Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔۔اتنے سالوں تک ہم اس جائداد کو پانے کے لیے کوششیں کرتے رہے اور وہ لڑکی سب لے جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹھے بٹھائے اس سب کے مالکن بن جائے گی
نفیسہ بیگم وکیل کی بات سننے کے بعد بے چینی سے کمرے میں ٹہل رہی تھی اور سکندر اور عالیہ اُنہیں دیکھ رہے تھے

آپ کو ہی بہت شوق تھا نہ اُس پاگل کی شادی کروانے کا ۔۔۔۔
عالیہ نے پھر اُنہیں غلطی یاد دلائی

تو چپ کر میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں میرے جلے پر نمک مت چھڑک سمجھی
نفیسہ اس پر چینخ پڑی

ریلیکس مام ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے ایسا کچھ نہیں ہوگا
سکندر نے اُنہیں چپ کروانا چاہا

کیا کچھ نہیں ہوگا ماہر کی جائداد پر اُس کی بیوی کا حق ہو جائیگا اب کیا کرے گے ہم

ایک بار ماہر کو پچیس سال کا ہونے تو دیجئے اُس کے بعد وہ خود یہ سب ہمارے نام کر دیگا

لیکن کیسے بھائی سب جانتے ہیں ماہر پاگل ہے اُس کے سائن بھی نہیں چلے گے
This is impossible
عالیہ نے اس کی بات پر حیرت سے کہا

Every thing is possible
بس کچھ پیسے دو اور کام پورا آجکل ایمان بکتے دیر نہیں لگتی ۔۔۔۔۔
بس کچھ وقت تک انتظار کیجئے مام اور تب تک پلیز یہ ساس بہو والی لڑائیاں بند رکھیے ورنہ پروبلم ہو جائیگی
سکندر نے اُنہیں تسلی دی وہ پہلے ہی سب سوچ چکا تھا کہ کیا کرنا ہے

💜💜💜💜💜💜💜💜

واہ کیا رونق ہے اس گھر کی دیکھا۔۔۔۔ اگر تیرے آگے ماں باپ بھی ہوتے نا وہ بھی تیرے لیے ایسا نصیب نہیں ڈھونڈ پاتے
تائی امی آج اس سے ملنے آئی تھی عریشہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کے اُسے خوش ہونا چاہیے حیران ہونا چاہیے یہ ڈرنا چاہیے کیوں کے تائی امی بنا مقصد تو آئی نہیں ہوگی

گھر میں سب کیسے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریشہ نے دھیرے سے پوچھا اب بھی وہ اُن سے نظریں ملانے سے در رہی تھی

گھر کے حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں ۔۔۔۔۔تمہاری شادی پر اتنا خرچ کردیا کے اب کھانے کے لالے پڑ گئے تمہارے تایا بھی اس مہینے پیسے نہیں بھیج پائے ۔۔۔۔اب تمہارے لیے اتنی عیش کو زندگی کر کے دی ہے تو تم بھی ہمارے لیے کچھ تو کر ہی سکتی ہو۔۔۔۔۔مجھ کچھ ہزار روپے دے دو خرچ کر لیے

اریشہ کو سمجھ آگیا نے تائی امی کیوں آئی ہے کاش کے وہ اُنہیں۔ کہہ پاتی کے آپ نے عیش دیکھ کر نہیں بلکہ کچھ اور وجہ سے اُسے یہ زندگی دی ہے

روپے۔۔۔۔۔۔۔

ہاں بھئی اتنا بڑا کاروبار ہے ان کا کیا جائیگا کچھ دے دو گی تو ۔۔۔۔

نہیں تائی امی ۔۔۔۔۔۔میں ایسا نہیں کر سکتی
وہ جھجھکتے ہوئے بولی

کیوں نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔اچھا سمجھ گئی۔ ۔۔نئی نئی شادی ہوئی ہے سب کیا کہے گے یہی نہ۔۔۔۔

