No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
تم سمجھتی کیوں نہیں ۔۔۔۔میں اُس سے فلھال دشمنی نہیں کر سکتی وہ ماہر کی بیوی ہے اگر بات بگڑ گئی تو بڑھیا اُسے اور ماہر کو ہم سے دور کر دےگی کچھ مہینوں کی بات ہے جب تک ماہر کی جائداد پوری طرح ہماری نہیں ہو جاتی اُس کے بعد کوں کہہ رہا ہی اُسے برداشت کرنے کو
عالیہ غصے میں تھی کے اُس کی ماں نے عریشہ کو کچھ کہا نہیں نفیسہ نے اُسے وجہ بتائی
مام یہ سب باتیں میں جانتی ہوں لیکن میری ایک بات یاد رکھیے گا آپ ۔۔۔۔۔۔یہ لڑکی آپ کے لیے مشکل بننے والی ہے
عالیہ نے اُنھیں وارن کرتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی
بات تو سہی ہے بہت زیادہ اڑ رہی ہے وہ لگتا ہے پر کترنے پڑے گے اُس کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ بیگم کو اپنا غصّہ کسی طرح تو نکالنا تھا باہر سے ماہر کے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھی وہ روم سے باہر آئی تو زیان اور ماہر بھاگ رہے تھے نفیسہ بیگم کچن میں چلی آئی اوون میں کیک رکھا ہوا تھا اُنہونے احتیاط سے وہ کیک باہر نکال کر رکھا اور باہر آئی
ماہر یہاں آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے دیکھا زیان وہاں موجود نہیں ہے تو ماہر کو باہر سے آواز دی وہ اُن کے پاس آگیا
وہ دیکھو تمہاری بیوی نے تمہارے لیے چاکلیٹ کیک بنایا ہے
سچی۔۔۔۔۔۔۔۔چاکلیٹ کیک واو
ماہر خوش ہوتے ہوئے ہونٹوں اور زبان پھیرنے لگا
ہاں جاؤ اور وہ برتن اٹھا کر ٹیبل پر لے آؤ
ماہر نے گردن ہلا دی اور اندر آکر برتن اٹھانے لگا برتن اتنا گرم تھا کے ہاتھ لگاتے ہیں اُس کے منہ سے زور کی چینخ نکلی
آہ ه ہ ه۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ممّی ۔۔۔۔۔۔ممّی ۔۔۔۔۔۔۔
وہ زور سے چلاتے ہوئے اپنے ہاتھ جھٹکنے لگا اور نفیسہ اپنے کمرے میں چلی گئی اُس کی آواز پر عریشہ کمرے سے باہر بھاگتی ہوئی آئی
کیا ہوا ماہر جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے گھبرا کر پوچھا
بیوی ماہر کا ہاتھ جل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھو ۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے دیکھا اُس کے دونوں ہاتھ سرخ ہو گئے تھے اور وہ رو رہا تھا عریشہ نےجلدی سے اُسے کچن میں موجود کرسی پر بٹھایا اور فرج سے ٹھنڈا پانی لے کر جگ میں اُس کا ہاتھ ڈالا
کیسا شور ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ انجان بنتے ہوئے وہاں آئی
ٹھیک ہو جائیگا ماہر جی
ماہر کو روتا دیکھ عریشہ بھی رونے لگی تھی
کیا ہوا عریشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی جی۔۔۔۔۔دیکھیے نا ماہر کا ہاتھ جل گیا ہے
یا اللہ یہ کیسے ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے مصنوعی حیرت جتائی عریشہ کا دھیان اُن کی طرف تھا ہے نہیں وہ ماہر کو دیکھ دیکھ کر ہی تکلیف محسوس کر رہی تھی
اتنی غیر ذمےدار کیسے ہو سکتی ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔جانتی ہو نہ ماہر کتنا نا سمجھ ہے۔۔۔۔۔اُسے اکیلا کیوں چھوڑا تم نے۔۔۔۔۔۔یہیں خیال رکھ رہی ہو میرے بیٹے کا۔۔۔۔
کیا ہوا نفیسہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی بھی اُن سب کی آواز پر کمرے سے نکل کر وہاں آئی
