Dil Maane Na By Sanaya Khan Readelle70081 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
دادی ۔۔۔میں نے ڈاکٹر سے بات کی ہے اُنہوں نے بتایا کہ ماہر کے ذہن سے پچھلے دو سال کی ساری باتیں بھول چکی ہے اسی لیے نا اُسے عریشہ یاد ہے نہ شادی۔۔۔۔۔۔۔جس طرح ہم نیند میں ہوتے ہے اور جاگنے کے بعد ہمیں کچھ یاد نہیں ہوتا اُسی طرح ماہر کو بھی کچھ یاد نہیں
رائنا نے عریشہ سے بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن عریشہ خاموش رہی وہ اپنے کمرے سے باہر ہی نہیں نکلی تھی رائنا ہار مان کے باہر آگئی دادی کے پاس بیٹھتے ہوئے اُنھیں پریشان دیکھ کر کہا
لیکن یہ حقیقت ہے رائنا جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا دِن رات اُس نے ماہر کے ٹھیک ہونے کی دعائیں کی ہے اُسے بچانے کے لیے لڑتی رہی۔۔۔۔ہر دِن اس کا انتظار کر تی رہی اور اس نے ۔۔۔۔۔۔اس نے اُسے پہچاننے سے ہی انکار کر دیا اُسے بیوی ماننے سے ہی انکار کر دیا۔۔۔۔کیا گزر رہی ہوگی اُس کے دل پر۔۔۔۔۔
دادی افسوس سے بولی ماہر نے اُن کے پاس بیٹھتے ہوئے اُن کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے
دادی میں اُسے بیوی ماننے سے انکار نہیں کر رہا ہوں نہ ہی مجھے آپ کی کسی بات پر شک ہے میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کے مجھے کچھ یاد نہیں ہے۔۔۔اور سچ دادی مجھے بلکل بھی یاد نہیں کے کب اُس سے میری شادی ہوئی کب میں اُس سے ملا مجھے کچھ یاد نہیں بلکہ مجھے اس کا چہرہ تک یاد نہیں ایسا لگتا ہے آج پہلی بار دیکھ رہا ہوں اُسے
وہ خود ایک کشمکش میں تھا لاکھ یاد کرنے پر بھی اُسے کچھ یاد نہیں آرہا تھا لیکن پھر بھی وہ دادی کو پریشان دیکھ کر اپنی ٹینشن بھول گیا تھا
دادی پلیز ماہر کو تھوڑا وقت دیجئے ۔۔۔ ۔ اس میں ماہر کی کوئی غلطی نہیں ہے لیکن میں جانتی ہوں وہ سب ٹھیک کر دیگا
رائنا نے پرامید نظروں سے اُسے دیکھا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کے رائنا سے کیا کہے
اچھا میں چلتی ہوں دادی
رائنا جانے کے لیے اٹھ گئی تھی اُسے واپس اپنے گھر جانا تھا
رک جاتی تو اچھا تھا بیٹا عریشہ کو بھی ابھی ضرورت ہے کسی کی
عریشہ کی آپ بلکل فکر نا کریں وہ بہت سمجھدار ہے اور ماہر ہے نہ سنبھال لیگا اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رائنا کا جانا ضروری تھا وہ دادی کو تسلی دیتے ہوئے بولی تو انہوں نے ماہر کی جانب دیکھا
💜💜💜💜💜💜
