن کو اتنا برا بھلا کہا اُن کا مذاق بنایا ۔۔۔۔۔۔کتنا پیار کرتے تھے وہ ہم سب کو کتنا خیال رکھتے تھے ہمارا اور ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا
عالیہ روئے ہوئے اُنھیں بتا رہی تھی اُسے بہت افسوس ہو رہا تھا

اور سکندر بھائ۔۔۔۔۔۔آپ کیسے بھول گئے اُن کے پیار کو آپ کے لیے کیا نہیں کیا اُنہوں نے ہمیشہ خود سے پہلے ہم دونوں کی خوشی کا خیال کرتے تھے وہ ہماری ہر خواہش پوری کرتے تھے اور آپ اُنھیں مار دینا چاہتے ہیں اتنا تو کوئی دشمن بھی بے رحم نہیں ہوتا جتنے آپ بھی ہو کر ہے ۔۔۔۔۔۔پاپا نے صحیح کیا تھا جو ساری ذمےداری اُنھیں سونپی کیوں کے آپ تو اس لائق ہے ہی نہیں ورنہ بتائیے آج اگر آپ ماہر بھائی کی جگہ ہوتے تو کیا اپنے ساتھ اتنا کچھ کرنے والو کو اپنا سب کچھ دے دیتے اتنی آسانی سے

بس۔۔۔۔اپنی بكواس بند کرو۔۔۔۔اُس نے کوئی احسان نہیں کیا ہم پر ۔۔۔۔۔۔اور اگر اتنی ہی ہمدردی ہے تو چلی جاؤ اُس کے پاس ہی۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے غصے سے اُسے جھڑکا اور باہر نکل گیا
💜💜💜💜