Dil Maane Na By Sanaya Khan Readelle70081 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
فون پر اُسے خبری نے بتایا کہ ماہر ابھی ابھی کہیں جانے کے لیے نکلا ہے تو اس نے ٹھیک ہے کہ کر فون بند کیا اور ڈراور سے بندوق نکال کر اپنے پاس رکھتے ہوئے باہر نکلا
کہاں جا رہے ہو سکندر۔۔۔۔
نفیسہ۔ نے اُسے بندوق رکھتے دیکھ لیا تھا اس لیے گھبرا کر پوچھا
ماہر کو جان سے مارنے۔۔۔۔ ۔
اس نے دوٹوک جواد دیا اور آگے بڑھا
سکندر تم۔ایسا نہیں کروگے جو بھی ہو بھائی ہے وہ تمہارا
نفیسہ نے اس کا بازو پکڑتے ہوئے روکا
میرا کوئی بھائی نہیں ہے وہ صرف میرا دشمن ہے جب تک وہ زندہ ہے میں سکون سے نہیں رہ پاونگا اُسے مرنا ہی ہوگا
وہ غصے سے بولا عالیہ بھی اپنے روم سے باہر آئی تھی
نہیں بیٹا ایسا مت کرو میں نہیں چاہتی کے اُس کا قتل کرکے تم مجرم بنو اب ہمارے پاس سب کچھ تو ہے کوئی کمی نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔پھر کیوں اپنی ضد میں آکر مصیبت کو بلا رہے ہو
نفیسہ نے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
مام یہ اموشنل باتیں میرے ساتھ نا ہی کریں تو بہتر ہے ۔۔میں ماہر جیسا بیوقوف نہیں ہوں میں اپنا صحیح غلط سمجھتا ہوں اسلئے آپ کو میرے معاملے میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے
وہ اُن کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولا
نہیں سکندر۔۔۔۔۔۔۔
وہ جانے لگا تو نفیسہ نے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے اس کا راستہ روکا
مام ہٹ جائیے۔۔۔۔
میرے راستے میں مت آئیے آپ میں ماہر کو نہیں چھوڑنے والا
اس نے نفیسہ کا بازو پکڑ کر اُسے سائڈ میں کیا تھا اور وہ دیوار سے لگی اُسے حیرت سے جاتے دیکھ رہی تھی علیہ نفیسہ کا پاس آئی اُسے روتے دیکھ
میں کیا اُسے کچھ کہوں میں نے اپنے ہاتھوں سے اُسے اس کھائی میں دھکیلا ہے ۔۔۔۔۔
نفیسہ کو احساس ہو رہا تھا کے اس نے کیا کیا ہے
مام مجھے جانا چاہیے پتہ نہیں سکندر بھائی کیا کرنے والے ہے
عالیہ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا
ہاں چل میں بھی چلونگی ۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ بھی آنسووں صاف کرتے ہوئے اٹھ گئی
💜💜💜💜💜
عریشہ میں عالیہ بول رہی ہو
عرش نے عالیہ کی آواز سنی تو حیران ہوئی
ہاں بولو۔۔۔۔۔۔عالیہ کے لہجے میں پریشانی محسوس کرکے وہ بنا غصّہ کیے بولی
ماہر بھائی کہاں ہے اُن کی جان خطرے میں ہے
عالیہ نے جلدی سے پوچھا
۔کیا کہہ رہی ہو تم
۔اریشہ نے اُلجھن سے پوچھا تو عالیہ نے اُسے ساری بات بتا دی عریشہ کے پیروں تلے زمین ہلنے لگی تھی اس نے دیوار کا سہارا لیا اور فون اُسے طرح چھوڑ کے ننگے پیر باہر کی جانب بھاگی
💜💜💜💜💜
ماہر کی گاڑی کے ٹھیک سامنے آکر سکندر نے گاڑی روکی اور اتر کر باہر آیا ماہر بھی گاڑی سے باہر نکلا وہ ایک سنسان علاقہ تھا وقفے وقفے سے گاڑیاں آتی جاتی تھی اسی لیے سکندر اُسے اس جگہ روکا تھا تاکہ کوئی بیچ میں نا آئے ماہر اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا سکندر نے بندوق نکال کر اس کے اوپر تان دی ماہر کو حیرانی سے زیادہ دکھ ہوا