عریشہ کو اپنی قسمت پر یقین نہیں آرہا تھا جو ہر بار اُس کے لیے ایک نئی مشکل لے آتی تھی کتنا انتظار کرتی رہی تھی وہ ماہر کے ٹھیک ہونے کا اور ماہر کو وہ یاد تک نہیں تھی وہ رائنا کے جانے کا سن کر باہر آئی تھی لیکن پھر ماہر کی باتیں سن کر واپس پلٹ کر اندر چلی گئی اور ماہر کی باتیں سن کر اُسے اور زیادہ تکلیف ہوئی تھی وہ بیڈ پر گرتے ہوئے بے اختیار رو دی تھی ماہر کا ٹیڈی بیئر اُس کے پاس تھا اُسے ہر وہ لمحہ یاد آرہا تھا جب ماہر اُس کے ساتھ تھا اُس کا خیال رکھتا تھا اُس سے ناراض ہوتا تھا اتنا اپنا پن ہوتا تھا اُس کی باتوں میں اور اب اُس کی آنکھوں میں اپنے لیے اجنبیت دیکھ رہی تھی اُسے نا اپنی بیوی یاد تھی نا اُس کا پیار
آپ مجھے کیسے بھول سکتے ہے ماہر جی ۔۔۔۔۔۔۔
آپ ہی نا تو کہا نا کے میں آپ کی بیسٹ فرینڈ ہو آپ کبھی مجھے رونے نہیں دینگے تو اب کیوں آپ مجھے رُلا رہے ہیں۔۔۔۔۔پلیز ماہر جی آکر کہہ دیجئے کہ یہ سب مذاق ہے آپ مجھے نہیں بھولے ۔۔۔۔۔آکر کہیے نا کے بیوی مت روں ماہر کو اچھا نہیں لگے گا
وہ زاروقطار روتے ہوئے اُسے تصوّر کرکے بات کررہی تھی آج تک جو بھی ہوا اُس کے دل پر بات نہیں آئی تھی لیکن آج اُس کا دل ٹوٹا تھا دروازے پر دستک ہوئی تو لگا اُس کی دعا قبول ہو گئی ہے اُس نے اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے دروازہ کھولا اور سامنے ماہر کو دیکھ کر وہیں جم گئی ماہر کی نظریں اُس کی سرخ آنکھوں پر گئی لیکن اب وہ ماہر نہیں تھا جو آگے بڑھ کر اپنے جذبات ظاہر کرے اب ایک جھجھک تھی عریشہ نے رخ دوسری جانب کر لیا تھا
مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔۔۔۔۔۔
ماہر کے لفظوں سے اُس کا دل اور امیدیں اب دوسری بار ٹوٹی تھی۔۔۔۔ماہر سوچ رہا تھا کیا کہے کیسے شروعات کرے ۔۔۔وہ عریشہ کو تھینکو بولنا چاہتا تھا ۔۔اُس سے معافی مانگنا چاہتا تھا اُسے سمجھانا چاہتا تھا کہ وہ سب کچھ بھول گیا ہے لیکن اُس کے ساتھ ایک نئی شروعات کرنے کہا ارادہ رکھتا ہے
عریشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے پہلی بار عریشہ کو بیوی کی بجائے نام لے کر پکارا تھا عریشہ نے آنکھیں سکیڑ کے اُس کی جانب دیکھا
میں جانتا ہوں آپ پریشان ہے ۔۔۔۔لیکن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے اپنی بات کی شروعات کی تھی لیکن عریشہ کے قدم اپنی جانب بڑھتے دیکھے تو اُس کی زبان کو بریک لگ گئے وہ بنا رکے اُس کی جانب بڑھی تھی اور اُس کا چہرہ دیکھ کر ماہر کے قدم خود پیچھے ہو گئے تھے لیکن عریشہ نہیں رکی تھی یہاں تک کہ ماہر دروازے کے باہر ہو گیا تھا اور عریشہ نے اُسی انداز میں اُسے دیکھتے ہوئے دروازہ اس کے منہ پر بند کر دیا تھا اور وہ سوچتا رہ گیا کے یہ ناراضگی تھی غصّہ تھا یہ دھونس تھی ۔۔۔۔
اب یہ کیا تھا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔
وہ بند دروازے کو کنفیوز ہو کر دیکھ رہا تھا پھر کندھے اچکا کر وہاں سے ہٹ گیا
💜💜💜💜💜💜
