No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
افف۔۔۔۔شادی والے ڈرامے نے تھکا دیا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ بیگم صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی
مام مجھے سمجھ نہیں آتا آپکو کیا ضرورت تھی اُس پاگل کی شادی کروانے کی۔۔۔۔۔۔
سکندر نے ناگواری سے کہا
اُس بڑھیا نے رٹ جو لگائی ہوئی تھی کے مرنے سے پہلے پوتے کی شادی کروانی ہے ۔۔۔۔۔بہت یقین ہے اُسے کے شادی کے بعد اُس کا پوتا ٹھیک ہو جائیگا سوچا چلو اُس کی یہ غلط فہمی بھی دور کر دیتے ہے ۔۔۔۔۔۔۔
سکندر اور عالیہ اُنکے بیڈ پر بیٹھے تھے اور وہ سوچنے والے اندا، میں سامنے دیکھ رہی تھی
بس چھ مہینے اور اُن دونوں کو جھیلنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی ماہر پچیس سال کا ہوا ساری جائیداد اُس کے نام ہو جائیگی اور پھر ہم وہ اپنے نام کر والے گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس کے بعد وہ بڑھیا اپنے پاگل پوتے اور بہو کو لے کر جنت میں جائے یا جہنم میں ہمیں کیا۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ نحوست سے ہنسی تھی
لیکن مام کل کو اگر یہ لڑکی ہمارے لیے پریشانی بن گئی تو
سکندر نے سنجیدگی سے کہا
وہ کیا پریشانی بنے گی میں خود اُسے اتنا پریشان کرونگی کے میرے آگے منہ کھولنے کی بھی ہمت نہیں کریگی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔شوہر تو پاگل ہے ہی اگر اُسے بھی پاگل نا کر دیا تو کہنا
نفیسہ بیگم کمینگی سے ہنستے ہوئے بولیں تھی
لیکن مام اگر اُسے پتہ چل گیا کے ماہر بھائی کی یہ حالت ہماری وجہ سے ہے اور وہ ایکسیڈنٹ بھی ہم نے کروایا تھا تو۔۔۔۔۔۔۔۔
عالیہ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا اور عریشہ نے اپنے منہ اور ہاتھ رکھ لیا جو کھڑکی کے پاس کھڑی اُس کی باتیں سن رہی تھی
چپ۔۔۔۔۔۔۔منہوس کہیں کی۔۔۔۔۔۔۔اپنا منہ بند رکھ۔۔۔۔۔۔۔اُسے کچھ پتہ نہیں چلے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جاھل گنوا ر لڑکی اتنی چالاق نہیں ہے۔۔۔۔نا میں اتنی بے وقوف ہوں کے اُسے کچھ پتہ چلنے دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم لوگ جاؤ اپنے کمرے میں ۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ بیگم نے اُسے ڈپٹتے ہوئے کہا عالیہ منہ بسور کر اٹھ گئی اور سکندر بھی اُنھیں باہر آتا دیکھ عریشہ جلدی سے دادی کا ہاتھ تھام کر جلدی سے چلتی ہوئی اُن کے روم میں آگئی اس کے پہلے کے وہ لوگ اُنھیں دیکھتے
دیکھا تم نے کیسے اُس کے اپنے ہی اُس کے دشمن بنے ہوئے ہے۔۔۔۔۔۔۔ان کا بس چلاتا تو شاید میرے بچے کو جان سے مار دیتے اگر اُس وصیت میں یہ نا لکھا ہوتا کے اگر ماہر کو کچھ ہوتا ہے تو اُس کی دولت ٹرسٹ کو چلی جائیگی
دادی نے کمرے کا دروازہ بند کرتی عریشہ کو دیکھتے ہوئے کہا رائنا شاید اپنے کمرے میں جا چکی تھی کیوں کے زیان اکیلا تھا
شاید میرے بیٹے کو ان کی بری نیتوں کا انداز بہت پہلے ہی ہوگیا تھا تب ہی اُس نے ایسی وصیت بنائی ۔۔ لیکن یہ دولت آج اُس کی جان کی دشمن بن گئی ہے
دادی آپ کچھ کرتی کیوں نہیں یہ لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ انہیں گرفتار کیوں نہیں کروا دیتی۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُنھیں پریشان دیکھا تو اُن کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی
۔میں اکیلی بڑھیا کیا کر سکتی تھی بیٹا۔۔۔۔بنا ثبوت کے کیسے کچھ کر پاتی۔۔۔۔۔اور یہ بھی ڈر تھا کے اگر میں اُن سے اُلجھی تو کہیں مجھے ماہر سے دور نا کر دیں۔۔۔۔۔۔اُس کے بعد تو میرا ماہر بلکل اکیلا ہو جاتا کون ہوتا پھر اُس کے ساتھ۔۔۔۔۔اُس لیے میں اُس کی شادی کر دینا چاہتی تھی تاکہ کوئی ہو جو اُسے ان فریبیوں سے بچا سکے ۔۔۔۔۔جب پہلی بار تمہیں دیکھا تو مجھے لگا تم ضرور میرے ماہر کا ساتھ دوگی میرے ماہر کو تم ہی بچاؤگی۔۔۔۔۔۔اور میں نے اللہ سے بہت دعائیں کی کے تم ہی میرے ماہر کی بیوی بنو
اللہ نے میری دعا قبول کر لی بیٹا ۔۔۔۔۔اسی لیے کہتی ہوں۔۔۔۔۔تم میرے ماہر کو چھوڑ کر مت جاؤ۔۔۔۔۔اللہ کی مرضی سمجھ کر رک جاؤ۔۔۔۔۔اُسے ضرورت ہے ایک ساتھی کی۔۔۔۔۔مت جاؤ بیٹا
دادی ایک بات پھر اُس کے آگے التجا کر رہی تھی
