Dil Maane Na By Sanaya Khan Readelle70081 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
کیسی ہو عریشہ ۔۔۔بھابھی
سکندر نے بھابھی پر زور دیا تھا اور اُس کی اواز سن کر عریشہ کے ماتھے پر بل پڑے تھے
کیوں فون کیا
یاد آرہی تھی تمہاری کافی دِن جو ہو گئے تمہیں دیکھے۔
بکوآس بند کرو سکندر اور فون رکھو۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے غصے سے کہا
یار بات تو سنو۔۔۔۔۔۔ایسے ناراض ہونا اچھا لگتا ہے کیا
عریشہ اُس کی ڈھٹائی پر سلگ کر رہ گئی
تمہیں کیا لگتا ہے سکندر اتنی آسانی سے اپنی انسلٹ کو بھول جائیگا ۔ تمہارا وقت ختم ہو گیا عریشہ اب میری باری ہے۔۔۔بس ایک وار اور سارے حساب برابر
سکندر اب سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا تھا
کتے کی دم ہو تم ٹیڑھی کی ٹیڑھی۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے بیزاری سے کہا اور ماہر اُسے کسی سے ایسے بات کرتے دیکھ اوپر جاتے جاتے رک گیا تھا
کیا کروں یار مجھے ہارنا بلکل پسند نہیں ہے خاص کر لڑکیوں سے تو بلکل بھی نہیں۔۔۔ ۔۔پہلے تو صرف میری نظر تھی تم پر ۔۔۔لیکن تم نے جو مجھے چیلنج کیا ہے اُس کے بعد تم میری ضد بن گئی ہو۔۔۔اور سکندر اپنی ضد پوری کرکے ہی رہتا ہے ۔
کیا کہا تھا تم نے کے کسی طلاق شدہ یا بیوہ کا دامن تھام لوں یہی نا
میرا دل تو تمہارے ہی دامن کا دیوانہ ہے کیوں نہ ماہر کو۔مار کر تمہیں ہی بیوہ کر دوں تب تو کوئی شکایت نہیں ہوگی نا تمہیں
بكوس بند کرو ۔۔۔یقین نہیں ہوتا کے کوئی اتنا ڈھیٹ اور کمینہ بھی ہی سکتا ہے ۔۔۔۔شرم نام کی تھوڑی سی چیز باقی ہو تو ڈوب مرو۔۔۔
عریشہ نے اُس کی بات کاٹتے ہوئے غصے سے کہا ماہر سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کے وہ کس سے اتنے غصے میں بات کر رہی ہے
باکواس ہے یا سچ یہ تو تمہیں تب پتہ چلے گا جب ماہر کی لاش تمہارے سامنے پڑی ہوگی۔ ۔ بہت گھمنڈ ہے نہ تمہیں اُس کی بیوی ہونے پر۔۔۔۔۔اُس گھمنڈ کو ہی ختم کر دونگا میں۔۔۔۔۔۔بہت حفاظت کرلی تم نے اُس کی اب بچا سکتی ہو تو بچا کر دکھاؤ اُسے سکندر سے
سکندر کمینگی سے ہنستے ہوئے بولا
۔تمہاری اوقات نہیں ہے سکندر کے میرے ہوتے ہوئے تم ماہر کو کوئی خراش بھی پہنچا سکو ۔۔۔۔ یہ گھمنڈ کبھی نہیں ٹوٹے گا نا ہی تمہاری گھٹیا چالیں کامیاب ہوگی۔۔۔۔۔جب تک میری سانسیں چل رہی ہے ماہر کی سانسیں نہیں رکے گی ۔۔۔۔میں اُن پر کوئی خطرہ نہیں آنے دونگی۔۔۔۔۔تم میں جتنی طاقت ہے جتنی ضد ہے لگا کر دیکھ لو۔۔۔۔میری محبت کے آگے جیت نہیں پاؤگے تم۔۔۔۔۔۔
اُس کے منہ سے سکندر کا نام سن کر وہ حیران ہوا تھا لیکن عریشہ کی باتیں اُس کا ذہن کسی اور ہی جانب لے گئی
ایک بات اور۔۔۔۔۔۔عورت بہت کمزور ہوتی ہے ۔۔۔۔ایک مرد کے لیے اُسے ہرانا بہت آسان ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔لیکن جب بات اُس کی عزت یہ محبت پر آتی ہے تو وہ دنیا کی کسی بھی طاقت کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتی ہے
