Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

عریشہ کالج سے واپس آتے ہی کچن میں آکر اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہو چکی تھی

عریشہ۔۔۔۔۔۔۔۔امی نے کہا ہے برتن دھونے بعد کے جا کر تیار ہو جانا آج تمہارے سسرال والے تاریخ پکی کرنے آرہے ہے۔۔۔۔۔

ردا اپنی امی کا میسیج عریشہ کو دے کر جا چکی تھی اور عریشہ سن ہو کے کھڑی رہ گئی تھی ایک بار پھر اُس کی آنکھوں سے انسوں جاری ہو گئے تھے دو ہے دِن پہلے اُس کا رشتہِ پکہ ہوا تھا اُس دن سے وہ روئے جا رہی تھی ساری رات رونے کے بعد وہ بہت ہمت کرکے کالج گئی تھی اور واپس آتے ہی یہ خبر سن کر پھر اُس کا دل اُداس ہو گیا تھا

عریشہ کے امی ابّو ایک حادثے میں فوت ہو گئے تھے اُس وقت عریشہ کی عمر صرف سات سال تھی اپنوں کے نام پر اُس کے صرف تایا ہی تھے اس لیے عریشہ اُن کی ذمےداری بن گئی تایا ابو کا برتاؤ اُس کے ساتھ لیا دیا ہی تھا لیکن تائی امی کو وہ زہر لگتی تھی تایا ابو دبئی میں نوکری کرتے تھی اس لیے کبھی کبھی ہی گھر پر رہتے تھے اور اُن کے پیچھے تائی اُس کے ساتھ نوکروں سے بھی بدتر سلوک کرتی تھیں اُن کی باتیں طعنے ہمیشہ عریشہ کا دل چھلنی کر دیا کر دیتے تھے لیکن وہ کر بھی کیا سکتی تھی جب اللہ نے ہی اُس کی قسمت میں یہ سب لکھا تھا تائی امی اُس سے گھر کا سارا کام کروایا کرتی تھی اپنی خدمت کروایا کرتی تھی اور پہننے کے نام پر اُسے اپنی بیٹیوں ردا اور فائزہ کے پرانے کپڑے اور سامان دیا کرتی تھی
تائی امی کو دیکھ اُن کی دونوں بیٹیاں بھی اُس پر ایسے ہی حکم چلاتی تھی اور وہ چپ کرکے سہتی رہتی تایا جی کے کہنے پر انہوں نے دسویں کے بعد اُس کا داخلہ تو کروا دیا تھا لیکن اُنھیں اُس کا پڑھنا بھی بہت کھٹکتا تھا وہ جلد سے جلد اُس کے لیے کوئی رشتہ ڈھونڈھ کر اپنے بوجھ کو کم کر دینا چاہتی تھی لیکن کئی رشتے والے اُس کے لیے انکار کے چکے تھی وجہ دو تھی ایک عریشہ کا رنگ ہلکا سا سانولا تھا اور دوسری کے وہ یتیم تھی اسلئے کچھ ملنے کی امید نہیں تھی عریشہ کو اُن کے انکار کرنے کے بعد تائی امی کی جو گالیاں اور باتیں سننے ملتی وہ الگ بے چاری گھنٹوں روتی رہتی

دو دن پہلے اُس کے لیے ایک رشته آیا تھا اور اُن لوگوں کو وہ پسند بھی آگئی تھی لیکن حیرت کی بات یہ تھی کے وہ لوگ بہت رئیس اور اونچے گھرانے کے لوگ تھے اسی لیے عریشہ ڈری ہوئی تھی وہ جانتی تھی تائی امی اُس سے چھٹکارا پانے کے لیے کسی بھی طرح اُس کی شادی کرنا چاہتی ہے اس لیے اُسے کچھ غلط ہونے کا اندازہ ہو رہا تھا وہ سات سال کی عمر سے اتنا کچھ سہتی آئی تھی اب آگے کی زندگی میں پتہ نہیں اُسے اور کیا کیا دیکھنا تھا لیکن وہ صرف رو سکتی تھی کچھ کر نہیں سکتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