تیار ہو جاؤ اپنے پیارے ابو جان کے پاس جانے کے لیے
اگر تمہیں میرے مرنے سے خوشی ملتی ہے تو ٹھیک ہے مار دو مجھے ۔۔۔لیکن کیا میں ایک بار جان سکتا ہوں کے اتنی نفرت کیوں ہے تمہیں مجھ سے ۔۔ میں نے تو تمہیں ہمیشہ سگے بھائی سے بڑھ کر سمجھا پھر کیوں تم مجھے اپنا دشمن سمجھتے ہو
ایک نہیں ہزاروں وجہ ہے اس کی ۔ ۔۔تمہاری وجہ سے ہمیشہ ہی مجھے نیچے رہنا پڑا کسی کے پاس کوئی ویلو نہیں تھی میری سب کے لیے بس ایک ہی نام تھا۔۔ ماہر۔۔۔۔تمہارے آگے مجھے کبھی امپورتنس نہیں دی گئی یہاں تک کہ خود میرے باپ نے مجھے کبھی اپنا بیٹا نہیں سمجھا پیار کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔۔۔۔۔ کیوں کے تم تھے نا اُن کے بیٹے میں تو کچھ بھی نہیں تھا اُن کے لیے
تم پاپا کو کبھی سمجھ نہیں پائے سکندر ۔۔۔وہ مجھ سے زیادہ تمہیں چاہتے تھے
ماہر اس کی بات کاٹ کے بولا تھا
اچھا تبھی مجھے ھر بات پر ڈانٹتے تھے کبھی پیار سے بات نہیں کرتے تھے اور ایک دِن ساری جائداد اٹھا کر دے دی تمہیں اکیلے کو
دولت محبت کی ضمانت نہیں ہے سکندر اس بات سے تم یہ طئے نہیں کر سکتے کے وہ تم سے پیار نہیں کرتے تھے ۔۔اُنہوں نے کچھ سوچ کر ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا ۔اور اب تو سب کچھ مل چکا ہے نہ تمہیں تو اب کیا چاہتے ہو
ماہر جانتا تھا سکندر کو بگڑتا دیکھ انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہوگا لیکن اُسے یہ بات اُن کے جانے کے بعد پتہ چلی تھی ورنہ وہ کبھی اُنہیں ایسا کرنے نہیں دیتا
تمہاری موت۔
تمہارے خون سے ہی مجھے سکون ملے گا۔ آج تک کی ہر بات کا بدلہ لینے کے لیے۔۔ ۔مجھے ہمیشہ نیچا دکھانے کا۔۔۔۔۔مجھ سے میرا حق چھیننے کا اور عریشہ۔۔۔۔۔عریشہ کو سبق سکھانے کے لیے اُسے بتانے کے لیے کے سکندر کوئی نہیں برا سکتا ۔۔۔ تمہیں مرنا ہوگا ماہر۔۔۔۔۔
سکندر نے ایک بار پھر گن اس کے آگے کر دی تھی اور ماہر کو جانے کیوں یہ غلط فہمی تھی کے وہ اُسے نہیں مارے گا تبھی وہ سکون سے کھڑا رہا لیکن سکندر نے گولی چلائی تھی اور سیدھے اس کے دل پر چلائی تھی لیکن اس کے دل کو گولی چھو نہیں پائی کیوں کے نفیسہ نے سکندر کو دھکا دیا تھا اور وہ زمین پر گرا تھا گولی ماہر کے دائیں بازوں کو چھو کر گزری تھی اور اس نے کافی گہرا گھاو دیا تھا اور اُسکی سفید آستین سرخ ہو گئی تھی
وہا ٹ دا ہیل اس دس مام۔۔۔ ۔۔ یہ کیا کیا آپ نے
سکندر اٹھ کر نفیسہ کی جانب غصے سے بڑھا
بھائی آپ ٹھیک تو ہے نا
ماہر نے گاڑی کا سہارا لیا تھا عالیہ نے اُسے سنبھالتے ہوئے پوچھا تو اس نے سر اثبات میں ہلا دیا لیکن درد اس کے چہرے سے صاف نظر آرہا تھا
میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دونگی سکندر
نفیسہ نے اس کے دونوں بازو پکڑے تھے