اُس نے فون بند کرکے رکھا تھا اور پیچھے پلٹی تو۔ماہر کو دیکھا جو اب اُس کے پاس آرہا تھا
سکندر۔۔۔۔۔کیا کہا اُس نے۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے سنجیدگی سے پوچھا
کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے سوچ کیوں اُسے بتا کر پریشان کرے اس لیے کہتی ہوئے وہاں سے جانے لگی لیکن ماہر نے اُس کا بازو پکڑے
روک لیا
ہر بات پر منہ پھیرنا بند کرو۔۔۔بتاؤ کیا کہہ رہا تھا سکندر
وہ سختی سے بولا
ایسے ہی فضول دھمکیاں دے رہا تھا کے آپ کو۔۔۔۔۔۔۔ مار دیگا۔۔۔۔۔
وہ بنا اُس کی جانب دیکھے بولی تو ماہر نے ایک گہری سانس لی
آپ ٹینشن مت لیجئے۔۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں وہ بس مجھے ڈرانے کے۔لیے ایسا کہہ رہا ہے کچھ کریگا نہیں
عریشہ کو پتہ تھا ماہر کو سب سے زیادہ اپنے بھائی کی سوچ پر دکھ ہوگا اس لیے وہ جلدی سے بولی
💜💜💜💜💜💜💜💜
وہ دادی کے گود میں سر رکھے لیٹا تھا اور اُن سے بات کر رہا تھا اُنھیں وہ اُس حادثے کے بارے میں بتا رہا تھا جب دو سال پہلے اُس کا اکسیڈنٹ ہوا تھا اُس دن اُس نے نفیسہ اور سکندر کی باتیں سن لی تھی اور اُسے بہت دکھ ہوا تھا کے وہ لوگ صرف اُس سے اپنے پن کا ناٹک کرتے رہے اُنھیں صرف دولت چاہیے اُس نے نفیسہ سے پوچھا کے وہ کیوں ایسا کر رہی ہے لیکن نفیسہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا وہ گھر سے باہر نکل کر گھنٹوں تک سڑکوں پر بھٹکتا رہا تھا پھر ایک فیصلہ کرکے وکیل سے ملا تھا اور پراپرٹی کے پیپر نفیسہ کے نام سے بنوائے تھے لیکن وہ اُس وقت اُن پر سائن نہیں کر سکتا تھا جب وہ یہ بات نفیسہ کو بتانے گھر کے لیے نکلا تھا راستے میں ایک ٹرک نے اُس کی گاڑی کو زور ڈر ٹککر ماری تھی اور اُس کے بعد ماہر کو کوئی ہوش نہیں رہا تھا یہ سکندر نے اس ڈر سے کیا تھا کے اُن کی حقیقت جاننے کے بعد کہیں ماہر اُنھیں گھر سے ہی باہر نا کر دیں لیکن نفیسہ نے اُسے بتایا کے ماہر کو مرنے نہیں دے سکتے اُسے بچانا ہوگا تو وہ خود اُسے ہسپتال لے کر گیا تھا اور وہ لوگ وہی رکے تھے جب تک ماہر کا علاج چلتا رہا جب اُسے ہوش آیا تھا اُس نے اپنے سامنے نفیسہ کو پایا تھا اُس نے کوشش کی تھی ٹوٹے لفظوں میں یہ بتانے کی کے وہ دولت نہیں چاہتا اسلئے سب اُن کے نام کرنے کو تیار ہے لیکن اُس کے بولنے میں تکلیف تھی اسلئے ٹھیک سے بول۔نہیں پایا تب سکندر اندر آیا تھا اور یہ بتاتے ہوئے کے اُن کی سلامتی کی لیے ماہر کا سب کچھ بھولنا بہت ضروری ہے اُس نے ایک انجکشن اُس کے بازو میں لگایا تھا وہ آنکھیں بند ہونے تک نفیسہ کو دیکھتا رہا تھا اور اُس کے بعد جب وہ بے ہوش ہوا تو دو سال بعد ہی ہوش میں آیا
شاید آج سکندر کی بات جان کر وہ دکھی ہو گیا تھا تبھی اُس کے چہرے پر اُداسی نظر آرہی تھی عریشہ دادی سے کچھ ہی فاصلے پر بیٹھی تھی صوفے پر کھنی رکھ کر گال پر ہاتھ رکھے اور اُس کی نظریں ماہر پر جمی تھی دھیان اُس کی باتوں سے زیادہ اُس کے لب و لہجے پر تھا
