Dil Maane Na By Sanaya Khan Readelle70081 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
آپ سچ میں کچھ دیکھنا نہیں چاہتی یا آپکو دکھائی ہی نہیں دیتا
نفیسہ دادی کے پاس آئی اور غصے بولی دادی صوفے پر بیٹھی تسبیح پڑ رہی تھی
کیا ہوا نفیسہ۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے دھیرے سے پوچھا
آپ کا پوتا جس میں آپ کی جان بستي تھی وہ لاپتہ ہے اور آپ اتنے سکون سے بیٹھی ہے کہیں وہ پیار چھو تو نہیں ہوگا
میں کیا کر سکتی ہوں نفیسہ اسے ڈھونڈھ تو رہے ہے ہم اور کیا کرے
اُس لڑکی کی وجہ سے آپ کا پوتا آپ سے دور چلا گیا۔۔۔منہوس ہے وہ ۔۔۔۔۔پتہ نہیں کہاں چھوڑ آئی اُسے۔۔۔۔اوپر سے ہم سے ایسے بات کرتی ہے جیسے کہیں کی مہارانی ہو ۔۔۔۔۔ میں پوچھتی ہوں وہ لڑکی اب تک اس گھر میں ہے کیوں۔۔۔۔نکال کیوں نہیں دیتی آپ اُسے یہاں سے
تم جانتی ہو مجھ میں کسی سے لڑنے الجھنے کی طاقت نہیں ہے میں کیا کر سکتی ہوں
دادی جانتی تھی عریشہ جو کر رہی ہے صحیح کر رہی ہے لیکن اس وقت وہ اُس کا ساتھ دے کر اُن لوگوں کے دل میں شک نہیں ڈال سکتی تھی
آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اب جو کرونگی میں کرونگی آپ بیچ میں مت آئیے گا بس۔
۔
نفیسہ عریشہ کے کمرے کے پاس آئی سکندر بھی اس بر اُس کے ساتھ آیا
عریشہ ۔۔۔۔۔۔باہر نکلو۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا امی جی
عریشہ نے باہر آکر اُنھیں دیکھا سکندر کا چہرہ دیکھ کر وہ سمجھ گئی وہ اپنا کہا پورا کرنے آیا ہی
۔۔۔۔۔کتنی بھولی بنتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ تم نے کیا سوچا تم میرے بیٹے کو دھمکی دو گی اور میں چپ کر کے سنتی رہوں گی۔۔۔۔۔۔ہمیں اپنے راب میں رکھنے کے خواب دیکھنا چھوڑ دو عریشہ بی بی ۔۔۔۔۔۔
اپنا سامان اٹھاو اور نکلو اس گھر سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے ہاں یاد آیا تم تو کچھ لائی ہی نہیں تھی اپنے ساتھ سوائے اس گز بھر لمبی زبان کے ۔۔۔۔۔بہت چلا لیا اسے اب دفع ہو جاؤ ہماری زندگی سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ بیگم غصے سے بولیاور سکندر اُسے دیکھ کر طنزیہ ہنسا
یہ آپ کیا کہہ رہی ہے امی جی۔۔۔۔۔۔۔۔میں اس گھر سے کیسے جا سکتی ہوں یہ گھر میرا ہے کوئی اپنے گھر سے جاتا ہے کیا
اپنی یہ نوٹنکی بند کرو تمہارے ڈرامے ہم پر کام نہیں کرنے والے سمجھیں۔۔۔۔۔
سکندر نے سختی سے کہا
میں ڈراما نہیں کر رہی ہوں ۔۔۔۔صاف لفظوں میں کہوں تو آپ لوگ مجھے اس گھر سے نہیں نکال سکتے کیوں کے یہ گھر میرا ہے
اُس کی بات پر نفیسہ نے اُسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا
وہ کیا ہے نہ ساسو ماں آپ بہت بھولی ہے لیکن کوئی بات نہیں میں ہوں نا میں آپ کو سمجھاتی ہوں
عریشہ نے دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے کہا
بات یہ ہے کہ میرے مرحوم سسر جی نے اپنی تمام جائداد کا وارث میرے شوہر ماہر احمد کو بنایا ہے وہ اکیلے اس سب کے مالک ہے اور اُن کی بیوی ہونے کے ناطے اُن کی پراپرٹی میں برابر کا حق مجھے قانون بھی دیتا ہے اور سماج بھی