اگر تم اُداس رهوگی تو مجھے اچھا نہیں لگے گا چلو کھانا کھاتے ہیں۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے بلایا تو وہ مزید انکار نہیں کر پائی وہ اپنے دکھ میں دادی کو شامل نہیں کرنا چاہتی تھی
آپ پریشان مت ہُوئیں دادی میں ٹھیک ہوں اور ہر بار اپنی زندگی سے ایک نیا امتحان ملنے کی عادی ہوں میں۔۔۔۔
جس طرح ہر بار تم نے سامنا کیا ہے اس بار بھی کرنا ہوگا تمہیں۔۔۔۔۔۔ تم وہی لڑکی ہو جس نے ماہر کو ہر مصیبت سے بچایا ہے سب سے اکیلی لڑ کر جیتی ہو تم تو کیا یہاں آکر ہار مان لو گی۔۔۔۔۔اب بھی لڑنا ہوگا اپنی محبت کے لیے۔۔۔۔۔اگر وہ سب بھول چکا ہے تو یاد دلاؤ اُسے ۔۔۔۔۔۔ایک نئی شروعات کرو بیٹا ۔۔۔۔۔
دادی نے پیار سے کہا وہ لوگ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے زیان اور ماہر بھی وہاں آئے ماہر سے نظریں ملی تو عریشہ نے نظریں چُرالی وہ ناراض تھی اُس سے مگر کہنا نہیں چاہتی بس ظاہر کر رہی تھی
عریشہ۔۔۔۔۔
ماہر نے بہت ہمت کرکے اُسے پکارا تھا وجہ تھی دادی وہ دادی کو یقین دلانا چاہتا تھا کے وہ سب ٹھیک کرنا چاہتا ہے اُس کے ایک بات پھیر نام لینے پر عریشہ نے اُسے غصے سے دیکھا
ایک گلاس پانی ملےگا۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے جگ کی جانب اشارہ کیا کو عریشہ کے پاس تھا عریشہ نے گلاس باہر کر اُس کی جانب بڑھایا ماہر نے ہاتھ آگے کیا تھا گلاس لینے کے لیے لیکن عریشہ نے بجائے اُس کے ہاتھ میں دینے کے گلاس ٹیبل پر رکھا اور کافی زور سے رکھا کے پانی اچھل کے ماہر کے چہرہ تک پہنچا عریشہ کے چہرے پر اب بھی غصّہ تھا اور یہ دادی نے بھی دیکھا تھا
عجیب لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔یار چھوٹے نواب یہ ہمیشہ ایسے ہی بی ہیو کرتی ہے یا مجھ سے بدلہ لے رہی ہے
ماہر نے زیان کے قریب ہوتے ہوئے کہا
ماموں آپ ایسے نام لے کر بلاؤ گے تو ایسے ہی کریگی نا۔۔۔۔۔۔۔۔
نام لے کر نہیں بلاؤں تو کیا اب سب کے سامنے اسے ڈارلنگ بےبی جانو شونا بولوں اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر خود سے بڑبڑا
ماموں اب آپ کو مامی کے ہاتھ سے نہیں کھانا ہے
زیان نے اُسے خود کھاتے دیکھ کے کہا اُس ہر بات نہیں سمجھ آئی تھی
میں کوئی بچہ ہوں کیا چھوٹے نواب ۔۔۔۔۔۔
ماہر تھوڑا شرمندہ ہوئے بولا
لیکن پہلے تو آپ ہمیشہ مامی کے ہاتھ سے ہی کھاتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔زیان کی بات پر دادی کے ساتھ عریشہ نے بھی اُسے دیکھا
چھوٹے نواب منہ بند کر کے کھانا کھاؤ
ماہر نے سختی سے کہا
مامو آپ جب سے واپس آئے ہیں بہت عجیب ہو گئے ہے منہ بند کرکے کیا ناک سے کھانا کھاوں ۔۔۔۔۔
زیان کی بات پر دادی کی ساتھ عریشہ بھی مسکرا دی اور ماہر نے اُسے پہلی دفعہ مسکراتے دیکھا تو دیکھتا رہے گیا
💜💜💜💜💜💜💜