ایسا کرو یہ چوڑیاں مجھے دے دو میں اسی سے کام چلا لونگی
تائی نے اس کی چوڑیاں دیکھ کر کہا اس نے فوراً ہاتھ پیچھے کرلیا

کیا سوچ رہی ہو اتارو چوڑیاں۔۔۔۔۔۔۔وہ اُسے طرح چوڑیوں کو ایک ہاتھ سے چھپائے بیٹھے رہی

نہیں تائی امی میں ۔۔۔۔یہ چوڑیاں نہیں دے سکتی مجھے دادی نے دی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ہمت کر کے کہا

مت بھول بچپن سے میں نے پالا ہے تجھے تب جا کر ہوئی اور یہ دادی ملی تجھے۔۔۔اُتار جلدی
تائی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر چوڑیاں اتارنی چاہی

نہیں تائی امی۔۔۔۔۔۔۔
اریشہ آپ ہاتھ کھینچتے ہوئے بولی لیکن اُنہیں نے اس کی کلائی اوپر سے دبا کر پکڑی ہوئی تھی اور چوڑیاں کھنچ رہی تھی

یہ کیا کر رہی ہو تم چھوڑو ماہر کی بیوی کو
ماہر نے منہ کھولے تائی کی حرکت دیکھی تو اریشہ کا ہاتھ چھڑوا یا

پرے ہٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے ماہر کو دھکا دیا اور واپس اریشہ کا ہاتھ پکڑا اریشہ نے ماہر کو دیکھا جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا اریشہ کی آنکھیں بھر آئیں تھی

اُتار چوڑیاں میں کہتی ہوں۔۔۔

گندی آنٹی چھوڑو ماہر کی بیوی کو ۔۔۔۔۔۔بیوی چوڑیاں نہیں دے گی
اس نے تائی امی کے ہاتھ کو جھٹک کر اریشہ کا ہاتھ پکڑ کر خود سے لگا لیا

پاگل لڑکے نکل یہاں سے
تائی امی نے اب کے اُسے زور سے دھکا دیا ماہر ٹیبل کے قریب گرا تھا اور ٹیبل پر رکھا واس اٹھا کر غصے سے اُن کی جانب بڑھا تھا

ماہر۔۔۔۔۔۔۔۔
اریشہ اُسے روک پاتی اس میں پہلے ماہر نے وہ واس تائی امی کے سر پر مارا جس سے وہ چینخ پڑی اُن کے سر سے خون بھی نکلنے لگا

ہائے۔۔۔۔پاگل نے مار دیا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ واویلا مچانے لگی اور ماہر گھبرا کر اریشہ کے پیچھے چھپ گیا

کیا ہو رہا ہے عریشہ۔۔۔۔۔۔۔
شور کی آواز پر دادی کمرے سے باہر نکلی اور ساتھ زیان بھی نفیسہ عالیہ اور سکندر گھر میں نہیں تھے

کیا ہوگا دیکھیے آپ کے پاگل پوتے نے خون نکال دیا سر سے
ارے اسے کھلا کیوں چھوڑ رکھا ہے پنجرے میں بند کرو اس پاگل کو
تائی امی ماہر کو دیکھتے ہوئے زور زور سے بول رہی تھی

تائی امی ۔۔۔تمیز سے بات کیجئے۔۔۔۔۔۔۔اور جائیے یہاں سے
آپ نے مجھے پال کر جیتنا بڑا احسان کیا تھا اس سے دس گنا وصول کر چکی ہے آپ ۔۔۔۔مت بھولیے یہ میرا گھر ہے اور اب ایک پل بھی میں یہاں آپ کو برداشت نہیں کرونگی
ماہر کو کوئی کچھ کہے عریشہ سے کیسے برداشت ہوتا ماہر اپنے کمرے میں بھاگ گیا تھا

جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔لیکن یاد رکھنا غلط کر گئی تو آج۔ ۔۔۔
تائی امی اُسے کڑے تیوروں سے گھورتی ہوئی چلی گئی اُنہیں جاتا دیکھتے ہوئے اریشہ رونے لگی تھی