دیکھ رہی ہے امی کیا کیا آپ کی لاڈلی بہو نے میرے بچے کا ہاتھ جلا دیا ۔۔۔۔۔۔۔باتیں تو یہ اتنی بڑی بڑی کرتی ہے لیکن کام ۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے شوہر کا دھیان تک نہیں رکھ سکتی یہ
۔میں سچ کہہ رہی ہوں دادی مجھے بلکل پتہ نہیں تھا کے ماہر کچن میں چلے جائے گے میں تو بس واش روم۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی عریشہ اور ماہر کے قریب آکر حیرت سے نفیسہ کی باتیں سن رہی تھی عریشہ نے اُنھیں کچھ کہنا چاہا لیکن نفیسہ نے بیچ میں اُس کی بات کاٹ دی
صفائیاں دینا بند کرو۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تم سے نہیں ہوتا تو صاف صاف کہہ کیوں نہیں دیتی کیوں ماہر کی سگی بننے کا ناٹک کرتی رہتی ہو ۔۔۔۔۔۔عریشہ بی بی باتیں کرنا بہت آسان ہوتا ہے دوسروں کو اپنے شوہر کی عزت کرنا سکھا رہی ہو پہلے خود تو اپنے بیوی ہونے کا فرض نبھانا سیکھ لو
بس نفیسہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عریشہ تم ماہر کو لے کر جاؤ اور مرہم لگاؤ
دادی نے ہاتھ اٹھا کر نفیسہ بیگم کو روکتے ہوئے کہا عریشہ ماہر کو لیے روم۔میں چلی گئی
ہاں آپ کیوں اُسے کچھ کہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کو تو اُس کی غلطیاں نظر ہی نہیں آتی نا
سب نظر آتا ہے مجھے کوں صحیح ہے کون غلط ہے ۔۔ اور کس کو میرے ماہر کی فکر ہے سب جانتی ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی کی بات کا مطلب سمجھ کر وہ چپ رہی دادی چلی گئی اور نفیسہ بیگم خوش ہوتے ہوئے مسکرا دی اُنہونے ماہر کو زخم دے کے عریشہ کو چوٹ تو دے ہی تھی لیکن زبان سے بھی اُسے اتنا کچھ کہہ کر اُنھیں اب سکون محسوس ہو رہا تھا
💜💜💜💜💜💜💜💜
ٹھیک ہو جائیگا ماہر جی۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُس کے دونوں ہاتھوں پر ائنمنٹ لگائی اور اُنھیں تھامے رکھا اُس کا چہرہ اور آنکھیں بھی سرخ ہو گئی تھی
بہت جل رہا ہے بیوی۔۔۔۔ماہر کو بہت دکھ رہا ہے۔۔۔۔
و
آپ نے گرم برتن کیوں پکڑا ماہر جی۔۔۔۔۔۔آپ کیوں گئے تھے کچن میں
عریشہ کو بھی اُسے تکلیف میں دیکھ کر بہت تکلیف ہو رہی تھی
ماہر کی ممی نے ماہر کو بولا کے بیوی نے تمہارے لیے کیک بنایا ہے۔۔۔۔۔۔۔اس لیے ماہر گیا تھا کچن میں
وہ ہنوز اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا اور وقفے وقفے سے پھونک رہا تھا عریشہ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی
تو آپ دھیان سے پہلے چیک کرتے نہ یا کسی بڑے کو کہتے ۔۔۔۔مجھ سے وعدہ کیجئے کے آئندہ آپ ایسا نہیں کرینگے
عریشہ اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور ماہر نے گردن ہلا دی وہ اُسے کیسے بتاتی کے اپنی ہی ماں سے بچ کے رہے وہ اُس کی دشمن ہے
بیوی بہت دکھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
ماہر ہاتھوں پر بار بار پھونک رہا تھا عریشہ نے اُس کے ہاتھوں کو اوپر کرتے ہوئے پھونکنا شروع کر دیا شاید ماہر کو اُس سے راحت محسوس ہو رہی تھی تبھی وہ سکون سے آنکھیں بند کرنے لگا