میں نے آپ سے کہا تھا نا آپ بیچ میں مت آئیے اچانک سے اتنی ممتا کہاں سے جاگ گئی آپ میں جو آپ اسے بچانے کے پیچھے پڑی ہے
آپ نہیں جانتی کے اسے دیکھ کر کتنا غصّہ آتا ہے مجھے کتنی نفرت محسوس ہوتی ہے اس سے
اس نے دوبارہ ماہر کی جانب دیکھا اور زمین سے بندوق اٹھائی
سکندر
نفیسہ نے اُسے روکنا چاہا لیکن اس کے سر پر خون سوار تھا تبھی اس نے بندوق اٹھا کر ماہر کی جانب بڑھائی تھی نفیسہ نے اس سے بندوق چھیني چاہی تو اس نے نفیسہ کو زور سے دھکا دیا جس سے وہ زمین پر جا گری
ہٹ جائیے مام۔۔۔۔۔۔
سکندر۔۔۔۔۔
نفیسہ کو گرتے دیکھ ماہر غصے سے چلّایا اور اس کا کالر پکڑ لیا نفیسہ کو عالیہ نے اٹھایا
بس بہت ہو گیا ۔۔۔کمینے پن کی بھی حد ہوتی ہے مام کو دھکا دینے کی ہمت کیسے کی تم نے
ماہر نے کالر سے اُسے کھنچ کے غصے سے کہا
تمہیں کیا لینا دینا میں دھکّا دوں۔۔۔۔ہاتھ اٹھاو۔۔۔۔ماروں۔۔۔۔۔۔ میری مرضی۔۔۔۔۔ ۔میری ماں ہے وہ
وہ میری بھی ماں ہے۔۔۔۔۔ اور میں تمہیں اُن کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرنے دونگا
اس نے دوسرے ہاتھ سے بھی اس کی کالر پکڑے ہوئے کہا سکندر نے اُسے دھکا دیا تو وہ لڑکھڑا کے پیچھے ہوا
بس بہت ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔
اب کی بار وہ غصے سے اُسکی جانب بڑھا اور اس کے ہاتھ اٹھانے سے پہلے پکڑ کے اس کے منہ پر مکّہ رسید کیا سکندر نے بھی اس پر وار کیا ماہر نے اُسے گاڑی کی طرف دھکیلتے ہوئے ایک کے بعد ایک کئی لاتیں اور گھونسے اس کے پیٹ اور منہ پر جڑ دیے سکندر نے ایک موقع پا کر اُسے زور سے زمین پر دھکیلا جس سے اس کا سر پتھر سے ٹکرایا تھا اور خون بہنے لگا تھا مگر وہ اس درد کو برداشت کرتے اٹھ کر اس کی جانب بڑھا تھا اریشہ وہاں پہنچی تو یہ منظر دیکھ کر بری طرح ڈر گئی اوپر سے ماہر کی پیشانی سے بہتا خون اور خون سے بھیگی آستین اس کا دل حلق م آگیا تھا
یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔ماہر جی۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی جانب بڑی تھی لیکن ماہر دیوانہ وار سکندر کو مارنے میں مصروف تھا سکندر بھی موقع پاتے ہی وار کر دیتا لیکن اس کی ہمت شاید جواب دے گئی تھی تب ہی وہ نڈھال سے ہو کر ایک وار سے زمین اور جا گرا ماہر نے اس کا کالر پکڑ کر اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر اس کے منہ پر مارا وہ دوبارہ زمین پر گرا ماہر نے اُسے پھر سے اٹھایا سکندر کوئی بھی وار کرنے لائق نہیں بچا تھا اس کی آنکھیں بھی بند ہونے لگی تھی
ماہر جی چھوڑ دیجئے اسے
اریشہ نے سکندر کی حالت دیکھ ماہر کو روکنے کے کوشش کی نفیسہ اور عالیہ شاید اُسے روکنے کی ہمت نہیں کر سکتے تھے ماہر کے ہاتھ سے خون بہنے میں اور روانی آچکی تھی اس کی ہتھیلی سے خون کی بوندیں ٹپک رہی تھی وہاں لوگ رک کے دیکھنے لگے تھے اور کافی لوگ بھی جمع ہو چکے تھے