جو ہوا اُسے بھول جاؤ بیٹا۔۔۔۔۔۔پچھلی باتوں کو یاد کرنے سے صرف تکلیف ہی ملنی ہے۔۔۔۔اب صرف آگے دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا وہ اُن کا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگاتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گیا تب عریشہ کو دیکھا جو اب بھی اُس اندا میں اُسے دیکھ رہی تھی ماہر کی نظروں کا بھی اُس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا اور وہ اسی طرح اُس پر نظریں جمائے بیٹھے تھی ماہر کو حیرت ہوئی اور دادی نے بھی دیکھا تو دھیمے سے مسکرا دی شاید اُنھیں وہاں سے اٹھ جانا ہی ٹھیک لگا تب ہی وہ اٹھ کر کمرے میں چلی گئی لیکن عریشہ کا اس بات پر بھی کوئی اثر نہیں ہوا اور ماہر بنا ہنسے نہیں رہ سکا وہ دھیرے سے اُس کے قریب ہو کر بیٹھ گیا تھا اور اُسی کے انداز میں چہرہ ہتھیلی پر رکھے اُسے دیکھنے لگا پھر کچھ سوچتے ہوئے سیدھا ہو کر چہرہ اُس کے چہرے کے قریب لے گیا دھیرے سے اطراف میں نظریں گھما کر دیکھا کے کوئی موجود تو نہیں اور اُس کے چہرے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اُس کے ہونٹوں پر جھکا لیکن اُس کا ہاتھ محسوس کرتے ہی عریشہ ہوش میں آئی تھی اور فوراً سیدھی ہو کر پیچھے ہوئی تھی اور صوفے کے کونے سے لگ گئی تھی
یہ کیا کر رہے آپ ۔۔
وہ گھبرا کر بولی تھی اور اُس کی گھبراہٹ اُس کے گلے میں بڑھتی گہرائی سے صاف ظاہر ہو رہی تھی
تم مجھے دیکھنا چاہ رہی تھی اس لیے میں قریب آگیا تھا تاکہ تمہیں دیکھنے میں آسانی ہو ۔۔۔
میں کیوں آپ کو دیکھوں گی اور دادی کہاں ہے
وہ اس پاس نظر دوڑاتی ہوئی بولی
اتنی بے شرمی سے تم مجھے گھور ے جا رہی تھی بے چاري دادی خود ہی اندر چلی گئی شرم کے مارے ۔۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے بولا اور عریشہ نے خود کو کوسا کے دادی کیا سوچ رہی ہوگی اُس کے بارے میں
افف۔۔
وہ پریشان ہو گئی ماہر مسکراتے ہوئے اُس کے قریب ہوا تھا
پہلے کیوں نہیں بتایا کہ اتنا دل کر رہا ہے مجھے دیکھنے کا میں ہٹتا ہی نہیں تمہاری نظروں سے دور
ماہر شرارت سے بولا تھا اور عریشہ گھبرا گئی تھی مزید پیچھے ہونے کی بھی جگہ نہیں تھی وہ دھیرے سے اٹھتی ہوئی وہاں سے جانے لگی ماہر نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا
عریشہ۔۔۔
میں کافی ٹائم سے کہیں باہر نہیں گیا تو میں سوچ رہا تھا کے کیا ہم آج شام ساتھ میں کافی پینے جا سکتے ہیں
وہ اُس کا ہاتھ چھوڑ کر اٹھتے ہوئے بولا تھا
جی نہیں مجھے بہت کام ہے۔۔۔۔
عریشہ نے انکار کرتے ہوئے کہا اور ماہر کا اب تک کہ موڈ خراب ہو گیا
ہاں میں بھول گیا تھا رانی وکٹوریہ پر پوری ریاست کی ذمےداری جو ہے
وہ خود سے بڑبڑایا
کچھ کہا آپ نے۔۔۔۔۔۔
وہ جاتے جاتے رکی
نہیں۔۔۔
ہاں کہا۔۔۔۔۔۔
وہ پہلے انکار کر کے پھیر ہاں بولا عریشہ اُسے اُلجھن سے دیکھنے لگی
میں یہ کہہ رہا تھا کے دادی کو بہت بڑی غلط فہمی ہے تمہارے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔کے تم بہت سمجھدار ہو۔۔۔
