Dil Maane Na By Sanaya Khan Readelle70081 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
نفیسہ نے واپس جانے کی کوشش کی تھی لیکن ماہر نے اُنھیں روکے رکھا تھا نفیسہ بہت شرمندہ تھی اور اُن کے واپس آنے پر دادی بہت غصّہ تھی
کیا ضرورت تھی اُسے یہاں لانے کی۔۔۔۔پہلے ہی کیا کم مصیبتیں پیدا کی ہے اُس نے جو دوبارہ بھروسہ کر لیں اُس پر ۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں لگتا کے وہ اتنی آسانی سے سدھرنے والی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے نیچے آتے ہوئے دادی کی بات سنی وہ بہت غصے میں لگ رہی تھی رائنا بھی شاید اُن کی بات سے متفق تھی تبھی چپ رہی
دادی۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ اُن کے پاس آکر بیٹھی
دادی مجھے لگتا ہے اُنھیں اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے میں نے اُن کی آنکھوں میں پچھتاوا دیکھ ا ہے۔۔۔۔۔ آپ بھی بیتی باتیں بھول کر معاف کر دیجئے اُنھیں
میں اُسے معاف نہیں کر سکتی کبھی۔۔۔۔۔ گنہگار ہے و میرے بچے کی۔۔۔
دادی نے غصے سے کہا عریشہ نے اُن کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا
دادی۔۔۔۔۔وہ پچھتا رہی ہیں اپنے کئے پر اور اس سے بڑھ کر کیا سزا ہو سکتی ہے ان کے لیے ۔۔۔۔۔۔ اپنی غلطی ماننے کے لیے بھی بہت ہمت کی ضرورت ہوتی ہے ہمیں اُنھیں ایک موقع دینا چاہیے ۔۔۔۔۔پلیز معاف کر دیجئے اُنھیں۔۔۔۔ آپ جانتی ہے ماہر جی کو ہمیشہ سے اُن کی ضرورت ہے۔۔۔۔پیار کرتے ہیں وہ اُن سے ۔۔۔۔۔اُن کی خاطر بس ایک بار معاف کر دیجئے
عریشہ نے اُنھیں سمجھاتے ہوئے کہا تو اُنہوں نے پیار سے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھا
تمہاری بات کیسے ٹال سکتی ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی کی بات پر وہ مسکرا دی
💜💜💜💜💜💜💜💜
ماہر عریشہ کے ساتھ رائنا اور زیان بھی اُن کے کمرے میں بیٹھے تھی ماہر بیڈ سے ٹیک۔لگائے بیٹھا تھا اور زیان اُس سے لگ کر جب کے عریشہ اور رائنا صوفے پر بیٹھی باتیں کر رہی تھی اچانک رائنا ماہر کی جانب دیکھتے ہوئے ہنسی تو وہ حیران ہوا
اب آپ کیوں ہنس رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔
ماہر اُس کے اچانک ہنسنے پر حیرت سے بولا
پتہ ہے تم نا پہلے بلکل بچوں جیسے بہیو کرتے تھے ۔۔۔۔ہر بات پر ضد کیا کرتے تھے ۔۔۔اور ایک دِن تو تم۔۔۔۔۔
وہ بات ادھُوری چھوڑ کر ہنستے ہوئے عریشہ کو دیکھنے لگی تھی اور عریشہ ٹی وی کی جانب دیکھ کر اُس کی بات کر مطلب سمجھ گئی تھی اور جلدی سے سر نفی میں ہلا دیا تھا
بتائیے بھی ۔۔۔۔۔۔
ماہر نے بے چینی سے پوچھا
وہ دیکھو۔۔۔۔۔۔
رائنا نے اُس کا دھیان ٹی وی کی طرف کیا جہاں ویسا ہی کوئی سین چل رہا تھا
ایک دن تم نے اپنی میڈم سے ضد کی کے تمہیں یہی کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ہنستے ہوئے بتایا اور ماہر شرمندہ ہو کر سر جھکاتے ہوئے گردن سہلانے لگا
آپی۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُسے غصے گھورا تو اُس نے دونوں کان پکڑ لیے
ایک بات پوچھوں تم سے۔۔۔۔۔۔۔۔
رائنا اور زیان کے جانے کے بعد جب آکر بستر پر لیٹی تھی تو ماہر نے دھیرے سے پوچھا عریشہ نے سر اثبات میں ہلا دیا
کیا تم نے میری وہ ضد بھی پوری کی تھی
ماہر نے اُسے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا اور چند پل اُس کی آنکھیں میں دیکھنے کے بعد عریشہ نظریں جھکا گئی تھی ماہر نے اُس کے اور اپنے درمیان کا فاصلہ کم کرتے ہوئے اُس کے قریب ہو کر اُس کی کمر پر ہاتھ رکھا تھا