برا مت ماننا بیٹا ۔۔۔۔۔۔تم تو جانتی ہو نا ماہر کو صحیح غلط کی سمجھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے غصّہ آگیا ہوگا تبھی اس نے ایسا کیا کرنا وہ کبھی ایسا نہیں کرتا تم دل پر مت لینا اس کی طرف سے میں معافی مانگتی ہوں
دادی کو لگا کے کہیں اریشہ برا مان کر ماہر سے ناراض نہ ہو جائے کے اس کی تائی امی کو مارا اسلئے خود اُسے سمجھانے لگی اریشہ نے اُن کی جانب دیکھا اور اُن کے گلے لگ گئی

دادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پہلی بار مجھے ایسا لگا جیسے میں اکیلی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔میرا ساتھ دینے والا کوئی ہے۔۔۔۔۔جو میرے لیے کسی سے بھی لڑ سکتا ہے جو مجھے مصیبت میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔جس کے لیے میں کچھ معنی رکھتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج پہلی دفعہ خود کو بہت محفوظ محسوس کر رہی ہوں دادی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کے گلے سے لگے ہوئے رونے لگی اور دادی نے مسکراتے ہوئے اُسکی سر پر ہاتھ پھیرا

💜💜💜💜💜💜
سوری بیوی۔۔۔۔۔۔ماہر آگے سے کبھی ایسا نہیں کریگا پرومس
وہ کمرے میں داخل ہوئے تو اُسے دیکھتے ہی ماہر نے کان پکڑ لیے

آپ کو اتنا غصّہ کیوں آگیا تھا ماہر جی۔۔۔۔۔۔
وہ آکر اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی
۔
وہ گندی آنٹی بیوی کی بنگلس چھین رہی تھی نا
ماہر کو ان بنگیلس کی آواز اچھی لگتی ہے ماہر کسی کو یہ نہیں لینے دیگا
ماہر نے معصومیت سے کہا اور اریشہ اس کے گلے سے لگ گئی

مجھے نہیں پتہ تھا ماہر جی کے آپ میری ہاتھوں میں جو چوڑیاں ہے وہ بھی کسی کو چھیننے نہیں دے گے۔۔۔۔میں تو ہمیشہ سے ہارتی آئی ہوں پر اب لگتا ہے آپ میری جیت بن کر میری زندگی میں آئے ہے میں غلط تھی جو مجھے لگا کہ اللہ نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے آپ سے بہتر تحفہ تو مجھے مل ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس سے الگ ہوئی اور اپنے گال صاف کرتے ہوئے اُسے دیکھا
ایک بات بولوں بیوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے پوچھا تو اریشہ نے سر ہلا دیا۔
تم نے جو بولا ماہر کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے معصومیت سے کہا اور اریشہ اس کی بات پر ہنستی چلی گئی
I love you mahir ji۔۔۔۔۔۔۔
وہ دوبارہ اس کے گلے لگی اور دھیرے سے بولی آج پہلی دفعہ اس نے ماہر کو اپنے دل تک پہنچتے ہوئے محسوس کیا تھا

💜💜💜💜💜💜

وہ دادی سے مِل کر۔کمرے میں آئی تو ماہر بیڈ پر بیٹھا سنجیدگی نے سامنے دیوار کو دیکھ رہا تھا
اتنا شانت وہ کبھی نہیں ہوتا تھا

ماہر جی ۔۔۔۔آپ یہاں ایسے کیوں بیٹھے ہے چلیے نا باہر چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانا چاہا لیکن اس نے بنا دیکھے عریشہ کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔جس پر اریشہ بہت حیران ہوئی

کیا ہوا ماہر جی۔۔۔۔۔ ناراض ہے آپ مجھ سے۔۔۔۔۔
وہ غصّہ ہو کر ہی ایسی حرکتیں کرتا تھا اریشہ اس کے قریب بیٹھی اور ایک ہاتھ سے اس کا چہرہ اپنی جانب کیا