انسانیت تو بھول ہی چکے تھی اب جانور بھی بن چکے ہو تم اور جانوروں کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے
ماہر نے ایک بار پھر اُسے مار کر گرایا تھا اور پھر کالر پکڑ کے اٹھایا تھا
ماہر جی چھوڑیئے ۔ بھائی ہے یہ آپ کا۔۔
ایک بار پھر وہ اس پر وار کرتا ماہر اریشہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
یہ میرا بھائی نہیں ہو سکتا عریشہ۔۔۔۔اتنا گھٹیا اتنا کمینہ۔۔۔۔۔اس کے دماغ میں اتنی گندگی بھری ہو سکتی ہے میں نے سوچا بھی نہیں تھا ۔۔میں نے غلطی کی جو بچپنا سمجھ کر سب نظر انداز کرتا چلا گیا اگر پہلی ہی غلطی پر اسے دو تھپڑ لگاتا تو آج یہ اتنی دور نا نکلا ہوتا
اس نے سکندر جو زور کا دھکا دیا اس کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر زمین اور گرا تھا
کیا ہو رہا ہے یہ سب ۔۔۔۔۔۔
پولیس کی گاڑی وہاں آئی تھی شاید لوگوں میں سے کسی نے اُنہیں خبر کر سے تھی۔نفیسہ نے سکندر کا بازو پکڑ کر اُسے اٹھایا
انسپکٹر صاحب گرفتار کر لیجئے اسے اس نے ماہر کو جان سے مارنے کی کوشش کی ہے
۔سکندر کو اس نے انسپکٹر کے حوالے کیا اریشہ اور ماہر نے اُنہیں حیرت سے دیکھا وہ سکندر کو گرفتار ہوتے دیکھ رہی تھی اور ماہر اُنہیں اریشہ نے ماہر کی جانی۔ دیکھا اس کے چہرے پر کئی چوٹیں لگی تھی اور پیشانی سے بہتے خون کی لکیر تھوڑی تک آگئی تھی
ماہر جی یہ چوٹ۔۔۔۔
اریشہ نے اُسے کہنا چاہ لیکن اس کا دھیان نفیسہ کی جانب تھا وہ جا نتا تھا کے اس وقت وہ کیا محسوس کر رہی ہوگی
پلیز ماہر جی اپ پہلے ہاسپٹل چلیے بہت خون بہہ رہا ہے
اریشہ نے اس کا بازو تھامتے ہوئے کہا نفیسہ نے پلٹ کے اس کی جانب دیکھا
ہاں بیٹا چلو۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ نے اُسے ہوش دلایا تو وہ آکر اریشہ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا
💜💜💜💜
مام آپ نے سکندر کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے اس کی ڈریسنگ کر دی تھی عالیہ اور نفیسہ وہیں موجود تھی جب ماہر نے کہا
۔۔۔
اسی لائق ہے وہ اگر آج بھی اُسے سزا نہیں دی تو کبھی اپنی غلطی نہیں سمجھ پائیگا۔۔۔۔۔۔اُسے پتہ ہونا چاہیئے کے زندگی بے مول نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔
نفیسہ نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کہا اریشہ کو یقین نہیں ہوا کے وہ یہ بات کھ سکتی ہے تبھی اُسے بے یقینی سے دیکھنے لگی
میں جانتی ہوں مجھے کوئی حق نہیں ہے یہ سب کہنے کا کیوں کے جڑ تو میں ہی ہوں ۔۔۔۔میں نے ہی اُس کے ذہن میں یہ نفرت کے بیج بوئے تھے یہ پھل تو ملنا ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔جو کوئی ماں نہیں کرتی وہ میں نے کیا اپنے بچوں کی زندگی خراب کی میں نے ۔۔۔۔۔اُنھیں دولت کے لالچ میں انسانیت سے دور کر دیا
نفیسہ اریشہ اور ماہر دونوں کی جانب دیکھتے ہوئے بولی اور آکر ماہر کے پاس بیٹھ گئی