میں جانتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے بدلہ لینے کے لیے آپ کچھ نہ کچھ ضرور کرے گی لیکن آپ نے ماہر کو چوٹ پہنچائی اپنے ہی بیٹے کو۔۔۔۔جو آپکو ماں کا درجہ دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کتنی بے رحم ہے آپ ۔۔۔۔۔ ماں تو اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے اُنھیں ہر مصیبت سے بچاتی ہے اور آپ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ماں کہلانے کے لائق ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر سو چکا تھا اور عریشہ اُس کے چہرے پر اب بھی تکلیف کے آثار دیکھ سکتی تھی
آج جتنا درد آپ کی وجہ سے ماہر کو ہوا ہے نہ اتنا ہی درد آپکو بھی ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ دولت بہت عزیز ہے نہ آپ کو تو تیار رہے کیوں کہ اب میں بھی آپ کی عزیز شے پر ہی چوٹ کرونگی
عریشہ اپنی سوچ میں گم تھی کے دروازے پر دستک ہوئی
ماہر سر کے لیے دودھ۔۔۔۔
ملازم نے ٹرے اُس کی جانب بڑھایا
وہ سو گئے ہے آپ اسے واپس لے جائیے۔۔۔۔۔۔۔
جی اچھا۔۔۔۔۔۔
ملازم سر ہلاتے ہوئے چلا گیا
رحیم۔۔۔۔۔۔۔ماہر کو دودھ نہیں دیا
نفیسہ بیگم نے اُسے دودھ واپس لاتے ہوئے دیکھا تو روک کے پوچھا
نہیں میڈم ماہر سر سو گئے ہیں۔۔۔۔۔
بے وقوف ۔۔۔۔۔۔۔کتنی بار کہا ہے تم سے ۔۔۔۔۔۔جاؤ اور اُسے جگا کر دودھ پلاؤ اور جب تک وہ دودھ پی نا لے واپس مت آنا سمجھے۔۔۔۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔
ملازم نے واپس آکر ماہر کے روم کے دروازے پر دستک دی
میں نے آپ سے کہا نا کے ماہر جی سو گئے ہے۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے حیرت سے کہا
وہ میڈم نے کہا ہے کہ اُنھیں جگا کر دودھ دینا ہے۔۔۔۔۔
ملازم نے نفیسہ کی بات بتائی تو عریشہ حیرت سے سوچنے لگی کے آخر نفیسہ کو ماہر کے دودھ پینے کی اتنی فکر کیوں ہے اُس کے ذہن میں ایکدم سے ڈاکٹر کی بات آئی
دیجئے۔۔۔۔۔۔۔آپ جائیے
اُس نے دودھ لے کر ملازم کو روانہ کیا
💜💜💜💜💜💜💜
تمہارا شک صحیح تھا عریشہ ۔۔۔۔۔دوائی اسی دودھ میں ملی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے صبح ہوتے ہی ایک نوکر کے ہاتھوں دودھ کی جانچ کروانے کے لیے ہسپتال بھیج دیا تھا اور کچھ ہی گھنٹوں بعد ڈاکٹر نے فون پر اُسے بتایا
جو ماں اپنے بیٹے کی جان کی دشمن ہے۔۔۔۔۔مجھ سے بدلہ لینے کے لیے اُسے چھوٹ پہنچا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ وہ اُس کا اتنا خیال رکھے ہو ہی نہیں سکتا
تمہیں اب خیال رکھنا ہوگا کے ماہر وہ دودھ نا پیے
ڈر نے اُسے جتاتے ہوئے کہا
لیکن اگر ماہر دودھ نہیں پیے گے تو وہ لوگ کہیں کسی اور چیز میں دوائی نا ملانے لگ جائے ۔۔۔۔۔
اُنھیں پتہ مت چلنے دو اُنھیں یہی لگنا چاہیے کے ماہر روز وہ دودھ پیتا ہے ۔۔۔۔۔سمجھ رہی ہو نہ
جی ڈاکٹر۔۔۔۔۔۔
عریشہ اُن کی بات سمجھ گئی تھی اور سوچ چکی تھی کے کیا کرنا ہے
ایک اور بات دوائی اثر کریگی تو کچھ چینجز نظر آئینگے ماہر میں۔۔۔۔۔ تمہیں دھیان رکھنا ہوگا۔۔۔۔۔
ڈاکٹر اُسے اور بھی کچھ سمجھا رہے تھی لیکن سامنے سے سکندر کو آتا دیکھ اُس کا دھیان اُس کی طرف چلا گیا
جی میں رکھتی ہوں۔۔۔۔۔
اُس نے جلدی سے فون بند کیا کے سکندر کو شک نا ہو جائے
کیا بات ہے کچھ پریشان لگ رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے ہے انداز میں عریشہ کو مخاطب کیا