Stay away from me
ماہر نے نا صرف اس کا ہاتھ جھٹکا بلکہ اُسے دھکا بھی دیا وہ ماہر نہیں کوئی اور تھا جس کے چہرے پر نہ معصومیت تھا نا ہونٹوں پر مسکان

ماہر جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریشہ گھبرا گئی کے آخر اُسے کیا ہوا

کہا نا دور رہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔دور رہو۔۔۔۔۔دور رہو
ماہر نے سر پکڑتے ہوئے زور سے چلانا شروع کر دیا

کیا ہو گیا ماہر جی آپ ایسے کیوں کر رہے ہیں ادھر دیکھیے
اریشہ نے ہاتھ اس کی جانب بڑھایا لیکن ماہر فوراً اپنی جگہ سے اٹھ گیا

جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جسٹ گو۔۔۔۔۔۔۔, جاؤ و و و۔۔۔۔۔۔
وہ دیوانہ ور اپنا سر پکڑے چلاتا رہا اور آنکھیں مندیں سر کو زور سے دبانے لگا جیسے اس کا سر پھٹ رہا ہے۔۔۔۔۔۔اس کی حالت دیکھ کر اریشہ کو در لگ رہا تھا ماہر لڑکھڑا کر گرنے والا تھے کے اریشہ نے اُسے پکڑ لیا اور بیڈ پر لٹایا وہ ہوش میں نہیں تھا

💜💜💜💜
میں بہت ڈر گئی تھی ڈاکٹر۔۔ماہر نے پہلے کبھی ایسا برتاؤ نہیں کیا اُن کا غصّہ اُن کے بولنے کا انداز بہت عجیب تھا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جب انہیں ہوش آیا تو اُنہیں کچھ یاد ہی نہیں تھا وہ بلکل نارمل تھے
وہ ڈاکٹر کے پاس آئی تھی کل والا واقع بتاتے ہوئے وہ منظر پھر اس کے ذہن میں گھوم رہا تھا

دوائی کی افیکٹ سے ایسا ہوتا ہے اریشہ پرانی یادیں ذہن سے ٹکراتی ہے تو مزاج میں تبدیلی ہوتی ہے ڈرنے والے کوئی بات نہیں ہے بلکہ یہ اچھی خبر ہے کے وہ اتنا فاسٹ رسپانس کر رہا ہے ۔۔۔۔۔

میری مانو تو تم اسے اسائلم میں ایڈمٹ کر دو۔۔۔وہاں ہر وقت ہر وقت اُسکا دھیان بھی رکھا جائے گا اور ٹریٹمنٹ بھی اچھے سے ہو پائیگا

نہیں ڈاکٹر میں ماہر کو اپنی نظروں سے دور نہیں بھیجنا چاہتی ۔۔۔۔اُن کی جان کے دشمن کبھی بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔اگر وہ میرے سامنے ہوگے تو مجھے تسلی بھی رہیگی اور ہمت بھی ملےگی

عریشہ نے سہولت سے انکار کر دیا

میں تمہارے جذبات سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے جیسا تمہیں سہی لگے۔۔۔۔۔۔۔یہ نیند کی گولی ہے
انہوں نے ایک باطل اس کی جانب بڑھائی

آئندہ اگر ماہر کو اس طرح کا دورہ پڑتا ہے اور وہ بے قابو ہو جاتا ہے تو اُسے شانٹ کرنے کے لیے تم یہ دوائی دے سکتی ہو
اریشہ نے سر ہلا دیا

بہت شکریہ آپکا ڈاکٹر۔۔۔۔۔ آپ میں میری اتنی مدد کی ہے کے شکریہ لفظ بھی چھوٹا ہے

مدد۔۔۔۔۔۔یہ تو ایک ڈاکٹر کا فرض ہے عریشہ
ڈاکٹر واحد نے حیران ہوتے ہوئے کہا

ڈاکٹر کا فرض تو مریض کو دوائی دے کر ٹھیک کرنا ہے لیکن آپ نے جو کیا ہے وہ فرض سے کہیں اوپر ہے اور میں آپکی احسان مند ہوں۔۔۔۔۔۔۔

💜💜💜💜💜💜