لیکن اب تک یہ پراپرٹی ماہر کے نام ہوئی نہیں ہے اس لیے نا وہ مالک بنا ہے نہ تم حقدار۔۔۔۔۔۔
سکندر نے بیچ میں ٹوکا
بلکل صحیح کہہ رہے ہیں آپ دیور جی۔۔۔۔ لیکن کیا ہے نہ پاور آف اٹارنی بھی ماہر جی کے ہی نام ہے
پاور آف اٹارنی کا مطلب سمجھتی ہے ساسو ماں۔۔۔۔۔کوئی نہیں میں بتاتی ہوں۔ ۔۔۔
پاور آف اٹارنی مطلب اس تمام جائیداد۔۔۔گھر۔۔۔کمپنی۔۔۔۔اور پورے کاروبار کی باگ ڈور ماہر جی کے ہاتھ میں سونپی گئی ہے اس پراپرٹی سے جڑا ہر فیصلہ صرف ماہر جی لے سکتے ہیں اور اس ملک کے قانون کے مطابق جب شوہر بیمار ہو ۔۔۔۔باہر گیا ہو۔۔۔۔۔يا لاپتہ ہو تو اُس کے سارے حقوق خود بخود اُس کی بیوی کو مل جاتے ہیں اس لیے میں اس گھر کی مالک ہوں آپ لوگ نہیں اور کبھی دیکھا ہے آپ نے کے کسی نے مالک کو ہی گھر سے باہر نکال دیا ہو
مت بھولو کے اگر تم ماہر کی بیوی ہو تو میں اُس کی ماں ہوں ۔۔۔۔۔۔
نفیسہ اندر سے گھبرا تو گئی تھی پر باہر اب بھی مضبوط کھڑی تھی
آپ کو تو آپ کے مرحوم شوہر بھول گئے ساسو ماں تو میں یاد رکھ کے کیا کروں۔۔۔۔سچ سچ بتائیے ایسا کیا کیا تھا آپ نے جو اُنہوں نے وصیت میں ایک پھوٹی کوڑی بھی آپ کے نام نہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ تو شاید ہی کوئی انسان ہو جو اپنے دو بیٹے ایک بیٹی اور بیوی میں ساری جائیداد صرف ایک بیٹے کے ہی نام کر دے یہ نا انصافی کیوں کی انہوں نے لگتا ہے آپ اچھی بیوی نہیں تھی
وہ جانتا تھا صرف ماہر ہی ہے جسے دولت سے زیادہ رشتوں کی قدر ہے۔۔۔۔۔۔۔وہیں ہے جو آگے تک سب کو لے کر چل سکتا ہے۔۔۔۔۔دولت انسان کو جانور بنا دیتی ہے شاید اُسے احساس تھا کے اگر یہ دولت غلط ہاتھوں میں پر گئی تو یہ گھر بھی بکھرے گا اور رشتے بھی
دادی نے عریشہ کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا اُنھیں بہت افسوس تھا کے دولت کی خاطر کیسے اُن کے اپنے رنگ بدل رہے تھے
میں آپ کے بھلے کے لیے ایک صلاح دیتی ہوں مجھے اس گھر سے نکالنے کا خیال اپنے دماغ سے نکال دیجیۓ اس گھر میں کون رہیگا کون نہیں رہیگا بلکہ یہ گھر بھی رہیگا یا نہیں یہ فیصلہ کرنے کا حق صرف مجھے ہے کہیں ایسا نہ ہو مجھے گھر سے نکالنے کے چکر میں آپ لوگو کو ہی بے گھر ہونا پڑے
اس بار عریشہ نے سنجیدگی سے کہا
دھمکی دے رہی ہو تم ہمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مان لو نکال دیا تمہیں اس گھر سے ۔۔۔۔۔کر کیا لوگی تم
سکندر نے غصے سے کہا
یہ بھی بتانا پڑیگا ۔۔۔۔۔۔۔۔میں سیدھے پولیس اسٹیشن جاؤنگی۔۔۔۔۔اور وہاں جا کر دو شکایتیں درج کر واونگی پہلی پراپرٹی پر قبضے کے ۔۔۔۔اور یقین مانیے کے مجھے نا کسی ثبوت کی ضرورت پڑےگی نا کاغذ کی ۔۔۔۔۔۔کیوں کے سارا شہر جانتا ہے جمال احمد اور ان کی وصیت کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔
دوسری شکایت ڈومیسٹک وائلینس یعنی گھریلو ہنسا کا
میں اپنے ناخنوں سے چہرے اور ہاتھوں پر کچھ نشان بنا لونگی اور وہاں جا کر روتے ہوئے بولونگی
انسپکٹر صاحب میری ساس اور نند نے مجھے مار مار کر گھر سے نکال دیا