جی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جانے لگی لیکن سکندر نے اُس کی کلائی پکڑ لی
کبھی دو پل ہمارے ساتھ بھی گزار لیا کرو۔۔۔۔۔۔قدر کرنے والوں کی اتنی بے قدری نہیں کرتے
آپ کیا کہہ رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔۔۔۔میں ماہر کو دیکھتی ہوں اُنھیں بھوک لگی ہوگی
عریشہ نے کسی بھی طرح ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی
بھوک تو ہمیں بھی لگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت زوروں کی
سکندر نے سرگوشی میں کہا اور اُس کے دیکھنے پر آنکھ ماری
مامی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ممّی کا فون ہے ۔۔۔۔۔
زیان کی آواز پر سکندر فوراً اُس سے دور ہٹا اور عریشہ نے بنا وقت لگائے وہاں سے جانے کی کی
ہاں زیان میں بس ابھی آئی ۔۔۔۔
وہ دوڑتی ہوئی اندر بھاگی تھی جانے کیوں سکندر کا سامنا وہ اب تک نہیں کر پا رہی تھی شاید اُس سے ڈر اسلئے لگتا تھا کیوں کہ یہاں بات عزت کی تھی
💜💜💜💜💜💜💜
میں یہاں اپنا فرض پورا کرنے آیا ہوں جمال سر کی وصیت کے بارے میں آپ کو بتانے
نفیسہ کمرے سے باہر نکلی تو اپنے وکیل کی آواز سنی جو ہال میں عریشہ اور دادی کے پاس بیٹھا بات کر رہا تھا وہ حیران ہوئی کے آخر وہ یہاں کیوں آیا ہے
جیسے کے آپ سب جانتے ہیں جمال سر نے اپنی آخری وصیت میں ساری پراپرٹی ماہر سر کے نام کی ہے لیکن اس پراپرٹی پر حق اُنھیں تب ہی حاصل ہوگا جب وہ پچیس برس کے ہو جائینگے
کمپنی اور پراپرٹی سے جڑے کچھ فیصلے لینے کے لیے اُنھیں پاور آف اٹارنی دی گئی ہے
لیکن اب جب کے ماہر سر کی حالت ٹھیک نہیں ہے اُس پاور آف اٹارنی کا استعمال ماہر سر کی وائف یعنی آپ کر سکتی ہے
اُس نے عریشہ کی جانب اشارہ کیا اور نفیسہ بیگم حیرت سے سوچنے لگی کے کیسے
میں۔۔۔۔۔۔۔عریشہ نے بھی حیرت سے پوچھا اور نفیسہ بیگم کا رنگ اڑا ہوا چہرہ دیکھا
جی ہاں قانون کے مطابق شوہر کی جائداد پر پہلا حق اُس کی بیوی کا ہوتا ہے اور اس پاور آف اٹارنی پر بھی آپکو حق حاصل ہے آپ اُس کے ذریعے اس گھر اور کمپنی سے جڑا کوئی بھی فیصلہ لے سکتی ہے
عریشہ جو جھٹکا نفیسہ کو دینا چاہتی تھی وہ اُسے لگ چکا تھا حالانکہ ابھی عریشہ کا کام پورا نہیں ہوا تھا
جب تک پراپرٹی ماہر سر کے نام نہیں ہو جاتی تب تک اور اگر پراپرٹی ماہر سر کے نام ہو جانے کے بعد بھی وہ ٹھیک نہیں ہوتے تو قانون کے مطابق اس ساری دولت کی حقدار آپ رہتی ہے
اب تو نفیسہ کی جان ہی شاید نکل گئی تھی تبھی وہ پتھر بن گئی
لیکن اُن کے بعد تو حقدار وہی ہوگا نا جسے وہ بنانا چاہے
جی ہاں پراپرٹی ہولڈر کو حق ہوتا ہے کے وہ کس کے نام کرنا چاہتا ہے لیکن ماہر سر اس وقت اس حالت میں نہیں ہے کے وہ کوئی فیصلہ لے سکے اسی لیے قانون کے مطابق آپ ہی اُن کی نومینی ہے اور پراپرٹی آپ کو ہی ملتی ہے لیکن اگر پچیس سال پوری ہونے تک ماہر جی کو کچھ ہوتا ہے تو پراپرٹی ٹرسٹ کو جائیگی یہ آپ لوگ شاید جانتے ہے ہوگے
عریشہ نے وکیل صاحب کو بلوا کر یہ سب کہلوایا تھا نفیسہ کو جھٹکا دینے کے لیے اُسے یقین تھا اب وہ ماہر کو تکلیف پہنچا کے یا کسی بھی طریقے سے عریشہ سے پنگا نہیں لے گی
💜💜💜💜💜😂