💜💜💜💜💜
ردا جو اُس سے دو سال بڑی تھی اُس نے عریشہ کو اپنے کپڑے تنگ کرکے پہنائے تھے اور اُسے تیار کرکے باہر لے آئی تھی وہ اُن لوگوں کے درمیان خاموش بیٹھی تھی اور اُس کے ذہن میں وہی چل رہا تھا

خوش رہو بیٹی۔۔۔۔۔۔۔۔سب کچھ جانتے ہوئے تم نے اس رشتے کے لیے ہاں کہہ کر ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے
وہ اُس لڑکے کی دادی تھے جو عریشہ کے سے پر ہاتھ رکھے محبت سے کہہ رہی تھی اور عریشہ نے اُن کی بات پر سر اٹھا کر اُنھیں دیکھا اُن کے ” سب کچھ جانتے ہوئے” والے لفظ عریشہ کے حلق میں اٹک گئے تھے مگر وہ کہہ نہیں پائی دادی نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر تیسری انگلی میں اپنے پوتے کے نام کی انگوٹی پہنائی تھے جسے وہ بے تاثر نگاہوں سے دیکھتی رہی

رضیہ جی۔۔۔آپ نے عریشہ کو سب کچھ بتا تو دیا تھا نہ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بار لڑکے کی ماں بولی تھی شاید وہ دادی کی بات پر عریشہ کا حیران ہونا نوٹس کر چکی تھی

جی ہاں آپ نے جو کہا تھا میں نے سب بتا دیا اسے۔۔۔۔۔بہت ہی سمجھدار اور نیک ہے میری بچی۔۔۔ ۔
تائی امی کے منہ سے اکثر ایسے ہی الفاظ نکلا کرتے تھی اُس کے لیے لیکن صرف رشتے والوں کے سامنے
دادی نے ایک بار پھر اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا کچھ دیر بعد جب وہ لوگ جا چکے تھے عریشہ تائی امی کےپاس آئی اُس نے فیصلہ کیا تھا کے وہ ہمت کرے گی اور تائی سے پوچھے گی کے وہ کیا بات ہے ۔۔آخر یہ اُس کی زندگی کا سوال تھا

تائی امی۔۔۔۔۔۔۔۔
تائی امی پان بنا کر منہ میں ڈال رہی تھی جب وہ اُن کے کمرے میں آئی اُسے دیکھتے ہی تائی امی کے
چہرہ پر ناگواری چھا گئی

وہ۔۔۔۔۔۔۔تائی امی۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔۔۔مجھے پوچھنا تھا کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے وہ لوگ کونسی ۔۔۔ک ک۔۔۔۔۔کونسی بات کے بارے میں پو پوچھ رہے۔۔۔ پوچھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے مجھے ۔۔۔۔۔
اُس کی زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی اُس نے بہت مشکل سے سے جھکائے اتنے الفاظ ادا کیے تھے
تائی امی کڑے تیوروں سے اُسے دیکھتی اٹھ کر اُس کے پاس آئیں تھی

اچھا تو تو یہاں مجھ سے سوال جواب کرنے آئی ہے
ہاں اُن لوگوں نے مجھے کہا تھا تجھے بتانے کو
اُن کے بیٹے میں ایک کمی ہے لیکن تو کونسی حور ہے تیری شکل تو دیکھنے لائق بھی نہیں ہے تجھے شکر منانا چاہیے کے پھر بھی وہ تجھے قبول کر رہے ہیں ۔,۔..۔۔۔۔ورنہ ساری زندگی ہمارے سر پر بوجھ بن کر پڑی رہتی کوئی نہیں تھوکتا تیری شکل پر۔۔۔۔اتنا بڑا خاندان۔۔۔۔اتنی دولت۔۔۔۔۔۔اتنا رتبہ۔۔۔۔۔۔اتنا سب کچھ ہے اُن کے پاس کے اُس لڑکے کی کمی کوئی معنی نہیں رکھتی ۔۔۔ ۔۔۔تجھے تو میرے پیر دھو کر پینے چاہیے کے تیری اوقات سے بڑھ کر گھر میں تیری شادی کر کے دے رہی ہوں
تائی امی کے الفاظ زہر میں ڈبوئے گئے تیروں کی طرح اُس کے دل کو چھلنی کرتے رہے وہ جانے کے لیے پلٹ گی