اُس کے بعد میں واپس گھر کے اندر اور آپ جیل کے اندر
تو بتائیے ساسو ماں کہاں رہنا پسند کریگی آپ
عریشہ نے اُن دونوں کو غصّہ دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی سکندر اُس کی جانب غصے سے بڑا لیکن نفیسہ نے اُسے روک لیا
سکندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُنہوں نے ایک نفرت بھری نظر عریشہ پر دلی اور سکندر کو لیے چلی گئی
میں جانتی ہوں دادی آپ کو میرا یہ برتاؤ برا لگتا ہوگا آخر ہے تو وہ آپ کے اپنے ہی لیکن میں کیا کروں میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے ورنہ یہ لوگ ہمیں ہمیشہ ڈراتے رہے گی ۔۔۔۔۔۔
عریشہ۔۔۔۔۔تم جو کر رہی ہو صحیح کررہی ہو ۔۔۔۔۔اور میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُس کی بات کاٹتے ہوئے کہا وہ مسکراتے ہوئے اُن کے گلے لگ گئی
ماہر جی کے واپس آنے تک کی بات ہے دادی اُس کے بعد سب ٹھیک ہوجائےگا
💜💜💜💜💜💜💜
مام آپ نے مجھے کیوں روکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں اب ایک پل بھی اُسے برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔میری سوچ سے کہیں زیادہ شاطر نکلی وہ
ٹھنڈے دماغ سے کام لو سکندر۔۔۔۔غصے میں کوئی ایسا قدم مت اٹھا لینا جس سے ہماری سالوں کی محنت بیکار ہو جائے
نفیسہ نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
مام آپ کیوں اُس کی دھمکیوں سے ڈر رہی ہے۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں کر پائیگی وہ۔۔۔۔۔۔ ۔
پھر بھی میں اس وقت کوئی نئی مشکل میں نہیں پڑنا چاہتی یہ سچ ہے کے پاور آف اٹارنی ہے اُس کے پاس دو مہینے ہونے کے پہلے اگر اُس نے ہمیں یہاں سے نکال دیا یا کچھ غلط فیصلہ کر لیا تو ہم کچھ نہیں کر پائے گے اور اگر ایک بار ہمارے خلاف پولیس کیس بن گیا تو آگے اگر کچھ بھی غلط ہوا پہلا الزام ہم پر ہی آئے گا
نفیسہ بہت دور کی سوچ کے بیٹھی تھی۔
ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہے پھر اور برداشت کرتے رہے اُسے۔۔۔سکندر نے غصے سے کہا
ماہر کو ڈھونڈھو ماہر کے ملنے تک اُسے برداشت کرنا ہوگا مجھے تو شک ہو رہا ہے کے ماہر کو اُس نے ہی کہیں چھپا دیا ہے اتنی چالاک نکلی یہ لڑکی ۔۔۔۔ضرور اس نے ماہر کی دولت کے لیے ہی اُس سے شادی کی ہے
ماہر کے دستخط ہی یہ جائداد ہمیں دلا سکتے ہے اُس کے بعد اُس لڑکی کو بھی پتہ چل جائیگا کے بیوی کا کوئی حق نہیں رہ جاتا جب شوہر خود ہے وہ سب کسی اور کے نام کر دیں
نفیسہ نے سوچتے ہوئے کہا سکندر اُس کی بات سمجھتے ہوئے رک تو گیا لیکن اُسے عریشہ پر غصّہ بہت آرہا تھا
💜💜💜💜💜💜
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ ناشتے کی میز پر بیٹھے تھی اپنے منیجر کو دیکھ کر سکندر نے پوچھا
جی مجھے میڈم نے بلایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منیجر نے عریشہ کی جانب اشارہ کیا نفیسہ بیگم عالیہ سب نے اُسے دیکھا
بیٹھے منیجر صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُن سب کو نظر انداز کرکے کہا تو وہ بیٹھ گیا
