Dil Maane Na By Sanaya Khan Readelle70081 Last updated: 20 July 2025
Rate this Novel
Dil Mane Na
By Sanaya Khan
وہ آج ڈاکٹر کو کال والے حادثے کے بارے میں بتانے آئی تھی اور کہتے ہوئے رو دی تھی
عریشہ ریلیکس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ڈاکٹر آپ نہیں جانتے کیسی حالت ہو گئی تھی اُن کی ۔۔۔۔جیسے کوئی جنون سوار ہو گیا تھا اُن پر اللہ نا کرے ایسے میں اُنہوں نے خود کو کچھ کر لیا تو۔۔۔۔۔۔۔اُن کی زندگی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے میرے لیے اُس نے اپنے گال پر بہتے آنسو صاف کیے
خود کو سنبھالو عریشہ ۔۔۔تمہیں کمزور نہیں پڑنا ہے۔۔۔۔تم یہ سب اُس کو اچھی زندگی دینے کے لئے ہی تو کر رہی ہو نا مشکلیں تو آئینگی ہی پر تمہیں ہار نہیں ماننی چاہیے ڈر کے۔۔۔۔۔۔۔اُسے ہمیشہ کے خطرے سی بچانا ہے تو یہ خطرہ اٹھانا ہوگا تمہیں
ڈاکٹر نے پانی کا گلاس اُس کی طرف بڑھایا عریشہ نے ایک گھونٹ لے کر واپس رکھ دیا
ایک بار پھر میں تمہیں وہیں صلاح دونگا کے ماہر کو اسائلم بھیج دو اکثر ایسی سچویشن آنے پر فوری علاج کی ضرورت پڑتی ہے میں جانتا ہوں تمہارے لیے مشکل ہے لیکن ہمت کرنی ہوگی تمہیں کیوں کہ اُس کا دور جانا ہی بہتر ہے ورنہ اُسے ایسے دیکھ کر تم یوں ہی کمزور پڑتی رہوگی اور ایک دِن ہار مان لو گی اتنا آگے بڑھ کر پیچھے مڑنا بیوقوفی ہوگی عریشہ۔۔۔۔۔۔اور یہ بھی سوچو اگر وہ لوگ ماہر کو ایسے دیکھے گے تو اُنھیں بھی شک ہوگا
اُن کی باتوں کو سمجھتے ہوئے عریشہ گہری سوچ میں پڑ گئی اُسے ڈاکٹر کی بات صحیح لگی ویسے بھی وہ نفیسہ اور سکندر کو کچھ کہتے وقت ڈرتی تھی کے وہ ماہر کو کچھ کر نہ دیں اُسے محفوظ رکھنا تھا اور اُس کے لیے یہ بہتر آپشن تھا
لیکن ڈاکٹر اگر کسی کو پتہ چل گیا کے ماہر کا علاج چل رہا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کو پتہ نہیں چلےگا بس کچھ دن سب کو اس دھوکے میں رکھنا ہوگا کے ماہر کہیں چلا گیا ہے کھو گیا ہے اُن کا دھیان صرف ماہر کو ڈھونڈنے میں رہے گا اور بلکل فکر مت کرو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کے ماہر کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی اُس کا پورا خیال رکھا جائیگا حفاظت کی جائیگی میں خود یہ ذمےداری لیتا ہوں۔ اُنہونے یقین دلایا اور عریشہ کو بھروسہ تھا کیوں کہ ڈاکٹر نے اب تک
مجھے بات ڈر لگ رہا ہے ڈاکٹر اگر ماہر کو کچھ ہو جاتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اگر یہ سب دوائی کے اثر سے ہو رہا ہے تو مجھے اُنھیں دوائی نہیں دینی۔۔۔۔۔۔۔۔ اُن کا ٹھیک ہونا اُن کی زندگ اُس کی اتنی مدد کی تھی
ٹھیک ہے ڈاکٹر اگر یہی صحیح ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس نے گہری سانس لے کے کہا
💜💜💜💜💜💜 وہ ماہر کو گھر سے شاپنگ کے بہانے لے آئی تھی لیکن جانے سے پہلے دادی کو سب بتا دیا تھا اور ماہر کو اُن سے ملایا تھا دادی کو عریشہ پر پورا بھروسہ تھا اُنہوں نے اُس کے اس فیصلے پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا وہ ماہر کو لیے شاپنگ مال آئی تھی اور وہاں سے اپنی گاڑی سے نکل کر ڈاکٹر کی گاڑی میں بیٹھ کر وہ دونوں ایک نئے راستے پر چل دیئے تھے یہ اس لیے کے ڈرائیور کو شک نا ہو
بیوی ہم کہیں جا رہے ہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔ ماہر نے شہر سے باہر جاتے راستے کو دیکھ کر پوچھا
ہم نہیں ماہر جی آپ جا رہے ہیں۔۔۔۔۔کچھ دن آپکو اُن انکل کے ساتھ رہنا ہے اُس نے سامنے گاڑی چلاتے شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
نہیں بیوی ماہر نہیں جائیگا تمہارے بنا ۔۔۔۔۔۔
میری بات سنئیے۔۔۔۔۔۔آپ کا جانا بہت ضروری ہے اسی لیے میں آپ کو بھیج رہی ہوں آپ ہی نہ کہا تھا کہ آپ بیوی کی ہر بات مانے گے ۔۔۔۔آپ کو بھروسہ ہے نہ مجھ پر اُس نے ماہر کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا ماہر نے سے ہلا دیا لیکن چہرہ مایوس ہو گیا تھا
تو پھر بس کچھ مت پوچھیے میں جو کر رہی ہوں آپ کے لیے کر رہی ہوں ۔۔۔میرے لیے بہت مشکل ہے ماہر جی آپ کو خود سے دور بھیجنا لیکن آپ کے لیے میں یہ جدائی برداشت کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔آپ وہاں محفوظ رہے گے ہر خطرے سے ۔۔۔۔۔۔۔ اُس نے ماہر کو سمجھاتے ہوئے کہا وہ چپ ہو کر اُسے دیکھنے لگا گاڑی سڑک کے ایک طرف رکی جہاں ڈاکٹر واحد کھڑے تھے ڈرائیور اُتر کر اُن کے پاس چلا گیا
اپنا خیال رکھیے گا ماہر جی اب آپ کے اندر صرف آپ کی ہی نہیں میری بھی جان بستی ہے عریشہ اُس کے گلے لگ گئی اُس کا دل نہیں چاہا کے ماہر کو الگ کرے لیکن وہ مجبور تھی
ماہر کو جلدی بلوا لینا بیوی ۔۔۔۔۔ وہ باہر نکلی تو ماہر نے کھڑکی سے سر نکالتے ہوئے کہا بہت جلد ہم ساتھ ہونگے ماہر جی اور تب سب ٹھیک ہوگا
اُس کی گاڑی کو عریشہ نے نظروں سے بوجھل ہونے تک دیکھا