وہ غصّہ کنٹرول کیے اطمینان سے بولا
آپ مجھے بیوقوف کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُس کی بات کر مطلب سمجھتے ہوئے حیرت اور غصے سے کہا
بلکل نہیں میری اتنی مجال کے میں تمہیں بے وقوف کہوں بے وقوف تو میں ہوں جو یہاں کھڑا ہو کر تم سے بات کر رہا ہوں
ماہر نے دانت پیستے ہوئے اپنی آخری بات مکمل کے اور اوپر پیشانی کے بالوں پر پھونک ماری اور پلٹ کر باہر جانے لگا عریشہ اُسے جاتے دیکھتی رہی
ماہر جی۔۔۔۔۔۔
کچھ یاد آنے پر اُس نے ماہر کو آواز دی اور اُس کے پاس آئی
کہاں جا رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔
جہنم میں۔۔۔۔۔۔
ماہر نے بنا دیکھے غصے سے کہا اور اُس کے روٹھے انداز پر وہ بغیر مسکرائے نہیں رہ سکی لیکن جلد ہی ضبط بھی کر
گئی
آپ باہر مت جائیے۔۔۔گھر پر ہی رہیے۔۔۔۔
اور گھر پر رہ کر کیا کروں یہ بھی بتا دو ۔۔۔۔کیوں کے اس گھر کی ٹیبل کرسیاں تو مجھ سے بات کرنا پسند کرینگی نہیں۔۔۔۔۔۔ہے نہ
وہ جل کر بولا
سکندر نے مجھے دھمکی دی تھی کے وہ آپکو ۔۔۔۔۔
اُس نے وجہ بتائی لیکن بات ادھُوری چھوڑ دی
میں نہیں چاہتی کے وہ آپ کو کوئی نقصان پہنچائے اس لیے آپ باہر نا ہی جائے تو بہتر ہے۔۔۔۔
اُس کے الفاظ میں اپنے لیے پیار اور فکر دیکھ کر ماہر کا غصّہ کہیں گم ہو گیا
ڈونٹ وری۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں ہوگا۔۔۔اب میں اپنا خیال رکھ سکتا ہوں۔۔۔۔
وہ اُسے تسلی دیتا ہوا باہر نکلا تھا
رک جائیے ماہر جی۔۔۔۔۔۔
۔میں جانتی ہوں اب آپ اپنا خیال رکھ سکتے ہیں آپ کو میری ضرورت نہیں ہے اور میں کوئی زبردستی بھی نہیں کے رہی ہو آپ کے ساتھ لیکن کم سے کم خود سے جڑے لوگو کی فیلنگز کی تو قدر کر سکتے ہے نا آپ دادی رائنا آپی ۔۔۔۔۔۔اگر آپ کو کچھ ہوا تو دکھ نہیں ہوگا کیا اُنھیں ۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُس کی بات کا کوئی اور مطلب نکالا تھا
میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔
ماہر نے حیران ہوتے ہوئے اُسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن اُس نے بات کاٹ دی
میں جانتی ہوں مجھے کوئی حق نہیں ہے دخل دینے کا لیکن میں آپ کی حفاظت کے لیے یہ کہہ رہی ہوں اگر آپ کو برا نہ لگے تو گھر میں ہی رہیے گا
وہ اپنی بات ختم کر کے جا چکی تھی اور ماہر اُسے بے یقینی سے دیکھ رہا تھا
اس لڑکی کا دماغ خراب ہے کونسی بات کو کہاں لے جاتی ہے سامنے والے کو موقع تک نہیں دیتی اور خود شروع ہوجاتی ہے اب یہ سب فضول کی باتیں کہاں سے آگئی بیچ میں۔۔۔۔میں نے ایسا بھی تو کچھ غلط نہیں کہہ دیا تھا۔۔۔۔۔
اُس کی بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا وہ صرف اُسے تسلی دینا چاہتا تھا کے اب وہ ٹھیک ہے اور مشکلوں کا سامنا کر سکتا ہے لیکن عریشہ کی باتیں اُس کا دل دُکھا گئی اُسے غصّہ آرہا تھا اس لیے وہ عریشہ کی بات نا مانتے ہوئے باہر نکل گیا
💜💜💜💜💜💜💜💜