میں آپ سے ایک بات پوچھوں ۔۔۔ ۔۔
وہ اُسے اُسی طرح دیکھے جا رہا تھا جب عریشہ نے دھیرے سے کہا اور ماہر نے سے ہلا کر اجازت دو
پوچھو۔۔۔۔۔
کافی دیر وہ چپ رہی تو ماہر نے دوبارہ کہا
آپ کو ہمارا نکاح یاد نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے جھجھکتے ہوئے کہا اُسے در تھا ماہر ناراض ہوگا اور وہی ہوا۔
افف تم پھر سے۔۔۔۔
ماہر بیزاری سے بولا
ماہر جی میری بات سنیے۔۔۔۔۔میں نے آج پڑ ھا کے نکاح پورے ہوش و حواس میں دل سے ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور اُس وقت تو آپ اپنے ہوش و حواس میں تھے ہی نہیں تو کیا ہمارا نکاح۔۔۔۔۔۔نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
عریشہ سنجیدگی سے کہا اور ماہر فوراً اُس کے اوپر سے ہاتھ ہٹا کر اُسے بے یقینی سے دیکھا
کیا بکوس کر رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔اب ایک نیا ٹاپک ڈھونڈھ لیا تم نے
ماہر نے غصے سے کہا اور اٹھ کے بیٹھ گیا
آپ سمجھ نہیں رہے ہے۔۔۔۔۔۔
سمجھنا تو دور میں تمہاری بات سننا بھی نہیں چاہتا
وہ اُس کی بات کاٹ کے غصے سے بولا اور دوسری طرف ہو کر اُس کی جانب پشت کیے لیٹ گیا اور عریشہ چہ کر بھی کچھ کہہ نہیں پائی
💜💜💜💜💜💜💜
کیا باتیں ہو رہی ہے دادی پوتے کے بیچ میں۔۔۔۔۔
رائنا اور عریشہ دادی کے کمرے میں آئی تو دادی ماہر سے کچھ بات کرنے میں مصروف تھی عریشہ نے ماہر کی جانب دیکھا جو کب سے اُس سے ناراض تھا اور بھی ہی کی جانب نہیں دیکھ رہا تھا
ہم ماہر کی دوبارہ شادی کے بارے میں صلاح کر رہے تھے۔۔۔۔۔
دادی نے بتایا تو رائنا کے ساتھ عریشہ بھی حیران ہوئی
دوبارہ شادی۔۔۔۔۔۔یہ آپ۔کیا کہہ رہی ہے دادی۔۔۔۔عریشہ کے ہوتے آپ ماہر کی دوسری شادی کیسے کروا سکتی ہیں
رائنا نے پریشانی سے کہا
ارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی میں سمجھاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے کچھ کہنا چاہا تو ماہر نے روک دیا
وہ کیا ہے نہ اسے ہمیشہ یہی شکایت رہتی ہے کے میں سب کچھ بھول چکا ہوں کتنا بھی سمجھاؤ مناؤ سمجھتی ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیے میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔تاکہ اس بار سارے ہوش وحواس میں سب کچھ ہو اور مجھے زندگی بھر تانے نہ سننے پڑے
وہ عریشہ کی جانب دیکھتے ہوئے بولا تھا اور عریشہ اپنے آنسو روکے وہاں سے چلی گئی تھی
ماہر دماغ خراب ہے تمہارا۔۔۔۔ کیسی باتیں کر رہے ہو تم ۔۔۔۔اور دادی آپ۔۔۔۔آپ کیسے ماہر کی دوسری شادی کرنے کو راضی ہو گئی
رائنا بے یقین سے ہو کر پوچھ رہی تھی اور ماہر ہنسی روکے اُسے دیکھ رہا تھا
لڑکی پہلے پوری بات تو سن لیا کرو۔۔۔۔۔ماہر کی دوسری شادی نہیں بلکہ دوسری بار شادی کہا میں نے عریشہ کے ہی ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے بات صاف کی تو رائنا نے ایک گہری سانس لی
کیا۔۔۔۔۔
ہاں ماہر چاہتا ہے کے ساری رسمیں ایک بار پھر سے ہو اور وہ دوبارہ عریشہ سے شادی کرے
دادی نے مسکراتے ہوئے ماہر کی جانب دیکھا تو وہ زبان دانتوں میں دبائے اُسے دیکھ رہا تھا رائنا نے اُسے گھورا
اففف۔۔۔۔۔۔کتنے خراب ہو تم۔۔۔۔۔پہلے کیوں نہیں بتایا ۔۔۔۔عریشہ کو کتنا برا لگا ہوگا ۔ اب جاؤ اور جا کر مناؤ اُسے
رائنا نے اُس کے کندھے پر مارتے ہوگے کہا