رک۔۔۔۔۔۔۔
تائی امی نے اُسے روکا

میری بات کان کھول کر سن لے۔۔۔۔۔۔۔۔تو اس گھر میں صرف تین دن کی مہمان ہے ۔۔۔۔۔۔تین دن بعد تو شادی کرکے اُس گھر میں رہنا چاہتی ہے یا سڑک پر یہ تیرا فیصلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔کیوں کے میں اب تجھے اس گھر میں تو نہیں رکھنے والی ۔۔۔۔۔۔تجھے جیتنا برداشت کرنا تھا کر لیا۔۔۔۔۔ تیری بھلائی اسی میں ہے کے بنا منہ کھولے چپ چاپ شادی کر لے۔۔۔زیادہ نخرے کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔اب دفع ہو یہاں سے
تائی امی گرجی تھی اور وہ روتی ہوئی باہر نکل گئی تھی
💜💜💜💜💜
قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین بار قبول ہے کہنے کے ساتھ اُس نے نا صرف ماہر جمال کو اپنے شوہر کے طور پر قبول کیا تھا بلکہ اپنی آنے والی زندگی کی تکلیفوں اور مشکلوں کے لیے بھی خود کو تیار کیا تھا جن سے وہ نا واقف تھی
ابھی تک ایک ڈر اُس کے دل میں قائم تھا جانے کیا ہونے والا ہوگا۔۔۔۔کونسا کڑوا سچ آئیگا اُس کے سامنے کونسی کمی تھی اُس کے شوہر میں۔۔کیا وہ پہلے سے شادی شدہ تھا۔۔۔۔۔یا عمر میں اُس سے بہت بڑا تھا یا اُس کی شکل و صورت میں کوئی خامی تھی
پتہ نہیں کیا تھا سوچ سوچ کر وہ تھک چکی تھی

رخصتی کے وقت اُسے اپنے ماں باپ شدّت سے یاد آرہے تھے تایا ابو سے گلے لگ کر وہ بہت روئی تھی اور اُس گھر کو الوداع کہہ کر وہ نئے گھر میں آئی تھی لیکن وہ نیا گھر صرف گھر نہیں ایک محل تھا گزرتے وقت کے ساتھ اُس کی بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا
کیا سوچ رہی ہو بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے گم سم بیٹھے دیکھا تو پوچھ بیٹھی
اُس نے سے نفی میں ہلا دیا
ماہر کی فیملی میں اُس کی دادی کے علاوہ سوتیلی ماں اور اُن کے دو بچے تھے سکندر اور عالیہ۔۔۔ والد کا انتقال چار سال پہلے ہوا تھا جب کی ماہر کی ماں اُس کے پیدائش کے وقت ہی انتقال کر گئی تھیں

ماہر کی کزن بہن رائنا نے ہی اُسے سب بتایا تھا جو شادی شدہ تھی وہ بہت پیاری اور بہت ملنسار تھی اُن کا آٹھ سالہ بیٹا زیان عریشہ کے پاس ہی بیٹھا تھا
پریشان مت ہو اب یہ تمہارا ہی گھر ہے۔۔۔۔۔۔
رائنا نے اُسے نروس دیکھا تو پیار سے بولیں

مجھ بڑھیا پر تم نے جو احسان کیا ہے وہ میں زندگی بھر نہیں چکا سکتی ۔۔۔۔۔بس ایک فکر تھی مجھے کے مرنے سے پہلے اپنے ماہر کا گھر بستا دیکھ بھی پاؤں گی کے نہیں لیکن تم نے آج میری وہ فکر بھی دور کر دی اب میں سکون سے مر سکتی ہوں میرے بچے کا خیال رکھنے کے لیے تم جو ہو۔۔۔۔۔۔ یقیناً۔تم بہت ہی نیک ہو بیٹا تبھی تو تم نے میرے پوتے کی اتنی بڑی خامي کو جان کر بھی اُس کا ساتھ دینا قبول کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی اُس کے پاس ہی بیٹھی بول رہی تھی اور ایک بار پھر وہ ڈر بڑھنے لگا تھا

اللہ تمہارا دامن خوشیوں سے بھر دیں تمہاری ہر خواہش پوری کریں اور تم دونوں کو ہمیشہ ساتھ رکھے ۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے دل سے دعا دی
💜💜💜💜💜💜