آپ سے کام کے متعلق کچھ باتیں ڈسکس کرنی تھی ماہر جی ہے نہیں تو کوئی کاروبار سنبھالنے والا بھی نہیں ہے اس لیے کیا ہو رہا ہے کتنا نقصان ہو رہا ہے کوئی نہیں جانتا ہے
لیکن میڈم سکندر سر تو سب دیکھتے ہے اور اُنھیں پتہ ہے میری وفا داری کے بارے میں سالوں سے میں ہی اس کاروبار کا دھیان رکھ رہا ہوں
اُس نے عریشہ کی بات ختم ہوتے ہی کہا عریشہ نے سکندر کی جانب دیکھا اُس کی ایمانداری وہ اچھے سے جانتی تھی
آپ جانتے ہیں اس کمپنی کے مالک کون ہے
جی ہاں ماہر سر ہی اؤنر ہے۔۔۔۔۔
تو آپ کی وفاداری کس کی طرف ہونی چاہیے ماہر کی یا سکندر کی ۔۔۔
اُس کی بات اور سکندر نے اُسے ناگواری سے دیکھا اور نفیسہ نے حیرت سے
ماہر سر کی
منیجر دھیرے سے بولا تھا تو وہ سکندر کا غلام لیکن اس وت عریشہ اُس کے اوپر تھی
تو اس وفاداری کو نبھاتے ہوئے آپ پوری ایمانداری سے اپنا کام کرینگے ایک پیسہ بھی بنا مقصد کسی کو نہیں دیا جائیگا ہر چیز کا حساب چاہیے مجھے ۔۔۔۔آج سے ہماری کمپنی کے اکاؤنٹ مسٹر انور چیک کرے گے میں نے اُنھیں آپ پر نظر رکھنے مطلب آپ کا ساتھ دینے کے لیے رکھا ہوا ہے اگر مجھے آپ کے خلاف ایک بھی شکایت ملی تو آپ کی چھٹی تو ہوگی ہی ساتھ میں حوالات کی ہوا بھی کھانی پڑےگی
اُس نے اپنی ایک سہیلی کے شوہر انور کو نوکری دی تھی گھر کے تمام حالات بتاتے ہے اُس نے اُنھیں خاص تنبیہہ کی تھی کے وہ دھیان رکھے اُن کی کمپنی میں جو نقصان ہو رہا ہے اُس کا پتہ کرے
وہ کیا ہے نہ منیجر صاحب میں اس لیے یہ سب آپ کو سونپ رہی ہوں کیوں کے سکندر آج سے آفس نہیں آئیگا اس لیے سب آپ کو ہی سنبھالنا ہے سمجھ رہے ہیں نہ آپ۔۔۔۔۔۔
اُس نے رک کے کہا سکندر اور نفیسہ نے حیرت سے اُسے دیکھا
جی میڈم۔۔۔۔۔۔
آپ جا سکتے ہیں
عریشہ نے کہا تو وہ اٹھ گیا لیکن سکندر اور نفیسہ کی نظریں اب بھی اُس اور تھی
یہ کیا نیا تماشا ہے اب میرے آفس جانے سے کیا پروبلم ہے تمہیں
سکندر نے اُس کی خاموشی پر خود ہی پوچھ لیا
تمہارے آفس جانے سے مجھے کوئی پروبلم نہیں ہے
وہ کیا ہے نہ میں نہیں چاہتی تم اتنی سی عمر میں
ان زمیداریوں کا بوجھ اپنے نازک کندھوں پر اٹھاو تمہیں اپنی پڑھائی پر دھیان دینا چاہیے ورنہ جب ماہر جی آکر مجھ سے پوچھے گے تو میں کیا جواب دونگی اُنھیں کے میں نے اُن کے پیچھے سے اُن کے بھائی کا دھیان نہیں رکھا۔۔۔۔۔یہ نہیں ہوگا مجھ سے سکندر ہے نا امی جی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنی بات ختم کرکے نفیسہ کو دیکھا
شرم نہیں آتی تجھے منہ کھولے سکندر سکندر بولی جا رہی ہے رشتے کا خیال کر کے بھائی بھیّا ہی لگا لیتی کم سے کم
نفیسہ نے اُسے شرم دلائی اس بات پر عریشہ کھل کر ہنسی اور سکندر کو دیکھا
میں تو انہیں سکندر بھائی ہی کہنا چاہتی تھی امی جی لیکن کیا ہے نا کچھ لوگو کو عزت راس نہیں آتی انھونے نے ہے مجھے بولا کے مجھے سکندر بولا کرو سکندر بولا کرو۔۔۔اب اگر کوئی اتنی ضد کرے کے تو انسان کیا کرسکتا ہے ہے نا سکندر۔۔۔۔
اُس نے سکندر کی بارہ بجتی ہوئی شکل دیکھی تو ہنسی روک نہیں پائی وہ چمچ پلیٹ میں پٹخ کر اٹھ گیا
💜💜💜💜💜💜