جانے دیجئے نا آپی ویسے بھی بہت بھاؤ کھاتی ہے اسی بہانے میری تھوڑی قدر ہو جائیگی ۔ ۔۔
باتیں بند کرو اور جا کر معافی مانگوں ۔۔۔۔ورنہ مار پڑےگی ابھی۔۔۔۔۔۔
رائنا نے اُسے دھمکاتے ہوئے کہا تو وہ اٹھ گیا
آپ جیسے رشتےدار ہو تو آدمی کو ویسے ہی دشمنوں کی ضرورت نہیں۔۔۔۔
وہ خفگی سے کہتا ہوا باہر نکلا اور رائنا ہنس دی
یہ سب کیا ہو رہا ہے
اندر آیا تو عریشہ آنسو بہاتے ہوئے بیگ میں کپڑے بھر رہی تھی
کیا کر رہی ہو تم۔۔ ۔۔۔
اُس نے دوبارہ پوچھا اور اُس کے سامنے آیا
میں جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔
اُس نے بیگ بند کرکے کہا
کہاں جا رہی ہو ۔۔
جہنم میں۔۔۔۔
جہنم کا داروغہ کیا تمہارا رشتےدار لگتا ہے جو بار بار وہاں جانے کے لیے تیار ہو جاتی ہو
کیا فرق پڑتا ہے آپ کو میں کہیں بھی جاؤ۔۔۔۔۔۔آپ جائیے اپنی دوسری شادی کی تیاریاں کیجئے ۔۔۔بہت شوق ہے نہ آپ کو
عریشہ غصے سے بولی
ہاں شوق تو ہے کم سے کم بیوی کا پیار تو نصیب ہو گا تم تو گھاس بھی نہیں ڈالتی مجھے
ہاں تو جائیے کوئی ڈھونڈھ لیجئے گھاس ڈالنے والی۔۔۔۔۔۔۔میں جا رہی ہوں
تم نہیں جا سکتی۔ ۔۔ ۔۔۔
ماہر نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور بیگ لینے سے روکا
کیوں روک رہے ہے اب مجھے۔۔۔۔ کیا ضرورت ہے میری۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے بنا یہ شادی کیسے ہوگی۔۔۔۔۔
کیوں میں کیا کوئی قاضی ہوں جو میرے بنا شادی نہیں ہو پائے گی
عریشہ نے جھنجھلا کر کہا ماہر اُس کے قریب آیا اور اُس کا ہاتھ پکڑا
اگر تم چلی جاؤ گی تو اپنے ہاتھوں پر میرے نام کی مہندی کون لگائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کون سرخ جوڑا پہن کر میری دلہن بنے گی
۔کیا مطلب۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے نا سمجھی سے پوچھا
میں تمہارے ساتھ دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔تاکہ جو کچھ ادھورا رہے گیا ہے وہ پورا ہو جائے ۔۔۔۔ہمارے رشتے میں کوئی کمی نا رہے ۔۔۔۔کسی اور سے شادی کے بارے میں تو میں سوچ بھی نہیں سکتا
اُس نے عریشہ کا چہرہ تھامتے ہوئے پیار سے کہا
۔لیکن ہاں اگر تم بعد میں بھی ایسے ہی مجھ سے بات بات پر لڑتی رہی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔,۔۔
وہ بات ادھُوری چھوڑ کے مسکرایا
تو۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُسے گھورتے ہوئے کہا
تو کچھ نہیں۔۔۔تب بھی میں ایسا نہیں کرونگا
میں کرنے بھی نہیں دونگی
عریشہ نے اُس کی شرٹ پکڑ کے کھینچتے ہوئے کہا اور دونوں ہنس دیے ماہر نے اپنی جیب سے ایک رنگ نکالی
شادی سے پہلے پرپوز کرنا بھی تو ضروری ہے
عریشہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا اور اُسکی تیسری انگلی میں وہ انگوٹھی پہنا دی
Will you marry me۔۔۔۔۔۔
اُس کی اُنگلیاں اپنے ہاتھ میں لیے پیار سے پوچھا
No۔۔۔
عریشہ نے فوراً جواب دیا
دو تھپڑ مارونگا اب اگر نخرے کیے تو ۔۔۔۔۔
ماہر نے مصنوعی غصے سے کہا وہ ہنس دی ماہر نے اُس کا ہاتھ ہونٹوں سے لگا پھر اُس کی کلائی پر ہونٹ رکھے اور تیسری بار تھوڑا اوپر کس کرنا چاہا تو عریشہ نے ہاتھ کھینچ لیا
زیادہ چانس پے چانس مت ماریے ۔
کیوں اس میں کیا تکلیف ہے
ماہر حیرت سے بولا
مت بھولیے ابھی صرف پرپوز کیا ہے شادی نہیں ہوئی آپ سے۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور باہر چلی گئی
💜💜💜💜💜💜
آخری دو قسطیں باقی ہے