میں نہیں جاؤنگی دادی۔۔۔۔۔ویسے بھی میں بھول گئی تھی کے واپسی کے راستے تو میرے بہت پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔۔پہلے بھی تو اپنی قسمت سے لڑتی ہی رہی اب کیوں یہ شکایت کروں کے کے۔میری قسمت بری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر اللہ نے مجھے اسی کام کے لیے یہاں بھیجا ہے تو میں اللہ کی مرضی کے خلاف نہیں جاؤنگی۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا
وعدہ کرو بیٹی تم میرے ماہر کو کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُس کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا
میں وعدہ کرتی ہوں دادی۔۔۔۔جب تک سب کچھ ٹھیک نہیں ہو جاتا۔۔۔۔۔جب تک آپ کو یقین نہیں ہو جاتا کے آپ کا ماہر محفوظ ہے میں کہیں نہیں جاؤنگی۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُن کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
💜💜💜💜💜💜
وہ واپس اُسی کمرے میں آئی تھی جس سے بھاگی تھی کم سے کم یہ زندگی پچھلی زندگی سے تو اچھی تھی جہاں وہ کسی کے کام آسکتی تھی جہاں کسی کو اُس کی ضرورت تھی وہ اُن پر بوجھ نہیں تھی بلکہ اُن کی ضرورت تھی اُس نے دیکھا ماہر بیڈ پر سویا ہوا تھا ٹیڈی بیئر کو سینے سے لگائے اُس کے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی اُس کے اندر عریشہ نے اپنے آپ کو دیکھا وہ بھی تو بچپن سے اپنوں کے دیے گئے درد سہتی آرہی تھی جیسے کے ماہر
اُس نے ماہر کے پیروں پر کمفر ڈالا اور واش روم میں آگئی
💜💜💜💜💜
ماہر کی آنکھ کھلی تو سب سے پہلے ساتھ سوئی عریشہ پر پڑی پلکیں جھپکتے ہوئے وہ اُسے حیرت سے دیکھتا رہا یقین کرنے کے لئے کے وہ سچ میں وہاں موجود ہے یہ اُس کا خواب ہے ماہر نے اُس کے قریب چہرہ کرتے ہوئے دھیرے سے ہاتھ آگے بڑھا کر اُس کے گال کو چھونا چاہا اور جیسے ہی اُس کے گال کو ہاتھ ٹچ ہوا اُس نے فوراً ہاتھ کھینچ لیا ہلکی سے ہلچل سے بھی عریشہ کی آنکھ کھل گئی اُس نے ماہر کا چہرہ اتنے قریب سے دیکھا تو گھبرا کر اٹھ بیٹھی ماہر فوراً پیچھے ہوا اور بیڈ سے اتر کر اُس کی سائڈ پر آیا
تم نہیں گئی ماہر کو چھوڑ کر۔۔۔۔۔
وہ خوش ہوتے ہوئے بولا عریشہ نے سر دھیرے سے نفی میں ہلا دیا
مطلب تم ماہر سے غصّہ نہیں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بار اُس کی معصومیت پر چاہ کے بھی عریشہ کی مسکراہٹ رک نہیں پائی
مطلب اب بیوی ماہر کے ساتھ ہی رہےگی
عریشہ نے سر اثبات میں ہلا دیا اور ماہر اپنی جگہ پر کودتے ہوئے تالیاں بجانے لگا عریشہ اُس کی حرکت پر اُسے دیکھتی رہی
💜💜💜💜💜💜💜💜
ہمیشہ خوش رہو بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دادی کے پاس آئی تو انہوں نے اُسے پیار سے گلے لگا لیا
دادی آپ ناشتے میں کیا کھائے گی بتائیے نا میں ابھی بنا کر لاتی ہیں
عریشہ اُن سے الگ ہوتے ہوئے بولی
تمہیں یہ سب کرنے کئی کوئی ضرورت نہیں ہے بیٹا کام کرنے کے لئے نوکر چاکر ہے نہ تم بس ماہر کا خیال رکھو
دادی نے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
کرنے دیجئے نا امی جان ۔۔۔۔۔ شکل تو دیکھ ہی چکے ہے اسی بہانے اس کے گن بھی دیکھ لیں گے۔۔۔
نفیسہ بیگم اُن اپنی بات کہتی ہوئی وہاں آئی
گڈ مارننگ بہو رانی ۔۔۔۔۔۔۔اب تم سے کوئی شرارت بھری بات پوچھنا تو فضول ہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔کیوں کے نئی نویلی دلہن کی طرح رات بھر جاگنے کی ضرورت تو پڑی ہی نہیں ہوگی تمہیں ۔۔۔۔۔پھر بھی نئی جگہ تھی نیند تو آئی نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ بیگم نے جی بھر کر اُس کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی کوشش کی وہ سر جھکا گئی اور کچن کی طرف چلی آئی
بات کرتے وقت اتنا خیال کیا کرو کے اُس کی پرانی سہیلی نہیں ساس ہو تم۔۔۔۔۔۔۔ عزت دو گی تو ہی عزت ملےگی
عریشہ کے جانے کے بعد دادی نے نفیسہ بیگم کو ڈانٹا
میں تو مذاق کر رہی تھی امی۔۔۔۔۔ویسے بھی آپ نے کونسا بہت اچھا کیا اُس کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہر سے اُس کی شادی کروا کے۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ بیگم کہاں چپ رہنے والی تھیں دادی نے اُنھیں جواب دینے کی بجائے وہاں سے چلے جانا مناسب سمجھا
💜💜💜💜💜💜