تمہاری ماں کوئی بہت اچھی اور نیک عورت رہی ہوگی ماہر تبھی تو تم اتنے نیک ہو۔ مجھ جیسی عورت کی اولاد تو سکندر جیسی ہی ہو سکتی ہے انسان کو اُس کے گناہوں کی سزا اسی دنیا میں ملتی ہے شاید یہی میری سزا ہے کے میں اپنی اولاد کو تکلیف میں دیکھوں۔۔۔۔۔۔تم نے ہمیشہ مجھے اپنی ماں سمجھ کر پیار کیا لیکن میں نے تمہیں کبھی اپنا بیٹا نہیں سمجھا شاید اسی لیے آج میرے بیٹے نے اپنی ماں کو ماں نہیں سمجھا
وہ روتے ہوئے ماہر کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر بولی ماہر نے اُن کے ہاتھ اور ہاتھ رکھا
مجھ سے اچھی تو یہ لڑکی ہے جو کچھ دِن پہلے ہی تمہاری زندگی میں آئی ہے لیکن تمہارے لیے ہم سب سے لڑ گئی ۔۔۔۔۔۔چند دن میں ہی اپنے رشتے کو حق سے زیادہ نبھایا اس نے۔۔۔ اور میں برسوں میں کبھی تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکی ۔۔۔۔۔پیار ایسا ہوتا ہے ماہر ۔۔۔۔۔بے غرض ۔۔۔۔
انھونے اریشہ کی جانب دیکھ کے کہا اور ماہر نے صرف ایک پل کے لیے اریشہ کو دیکھ کر نظریں ہٹا لیں
اللہ تو شاید ہی مجھے کبھی معاف کرے ہو سکے تو تم دونوں مجھے معاف کر دینا شاید میرے گناہ کچھ کم ہو جائے
نفیسہ نے سر جھکائے کہا
نہیں مام پلیز۔۔۔۔۔۔ماں معافی نہیں مانگتی۔۔۔۔۔۔مجھے گنہگار مت کیجئے۔۔۔۔۔۔۔مجھے کوئی شکایت نہیں ہے آپ سے آپ نے میری زندگی میں ماں کی کمی کو پورا کیا ہے اور اس قرض کو میں جان دے کر بھی نہیں چکا سکتا
ماہر نے اُن کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا
کس مٹی کے بنے ہو تم کیا تمہیں غصّہ نہیں آتا مجھ پر۔۔۔۔۔۔
نفیسہ نے پیار بھرے لہجے میں کہا اور ماہر اُن کے گلے لگ گیا آج حقیقت میں نفیسہ شرمندہ تھی اُن کے دل میں پچھتاوا تو اسی دن سے تھا جب ماہر واپس آیا تھا لیکن آج سکندر کو ایک بڑے مستقبل کی جانب دیکھ شدّت سے اپنے گناہوں کا احساس ہو رہا تھا اور ماہر کی قدر بھی نفیسہ اس سے الگ ہو کر وہاں سے اٹھائی اور اریشہ کے پاس آئی
معاف کر دینا مجھے ۔۔۔۔ہر ماں یہ ہی چاہتی ہے کے اُس کے بیٹے کو ایک ایسی بیوی ملے جو اُس کی زندگی کو خوبصورت بنا دے اُس کے لیے پوری دنیا کو بھول جائے ۔۔۔تم بلکل ویسی ہی ہو لیکن میں ہی اچھی ماں نہیں ہوں تو کیسے تمہاری قدر کرتی ۔۔۔۔معاف کر دینا بیٹا ہمیں ہم گنہگار ہے تمہارے۔۔۔
نفیسہ نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہہ اریشہ اُسے جتنا جانتی تو اس اور یقین نا کرتی لیکن نفیسہ کی آنکھوں میں پشیمانی دیکھ وہ چاہ کے بھی خود کو روک نہیں پائی اور اُن کے گلے سے لگا گئی عالیہ ماہر کے پاس آئی اور اس کے گلے لگ گئی
عالیہ مام کو لے کر گھر جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔ مام آپ گھر جا کر ریسٹ کیجئے اور کوئی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے نا سوچنے کو ضرورت ہے
نفیسہ کو پریشانی میں دیکھ کر اس نے یقین دلاتے ہوئے کہا عالیہ اُنہیں۔ اپنے ساتھ لیے گھر چلی گئی اور اریشہ نے اُن کے جانے کے بعد رائنا کو فون کرکے ساری صورتِ حال بتا دی۔۔۔
💜💜💜💜💜💜
